Surat us Shooraa

Consultation

Surah: 42

Verses: 53

Ruku: 5

Listen to Surah Recitation
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة الشُّوْرٰی نام : آیت 38 کے فقرے وَاَمْرُھُمْ شُوْریٰ بَیْنَھُمْ سے ماخوذ ہے ۔ اس نام کا مطلب ہے کہ وہ سورہ جس میں لفظ شوریٰ آیا ہے ۔ زمانۂ نزول : کسی معتبر روایت سے معلوم نہیں ہو سکا ہے ۔ لیکن اس مضمون پر غور کرنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ سورہ حٰم السجدہ کے متصلاً بعد نازل ہوئی ہو گی ، کیونکہ یہ ایک طرح سے بالکل اس کا تتمہ نظر آتی ہے ۔ اس کیفیت کو ہر وہ شخص خود محسوس کر لے گا جو پہلے سورہ حٰم السجدہ کو بغور پڑھے اور پھر اس سورے کی تلاوت کرے ۔ وہ دیکھے گا کہ اس سورۃ میں سرداران قریش کی اندھی بہری مخالفت پر بڑی کاری ضربیں لگائی گئی تھیں ، تاکہ مکہ معظمہ اور اس کے گرد و پیش کے علاقے میں جس کسی کے اندر بھی اخلاق ، شرافت اور معقولیت کی کوئی حس باقی ہو وہ جان لے کہ قوم کے بڑے لوگ کس قدر بے جا طریقے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کر رہے ہیں ، اور ان کے مقابلہ میں آپ کی بات کتنی سنجیدہ ، آپ کا موقف کتنا معقول اور آپ کا رویہ کیسا شریفانہ ہے ۔ اس تنبیہ کے معاً بعد یہ سورۃ نازل کی گئی جس نے تفہیم کا حق ادا کر دیا اور ایسے دل نشین انداز میں دعوت محمدی کی حقیقت سمجھائی جس کا اثر قبول نہ کرنا کسی ایسے شخص کے بس میں نہ تھا جو حق پسندی کا کچھ بھی مادہ اپنے اندر رکھتا ہو اور جاہلیت کی گمراہیوں کے عشق میں بالکل اندھا نہ ہو چکا ہو ۔ موضوع اور مضمون : بات کا آغاز اس طرح کیا گیا ہے کہ تم لوگ ہمارے نبی کی پیش کردہ باتوں پر یہ کیا چہ میگوئیاں کرتے پھر رہے ہو ۔ یہ باتیں کوئی نئی اور نرالی نہیں ہیں ، نہ یہی کوئی نادر واقعہ ہے جو تاریخ میں پہلی ہی مرتبہ پیش آیا ہو کہ ایک شخص پر خدا کی طرف سے وحی آئے اور اسے بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لیے ہدایات دی جائیں ۔ ایسی ہی وحی ، اسی طرح کی ہدایات کے ساتھ اللہ تعالیٰ اس سے پہلے انبیاء علیہم السلام پر پے در پے بھیجتا رہا ہے ۔ اور نرالی ، اچنبھے کے قابل بات یہ نہیں ہے کہ آسمان و زمین کے مالک کو معبود اور حاکم مانا جائے ، بلکہ یہ ہے کہ اس کے بندے ہو کر ، اس کی خدائی میں رہتے ہوئے کسی دوسرے کی خداوندی تسلیم کی جائے ۔ تم توحید پیش کرنے والے پر بگڑ رہے ہو ، حالانکہ مالک کائنات کے ساتھ جو شرک تم کر رہے ہو وہ ایسا جرم عظیم ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں تو کچھ بعید نہیں ۔ تمہاری اس جسارت پر فرشتے حیران ہیں اور ہر وقت ڈر رے ہیں کہ نہ معلوم کب تم پر خدا کا غضب ٹوٹ پڑے ۔ اس کے بعد لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ نبوت پر کسی شخص کا مقرر کیا جانا ، اور اس شخص کا اپنے آپ کو نبی کی حیثیت سے پیش کرنا یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ خلق خدا کی قسمتوں کا مالک بنا دیا گیا ہے اور اسی دعوے کے ساتھ وہ میدان میں آیا ہے ۔ قسمتیں تو اللہ نے اپنے ہی ہاتھ میں رکھی ہیں ۔ نبی صرف غافلوں کو چونکانے اور بھٹکے ہوؤں کو راستہ بتانے آیا ہے ۔ اس کی بات نہ ماننے والوں کا محاسبہ کرنا اور انہیں عذاب دینا یا نہ دینا اللہ کا اپنا کام ہے ۔ یہ کام نبی کے سپرد نہیں کر دیا گیا ہے ۔ لہٰذا اس غلط فہمی کو اپنے دماغ سے نکال دو کہ نبی اس طرح کے کسی دعوے کے ساتھ آیا ہے جیسے دعوے تمہارے ہاں کے نام نہاد مذہبی پیشوا اور پیر فقیر کیا کرتے ہیں کہ جو ان کی بات نہ مانے گا ، یا ان کی شان میں گستاخی کرے گا وہ اسے جلا کر بھسم کر دیں گے ۔ اسی سلسلے میں لوگوں کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نبی تمہاری بد خواہی کے لیے نہیں آیا ہے ، بلکہ وہ تو ایک خیر خواہ ہے جو تمہیں خبردار کر رہا ہے کہ جس راہ پر تم جا رہے ہو اس میں تمہاری اپنی تباہی ہے ۔ پھر اس مسئلے کی حقیقت سمجھائی گئی ہے کہ اللہ نے سارے انسانوں کو پیدائشی طور پر راست رو کیوں نہ بنا دیا اور یہ مجال اختلاف کیوں رکھی جس کی وجہ سے لوگ فکر و عمل کے ہر الٹے سیدھے راستے پر چل پڑتے ہیں ۔ بتایا گیا کہ اسی چیز کی بدولت تو یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ انسان اللہ کی اس رحمت خاص کو پا سکے جو دوسری بے اختیار مخلوقات کے لیے نہیں ہے بلکہ صرف اس ذی اختیار مخلوق کے لیے ہے جو جبلی طور پر نہیں ، شعوری طور پر اپنے اختیار سے اللہ کو اپنا ولی ( Patron guardian ) بنائے ۔ یہ روش جو انسان اختیار کرتا ہے اسے اللہ تعالیٰ سہارا دے کر ، اس کی رہنمائی کر کے ، اسے حسن عمل کی توفیق دے کر ، اپنی رحمت خاص میں داخل کر لیتا ہے ۔ اور جو انسان اپنے اختیار کو غلط استعمال کر کے ان کو ولی بناتا ہے جو در حقیقت ولی نہیں ہیں اور نہیں ہو سکتے ، وہ اس رحمت سے محروم ہو جاتے ہیں ۔ اسی سلسلے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انسان کا اور ساری مخلوقات کا ولی حقیقت میں اللہ ہی ہے ۔ دوسرے نہ حقیقت میں ولی ہیں ، نہ ان میں یہ طاقت ہے کہ ولایت کا حق ادا کر سکیں ۔ انسان کی کامیابی کا مدار اسی پر ہے کہ وہ اپنے اختیار سے ولی کا انتخاب کرنے میں غلطی نہ کرے اور اسی کو اپنا ولی بنائے جو در حقیقت ولی ہے ۔ اس کے بعد یہ بتایا گیا ہے کہ جس دین کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیش کر رہے ہیں وہ حقیقت میں ہے کیا : اس کی اولین بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ کائنات اور انسان کا خالق ، مالک اور ولی حقیقی ہے ، اس لیے وہی انسان کا حاکم بھی ہے ، اور اسی کا یہ حق ہے کہ انسان کو دین اور شریعت ( اعتقاد و عمل کا نظام ) دے اور انسانی اختلافات کا فیصلہ کر کے بتائے کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا ۔ دوسری کسی ہستی کو انسان کے لیے شارع ( Lawgiver ) بننے کا سرے سے حق ہی نہیں ہے ۔ بالفاظ دیگر فطری حاکمیت کی طرح تشریعی حاکمیت بھی اللہ کے لیے مخصوص ہے ۔ انسان یا کوئی غیر اللہ اس حاکمیت کا حامل نہیں ہو سکتا ۔ اور اگر کوئی شخص اللہ کی اس حاکمیت کو نہیں مانتا تو اس کا اللہ کی محض فطری حاکمیت کا ماننا لا حاصل ہے ۔ اسی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے ابتدا سے انسان کے لیے ایک دین مقرر کیا ہے ۔ وہ ایک ہی دین تھا جو ہر زمانے میں تمام انبیاء کو دیا جاتا رہا ۔ کوئی نبی بھی اپنے کسی الگ مذہب کا بانی نہیں تھا ۔ وہی ایک دین اول روز سے نسل انسانی کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہوتا رہا ہے ، اور سارے انبیاء اسی کے پیرو اور داعی رہے ہیں ۔ وہ دین کبھی محض مان کر بیٹھ جانے کے لیے نہیں بھیجا گیا ، بلکہ ہمیشہ اس غرض کے لیے بھیجا گیا ہے کہ زمین پر وہی قائم اور رائج اور نافذ ہو ، اور اللہ کے ملک میں اللہ کے دین کے سوا کسی اور کے ساختہ و پرداختہ دین کا سکہ نہ چلے ۔ انبیاء علیہم السلام اس دین کی محض تبلیغ پر نہیں بلکہ اسے قائم کرنے کی خدمت پر مامور کیے گئے تھے ۔ نوع انسانی کا اصل دین یہی تھا ، مگر انبیاء کے بعد ہمیشہ یہ ہوتا رہا کہ خود غرض لوگ اس کے اندر اپنی خود پسندی ، خود رائی اور خود نمائی کے باعث اپنے مفاد کی خاطر تفرقے برپا کر کر کے نئے نئے مذہب نکالتے رہے ۔ دنیا میں یہ جتنے بھی مختلف مذہب پائے جاتے ہیں ، سب اسی ایک دین کو بگاڑ کر پیدا کیے گئے ہیں ۔ اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے بھیجے گئے ہیں کہ ان متفرق طریقوں اور مصنوعی مذہبوں اور انسانی ساخت کے دینوں کی جگہ وہی اصل دین لوگوں کے سامنے پیش کریں اور اسی کو قائم کرنے کی کوشش کریں ۔ اس پر خدا کا شکر ادا کرنے کے بجائے اگر تم الٹے بگڑتے ہو اور لڑنے کو دوڑتے ہو تو یہ تمہاری نادانی ہے ۔ تمہاری اس حماقت کی وجہ سے نبی اپنا کام نہیں چھوڑ دے گا ۔ وہ اس بات پر مامور ہے کہ پوری استقامت کے ساتھ اپنے موقف پر جم جائے اور اس کام کو پورا کرے جس پر وہ مامور ہوا ہے ۔ اس سے یہ امید نہ رکھو کہ وہ تمھیں راضی کرنے کے لیے دین میں انہی اوہام و خرافات اور جاہلیت کی رسموں اور طور طریقوں کے لیے کوئی گنجائش نکالے گا جن سے خدا کا دین پہلے خراب کیا جاتا رہا ہے ۔ تم لوگوں کو یہ احساس نہیں ہے کہ اللہ کے دین کو چھوڑ کر غیر اللہ کے بنائے ہوئے دین و آئین کو اختیار کرنا اللہ کے مقابلے میں کتنی بڑی جسارت ہے ۔ تم اپنے نزدیک اسے دنیا کا معمول سمجھ رہے ہو ، اور تمھیں اس میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی ۔ مگر اللہ کے نزدیک یہ بدترین شرک اور شدید ترین جرم ہے جس کی سخت سزا ان سب کو بھگتنی پڑے گی جنہوں نے اللہ کی زمین پر اپنا دین جاری کیا اور جنہوں نے ان کے دین کی پیروی اور اطاعت کی ۔ اس طرح دین کا ایک صاف اور واضح تصور پیش کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ تم لوگوں کو سمجھا کر راہ راست پر لانے کے لیے جو بہتر سے بہتر طریقہ ممکن تھا وہ استعمال کیا جا چکا ۔ ایک طرف اللہ نے اپنی کتاب نازل فرمائی جو نہایت دل نشین طریقے سے تمہاری اپنی زبان میں تمھیں حقیقت بتا رہی ہے ۔ اور دوسری طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب کی زندگیاں تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں جنہیں دیکھ کر تم جان سکتے ہو کہ اس کتاب کی رہنمائی میں کیسے انسان تیار ہوتے ہیں ۔ اس پر بھی اگر تم ہدایت نہ پاؤ تو پھر دنیا میں کوئی چیز تمھیں راہ راست پر نہیں لا سکتی ۔ اس کا نتیجہ تو پھر یہی ہے کہ تمھیں اسی گمراہی میں پڑا رہنے دیا جائے جس میں تم صدیوں سے مبتلا ہو ، اور اسی انجام سے تم کو دوچار کر دیا جائے جو ایسے گمراہوں کے لیے اللہ کے ہاں مقدر ہے ۔ ان حقائق کو بیان کرتے ہوئے بیچ بیچ میں اختصار کے ساتھ توحید اور آخرت کے دلائل دیے گئے ہیں دنیا پرستی کے نتائج پر متنبہ کیا گیا ہے ، آخرت کی سزا سے ڈرایا گیا ہے اور کفار کی ان اخلاقی کمزوریوں پر گرفت کی گئی ہے جو ہدایت سے ان کے منہ موڑنے کا اصل سبب تھیں ۔ پھر کلام کو ختم کرتے ہوئے دو اہم باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں : ایک یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی زندگی کے ابتدائی چالیس سال میں کتاب کے تصور سے بالکل خالی الذہن اور ایمان کے مسائل و مباحث سے قطعی ناواقف رہنا ، اور پھر یکایک ان دونوں چیزوں کو لے کر دنیا کے سامنے آ جانا ، آپ کا اپنی پیش کردہ تعلیم کو خدا کی تعلیم قرار دینا یہ معنی نہیں رکھتا کہ آپ خدا سے رو در رو کلام کرنے کے مدعی ہیں ، بلکہ خدا نے یہ تعلیم تمام انبیاء کی طرح آپ کو بھی تین طریقوں سے دی ہے ۔ ایک وحی ، دوسرے پردے کے پیچھے سے آواز ، اور تیسرے فرشتے کے ذریعہ سے پیغام ۔ یہ وضاحت اس لیے کی گئی کہ مخالفین یہ الزام تراشی نہ کر سکیں کہ حضور خدا سے رو در رو کلام کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں ، اور حق پسند لوگ یہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو انسان نبوت کے منصب پر سرفراز کیا گیا ہو اسے کن طریقوں سے ہدایت دی جاتی ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

تعارف سورۃ الشورٰی یہ حوامیم کے مجموعے کی تیسری سورت ہے، دوسری مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی توحید، رسالت اور آخرت کے بنیادی عقائد پر زور دیا گیا ہے، اور ایمان کی قابل تعریف صفات بیان فرمائی گئی ہیں، اسی ذیل میں آیت نمبر : ٣٨ میں مسلمانوں کی یہ خصوصیت بیان فرمائی گئی ہے کہ ان کے اہم معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں، مشورے کے لئے عربی کا لفظ شوری استعمال کیا گیا ہے، اسی بنا پر سورت کا نام سورۂ شوری ہے، سورت کے آخر میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی انسان سے روبرو ہوکرہم کلام نہیں ہوتا، بلکہ وحی کے ذریعے کلام فرماتا ہے، اور پھر اس وحی کی مختلف صورتیں بیان فرمائی گئی ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ جو زبردست حکمت والا ، نرالی شان والا ، آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ، اس کی عظمت وہیبت سے بعید نہیں کہ آسمان پھٹ پڑیں ۔ تمام فرشتے اسی کی حمد وثناء کرتے ہیں اور زمین پر بسنے والے ( نیک اور متقی لوگوں کے لیے) دعائے مغفرت مانگتے رہتے ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی اللہ کی طرف سے نازل کی گئی کتاب کی تبلیغ و اشاعت کے فرض کو ادا کرتے رہیے اور ہر شخص تک اس پیغام کو پہنچانے کی جدوجہد اور کوشش کرتے رہیے۔ اور جو لوگ قیامت کا انکار کرتے یا مذاق اڑاتے ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ ان کے انکار کرنے سے قیامت کا ہیبت ناک دن ٹل نہیں سکتا وہ دن آ کر رہے گا ۔ اس دن تمام اولین و آخرین کا زندہ کر کے اٹھایا جائے گا ہر ایک کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا جائے گا جو بہتر جزا کے مستحق ہیں ان کو خیر عطاء کی جائے گی لیکن جو سزا کے مستحق ہوں گے ان کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔ (اللہ نے سارا رزق اپنے ساتھ میں رکھا ہے وہ جس کے لیے چاہتا ہے ہر راستہ کھول دیتا ہے اور خوب رزق دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے راستے تنگ کردیتا ہے اور اس کا رزق باندھ دیا جاتا ہے۔ رزق کی فراخی اور تنگی سب اللہ کی طرف سے ہے۔ ) فرمایا کہ جن لوگوں کا کام ہی یہ ہے کہ وہ ہر چیز میں جھگڑے اور مسائل پیدا کرنے کے عادی ہیں ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیجئے وہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ اسی کا کائنات میں ہر طرح کے اختیارات حاصل ہیں ۔ وہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کے دروازے کھول دیتا ہے اور اپنی مصلحت کے مطابق جس کے لیے چاہتا ہے روزق اور رزق کو باندھ دیتا ہے اور تنگ کردیتا ہے۔ وہی کائنات کی ہر حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے۔ (سمندر میں جو جہاز اور کشتیاں چلتی ہیں وہ اللہ کے حکم سے چلتی ہیں جس کے لیے اس نے ہواؤں کو چلا رکھا ہے۔ اگر وہ چاہے تو ہواؤں کو ٹھہرا دے یا ان کو طوفانی ہوائیں بنا دے اور وہ اپنی ترقیات کے باوجود بالکل بےبس ہو کر رہ جائیں ۔ اگر اللہ ایسا کر دے تو وہ برباد ہو کر رہ جائیں گے۔ اس لیے ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، کیونکہ یہ سب اسی کا کرم ہے۔ ) فرمایا کہ یہ اختلاف لوگوں نے خود ہی پیدا کر رکھے ہیں ۔ اس لیے اہل ایمان ان باتوں کی پرواہ نہ کریں ، دین اسلام کی پیروی کریں ۔ اسی کی طرف لوگوں کو بلائیں ، دعوت دیں ۔ خود بھی اس پر قائم رہیں اور دوسروں کو بھی اسی راستے پر چلائیں کسی باطل کی پیروی نہ کریں ۔ ایک دن سب کو اللہ کی بارگاہ میں جمع ہونا ہے جہاں ہر بات کا فیصلہ ہوجائے گا۔ ( آخرت میں گناہ کار ، کفار و مشرکین جب کھلی آنکھوں سے اس عذاب کو دیکھیں گے جس کے متعلق اللہ کے پیغمبروں نے بتایا تھا تو وہ سخت شرمندہ ہو کر کہیں گے کہ اگر ہمیں دنیا میں جانے کا ایک موقع دیا جائے تو ہم حسن عمل کا پیکر بن جائیں گے مگر ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوگی اور وہ اپنے کیے کی سزا بھگتیں گے۔ ) فرمایا کہ جو لوگ ایمان والے ہیں جب ان کے سامنے قیامت کے ہیبت ناک دن کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو وہ لرز اٹھتے ہیں کیونکہ انہیں اس دن کے واقع ہونے کا پوری طرح یقین ہوتا ہے۔ لیکن جن لوگوں کو اس کا یقین نہیں ہے وہ اس کا مذاق اڑانے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو نجانے کب سے سنتے آ رہے ہیں ۔ آخر وہ قیامت کب آئے گی ؟ اللہ تعالیٰ نے انسانی اعمال کو کھیتی کی مثال دے کر بتایا ہے کہ جو شخص اس دنیا کی کھیتی کو مانگتا ہے اللہ اس کی کھیتی میں ترقی عطا فرما دیتے ہیں ۔ لیکن جو لوگ آخرت کی کھیتی کے طلب گار ہیں ان کو دنیا اور آخرت دونوں جگہ خوب عطاء کرتے ہیں ۔ ان کے لیے جنت کے باغات ہوں گے اور ہر وہ چیز عطاء کی جائے گی جس کی وہ خواہش کریں گے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا جا رہا ہے کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کفار کو اللہ دین پہنچاتے ہیں تو وہ اس سے بھڑک اٹھتے ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیتیں پہنچانے میں کسر نہیں چھوڑتے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے کہہ دیجئے کہ میں یہ جتنی باتیں تمہیں بتا رہا ہوں اس میں صرف تمہاری خیر خواہی مقصود ہے اس سے نہ تو میں تم سے کسی طرح کی کوئی اجرت مانگ رہا ہوں اور نہ معاوضہ کہ جس کی وجہ سے تمہیں بہت بوجھ محسوس ہو رہا ہے ، البتہ میں یہ چاہتا ہوں کہ تم قرابت داری کا کچھ تو خیال کرو۔ میری باتیں غور سے سنو اور مجھے ناحق تکلیفیں نہ پہنچائو۔ فرمایا کہ ان لوگوں کی یہ باتیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس قرآن کو خود ہی گھڑ لیا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو کہنے دیں ، پرواہ نہ کریں کیونکہ اللہ خود اس بات پر گواہی دے رہا ہے کہ یہ میرا کلام ہے اگر ان لوگوں نے ایسی باتوں سے توبہ کرلی تو اللہ ان کے گناہوں کو معاف فرمادے گا ۔ لیکن اگر وہ اپنے کفر پر قائم رہے اور اسی پر اصرار کرتے رہے اور ایمان نہیں لائے تو وہ یاد رکھیں کہ ان کے لیے اللہ نے ایک عذاب مقرر کردیا ہے ۔ اللہ کی ذات پر کائنات کا ذرہ ذرہ گواہی دے رہا ہے۔ اللہ کسی پر ظلم اور زیادتی نہیں کرتا بلکہ میں جو آفتیں اور مصیبتیں آتی ہیں وہ خود انسان کا کیا دھرا ہے وہ تو معاف کرتا اور نظر انداز کرتا رہتا ہے اگر وہ انسان کی ہر خطاء پر اس کو اسی وقت سزا دے دے تو پھر زمین پر کسی کا ٹھکانہ نہ رہے گا ۔ سمندر میں جہاز اور کشتیاں صرف اسی کے حکم سے چلتی ہیں ۔ اگر وہ ہوا کو ٹھہرا دے یا تیز کر دے تو وہ لوگ تباہ و برباد ہو کر رہ جائیں ۔ لیکن اللہ کا یہ کرم ہے کہ وہ انسانوں کے بہت سے گناہوں کو نظر انداز کرتا رہتا ہے البتہ کبھی کبھی گرفت بھی کرلیتا ہے۔ فرمایا کہ آدمی کو اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہیے کہ دنیا کی زندگی بہت مختصر ہے جب موت آتی ہے تو اس سے سب کچھ چھن جاتا ہے۔ اس بات کو ہر شخص یاد رکھے کہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے جس میں اسے ہمیشہ رہنا ہے۔ اہل ایمان وہ لوگ ہیں جو (١) اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔ (٢) اس پر پورا پورا بھروسہ رکھتے ہیں۔ (٣) وہ چھوٹے بڑے ہر طرح کے گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ (٤) غصہ میں آجانے کے باوجود اس کو معاف بھی کردیتے ہیں۔ (٥) اللہ کے تمام احکامات کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ (٦) نمازوں کی پورے آداب کے ساتھ پابندی کرتے ہیں۔ (٧) وہ آپس کے کاموں میں مشورہ کر کے طے کرتے ہیں۔ (٨) اللہ کے دیئے ہوئے رزق میں سے وہ اللہ کی رضا خوشنودی کے لئے اللہ کے بندوں پر خرچ کرتے ہیں۔ (٩) جب ان پر کوئی ظلم کیا جاتا ہے تو وہ کسی پر زیادتی نہیں کرتے۔ اگر بدلہ لیتے ہیں تو برابری کا بدلہ لیتے ہیں ۔ فرمایا کہ اگر وہ معاف کردیں تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے کیونکہ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا بلکہ وہ عفو و در گزر کو بہت پسند کرتا ہے۔ (١٠) یہ زبردست حوصلے اور ہمت کی بات ہے کہ وہ ہر طرح کے حالات میں صبر و تحمل سے کام لیتے ہیں۔ جب قیامت قائم ہوگی تو وہ لوگ جنہوں نے ظلم و زیادتی کی ہوگی وہ اپنے کیے ہوئے اعمال پر شرمندہ ہو کر کہیں گے کہ کاش ہمیں ایک مرتبہ پھر دنیا میں جانے کا موقع مل جائے تو پھر ہم بہتر عمل کر کے دکھائیں گے۔ ان کی یہ خواہش رد کردی جائے گی جب وہ جہنم اور اس کے عذاب کو اپنے سامنے دیکھیں گے تو ذلت و رسوائی اور شرمندگی سے ان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے اور کن آنکھوں سے نظریں چرا چرا کر اس عذاب کو دیکھیں گے۔ اس وقت اہل ایمان کہیں گے کہ یہ کتنے بد نصیب لوگ ہیں جو خود بھی جہنم کا ایندھن بن گئے اور اپنے گھر والوں کو بھی عذاب میں مبتلا کر گئے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کا پیغام ان کفار تک پہنچا دیں اگر وہ مانتے ہیں تو ان کے حق میں بہتر ہے لیکن اگر وہ نہیں مانتے تو اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی قصور نہ ہوگا ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ مانتے ہیں یا نہیں مانتے یہ ان کا معاملہ ہے لیکن کائنات کا ذرہ ذرہ اس بات پر گواہی دے رہا ہے کہ ساری طاقت و قوت صرف ایک اللہ کی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے وہ جس کو چاہتا ہے بیٹے دے دیتا ہے ، کسی کو بیٹیاں اور کسی کو اولاد ہی سے محروم کردیتا ہے۔ کفار کا یہ کہنا کہ اللہ خود آ کر یہ کہہ دے کر میں اللہ ہوں تو ہم اس کو مان لیں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کے سامنے آ کر اس سے باتیں کرے گا ۔ البتہ وہ اگر چاہے تو اپنے بندوں کی طرف الہام کردیتا ہے یا پردے کے باہر سے یا کسی فرشتے کے ذریعہ اپنا کلام پہنچا دیتا ہے۔ جس طرح اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کی طرف اس نے اپنا کلام بھیجا ہے ۔ فرمایا کہ یہ ایک نور ہے جس سے اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت عطاء کردیتا ہے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ خود بھی سیدھے راستے پر ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو بھی صراط مستقیم کی طرف بلا رہے ہیں ۔ آخر کار ایک دن سب کو اللہ کے سامنے حاضر ہوتا ہے جہاں پر ہر بات کا فیصلہ کردیا جائے گا ۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

سورة الشّوریٰ کا تعارف الشّوریٰ مکہ معظمہ میں نازل ہوئی ترپن (٥٣) آیات اور پانچ رکوع پر مشتمل ہے۔ اور حٰمٓ کے لفظ سے شروع ہونے والی یہ تیسری سورت ہے۔ ربط سورة : سورة حٰمٓ السجدہ کا اختتام اس بات پر ہوا کہ اگر قرآن مجید ” اللہ “ کی طرف سے نازل ہوا ہے، یقیناً ہوا۔ تم اس کا انکار کرتے ہو تو پھر بتاؤ اس شخص سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو جان بوجھ کر قرآن مجید کا انکار کرتا ہے۔ الشوریٰ کا آغاز ان الفاظ سے ہوا کہ اے نبی آپ پر اسی طرح ہی وحی کی جا رہی ہے جس طرح آپ سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) پر وحی کی جاتی تھی۔ وحی کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ اللہ کی توحید پر ایمان لا کر اس کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ جو لوگ توحید کا انکار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اپنا خیر خواہ سمجھتے ہیں ان پر مزید وقت صرف کرنے کی بجائے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کسی پر نگران اور پاسبان نہیں بنایا۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں سے امیدیں وابستہ رکھتے ہیں۔ انہیں دیکھنا اور سوچنا چاہیے کہ جس رب پر ایمان لانے اور اس کی بات ماننے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اسی نے زمین و آسمان، انسان اور چوپاؤں کو پیدا کیا ہے اور وہی رزق کا بندوبست کرنے والا ہے۔ یہ باتیں حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ ( علیہ السلام) تک تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) پر وحی کی گئیں لیکن ہر دور کے مشرک نے ان باتوں کا انکار کیا۔ اے نبی مشرک کا روّیہ جو بھی ہو آپ کو یہی دعوت دینا اور اس پر استقامت اختیار کرنا ہے۔ البتہ انہیں ارشاد فرمائیں کہ میں اس دعوت کے عوض میں رشتہ داری کی محبت کے سوا تم سے کسی بات کا مطالبہ نہیں کرتا۔ یاد رکھو جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے وہ عارضی ہے اور جو اللہ تعالیٰ نے آخرت میں اپنے بندوں کے لیے تیار کر رکھا ہے وہ ہمیشہ ہمیش رہنے والا ہے۔ الشوریٰ کی آیت ٣٨ میں مسلمانوں کے اجتماعی نظام کی خوبی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ان کا اجتماعی نظام آمریت کی بجائے شورائیت پر مبنی ہوتا ہے۔ اور اس اجتماعیت کا تقاضا ہے کہ مسلمان باجماعت نماز کا اہتمام کرتے اور مال دار لوگ دوسروں پر خرچ کرتے ہیں۔ سورت کا آغاز اس بات سے ہوا کہ قرآن مجید بھی اسی طرح وحی کے ذریعے نازل کیا جا رہا ہے جس طرح پہلے انبیاء پر وحی کے ذریعے کتابیں نازل کی گئی تھیں۔ کفار کے الزام کے جواب میں یہ بات بھی واضح کردی گئی ہے کہ کسی بشر کے لائق نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ براہ راست کلام فرمائے اس نے جس پر اپنا پیغام نازل فرمایا وہ وحی اور حجاب کے ذریعے ہی نازل کیا جاتا تھا۔ اور اسی طرح ہی آپ پر وحی کی جاتی ہے۔ وحی سے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں جانتے تھے کہ قرآن اور ایمان کیا ہیں ؟ یہ تو اللہ کا کرم ہوا ہے کہ اس نے آپ پر قرآن نازل کیا اور آپ کو صراط مستقیم کی رہنمائی فرمائی۔ آپ یاد رکھیں کہ ہر کام کا نتیجہ اللہ کے ہاں مرتب ہوا ہے۔ باالفاظ دیگر انجام کار ” اللہ “ کے ہاتھ میں ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فی ظلال القرآن جلد۔۔۔۔۔ پنجم پارہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٢٥ سورة الشوریٰ ۔ ٤٢ آیات ١۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ ٥٣ سورة الشوریٰ ایک نظر میں یہ سورت بھی تمام دوسری مکی سورتوں کی طرح نظریاتی مسئلے پر بحث کر رہی ہے لیکن اس کے زیادہ تر مضامین وحی و رسالت کے مضمون کے اردگرد گھومتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس سورت کا مرکزی مضمون اور محور ہی وحی رسالت ہے تو درست ہوگا۔ اس سورت کا تانا بانا اسی موضوع سے ہے اور دوسرے موضوعات اسی مرکزی مضمون کے تابع ہیں۔ اللہ کی وحدانیت کے مضمون کو یہ سورت مختلف پہلوؤں سے لیتی ہے اور اس موضوع پر بات کر بہت پھیلایا گیا ہے۔ قیامت اور قیامت پر ایمان کا موضوع بھی ہے اور قیامت کے بعض مناظر بھی اس کے اندر بیان ہوئے ہیں ، جا بجا اس سورت میں مومنین کی امتیازی صفات اور خصوصیات بھی بیان کی گئی ہیں اور یہ بھی ہے کہ کسی کو وافر مقدار میں رزق دینا اور کسی کے رزق میں تنگی کرنا اللہ کا کام ہے اور یہ کہ انسان کو خوشحالی اور مشکلات میں کس طرح کا طرز عمل اختیار کرنا چاہئے۔ اگرچہ مذکور متنوع مضامین بھی اس سورت میں ہیں لیکن وحی و رسالت اور ان سے متعلقہ مضامین اس سورت میں ممتاز ہیں اور سورت کا بڑا حصہ انہی پر مشتمل ہے اور دوسرے مضامین پر بھی انہی کا سایہ ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ دوسرے مضامین بھی وحی و رسالت کے ثبوت کے لئے لائے گئے ہیں۔ یہ مضامین اور ان کے ذیلی مضامین اس سورت میں اس طرح لائے گئے ہیں جو قابل غور اور قابل تدبر ہیں اور اس انداز پر گہرے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ کیونکہ کئی پہلوؤں سے موضوعات کو دہرایا گیا ہے ، اگرچہ بعض آیات ایسی ہیں جن میں خالق کی وحدانیت ، رازق کی وحدانیت ، دلوں میں تصرف کی وحدانیت ، اور اچھے یا برے انجام عطا کرنے میں وحدانیت کے مضامین ہیں لیکن یہ اس وقت ہے جب وحی و رسالت بھیجنے والے کی وحدانیت کی بات آتی ہے ، جس میں وحدت وحی ، وحدت عقیدۂ توحید ، وحدت شریعت اور منہاج حیات اور سب سے آخر میں یہ اس نظریہ حیات کی روشنی میں انسانوں کی قیادت کی وحدت کے مضامین۔ چناچہ قاری کے ذہن میں توحید کے خطوط ابھرنا شروع ہوتے ہیں اور وہ واضح ہوتے چلے جاتے ہیں۔ مختلف پہلوؤں اور مختلف معانی کے لحاظ سے توحید کے اشارات ذہن میں ابھرتے ہیں۔ سورت کے تمام مضامین سے اور مختلف قسم کے موضوعات ہے۔ مناسب ہے کہ بعض اجمالی اشارات یہاں دے دئیے جائیں ، تفصیلات بعد میں آئیں گی۔ سورت کا آغاز حا ، میم ، عین ، سین اور قاف کے حروف مقطعات سے ہوتا ہے۔ اور اس کے متصلا یہ آیت ہے : کذالک یوحی ۔۔۔۔۔۔ الحکیم (٤٢ : ٣) ” اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی ۔۔۔۔۔ کرتا رہا ہے “۔ گویا وحی کا سر چشمہ اولین اور آخرین کے لئے ایک ہی رہا ہے۔ الیک والی الذین من قبلک (٤٢ : ٣) ” تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف “۔ اس کے بعد اللہ عزیز و حکیم کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ لہ ما فی السموت وما فی الارض وھو العلی العظیم (٤٢ : ٤) ” آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ، اسی کا ہے۔ وہ برتر اور عظیم ہے “۔ اس میں یہ فیصلہ کردیا گیا کہ آسمانوں اور زمین کا مالک اللہ وحدہ ہے اور برتری اور عظمت کا مستحق وہی ہے اور صرف وہی ہے صفت عزیز و حکیم کے بعد اب سیاق کلام اللہ وحدہ پر ایمان کے سلسلے میں اس کائنات کے رد عمل کو بھی پیش کرتا ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے جو لوگ شرک کرتے ہیں یہ پوری کائنات بھی ان کے اس فعل کو مسترد کرتی ہے۔ تکاد السموت یتفطرن ۔۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (٤٢ : ٥) والذین اتخذوا۔۔۔۔۔۔ بوکیل (٤٢ : ٦) ” قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں۔ فرشتے اپنی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں۔ اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کیے جاتے ہیں ، آگاہ رہو حقیقت میں اللہ غفور ورحیم ہی ہے۔ جن لوگوں نے اس کو چھوڑ کر اپنے کچھ دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں اللہ ہی ان پر نگراں ہے ، تم ان کے حوالہ دار نہیں ہو “۔ گویا پوری کائنات ایمان اور شرک کے مسئلے میں لگی ہوئی ہے۔ شرک اس قدر بڑا گھناؤنا فعل ہے کہ اس سے قریب ہے کہ آسمان ٹوٹ پڑیں اور جو لوگ اس برے فعل کا ارتکاب کرتے ہیں ان کے لئے فرشتے بھی استغفار کرتے ہیں کہ خدایا ، ان کو اس فعل بد سے موڑ دے۔ اس کے بعد روئے سخن پہلی حقیقت کی طرف آتا ہے۔ وکذلک اوحینا ۔۔۔۔۔۔ فی السعیر (٤٢ : ٧) ” ہاں اسی طرح اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، یہ قرآن عربی ہم نے تیری طرف وحی کیا ہے تا کہ تم بستیوں کے مرکز (شہر مکہ ) اور اس کے گردوپیش رہنے والوں کو خبردار کرو ، اور جمع ہونے کے دن سے ڈراؤ جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ ایک گروہ کو جنت میں اور دوسرے گروہ کو دوزخ میں جانا ہے “۔ اس کے بعد فریق جنت اور فریق جہنم کی بات آگے بڑھتی ، کہا جاتا ہے کہ اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو تمام انسانوں کو ایک ہی فریق بنا دیتا لیکن اللہ کی مشیت کا یوں تقاضا ہوا کہ اس نے جسے چاہا اپنی رحمت میں داخل کردیا اور یہ فیصلہ اللہ نے اپنے علم اور معرفت کی بنا پر کیا۔ والظالمون مالھم من ولی ولا نصیر (٤٢ : ٨) ” اور ظالموں کا کوئی والیو مددگار نہیں ہے “۔ اور والی ومدد گار تو اللہ ہی ہے۔ فاللہ ھو الولی ۔۔۔۔۔۔ شیء قدیر (٤٢ : ٩) ” ولی تو اللہ ہی ہے وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے “۔ اس کے بعد روئے سخن پھر پہلی حقیقت کی طرف پھرجاتا ہے یعنی وحی و رسالت کی طرف آتا ہے کہ لوگوں کے درمیان جو اختلافات ہیں تو انہی کے لئے اللہ نے یہ کتاب نازل کی ہے تا کہ لوگ اس کو معیار بنا کر اپنے مسائل حل کریں۔ وما اختلفتم ۔۔۔۔۔۔ والیہ انیب (٤٢ : ١٠) ” تمہارے درمیان جس معاملہ میں بھی اختلاف ہو ، اس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے ، وہی اللہ میرا رب ہے ، اس پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں “۔ وحدانیت خالق کے ثبوت کے لئے بات اب اللہ کی ربوبیت کے نظام میں داخل ہوتی ہے کہ وہ وحدہ خالق ہے ، رب ہے اور متصرف فی الامور ہے۔ آسمانوں اور زمینوں کا نظام اس نے مقرر کیا ہے ، رزق کی فراوانی اور تنگی بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ فاطر السموت ۔۔۔۔۔ السمیع البصیر (٤٢ : ١١) لہ مقالید السموت۔۔۔۔۔ شیء علیم (٤٢ : ٢١) ” آسمانوں اور زمین کا بنانے والا جس نے تمہاری اپنی جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کئے اور اس طرح جانوروں میں بھی جوڑے بنائے ، اور اس طریقہ سے وہ تمہاری نسلیں پھیلاتا ہے ، کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں ، وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ آسمان اور زمین کی کنجیاں اس کے پاس ہیں ، جسے چاہتا ہے ، کھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، نپا تلا دیتا ہے ، اسے ہر چیز کا علم ہے۔ اس کے بعد پھر پہلی حقیقت وحی الٰہی کی طرف : شرع لکم من ۔۔۔۔۔ الیہ من ینیب (٤٢ : ١٣) وما تفرقوا الا ۔۔۔۔۔ شک منہ مریب (٤٢ : ١٤) فلذلک فادع ۔۔۔۔ من کتاب (٤٢ : ١٥) ” اس نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے ، جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا ، اور جسے اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعے سے بھیجا ہے ، اور جس کی ہدایت ہم ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دے چکے ہیں۔ اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہوجاؤ۔ یہی بات ان مشرکین کو سخت ناگوار ہوئی ہے جس کی طرف تم انہیں دعوت دے رہے ہو۔ اللہ جسے چاہتا ہے ، اپنا کرلیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اس کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے۔ لوگوں میں جو تفرقہ رونما ہوا ، وہ اس کے بعد ہوا ، کہ ان کے پاس علم آچکا تھا اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے۔ اگر تیرا رب پہلے ہی نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک وقت مقررہ تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چکا دیا ہوتا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، تو اب اس دین کی طرف دعوت دے اور جس طرح تمہیں حکم گیا ہے ، اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوجاؤ، اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو ، اور ان سے کہو کہ اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے اس پر میں ایمان لایا “۔ غرض حقائق کے بیان کرنے میں یہ سورت اس نہج پر چلتی ہے اور یہ اس کے موضوعات ہیں۔ یہ فضا ہے اور یہ تمام امور وحی و رسالت کے ساتھ متعلق ہیں۔ جو اس سورت کا مرکزی موضوع ہے۔ اس سورت کے پہلے سبق کے اندر ترتیب اور ربط مضامین بالکل واضح ہے۔ مضمون جوں جوں آگے بڑھتا ہے ، وحی و رسالت کے ساتھ اس کا تعلق واضح ہوتا جاتا ہے۔ مضمون کا کوئی نہ کوئی حصہ وحی و رسالت سے وابستہ نظر آتا ہے۔ دوسرا سبق بقیہ سورت پر مشتمل ہے۔ اس کا آغاز رزق کی فراوانی اور تنگی کے مضمون سے ہے۔ پھر باران رحمت ، زمین و آسمان کی تخلیق اور زمین کے اندر قسم قسم کے حیوانات کا پھیلانا پہاڑوں جیسے بحری جہاز۔ پھر صفات مومنین اور ان کی جماعت ، پھر وہ منظر جب ظالم قیامت کے دن عذاب دیکھیں گے۔ وتری الظالمین ۔۔۔۔ من سبیل (٤٢ : ٤٤) وترھم یعرضون علیھا ۔۔۔۔ طرف خفی (٤٢ : ٤٥) ” تم دیکھو گے کہ یہ ظالم جب عذاب دیکھیں تو کہیں گے اب پلٹنے کی بھی کوئی سبیل ہے ، اور تم دیکھو گے کہ یہ جہنم کے سامنے جب لائے جائیں گے تو ذلت کے مارے جھکے جا رہے ہوں گے اور اس کو نظر بچا بچا کر کن اکھیوں سے دیکھیں گے “۔ اس دن مومنین سربلند ہوں گے اور وہ ظالموں کے حالات پر یہ تبصرہ کریں گے۔ وقال الذین امنوا ۔۔۔۔۔ فی عذاب مقیم (٤٢ : ٤٥) ” اس وقت وہ لوگ جو ایمان لائے تھے کہیں گے کہ واقعی اصل زیاں کار وہی ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں ڈالا۔ خبردار رہو ظالم لوگ مستقل عذاب میں رہیں گے “۔ اس لیے لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ اپنے آپ کو اس قسم کے انجام بد سے بچاؤ۔ قبل اس کے وقت ہاتھوں سے چلا جائے۔ استجیبوا لربکم ۔۔۔۔ من نکیر (٤٢ : ٤٨) ” مان لو اپنے رب کی بات قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی کوئی صورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ اس دن تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی اور نہ کوئی تمہارے حال کو بدلنے کی کوشش کرنے والا ہوگا “۔ اب یہاں آکر مضمون پھر پہلی حقیقت کی طرف مڑجاتا ہے یعنی حقیقت وحی و رسالت کی طرف ، رسالت کا ایک پہلو یہاں لیا جاتا ہے۔ فان اعرضوا ۔۔۔۔۔ الا البلغ (٤٢ : ٤٨) ” اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے تم کو ان پر نگہبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے ۔ تم پر تو صرف بات پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔ اس کے بعد اب سیاق کلام اسی مضمون کے گرد گھومتا ہے ، براہ راست یا بالواسطہ ، دوران بیان وحی و رسالت کی طرف کسی نہ کسی شکل میں اشارہ آتا ہے۔ یہاں تک کہ سورت کے آخر میں وحی و رسالت کے بارے میں یہ بیان آتا ہے۔ وما کان لبشر ان یکلمہ ۔۔۔۔۔۔ علی حکیم ( ٤٢ : ٥١) وکذلک او حینا ۔۔۔۔۔ الی صراط مستقیم (٤٢ : ٥٢) صراط اللہ الذی لہ ۔۔۔۔۔۔۔ تصیر الامور (٤٢ : ٥٣) ” کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اس سے روبرو بات کرے ، اس کی بات یا تو وحی کے طور پر ہوتی ہے ، یا پردے کے پیچھے سے یا پھر وہ کوئی پیغام بر بھیجتا ہے اور وہ اس کے حکم سے جو کچھ چاہتا ہے ، وحی کرتا ہے ، وہ برتر اور حکیم ہے اور اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے ایک روح تمہاری طرف وحی کی ہے۔ تمہیں کچھ پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے ، مگر اس روح کو ہم نے ایک روشنی بنا دیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں ، اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ، یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو ، اس خدا کے راستے کی طرف جو زمین اور آسمان کی ہر چیز کا مالک ہے۔ خبردار رہو ، سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔ ٭٭٭ اس پوری سورت میں اگرچہ مرکزی مضمون وحی و رسالت ہے لیکن اس مضمون کو اس انداز میں پیش کرنے کا ایک خاص مقصد ہے ، وہ یہ کہ مبشرین اور مبلغین کی ایک جدید قیادت متعین کی جائے جو اس آخری پیغام ، اس آخری نبی اور اس آخری امت کے مشن کو آگے بڑھائے ، یہ امت جو اسلام کے نہایت ہی مستحکم منہاج پر چل رہی ہے۔ چناچہ اس غرض کے لئے پہلا اشارہ سورت کے آغاز ہی میں ہے۔ کذلک یوحی ۔۔۔۔۔۔ العزیز الحکیم (٤٢ : ٣) ” ا سی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے “۔ تا کہ یہ بتا دیا جائے کہ تمام رسولوں کی طرف رسالت اللہ ہی وحی کرتا رہا ہے اور یہ آخری رسالت سابقہ رسالتوں کا تسلسل ہے اور اس کا مضمون پہلے سے طے شدہ ہے۔ اور اس کے تھوڑے ہی عرصہ بعد یہی اشارہ آتا ہے۔ وکذلک اوحینا الیک ۔۔۔۔۔ ومن حولھا (٤٢ : ٧) ” اور اسی طرح ہم نے اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، یہ قرآن عربی تمہاری طرف وحی کیا ہے تا کہ تم بستیوں کے مرکز (مکہ) اور اس کے گردوپیش رہنے والوں کو خبردار کردو “۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ قیادت کا مرکز مکہ ہے اور اس کی طرف بعد میں بھی اشارہ آئے گا۔ اور تیسرے اشارے میں ہے کہ رسالت بھی ایک ہے جس طرح پہلے اشارے میں ہے کہ رسالت اللہ کی طرف سے بھیجی گئی ہے اور اس کا سرچشمہ بھی ایک ہے۔ شرع لکم من الدین ۔۔۔۔۔ ولا تتفرقوا فیہ (٤٢ : ١٣) ” اس نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا۔ اور جسے تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے اور جس کی ہدایت ہم ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ کو دے چکے ہیں۔ اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور متفرق نہ ہوجاؤ “۔ اس بیان کو جاری رکھتے ہوئے یہ کہا جاتا ہے کہ تفرق فی الدین اس وصیت کی مخالفت میں واقع ہوا ، ان رسولان کرام کے متبعین نے یہ تفرق جہل کی وجہ سے اختیار نہ کیا بلکہ مانتے ہوئے حسد ، ظلم اور دست درازی کی خاطر انہوں نے تفرق کیا۔ وما تفرقوا الا من بعد ما جائھم العلم بغیا بینھم (٤٢ : ١٤) ” اور ان لوگوں میں جو تفرقہ رونما ہوا وہ اس کے بعد ہوا کہ ان کے پاس علم آچکا تھا ۔ اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے “۔ اور یہی مضمون چلتا ہے کہ ان اختلاف کرنے والوں کے بعد جو لوگ آئے ان کا حال کیا تھا۔ وان الذین۔۔۔۔۔۔ من مریب (٤٢ : ١٤) ” حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے ، وہ اس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں “۔ یعنی سابقہ کتب کے بارے میں ۔ یہاں آکر یہ بات متعین ہوگئی کہ تمام انسانیت ذہنی انتشار اور شک میں مبتلا ہے اور بےرہبر ہے ، اور کسی مستحکم دین پر نہیں ہے۔ آسمانی ہدایات اور کتب سابقہ میں سخت اختلاف ہوگئے اور بعض میں آنے والے تو اپنی کتابوں کے بارے میں سخت خلجان میں مبتلا ہوگئے اور ان کی کوئی قیادت بھی نہ رہی۔ لہٰذا ان حالات میں یہ آخری رسالت بھیجی جا رہی ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے قائد ہیں اور ان کی ڈیوٹی یہ ہے۔ فلذلک فادع واستقم ۔۔۔۔۔۔۔ ربنا وربکم (٤٢ : ١٥) ” اس لیے اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، اب تم اسی دین کی طرف دعوت دو ، جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے ، اسی پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوجاؤ اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو ، اور ان سے کہہ دو ، ” اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اس پر ایمان لایا ، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں ، اللہ ہی ہمارا رب بھی اور تمہارا رب بھی “ یہی وجہ ہے کہ درس دوئم میں جماعت مسلمہ کی صفات کو لایا گیا ہے کہ اس جماعت نے اس کام کو لے کر اٹھنا ہے ، تا کہ وہ انسانیت کی قیادت ایک مستحکم منہاج پر کرے۔ جب ہم ان باتوں کو پیش نظر رکھیں تو معلوم ہوتا ہے ، اس سورت کا سیاق ، اس کا مرکزی موضوع اور دوسرے متعلقہ موضوعات ایک خاص سمت کی طرف واضح ہدف لے کر جارہے ہیں۔ آیات کی تشریح کے دوران ہم ان اشارات کی تفصیلات دیں گے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi