Surat us Shooraa

Surah: 42

Verse: 12

سورة الشورى

لَہٗ مَقَالِیۡدُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ ؕ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۱۲﴾

To Him belong the keys of the heavens and the earth. He extends provision for whom He wills and restricts [it]. Indeed He is, of all things, Knowing.

آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کی ہیں جس کی چاہے روزی کشادہ کردے اور تنگ کردے ، یقیناً وہ ہرچیز کو جاننے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالاَْرْضِ ... To Him belong the keys of the heavens and the earth. We have already discussed the interpretation of this phrase in Surah Az-Zumar (39:63), the conclusion of which is that He is the One Who is controlling and governing them. ... يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاء وَيَقْدِرُ ... He expands provision for whom He wills, and straitens. means, He gives plentiful provision to whomsoever He wills and He reduces it for whomsoever He wills, and He is perfectly Wise and Just. ... إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ Verily, He is the All-Knower of everything.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٣] یہ اللہ پر توکل کرنے کی تیسری وجہ ہے کہ آسمان و زمین کے تمام تر خزانوں کی چابیاں اسی کے پاس ہیں۔ وہ ایسا داتا ہے جو ہر آن اپنی مخلوق پر بےانداز خرچ کرتا ہے اور رزق مہیا کر رہا ہے۔ البتہ بعض مصلحتوں کے پیش نظر اس نے رزق کی تقسیم تمام لوگوں میں یکساں نہیں رکھی۔ اور اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ رزق کے اس تفاوت کی وجہ سے ہی دنیا کا یہ نظام چل رہا ہے۔ اور سب لوگوں کی آزمائش ہو رہی ہے۔ اب اگر وہ کسی کو زیادہ رزق دیتا ہے یا کسی کو کم دیتا ہے تو یقیناً اس میں کوئی نہ کوئی حکمت کارفرما ہوتی ہے۔ جسے وہ خود ہی سب سے زیادہ جانتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) لہ مقالید السموت والارض : اس کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة زمر (٦٣) ۔ (٢) یبسط الرزق لمن یشآء و یقدر : اس کی تفسیر کیلئے دیکھیے سورة عنکبوت (٦٢) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَہٗ مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ ٠ ۚ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَقْدِرُ۝ ٠ ۭ اِنَّہٗ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۝ ١٢ قلد الْقَلْدُ : الفتل . يقال قَلَدْتُ الحبل فهو قَلِيدٌ ومَقْلُودٌ ، والْقِلَادَةُ : المفتولة التي تجعل في العنق من خيط وفضّة وغیرهما، وبها شبّه كلّ ما يتطوّق، وكلّ ما يحيط بشیء . يقال : تَقَلَّدَ سيفه تشبيها بالقِلادة، کقوله : توشّح به تشبيها بالوشاح، وقَلَّدْتُهُ سيفا يقال تارة إذا وشّحته به، وتارة إذا ضربت عنقه . وقَلَّدْتُهُ عملا : ألزمته . وقَلَّدْتُهُ هجاء : ألزمته، وقوله : لَهُ مَقالِيدُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الزمر/ 63] أي : ما يحيط بها، وقیل : خزائنها، وقیل : مفاتحها والإشارة بكلّها إلى معنی واحد، وهو قدرته تعالیٰ عليها وحفظه لها . ( ق ل د ) القلد کے معنی رسی وغیرہ کو بل دینے کے ہیں ۔ جیسے قلدت الحبل ( میں نے رسی بٹی ) اور بٹی ہوئی رسی کو قلید یامقلود کہاجاتا ہے اور تلاوۃ اس بٹی ہوئی چیز کو کہتے ہیں جو گردن میں ڈالی جاتی ہے جیسے ڈور اور چاندی وغیرہ کی زنجیر اور مجازا تشبیہ کے طور پر ہر اس چیز کو جو گردن میں ڈال جائے یا کسی چیز کا احاطہ کرے قلاوۃ کہاجاتا ہے اور اسی تقلد سیفہ کا محاورہ ہے ۔ کیونکہ وہ بھی قلاوۃ کی طرح گردن میں ڈال کر لٹکائی جاتی ہے ۔ جیسے وشاح ( ہار) سے توشح بہ کا محاورہ استعمال ہوتا ہے اور قلدتہ سیفا کے معنی کسی کی گردن میں تلوار یا باندھنے باتلوار سے اس کی گردن مارنے کے ہیں ۔ قلدتہ عملا کوئی کام کسی کے ذمہ لگا دینا ؛ قلدتہ ھجاء کسی پر ہجوم کو لازم کردینا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لَهُ مَقالِيدُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الزمر/ 63] اس کے پاس آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں ۔ میں مقالید سے مراد وہ چیز ہے جو ساری کائنات کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ بعض نے اس سے خزانے اور بعض نے کنجیاں مراد لی ہیں لیکن ان سب سے اللہ تعالیٰ کی اس قدرت اور حفاظت کی طرف اشارہ ہے جو تمام کائنات پر محیط ہے ۔ بسط بَسْطُ الشیء : نشره وتوسیعه، قال اللہ تعالی: وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِساطاً [ نوح/ 19] والبِسَاط : الأرض المتسعة وبَسِيط الأرض : مبسوطه، واستعار قوم البسط لکل شيء لا يتصوّر فيه تركيب وتأليف ونظم، قال اللہ تعالی: وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْصُطُ [ البقرة/ 245] ، ( ب س ط ) بسط الشئ کے معنی کسی چیز کو پھیلانے اور توسیع کرنے کے ہیں ۔ پھر استعمال میں کبھی دونوں معنی ملحوظ ہوتے ہیں اور کبھی ایک معنی متصور ہوتا ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے بسط لثوب ( اس نے کپڑا پھیلایا ) اسی سے البساط ہے جو ہر پھیلائی ہوئی چیز پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِساطاً [ نوح/ 19] اور خدا ہی نے زمین کو تمہارے لئے فراش بنایا ۔ اور بساط کے معنی وسیع زمین کے ہیں اور بسیط الارض کے معنی ہیں کھلی اور کشادہ زمین ۔ ایک گروہ کے نزدیک بسیط کا لفظ بطور استعارہ ہر اس چیز پر بولا جاتا ہے جس میں ترکیب و تالیف اور نظم متصور نہ ہوسکے ۔ اور بسط کبھی بمقابلہ قبض آتا ہے ۔ جیسے وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْصُطُ [ البقرة/ 245] خدا ہی روزی کو تنگ کرتا ہے اور ( وہی اسے ) کشادہ کرتا ہے ۔ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة «2» ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو قدر ( تنگي) وقَدَرْتُ عليه الشیء : ضيّقته، كأنما جعلته بقدر بخلاف ما وصف بغیر حساب . قال تعالی: وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ [ الطلاق/ 7] ، أي : ضيّق عليه، وقال : يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشاءُ وَيَقْدِرُ [ الروم/ 37] ، وقال : فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ [ الأنبیاء/ 87] ، أي : لن نضيّق عليه، وقرئ : ( لن نُقَدِّرَ عليه) «3» ، ومن هذا المعنی اشتقّ الْأَقْدَرُ ، أي : القصیرُ العنق . وفرس أَقْدَرُ : يضع حافر رجله موضع حافر يده، وقوله : وَما قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ [ الأنعام/ 91] ، أي : ما عرفوا کنهه تنبيها أنه كيف يمكنهم أن يدرکوا کنهه، وهذا وصفه اور قدرت علیہ الشئی کے معنی کسی پر تنگی کردینے کے ہیں گویا وہ چیز اسے معین مقدار کے ساتھ دی گئی ہے اس کے بالمقابل بغیر حساب ( یعنی بےاندازہ ) آتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ [ الطلاق/ 7] اور جس کے رزق میں تنگی ہو ۔ یعنی جس پر اس کی روزی تنگ کردی گئی ہو ۔ نیز فرمایا : يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشاءُ وَيَقْدِرُ [ الروم/ 37] خدا جس پر جاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے ۔ فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ [ الأنبیاء/ 87] اور خیال کیا کہ ہم ان پر تنگی نہیں کریں گے اور ایک قرآت میں لن نقدر علیہ سے اور اسی سے لفظ اقدر مشتق ہے جس کے معنی کوتاہ گردن آدمی کے ہیں اوراقدر اس گھوڑے کو بھی کہتے ہیں جس کے دوڑتے وقت پچھلے پاؤں ٹھیک اس جگہ پڑیں جہاں اگلے پاؤں پڑے تھے ۔ اور آیت کریمہ وما قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ [ الأنعام/ 91] ان لوگوں نے خدا کی قدرشناسی جیسی کرنی چاہیے تھی نہیں کی ۔ یعنی لوگ اس کی حقیقت کو نہیں پاسکے اور پھر اس امر پر تنبیہ کی ہے کہ وہ اس کی کنہہ کا ادارک بھی کیسے کرسکتے ہیں علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، وذلک ضربان : أحدهما : إدراک ذات الشیء . والثاني : الحکم علی الشیء بوجود شيء هو موجود له، أو نفي شيء هو منفيّ عنه . فالأوّل : هو المتعدّي إلى مفعول واحد نحو : لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ [ الأنفال/ 60] . والثاني : المتعدّي إلى مفعولین، نحو قوله : فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِناتٍ [ الممتحنة/ 10] ، وقوله : يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ إلى قوله : لا عِلْمَ لَنا «3» فإشارة إلى أنّ عقولهم طاشت . والعِلْمُ من وجه ضربان : نظريّ وعمليّ. فالنّظريّ : ما إذا علم فقد کمل، نحو : العلم بموجودات العالَم . والعمليّ : ما لا يتمّ إلا بأن يعمل کالعلم بالعبادات . ومن وجه آخر ضربان : عقليّ وسمعيّ ، وأَعْلَمْتُهُ وعَلَّمْتُهُ في الأصل واحد، إلّا أنّ الإعلام اختصّ بما کان بإخبار سریع، والتَّعْلِيمُ اختصّ بما يكون بتکرير وتكثير حتی يحصل منه أثر في نفس المُتَعَلِّمِ. قال بعضهم : التَّعْلِيمُ : تنبيه النّفس لتصوّر المعاني، والتَّعَلُّمُ : تنبّه النّفس لتصوّر ذلك، وربّما استعمل في معنی الإِعْلَامِ إذا کان فيه تكرير، نحو : أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] ، ( ع ل م ) العلم کسی چیش کی حقیقت کا اور راک کرنا اور یہ قسم پر ہے اول یہ کہ کسی چیز کی ذات کا ادراک کرلینا دوم ایک چیز پر کسی صفت کے ساتھ حکم لگانا جو ( فی الواقع ) اس کے لئے ثابت ہو یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی کرنا جو ( فی الواقع ) اس سے منفی ہو ۔ پہلی صورت میں یہ لفظ متعدی بیک مفعول ہوتا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے : ۔ لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ [ الأنفال/ 60] جن کو تم نہیں جانتے اور خدا جانتا ہے ۔ اور دوسری صورت میں دو مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِناتٍ [ الممتحنة/ 10] اگر تم کا معلوم ہو کہ مومن ہیں ۔ اور آیت يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَاسے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے ہوش و حواس قائم نہیں رہیں گے ۔ ایک دوسری حیثیت سے علم کی دوقسمیں ہیں ( 1) نظری اور ( 2 ) عملی ۔ نظری وہ ہے جو حاصل ہونے کے ساتھ ہی مکمل ہوجائے جیسے وہ عالم جس کا تعلق موجودات عالم سے ہے اور علم عمل وہ ہے جو عمل کے بغیر تکمیل نہ پائے جسیے عبادات کا علم ایک اور حیثیت سے بھی علم کی دو قسمیں ہیں ۔ ( 1) عقلی یعنی وہ علم جو صرف عقل سے حاصل ہو سکے ( 2 ) سمعی یعنی وہ علم جو محض عقل سے حاصل نہ ہو بلکہ بذریعہ نقل وسماعت کے حاصل کیا جائے دراصل اعلمتہ وعلمتہ کے ایک معنی ہیں مگر اعلام جلدی سے بتادینے کے ساتھ مختص ہے اور تعلیم کے معنی با ر بار کثرت کے ساتھ خبر دینے کے ہیں ۔ حتٰی کہ متعلم کے ذہن میں اس کا اثر پیدا ہوجائے ۔ بعض نے کہا ہے کہ تعلیم کے معنی تصور کیلئے نفس کو متوجہ کرنا کے ہیں اور تعلم کے معنی ایسے تصور کی طرف متوجہ ہونا کے اور کبھی تعلیم کا لفظ اعلام کی جگہ آتا ہے جب کہ اس میں تاکید کے معنی مقصود ہوں جیسے فرمایا ۔ أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] کیا تم خدا کو اپنی دینداری جتلاتے ہو ۔ اور حسب ذیل آیات میں تعلیم کا لفظ استعمال ہوا ہے جیسے فرمایا ۔ الرَّحْمنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ [ الرحمن/ 1- 2] خدا جو نہایت مہربان اس نے قرآن کی تعلیم فرمائی ۔ قلم کے ذریعہ ( لکھنا ) سکھایا ؛

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اسی کے اختیار میں ہے آسمانوں اور زمین کے خزانے یعنی بارش و نباتات جس پر چاہتا ہے مال کی فراخی کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے کم دیتا ہے اور وہ فراخی و کمی سب کو جاننے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٢ { لَہٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ” اسی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی تمام کنجیاں۔ “ { یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ } ” وہ کشادہ کردیتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) ناپ تول کردیتا ہے۔ “ { اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ} ” یقینا وہ ہرچیز کا جاننے والا ہے۔ “ وہ خوب جانتا ہے کہ کس کے لیے رزق میں کشادگی بہتر ہے اور کس کو بقدر ِضرورت دینا مناسب ہے۔ اگلی آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں ” اقامت دین “ کی اصطلاح آئی ہے۔ اس لحاظ سے یہ آیت اس سورت کا عمود ہے اور اس مضمون کے اعتبار سے یہ مقام پورے قرآن میں ذروہ سنام (climax) کا درجہ رکھتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

19 These are the arguments to prove why Allah alone is the true Guardian and why putting trust in Him alone is right and correct and why He alone should be turned to in all matters. (For explanation, see An-Naml: 60-66, Ar-Rum: 20-22 and the E.N.'s).

سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :19 یہ دلائل ہیں اس امر کے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کیوں ولی برحق ہے ، اور کیوں اسی پر توکل کرنا صحیح ہے اور کیوں اسی کی طرف رجوع کیا جانا چاہیے ( تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم ، النمل ، حواشی ۷۳تا۸۳ ، الروم ، حواشی ۲۵ تا ۳۱ )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(42:12) لہ : میں لام ملک و ملکیت کا ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ اسی کی ہے۔ اسی کی ملکیت ہے۔ مقالید السموت والارض۔ مضاف مضاف الیہ۔ آسمانوں اور زمین کی کنجیاں آسمانوں اور زمین کے خزانے۔ القلد القلد (باب ضرب) رسی بٹنا۔ قلدت الحبل میں نے رسی بٹی۔ بٹی ہوئی رسی کو قلید یا مقلود کہتے ہیں۔ قلادۃ اس بٹی ہوئی رسی کو کہتے ہیں جو گلے میں ڈالی جائے۔ جیسے ڈور، زنجیر وغیرہ۔ اسی سے باب تفعیل سے تقلید ہے۔ کسی مسئلہ میں تقلید کرنا۔ بےسوچے سمجھے پیروی کرنا۔ امام راغب (رح) نے لکھا ہے :۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حفاظت کی طرف اشارہ ہے جو تمامکائنات کو محیط ہے۔ یسبط : فعل مضارع واحد مذکر غائب۔ بسط (باب نصر) مصدر۔ وہ کشادہ کرتا ہے۔ وہ وسیع کرتا ہے۔ وہ فراخ کرتا ہے۔ یقدر : مضارع واحد مذکر غائب قدر (باب ضرب) مصدر۔ وہ تنگ کرتا ہے ، وہ رزق تنگ کرتا ہے وہ اندازہ کرتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے فالتقی الماء علی امرقد قدر (54:12) تو پانی ایک کام کے لئے جو مقدر یا معین ہوچکا تھا (جس کا اندازہ کیا جاچکا تھا) جمع ہوگیا تھا۔ اور انہی معنوں میں کہتے ہیں قدرت علیہ الشیء میں اس پر کسی چیز کی تنگی کردی یعنی وہ چیز اسے معین مقدار کے ساتھ دی گئی۔ اس کے بالمقابل فراخی کرنا بسط ہے یا بغیر حساب (بےاندازہ) دینا ہے واللّٰہ یرزق من یشاء بغیر حساب (2:212) اور اللہ جس کو چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔ اور تنگی کے معنی میں آیا ہے ومن قدر علیہ رزقہ (65:7) اور جس کے رزق میں تنگی کی گئی ہو۔ یا جس کے رزق میں تنگی ہو۔ آیت ہذا میں یقدر : ای یقدر لمن یشائ۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ وہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے۔ علیم : علم سے فعیل کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے ۔ بہت بڑا دانا۔ خوب جاننے والا۔ خداوند تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے قرآن مجید میں بیشتر مقامات پر علیم کا استعمال اللہ تعالیٰ کی صفت میں ہی وارد ہوا ہے اس وقت اس کا مطلب ہوگا : سب سے زیادہ عالم

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 یعنی وہی جانتا ہے کہ کس کے حق میں زیادہ روزی دینا بہتر ہے اور کس کے حق میں کم روزی دینا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

7۔ یعنی متصرف وہی ہے۔ 8۔ یعنی وہ جاننے والا ہے کہ کس کے لئے کیا مصلحت ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جس ” اللہ “ جیسا کوئی نہیں ہے۔ اس کے اختیارات دائمی اور لا محدود ہیں اور اسی کے پاس زمین و آسمانوں کے خزانوں کا کنٹرول ہے۔ اللہ تعالیٰ کے پاس ہی زمین و آسمانوں کی چابیاں ہیں۔ وہ جس کا چاہتا ہے رزق فراخ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ یقیناً وہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو بھی جاندار پیدا کیا ہے۔ اس کی روزی کا ذمہ لے رکھا ہے وہ ہر کسی کے مستقل قیام اور عارضی ٹھہراؤ کو جانتا ہے اور اس نے ہر بات لوح محفوظ میں لکھ رکھی ہے۔ (ھود : ٦) قرآن مجید میں یہ بھی ارشاد ہے کہ اے انسان ! تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (المدّثر : ٣١) اللہ تعالیٰ ہی انسان کو پیدا کرنے والا ہے اور اس نے ہی اس کے رزق کا ذمہ لے رکھا ہے۔ رزق سے مراد صرف کھانے پینے والی چیزیں نہیں بلکہ اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جو ایک ذی روح کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں ہوا، پانی، خوراک اور رہن سہن کی ضروریات شامل ہیں۔ یہ سب چیزیں عطا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس نے اپنا دسترخوان اتنا وسیع اور ( Mobile) بنایا ہے کہ ہر کھانے والے کو اس کی خوراک مل رہی ہے۔ گوشت کھانے والے کو گوشت مل رہا ہے اور دانہ دنکا لینے والے کو دانہ دنکا میسر ہے۔ چند جمع کرنے والوں کے سوا باقی سب کے سب صبح وشام تازہ خوراک سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جہاں تک انسان کا معاملہ ہے اس کا رزق بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے البتہ حکم ہے کہ اللہ کا رزق تلاش کیا کرو۔ اس کے لیے محنت ومشقت کرنا لازم ہے لیکن رزق کی کمی وبیشی کا انحصار انسان کی محنت پر نہیں۔ اگر رزق محنت کی بنیاد پر دیا جاتا تو معذور اور لاچار بھوکے مرجاتے۔ جہاں تک رزق کی کمی و بیشی کا تعلق ہے یہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ اصول کے مطابق ہے جس کے پیش نظر لوگوں کا رزق بڑھتا اور گھٹتا رہتا ہے۔ اگر کہیں قحط سالی پیدا ہوجاتی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کے طے شدہ اصول کے مطابق ہوتی ہے جس کا سبب بنیادی طور پر انسان ہی ہوا کرتا ہے۔ بیشک وہ قحط سالی بارش کی کمی کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہو بارش کی کمی بھی انسان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس قانون کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے رزق کا ذمہ لیا ہے۔ وہ لوگوں کی مستقل قیام گاہوں اور عارضی رہائش کو جانتا ہے۔ کیونکہ لوگوں کے اعمال اور ضروریات سے باخبر رہنا اس کی صفت کاملہ ہے۔ اس لیے نہ صرف ہر لحاظ سے باخبر رہتا ہے بلکہ اس نے انسان اور دنیا کی ہر چیز کے بارے میں سب کچھ لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے۔ (عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ کَانَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ قَالَ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِءْتَ مِنْ شَیْءٍ بَعْدُ أَہْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَکُلُّنَا لَکَ عَبْدٌ اللَّہُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلاَ مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدّ ) [ رواہ مسلم : باب مَا یَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ] ” حضرت ابو سعید (رض) سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو پڑھتے، اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں آسمانوں و زمین کے درمیان خلاء جتنی اور اس کے بعد جتنی تو چاہتا ہے، تو اس ثناء کا سب سے زیادہ اہل ہے اور اس بزرگی کا سب سے زیادہ حق رکھتا ہے جو ثناء اور عظمت بندہ بیان کرتا ہے ہم سب تیرے ہی بندے ہیں اے اللہ ! جو چیز تو عطاء کرنا چاہے اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جو چیز تو روک لے اس کو کوئی عطا کرنے والا نہیں۔ تجھ سے بڑھ کر کوئی عظمت والا نفع نہیں دے سکتا۔ “ مسائل ١۔ زمین و آسمان کی چابیاں صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ ٢۔ اللہ ہی رزق بڑھانے اور گھٹانے والا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والا ہے : ١۔ اللہ تعالیٰ ہی رازق ہے۔ (الذاریات : ٥٨) ٢۔ اللہ ہی رزق فراخ کرتا اور کم کرتا ہے۔ (سباء : ٣٩) ٣۔ اللہ تعالیٰ لوگوں سے رزق نہیں مانگتا بلکہ وہ لوگوں کو رزق دیتا ہے۔ (طٰہٰ : ١٣٢) ٤۔ بیشک اللہ بغیر حساب کے جس کو چاہتا ہے رزق عطا کرتا ہے۔ (آل عمران : ٣٧) ٥۔ ہم نے اس زمین میں تمہارے لیے معاش کا سامان بنایا اور ان کے لیے بھی جنہیں تم روزی نہیں دیتے۔ (الحجر : ٢٠) ٦۔ کتنے ہی چوپائے ایسے ہیں کہ تم انہیں رزق نہیں دیتے اللہ ہی ان کو رزق دینے والا ہے۔ (العنکبوت : ٦٠) ٧۔ اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو کیونکہ اللہ تمہیں اور انھیں بھی رزق دینے والا ہے۔ (الانعام : ١٥١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں آسمانوں کی اور زمین کی کنجیاں یعنی سارے خزانوں کا وہی مالک ہے ﴿يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يَقْدِرُ ١ؕ﴾ وہ پھیلا دیتا ہے رزق جس کے لیے چاہے اور تنگ کردیتا ہے جس کے لیے چاہے ﴿اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ٠٠١٢﴾ بیشک وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

11:۔ ” لہ مقالید السموات۔ الایۃ “ یہ بھی ” لہ مافی السموات الخ “ سے متعلق ہے۔ جس طرح ساری کائنات کا خالق اور مالک وہی ہے، اسی طرح زمین و آسمان کے خزانوں کی کنجیوں کا مالک بھی وہی ہے۔ تمام خزائن رحمت و رزق اسی کے ہاتھ میں ہیں، تندرستی، دولت، اولاد، عزت وغیرہ ان کے اضداد سب اسی کے قبضہ واختیار میں ہیں، وہ جسے چاہتا ہے فراخی سے روزی دیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے روزی تنگ کردیتا ہے۔ وہ ہر چیز کو اچھی طرح جانتا ہے، اس لیے جو کچھ بھی کرتا ہے اپنے علم و حکمت کے تقاضے کے مطابق کرتا ہے۔ ابتداء سورت سے یہاں تک واضح ہوگیا کہ سارے عالم میں اللہ تعالیٰ ہی متصرف و مختار ہے اور وہی غیب داں ہے، کوئی چیز اس کے علم وقدرت سے باہر نہیں اور ان صفات میں کوئی جن و بشر، کوئی ملک و مرسل اس کا شریک نہیں، اس سے واضح ہوگیا کہ جب وہی کارساز اور عالم الغیب ہے، تو حاجات میں مافوق الاسباب صرف اسی کو پکارنا چاہئے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(12) آسمانوں کی اور زمین کی کنجیاں سب اسی کے اختیار میں ہیں جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور جس روزی کو چاہتا ہے کم کردیتا ہے اور نپی تلی کردیتا ہے اور اس کی روزی تنگ کردیتا ہے بیشک وہ ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے اور ہر چیز سے پوری طرح واقف ہے۔ یعنی آسمانوں اور زمین میں اسی کا تصرف ہے جس کی روزی چاہتا ہے کشادہ کردیتا ہے اور جس کی چاہتا ہے کم کردیتا ہے اور اس کو تنگدست بنادیتا ہے کیونکہ وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور ہر شخص کو مصلحت سے خوب واقف ہے جس کو جس لائق سمجھتا ہے اپنی حکمت کے موافق اسی قدر روزی سے نوازتا ہے۔