Surat Ha meem Assajdah

Surah: 41

Verse: 40

سورة حم السجدہ

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُلۡحِدُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخۡفَوۡنَ عَلَیۡنَا ؕ اَفَمَنۡ یُّلۡقٰی فِی النَّارِ خَیۡرٌ اَمۡ مَّنۡ یَّاۡتِیۡۤ اٰمِنًا یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِعۡمَلُوۡا مَا شِئۡتُمۡ ۙ اِنَّہٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۴۰﴾

Indeed, those who inject deviation into Our verses are not concealed from Us. So, is he who is cast into the Fire better or he who comes secure on the Day of Resurrection? Do whatever you will; indeed, He is Seeing of what you do.

بیشک جو لوگ ہماری آیتوں میں کج روی کرتے ہیں وہ ( کچھ ) ہم سے مخفی نہیں ( بتلاؤ تو ) جو آگ میں ڈالا جائے وہ اچھا ہے یا وہ جو امن و امان کے ساتھ قیامت کے دن آئے؟ تم جو چاہو کرتے چلے جاؤ وہ تمہارا سب کیا کرایا دیکھ رہا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Punishment of the Deniers and the Description of the Qur'an Allah says, إِنَّ الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي ايَاتِنَا لاَ ... Verily, Yulhiduna Fi Our Ayat, Ibn Abbas said, "Al-Ilhad means putting words in their improper places." Qatadah and others said, "It means disbelief and obstinate behavior." ... لاَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا ... are not hidden from Us. This is a stern warning and dire threat, stating that He, may He be exalted, knows who denies His signs, Names and attributes, and He will punish them for that. He says: ... أَفَمَن يُلْقَى فِي النَّارِ خَيْرٌ أَم مَّن يَأْتِي امِنًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ... Is he who is cast into the Fire better or he who comes secure on the Day of Resurrection? means, are these two equal? They are not equal. Then Allah warns the disbelievers: ... اعْمَلُوا مَا شِيْتُمْ ... Do what you will. Mujahid, Ad-Dahhak and `Ata' Al-Khurasani said that اعْمَلُوا مَا شِيْتُمْ (Do what you will), is a threat. Meaning, `do what you will of good or evil, for He knows and sees all that you do.' He says: ... إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ Verily, He is All-Seer of what you do.

عذاب و ثواب نہ ہوتا تو عمل نہ ہوتا ۔ الحاد کے معنی ابن عباس سے کلام کو اس کی جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھنے کے مروی ہیں اور قتادہ وغیرہ سے الحاد کے معنی کفر و عناد ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ملحد لوگ ہم سے مخفی نہیں ۔ ہمارے اسماء وصفات کو ادھر ادھر کر دینے والے ہماری نگاہوں میں ہیں ۔ انہیں ہم بدترین سزائیں دیں گے ۔ سمجھ لو کہ کیا جہنم واصل ہونے والا اور تمام خطروں سے بچ رہنے والا برابر ہیں؟ ہرگز نہیں ۔ بدکار کافرو! جو چاہو عمل کرتے چلے جاؤ ۔ مجھ سے تمہارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں ۔ باریک سے باریک چیز بھی میری نگاہوں سے اوجھل نہیں ، ذکر سے مراد بقول ضحاک سدی اور قتادہ قرآن ہے ، وہ باعزت باتوقیر ہے اس کے مثل کسی کا کلام نہیں اس کے آگے پیچھے سے یعنی کسی طرف سے اس سے باطل مل نہیں سکتا ، یہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے ۔ جو اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے ۔ اس کے تمام تر احکام بہترین انجام والے ہیں ، تجھ سے جو کچھ تیرے زمانے کے کفار کہتے ہیں یہی تجھ سے اگلے نبیوں کو ان کی کافر امتوں نے کہا تھا ۔ پس جیسے ان پیغمبروں نے صبر کیا تم بھی صبر کرو ۔ جو بھی تیرے رب کی طرف رجوع کرے وہ اس کے لئے بڑی بخششوں والا ہے اور جو اپنے کفر و ضد پر اڑا رہے مخالفت حق اور تکذیب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے باز نہ آئے اس پر وہ سخت درد ناک سزائیں کرنے والا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ کی بخشش اور معافی نہ ہوتی تو دنیا میں ایک متنفس جی نہیں سکتا تھا اور اگر اس کی پکڑ دکڑ عذاب سزا نہ ہوتی تو ہر شخص مطمئن ہو کر ٹیک لگا کر بےخوف ہو جاتا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

40۔ 1 یعنی ان کو مانتے نہیں بلکہ ان سے اعراض، انحراف اور ان کی تکذیب کرتے ہیں حضرت ابن عباس (رض) نے الحاد کے معنی کیے ہیں وضع الکلام علی غیر مواضعہ جس کی رو سے اس میں وہ باطل فرقے بھی آجاتے ہیں جو اپنے غلط عقائد و نظریات کے اثبات کے لیے آیات الہی میں تحریف معنوی اور دجل وتلبیس سے کام لیتے ہیں۔ 40۔ 2 یہ ملحدین (چاہے وہ کسی قسم کے ہوں) کے لئے سخت وعید ہے۔ 40۔ 3 یعنی کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ نہیں۔ ، یقینا نہیں علاوہ ازیں اس سے اشارہ کردیا کہ کافر آگ میں ڈالے جائیں گے اور اہل ایمان قیامت والے دن بےخوف ہونگے۔ 40۔ 3 یہ امر کا لفظ ہے، لیکن یہاں اس سے مقصود وعید اور تہدید ہے۔ کفر و شرک اور معیصت کے لئے اذن اور جواز نہیں ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٩] الحاد کے معنی :۔ (یُلْحِدُوْنَ ) کا مادہ لحد ہے اور لحد بمعنی قبر اور اس کا بغلی حصہ اور الحد بمعنی راہ راست سے کسی ایک طرف ہوجانا اور الحد السھم کے معنی تیر کا نشانہ کے کسی ایک پہلو میں لگنا اور الحد عن الدین کے معنی دین میں طعن کرنا۔ (مفردات القرآن) اور اس الحاد کا تعلق عقائد سے ہوتا ہے (فق۔ ل ١٨٩) جیسے اللہ کی ذات وصفات میں شک کرنا یا اس کے غلط معنی لینا یا معجزات سے انکار کرنا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا : (وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕهٖ ١٨٠۔ ) 7 ۔ الاعراف :180) یعنی جو لوگ اللہ کے ناموں (صفات) میں کجی اختیار کرتے ہیں۔ خ الحاد کا تعلق اللہ کی صفات سے۔ ملحدین کو کون کون سے فرقے ہیں ؟:۔ اس لحاظ سے اس مقام پر اللہ کی آیات سے مراد اللہ کی صفات بیان کرنے والی آیات ہوگا اس کی مثال جیسے اللہ کی تقدیر سے تعلق رکھنے والی آیات میں الحاد کی بنا پر قدریہ اور جبریہ دو فرقے وجود میں آگئے۔ خوارج نے بھی اللہ کے حکم ہونے سے مراد یہ لی کہ اللہ کے علاوہ نہ اللہ کا قرآن حکم بن سکتا ہے اور نہ ہی انسان حکم بن سکتا ہے۔ معتزلہ نے اللہ کی صفات کو اللہ کی ذات سے جدا کرکے اللہ کی صفات کو حادث قرار دیا اور مسئلہ خلق قرآن کا فتنہ اٹھا کھڑا کیا۔ علاوہ ازیں جتنے بھی گمراہ فرقے ہیں سب ہی اللہ کی صفات میں الحاد کرکے اس سے اپنا مفید مطلب مفہوم کشید کرلیتے ہیں۔ ایسے ملحدین جو خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنتے ہیں سب اللہ کی نظر میں ہیں۔ اور وہ اس سے بچ کر کہیں جا نہیں سکتے۔ [٥٠] انداز بیان میں سخت دھمکی پائی جاتی ہے اور اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی حاکم کسی مجرم کو کہے کہ جو کچھ تم کر رہے ہو میں سب کچھ دیکھ رہا ہوں اور یہ خطاب ان لوگوں سے ہے جو اللہ کی آیات میں الحاد کی راہ اختیار کرتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

آیت ٤٠۔ (١) ان الذین یلحدون فی ایتنا :” یلحدون “ کا مادہ ” لح ”‘ ہے۔ لحد اس قبر کو کہتے ہیں جو نیچے سیدھی کھودنے کے بجائے کچھ نیچے جا کر ایک طرف کھود کر بنائی جاتی ہے۔ ” الحا ”‘ کا معنی ہے سیدھے راستے سے انحراف یعنی ایک طرف کو ہٹ جانا، کج روی اور ٹیڑھا چلنا، یعنی جو لوگ حق سے ہٹ کر ٹیڑھی راہ اختیار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی آیات میں الحاد (ٹیڑھا چلنا) یہ ہے کہ ان کا انکار کر دے، یا ان کا سیدھا ساد اور واضح مطلب لینے کے بجائے غیر متعلق بحثیں کرے اور انھیں غلط مطلب پہنانے کی کوشش کرے۔ جو لوگ مسلمان ہو کر باطل نظریات مثلاً مشرکانہ عقائد، بدعت، انکار حدیث اشتراکیت، سرمایہ داری اور دہریت وغیرہ کے حامی بن جاتے ہیں وہ یہی طرز اختیار کترے ہیں، خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ یہاں آیات الٰہی میں کج روی اختیار کرنے والوں کے لئے وعید آئی ہے اور سورة اعراف کی آیت (١٨٠) میں اسمائے الٰہی میں کج روی اختیار کرنے والوں سے علیحدگی کا حکم اور ایسے لوگوں کا انجام بیان فرمایا ہے۔ (٢) لایخفون علینا : یہی پہلی شدید و عید ہے جو یہاں آیات الٰہی میں ٹیڑھا چلنے والوں کے لئے آئی ہے کہ یہ لوگ ہم پر مخفی نہیں ہیں، بلکہ ہر لمحے ہماری نگاہ میں ہیں اور ہماری گرفت سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتے۔ ہم اگر ان کے عذاب میں تاخیر کر رہے ہیں اور انھیں مہلت دے رہے ہیں تو اس لئے کہ جلدی تو وہ کرے جسے خطرہ ہو کہ مجرم رو پوش ہوجائے گا اور قابو سے رہے ہیں اور انھیں مہلت دے رہے ہیں تو اس لئے کہ جلدی تو وہ کرے جسے خطرہ ہو کہ مجرم روپوش ہوجائے گا اور قابو سے نکل جائے گا۔ مطلب یہ کہ ہم انھیں اس الحاد کی سزا ضرور دیں گے۔ (٣) افمن یلقی فی النار خیر ام من یاتی امنا یوم القیمۃ : یہ دوسری دھمکی ہے کہ آیات الٰہی کا مطلب توڑنے مرڑونے والے اور ان کے بارے میں ٹیڑھے چلنے والے آگ میں پھینکے جائیں گے اور آیات الٰہی میں الحاد سے اجتناب کرنے والے قیامت کے دن امن کی حالت میں آئیں گے۔ تو بتاؤ، جو آگ میں پھینکا جائے گا وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن کی حالت میں آئے گا ؟ (٤) اعملوا ما شتم …: یہ تیسری دھمکی ہے، ” کرو جو چاہو “ کا مطلب اپنی مرضی کرنے کی اجازت دینا نہیں بلکہ ڈانٹ ہے کہ اس مہلت میں تم جو چاہو کرلو، پھر اس کی سزا کے لئے ہم جو چاہیں گے کریں گے۔ تمہارے ہر عمل کو ہم خوب دیکھ رہے ہیں، یہ خیال نہ کرنا کہ تم اپنے کسی عمل بد کی سزا سے اس لئے بچ جاؤ گے کہ وہ ہماری نگاہ سے اوجھل ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی عظیم فرماں روا اپنے کچھ غلاموں پر ناراض ہو کر شدید غصے سے کہے ، جو چاہو کرو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Description and Rules of Ilhad (الحاد) - A particular kind of kufr إِنَّ الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي آيَاتِنَا (Surely those who go crooked about Our signs are not hidden from Us….41:40) In the earlier verses, there were warnings, threats and mention of scourge for those who used to openly deny the Oneness of Allah and the prophethood of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Now a particular kind of denial is being described which is called ` ilhad&. The lexical meaning of ` ilhad& is to deviate, to incline towards one side, being crooked. In the terminology of the Qur&an and Hadith, ` ilhad& means to deviate from the verse of the Holy Qur&an. Lexically, this word is applicable to both cases of deviation, be it open denial, or through false interpretation. But, generally, the term of ` ilhad& is used for a deviation that apparently purports to have faith in the Qur&an and its verses, but attributes such self-assumed meanings to the Qur&an that are against the clear and explicit meanings accepted and recognized by the majority of the ummah, and that change the intention of the Qur&an in its entirety. Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) has given this very meaning of ` ilhad& in the explanation of this verse by saying: اِلحاد ھو وضع الکلام علی غیر موضعہ (ilhad& is to use a statement at an irrelevant place). The words, لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا &&are not hidden from Us|" in the present verse 40 indicate that ` ilhad& was a kind of ` kufr& that they wanted to hide. So Allah Almighty said that they could not hide their kufr (infidelity) from Him. And this verse has advised clearly that deviation from the verses of the Qur&an, whether openly in distinct words or by trying to change the injunctions of the Qur&an through false interpretations, all are ` ilhad& and kufr. Briefly, ` ilhad& is a kind of hypocritical kufr which in appearance claims and admits to have faith in the Qur&an and its verses, but fabricates meanings of the verses of the Qur&an which are against the explicit provisions of the Qur&an, Sunnah and principles of Islam. Imam Abu Yusuf has stated in Kitab-ul-Kharaj: کذالک الزنادقۃ الّذین یلحدون و قد کانوا یظھرون الاسلام |"Similar are zindiqs who deviate; and they used to pretend Islam. This tells us that zindiq and mulhid (one who practices ` ilhad& ) are one and the same. Both words are used for an infidel who outwardly claims to follow Islam, but in reality refuses to obey the injunctions through distortion in the meaning of the Qur&an against the explicit and definite meanings accepted by the Ummah as a whole. Removal of a Misunderstanding: One of the rules described in books of Islamic theology is that a muta&awwil (i.e. the one who adheres to a wrong belief on the pretext of a different interpretation of the Qur&an and Sunnah) should not be declared to be a kafir or a Non-Muslim. But if this rule is taken to be so general that no matter how false a pretext one applies to even an absolute and certain injunction, one would, however not become a kafir (infidel), then the inevitable consequence would be that none of the polytheists, idolaters, Jews or Christians should be called Non-Muslims or kafir, because the pretext of the idolaters is stated in the Qur&an itself: مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّ‌بُونَا إِلَى اللَّـهِ زُلْفَىٰ |"And we do not worship them (the idols) but for the reason that they will bring us closer to Allah.|" (39:3) The pretext was that they do not worship the idols themselves, but as intercessors to take us nearer to Allah Almighty and as such, in reality, they worship Allah. But the Qur&an has declared them to be kafir, despite this pretext. The pretexts of Jews and Christians are very well known, despite they have been called kafir in the explicit verses of Qur&an and Sunnah. Hence it is established that the rule of not calling a muta&awwil as kafir is not applicable so generally. Therefore, the scholars and jurisprudents have clarified that the rule mentioned above is subject to a condition that the interpretation in matters relating to the self-evident elements (Daruriyyat-ud-din) should not be against their definite (qat&i) meanings. Self-evident elements of religion (Daruriyyat-ud-din) are those injunctions and rules of Islam which are so continuously practiced, established, and well-known that even illiterate and ignorant Muslims are aware of them, such as the obligation of salah five times a day, two rak’ at of salah in fajr and four rak‘at in zuhr and fasting during the month of Ramadan, all being obligatory duties; similarly the prohibition of riba& (usury), alcoholic drinks, pig, etc. If anyone gives such false interpretations of the verses of the Qur&an pertaining to these matters which perverts their well-known and established meanings accepted by the Muslims throughout the history by way of tawatur (uninterrupted), then such a person would, no doubt, by consensus of the &Ummah, be a kafir, because he is, in reality, denying the teaching of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . And the definition of &iman (faith) recognized by the consensus of &ummah is the following: تَصدیق النَبِّی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فیما علم مجیٔہ بہٖ ضرورۃ |"To believe in whatever is established to be the teaching of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in a self-evident manner known not only to scholars, but also to the general public. Therefore, in comparison, the description of kufr would be the denial of any of the things mentioned above. So the person who changes any injunction pertaining to the self-evident elements of the religion through false explanations or pretexts is actually denying the teachings of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Since ignorance of and negligence about religion and its injunctions have reached alarming proportions these days, many people who do not know the principles of Shari&ah, and whatever information they have about Islam is based on what they have learnt from the Western scholars, have started in our days distorting the teachings of Islam by presenting false interpretations of the Holy Qur&an and Sunnah. Such people often seek help from the rule mentioned above and claim that these interpretations cannot be held as kufr. Therefore, in view of the serious need of the times, my respected teacher Maulana Muhammad Anwar Shah Kashmir& (رح) has written a book on this issue, which is published with the title of Ikfar-ul-mulhidin. It has been proved in this book, on the basis of clarifications of scholars and jurisprudents of every school of thought, that in the self-evident elements of religion (Daruriyyat-ud-din) nobody&s pretext is valid, and such a pretext does not protect one from being kafir. This humble writer has summarized the contents of this book in his Urdu booklet (ایمان اور کفر، قرآن کی روشنی میں) &Iman or kufr Qur’ an ki roshni meyn&. The gist of the discussion is given in that book from a writing of Shah ` Abdul-` Aziz Muhaddith Dehlawi (رح) in the following way: He says that false interpretation of the Qur&an may be of two kinds. One, is an interpretation that goes against the definite, unambiguous texts of the Qur&an or of the mutawatir ahadith or of absolute consensus of the ummah. This kind of interpretation is kufr undoubtedly. The second kind is an interpretation against the texts that are, though clear and semi-certain, are not certain or definite in absolute terms. This kind of false interpretation is not kufr, however, it is fisq and misguidance. Apart from these two kinds, any interpretation that is based on a possible understanding of the text is the field of the jurists exercising ijtihad, and it carries reward from Allah in any case, as declared by a Hadith.

خلاصہ تفسیر بلاشبہ جو لوگ ہماری آیتوں میں کجروی کرتے ہیں (یعنی یہ کہ ہماری آیتوں کا تقاضا ان پر ایمان لانے، پھر ان پر استقامت رکھنے کا ہے، اس کو چھوڑ کر ان کی تکذیب کرتے ہیں (کما فی الدر المنثور عن قتادہ) وہ لوگ ہم پر مخفی نہیں (ان کو ہم جہنم کا عذاب دیں گے) سو بھلا جو شخص جہنم میں ڈالا جائے (جیسے کافر) وہ اچھا ہے یا وہ شخص جو قیامت کے روز امن وامان کے ساتھ (جنت) میں آئے (آگے ان کو ڈرانے کے لئے ارشاد ہے کہ) جو جی چاہے (خوب) کرلو وہ تمہارا سب کچھ کیا ہوا دیکھ رہا ہے (ایک دفعہ ہی سزا دے گا) جو لوگ اس قرآن کا جبکہ وہ ان کے پاس پہنچتا ہے انکار کرتے ہیں (ان میں خود تدبر کی کمی ہے) اور (اس قرآن میں کوئی کمی نہیں کیونکہ) یہ (قرآن) بڑی وقعت کتاب ہے جس میں غیر واقعی بات نہ اس کے آگے کی طرف سے آسکتی ہے اور نہ اس کے پیچھے کی طرف سے (یعنی اس میں کسی پہلو اور کسی جہت سے اس کا احتمال نہیں کہ یہ قرآن منزل من اللہ نہ ہو۔ اور پھر خلاف واقعہ اس کو منزل من اللہ کہہ دیا جائے جیسا کفار آپ پر یہی شبہ کرتے تھے۔ حق تعالیٰ نے ایک قاعدہ کلیہ سے اس شبہ خاص کا ازالہ کردیا اس طرح کہ اس کا اعجاز سب کے نزدیک مسلم ہے اس لئے یہ ثابت ہوگیا کہ) یہ خدائے حکیم محمود (الذات والصفات) کی طرف سے نازل کیا گیا ہے (اور باوجود اس کے جو یہ لوگ آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو یہ معلوم کر کے تسلی کرلیجئے کہ) آپ کو وہی باتیں (تکذیب و ایذاء کی) کہی جاتی ہیں۔ جو آپ سے پہلے رسولوں کو کہی گئی ہیں (انہوں نے صبر کیا تھا آپ بھی صبر کیجئے اور اس سے بھی تسلی حاصل کیجئے کہ) آپ کا رب بڑی مغفرت والا اور دردناک سزا دینے والا ہے۔ (پس اگر یہ مخالفین خلاف سے باز آ کر مستحق مغفرت نہ ہوگئے تو ان کو سزا بھی دوں گا، پھر آپ کا ہے کے لئے پریشان ہوں) اور (یہ لوگ ایک شبہ یہ کرتے ہیں کہ قرآن کا کچھ حصہ عجمی بھی ہونا چاہئے تھا، جیسا کہ تفسیر در منثور میں قریش کا ایسا قول حضرت سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے جس سے اس کا اعجاز خوب ظاہر ہوتا، کہ نبی کریم جو عجمی زبان نہیں جانتے وہ عجمی میں تکلم کریں سو بات یہ ہے کہ) اگر ہم اس کو (کلا یا بعضاً ) عجمی (زبان کا) قرآن بناتے (تو یہ ہرگز نہ ہوتا کہ اس کو مان لیتے بلکہ اس میں ایک اور حجت نکالتے کیونکہ جب ماننے اور سمجھنے کا ارادہ نہیں ہوتا تو ہر تقدیر پر کچھ نہ کچھ شاخ نکال لی جاتی ہے چناچہ اگر ایسا ہوتا) تو یوں کہتے کہ اس کی آیتیں (اس طرح) صاف صاف کیوں نہیں بیان کی گئیں (کہ ہم سمجھ لیتے یعنی عربی میں کیوں نہیں آیا۔ اگر بعض عجمی ہوتا تو کہتے یہ بعض بھی عربی کیوں نہیں ہے اور یوں کہتے کہ) یہ کیا بات ہے کہ عجمی کتاب اور رسول عربی (خلاصہ یہ ہے کہ اب جو قرآن عربی ہے تو کہتے ہیں عجمی کیوں نہیں اور اگر عجمی ہوتا تو کہتے عربی کیوں نہیں کسی حال پر ان کو قرار نہیں پھر عجمی ہونے سے کیا فائدہ۔ آگے اس مضمون سے جواب دینے کا حکم ہے کہ اے پیغمبر) آپ کہہ دیجئے کہ یہ قرآن ایمان والوں کے لئے تو (نیک کاموں کے بتلانے میں) رہنما ہے اور (برے کاموں سے جو روگ دلوں میں پیدا ہوجاتے ہیں جب اس قرآن کی رہنمائی پر عمل کیا جائے تو یہ ان روگوں سے) شفا ہے (پس چونکہ ایمان والوں میں تدبر و طلب حق کی کمی نہ تھی، ان کے حق میں قرآن اپنی حقانیت کے سبب نافع ہوا) اور جو (باوجود ظہور حق کے عناداً ) ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں ڈاٹ ہے (جس سے حق کو انصاف اور تدبر سے نہیں سنتے اور وہ کمی یہی ہے) اور (اسی کمی کی وجہ سے) وہ قرآن ان کے حق میں نابینائی ہے (قلت تدبر وقلت انصاف سے تعصب میں قوت رہتی ہے اور تعصب ہدایت قبول کرنے سے مانع بلکہ زیادہ گمراہی کا سبب ہوجاتا ہے۔ نابینائی کا سبب ہونے کی یہ وجہ ہے، جیسے آفتاب عالم کو روشنی دیتا ہے چمگادڑ کو اندھا کردیتا ہے اور) یہ لوگ (حق بات سننے کے باوجود نفع سے محروم رہتے ہیں ایسے ہیں کہ گویا کسی دور جگہ سے پکارے جا رہے ہیں (کہ آواز سنتے ہوں مگر سمجھتے نہ ہوں) اور (آپ کی تسلی کے لئے جیسا اوپر مجملاً رسولوں کا ذکر ہوا ہے اب خاص موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہوتا ہے کہ) ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب دی تھی سو اس میں بھی اختلاف ہوا (کسی نے مانا کسی نے نہ مانا، یہ کوئی نئی بات آپ کے لئے نہیں ہوئی، پس آپ مغموم نہ ہوں) اور (یہ منکرین ایسے عذاب مستحق میں کہ) اگر ایک بات نہ ہوتی جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے ٹھہر چکی ہے کہ (پورا عذاب ان کو آخرت میں دوں گا) تو ان کا (قطعی) فیصلہ (دنیا میں ہی) ہوچکا ہوتا اور یہ لوگ (باوجود قیام براہین کے) ابھی تک اس (فیصلہ یعنی عذاب موعود) کی طرف سے ایسے شک میں (پڑے) ہیں جس نے ان کو تردد میں ڈال رکھا ہے (کہ ان کو عذاب کا یقین ہی نہیں آتا حالانکہ فیصلہ ضرور واقع ہوگا اور اس فیصلہ کا حاصل یہ ہے کہ) جو شخص نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے نفع کے لئے (یعنی وہاں اس کا نفع اور ثواب پاوے گا) اور جو شخص برا عمل کرتا ہے اس کا وبال (یعنی ضرور عذاب) اسی پر پڑے گا اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں (کہ کوئی نیکی جو شرائط کے مطابق عمل میں لائی گئی ہو اس کو شمار نہ کرے یا کسی بدی کو زائد شمار کرے) ۔ معارف و مسائل کفر کی ایک خاص قسم الحاد ہے۔ اس کی تعریف اور احکام : (آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا۔ اس سے پہلی آیات میں ان منکرین توحید و رسالت کو زجر و تنبیہ اور ان کے عذاب کا ذکر تھا جو رسالت و توحید کا کھل کر صاف انکار کرتے تھے۔ یہاں سے انکار کی ایک خاص قسم کا ذکر کیا جاتا ہے جس کا نام الحاد ہے۔ لحد اور الحاد کے لغوی معنی ایک طرف مائل ہونے کے ہیں۔ قبر کی لحد کو بھی اسی لئے لحد کہتے ہیں کہ وہ ایک طرف مائل ہوتی ہے۔ قرآن و حدیث کی اصطلاح میں آیات قرآنی سے عدول و انحراف کو الحاد کہتے ہیں۔ لغوی معنی کے اعتبار سے تو یہ عام ہے صراحتہ کھلے طور پر انکار و انحراف کرے یا تلاوت فاسدہ کے بہانہ سے انحراف کرے۔ لیکن عام طور سے الحاد ایسے انحراف کو کہتے ہیں کہ ظاہر میں تو قرآن اور اس کی آیات پر ایمان و تصدیق کا دعویٰ کرے مگر ان کے معانی اپنی طرف سے ایسے گھڑے جو قرآن و سنت کی نصوص اور جمہور امت کے خلاف ہوں اور جس سے قرآن کا مقصد ہی الٹ جائے۔ حضرت ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر میں الحاد کے معنی یہی منقول ہیں فرمایا الا لحاد ھو وضع الکلام علیٰ غیر موضعہ۔ اور آیت مذکورہ میں ارشاد (آیت) لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا بھی اس کا قرینہ ہے کہ الحاد کوئی ایسا کفر ہے جس کو یہ لوگ چھپانا چاہتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ ہم سے اپنا کفر نہیں چھپا سکتے۔ اور آیت مذکورہ نے صراحتہ یہ بتلا دیا کہ آیات قرانی سے انکار و انحراف صاف اور کھلے لفظوں میں ہو یا معافی میں تاویلات باطلہ کر کے قرآن کے احکام کو بدلنے کی فکر کرے یہ سب کفر و ضلال ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ الحاد ایک قسم کا کفر نفاق ہے کہ ظاہر میں قرآن اور آیات قرآن کو ماننے کا دعویٰ اور اقرار کرے لیکن آیات قرآنی کے معانی ایسے گھڑے جو دوسرے نصوص قرآن و سنت اور اصول اسلام کے منافی ہوں۔ امام ابویوسف نے کتاب الخراج میں فرمایا :۔ ایسے ہی وہ زندیق لوگ ہیں جو الحاد کرتے ہیں اور بظاہر اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ملحد اور زندیق دونوں ہم معنی ہیں، جو ایسے کافر کو کہا جاتا ہے جو ظاہر میں اسلام کا دعویٰ کرے اور حقیقت میں اس کے احکام کی تعمیل سے انحراف کا یہ بہانہ بنائے کہ قرآن کے معنی ہی ایسے گھڑے جو خلاف نصوص و خلاف اجماع امت ہوں۔ ایک مغالطہ کا ازالہ : کتب عقائد میں ایک ضابطہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ متاؤل کو کافر نہیں کہنا چاہئے یعنی جو شخص عقائد باطلہ اور کلمات کفریہ کو کسی تاویل سے اختیار کرے وہ کافر نہیں۔ لیکن اس ضابطہ کا مفہوم اگر عام لیا جائے کہ کیسے ہی قطعی اور یقینی حکم میں تاویل کرے اور کیسی ہی فاسد تاویل کرے وہ بہرحال کافر نہیں تو اس کا نتیجہ یہ لازم آتا ہے کہ دنیا میں مشرکین، بت پرست اور یہود و نصاریٰ میں سے کسی کو بھی کافر نہ کہا جائے۔ کیونکہ بت پرست مشرکین کی تاویل تو قرآن میں مذکور ہے۔ (آیت) ما نعبدہم الا لیقربونا الیٰ اللہ زلفیٰ ۔ یعنی ہم بتوں کی فی نفسہ عبادت نہیں کرتے بلکہ اس لئے کرتے ہیں کہ وہ سفارش ہمیں کر کے اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں، تو درحقیقت عبادت اللہ ہی کی ہے۔ مگر قرآن نے ان کی اس تاویل کے باوجود انہیں کافر کہا، یہود و نصاریٰ کی تاویلیں تو بہت ہی مشہور و معروف ہیں۔ جن کے باوجود قرآن وسنت کی نصوص میں ان کو کافر کہا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ متاؤل کو کافر نہ کہنے کا مفہوم عام نہیں۔ اسی لئے علماء وفقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ یہ تاویل جو تکفیر سے مانع ہوتی ہے اس کی شرط یہ ہے کہ وہ ضروریات دین میں ان کے مفہوم قطعی کے خلاف نہ ہو۔ ضروریات دین سے مراد وہ احکام و مسائل ہیں جو اسلام اور مسلمانوں میں اتنے متواتر اور مشہور ہوں کہ مسلمانوں کے ان پڑھ جاہلوں تک کو بھی ان سے واقفیت ہو جیسے پانچ نمازوں کا فرض ہونا۔ صبح کی دو ظہر کی چار رکعت کا فرض ہونا۔ رمضان کے روزے فرض ہونا۔ سود، شراب، خنزیر کا حرام ہونا وغیرہ۔ اگر کوئی شخص ان مسائل سے متعلق آیات قرآن میں ایسی تاویل کرے جس سے مسلمانوں کا متواتر اور مشہور مفہوم الٹ جائے، وہ بلاشبہ باجماع امت کافر ہے، کیونکہ وہ درحقیقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیم سے انکار ہے اور ایمان کی تعریف جمہور امت کے نزدیک یہی ہے کہ یعنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کرنا ان تمام امور میں جن کا بیان کرنا اور حکم کرنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ضرورتاً ثابت ہو یعنی ایسا یقینی ثابت ہو کہ علماء کے سوا عوام بھی اس کو جانتے ہوں۔ اس لئے کفر کی تعریف اس کے بالمقابل یہ ہوگی کہ جن چیزوں کا لانا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ضروری اور قطعی طور پر ثابت ہو ان میں سے کسی کا انکار کفر ہے۔ تو جو شخص ایسی ضروریات دین میں تاویل کر کے اس حکم کو بدلے وہ آپ کی لائی ہوئی تعلیم کا انکار کرتا ہے۔ اس زمانہ میں کفر و الحاد کی گرم بازاری : اس زمانے میں ایک طرف تو دین اور احکام دین سے جہالت اور غفلت انتہا کو پہنچ گئی کہ نئے لکھے پڑھے لوگ بہت سی ضروریات دین سے بھی ناواقف رہتے ہیں۔ دوسری طرف جدید بے خدا تعلیم جس کی بنیاد ہی مادہ پرستی پر ہے، کچھ اس اثر سے، اس پر مزید یورپ کے مستشرقین کے پھیلائے ہوئے اسلام کے خلاف شبہات و ادہام سے متاثر ہو کر بہت سے ایسے لوگوں نے اسلام اور اصول اسلام پر بحث و گفتگو شروع کردی ہے جن کو اسلام کے اصول و فروع، قرآن و حدیث کے علوم سے کوئی واسطہ نہیں۔ انہوں نے اسلام کے معلق اگر کچھ معلومات بھی حاصل کی ہیں تو اہل یورپ دشمنان اسلام سے حاصل کی ہیں۔ ایسے لوگوں نے قرآن و حدیث کی نصوص قطعیہ ضروریہ میں طرح طرح کی باطل تاویلیں کر کے شریعت اسلام کے متفق علیہ اور نصوص قطعیہ سے ثابت شدہ احکام کی تحریف کو اسلام کی خدمت سمجھ لیا۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ کھلا کفر ہے تو وہ مشہور ضابطہ کا سہارا لیتے ہیں کہ ہم اس حکم کے منکر تو نہیں بلکہ ایک تاویل کر رہے ہیں اس لئے ہم پر یہ کفر عائد نہیں ہوتا۔ اسی لئے وقت کی اہم ضرورت سمجھ کر ہمارے استاد حجة الاسلام حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری (رح) نے اس مسئلہ کی تحقیق کے لئے ایک مستقل کتاب تصنیف فرمائی جس کا نام ہے اکفار الملحدین والمتاؤلین فی شئی من ضروریات الدین۔ اس میں ہر طبقہ ہر مسلک کے علماء و فقہاء کی تصریحات سے ثابت کیا ہے کہ ضروریات دین میں کسی کی تاویل مسموع نہیں۔ اور یہ تاویل ان کی تکفیر سے مانع نہیں۔ یہ کتاب عربی شائع ہوئی ہے، احقر نے اس کا خلاصہ اردو زبان میں بنام ” ایمان اور کفر قرآن کی روشنی میں “ شائع کردیا ہے۔ اور احکام القرآن حزب خامس میں اس کا خلاصہ بزبان عربی بیان کردیا ہے، اس کو دیکھا جاسکتا ہے۔ یہاں اس کا خلاصہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی ایک تحریر سے نقل کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز نے فرمایا کہ آیات قرآنی میں تاویل باطل جس کو قرآن کی آیت مذکورہ میں الحاد فرمایا ہے اس کی دو قسمیں ہیں۔ اول وہ تاویل باطل جو نصوص قطعیہ متواترہ یا اجماع قطعی کے خلاف ہو وہ تو بلاشبہ کفر ہے۔ دوسری یہ کہ وہ ایسی نصوص کے خلاف ہو جو اگرچہ ظنی میں مگر قریب بہ یقین ہیں یا اجماع عرفی کے خلاف ہو، ایسی تاویل گمراہی اور فسق ہے، کفر نہیں۔ ان دو قسم کی تاویلوں کے علاوہ باقی تاویلات جو قرآن و حدیث کے الفاظ میں مختلف احتمالات ہونے کی بنا پر ہوں۔ وہ تاویل عام فقہاء امت کا میدان اجتہاد ہے جو بتصریح حدیث ہر حال میں باعث اجر وثواب ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا۝ ٠ ۭ اَفَمَنْ يُّلْقٰى فِي النَّارِ خَيْرٌ اَمْ مَّنْ يَّاْتِيْٓ اٰمِنًا يَّوْمَ الْقِيٰمَۃِ۝ ٠ ۭ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ۝ ٠ ۙ اِنَّہٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۝ ٤٠ لحد اللَّحْدُ : حفرة مائلة عن الوسط، وقد لَحَدَ القبرَ : حفره، کذلک وأَلْحَدَهُ ، وقد لَحَدْتُ الميّت وأَلْحَدْتُهُ : جعلته في اللّحد، ويسمّى اللَّحْدُ مُلْحَداً ، وذلک اسم موضع من : ألحدته، ولَحَدَ بلسانه إلى كذا : مال . قال تعالی: لِسانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ [ النحل/ 103] من : لحد، وقرئ : يلحدون من : ألحد، وأَلْحَدَ فلان : مال عن الحقّ ، والْإِلْحَادُ ضربان : إلحاد إلى الشّرک بالله، وإلحاد إلى الشّرک بالأسباب . فالأوّل ينافي الإيمان ويبطله . والثاني : يوهن عراه ولا يبطله . ومن هذا النحو قوله : وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذابٍ أَلِيمٍ [ الحج/ 25] ، وقوله : وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمائِهِ [ الأعراف/ 180] والْإِلْحَادُ في أسمائه علی وجهين : أحدهما أن يوصف بما لا يصحّ وصفه به . والثاني : أن يتأوّل أوصافه علی ما لا يليق به، والْتَحدَ إلى كذا : مال إليه . قال تعالی: وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَحَداً [ الكهف/ 27] أي : التجاء، أو موضع التجاء . وأَلْحَدَ السّهم الهدف : مال في أحد جانبيه . ( ل ح د ) اللحد ۔ اس گڑھے یا شگاف کو کہتے ہیں جو قبر کی ایک جانب میں بنانا کے ہیں ۔ لحد المیت والحدہ میت کو لحد میں دفن کرنا اور لحد کو ملحد بھی کہا جاتا ہے جو کہ الحد تہ ( افعال ) اسے اسم ظرف ہے ۔ لحد بلسانہ الیٰ کذا زبان سے کسی کی طرف جھکنے یعنی غلط بات کہنا کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ لِسانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ [ النحل/ 103] مگر جس کی طرف تعلیم کی نسبت کرتے ہیں ۔ میں یلحدون لحد سے ہے اور ایک قرات میں یلحدون ( الحد سے ) ہے ۔ کہا جاتا ہے الحد فلان ۔ فلاں حق سے پھر گیا ۔ الحاد دو قسم پر ہے ۔ ایک شرک باللہ کی طرف مائل ہونا دوم شرک بالا سباب کی طرف مائل ہونا ۔ اول قسم کا الحا و ایمان کے منافی ہے اور انسان کے ایمان و عقیدہ کو باطل کردیتا ہے ۔ اور دوسری قسم کا الحاد ایمان کو تو باطل نہیں کرتا لیکن اس کے عروۃ ( حلقہ ) کو کمزور ضرور کردیتا ہے چناچہ آیات : ۔ وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذابٍ أَلِيمٍ [ الحج/ 25] اور جو اس میں شرارت سے کجروی وکفر کرنا چاہے اس کو ہم درد دینے والے عذاب کا مزہ چکھائیں گے ۔ الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمائِهِ [ الأعراف/ 180] ، جو لوگ اس کے ناموں کے وصف میں کجروی اختیار کرتے ہیں ۔ میں یہی دوسری قسم کا الحاد مراد ہے اور الحاد فی اسمآ ئہ یعنی صفات خداوندی میں الحاد کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ باری تعالیٰ کو ان اوٖاف کے ساتھ متصف ماننا جو شان الو ہیت کے منافی ہوں دوم یہ کہ صفات الہیٰ کی ایسی تاویل کرنا جو اس کی شان کے ذیبا نہ ہو ۔ التحد فلان الٰی کذا ۔ وہ راستہ سے ہٹ کر ایک جانب مائل ہوگیا اور آیت کریمہ : وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَحَداً [ الكهف/ 27] اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاؤ گے میں ملتحد ا مصدر میمی بمعنی التحاد بھی ہوسکتا ہے اور اسم ظرف بھی اور اس کے معنی پناہ گاہ کے ہیں التحد السھم عن الھدف تیر نشانے سے ایک جانب مائل ہوگیا یعنی ہٹ گیا ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ خفی خَفِيَ الشیء خُفْيَةً : استتر، قال تعالی: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] ، ( خ ف ی ) خفی ( س ) خفیتہ ۔ الشیء پوشیدہ ہونا ۔ قرآن میں ہے : ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو ۔ لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] تو جادو گروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں ۔ موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو۔ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔ خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» «3» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم پر ہے ( 1 ) خیر مطلق جو ہر حال میں اور ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جیسا کہ آنحضرت نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خیر نہیں ہے جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں سے جس کے بعد جنت حاصل ہوجائے ( 2 ) دوسری قسم خیر وشر مقید کی ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ایک کے حق میں خیر اور دوسرے کے لئے شر ہو مثلا دولت کہ بسا اوقات یہ زید کے حق میں خیر اور عمر و کے حق میں شربن جاتی ہے ۔ اس بنا پر قرآن نے اسے خیر وشر دونوں سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] اگر وہ کچھ مال چھوڑ جاتے ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ «5» ، وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ «6» . والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعر : 5- أتيت المروءة من بابها «7» فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقوله : لا يَأْتُونَ الصَّلاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسالی [ التوبة/ 54] ، أي : لا يتعاطون، وقوله : يَأْتِينَ الْفاحِشَةَ [ النساء/ 15] ، وفي قراءة عبد اللہ : ( تأتي الفاحشة) «1» فاستعمال الإتيان منها کاستعمال المجیء في قوله : لَقَدْ جِئْتِ شَيْئاً فَرِيًّا [ مریم/ 27] . يقال : أتيته وأتوته الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو { أَتَى أَمْرُ اللَّهِ } [ النحل : 1] خد اکا حکم ( یعنی عذاب گویا ) آہی پہنچا۔ اور آیت کریمہ { فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ } [ النحل : 26] میں اللہ کے آنے سے اس کے حکم کا عملا نفوذ مراد ہے جس طرح کہ آیت { وَجَاءَ رَبُّكَ } [ الفجر : 22] میں ہے اور شاعر نے کہا ہے ۔ (5) |" اتیت المروءۃ من بابھا تو جو انمروی میں اس کے دروازہ سے داخل ہوا اور آیت کریمہ ۔ { وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى } [ التوبة : 54] میں یاتون بمعنی یتعاطون ہے یعنی مشغول ہونا اور آیت کریمہ ۔ { يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ } [ النساء : 15] میں الفاحشہ ( بدکاری ) کے متعلق اتیان کا لفظ ایسے ہی استعمال ہوا ہے جس طرح کہ آیت کریمہ ۔ { لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا } [ مریم : 27] فری کے متعلق مجئی کا لفظ استعمال ہوا ہے ( یعنی دونوں جگہ ارتکاب کے معنی ہیں ) اور آیت ( مذکورہ ) میں ایک قرات تاتی الفاحشۃ دونوں طرح آتا ہے ۔ چناچہ ( دودھ کے ، مشکیزہ کو بلونے سے جو اس پر مکھن آجاتا ہے اسے اتوۃ کہا جاتا ہے لیکن اصل میں اتوۃ اس آنے والی چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز سے حاصل ہوکر آئے لہذا یہ مصدر بمعنی فاعل ہے ۔ أمانت أصل الأَمْن : طمأنينة النفس وزوال الخوف، والأَمْنُ والأَمَانَةُ والأَمَانُ في الأصل مصادر، ويجعل الأمان تارة اسما للحالة التي يكون عليها الإنسان في الأمن، وتارة اسما لما يؤمن عليه الإنسان، نحو قوله تعالی: وَتَخُونُوا أَماناتِكُمْ [ الأنفال/ 27] ، أي : ما ائتمنتم عليه، ( ا م ن ) امانت ۔ اصل میں امن کا معنی نفس کے مطمئن ہونا کے ہیں ۔ امن ، امانۃ اور امان یہ سب اصل میں مصدر ہیں اور امان کے معنی کبھی حالت امن کے آتے ہیں اور کبھی اس چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی کے پاس بطور امانت رکھی جائے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ } ( سورة الأَنْفال 27) یعنی وہ چیزیں جن پر تم امین مقرر کئے گئے ہو ان میں خیانت نہ کرو ۔ قِيامَةُ والقِيامَةُ : عبارة عن قيام الساعة المذکور في قوله : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] ، يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] ، وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] ، والْقِيَامَةُ أصلها ما يكون من الإنسان من القیام دُفْعَةً واحدة، أدخل فيها الهاء تنبيها علی وقوعها دُفْعَة، والمَقامُ يكون مصدرا، واسم مکان القیام، وزمانه . نحو : إِنْ كانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقامِي وَتَذْكِيرِي [يونس/ 71] ، القیامتہ سے مراد وہ ساعت ( گھڑی ) ہے جس کا ذکر کہ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] اور جس روز قیامت برپا ہوگی ۔ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] جس دن لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو۔ وغیرہ آیات میں پایاجاتا ہے ۔ اصل میں قیامتہ کے معنی انسان یکبارگی قیام یعنی کھڑا ہونے کے ہیں اور قیامت کے یکبارگی وقوع پذیر ہونے پر تنبیہ کرنے کے لئے لفظ قیام کے آخر میں ھاء ( ۃ ) کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ المقام یہ قیام سے کبھی بطور مصدر میمی اور کبھی بطور ظرف مکان اور ظرف زمان کے استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ كانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقامِي وَتَذْكِيرِي [يونس/ 71] اگر تم کو میرا رہنا اور ۔ نصیحت کرنا ناگوار ہو ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد يحصل العسر والتّظالم فيما بين الناس، قالوا : ومن الفرق بينهما أنّ إرادةالإنسان قد تحصل من غير أن تتقدّمها إرادة الله، فإنّ الإنسان قد يريد أن لا يموت، ويأبى اللہ ذلك، ومشيئته لا تکون إلّا بعد مشيئته لقوله : وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] ، روي أنّه لما نزل قوله : لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] ، قال الکفّار : الأمر إلينا إن شئنا استقمنا، وإن شئنا لم نستقم، فأنزل اللہ تعالیٰ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ وقال بعضهم : لولا أن الأمور کلّها موقوفة علی مشيئة اللہ تعالی، وأنّ أفعالنا معلّقة بها وموقوفة عليها لما أجمع الناس علی تعلیق الاستثناء به في جمیع أفعالنا نحو : سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] ، سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] ، يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] ، ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] ، قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] ، وَما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ، وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] . ( ش ی ء ) الشیئ المشیئۃ اکثر متکلمین کے نزدیک مشیئت اور ارادہ ایک ہی صفت کے دو نام ہیں لیکن بعض کے نزدیک دونوں میں فرق سے ( 1 ) مشیئت کے اصل معنی کسی چیز کی ایجاد یا کسی چیز کو پا لینے کے ہیں ۔ اگرچہ عرف میں مشیئت ارادہ کی جگہ استعمال ہوتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے معنی اشیاء کو موجود کرنے کے ہیں اور لوگوں کی مشیئت کے معنی کسی چیز کو پالینے کے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کو چاہنا چونکہ اس کے وجود کو مقتضی ہوتا ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے ۔ ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے نہیں ہوتا ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کا ارادہ کرنا اس کے حتمی وجود کو نہیں چاہتا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ۔ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ لوگوں میں عسرۃ اور ظلم پائے جاتے ہیں ۔ ( 2 ) اور ارادہ میں دوسرا فرق یہ ہے کہ انسان کا ارادہ تو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر ہوسکتا ہے مثلا انسان چاہتا ہے کہ اسے موت نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو مار لیتا ہے ۔ لیکن مشیئت انسانی مشئیت الہیٰ کے بغیروجود ہیں نہیں آسکتی جیسے فرمایا : ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] اور تم کچھ بھی نہیں چاہتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے ایک روایت ہے کہ جب آیت : ۔ لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] یعنی اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے ۔ نازل ہوئی تو کفار نے کہا ہے یہ معاملہ تو ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم چاہیں تو استقامت اختیار کریں اور چاہیں تو انکار کردیں اس پر آیت کریمہ ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ «1» نازل ہوئی ۔ بعض نے کہا ہے کہ اگر تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیئت پر موقوف نہ ہوتے اور ہمارے افعال اس پر معلق اور منحصر نہ ہوتے تو لوگ تمام افعال انسانیہ میں انشاء اللہ کے ذریعہ اشتشناء کی تعلیق پر متفق نہیں ہوسکتے تھے ۔ قرآن میں ہے : ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّه مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پائے گا ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے ۔ يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] اگر اس کو خدا چاہے گا تو نازل کریگا ۔ ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] مصر میں داخل ہوجائیے خدا نے چاہا تو ۔۔۔۔۔۔۔ قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] کہدو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے وما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّہُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ہمیں شایان نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو ( ہم مجبور ہیں ) ۔ وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کروں گا مگر ان شاء اللہ کہہ کر یعنی اگر خدا چاہے ۔ بصیر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، وللقوّة التي فيها، ويقال لقوة القلب المدرکة : بَصِيرَة وبَصَر، نحو قوله تعالی: فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] ، ولا يكاد يقال للجارحة بصیرة، ويقال من الأوّل : أبصرت، ومن الثاني : أبصرته وبصرت به «2» ، وقلّما يقال بصرت في الحاسة إذا لم تضامّه رؤية القلب، وقال تعالیٰ في الأبصار : لِمَ تَعْبُدُ ما لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ [ مریم/ 42] ومنه : أَدْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي [يوسف/ 108] أي : علی معرفة وتحقق . وقوله : بَلِ الْإِنْسانُ عَلى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ [ القیامة/ 14] أي : تبصره فتشهد له، وعليه من جو ارحه بصیرة تبصره فتشهد له وعليه يوم القیامة، ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں ، نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔ اور آنکھ سے دیکھنے کے لئے بصیرۃ کا لفظ استعمال نہیں ہوتا ۔ بصر کے لئے ابصرت استعمال ہوتا ہے اور بصیرۃ کے لئے ابصرت وبصرت بہ دونوں فعل استعمال ہوتے ہیں جب حاسہ بصر کے ساتھ روئت قلبی شامل نہ ہو تو بصرت کا لفظ بہت کم استعمال کرتے ہیں ۔ چناچہ ابصار کے متعلق فرمایا :۔ لِمَ تَعْبُدُ ما لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ [ مریم/ 42] آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں ۔ اور اسی معنی میں فرمایا ؛ ۔ أَدْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي [يوسف/ 108] یعنی پوری تحقیق اور معرفت کے بعد تمہیں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں ( اور یہی حال میرے پروردگار کا ہے ) اور آیت کریمہ ؛۔ بَلِ الْإِنْسانُ عَلى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ [ القیامة/ 14] کے معنی یہ ہیں کہ انسان پر خود اس کے اعضاء میں سے گواہ اور شاہد موجود ہیں جو قیامت کے دن اس کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی دینگے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

بیشک جو لوگ ہماری نشانیوں یعنی رسول اکرم اور قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں یا یہ کہ تکذیب کرتے ہیں، ان کی باتوں میں سے کوئی چیز بھی ہم سے پوشیدہ نہیں۔ شان نزول : اَفَمَنْ يُّلْقٰى (الخ) ابن منذر نے بشیر بن فتح سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت مبارکہ ابو جہل اور حضرت عمار بن یاسر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٠{ اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا } ” جو لوگ ہماری آیات کے بارے میں کج روی اختیار کرتے ہیں وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ “ { اَفَمَنْ یُّلْقٰی فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْٓ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ } ” تو کیا وہ شخص جو آگ میں جھونک دیا جائے گا وہ بہتر ہوگا یا وہ کہ جو قیامت کے دن امن کی حالت میں آئے گا ! “ { اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْلا اِنَّہٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ} ” تم کیے جائو جو بھی کرنا چاہتے ہو ‘ وہ خوب دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔ “ قبل ازیں ہم آیت ٥ میں مشرکین کی طرف سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اس کھلے چیلنج کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا : فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَکہ آپ جو کرنا چاہتے ہیں کرلیں ‘ ہم بھی آپ کی ہر کوشش کا توڑ کریں گے اور آپ کی اس دعوت کو چلنے نہیں دیں گے۔ زیر مطالعہ جملے میں دراصل اسی چیلنج کا جواب ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

48 After telling the common people in a few sentences that the doctrine of Tauhid and the Hereafter to which Muhammad (upon whom be Allah's peace) is inviting them, is rational and the signs of the universe testify to its being right and true, the discourse again tunes to the opponents who were determined to oppose it stubbornly. 49 The word yulhidun in the original is derived from ilhad which means to deviate, to turn away from the right to the wrong path, to adopt crookedness. Thus, ilhad in the Revelations of Allah would mean that instead of understanding them in their clear and straightforward meaning one should misconstrue them and go astray and also lead others astray. One of the devices being adopted by the disbelievers of Makkah to defeat the message of the Qur'an was that they would hear the verses of the Qur'an and then would isolate one verse from its context, tamper with another, misconstrue a word or a sentence and thus raise every sort of objection and would mislead the people, saying that the Prophet had said such and such a thing that day. 50 These words imply a severe threat. The All-Powerful Ruler's saying that the acts of such and such a person are not hidden from Him by itself contains the meaning that he cannot escape their consequences.

سورة حٰمٓ السَّجْدَة حاشیہ نمبر :48 عوام الناس کو چند فقروں میں یہ سمجھانے کے بعد کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس توحید آخرت کے عقیدے کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہی معقول ہے اور آثار کائنات اسی کے حق ہونے کی شہادت دے رہے ہیں ، اب روئے سخن پھر ان مخالفین کی طرف مڑتا ہے جو پوری ہٹ دھرمی کے ساتھ مخالفت پر تلے ہوئے تھے ۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة حاشیہ نمبر :49 اصل الفاظ ہیں : یُلْحِدُوْنَ فِیْ اٰیَاتِنَا ( ہماری آیات میں الحاد کرتے ہیں ) ۔ الحاد کے معنی ہیں انحراف ، سیدھی راہ سے ٹیڑھی راہ کی طرف مڑ جانا ، کج روی اختیار کرنا ۔ اللہ کی آیات میں الحاد کا مطلب تو نہ لے ، باقی ہر طرح کے غلط معنی ان کو پہنا کر خود بھی گمراہ ہو اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتا رہے ۔ کفار مکہ قرآن مجید کی دعوت کو زک دینے کے لیے جو چالیں چل رہے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ قرآن کی آیات کو سن کر جاتے اور پھر کسی آیت کو سیاق و سباق سے کاٹ کر ، کسی آیت میں لفظی تحریف کر کے ، کسی فقرے یا لفظ کو غلط معنی پہنا کر طرح طرح کے اعتراضات جڑتے اور لوگوں کو بہکاتے پھرتے تھے کہ لو سنو ، آج ان نبی صاحب نے کیا کہہ دیا ہے ۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة حاشیہ نمبر :50 ان الفاظ میں ایک سخت دھمکی مضمر ہے ۔ حاکم ذی اقتدار کا کہنا کہ فلاں شخص جو حرکتیں کر رہا ہے وہ مجھ سے چھپی ہوئی نہیں ہیں ، آپ سے آپ یہ معنی اپنے اندر رکھتا ہے کہ وہ بچ کر نہیں جا سکتا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

17: ٹیڑھا راستہ اختیار کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ ان آیتوں کو ماننے سے انکار کیا جائے، اور یہ بھی کہ انہیں غلط سلط معنی پہنائے جائیں۔ آیت کی وعید دونوں صورتوں کو شامل ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٠۔ ٤٣۔ مشرکین مکہ میں سے جو لوگ یہ کہتے تھے کہ ہم بہرے ہیں قرآن کی آیتیں ہم نہیں سن سکتے اور اوپر سے دل سے کچھ بہروں کی طرح سن بھی لیں تو ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں اس واسطے آیتوں کا مطلب نہیں سمجھتے۔ ان آیتوں میں ان ہی لوگوں کو فرمایا کہ جو لوگ قرآن کو سیٹیاں اور تالیاں بجا بجا کر نہیں سنتے اور کہتے ہیں کہ ہم بہرے ہیں ہمارے دلوں پر غلاف پڑے ہوئے ہیں ایسی ٹیڑھی باتیں کرنے والوں کا حال اللہ تعالیٰ سے کچھ چھپا ہوا نہیں ہے ان لوگوں سے پوچھا جائے کہ سرکشی سے ایسی ٹیڑھی باتیں کرکے جو شخص قیامت کے دن دوزخ کی آگ میں جھونکے جانے کے قابل قرار پائے گا ان کے نزدیک وہ بہتر ہے یا جو قرآن کی نصیحت کے موافق عمل کرکے اپنے آپ کو اس دن کی آفتوں سے بچائے گا وہ بہتر ہے۔ اتنی بات کو خوب سمجھ کر جو ان کا جی چاہے وہ کریں اللہ ان کے سب کاموں کو دیکھتا ہے وقت مقررہ آنے پر ان میں سے سرکش اپنی سزا کو پہنچ جائیں گے اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے بدر کی لڑائی کے وقت اس وعدہ کا جو ظہور ہوا۔ صحیح بخاری ١ ؎ و مسلم کی انس بن مالک کی حدیث کے حوالہ سے کئی جگہ اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ ان میں سے ایسی ٹیڑھی باتیں کرنے والے بہت سے سرکش اس لڑائی میں بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوئے۔ جس عذاب کے جتلانے کے لئے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کا وعدہ سچا پا لیا۔ صحیح ٢ ؎ مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے لوگوں کے رات کے عمل دن سے پہلے اور دن کے عمل رات سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ملاحظہ میں فرشتے پیش کردیتے ہیں۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب سے کوئی چیز باہر نہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے انصاف سے سزا و جزا کا فیصلہ اپنے علم غیب پر نہیں رکھا بلکہ اس علم کے دنیوی ظہور پر رکھا ہے اس ظہور کے ملاحظہ کے واسطے لوگوں کے عملوں کے ملاحظہ کا جو انتظام اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ دو وقت اعمال ناموں کا ملاحظہ فرمایا جاتا ہے اس کا حال ابو موسیٰ اشعری کی اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے اس لئے یہ حدیث انہ بما تعملون بصیر کی گویا تفسیر ہے۔ اب آگے فرمایا کہ جو لوگ قرآن کی نصیحت کے سمجھنے میں ٹیڑھی باتیں کرتے ہیں اور قرآن کی آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان کے کلام الٰہی ہونے کے منکر ہیں یہ ان لوگوں کی نادانی ہے کیونکہ یہ تو ان لوگوں کے سامنے کی بات ہے کہ یہ قرآن ان پڑھ رسول پر نازل ہوا ہے اور باتیں اس میں ایسے علم غیب کی ہیں کہ ان پڑھ شخص تو درکنار بڑے بڑے اہل کتاب بھی بغیر آسمانی کتاب کی مدد کے وہ باتیں نہیں بتلا سکتے کیونکہ یہ قرآن ایسے صاحب حکمت کا کلام ہے جس کے سب کام تعریف کے قابل ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی تسلی فرمائی کہ یہ لوگ قرآن کو جادو اور تم کو جادوگر جو کہتے ہیں اور قرآن کی نصیحت پر چلنے کے جواب میں ٹیڑھی باتیں کرتے ہیں اس کا کچھ خیال نہیں کرنا چاہئے کس لئے کہ یہ بات کچھ نئی نہیں ہے پہلے رسولوں سے بھی لوگ ایسی ہی باتیں کرتے آئے ہیں اور اللہ کے علم غیب میں یہ بات ٹھہر چکی ہے کہ ان میں سے کچھ لوگ رفتہ رفتہ راہ راست پر آئیں گے اور اللہ تعالیٰ کے پچھلے گناہوں کو معاف فرمائے گا اور جو اس حالت پر مرجائے گا اس کو سخت عذاب کیا جائے گا کیونکہ بار گاہ الٰہی میں معافی اور گرفت دونوں چیزیں ہیں لیکن وقت مقررہ پر ہر چیز کا برتاؤ ہوتا ہے اس امت میں سے ابوجہل اور ابوسفیان کی حالت کو مثال کے طور پر پیش نظر رکھا جائے تو یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ اللہ کے علم غیب کے موافق بدر کی لڑائی میں ابوجہل کا انجام کیا ہوا کہ مرتے ہی عذاب میں گرفتار ہوگیا اور اللہ کے رسول نے اس کے ساتھیوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے عذاب کے وعدہ کو سچا پا لیا۔ چناچہ صحیح بخاری ١ ؎ ومسلم کی انس بن مالک کی حدیث کے حوالہ سے یہ قصہ کئی جگہ گزر چکا ہے کہ ابوسفیان نے پہلے تو ابوجہل کی طرح اسلام کی بہت مخالفت کی پھر فتح مکہ پر اسلام قبول کیا اور اسلام کے قبول کرتے ہی ان کا گھر دارالامن ٹھہرا کہ عام امن سے پہلے فتح مکہ کے وقت جو ان کے گھر میں آگیا وہ امن میں رہا صحیح بخاری ٢ ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے غصہ کا پورا حال لوگوں کو معلوم ہوجائے تو نیک لوگوں کے دل میں بھی جنت کی آرزو کم ہوجائے اسی طرح اس کی مغفرت کا پورا حال لوگوں کو معلوم ہوجائے تو نافرمان لوگوں کے دل میں بھی جنت کی آرزو پیدا ہوجائے یہ حدیث ان ربک لذو مغفرۃ وذوعقاب الیم کی گویا تفسیر ہے۔ (١ ؎ صحیح بخاری باب قتل الی جھل ص ٥٦٦ ج ٢) (٢ ؎ صحیح مسلم باب معنی قولہ ولقد راہ نزلۃ۔ ص ٩٩ ج ١) (١ ؎ دیکھئے صفحہ گزشتہ) (٢ ؎ صحیح مسلم باب سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ الخ۔ ص ٣٥٦ ج ٢)

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(41:40) یلحدون : الحاد (افعال) سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب وہ کج روی کرتے ہیں۔ اللحد اس گڑھے یا شگاف کو کہتے ہیں جو قبر کی ایک جانب بنایا جاتا ہے (اور اس میں میت کو دفن کیا جاتا ہے) پھر اس کا ستعمال کسی کی طرف جھکنے، غلط نسبت کرنے یا غلط بات کہنے کے لئے بھی ہوتا ہے کیونکہ غلط بات حقیقت سے پھر کر بات ہوتی ہے۔ یا بقول علامہ ابن منظور : الملحد العادل عن الحق : الحاد کرنے والا وہ شخص ہے جو حق سے روگردانی کرے او المدخل فیہ مالیس فیہ : یا اس میں ایسی چیز کو داخل کرے جو اس میں نہیں ہے مثلاً باری تعالیٰ کو ان اوصاف کے ساتھ متصف ماننا جو کہ اس کی شان الوہیت کے منافی ہوں یا صفات الٰہی کی ایسی تاویل کرنا جو اس کی شان کے زیبانہ ہوں مثلا وذروا الذین یلحدون فی اسمائہ (7: 18) اور چھوڑ دو ان لوگوں کو جو اس کے ناموں میں کجی اختیار کرتے ہیں۔ علامہ پانی پتی (رح) رقمطراز ہیں :۔ یلحدون کا لفظ عام ہے تکذیب کرنے والے لغویات بکنے والے اور قرأت قرآن کے وقت سیٹیاں بجانے والے اور تفسیر سلف کے خلاف قرآن کے معنی میں تحریف کرنے والے اور باطل تاویلات کرنے والے سب ہی یلحدون کی ذیل میں آتے ہیں۔ لایخفون علینا : مضارع منفی جمع متکلم خفاء مصدر (باب سمع) پوشیدہ نہیں رہیں گے۔ علینا : علی حرف جر۔ نا ضمیر جمع متکلم مجرور۔ ہم سے۔ ہم پر۔ افمن : استفہام انکاری ہے۔ افمن یلقی فی النار خیر ام من یاتی امنا : یلقی مضارع مجہول واحد مذکر غائب القائ (افعال) مصدر سے وہ ڈالا جائے گا روح البیان میں ہے :۔ حذف من الاول مقابل الثانی ومن الثانی مقابل الاول والتقدیر افمن یاتی خائفا ویلقی فی النار خیر ام من یاتی امنا ویدخل الجنۃ اور میں ثانی کا مقابل اور ثانی میں اول کا مقابل ۔ محذوف ہے تقدیر کلام ہے افمن ۔۔ الجنۃ۔ کیا وہ شخص جو (قیامت کے دن) خوف کی حالت میں آئے گا اور دوزخ میں ڈالا جائے گا بہتر ہے یا وہ شخص جو بےخوف و خطر آئے گا اور جنت میں داخل ہوجائے گا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 لفظی ترجمہ یہ ہے ” جو لوگ ہماری آیات میں الحاد کرتے ہیں۔ الحاد کے معنی ہیں حق سے پھر کر ٹیڑھی راہ اختیار کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی آیات میں الحادیہ ہے کہ ان کا سیدھا سادا اور واضح مطلب لینے کی بجائے غیر متعلق بحثیں کرے اور انہیں غلط مطلب پہنانے کی کوشش کرے۔ جو لوگ مسلمان ہو کر باطل نظریات انظار حدیث، اشراکیت، سرمایہ داری، بدعات وغیرہ کے حامی بن جاتے ہیں وہ یہی طرز اختیار کرتے ہیں، خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔11 اس میں سخت سرزنش ہے کہ یہ لوگ ہماری گرفت سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ ہم کو ان کا حال سب معلوم ہے اور ان کو ہم سزائے نار دیں گے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : دلائل اور حقائق کو جھٹلانے والے لوگوں کا انجام۔ اللہ تعالیٰ نے توحید و رسالت اور قیامت کے دن لوگوں کو زندہ کرنے کے سینکڑوں دلائل دیئے ہیں جن میں عقلی ور نظری دلائل بھی شامل ہیں۔ نظری دلائل میں سے آسمان سے بارش نازل کرنا اور اس کے ذریعے زمین سے ہر قسم کی نباتات کو اگانا ہے۔ کافر ہو یا مسلمان ہر کوئی مانتا ہے کہ بارش نازل کرنا اور زمین سے نباتات کو اگانا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ مگر اس کے باوجود کافر ” اللہ “ کی ذات کا انکار کرتا ہے اور مشرک اسکے ساتھ دوسروں کو شریک بناتا ہے۔ اور اس کی آیات کو غلط معانی پہنچاتے ہیں ایسے لوگ اور ان کے خیالات اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ بھلا جو شخص جہنّم کی آگ میں ڈالا جائے گا وہ بہتر ہے یا جو قیامت کے دن امن و سکون سے ہوگا وہ بہتر ہے ؟ ٹھوس دلائل اور واضح حقائق ہونے کے باوجود کافر اور مشرک نہیں مانتے تو انہیں انتباہ فرمائیں کہ جو چاہوعمل کرو لیکن اس بات پر یقین رکھو کہ جو بھی تم عمل کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ یہاں توحید و رسالت اور قیامت کا انکار کرنے والوں کے لیے ” اِلْحَادْ “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا معنٰی ہے کہ ” اللہ “ کے احکام اور ارشادات کی غلط تأویل کرنا اور اس پر اصرار کرنا۔ جس طرح بےدین سائنسدان ایٹم کے حوالے سے کہتے ہیں کہ دنیا کو پیدا کرنے والا کوئی نہیں۔ مادہ خود بخود اپنی حالت بدلتارہتا ہے اور یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا اور اس کی کوئی ابتدا اور انتہا نہیں۔ مشرک یہ کہہ کر ” اللہ “ کی ذات اور صفات کا انکار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بزرگوں کی ریاضت سے خوش ہو کر انہیں اپنی خدائی میں شامل کر رکھا ہے۔ اسی طرح کافر اپنے کفر اور مشرک اپنے شرک پر اصرار کرتا ہے۔ مسائل ١۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کی من گھڑت تاویلیں کرتے ہیں حقیقت میں وہ کج روی کا شکار ہیں۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ سے کسی کی نیت اور عمل پوشیدہ نہیں رہتا۔ ٣۔ کیا جہنّم کی آگ میں جانا بہتر ہے یا ہر قسم کے خوف سے مامون ہونا بہتر ہے ؟ ٤۔ لوگ جو بھی عمل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اسے دیکھتا اور جانتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا اور دیکھتا ہے : ١۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کی خیانت کو جانتا ہے۔ (البقرۃ : ١٨٧) ٢۔ ہر ایک کی نماز اور تسبیح اللہ جانتا ہے۔ (النور : ٤١) ٣۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ (المائدۃ : ٧) ٤۔ اللہ پر بھروسہ کیجیے کیونکہ وہ سنتا اور جانتا ہے۔ (الانفال : ٦١) ٥۔ اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ (النور : ١٨) ٦۔ اللہ دیکھنے والا ہے جو لوگ عمل کرتے ہیں۔ (آل عمران : ١٦٣) ٧۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے۔ (الحجرات : ١٦) ٨۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے باطن اور ظاہر کو جانتا ہے وہی غیب کو جاننے والا ہے۔ (التوبۃ : ٧٨) ٩۔ کیا آپ نہیں جانتے اللہ آسمان و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ (الحج : ٧٠) ١٠۔ اللہ تعالیٰ کے لیے مثالیں بیان نہ کرو اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ (النحل : ٧٤) ١١۔ اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ اللہ تمہارے دلوں میں پیدا ہونے والے خیالات سے واقف ہے۔ (البقرۃ : ٢٣٥) ١٢۔ اللہ سے ڈرؤ اور جان لو کہ اللہ تمہارے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔ (البقرۃ : ٢٣٣) ١٣۔ اللہ ہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہی تمہارے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔ (آل عمران : ١٥٦) ١٤۔ بیشک جو وہ عمل کرتے ہیں اللہ اس کی خبر رکھنے والا ہے۔ (ھود : ١١١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب اس قدر تفصیلات کے بعد اور کائناتی شواہد و دلائل کے بعد اگر لوگ ان نشانیوں کو الٹے معنی پہناتا ہے یا قرآن کی آیات میں الحاد کرتے ہیں تو وہ تیار ہوجائیں اپنے انجام کے لئے۔ یہ لوگ اللہ کی واضح آیات کا انکار کرتے ہیں اور ان میں مغالطے ڈالتے ہیں۔ یہ تہدید اگرچہ بالواسطہ اور مجمل ہے لیکن نہایت ہی خطرناک ہے۔ لا یخفون علینا (٤١ : ٤٠) ” وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں “۔ اللہ کے علم میں وہ بالکل سامنے ہیں۔ لہٰذا وہ جو الحاد کرتے ہیں ، قرآن کے معنوں کو الٹے معنی پہناتے ہیں۔ اس پر ان کو سزا ہوگی۔ اگرچہ وہ مغالطے اور تاویلات کریں۔ اگرچہ وہ سمجھیں کہ ہم اللہ کے ہاتھوں چھوٹ جائیں گے۔ جس طرح وہ قرآن کے معانی میں مغالطے اور تاویلات کریں۔ اگرچہ وہ سمجھیں کہ ہم اللہ کے ہاتھوں چھوٹ جائیں گے۔ جس طرح وہ قرآن کے معانی میں مغالطہ ڈال کر اپنے آپ کو ذمہ داریوں سے آزاد کرتے ہیں ۔ یا لوگون کے سامنے بہانہ بنا لیتے ہیں۔ اس اجمالی ڈراوے کے بعد قدرے تصریح افمن یلقی ۔۔۔۔۔ یوم القیمۃ (٤١ : ٤٠) ” خود ہی سوچ لو کہ آیا وہ شخص بہتر ہے جو آگ میں جھونکا جانے والا ہے یا وہ قیامت کے دن امن کی حالت میں حاضر ہوگا “۔ یہ دھمکی کی تصریح ہے کہ آگ میں پھینکا جانا اور جزع فزع تمہارے انتظار میں ہے جبکہ مومن نہایت امن و اطمینان کے ساتھ آئیں گے۔ اس آیت میں ایک دوسری دھمکی بھی ہے۔ اعملوا ما شئتم انہ بما تعلمون بصیر (٤١ : ٤٠) ” کرتے رہو جو تم چاہو ، تمہاری ساری حرکتوں کو اللہ دیکھ رہا ہے “۔ کس قدر بد بخت ہے وہ شخص جسے ہر کچھ کرنے کے لئے چھوڑ دیا جائے۔ وہ جس طرح چاہے اللہ کی آیات میں مغالطے ڈالے اور اللہ اس کے تمام کرتوتوں کو نوٹ کر رہا ہو۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ملحدین ہم پر پوشیدہ نہیں ہیں، جو چاہو کرلو اللہ دیکھتا ہے ! قرآن مجید سے نفع حاصل کرنے والے اہل ایمان ہیں اور دو جماعتیں ایسی ہیں جو قرآن کی دشمن ہیں ایک جماعت تو وہ ہے جو قرآن کو اللہ کی کتاب مانتے ہی نہیں یہ لوگ منکرین ہیں اور دوسری جماعت وہ ہے جو یوں نہیں کہتے کہ قرآن اللہ کی کتاب نہیں ہے لیکن ان کی دشمنی اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ وہ قرآن کا مطلب اپنی طرف سے تجویز کرتے ہیں اور اپنی خواہشوں کے مطابق آیات اور کلمات کا مطلب بتاتے ہیں یہ لوگ ملحدین ہیں جو قرآن میں کجروی نکالتے ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) نے الحاد کا یہی مطلب بتایا اور فرمایا یَصَفُون الکلام فی غیر موضعہٖ یعنی آیات کا مطلب اپنی طرف سے تجویز کرتے ہیں متشابہات کے پیچھے پڑنا اپنی نکالی ہوئی بدعتوں اور خواہشوں کے مطابق قرآن کی تفسیر کرنا یہ سب الحاد کی صورتیں ہیں۔ حضرت حکیم الامت تھانوی (رض) مسائل سلوک میں حضرت ابن عباس (رض) کا قول نقل فرمانے کے بعد لکھتے ہیں ودخل فیہ غلاۃ الصوفیۃ نفیھم التفسیر المنقول و اختراھم ما یخالف الاصول یعنی اس میں غلو والے صوفی بھی داخل ہیں جو منقول تفسیر کی نفی کرتے ہیں اور اپنے پاس سے وہ چیزیں نکالتے ہیں جو اصول کے خلاف ہیں۔ اللہ تعالیٰ جل شانہٗ نے فرمایا کہ جو لوگ ہماری آیات میں کجروی اختیار کرتے ہیں ان کا حال ہم پر پوشیدہ نہیں ہے انہیں الحاد اور بےدینی کی سزا ملے گی۔ اس کے بعد فرمایا (اَفَمَنْ یُّلْقَی فِی النَّارِ ) قیامت کے دن دو قسم کے لوگ ہوں گے جو امن و اطمینان کے ساتھ بےخوف ہوں گے اور جنت میں داخل کردئیے جائیں گے اور بہت سے لوگ ایسے ہوں گے جو حیرانی پریشانی اور گھبراہٹ کے ساتھ قبروں سے نکل کر میدان حشر میں حاضر ہوں گے پھر دوزخ میں داخل کردئیے جائیں گے اب بتانے والے بتائیں اور سمجھدار لوگ جواب دیں کہ جو شخص دوزخ میں ڈالا جائے گا وہ بہتر ہے یا وہ شخص بہتر ہے جو امن و چین اور اطمینان اور سکون سے قیامت کے دن حاضر ہوگا اور پھر جنت میں بھی اسی شان سے داخل ہوگا قیامت کے دن بھی سکون اور اطمینان اور اس کے بعد بھی امن و چین کے ساتھ خوش و خرم رہے گا۔ جَعَلَنَا اللّٰہ منھم (اعْمَلُوْا مَا شِءْتُمْ اِِنَّہٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ) (کرلو جو چاہو بیشک اللہ تمہارے کاموں کو دیکھنے والا ہے اس میں تہدید ہے کہ قرآن کے مخالفین اور منکرین جو چاہیں کرلیں، اپنے کیے کی سزا پائیں گے وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم جو کچھ کرلیں گے اس کی خبر نہ ہوگی اللہ جل شانہٗ ان کے اعمال کو دیکھتا ہے وہ ان کے اعمال کی سزا دے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

38:۔ ” ان الذین یلحدون۔ الایۃ “ یہ دوسری دلیل کے بعد تخویف اخروی ہے۔ یہ تخویف دلیل اول کے بعد والی تخویف سے بطور ترقی ہے۔ کیوں کہ اس سے اقرار و اعتراف کرانا مقصود ہے۔ جیسا کہ آرہا ہے۔ جو لوگ ہماری آیتوں میں کجروی اور کج بحثی اختیار کرتے ہیں اور ماننے کے بجائے ان پر طعن کرتے اور ان میں کیڑے نکالتے ہیں۔ وہ ہم سے اوجھل اور پوشیدہ نہیں ہیں۔ ہم ان کو خوب جانتے ہیں اور ان کے تمام اعمال بھی ہمارے سامنے ہیں، اس لیے وہ جہنم کی آگ سے نہیں بچ سکتے۔ انہیں ان کے اعمال کی پوری پوری سزا دی جائے گی۔ ” افمن یلقی الخ “ یہ ملحدین تو جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ اب تم خود ہی بتاؤ ایک وہ ملحد ہے جسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ ایک وہ مومن ہے جو قیامت کے دن ہر قسم کے عذاب سے محفوظ ومامون ہوگا۔ ان دونوں میں سے کون اچھا رہا ؟ یہ استفہام ہے اور مقصود اعتراف کرانا ہے کہ بیشک دونوں میں اچھا مومن ہے جو قیامت کے دن ہر قسم کے عذاب سے محفوظ و مامون ہوگا۔ ان دونوں میں سے کون اچھا رہا ؟ یہ استفہام ہے اور مقصود اعتراف کرانا ہے کہ بیشک دونوں میں اچھا مومن ہی ہے جو عذاب محفوظ رہے گا۔ اب بھی اگر تم باز نہ آؤ، تو جو جی میں آئے کرتے چلے جاؤ۔ تمہارا کوئی کام اللہ سے مخفی نہیں۔ وہ تمہارے سب کاموں کو دیکھتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(40) بلا شبہ جو لوگ ہماری آیتوں میں کج روی اختیار کرتے ہیں وہ لوگ ہم پر پوشیدہ نہیں ہیں اور ہم سے چھپے ہوئے نہیں ہیں بھلا ایک شخص جو آگ میں ڈالا جائے وہ شخص اچھا اور بہت رہے یا وہ اچھا ہے جو قیامت بےخوف ومامون ہو کر آئے تم جو چاہو کرتے رہو بیشک تم جو کچھ کررہے ہو اس سب کو اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ توحید الٰہی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا انکار اور تکذیب کرتے ہیں اور ہماری آیات میں رکیک اور باطل تاویلات کرتے ہیں اور ہماری آیات میں تحریف کرتے ہیں ان کی یہ حرکات شنیعہ ہم پر پوشیدہ نہیں ہیں یعنی ہم ان کی ان حرکات سے بخوبی واقف ہیں۔ آگے تمثیل بیان فرمائی کہ ایک وہ شخص جو آگ میں جھونکا جائے اور جہنم میں ڈالا جائے اور ایک وہ شخص جو قیامت کے دن مطمئن اور رہا امن اور مامون ہوکر آئے ان دونوں میں کون بہتر ہے۔ مراد اس سے کافر اور مومن ہے یا ابوجہل اور عمار بن یاسر ہیں یا ابوجہل اور حضرت سید الشہداء حمزہ (رض) ہیں بہرحال بہت سے اقوال مذکور ہیں ایسا ہی الحاد میں بہت سے اقوال ہیں ہم نے تیسیر میں ان سب کو جمع کردیا ہے اس آیت میں منکرین توحید و رسالت کے لئے سخت وعید ہے۔ اعملواما شئتم بھی بطور تہدید ہے جو ازواباحت کے لئے نہیں بعض حضرات نے اعملواما شئتم کا تعلق اہل بدر سے کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ جملہ خاص اہل بدر کے لئے ہے لیکن راجح قول پہلا ہے جیسا کہ انہ بما تعملون بصیر اس پر شاہد ہے کہ یہ تنبیہ اور تہدید ہے۔