Surat us Shooraa

Surah: 42

Verse: 10

سورة الشورى

وَ مَا اخۡتَلَفۡتُمۡ فِیۡہِ مِنۡ شَیۡءٍ فَحُکۡمُہٗۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبِّیۡ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ ٭ۖ وَ اِلَیۡہِ اُنِیۡبُ ﴿۱۰﴾

And in anything over which you disagree - its ruling is [to be referred] to Allah . [Say], "That is Allah , my Lord; upon Him I have relied, and to Him I turn back."

اور جس جس چیز میں تمہارا اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ تعالٰی ہی کی طرف ہے ، یہی اللہ میرا رب ہے جس پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے اور جس کی طرف میں جھکتا ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ ... And in whatsoever you differ, the decision thereof is with Allah. means, in whatever issue you differ. This is general in meaning and applies to all things. ... فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ ... the decision thereof is with Allah. means, He is the Judge of that, according to His Book and the Sunnah of His Prophet. This is like the Ayah: فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِى شَىْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ (And) if you differ in anything amongst yourselves, refer it to Allah and His Messenger. (4:59) ... ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبِّي ... Such is Allah, my Lord, means, (He is) the Judge of all things. ... عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ in Whom I put my trust, and to Him I turn in repentance. means, `I refer all matters to Him.'

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

101۔ 1 اس اختلاف سے مراد دین کا اختلاف ہے جس طرح یہودیت، عیسائیت اور اسلام وغیرہ میں آپس میں اختلاف ہیں اور ہر مذہب کا پیروکار دعویٰ کرتا ہے اس کا دین سچا ہے اور حق کا راستہ پہنچاننے کے لئے اللہ تعالیٰ کا قرآن موجود ہے۔ لیکن دنیا میں لوگ اس کلام الٰہی کو اپنا اور ثالث ماننے کے لئے تیار نہیں۔ بالآخر پھر قیامت کا دن ہی رہ جاتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ ان اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا اور سچوں کو جنت میں اور دوسروں کو جہنم میں داخل فرمائے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩] اختلافات کا فیصلہ کیسے ہوسکتا ہے ؟:۔ اصل دین چونکہ اللہ نے ہی بذریعہ وحی اپنے رسول اور بندوں کی طرف بھیجا تھا لہذا اگر بندے اس دین میں اختلاف کریں تو ان میں فیصلہ کا حق بھی اللہ ہی کو ہے کہ وہ لوگوں کو بتائے کہ میں نے جو دین بھیجا تھا وہ تو یہ تھا اور تم نے فلاں فلاں مقام پر غلط تاویلات کرکے باہم اختلاف کرلیا تھا۔ ہوتا یہ ہے کہ ہر صاحب شریعت نبی ایمان لانے والوں کو ایک امت بناتا ہے۔ بعد میں لوگ اس میں اختلاف پیدا کرکے کئی فرقوں میں بٹ جاتے ہیں۔ پھر جو بعد میں نبی آتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر وحی کرکے لوگوں کو اصل دین سے مطلع کردیتا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ دنیا میں لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کردیتا ہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ اختلافات کا جو فیصلہ فرمائے گا وہ کھلی عدالت میں فرمائے گا۔ اختلاف کرنے والے لوگوں کی باقاعدہ پیشی ہوگی۔ پھر ان پر شہادتیں قائم ہوں گی اور انہیں بتایا جائے گا کہ اصل دین کیا تھا اور تم نے کیا کچھ حیلے اور مکاریاں کرکے اصل دین کا حلیہ بگاڑا تھا۔ خود گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا تھا۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اپنے تمام اختلافی مسائل میں اللہ کے کلام یعنی قرآن کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ پھر چونکہ قرآن رسول کی اطاعت کو واجب اور اپنی ہی اطاعت قرار دیتا ہے۔ لہذا کتاب اللہ اور سنت رسول دونوں کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ تفرقہ بازی اور اختلافات سے بچنے کی صرف یہی ایک صورت ہے کہ انسان کتاب و سنت کے سامنے کھلے دل سے سر تسلیم خم کردے اور اس مطلب کی تائید سورة نساء کی آیت نمبر ٥٩ اور ٦٤ سے بھی ہوجاتی ہے۔ [١٠] یعنی میں ہمیشہ کے لیے اللہ پر توکل کرنے کا فیصلہ کرچکا ہوں۔ پھر جب بھی مجھے کوئی مشکل پیش آتی ہے تو میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١٠(١) وما اختلقتم فیہ من شیء …: یہ آیت اگرچہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے مگر یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے کہلوائی گئی ہے، جیسا کہ سورة فاتحہ بندوں کی زبانی کہلوائی گئی ہ۔ (٢) اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ کی جو صفات بیان ہوئی ہیں کہ وہ زمین و آسمان کی ہر چیز کا مالک اور ولی و کار ساز ہے۔ موت و حیات اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے، ان صفات سے خود بخود وہ بات ثابت ہو رہی ہے جو اس آیت میں فرمائی ہے کہ جب مالک وہ ہے تو حاکم بھی وہی ہے اور انسانوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کا فیصلہ بھی اسی کا کام ہے۔ وہ اختلاف عقیدہ میں ہو یا عمل میں، عبادات میں ہو یا معاملات میں، نیکی و بدی قرار دینے میں ہو یا حلال و حرام ٹھہرانے میں، غرض ہر بات میں فیصلہ اسی کا چلے گا۔ کسی اور کو یہ حق دینا کہ وہ شریعت سازی کرے یا حلال و حرام کا فیصلہ کرے درحقیقت اس کی عبادت اور اسے اللہ تعالیٰ کا شریک بنانا ہے، فرمایا :(ان الحکم الا للہ ، امر الا تعبدوا الا ایاہ) (یوسف : ٣٠)” حکم اللہ کے سوا کسی کا نہیں، اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت مت کرو۔ “ مزید دیکھیے سورة یوسف (٦٧) ، انعام (٥٧) ، مائدہ (٤٤) ، کہف (٢٦) اور سورة قصص (٧٠، ٨٨) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر فیصلہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے سے اور اس کے حکم کے تحت کرتے، اس لئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر تنازع کا فیصلہ اللہ اور اس کے رسول کے سپرد کرنے کو ایمان کی شرط قرار دیا ہے، جیسا کہ فرمایا (فان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اللہ و الرسول ان کنتم تومنون بالل والیوم الاخر) (النسائ : ٥٩)” پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے رسول اللہ اور رسول کی طرف لٹواؤ، اگر تم اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ “ اور فرمایا :(فلا و ربک لایومنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لا یجدوا فی انفسھم حرماً مما قضیت و یسلموا تسلیماً (النسائ : ٦٥) ” پس نہیں ! تیرے رب کی قسم ہے ! وہ مومن نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ تجھے اس میں فیصلہ کرنے والا مان لیں جو ان کے درمیان جھگڑا پڑجائے، پھر اپنے دلوں میں اس سے کوئی تنگی محسوس نہ کریں جو تو فیصلہ کرے اور تسلیم کرلیں، پوری طرح تسلیم کرنا۔ “ (٣) یہود و نصاریٰ نے اپنے احبارو رہبان کو حلال و حرام کے فیصلے کا اختیار دیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انہوں نے اپنے احبارو رہبان کو ” ارباباً من دون اللہ “ بنا لیا۔ دیکھیے سورة توبہ (٣١) کی تفسیر۔ (٤) یہود و نصاریٰ نے ایک مدت تک حلال و حرام قرار دینے کا اختیار آسمانی شریعت کیب جائے اپنے احبارو رہبان کو دیئے رکھا، آخر کار انہوں نے یہ تکلف بھی برطرف کیا اور پانی آسمانی کتاب یا احبارو رہبان کے بجائے جمہوریت کے نام پر یہ اختیار خود سنبھال لیا کہ عوام کی اکثریت جو فیصلہ کرے وہ حق ہے، ان کے منتخب نمائندے اپنی اکثریت کسی چیز کو حلال کہہ رہی ہے تو وہ حلال ہے، کچھ دن بعد اکثریت اگر حرام کہہ دے تو وہ حرام ہے۔ اب تو رات کی ہر قید جو طبیعتوں پر گراں تھی توڑ دی گئی، باہمی رضا سے زنا جائز قرار دیا گیا، رجم کو کالعدم کردیا گیا، قوم لوط کا عمل جائز قرار دیا گیا، قتل اور قطع اعضا میں قصاص ختم کردیا گیا اور سود حلال ٹھہرا۔ غرض جمہوریت کے نام پر ایک نئی شریعت ایجاد کی گئی جس کا رب، رسول اور شریعت سب کچھ انسان قرار پائے اس طرح بندوں کو مالک کی گدی پر بٹھا دیا گیا۔ (٥) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا :(لتبعن سنن من کان قبلکم شبراً شبراً وذراعاً ذراعاً ، حتی لود خلوا حجر، ضب تبعتموھم ، قلنا یا رسول اللہ ! الیھود والنصاری ؟ قال فمن ؟ ) (بخاری، الاعتصام بالکتاب والسنۃ باب قول النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :” لتبعن سنن من کان قبلکم :“ 8320، عن ابی سعید الخدری (رض) ” تم ہر صورت اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر چل پڑو گے، جیسے بالشت بالشت کے ساتھ اور ہاتھ ہاتھ کے ساتھ برابر ہوتا ہے، حتیٰ کہ اگر وہ گوہ کے بل میں داخل ہوئے تو تم ان کی پیروی کرو گے۔ “ ہم نے کہا :” یا رسول اللہ ! یہود و نصاریٰ کے طریقوں پر ؟ “ آپ نے فرمایا :” تو اور کون ؟ “ مسلمان خیر القرون میں اور اس کے کچھ عرصہ بعد تک صرف اور صرف قرآن و سنت پر کار بند رہے، یہ اسلام کی ترقی و عروج کا دور ہے، پھر بعض ائمہ کی تقلید شروع ہوئی اور ان کے نام پر ایس گروہ بندی اور فرقہ سازی ہوئی کہ بعض لوگ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کے امام کا قول اللہ اور اس کے رسول کے صریح خلاف ہے، اپنے امام کے قول پر اڑ گئے۔ احبارو رہبان کو ارباب بنانے کا نقشہ اہل کتاب کی طرح الہ اسلام میں بھی نظر آنے لگا، حتیٰ کہ یہ دین حق کئی مذہبوں میں تقسیم ہوگیا ۔ ہر کسی کی مساجد الگ، عدالتیں اور قاضی الگ ہوگئے، امت کی وحدت جو صرف کتاب و سنت کو حاکم ماننے سے حاصل ہوتی تھی پارہ پارہ ہوگئی، مسلمانوں کی توانائیاں کفار کے ساتھ جہاد اور اس کی تیاری کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف صرف ہونے لگیں۔ یہی لوگ حاکم تھے یہی قاضی، اصلاح کی آوازیں اٹھتی رہیں، مگر بےسود، چناچہ کچھ مدت تک تو کتاب و سنت سے انحراف کے باوجود الگ الگ سلطنتوں کی شکل میں مسلمانوں کی حکمرانی کا سلسلہ چلتا رہا، پھر باہمی فساد اور ترک جہاد کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ چار ملکوں کے سوا تمام مسلم ممالک نصرانی یا کمیوسنٹ کفار کے قبضے میں چلے گئے، جنہوں نے جبراً ان ممالک میں اپنے کفر یہ احکام نافذ کردیے، پھر نہ کتاب و سنت کے احکام باقی رہے نہ ائمہ کے مذاہب۔ ہر جگہ کفار کا حکم چلنے لگا اور بنی اسرائیل کی طرح مسلمانوں پر بھی اللہ کے عذاب کا کوڑا کفار کی غلامی کی صورت میں برسنے لگا۔ مسلمان آزادی حاصل کرنے کے لئے مسلسل جدوجہد اور دعائیں کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کی آزادی کے لئے جدوجہد اور کفار کی باہمی جنگ عظیم کے نتیجے میں بہت سے مسلم ممالک کو آزادی ملی۔ اس کے بعد جہاد کے نتیجے میں بہت سے ممالک کمیونسٹوں کے تسلط سے بھی آزاد ہوئے، مگر تمام ممالک میں برسر اقتدار طبقے نے کفر کا وہی نظام حکومت برقرار رکھا جو کفار کے زمانے میں تھا ، جس میں فیصلہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے مطابق نہیں بلکہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق ہوتا ہے۔ اس طرح مسلمانوں کے اہل کتاب کے نقش قدم پر چلنے کی پیش گوئی پوری ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ کا دین صرف نماز روزے وغیرہ کے لئے باقی رہ گیا، گھروں، باز اورں، عدالتوں اور حکومت کے ایوانوں سے اللہ تعالیٰ کے حکم کو جلا وطن کر کے اس کی جگہ جمہوریت کے بت کی پرستش شروع کر ید گئی۔ البتہ بعض ملکوں میں یہ تکلف کیا گیا کہ اس کا نام اسلامی جمہوریت رکھ دیا گیا، حالانکہ اسلام میں حکم اللہ کا ہوتا ہے اور جمہوریت میں بندوں کا، دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں، کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے شربا کو سالامی شربا اور سود کو سالامی سود کہہ کر حلال کرلیا جائے، جیسا کہ یہ ظلم بھی اس سے پہلے مسلمان اپنی جانوں پر کرچکے ہیں۔ ان کے بہت سے برسر اقتدار طبقوں نے ان علماء کے اقوال کو اپنی مملکتوں میں نافذ کیا جنہوں نے صرف انگور اور کھجور کی شراب کو حرام قرار دے کر دوسرے تمام نشہ آور مشروبات پینے پر حد ختم کردی، خواہ ان سے نشہ بھی آجائے۔ جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی عظیم سلطنتیں شراب کے سمندر میں غرق ہوگئیں کہ حکمران بھی پیتے تھے اور رعایا بھی اور جائز سمجھ کر پیتے تھے۔ اسی طرح سود کی بہت سی قسموں کو جائز قرار دے کر اسلامی سود رائج ہونے کے نتیجے میں طمع و ہوس کے طوفان نے ہمدردی و ایثار کا سلسلہ ختم کردیا اور حرام ہوس زر نے مسلمانوں کو آخرت سے غافل کردیا۔ حقیقت یہ ہے ہ اب بھی دنیا اور آخرت دونوں میں مسلمانوں کی نجاتا سی میں ہے کہ وہ دوبارہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کی طرف واپس پلٹیں اور اپنی پوری زندگی میں اس کی اطاعت اختیار کریں۔ ان شاء اللہ وہ وقت آنے والا ہے جب دوبارہ خلافت علیم نہاج النبوۃ قائم ہوگی، جس میں اللہ کی زمین پر صرف اللہ کا حکم چلے گا۔ یہ رسول صادق (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیش گوئی ہے اور ہر صورت پوری ہوگی۔ ہمارا کام جدوجہد ہے، اللہ چاہے گا تو ہم اپنی آنکھوں سے وہ مبارک دن دیکھیں گے، ورنہ ہمارے بعد آنے والے اسے ضرور دیکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے ان بندوں میں شامل فرمائے جو قیامت تک دین حق قائم رکھنے کے لئے لڑتے رہیں گے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(لن یبرح ھذا الذین قائماً یقاتل علیہ عصابۃ من المسلمین حتی تقوم الساعۃ) (مسلم ، الامارۃ باب قولہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) :” لا تزال طائفۃ من امتی ظاھرین علی الحق…“:1922 عن جابر بن سمرۃ (رض) ” یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا، مسلمانوں کی ایک جماعت اس پر لڑتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت قائم ہو۔ “ (٦) فحکمۃ الی اللہ : ہر جھگڑے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہونے میں شرعی احکام کا فیصلہ بھی شامل ہے، جیسا کہ اوپر گزرا اور یہ بھی کہ دنیا میں لوگوں کے درمیان جتنے جھگڑے ہیں ان کا واضح فیصلہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا۔ دنیا میں کفار اپنے آپ کو حق پر کہتے رہیں، مگر وہاں انبیاء اور ان کے متبعین کا حق پر ہونا اور کفار کا باطل پر ہونا سب کے سامنے واضح ہو کر آجائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(قل اللھم فاطر السموت ولارض علم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فی ماکانوا فیہ یختلفون ) (الزمر : ٣٦) ” تو کہہ اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! ہر چھپی اور کھلی کو جاننے والے ! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔ “ (٧) ذلکم اللہ ربی : یعنی وہی اللہ جس کی چند صفات اوپر کی آیات میں بیان ہوئی، جنہیں تم بھی مانتے ہو، جو مختصراً یہ ہیں کہ وہ عزیز و حکیم ہے، علی وعظیم ہے، غفور و رحیم ہے، حقیقی ولی ہے، مردوں کو زندہ کرنے والا اور ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے، تمام اختلافات کا فیصلہ کرنے والا ہے، وہی اللہ میرا رب ہے، ان میں سے ایک بھی صفت جب کسی اور میں پائی ہی نہیں جاتی تو میں کسی اور کو اپنا رب کیسے مان لوں ؟ (٨) علیک توکلت “ (اسی پر میں نے بھروسہ کیا) فعل ماضی ہے اور ” والیہ انیب “ (اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں) فعل مضارع ہے، جس میں استمرار اور ہمیشگی پائی جاتی ہے۔ ” علیہ “ اور ” الیہ “ پہلے آنے سے قصر کا معنی پیدا ہوا، اس لئے ترجمہ ” اسی پر “ اور ” اسی کی طرف “ کیا گیا ہے۔ یعنی میں شروع سے اسی پر بھروسہ کرچکا اور اب ہر بات میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں، ہر مسئلے کا حکم اسی سے لیتا ہوں، ہر جھگڑے کا فیصلہ اسی سے کر واتا ہوں اور ہر گناہ پر اسی سے معافی مانگتا ہوں اور اسی کو حق سمجھتا ہوں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ (Whatever dispute you have in any matter, its judgment lies with Allah. - 10) It means that the judgment in all those matters in which you dispute lies with Allah, because the sovereignty belongs to Allah only, as stated in another verse:إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّـهِ (The Decision belongs to none but Allah - 6:57). The direction in many verses to obey Rasulullah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and in some verses to obey those in authority does not contradict the above, because the orders of Rasulullah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and of the authorities are also, in a way, orders of Allah. If the order has been received through ` wahy& or based upon the clear and definite verses (nusus) of the Qur&an and sunnah, then its being an order of Allah is obvious. And if the order is an &ijtihad& (inference) which in turn is based upon nusus of Qur&an and sunnah, then also, in a way, it is an order of Allah. ijtihadat& (plural of ` ijtihad& ) of the ` mujtahidin& of the ummah (those who are competent to interpret the Qur&an and Sunnah, and infer Islamic laws from them) on this basis, are included in orders of Allah. That is why the learned scholars have declared that the fatwa (ruling) given by a ` mufti& (A competent Islamic scholar) is to be taken as a part of the religious law by the common masses who do not have the ability to understand the Qur&an and the Sunnah directly.

خلاصہ تفسیر اور (آپ ان لوگوں سے جو توحید میں آپ سے اختلاف رکھتے ہیں یہ کہئے کہ) جس جس بات میں تم (اہل حق کے ساتھ) اختلاف کرتے ہو اس (سب) کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد ہے (وہ یہ ہے کہ دنیا میں دلائل و معجزات کے ذریعہ توحید کا حق ہونا واضح فرما دیا اور آخرت میں ایمان والوں کو جنت اور ایمان نہ لانے والوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا) یہ اللہ (جس کی یہ شان ہے) میرا رب ہے (اور تمہارے خلاف و مخالف سے جو کسی تکلیف و نقصان کے پہنچنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے اس کے بارے میں) اسی پر توکل رکھتا ہوں اور (دنیا و دین کے سب کاموں میں) اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (اس سے توحید کا مضمون خوب موکد ہوگیا۔ آگے دوسری صفات کمال کے بیان سے اس کی مزید تاکید کی جاتی ہے یعنی) وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے (اور تمہارا بھی پیدا کرنے والا ہے چنانچہ) اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے بنائے اور (اسی طرح) ہواشی کے جوڑے بنائے (اور) اس (جوڑے ملانے) کے ذریعہ تمہاری نسل چلاتا رہتا ہے (وہ ذات وصفات میں ایسا کامل ہے کہ) کوئی چیز اس کی مثل نہیں اور وہی ہر بات کا سننے والا دیکھنے والا ہے (بخلاف دوسروں کے کہ ان کا سننا دیکھنا بہت محدود ہے اور بمقابلہ اللہ کے سمع و بصر کے کالعدم ہے) اسی کے اختیار میں ہیں کنجیاں آسمانوں کی اور زمین کی (یعنی ان میں تصرف کرنے کا صرف اسی کو حق ہے جس میں سے ایک تصرف یہ ہے کہ) جس کو چاہے زیادہ روزی دیتا ہے اور (جس کو چاہے) کم دیتا ہے، بیشک وہ ہر چیز کا پورا جاننے والا ہے (ہر ایک کو مصلحت کے مطابق دیتا ہے) ۔ معارف و مسائل (آیت) وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيْهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُهٗٓ اِلَى اللّٰهِ ۭ۔ یعنی جس معاملہ جس کام میں بھی تمہارے آپس میں کوئی اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے۔ کیونکہ اصل حکم صرف اللہ ہی کا ہے جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد ہے۔ (آیت) ان الحکم الا للہ۔ اور دوسری اکثر آیات میں جو اطاعت کے حکم میں رسول کو اور بعض آیات میں اولوالامر کو بھی شامل کیا گیا ہے وہ اس کے معارض نہیں کیونکہ رسول یا اولوالامر کو بھی شامل کیا گیا ہے وہ اس کے معارض نہیں کیونکہ رسول یا اولوالامر جو کچھ فیصلہ یا حکم کرتے ہیں وہ ایک حیثیت سے اللہ تعالیٰ کا ہی حکم ہوتا ہے۔ اگر بذریعہ وحی یا نصوص کتاب و سنت ہے تو اس کا حکم الٰہی ہونا ظاہر ہے۔ اور اگر اپنے اجتہاد سے ہے تو چونکہ اجتہاد کا مدار بھی نصوص قرآن و سنت پر ہوتا ہے اس لئے وہ بھی ایک حیثیت سے اللہ ہی کا حکم ہے۔ مجتہدین امت کے اجتہادات بھی اس حیثیت سے احکام الٰہیہ میں داخل ہیں۔ اسی لئے علماء نے فرمایا کہ عام آدمی جو قرآن وسنت کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ان کے حق میں مفتی کا فتویٰ ہی حکم شرعی کہلاتا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيْہِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُہٗٓ اِلَى اللہِ۝ ٠ ۭ ذٰلِكُمُ اللہُ رَبِّيْ عَلَيْہِ تَوَكَّلْتُ۝ ٠ ۤ ۖ وَاِلَيْہِ اُنِيْبُ۝ ١٠ الاختلافُ والمخالفة والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] ( خ ل ف ) الاختلاف والمخالفۃ الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے اعم ہے کیونکہ ضدین کا مختلف ہونا تو ضروری ہوتا ہے مگر مختلفین کا ضدین ہونا ضروری نہیں ہوتا ۔ پھر لوگوں کا باہم کسی بات میں اختلاف کرنا عموما نزاع کا سبب بنتا ہے ۔ اس لئے استعارۃ اختلاف کا لفظ نزاع اور جدال کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] پھر کتنے فرقے پھٹ گئے ۔ حكم والحُكْم بالشیء : أن تقضي بأنّه كذا، أو ليس بکذا، سواء ألزمت ذلک غيره أو لم تلزمه، قال تعالی: وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] ( ح ک م ) حکم الحکم کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کا نام حکم ہے یعنی وہ اس طرح ہے یا اس طرح نہیں ہے خواہ وہ فیصلہ دوسرے پر لازم کردیا جائے یا لازم نہ کیا جائے ۔ قرآں میں ہے :۔ وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو ۔ إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا[ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، وقال تعالی: وَلا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ [ النور/ 22] قيل : هو يفتعل من ألوت، وقیل : هو من : آلیت : حلفت . وقیل : نزل ذلک في أبي بكر، وکان قد حلف علی مسطح أن يزوي عنه فضله وردّ هذا بعضهم بأنّ افتعل قلّما يبنی من «أفعل» ، إنما يبنی من «فعل» ، وذلک مثل : کسبت واکتسبت، وصنعت واصطنعت، ورأيت وارتأيت . وروي : «لا دریت ولا ائتلیت»وذلک : افتعلت من قولک : ما ألوته شيئا، كأنه قيل : ولا استطعت . الیٰ ۔ حرف ( جر ) ہے اور جہات ستہ میں سے کسی جہت کی نہایتہ حدبیان کرنے کے لئے آتا ہے ۔ ( ا ل و ) الوت فی الامر کے معنی ہیں کسی کام میں کو تا ہی کرنا گو یا کوتاہی کرنے والا سمجھتا ہے کہ اس امر کی انتہا یہی ہے ۔ اور الوت فلانا کے معنی اولیتہ تقصیرا ( میں نے اس کوتاہی کا والی بنا دیا ) کے ہیں جیسے کسبتہ ای اولیتہ کسبا ( میں نے اسے کسب کا ولی بنا دیا ) ماالوتہ جھدا میں نے مقدر پھر اس سے کوتاہی نہیں کی اس میں جھدا تمیز ہے جس طرح ماالوتہ نصحا میں نصحا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا } ( سورة آل عمران 118) یعنی یہ لوگ تمہاری خرابی چاہنے میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے ۔ اور آیت کریمہ :{ وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ } ( سورة النور 22) اور جو لوگ تم میں سے صاحب فضل داور صاحب وسعت ) ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ الوت سے باب افتعال ہے اور بعض نے الیت بمعنی حلفت سے مانا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر کے متعلق نازل ہوئی تھی جب کہ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ آئندہ مسطح کی مالی امداد نہیں کریں گے ۔ لیکن اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ فعل ( مجرد ) سے بنایا جاتا ہے جیسے :۔ کبت سے اکتسبت اور صنعت سے اصطنعت اور رایت سے ارتایت اور روایت (12) لا دریت ولا ائتلیت میں بھی ماالوتہ شئیا سے افتعال کا صیغہ ہے ۔ گویا اس کے معنی ولا استطعت کے ہیں ( یعنی تونے نہ جانا اور نہ تجھے اس کی استطاعت ہوئ ) اصل میں هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء هذا في المستبعد بالشخص أو بالمنزلة : ( ذَاكَ ) و ( ذلك) قال تعالی: الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] ، ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] ، ذلِكَ أَنْ لَمْ يَكُنْ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرى [ الأنعام/ 131] ، إلى غير ذلك . ( ذ ا ) ہاں ھذا میں ذا کا لفظ اسم اشارہ ہے جو محسوس اور معقول چیز کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ کہا جاتا ہے ۔ ھذہ وھذی وھاتا ۔ ان میں سے سرف ھاتا کا تژنیہ ھاتان آتا ہے ۔ ھذہٰ اور ھٰذی کا تثنیہ استعمال نہیں ہوتا قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تونے مجھ پر فضیلت دی ہے ۔ هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔ هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے ۔ إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ۔ هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] یہی وہ جہنم ہے جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے ۔ هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے ۔ ھذا کے بالمقابل جو چیز اپنی ذات کے اعتبار سے دور ہو یا باعتبار مرتبہ بلند ہو ۔ اس کے لئے ذاک اور ذالک استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] یہ کتاب یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہے ۔ ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] یہ اس لئے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہلاک کردے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ وكل والتَّوَكُّلُ يقال علی وجهين، يقال : تَوَكَّلْتُ لفلان بمعنی: تولّيت له، ويقال : وَكَّلْتُهُ فَتَوَكَّلَ لي، وتَوَكَّلْتُ عليه بمعنی: اعتمدته قال عزّ وجلّ : فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] ( و ک ل) التوکل ( تفعل ) اس کا استعمال دو طرح ہوتا ہے ۔ اول ( صلہ لام کے ساتھ ) توکلت لفلان یعنی میں فلاں کی ذمہ داری لیتا ہوں چناچہ وکلتہ فتوکل لی کے معنی ہیں میں نے اسے وکیل مقرر کیا تو اس نے میری طرف سے ذمہ داری قبول کرلی ۔ ( علیٰ کے ساتھ ) توکلت علیہ کے معنی کسی پر بھروسہ کرنے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے ۔ نوب النَّوْب : رجوع الشیء مرّة بعد أخری. وَأَنِيبُوا إِلى رَبِّكُمْ [ الزمر/ 54] ، مُنِيبِينَ إِلَيْهِ [ الروم/ 31] ( ن و ب ) النوب ۔ کسی چیز کا بار بارلوٹ کر آنا ۔ یہ ناب ( ن ) نوبۃ ونوبا کا مصدر ہے، وَأَنِيبُوا إِلى رَبِّكُمْ [ الزمر/ 54] اپنے پروردگار کی طر ف رجوع کرو ۔ مُنِيبِينَ إِلَيْهِ [ الروم/ 31] ( مومنو) اس خدا کی طرف رجوع کئے رہو ۔ فلان ینتاب فلانا وہ اس کے پاس آتا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور دین کی جس جس بات میں تم اختلاف کرتے ہو تو اس کا حکم قرآن پاک میں تلاش کرو میرے پروردگار نے تمہیں اسی چیز کا حکم دیا ہے میں اسی پر توکل کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠ { وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْہِ مِنْ شَیْئٍ فَحُکْمُہٗٓ اِلَی اللّٰہِ } ” اور جس بات میں بھی تم اختلاف کرو تو اس کا فیصلہ اللہ ہی کی طرف ہے۔ “ یعنی تمہارے مابین جو بھی اختلاف ہو اس کے فیصلے کا حق اللہ ہی کے پاس ہے۔ یہاں سے اس سورت کے ” مضمون خاص “ یعنی اقامت دین کی تمہید شروع ہو رہی ہے۔ چناچہ اس سلسلے میں پہلا نکتہ یہ بتایا گیا کہ اس کائنات کا اصل حاکم اللہ ہے اور حاکمیت صرف اور صرف اسی کے لیے ہے : Sovereignty belongs to HIM and HIM alone اس نکتے کو اقبالؔ نے یوں بیان کیا ہے : ؎ سروری زیبا فقط اس ذات بےہمتا کو ہے حکمراں ہے اک وہی باقی بتان آزری آیت کے ان الفاظ کے مفہوم کے مطابق انسانوں کے باہمی اختلافات کے فیصلوں کے لیے اللہ کا حکم آخری حکم کا درجہ رکھتا ہے اور اسی حقیقت کی تعمیل کا نام اللہ کی حاکمیت ہے۔ اگر کسی معاشرے کا پورا نظام اللہ کی حاکمیت کے تحت آجائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہاں اللہ کا دین قائم ہوگیا اور توحید بالفعل اس معاشرے میں نافذ ہوگئی۔ یعنی اللہ کی مرضی اور اس کے قانون کے مطابق باقاعدہ ایک حکومت قائم ہوجانے کا نام ” اقامت دین “ ہے ‘ جو زیر مطالعہ آیات کا مرکزی مضمون ہے۔ { ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبِّیْ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُق وَاِلَیْہِ اُنِیْبُ } ” وہ ہے اللہ میرا رب ‘ اسی پر میں نے ّتوکل کیا ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

13 From here to the end of verse 12, though the whole discourse is a Revelation from Allah, the speaker is not Allah but the Holy Messenger of Allah. In other words, Allah Almighty is telling His Prophet to make this proclamation to the people. Such themes in the Qur'an sometimes begin with qul (say, O Prophet) and sometimes without it. only the style indicates that the speaker at a place is not Allah but Allah's Messenger. Even at some places though the words are Allah's, the speaker arc the believers, as for example in Surah AI-Fatihah; or, the speaker are the angels as in Surah Maryam: 64-65. 14 This is the natural and logical demand of Allah Almighty's being the Master of the Universe and His being the real Guardian. When Sovereignty and Guardianship belong to Him only inevitably He alone is also the Ruler, and it is for Him to judge human beings' mutual disputes and differences. Those who restrict it only to the Hereafter make a mistake. There is no argument to prove that Allah's position as a Ruler has no effect in this world but is meant only for the life hereafter. Likewise, those who restrict it only to beliefs and a few questions of "religious nature" are also in the wrong. The words arc general and they clearly proclaim Allah as having the sole right to judge all disputes and differences. According to them, just as Allah is the Master of the Day of Judgement in the Hereafter; so He is the best of Judges in this world too; and just as He is the Settler of the differences pertaining to beliefs as to what is the Truth and what is falsehood, so also in legal matters He is the Settler of differences as to what is pure for man and what is impure. what is lawful and desirable for him and what is forbidden and undesirable, what is evil and vicious in morals and what is good and virtuous, what arc the rights of the people in their mutual dealings and what are the right practices in social political and economic life and what arc wrong. On this very basis the Qur'an has declared this principle as the fundamental of law: "lf there arises any dispute between you about anything, refer it to Allah and the Messenger. " (An-Nisa: 59). And: "It does not behove a believing man and a believing woman that when Allah and His Messenger have given their verdict in a mattcr, they should exercise an option in that matter of theirs." (AI-Ahzab: 36). And: °O people, follow what has been sent down to you from your Lord and do not follow other patrons beside Him." (AI-A'raf: 3). Then, in the context in which this verse has occurred, it gives another meaning also and it is: 'To decide differences is not only Allah's legal right on accepting or rejecting which depends man's being a believer or an unbeliever, but Allah, in fact, practically also is deciding between the truth and falsehood due to which falsehood and its worshippers are ultimately being destroyed and the truth and the faithful are being honoured and exalted, no mattcr how delayed the enforcement of this decision may seem to be. This theme occurs in verse 24 below, and has been expressed at several places above in the Qur'an. For this please see Ar-Ra'd: 17, 41; Ibrahim: 24-27; Bani Isra'il 81; AI-Anbiya': 18, 44; and the E N.'s. 15 "The same Allah", Who is the real Settler of disputes. 16 These arc two verbs one of which is in the past tense and the other in the present which contains the sense of perpetuity. In the past verb it was said: "In Him did I put my trust," i.e.. "I decided once and for all that as long as I live I have to rely on His help, on His guidance, on His support and protection, and on His decision." Then in the present verb it was said: "To Him I turn," i.e. "Whatever situation I face in lift, I turn only to Allah in it. I do not look towards others in an affliction or trouble or difficulty but invoke only Him for help; I Beck only His refuge when I face a danger and depend on His protection; I turn to Him' for guidance whenever I am confronted by a problem and seek its solution in His teaching and guidance; and I look up only to Him when I have a dispute with somebody with the belief that He alone will give the final decision, and have the faith that whatever decision He gives will be the right one. "

سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :13 اس پورے پیراگراف کی عبارت اگرچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے ، لیکن اس میں متکلم اللہ تعالیٰ نہیں ہے ، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ گویا اللہ جل شانہ اپنے نبی کو ہدایت دے رہا ہے کہ تم یہ اعلان کرو ۔ اس طرح کے مضامین قرآن مجید میں کہیں تو قُل ( اے نبی ، کہو ) سے شروع ہوتے ہیں ، اور کہیں اس کے بغیر ہی شروع ہو جاتے ہیں ، صرف انداز کلام بتا دیتا ہے کہ یہاں متکلم اللہ نہیں بلکہ اللہ کا رسول ہے ۔ بلکہ بعض مقامات پر تو کلام اللہ کا ہوتا ہے اور متکلم اہل ایمان ہوتے ہیں ، جیسے مثلاً سورہ فاتحہ میں ہے ، یا متکلم فرشتے ہوتے ہیں ، جیسے مثلاً سورہ مریم 24 ۔ 25 میں ہے ۔ سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :14 یہ اللہ تعالیٰ کے مالک کائنات اور ولی حقیقی ہونے کا فطری اور منطقی تقاضا ہے ۔ جب بادشاہی اور ولایت اسی کی ہے تو لا محالہ پھر حاکم بھی وہی ہے اور انسانوں کے باہمی تنازعات و اختلافات کا فیصلہ کرنا اسی کا کام ہے ۔ اس کو جو لوگ صرف آخرت کے لیے مخصوص سمجھتے ہیں ، وہ غلطی کرتے ہیں ۔ کوئی دلیل اس امر کی نہیں ہے کہ اللہ کی یہ حاکمانہ حیثیت اس دنیا کے لیے نہیں بلکہ صرف موت کی زندگی کے لیے ہے ۔ اسی طرح جو لوگ اس دنیا میں صرف عقائد اور چند مذہبی مسائل تک اسے محدود قرار دیتے ہیں ، وہ بھی غلطی پر ہیں ۔ قرآن مجید کے الفاظ عام ہیں اور وہ صاف صاف علی الا طلاق تمام نزاعات و اختلافات میں اللہ کو فیصلہ کرنے کا اصل حق دار قرار دے رہے ہیں ۔ ان کی رو سے اللہ جس طرح آخرت کا مالک یوم الدین ہے اسی طرح اس دنیا کا بھی احکم الحاکمین ہے ۔ اور جس طرح وہ اعتقادی اختلافات میں یہ طے کرنے والا ہے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ، ٹھیک اسی طرح قانونی حیثیت سے بھی وہی یہ طے کرنے والا ہے کہ انسان کے لیے پاک کیا ہے اور ناپاک کیا ، جائز اور حلال کیا ہے اور حرام و مکروہ کیا ، اخلاق میں بدی و زشتی کیا ہے اور نیکی و خوبی کیا ، معاملات میں کس کا کیا حق ہے اور کیا نہیں ہے ، معاشرت اور تمدن اور سیاست اور معیشت میں کونسے طریقے درست ہیں اور کونسے غلط ۔ آخر اسی بنیاد پر تو قرآن میں یہ بات اصول قانون کے طور پر ثبت کی گئی ہے کہ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَئءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللہِ وَ الرَّسُوْ لِ ( النساء ۔ 59 ) ، اور مَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللہُ وَرَسُوْلُہ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ ( الاحزاب ۔ 36 ) ، اور اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖ اَوْلِیَآءَ ( الاعراف ۔ 3 ) پھر جس سیاق و سباق میں یہ آیت آئی ہے اس کے اندر یہ ایک اور معنی بھی دے رہی ہے ، اور وہ یہ ہے کہ اختلافات کا فیصلہ کرنا اللہ تعالیٰ کا محض قانونی حق ہی نہیں ہے جس کے ماننے یا نہ ماننے پر آدمی کے کافر و مومن ہونے کا مدار ہے ، بلکہ اللہ فی الواقع عملاً بھی حق اور باطل کا فیصلہ کر رہا ہے جس کی بدولت باطل اور اس کے پرستار آخر کار تباہ ہوتے ہیں اور حق اور اس کے پرستار سرفراز کیے جاتے ہیں ، خواہ اس فیصلے کے نفاذ میں دنیا والوں کو کتنی ہی تاخیر ہوتے نظر آتی ہو ۔ یہ مضمون آگے آیت 24 میں بھی آ رہا ہے ، اور اس سے پہلے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر گزر چکا ہے ۔ ( ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، الرعد ، حواشی ۳٤ ۔ ٦۰ ابراہیم ، حواشی ۲٦ ۔ ۳٤ تا ٤۰ ، بنی اسرائیل ، حاشیہ ۱۰۰ ۔ جلد سوم ، الانبیاء ، حواشی ۱۵ تا ۱۸ ۔ ٤٤ تا٤٦ ) سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :15 یعنی جو اختلافات کا فیصلہ کرنے والا اصل حاکم ہے ۔ سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :16 یہ دو فعل ہیں جن میں سے ایک بصیغۂ ماضی بیان کیا گیا ہے اور دوسرا بصیغۂ مضارع جس میں استمرار کا مفہوم پایا جاتا ہے ۔ صیغہ ماضی میں فرمایا میں نے اس پر بھروسہ کیا ، یعنی ایک دفعہ میں نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے فیصلہ کر لیا کہ جیتے جی مجھے اسی کی مدد ، اسی کی رہنمائی ، اسی کی حمایت و حفاظت ، اور اسی کے فیصلے پر اعتماد کرنا ہے ۔ پھر صیغہ مضارع میں فرمایا میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں یعنی جو معاملہ بھی مجھے اپنی زندگی میں پیش آتا ہے ، میں اس میں اللہ ہی کی طرف رجوع کیا کرتا ہوں ۔ کوئی مصیبت ، تکلیف ، یا مشکل پیش آتی ہے تو کسی کی طرف نہیں دیکھتا ، اس سے مدد مانگتا ہوں ۔ کوئی خطرہ پیش آتا ہے تو اس کی پناہ ڈھونڈتا ہوں اور اس کی حفاظت پر بھروسا کرتا ہوں ۔ کوئی مسئلہ در پیش ہوتا ہے تو اس سے رہنمائی طلب کرتا ہوں اور اسی کی تعلیم و ہدایت میں اس کا حل یا حکم تلاش کرتا ہوں ۔ اور کسی سے نزاع ہوتی ہے تو اسی کی طرف دیکھتا ہوں کہ اس کا آخری فیصلہ وہی کرے گا اور یقین رکھتا ہوں کہ جو فیصلہ بھی وہ کرے گا وہی حق ہو گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(42:10) وما اختلفتم فیہ من شیئ : ما موصولہ ہے فیہ : ہ ضمیر واحد مذکر غائب اسم موصول کی طرف راجع ہے۔ جس بات میں۔ اور کسی شے میں تمہارے درمیان جس بات کا اختلاف ہوجائے ۔ یعنی دین اور دنیا میں کہیں بات پر اختلاف ہو۔ فحکمہ الی اللّٰہ۔ تو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ ان الحکم الا اللّٰہ علیہ توکلت (12: 67) (بےشک) حکم اسی کا ہے میں اس پر بھروسہ کرتا ہوں۔ اور دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ فان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اللّٰہ والرسول (4:59) اور اگر کسی بات پر تم میں اختلاف ہوجائے تو اس میں خدا اور خدا کے رسول (کے حکم کی طرف) رجوع کرو۔ ذلکم : ذا اسم اشارہ ہے اور کم حرف خطاب جمع مذکر حاضر کے لئے ہے۔ یہ۔ یہی۔ اس سے قبل قل محذوف ہے ای قل یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے ذلکم اللّٰہ ربی ۔۔ الخ۔ الیہ انیب۔ میں رجوع کرتا ہوں انابۃ (افعال) مصدر سے مضارع کا صیغہ واحد متکلم۔ الیہ اس کی طرف ہ ضمیر واحد مذکر گا ئب اللہ کی طرف راجع ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یعنی وہی قیامت کے روز فیصلہ فرمائے گا کہ تم میں سے کون حق پر تھا اور کون باطل پر ؟ یا مطلب یہ ہے کہ اگر اہل کتاب اور مشرکین دین کے معاملہ میں تم سے بحث و اختلاف کریں تو کہہ دو کہ اس کے حق و ناحق ہونے کا فیصلہ اللہ کے حکم پر ہے اور نہ کہ تمہاری رائے اور قیاس و اجتہاد پر۔ ای امور الشرائع تتلقی من بیان اللہ جیسا کہ فرمایا ( وانا تنازعتم فی شی فردوہ الی اللہ والرسول) یعنی اگر کسی معاملہ میں اختلاف کرو تو اس کا فیصلہ اللہ و رسول کی طرف پھیر دو ۔ ( نساء 59) آج بھی امت مسلمہ کے ما بین تمام اختلافات کا تصفیہ اس اصل پر ہوسکتا ہے۔ ( منہ) 4 یعنی جو ہر اختلاف کا فیصلہ کرنے والا اصل حاکم ہے۔ 5 یعنی ہر مصیبت اور مشکل کے موقع پر میں اسی کی طرف دیکھتا ہوں اور اسی سے مدد کی درخواست کرتا ہوں اسی کی پناہ ڈھونڈتا ہوں، اسی کی حفاظت پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کی تعلیم و ہدایت میں اپنے لئے راہ نجات تلاش کرتا ہوں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ١٠ تا ١٩۔ اسرار ومعارف۔ ان لوگوں سے کہیے کہ اگر انہیں توحید باری تعالیٰ میں اختلاف ہے تو اس کا فیصلہ اللہ کریم کے حوالے ہے جس نے دنیا میں دلائل معجزات سے واضح کردیا ہے اور آخرت میں ایمان والوں کو جنت میں اور کفار کو دوزخ میں داخل کردے گا اور جس کی یہ عظمت وشان ہے وہی میرا پروردگار ہے اور کفار سے جس بھی تکلیف کے پہنچنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے اس کے لیے میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اپنی ہر ضرورت کے لیے اس کی طرف رجوع کرتا ہوں وہ کائنات کا رب ہے تمہارا بھی وہی ہے کہ زمین و آسمان کو بنانے والا وہی ہے اور تمہیں پیدا کیا اور پھر جوڑے بنایا کہ تمہاری نسل چلے۔ اسی طرح جانوروں کو پیدا کرکے جوڑے بنادیئے کہ ان کی بقائے نسل کا باعث ہو اور یوں وہ تمہاری نسلوں کے کام آتے رہے کتنے احسانات ہیں اس کے یوں تمہیں دنیا میں بساتا ہے اور اس کی مثل کوئی دوسری ہستی نہیں وہ سب کچھ سننے والا اور ہر شے کو دیکھنے والا ہے۔ آسمانوں اور زمین میں جس طرح اس نے خزانے پیدا فرمائے اسی طرح ان پر حکم بھی اسی کا چلتا ہے سب کی کنجیاں اسی کے دست قدرت میں ہیں جسے چاہتا ہے بیشمار نعمتیں عطا کردیتا ہے کسی کو دولت میں کسی کو اقتدار کی صورت میں کسی کو علم اور وقار کسی کو صحت و طاقت کسی کو جسمانی تو کسی کو روحانی انعامات سے نوازتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے کم کردیتا ہے کہ ان سب امور سے وہ خوب واقف ہے ہر کسی کو اپنی حکمت سے اس کی مصلحت کے مطابق عطا کرتا ہے اس کریم نے تمہارے لیے وہی دین مقرر فرمایا ہے جو نوح (علیہ السلام) کو عطا ہوا ہے اسی کا حکم آپ کی طرف بھی نازل ہوا ہے کہ اصول اور بنیاد یعنی توحید و رسالت آخرت جنت دوزخ فرشتوں کا وجود اور اصول عبادات نماز روزہ وغیرہ یاچوری ڈاکے زنا اور اس طرح کی برائیوں کی حرمت میں تو سب متفق ہیں اور اسی دین کا حکم ابراہیم (علیہ السلام) کو موسیٰ وعلیہما السلام کو ہوا۔ اصول دین تمام ادیان میں ایک تھے اور نوح (علیہ السلام) سے تذکرہ۔ اب اس میں اختلاف ڈالنے کی کوشش نہ کرو جیسا کہ لکھاجاچکا اصول دین تو تمام ادیان میں ایک تھے احکام میں ضرورت کے مطابق تبدیلی فرمائی گئی اللہ کریم نے ہر قوم کی آسانی کے لیے احکام میں اس کی رعایت فرمائی اور نوح (علیہ السلام) سے بات شروع فرمائی گئی اگرچہ پہلے نبی آدم (علیہ السلام) تھے مگر مفسرین کرام کے مطابق شرک نوح (علیہ السلام) کے عہد سے شروع ہوا پھر یہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کی نبوت مانتے تھے اور خود کو ان کے طریقہ پر کہتے تھے نیز موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے ماننے والے بھی تھے تو سب سے ارشاد ہوا کہ اب اس حقیقت میں اختلاف مت ڈالو بلکہ دین کو قائم رکھو۔ اقامت دین فرض ہے اور تفرقہ حرام ہے۔ اور دین حق پہلے انبیاء کا بھی وہی تھا جو آپ نے واضح فرمادیا اور اب اس کی اقامت کی دو صورتیں ہیں کہ اس صدق دل سے قبول کرکے اس پر عمل کیا جائے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کا کام کیا جائے اور تفرقہ انہیں قطعی احکام و عقائد میں جن میں تمام انبیاء کا دین ہے اختلاف کرنے کو کہا گیا جو حرام ہے جس طرح مشرکین نے ذات باری تک یا یہودی ونصاری نے انبیاء کے ساتھ عقیدے میں اختلاف کررکھا تھا قطعی احکام کو بدل کر رسومات جاری کررکھی تھیں اس میں فروعی مسائل جو نص قرآن سے یاسنت سے ثابت نہ ہوں ان میں مجتہدین کا اجتہاد سے رائے قائم کرنا اور اس میں اختلاف کا ہونا مذکور نہیں بلکہ یہ تو صحابہ میں بھی تھا اور اس کو حدیث شریف میں باعث برکت کہا گیا ہے آپ کی دعوت الی اللہ مشرکین کو بہت گراں گزرتی ہے توحید کی بات تک سننا گوارا نہیں مگر اللہ اپنے لیے چن لیتا ہے بندوں کو اور جس کے دل میں رجوع الی اللہ پیدا ہوا اسے بھی اپنی راہ بجھادیتا ہے۔ ہدایت کے دو انداز۔ صراط مستقیم پرچلنے کے دوہی طریقے ہیں اول یہ کہ اللہ کریم خود کسی کو اس کام کے لیے چن لے اور یہ بنی آدم کی راہنمائی کے لیے ہوتا ہے جیسے انبیاء (علیہم السلام) اور خاص خاص اولیائے کرام جن کے بارے میں ارشاد ہے۔ انااخلصنھم بخالصۃ ذکری الدار۔ یعنی ان لوگوں کو ہم نے فکر آخرت کے لیے خاص کردیا ہے یہ طریقہ محدود ہے اور دوسرا اور عام طریقہ یہ ہے کہ جس کسی کے دل میں اللہ کے دین پرچلنے کا ارادہ پیدا ہو اسے ہدایت تک پہنچادیتا ہے۔ اور جن لوگوں نے بھی قطعی اور حق باتوں میں اختلاف کیا خواہ وہ پہلی امتوں میں سے تھے یا اس امت کے تو انہوں نے حقیقت کا علم ہوجانے کے بعد کیا اور سب کچھ آپس کی ضد میں اور اپنے اپنے مفادات کے لالچ میں کرگزرے حصول اقتدار یاحصول زر کی خواہشات سے مغلوب ہوکراختلافات کو ہوا دی اور الگ الگ راہ اپنائی اور اگر اللہ کریم کی طرف سے فیصلہ کا دن طے نہ ہوچکا ہوتویہ اتنابڑاجرم ہے کہ انہیں ابھی سے فیصلہ سنادیاجاتا اور اب جب ان لوگوں کو آپ کے ذریعہ ان کے بعد کتاب نصیب ہوئی تو یہ انہی کی طرح شک اور تردد میں گرفتار ہیں جو انہیں چین نہیں لینے دیتا مگر آپ ان کی باتوں کی پر اوہ نہ کیجئے کہ یہ تو چاہتے ہیں کہ آپ دین بیان کرنا چھوڑ دیں مگر آب اپنے طرز عمل پر جس کا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے جمے رہیں ، اور دعوت الی اللہ کا کام کیے جائیں اور ان کی اس خواہش کو کبھی پورا نہ ہونے دیں اور انہیں فرمادیجئے کہ میں اسی پر ایمان لایا ہوں جو کچھ اللہ رب العزت نے قرآن میں نازل فرمایا ہے اور مجھے اللہ نے تمہارے درمیان عدل کا حکم فرمایا ہے کہ تمام قطعی امور کو یاتوحید کے ساتھ سب انبیاء کو برابر مانوں یا جو تمہیں کرنے کا حکم دوں خود بھی اس پر عمل کروں یا تمہارے جھگڑے میرے پاس آئیں تو انصاف سے طے کروں ۔ اس لیے اللہ ہی ہمارا پروردگار بھی ہے اور تم سب کا بھی ہم اپنے کردار عمل کا نتیجہ پائیں گے جبکہ تمہارا عمل تمہارے لیے ہے اس میں بےکار بحث کی ضرورت نہیں جبکہ دلائل واضح ہوچکے تو پھر بحث برائے بحث کا کچھ فائدہ نہیں اب تو اللہ کے حضور فیصلہ ہوگا جو ہم سب کو میدان حشر میں جمع فرمائے گا اور سب نے پھر کر اسی کی طرف جانا ہے جو لوگ اللہ کی توحید اور اس کی ذات وصفات میں خواہ مخواہ حجت بازی کرتے ہیں حالانکہ سمجھدار اور انصاف پسند لوگ اسلام کو قبول کرچکے ہیں اور اس پر عمل کے خوبصورت نتائج دنیا میں بھی ان کی زندگی میں حسین تبدیلی سے واضح ہو رہے ہیں تو ان کی حجت بازی کی اللہ کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں بلکہ ان پر اللہ کا غضب ہوگا اور بہت سخت عذاب ہوگا اور اللہ وہ کریم ہے جس نے کتاب نازل فرمائی اور ہر کام میں انصاف کا حکم دیا المیزان ، ترازو ، یعنی ہر کام میں ہر ایک حق میں انصاف پھر قیامت سرپرکھڑی ہے اور کون جانے کہ وہ بہت ہی قریب ہو ۔ کفار جو اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ مذاق کرتے ہیں کہ اگر قیامت ہے تو پھر ہوجائے مگر جنہیں دولت ایمان نصیب ہے وہ اس روز کے محاسبے سے لرزاں وترساں رہتے ہیں کہ انہیں یقین ہے کہ یہ حق ہے اور ضرور واقع ہوگا جان لو جن لوگوں کو قیامت پہ اعتبار نہیں اور اس کے وقوع میں بھی بحث کرتے ہیں یہ بہت بڑی گمراہی کا شکار ہوچکے ہیں اللہ کریم اپنے بندوں پہ بہت مہربان ہے اور اس کا لطف وکرم عام ہے اور سب کو روزی پہنچاتا ہے ہر ایک کو ہر جگہ رزق دیتا ہے اور وہ زبردست ہے اور غالب کہ جو چاہے کرسکتا ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 12 : انیب (میں رجوع کرتا ہوں ، میں لوٹتا ہوں) فاطر (پیدا کرنے والا ، بنانے والا) الانعام (جانور ، مویشی) یذرو (وہ پھیلاتا ہے) مقالید ( مقلد ) ( چابیاں، کنجیاں) تشریح : آیت نمبر 10 تا 12 : ان آیات میں اس بنیادی عقیدہ کو بیان کیا گیا ہے کہ جس بات میں بھی اختلاف یدا ہوجائے اس کے فیصلے کا حق اللہ کے سوا کسی کو بھی نہیں ہے خواہ وہ معاملہ اعتقاد وعمل کا ہو یا قانون اور اخلاق کا ۔ وہ اختلاف کسی چیز کے جائز و ناجائز یا حلال و حرام کا ہو یا کسی بھی باہمی تنازعات کا اس کا آخری فیصلہ کائنات کے مالک حقیقی اللہ ہی کے ذمے ہے کیونکہ اصل حکم اللہ ہی کا ہے۔ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ ٭ہر حال میں اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ اور توکل اختیار کرنا اور اس کی طرف رجوع کرنا انسان کی سب سے بڑی سعادت ہے۔ ٭زمین و آسمان ہوں یا کائنات کی مخلوقات ان سب کا پیدا کرنے والا اللہ کے سوا کوئی اور نہیں ہے۔ ٭اسی نے انسانوں اور تمام جانداروں کی نسل میں نر اور مادہ کو پیدا کیا جو زمین میں مخلوق کے پھیلنے اور بڑھنے کا ذریعہ ہیں۔ ٭اللہ وہ ہے کہ اس کے جیسا اور کوئی نہیں ہے وہ اپنی ذات میں یکتا ، بےنیاز اور بےمثل و بےمثال ہے۔ ٭اس کی شان یہ ہے کہ وہ ہر آن کائنات میں ہر ایک کی سن رہا ہے اور ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ اس سے کوئی چیز یا اس کی کیفیت اور خبر چھپی ہوئی نہیں ہے۔ ٭آسمانوں اور زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں ۔ مخلوقات کی جیسی ضرورتیں پیدا ہوتی جاتی ہیں۔ اللہ ان خزانوں کو زمین سے نکالتا چلا جاتا ہے۔ کروڑوں سال سے تیل اور گیس اور مع دنیات زمین کے اندر موجود تھے لیکن جب انسانوں کو ان کی ضرورت ہوئی تو اللہ کے حکم سے زمین نے ان کو اگلنا شروع کردیا اور آئندہ انسان کی جو بھی ضروریات ہوں گی اللہ نے ان کے خزانے پہلے ہی سے تیار کر رکھے ہیں ۔ ضرورتیں پیدا ہوتی رہیں گی اور زمین اپنے خزانے نکالتی چلی جائے گی۔ ٭ تمام جان داروں کو وہی رزق عطاء کرتا ہے۔ رزق زیادہ ہونا چاہیے یا کم یہ سب وہ اپنی حکمت اور مصلحت سے متعین کرتا ہے۔ کون کتنی عطاء کا مستحق ہے اور اس کے لئے کس قدر دینا مصلحت کے مطابق ہے وہی جانتا ہے اور وہی عطاء فرما دیتا ہے وہ ہر چیز کی مصلحت اور حکمت سے اچھی طرح واقف ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ پس نہ ان مضرتوں سے ڈرتا ہوں اور نہ توحید میں جس کو کہ اس نے حق کہہ دیا ہے کوئی شبہہ کرتا ہوں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کو فکر و عمل کا اختیار دینے کے باوجود حکم فرمایا ہے کہ وہ ہر حال میں اس کے حکم کی پیروی کرے۔ اور اس کی ذات پر بھروسہ کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو فکرو عمل کی آزادی عطا فرمائی ہے۔ جس وجہ سے لوگوں کی فکر اور عمل میں تضاد اور اختلاف پایا جاتا ہے۔ دین میں اختلاف اس وقت رونما ہوتا ہے جب کوئی شخص بالخصوص عالم دین اپنی ذاتی رائے کو حرف آخر سمجھ لیتا ہے۔ اگر اس کی سوچ دین کے بنیادی اصولوں کے خلاف نہ ہو اور اس اختلاف کے پیچھے دینوی مفاد اور فرقہ واریت ہونے کی بجائے اخلاص ہو تو اس اختلاف کے نقصانات تھوڑے ہوتے ہیں اور اس کی ایک حد تک دین میں گنجائش بھی موجود ہے۔ اگر یہ اختلاف عقیدہ توحید، رسالت اور آخرت یعنی دین کے بنیادی اصولوں میں پایا جائے تو اس کے نقصانات ناقابل تلافی ہوتے ہیں۔ جس کا پہلا نقصان یہ ہے کہ آدمی دین سے نکل کر دائرہ کفر میں داخل ہوجاتا ہے۔ اختلاف بنیادی ہو یا فروعی، معاشی ہو یا معاشرتی، سیاسی ہو یا سماجی، انفرادی ہو یا اجتماعی بیشک اختلاف حاکم اور محکوم کے درمیان کیوں نہ ہو ہر کسی کے لیے حکم ہے کہ اس کا حل اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے مطابق کیا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی سب کا خالق اور مالک ہے۔ یہی سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد ہوا کہ آپ اپنے مخالفوں کو بتلائیں اور سمجھائیں کہ جس بات میں تم میرے ساتھ اختلاف کررہے ہو۔ اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کرنے والا ہے۔ وہ میرا خالق ہے اسی پر میں بھروسہ کرتا ہوں اور ہر حال میں اسی کی طرف رجوع کرنے والا ہوں۔ میرا رب چاہے گا تو دنیا میں ہی میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کردے گا۔ اگر دنیا میں فیصلہ نہ ہوا تو آخرت میں بہرحال یہ فیصلہ ہوجائے گا کہ کون ہدایت پر تھا اور کون گمراہی میں مبتلا تھا۔ مومن کو ہر حال میں اپنے رب پر بھروسہ کرنا چاہیے اور اسی کی طرف متوجہ رہنا چاہیے۔ قرآن مجید نے دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا کہ اگر تمہارے درمیان کسی بات میں اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول اور اپنے امیر کی طرف لوٹاؤ۔ (النساء : ٥٩) کیونکہ اصل حاکم اللہ کی ذات ہے اس لیے یہاں اللہ تعالیٰ نے صرف اپنا نام لیا ہے اگر اس حکم سے مراد قیامت کے متعلق حکم لیا جائے تو وہاں صرف ایک ” اللہ “ کا ہی حکم چلے گا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر 10 تا 12 ان حقائق کو اس ایک پیراگراف میں پیش کرنے کا طریقہ بڑا عجیب ہے۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان حقائق کے درمیان ایک باریک اور خفیہ ربط موجود ہے۔ یہ کہ لوگوں کے درمیان جو اختلافات ہیں ، ان کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وما اختلفتم فیہ من شییء فحکمہ الی اللہ (٤٢ : ١٠) “ تمہارے درمیان جس معاملہ میں بھی اختلاف ہو ، اس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے ”۔ اور اللہ نے اپنا فیصلہ اس قرآن میں نازل کردیا ہے اور اس قرآن نے دنیا و آخرت دونوں کے بارے میں فیصلے کر دئیے ہیں اور لوگوں کی زندگی کے لئے انفرادی اور اجتماعی منہاج اس کے اندر ضبط کردیا ہے۔ ان کے نظام زندگی ، ان کے نظام معیشت ، ان کے نظام قانون ، ان کے نظام سیاست اور ان کے نظام اخلاق و سلوک کے تمام امور قرآن کریم نے طے دئیے ہیں اور ان موضوعات پر کافی و شافی بیان دے دیا ہے۔ اس قرآن کو انسانی زندگی کا دستور العمل بنا دیا ہے۔ یہ تمام دنیا کے دساتیر سے زیادہ جامع و مانع ہے۔ اگر ان کے درمیان کسی معاملے میں اختلاف ہوجائے تو اس کا حکم اس قرآن میں تیار ہے اور حاضر ۔۔۔۔۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اترا ہے۔ اور آپ نے اس قرآن کی اساس پر نظام زندگی قائم کر کے بتا دیا ہے۔ اس ہدایت کے بعد اب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تقریر شروع ہوتی ہے کہ آپ نے اعلان کردیا کہ آپ اپنے امور تمام کے تمام اللہ کے حوالے کرتے ہیں اور اس طرف اشارہ فرماتے ہیں کہ یہ ہے رب تعالیٰ جس نے مجھے یہ کلیہ دیا ہے۔ ذلکم اللہ ربی علیہ توکلت والیہ انیب (٤٢ : ١٠) “ یہی اللہ میرا رب ہے ، اس پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں ” یہ انابت اور یہ توکل اور یہ اقرار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے یہاں ریکارڈ کیا جاتا ہے تا کہ اس کا لوگوں پر ایک نفسیاتی اثر ہو کہ دیکھو یہ ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو اللہ کے نبی ہیں ، وہ بھی شہادت دیتے ہیں کہ اللہ ہی ان کا رب اور حاکم ہے اور یہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ، اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی اور کی طرف رجوع نہیں کرتے۔ لہٰذا دوسرے انسان اور مسلمان اپنے اختلافات میں کس طرح کسی اور کی طرف رجوع کرسکتے ہیں اور نبی جو ہدایت پر ہیں اپنے فیصلہ اللہ ہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ لہٰذا تمام لوگوں کو بطریق اولیٰ اپنے فیصلہ قرآن کی طرف لے جانے چاہئیں۔ اور اس سے کسی جگہ بھی ایک لمحے کے بھی ادھر ادھر نہیں ہونا چاہئے۔ اور کس طرح وہ اپنے امور میں کسی دوسری جانب جاسکتے ہیں جبکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بذات خود بھی کسی دوسری طرف نہیں جاتے۔ اللہ ہی کی طرف رجوع فرماتے ہیں کیونکہ رب بھی اللہ ، والی بھی اللہ ، کفیل بھی اللہ اور یہ اللہ ہی ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جدھر موڑنا چاہتا ہے ، موڑتا ہے۔ جب کسی مومن کے دل میں یہ حقیقت بیٹھ جاتی ہے تو اس کا راستہ روشن ہوجاتا ہے ، اس کے سفر زندگی کے نشانات واضح ہوجاتے ہیں اس لیے وہ اپنے سفر میں ادھر ادھر دیکھتا ہی نہیں۔ طمانیت کا ایک لبریز پیمانہ اس کے دل پر انڈیل دیا جاتا ہے اور اس کے مقامات قدم پر اعتماد بچھا دیا جاتا ہے۔ اس لیے وہ نہ شک کرتا ہے ، نہ تردد کرتا ہے ، اور نہ حیرت زدہ ہوتا ہے۔ اس کو یہ شعور مل جاتا ہے کہ اللہ اس کا حامی ، نگہبان ، محافظ اور اس کے قدموں کو درست رکھنے والا ہے اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اس راستے کے راہی رہے ہیں۔ جب مومن کے ضمیر میں اور شعور میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے تو اس کے نظام زندگی اور طرز زندگی کے بارے میں اس کا شعور اور اس کی سوچ بلند ہوجاتی ہے ، اس لیے وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ اسلامی نظام زندگی کے سوا اور بھی کوئی قابل التفات منہاج ہو سکتا ہے۔ نہ وہ یہ تصور کرسکتا ہے کہ اللہ کے حکم اور فیصلے کے سوا اور بھی کوئی حکم اور فیصلہ ہو سکتا ہے ، جس کی طرف اختلاف کی صورت میں کوئی نگاہ بلند کرسکے۔ جبکہ ہادی اور نبی بھی اپنے فیصلوں میں اللہ کی شریعت اور حکم کی طرف ہی دیکھتے ہیں۔ اب ایک بار پھر اس حقیقت کو ذہن نشین کیا جاتا ہے تا کہ وہ اچھی طرح مومن کے شعور کی گہرائی تک اتر جائے۔ فاطر السموت والارض۔۔۔۔۔۔ وھو السمیع البصیر (٤٢ : ١١) “ آسمانوں اور زمین کا بنانے والا جس نے تمہاری اپنی جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کئے اور اس طرح جانوروں میں بھی جوڑے بنائے ، اور اس طریقے سے وہ تمہاری نسلیں پھیلاتا ہے۔ کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے ”۔ اللہ قرآن کو نازل کرنے والا ہے کہ اس کا حکم تمہارے اختلاف کے اندر فیصل ہو۔ وہی اللہ آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے۔ وہ آسمانوں اور زمین کا مدبر ہے۔ زمین اور آسمان میں جو قانون قدرت چلتا ہے ، وہ زمین اور آسمان کے امور میں فیصلہ کن ہے۔ لوگوں کی زندگیوں کے معاملات بھی دراصل اس کائنات ہی کا ایک حصہ ہیں ، لہٰذا لوگوں کی زندگیوں میں قانون خداوندی کا اجراء دراصل لوگوں کی زندگیوں کو اس پوری کائنات کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ کر دے گا۔ اس طرح تمام انسان اس کائنات کے ساتھ ہم آہنگ اور ہم قدم ہو کر چلیں گے۔ جبکہ کائنات میں حکمرانی میں اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے۔ لہٰذا انسان کی زندگی میں حکمرانی اس کی ہوگی۔ وہ اللہ جس کے حکم کی طرف لوگوں نے اپنے اختلافات میں رجوع کرنا ہے ، وہ اللہ وہی ذات ہے جو تمہارا خالق ہے۔ تمہارے نفوس کو اسی نے بنایا ہے اور یہ اپنی مخلوق کو اچھی طرح جانتا ہے۔ پھر۔ جعل لکم من انفسکم ازواجاً (٤٢ : ١١) پھر تمہاری جنس ہی سے تمہارے لیے جوڑے بنائے ”۔ اس طرح تمہاری زندگی کی بنیاد کی تشکیل ایک خاندان کی صورت میں ہوئی ، لہٰذا وہی جانتا ہے کہ کس طرح یہ زندگی درست ہو سکتی ہے ، اور انسان کی اصلاح کس طرح ہو سکتی ہے ، اللہ وہ ہے جس نے تمہاری تخلیق اس طرح کی جس طرح تمام دوسری زندہ مخلوق کو اس نے بنایا اور ان کے بھی جوڑے بنائے۔ ومن الانعام ازواجاً (٤٢ : ١١) “ اور اسی طرح جانوروں میں بھی جوڑے بنائے ”۔ تخلیق میں وحدت نظام اور تسلسل نوع ، یہ ظاہر کرتا ہے کہ خالق ایک ہی ہے۔ تم اور مویشی اسی نظام کے مطابق تکاثر و تناسل کے عمل سے گزرتے ہو۔ جبکہ اللہ کی مثال اپنی مخلوقات میں سے نہیں ہے۔ لیس کمثلہ شیء (٤٢ : ١١) “ کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں ”۔ انسانی فطرت اس اصول کو تسلیم کرتی ہے کیونہ کوئی چیزیں اگر کسی نے بنائی ہیں تو خالق کسی طرح بھی ان کے ممثال نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا انسانوں کو چاہئے کہ وہ اپے اس بےمثال خالق کے احکام ہی کی طرف لوٹیں۔ خصوصاً اس دنیا میں اپنے اختلافات کے معاملے میں۔ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف رجوع نہ کریں۔ کیونکہ وہ بےمثال خالق و حاکم ہے۔ لہٰذا ایک مرجع کے سوا کوئی اور مرجع اور جائے فیصلہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ جیسا کوئی نہیں ہے۔ باوجود اس کے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے مشابہ کوئی شیء اس دنیا میں نہیں ہے لیکن اللہ اور اس کی مخلوقات کے درمیان رابطہ باقی اور قائم ہے۔ وہ دیکھتا ہے اور سنتا ہے اور پھر دیکھنے اور سننے والے کی طرح فیصلے کرتا ہے۔ اور اللہ جس اختلافی معاملے میں فیصلہ کرتا ہے وہ پھر آخری فیصلہ ہوتا ہے۔ وہ اس معنی میں کہ کنجیاں سب کائنات کی اسی کے ہاتھ میں ہیں اور اس وقت سے ہیں جب سے اس نے اس کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور اس کے لئے ایک ناموس فطرت بنا کر اس میں اسے رائج کردیا ہے۔ لہ مقالید السموت والارض (٤٢ : ٢١) “ آسمان اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں ”۔ لہٰذا انسانوں کے اختیارات بھی اسی کے ہیں کیونہ انسان بھی اس کائنات کا حصہ ہیں۔ لہٰذا انسانوں کی کنجیاں بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ پھر وہ اللہ ہی ہے جو انسانوں کے رزق کی کشادگی اور تنگی کے اختیارات رکھتا ہے ۔ اور یہ رزق ان کو زمین و آسمان کے خزانوں سے دیتا ہے۔ یسبط الرزق لمن یشاء ویقدر (٤٢ : ٢١) “ جسے چاہتا ہے کھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، نپا تلا دیتا ہے ”۔ وہ ان کا رازق ہے ، وہ ان کا کفیل ہے ، وہ ان کو کھانا دینے والا ہے ، ان کو پلانے والا ہے لہٰذا وہ غیر اللہ کے متوجہ کیوں ہوتے ہیں کہ وہ ان کے درمیان فیصلے کرے۔ حق تو یہ ہے کہ لوگ فیصلوں کے لئے رازق اور کفیل کی طرف رخ کریں جو رزق اور دوسرے معاملات کی تدبیر کرتا ہے۔ انہ بکل شیء علیم (٤٢ : ٢١) “ اسے ہر چیز کا علم ہے ”۔ فیصلہ وہی ذات کرسکتی ہے جو علم رکھتی ہے اور اسی کا فیصلہ عادلانہ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔ یوں اس پوری تقریر کے معانی نہایت ہی دقیق و لطیف انداز میں باہم مربوط اور متناسب ہیں تا کہ وہ انسانی قلب و عقل پر اثر انداز ہوں اور عقل و خرد کی تاروں پر ایسی چوٹ لگائیں کہ ان سے نہایت ہی گہرا ، موزوں اور خوش آواز زمزمہ پیدا ہو اب پھر وحی الٰہی کی طرف :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

تم جس چیز میں اختلاف کرو اس کا فیصلہ اللہ ہی کی طرف ہے اس نے تمہارے جوڑے پیدا فرمائے ان آیات میں اللہ جل شانہٗ کی صفات جلیلہ عظیمہ بیان فرمائی ہیں، پہلے تو یہ فرمایا کہ تم جن چیزوں میں اختلاف کرتے ہو انہیں اللہ کی طرف لوٹا دو یعنی اس کی کتاب جو فیصلہ دے اسے مان لو اور اسی کے مطابق عمل کرو، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ آپ فرما دیں کہ اللہ ہی میرا رب ہے اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں، توحید کی دعوت دینے میں تمہاری طرف سے کسی تکلیف کے پہنچ جانے سے میں نہیں ڈرتا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

9:۔ ” وما اختلفتم فیہ۔ الایۃ “ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول کی حکایت ہے، آپ نے مسلمانوں سے فرمایا جن شرائع میں تمہارے درمیان اور مشرکین اور اہل کتاب کے درمیان اختلاف ہوجائے تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے اور اس میں اس کا حکم قطعی ہے وہی اللہ میرا مالک و کارساز ہے اسی پر میرا بھروسہ ہے میں ہر معاملے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے کہ سچا دین، دین اسلام ہے جو توحید کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ دین مشرکین۔ اسی طرح شریعت سازی اللہ کا کام ہے۔ احبارو رہبان کو اللہ کی شریعت میں ترمیم و اضا افہ اور تحریف و تبدیل کا کوئی اختیار نہیں۔ ای ماخالفکم فیہ الکفار من اھل الکتاب و المشرکین من امر الدین، فقولوا لھم حکمہ الی اللہ لا الیکم وقد حکم ان الدین ھو الاسلام لا غیرہ، و امور الشرائع انما تتلق من بیان اللہ (قرطبی ج 16 ص 7) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(10) اور جو آپ سے اختلاف کرتے ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ جس جس بات میں تم اختلاف کرتے ہو تو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد اور اسی کے حوالے ہے اور اللہ تعالیٰ میرا پروردگار ہے اور اسی پر میں نے توکل اور بھروسہ کررکھا ہے اور میں ہر بات میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ یعنی تم جو توحیدورسالت اور قیام قیامت وغیرہ میں باوجود دلائل اور براہین قاطعہ کے پھر بھی مجھ سے اختلاف کرتے ہو تو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے وہی پروردگار ہے اور تمہارے اختلاف کی وجہ سے جو نتائج برآمد ہونے کا اندیشہ ہے ان نتائج کے لئے میں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کررکھا ہے اور میں دین ودنیا کے تمام کاموں میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔