Surat us Shooraa

Surah: 42

Verse: 17

سورة الشورى

اَللّٰہُ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ وَ الۡمِیۡزَانَ ؕ وَ مَا یُدۡرِیۡکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِیۡبٌ ﴿۱۷﴾

It is Allah who has sent down the Book in truth and [also] the balance. And what will make you perceive? Perhaps the Hour is near.

اللہ تعالٰی نے حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ہے اور ترازو بھی ( اتاری ہے ) اور آپ کو کیا خبر شاید قیامت قریب ہی ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

اللَّهُ الَّذِي أَنزَلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ ... It is Allah Who has sent down the Book in truth, referring to all the Books which were revealed from Him to His Prophets. ... وَالْمِيزَانَ ... and the Balance. means, justice and fairness. This was the view of Mujahid and Qatadah. This is like the Ayat: لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَـتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَـبَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ Indeed We have sent Our Messengers with clear proofs, and revealed with them the Scripture and the Balance that mankind may keep up justice. (57:25) وَالسَّمَأءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ أَلاَّ تَطْغَوْاْ فِى الْمِيزَانِ وَأَقِيمُواْ الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلاَ تُخْسِرُواْ الْمِيزَانَ And the heaven He has raised high, and He has set up the Balance. In order that you may not transgress (due) balance. And observe the weight with equity and do not make the balance deficient. (55:7-9) ... وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ And what can make you know that perhaps the Hour is close at hand? This is encouragement (to strive) for its sake, a terrifying warning, and advice to think little of this world.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

17۔ 1 الْکِتَابَ سے مراد جنس ہے یعنی تمام پیغمبروں پر جتنی کتابیں نازل ہوئیں، وہ سب حق اور سچی تھیں یا بطور خاص قرآن مجید مراد ہے اور اس کی صداقت کو واضح کیا جا رہا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٦] اللہ کے میزان اتارنے کے مختلف مفہوم :۔ یعنی اللہ نے صرف حق ہی نازل نہیں فرمایا بلکہ حق معلوم کرنے کا معیار بھی نازل فرمایا اور یہ معیار میزان ہے۔ اللہ نے مادی میزان یا ترازو بھی اتاری جس میں اجسام تلتے ہیں اور علمی ترازو بھی جسے عقل سلیم کہتے ہیں۔ عقل سلیم سرسری نظر میں ہی معلوم کرلیتی ہے کہ حق کس طرف ہے اور باطل کس طرف یا کسی چیز میں حق کا کتنا حصہ ہے اور باطل کا کتنا ؟ علاوہ ازیں اخلاقی ترازو بھی ہے یعنی عدل و انصاف کی ترازو۔ اور سب سے بڑی ترازو کتاب و سنت ہے۔ جو خالق و مخلوق کے حقوق و فرائض کا ٹھیک ٹھیک تصفیہ کرتی ہے جس میں بات پوری تلتی ہے نہ کم نہ زیادہ۔ [٢٧] یعنی شریعت کے ترازو میں رکھ کر اپنے اعمال کا خود ہی محاسبہ کرلو۔ کیا معلوم کہ قیامت کی گھڑی قریب ہی آلگی ہو۔ پھر کچھ نہ ہوسکے گا۔ لہذا اچھے اعمال بجا لانے میں جلدی کرلو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) اللہ الذی انزل الکتب بالحق والمیزان :” الکتب “ میں الف لام جنس کا ہو تو مراد تمام روحانی کتابیں ہیں اور اگر عہد کا ہو تو مراد یہ کتاب یعنی قرآن مجید ہے۔ یعنی کیا جانتے بھی ہو کہ جس اللہ کے بارے میں تم جھگڑ رہے ہو وہ کون ہے اور اس کی صفات اور اس کے احکام کیسے معلوم ہوسکتے ہیں ؟ فرمایا اللہ وہی ہے جس نے یہ کتاب یعنی قرآن مجید حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے، اس کی ہر بات حق ہے، اس میں باطل کی آمیزش ہو ہی نہیں سکتی، جیسا کہ فرمایا :(لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ) (حم السجدۃ : ٣٢)” اس کے پا باطل نہ اس کے آگے سے آتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے۔ “ اور اسی نے میزان اتارا ہے جس کے ساتھ لوگ اپنے تمام معاملات میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کرسکیں۔” المیزان “ ستے مراد اکثر مفسرین نے عدل و انصاف لیا ہے، بعض نے اس سے مراد دین حق اور بعض نے جزا و سزا کا قانون لیا ہے۔ ان میں سے جو بھی مراد لیں بات ایک ہی ہے اور اس میزان سے مراد اللہ کے دین اور اس کی شریعت پر مشتمل یہ کتاب ہی ہے جو خلاق و مخلوق کے درمیان معاملات اور مخلوق کے باہمی معاملات اور تمام تنازعات کے لئے میزان ہے، جو ہر بات ترازو کی طرح تول کر صحیح یا غلط اور حق باطل کا فیصلہ کر یدتی ہے۔ اوپر فرمایا تھا :(وامرت لاعدل بینکم) (الشوری : ١٥) (اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں) اور اس آیت میں بتادیا کہ اس کتاب پاک کی صورت میں میزان آگئی ہے، جس کے ساتھ وہ عدل قائم کیا جائے گا۔ یہ کتاب دوسرے معاملات کی طرح پہلی کتابوں کے لئے بھی میزان اور ان کی نگران ہے کہ ان میں کون سی باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور کون سی ملا دی گئی ہیں، جیسا کہ فرمایا :(وانزلنا الیک الکتب بالحق مصدقاً لما بین یدیہ من الکتب و مھیمناً علیہ) (المائدۃ : ٣٨)” اور ہم نے تیری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ بھیجی، اس حال میں کہ اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو کتابوں میں سے اس سے پہلے ہے اور اس پر محافظ ہے۔ “ (٢) یہاں ایک سوال ہے کہ آیت میں ” الکتب “ اور ” المیزان “ کے درمیان واؤ عطف ہے جو مغایرت کے لئے ہوتی ہے، جس سے ظاہر ہے کہ کتاب اور میزان الگ الگ چیزیں ہیں، اب اگر میزان سے مراد کتاب ہی ہو تو مغایرت ختم ہوجاتی ہے، اسی طرح اگر میزان سے مراد عدل و انصاف لیں تب بھی کتاب اور میزان کے درمیان مغایرت نہیں رہتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تمام کتابیں عین عدل و انصاف ہیں ؟ جو اب اس کا یہ ہے کہ ایک ہی چیز کا ذکر جب اس کی مختلف صفات کے ساتھ کیا جائے تو اس کا عطف خود اس پر ہوسکتا ہے، کیونکہ صفات کے تغایر کو ذوات کے تغایر کی طرح قرار دے لیا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اس کی مثالوں میں سے ایک مثال یہ ہے :(سبح اسم ربک الاعلی الذی خلق فسوی والذی قدر فھدی والذی اخرج المرعی ) (الاعلی : ١ تا ١٣) ان آیات میں ” الذی “ (وہ ذات) کو عطف کے ساتھ الگ الگ بیان کیا گیا ہے، حالانکہ وہ ایک ہی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ہر جملے میں وہ الگ الگ صفت کے ساتھ مذکور ہے۔ کلام عرب میں سے اس کی مثال یہ شعر ہے۔ الی الملک الفرم وابن الھمام ولیت الکتیبۃ فی المردحم (اضواء البیان) (٣) وما یدریک لعل الساعۃ قریب : اور تجھے کیا چیز آگاہ کرتی ہے شاید کہ وہ قیامت بالکل نزدیک ہو اور جو سانس تم لے رہی ہو یہی آخری ہو، اسلئے اس فکر میں مت پڑو کہ وہ کب ہے، بلکہ یہ فکر کرو کہ تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے۔ انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ بادیہ والوں میں سے ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا :(یا رسول اللہ ! متی الساعۃ قائمۃ ؟ قال ویلک وما اعددت لھا ؟ قال ما اعددت لھا الا انی احب اللہ و رسولہ، قال انک مع من احبیت ففلنا و نحن کذلک ؟ قال نعم ، ففرحنا یومئذ فرحاً شدیداً فمر غلام للمغیرۃ و کان من افرانی فقال ان اخر ھذا فلن یدرکہ الھرم حتی تقوم الساعۃ ( ) بخاری، الادب، باب ماجائ، فی قول الرجل وبلک، 6168)” یا رسول اللہ چ قیامت کب قائم ہونے والی ہے ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” افسوس تم پر ! تم نے اس کے لئے تیاری کیا کی ہے ؟ “ اس نے کہا :” میں نے اس کے لئے اس کے سوا کوئی تیاری نہیں کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔ ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم یقیناً اس کے ساتھ ہوگے جس سے تمہیں محبت ہوگی۔ “ تو ہم نے کہا :” اور ہمارے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوگا ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” ہاں ! “ تو ہم اس دن بہت زیادہ خوش ہوئے۔ مغیرہ کا ایک غلام وہاں سے گزرا، وہ میرا ہم عمر تھا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” اگر اس کی عمر دراز ہوئی تو اسے سخت بڑھاپا آنے سے پہلے پہلے قیامت قائم ہوجائے گی۔ “ مراد اس وقت موجود لوگوں کی قیامت ہے۔ حدیث میں قابل توجہ بات یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر آدمی کی موت کو اس کے لئے قیامت قرار دیا، کیونکہ اس کے ساتھ اس کے لئے عمل کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔ (٤) یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ ” الساعۃ “ مونث ہے، اس کی خبر ” قریب “ مذکر ہے، حالانکہ دونوں میں مطابقت ہونی چاہیے ؟ جواب کے لئے دیکھیے سورة اعراف کی آیت (٥٦) :(ان رحمت اللہ قریب من المحسنین) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

This fact is stated in the next sentence, أَنزَلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ وَالْمِيزَانَ |"has sent down the Book with truth and the Balance as well - 17.|" Here ` the Book& means the Qur&an, and all the previous revealed Books, and ` truth& means the divine religion mentioned above, and ` the Balance& literally means a weighing balance. Since it is an instrument of weighing one&s due and establishing justice, Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) has taken it to mean ` equity& and ` justice&. Mujahid (رح) leading exegete, has said that here the ` Balance& means full payment of everyone&s rights and doing justice. As such the word ` truth& points towards Allah&s rights over His servants, and the word مِیزَان mizan (Balance) points towards the rights of human beings over one another. The statement that those who believe are fearful of the Doomsday means the fear generated due to cognizance of the awesome horrifying happenings which will take place on the Doomsday, and also due to cognizance of one&s own short comings and wrong-doings. However, sometimes a believer&s eagerness to meet his Lord Allah Almighty overcomes that fear, which does not contradict this statement; some dead ones are proved to have said in their graves that they wish Doomsday would come soon because the glad tidings given by angels that they would be forgiven and treated kindly, had overcome the fear of Doomsday.

(آیت) اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ وَالْمِيْزَان کتاب سے مراد اس جگہ مطلق آسمانی کتاب ہے جس میں قرآن اور پہلی کتابیں سب داخل ہیں اور حق سے مراد وہ دین حق ہے جس کا ذکر اوپر آیا ہے اور میزان کے لفظی معنی ترازو کے ہیں وہ چونکہ انصاف قائم کرنے اور حق پورا دینے کا ایک آلہ ہے۔ اس لئے حضرت ابن عباس نے میزان کی تفسیر عدل و انصاف سے کی ہے۔ مجاہد امام تفسیر نے فرمایا کہ یہاں میزان سے مراد وہ عام ترازو ہے جس کو لوگ استعمال کرتے ہیں اور مراد اس سے سب کے حقوق کی پوری ادائیگی اور انصاف ہے۔ تو لفظ حق میں سب حقوق اللہ اور لفظ میزان میں سب حقوق العباد کی طرف اشارہ ہوگیا۔ اور یہ جو فرمایا کہ مومنین قیامت سے ڈرتے ہیں۔ مراد اس سے اعتقادی خوف ہے جو قیامت کے اہوال سے ہے۔ نیز اپنی عملی کوتاہیوں پر نظر کرنے سے لازمی ہوتا ہے۔ مگر بعض اوقات کسی مومن پر اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا شوق غالب ہو کر اس خوف پر غالب آجاتا ہے وہ اس کے منافی نہیں۔ جیسا کہ قبر میں بعض مردوں کا یہ کہنا ثابت ہے کہ قیامت جلد آجائے، وجہ یہ ہے کہ قبر میں جب فرشتوں کی طرف سے انسان کو بشارت رحمت و مغفرت کی مل جائے گی تو قیامت کا خوف مغلوب ہوجائے گا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَللہُ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَالْمِيْزَانَ۝ ٠ ۭ وَمَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِيْبٌ۝ ١٧ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله» وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها «2» ، وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر «5» ، مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حی ھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ وزن الوَزْنُ : معرفة قدر الشیء . يقال : وَزَنْتُهُ وَزْناً وزِنَةً ، والمتّعارف في الوَزْنِ عند العامّة : ما يقدّر بالقسط والقبّان . وقوله : وَزِنُوا بِالْقِسْطاسِ الْمُسْتَقِيمِ [ الشعراء/ 182] ، وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ [ الرحمن/ 9] إشارة إلى مراعاة المعدلة في جمیع ما يتحرّاه الإنسان من الأفعال والأقوال . وقوله تعالی: فَلا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ وَزْناً [ الكهف/ 105] وقوله : وَأَنْبَتْنا فِيها مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْزُونٍ [ الحجر/ 19] فقد قيل : هو المعادن کالفضّة والذّهب، وقیل : بل ذلک إشارة إلى كلّ ما أوجده اللہ تعالی، وأنه خلقه باعتدال کما قال : إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْناهُ بِقَدَرٍ [ القمر/ 49] ( و زن ) الوزن ) تولنا ) کے معنی کسی چیز کی مقدار معلوم کرنے کے ہیں اور یہ وزنتہ ( ض ) وزنا وزنۃ کا مصدر ہے اور عرف عام میں وزن اس مقدار خاص کو کہتے جو ترا زو یا قبان کے ذریعہ معین کی جاتی ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَزِنُوا بِالْقِسْطاسِ الْمُسْتَقِيمِ [ الشعراء/ 182] ترا زو سیدھی رکھ کر تولا کرو ۔ اور نیز آیت کریمہ : ۔ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ [ الرحمن/ 9] اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تو لو ۔ میں اس بات کا حکم دیا ہے کہ اپنے تمام اقوال وافعال میں عدل و انصاف کو مد نظر رکھو اور آیت : ۔ وَأَنْبَتْنا فِيها مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْزُونٍ [ الحجر/ 19] اور اس میں ہر ایک سنجیدہ چیز چیز اگائی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ کہ شی موزون سے سونا چاندی وغیرہ معد نیات مراد ہیں اور بعض نے ہر قسم کی مو جو دات مراد ہیں اور بعض نے ہر قسم کی موجادت مراد لی ہیں اور آیت کے معنی یہ کے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کو اعتدال اور تناسب کے ساتھ پید ا کیا ہے جس طرح کہ آیت : ۔ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْناهُ بِقَدَرٍ [ القمر/ 49] ہم نے ہر چیز اندازہ مقرر ہ کے ساتھ پیدا کی ہے ۔ سے مفہوم ہوتا ہے دری الدّراية : المعرفة المدرکة بضرب من الحیل، يقال : دَرَيْتُهُ ، ودَرَيْتُ به، دِرْيَةً ، نحو : فطنة، وشعرة، وادَّرَيْتُ قال الشاعر : وماذا يدّري الشّعراء منّي ... وقد جاوزت رأس الأربعین والدَّرِيَّة : لما يتعلّم عليه الطّعن، وللناقة التي ينصبها الصائد ليأنس بها الصّيد، فيستتر من ورائها فيرميه، والمِدْرَى: لقرن الشاة، لکونها دافعة به عن نفسها، وعنه استعیر المُدْرَى لما يصلح به الشّعر، قال تعالی: لا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذلِكَ أَمْراً [ الطلاق/ 1] ، وقال : وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ [ الأنبیاء/ 111] ، وقال : ما كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتابُ [ الشوری/ 52] ، وكلّ موضع ذکر في القرآن وما أَدْراكَ ، فقد عقّب ببیانه «1» ، نحو وما أَدْراكَ ما هِيَهْ نارٌ حامِيَةٌ [ القارعة/ 10- 11] ، وَما أَدْراكَ ما لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ [ القدر/ 2- 3] ، وَما أَدْراكَ مَا الْحَاقَّةُ [ الحاقة/ 3] ، ثُمَّ ما أَدْراكَ ما يَوْمُ الدِّينِ [ الانفطار/ 18] ، وقوله : قُلْ لَوْ شاءَ اللَّهُ ما تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلا أَدْراكُمْ بِهِ [يونس/ 16] ، من قولهم : دریت، ولو کان من درأت لقیل : ولا أدرأتكموه . وكلّ موضع ذکر فيه : وَما يُدْرِيكَ لم يعقّبه بذلک، نحو : وَما يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّى [ عبس/ 30] ، وَما يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ [ الشوری/ 17] ، والدّراية لا تستعمل في اللہ تعالی، وقول الشاعر : لا همّ لا أدري وأنت الدّاري فمن تعجرف أجلاف العرب ( د ر ی ) الدرایۃ اس معرفت کو کہتے ہیں جو کسی قسم کے حیلہ یا تدبیر سے حاصل کی جائے اور یہ دریتہ ودریت بہ دریۃ دونوں طرح استعمال ہوتا ہے ( یعنی اس کا تعدیہ باء کے ساتھ بھی ہوتا ہے ۔ اور باء کے بغیر بھی جیسا کہ فطنت وشعرت ہے اور ادریت بمعنی دریت آتا ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ع اور شعراء مجھے کیسے ہو کہ دے سکتے ہیں جب کہ میں چالیس سے تجاوز کرچکاہوں قرآن میں ہے ۔ لا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذلِكَ أَمْراً [ الطلاق/ 1] تجھے کیا معلوم شاید خدا اس کے کے بعد کوئی ( رجعت کی سبیلی پیدا کردے ۔ وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ [ الأنبیاء/ 111] اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لئے آزمائش ہو ۔ ما كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتابُ [ الشوری/ 52] تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے ۔ اور قرآن پاک میں جہاں کہیں وما ادراک آیا ہے وہاں بعد میں اس کا بیان بھی لایا گیا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَما أَدْراكَ ما هِيَهْ نارٌ حامِيَةٌ [ القارعة/ 10- 11] اور تم کیا سمجھتے کہ ہاویہ ) کیا ہے ؟ ( وہ ) دھکتی ہوئی آگ ہے ۔ وَما أَدْراكَ ما لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ [ القدر/ 2- 3] اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے ؟ شب قدر ۔ وَما أَدْراكَ مَا الْحَاقَّةُ [ الحاقة/ 3] اور تم کو کیا معلوم ہے کہ سچ مچ ہونے والی کیا چیز ہے ؟ ثُمَّ ما أَدْراكَ ما يَوْمُ الدِّينِ [ الانفطار/ 18] اور تمہیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیسا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ قُلْ لَوْ شاءَ اللَّهُ ما تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلا أَدْراكُمْ بِهِ [يونس/ 16] یہ بھی ) کہہ و کہ اگر خدا چاہتا تو ( نہ تو ) میں ہی یہ کتاب ) تم کو پڑھکر سناتا اور نہ وہی تمہیں اس سے واقف کرتا ۔ میں سے ہے کیونکہ اگر درآت سے ہوتا تو کہا جاتا ۔ اور جہاں کہیں قران میں وما يُدْرِيكَآیا ہے اس کے بعد اس بیان مذکور نہیں ہے ( جیسے فرمایا ) وَما يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّى [ عبس/ 30] اور تم کو کیا خبر شاید وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے ۔ وَما يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ [ الشوری/ 17] اور تم کیا خبر شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو یہی وجہ ہے کہ درایۃ کا لفظ اللہ تعالیٰ کے متعلق استعمال نہیں ہوتا اور شاعر کا قول ع اے اللہ ہی نہیں جانتا اور تو خوب جانتا ہے میں جو اللہ تعالیٰ کے متعلق استعمال ہوا ہے بےسمجھ اور اجڈ بدر دکا قول ہے ( لہذا حجت نہیں ہوسکتا ) الدریۃ ( 1 ) ایک قسم کا حلقہ جس پر نشانہ بازی کی مشق کی جاتی ہے ۔ ( 2 ) وہ اونٹنی جسے شکار کو مانوس کرنے کے لئے کھڑا کردیا جاتا ہے ۔ اور شکار اسکی اوٹ میں بیٹھ جاتا ہے تاکہ شکا کرسکے ۔ المدوی ( 1 ) بکری کا سینگ کیونکہ وہ اس کے ذریعہ مدافعت کرتی ہے اسی سے استعارہ کنگھی یا بار یک سینگ کو مدری کہا جاتا ہے جس سے عورتیں اپنے بال درست کرتی ہیں ۔ مطعن کی طرح مد سر کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے جس کے معنی بہت بڑے نیزہ باز کے ہیں ۔ ایک روایت میں ہے کہ عنبر میں زکوۃ نہیں ہے وہ ایک چیز ہے جسے سمندر کنارے پر پھینک دیتا ہے ۔ لعل لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] ( لعل ) لعل ( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا پر بہت سی آیات میں لفظ کی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشے کے معنی صحیح نہیں ہیں ۔ اور گو لعل کے معنی توقع اور امید کے ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا تعلق مخاطب سے ہوتا ہے اور کبھی متکلم سے اور کبھی ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے شخص سے ہوتا ہے ۔ لہذا آیت کریمہ : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] تاکہ ہم ان جادو گروں کے پیرو ہوجائیں ۔ میں توقع کا تعلق قوم فرعون سے ہے ۔ ساعة السَّاعَةُ : جزء من أجزاء الزّمان، ويعبّر به عن القیامة، قال : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] ، يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] ( س و ع ) الساعۃ ( وقت ) اجزاء زمانہ میں سے ایک جزء کا نام ہے اور الساعۃ بول کر قیامت بھی مراد جاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] قیامت قریب آکر پہنچی ۔ يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] اے پیغمبر لوگ ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ قرب الْقُرْبُ والبعد يتقابلان . يقال : قَرُبْتُ منه أَقْرُبُ «3» ، وقَرَّبْتُهُ أُقَرِّبُهُ قُرْباً وقُرْبَاناً ، ويستعمل ذلک في المکان، وفي الزمان، وفي النّسبة، وفي الحظوة، والرّعاية، والقدرة . نحو : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] ( ق ر ب ) القرب والبعد یہ دونوں ایک دوسرے کے مقابلہ میں استعمال ہوتے ہیں ۔ محاورہ ہے : قربت منہ اقرب وقربتہ اقربہ قربا قربانا کسی کے قریب جانا اور مکان زمان ، نسبی تعلق مرتبہ حفاظت اور قدرت سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے جنانچہ قرب مکانی کے متعلق فرمایا : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں داخل ہوجاؤ گے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اللہ ہی ہے جس نے بذریعہ جبریل امین قرآن حکیم نازل کیا ہے جس میں حق و باطل کو اور عدل و انصاف کو بیان کردیا گیا ہے اور محمد آپ کو کیا خبر عجب نہیں کہ قیامت قریب ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧ { اََللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ وَالْمِیْزَانَ } ” اللہ ہی ہے جس نے اتاری ہے کتاب بھی اور میزان بھی حق کے ساتھ۔ “ قرآن میں صرف دو ہی مقامات ایسے ہیں جہاں کتاب اور میزان کے الفاظ ایک ساتھ اکٹھے آئے ہیں۔ ایک تو آیت زیر مطالعہ اور دوسری سورة الحدید کی یہ آیت : { لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِج…} (آیت ٢٥) ” ہم نے بھیجے اپنے رسول واضح دلیلوں کے ساتھ اور ہم نے نازل کی ان کے ساتھ کتاب اور میزان تاکہ قائم رہیں لوگ عدل پر “۔ میزان دراصل دین حق کے عملی نظام کا نام ہے۔ اس کو یوں سمجھئے کہ ” کتاب “ ہر ایک کا حق مقرر کرتی ہے اور ” میزان “ ناپ تول کر کے یہ حق حقدار کو دیتی ہے۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ کے ان الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے تمہیں دین بھی دیا ہے اور نظام بھی۔ اگر نظام نہ ہوتا تو دین کے مطابق فیصلے کیسے ہوتے اور پھر ان فیصلوں پر عمل درآمد کیونکر ہوتا ؟ { وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِیْبٌ } ” اور تمہیں کیا معلوم کہ قیامت قریب ہی ہو ! “ ” السَّاعۃ “ سے مراد قیامت کی گھڑی ہے ‘ اگرچہ انفرادی سطح پر دیکھا جائے تو ہر شخص کی موت ہی گویا اس کی قیامت ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں آتا ہے : (مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُـہٗ ) (١) ” جس کو موت آگئی پس اس کی قیامت تو قائم ہوگئی “۔ مقامِ غور ہے کہ اس حوالے سے ہمیں کس قدر مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ ایک طرف ہم میں سے ہر ایک کی ” قیامت “ اس کے سر پر کھڑی ہے اور دوسری طرف اللہ کی ” میزان “ کو نصب کرنے کی بھاری ذمہ داری ہے جو ہم سب کے کندھوں پر آن پڑی ہے۔ اب اگر ہم نے ابھی اور اسی وقت اس ذمہ داری کا احساس نہ کیا اور اس کے لیے فوری طور پر ہم اپنا تن من دھن لگا دینے کے لیے میدانِ عمل میں نہ اترے تو نہ معلوم ہم میں سے کس کس کی مہلت ِعمل کچھ کیے بغیر ہی ختم ہوجائے۔ آج ہم میں سے کون کہہ سکتا ہے کہ اسے کل کا سورج بھی دیکھنا نصیب ہوگا یا نہیں ! اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم مزید وقت ضائع کیے بغیر اس ِجدوجہد ّمیں جت جائیں۔ اس فیصلے کے لیے تاخیر اور تاجیل میں وقت ضائع کرنا سب سے بڑی حماقت ہے :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

32 Mizan (Balance): the Shari ah of AIlah, which, like a balance, brings out clearly the distinction between the right and the wrong, the Truth and falsehood, justice and injustice, and righteousness and wickedness. In verse 15 above, the Holy Prophet has been made to say: "I have been commanded to do justice between you." Here, it has been told that with this Holy Book the "Balance" has come by which justice will be established. 33 That is, "The one who is inclined to mend his ways, must mend his ways forthwith: he should not lose. time under the delusion that the Hour of lodgement is yet far off. Man cannot be sure whether he will be able to take another breath or not: his present breath may be his last. "

سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :32 میزان سے مراد اللہ کی شریعت ہے جو ترازو کی طرح تول کر صحیح اور غلط ، حق اور باطل ، ظلم اور عدل ، راستی اور ناراستی کا فرق واضح کر دیتی ہے ۔ اوپر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ کہلوایا گیا تھا کہ : اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْ ( مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے درمیان انصاف کروں ) ۔ یہاں بتا دیا گیا کہ اس کتاب پاک کے ساتھ وہ میزان آ گئی ہے جس کے ذریعہ سے یہ انصاف قائم کیا جائے گا ۔ سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :33 یعنی جس کو سیدھا ہونا ہے بلا تاخیر سیدھا ہو جائے ۔ فیصلے کی گھڑی کو دور سمجھ کر ٹالنا نہیں چاہیے ۔ ایک سانس کے متعلق بھی آدمی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے بعد دوسرے سانس کی اسے مہلت ضرور ہی مل جائے گی ۔ ہر سانس آخری سانس ہو سکتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(42:17) المیزان۔ مصدر یا اسم۔ یہ انزل کا مفعول ثانی ہے اور مفعول اول الکتاب (ای القران) ہے بمعنی ترازو۔ قتادہ، مجاہد، مقاتل نے کہا ہے میزان سے مراد عدل ہے۔ میزان یعنی ترازو انصاف اور صحیح مساوات کا آلہ ہوتا ہے اور عدل کا معنی بھی انصاف ہے۔ اس لئے عدل کو میزان کہا گیا۔ ما یدرک۔ جملہ استفہامیہ ہے ما استفہامیہ ہے ۔ بمعنی ای شیئ ؟ او، من، یدریک مضارع واحد مذکر غائب : ادراء (افعال) مصدر۔ درء اور دری مادہ ثلاثی مجرد (باب ضرب) سے آتا ہے۔ الدرایۃ اس معرفت کو کہتے ہیں جو کسی قسم کے حیلہ یا تدبیر سے حاصل کی جائے۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ تجھے کون چیز سمجھائے (ای شیء یجعلک عالما) تجھے کون بتائے۔ عام طور پر اس کا ترجمہ کرتے ہیں۔ تجھے کیا خبر ؟ تجھے کیا معلوم ؟ قرآن مجید میں جہاں کہیں وما ادرک آیا ہے وہاں بعد میں اس کا بیان بھی آیا ہے۔ مثلا آیۃ ہذا میں لعل الساعۃ قریب۔ شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو۔ یا وما ادرک ما ھیۃ نار حامیۃ (101:1011) تم کیا سمجھے کہ یہ (ھاویہ) کیا ہے ؟ (وہ) دھکتی ہوئی آگ ہے یا وما ادرک ما لیلۃ القدر ، لیلۃ القدر خیر من الف شھر (97:23) اور تجھے کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے۔ شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ دری و درایۃ کا لفظ اللہ تعالیٰ کے متعلق استعمال نہیں ہوتا۔ لعل۔ حرف مشبہ بالفعل ہے شاید، ممکن ہے۔ اسم کو نصب خبر کو رفع دیتا ہے۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو 11:12 ۔ الساعۃ قریب : الساعۃ (مؤنث) مبتدا۔ قریب (مذکر) خبر۔ الساعۃ ۔ لعل کے عمل سے منصوب ہے۔ الساعۃ (مؤنث) اور قریب (مذکر) میں عدم توافق کی مندرجہ ذیل وجوہات ہوسکتی ہیں۔ (1) بعض نے کہا کہ قریب کا لفظ اگرچہ مذکر ہے لیکن اس کے معنی قرب والی یعنی مؤنث مراد ہیں۔ گویا اس قائل کے نزدیک وزن فعیل مؤنث کے لئے بھی استعمال کرلیا جاتا ہے۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ ساعۃ بمعنی بعث ہے اور بعث مذکر ہے اس لئے قریب بصیغہ مذکر لایا گیا ہے۔ (3) امام کسائی کا قول ہے قریب نعت ہے اور یہ مذکر و مؤنث دونوں کی نعت کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :۔ ان رحمت اللّٰہ قریب من المحسنین (7:56) کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرتے والوں کے قریب ہے۔ (4) کسائی کا قول یہ بھی ہے کہ قریب کا فاعل محذوف ہے کلام یوں ہے :۔ لعل الساعۃ اتیانھا قریب۔ جب کہ ھا ضمیر الساعۃ کی طرف راجع ہے شاید قیامت کا آنا قریب ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 المیزان ترازو سے مراد اکثر فمسرین نے عدل و انصاف لیا ہے۔ یعنی کتابیں نازل کرنے کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے عدل و انصاف کا حکم دیا ہے۔ بعض نے اس سے مراد دین حق اور بعض نے جزاو سزا کا قانون لیا ہے مگر یہ سب اقوال با اعتبار مآل ایک ہی ہیں۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ ترازو فرمایا دین کو جس میں بات پوری ہے نہ کم نہ زیادہ (موضح) 9 اس لئے عدل و انصاف کا شیوہ مت چھوڑو۔ حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے سوال کیا کہ قیامت کب ہوگی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” افسوس ہے تجھ پر، تم بتائو کہ اس کے لئے تیاری کیا کی ہے ؟

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ کی ذات اور صفات کے بارے میں جھگڑا کرنے والے لوگ اگر اپنے بےحیثیت دلائل کو حق کے ترازو میں رکھ کر وزن کرتے تو وہ عذاب شدید سے مامون ہوسکتے ہیں۔ ہر جھگڑا کرنے والے کے پاس کوئی نہ کوئی حجّت اور دلیل ہوا کرتی ہے۔ دلیل کو پرکھنے اور حق بات تک پہنچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اور ایک میزان نازل فرمائی ہے۔ اس لیے کہ لوگ کتاب الٰہی سے راہنمائی حاصل کریں اور اس میزان کے ذریعے اپنی دلیل کا وزن کریں۔ تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ ان کی حجت اور بات کی حیثیت کیا ہے۔ جہاں تک قیامت کی آمد کا معاملہ ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کس قدر قریب آپہنچی ہے۔ لوگ اپنی بات کا میزان میں وزن کرنے کی بجائے قیامت کے بارے میں جلد بازی کا اظہار کررہے ہیں اور اسی وجہ سے وہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہتے کہ جس کی آمد سے ہمیں ڈرایا جاتا ہے وہ اب تک کیوں برپا نہیں ہوئی۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ قیامت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے خائف رہتے ہیں۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ قیامت ہر حال میں برپا ہونی ہے۔ اس لیے وہ اس کی ہولناکیوں اور حساب و کتاب سے ڈرتے ہیں۔ جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے ہیں وہ پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ اس لیے کہ جو شخص قیامت کے برپا ہونے کا انکار کرتا ہے درحقیقت وہ کائنات کے نظام اور اپنی تخلیق کو بےمقصد قرار دیتا ہے۔ حالا ن کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز بےمقصد پیدا نہیں کی۔ قرآن مجید میں ” اَلْمِیْزَانُ “ کا لفظ ٩ دفعہ آیا ہے تاہم دو آیات میں ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے ایک میزان بھی نازل فرمایا ہے۔” اَلْمِیْزَانُ “ کے بارے میں اہل علم کے چار قسم کے خیالات ہیں۔ جو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق حق پر مبنی ہیں۔ 1” اَلْمِیْزَانُ “ درحقیقت الکتاب کی تشریح ہے۔ 2 ” اَلْمِیْزَانُ “ سے مراد قرآن وسنت کی تعلیم ہے جس کے ذریعے انسان حق و باطل کے درمیان وزن اور فرق کرسکتا ہے۔ 3” اَلْمِیْزَانُ “ سے مراد وہ عقل سلیم ہے جس کی روشنی میں آدمی حق اور ناحق کی پہچان کرتا ہے۔ 4 ” اَلْمِیْزَانُ “ سے مراد دنیا کی کسی چیز کی پیمائش یا وزن کرنے کا وہ پیمانہ ہے جس کے ذریعے لوگ اپنا لین دین کرتے ہیں۔ جن آیات میں ” اَلْمِیْزَانُ “ کا لفظ ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں۔ (الانعام : ١٥٢، الاعراف : ٨٥، ھود : ٨٤، ٨٥، الشوریٰ : ١٧، الرحمن : ٧، ٨، ٩، الحدید : ٢٥) مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اور میزان نازل فرمایا ہے۔ ٢۔ قیامت کا انکار کرنے والے لوگ پرلے درجے کے گمراہ ہیں۔ ٣۔ قرآن مجید اور میزان کے ذریعے لوگوں کو حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنا چاہیے۔ ٤۔ جو لوگ قیامت پر ایمان نہیں رکھتے وہی اس کے بارے میں جلدی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ٥۔ قیامت پر ایمان رکھنے والے لوگ اس کی ہولناکیوں اور اپنے حساب و کتاب سے ڈرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن دور کی گمراہی میں مبتلا ہونے والے لوگ : ١۔ جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا وہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (النساء : ١١٦) ٢۔ ” اللہ “ کے راستہ سے روکنے والے دور کی گمراہی میں ہیں۔ (النساء : ١٦٧) ٣۔ سب سے بڑا گمراہ اپنی خواہشات کی پیروی کرنے والا ہے۔ (القصص : ٥٠) ٤۔ کفار سے دوستی کرنے والا سیدھی راہ سے دور چلا جاتا ہے۔ (الممتحنۃ : ١) ٥۔ جس نے اللہ، رسول، ملائکہ، کتابوں اور دن آخرت کا انکار کیا وہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (النساء : ١٣٦) ٦۔ جو لوگ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں یہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ (ابراہیم : ٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ١٧ تا ١٩ اللہ نے ایک تو کتاب برحق نازل کی اور اس میں عدل نازل کیا۔ اس میزان عدل کے مطابق لوگوں کے اختلافات کے بارے میں حکم دینے اور فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ لوگوں کی خواہشات و دعا وی کے بارے میں ہو یا ان کی آراء کے بارے میں ہو یا عقائد و نظریات کے بارے میں۔ اور اللہ نے ایک نظام شریعت بھی نازل کیا جس کی اساس عادلانہ فیصلوں پر رکھی۔ قرآن نے عدل کے لئے میزان کا لفظ استعمال کیا۔ یعنی ایسا عدل کہ جس کے مطابق حقوق کا وزن کیا جاسکے۔ اعمال اور تصرفات کو تولا جاسکے۔ اب روئے سخن کتاب و میزان سے قیامت کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اور مناسبت مضمون واضح ہے کہ کتاب اور شریعت نے بھی لوگوں کے درمیان اس دنیا میں میزان لگا کر عدل کرنا ہے ، اور آخرت میں بھی میزان لگا کر عدل و انصاف ہوگا ۔ قیام قیامت چونکہ ایک غیب ہے اور اس کے قیام کی گھڑی کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں ہے۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ وہ بہت ہی قریب ہو۔ وما یدریک لعل الساعۃ قریب (٤٢ : ١٧) ” اور تمہیں کیا معلوم کہ فیصلے کی گھڑی قریب آلگی ہو “۔ اور لوگ اس سے غافل ہوں اور وہ ان کے قریب ہو۔ اور یہ آخری عدل و انصاف کا ترازو بھی نصیب ہوجائے جہاں کسی عمل کو مہمل نہ چھوڑا جائے گا اور نہ کوئی گم ہوگا۔ یہاں قیامت کے بارے میں مومنین اور منکرین دونوں کی سوچ کو بتایا جاتا ہے۔ یستعجل بھا الذین ۔۔۔۔ انھا الحق (٤٢ : ١٨) ” جو لوگ اس کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے ، وہ اس کے لئے جلدی مچاتے ہیں ، مگر جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ یقیناً آنے والی ہے “۔ ظاہر کہ جو اس پر ایمان نہیں لاتے ان کے دلوں پر اس کا خوف ہی نہیں ہے اور ان کو اندازہ نہیں ہے کہ وہاں انہیں کیا پیش آنے والا ہے۔ اس لیے وہ بطور مزاح اس کے آنے کا مطالبہ کرتے ہیں ، یا اس کے لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ اندھے ہیں اور ان کو نظر ہی نہیں آتا۔ رہے وہ لوگ جو ایماندار ہیں تو انہیں قیامت پر بھی یقین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس سے ڈرتے ہیں اور نہایت خوف اور ڈر سے اس کا انتظار کر رہے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ جب وہ آئے گی تو کیا ہوگا ، وہ حق ہے۔ اس کا آنا حق ہے اور مومن اسے جانتا ہے کیونکہ مومن اور حق کے درمیان رابطہ ہے۔ الا ان الذین یمارون فی الساعۃ لفی ضلل بعید (٤٢ : ١٨) ” خوب سن لو ، جو لوگ اس گھڑی میں شک ڈالنے والی بحثیں کرتے ہیں ، وہ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں “۔ انہوں نے گمراہی میں غلو کرلیا ہے۔ اور اس راہ پر بہت دور نکل گئے ہیں ، اب ان کے لئے اس قدر دور نکلنے کے بعد واپسی ممکن نہیں ہے۔ اب آخرت ، اس کے انکار اور اس کے بارے میں لا پرواہی اور اس سے ڈرنے کے مضمون سے روئے سخن اس دنیا میں لوگوں کے رزق کی بحث کی طرف مڑتا ہے جو اللہ کسی کو کم ، کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ اللہ لطیف بعبادہ برزق من یشاء وھو القوی العزیز (٤٢ : ١٩) ” اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے ، جسے جو کچھ چاہتا ہے ، دیتا ہے اور وہ بڑی قوت ولا اور زبردست ہے “۔ بظاہر آخرت اور بندوں کے رزق کے مضامین کے درمیان کوئی خاص مناسبت اور ربط نظر نہیں آتا۔ لیکن بعد کی آیت پڑھنے کے بعد ربط ظاہر ہوجاتا ہے۔ من کان یرید حرث ۔۔۔۔۔ الاخرۃ من نصیب (٤٢ : ٢٠) ” جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ، اس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اسے دنیا ہی میں سے دیتے ہیں مگر آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا “۔ بس اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے ، جسے جو کچھ چاہتا ، دیتا ۔ ہے صالح کو بھی دیتا ہے ، برے کو بھی دیتا ہے ، مومن کو بھی دیتا ہے ، کافر کو بھی دیتا ہے ، کیونکہ انسان خود اپنے رزق کا بندو بست نہیں سکتے ، جب اللہ نے ان کو زندگی دی ہے تو زندگی کے بنیادی اسباب بھی دئیے ہیں ، اگر اللہ کافر ، فاسق اور بدکار کو رزق نہ دیتا تو وہ اپنے رزق کا بندوبست تو خود نہ کرسکتے اور بھوک اور پیاس سے مرجاتے ۔ جب وہ زندگی ہی سے ہاتھ دھو بیٹھتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ رکھ کر مہلت دینے کا جو قانون مقرر فرمایا تھا ، وہ پورا نہ ہوتا۔ اور یہ نہ ہو سکتا تھا کہ لوگ دنیا میں آزادانہ عمل کریں اور ان کے اعمال کا حساب آخرت میں ہو۔ اس لیے اللہ نے رزق کا معاملہ نیکی اور برائی کے دائرے سے باہر رکھا ہے۔ ایمان وکفر کے ساتھ رزق کا تعلق نہیں ہے اور رزق کے معاملے کو انسانوں کی اجتماعی زندگی کے حالات پر رکھ دیا ، پھر ان اجتماعی حالات میں بندوں کے طرز عمل پر رکھ دیا اور مال کو بھی لوگوں کے لئے فتنہ اور آزمائش بنا دیا جس پر جزاء و سزا کا دارو مدار ٹھہرا۔ پھر آخرت اور دنیا کے لئے علیحدہ علیحدہ کھیت قرار دیا۔ ہر آدمی کو اختیار دے دیا کہ وہ دنیا کے کھیت میں محنت کرتا ہے یا آخرت کے کھیت میں۔ جو شخص آخرت کے لئے کھیتی باڑی کرتا ہے اسے آخرت کی فصل ملے گی اور اللہ بطور انعام اس کے کھیت میں اضافہ کر دے گا اور اس کی نیت کی وجہ سے اس کام میں اس کے لئے اسباب فراہم کر دے گا۔ اس میں برکت دے گا۔ اس آخرت کی کھیتی میں اس کے لئے ضروریات دنیا کا بھی انتظام ہوگا۔ دنیا کے لئے بھی رزق اسے ملے گا ۔ اس میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ بلکہ یہی دنیا کا رزق ہی فلاح آخرت قرار پائے گا۔ جب وہ اس دنیا کے رزق کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور اس میں ، اللہ کے حکم کے مطابق تصرف۔ انفاق فی سبیل اللہ کرے گا۔ اور جو شخص صرف دنیا کا کھیت چاہے تو اللہ اسے دنیا کا سازوسامان دے گا اور جو اس کے لئے لکھ دیا گیا ہو وہ اسے ملے گا۔ لیکن آخرت میں اس کا حصہ نہ ہوگا اس لیے کہ اس نے آخرت کی کھیت میں کام ہی نہیں کیا کہ وہاں اس کے لئے کوئی چیز منتظر ہو۔ اب ذرا طلبگار ان کشت زار دنیا اور طلب گار ان کشت زار آخرت پر ایک نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ صرف دنیا کے کھیت میں کام کرنے والے بہت ہی احمق ہیں۔ جہاں تک دنیا کے رزق کا تعلق ہے تو اللہ دونوں فریقوں کو دیتا ہے۔ کیونکہ دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لئے رزق تو ہر کسی کو ملتا ہے جس قدر اس کے مقدر میں لکھا ہوا ہے۔ ہاں آخرت کے کھیت میں کام کرنے والے کے لئے آخرت کا حصہ صرف اس کا ہوتا ہے۔ صرف دنیا کے کھیت کا انتخاب کرنے والوں میں فقراء بھی ہوتے ہیں اور امراء بھی۔ یعنی جس کے پاس جس قدر دولت ہے ، اس معاشرے کے عام حالات کے مطابق جس میں وہ رہتا ہے ، اور اس کی ذاتی صلاحیت اور محنت کے مطابق۔ یہی حال ہے آخرت کے کھیت میں کام کرنے والوں کا کہ ان میں امراء بھی ہوں گے اور فقراء بھی۔ کیونکہ رزق کے معاملے میں مومن اور کافر میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اختلاف تو یہاں ہوگا کہ کون کس کھیت کا انتخاب کرتا ہے ، فقط دنیا کا ، یا آخرت کا۔ احمق وہ ہے جو آخرت کے کھیت کو ترک کرتا ہے جس میں دنیا کا رزق بھی ہے اور آخرت کا بھی۔ اور جب وہ آخرت کے کھیت کو ترک کرتا ہے تو دنیا میں بھی اسے اسی قدر ملتا ہے جو مقدر ہے۔ غرض معاملہ اس سچائی کے مطابق اپنے انجام کو پہنچے گا جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل کی ہے۔ حق اور انصاف یہ ہے کہ تمام زندہ چیزوں کو رزق دیا جائے اور آخرت کا حصہ صرف ان لوگوں کے لئے ہو جنہوں نے آخرت کے لئے کام کیا اور جو آخرت کے لئے کام نہ کریں وہ آخرت میں محروم ہوں۔ ٭٭٭٭ اب پھر ایک سفر پہلے موضوع پر یعنی توحید و رسالت پر

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ نے کتاب کو اور میزان کو نازل فرمایا ﴿اَللّٰهُ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ وَ الْمِيْزَانَ ١ؕ﴾ اللہ وہی ہے جس نے حق کے ساتھ کتابیں نازل فرمائیں اور میزان کو نازل فرمایا۔ حضرت ابن عباس (رض) نے اور کثر مفسرین نے فرمایا کہ میزان سے عدل و انصاف مراد ہے کیونکہ میزان یعنی ترازو عدل و انصاف کا آلہ ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے جزا و سزا مراد ہے یعنی طاعت پر جو ثواب ملے گا اور معصیت پر جو عذاب ہوگا اسے میزان سے تعبیر فرمایا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ میزان سے ترازو ہی مراد ہے کیونکہ اس کے ذریعے وزن کیا جاتا ہے اور کمی بیشی کا پتہ چلایا جاتا ہے۔ عجب نہیں کہ قیامت قریب ہو ﴿وَ مَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيْبٌ٠٠١٧﴾ (اور آپ کو کیا خبر عجب نہیں کہ قیامت قریب ہو) اس میں بظاہر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے لیکن واقعی طور پر ہر مکلف اس کا مخاطب ہے ہر شخص فکر مند ہو کہ قیامت آنے پر میرا کیا بنے گا عقائد اور اعمال کا حساب ہوگا تو میں کن لوگوں میں ہوں گا قیامت کی تاریخ نہیں بتائی گئی ہوسکتا ہے کہ عنقریب ہی واقع ہوجائے لہٰذا ہر وقت فکر مند ہونا چاہیے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

17:۔ ” وما یدریک “ یہ تخویف اخروی ہے۔ قیامت سر پر کھڑی ہے اس لیے آپ اللہ کی کتاب پر عمل کریں، اپنی دعوت پیش کرنے میں مصروف رہیں، نہ ماننے والوں کے لیے آخرت کا عذاب تیار ہے۔ ” یستعجل بھا الخ “ جو لوگ قیامت کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے وہ ازراہ تمسخر و استہزاء کہتے ہیں قیامت کب آئیگی وہ جلدی کیوں نہیں آتی ؟ لیکن ایمان والے قیامت کا نام سن کر کانپ اٹھتے ہیں کیونکہ وہ قیامت کے آنے پر اور اس کی ہولناکی پر ایمان رکھتے ہیں۔ جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے وہ ہدایت اور راہ راست سے بہت ہی دور ہیں۔ یہاں تک دو دعوے بیان ہوئے۔ اول تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرف اللہ تعالیٰ یہی وحی فرماتا رہا کہ کارساز اور غیب دان صرف اللہ ہی ہے، حاجات میں صرف اسی کو پکارو۔ دوم مسئلہ توحید کے خلاف جو کچھ لکھا گیا ہے وہ دنیا پرست اور گمراہ پیشواؤں نے محض ضد وعناد کی وجہ سے لکھا ہے جو دوسرے لوگوں کے لیے حجت نہیں۔ اب اس کے بعد آخر سورت تک جو آیات ہیں وہ بطور تنویر انی دو دعو وں سے متعلق ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(17) اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے دین حق پر مشتمل کتاب نازل فرمائی اور نیز ترازو نازل فرمائی یعنی عدل و انصاف کا حکم نازل فرمایا اور اپنے پیغمبر آپ کو کیا خبر شاید قیامت قریب ہی ہو۔ یعنی قرآن جو سچے دین کو شامل ہے اور جس میں سچے دین کی تعلیم موجود ہے اور ترازو یعنی عدل و انصاف کا حکم نازل فرمایا ہوسکتا ہے کہ عین ترازو نازل کی گئی ہو۔ جیسا کہ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ ترازو نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں نازل کی گئی ترازو یا میزان ایک آلہ ہے انصاف اور تسویہ کا بہرحال معاملات میں عدل و انصاف چونکہ بہت ضروری ہے اس لئے تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی شرائع میں اس کی تاکید ہے اور چونکہ قیامت کے دن بھی اعمال وزن کئے جائیں گے اس مناسبت سے قیامت کا ذکر بھی فرمایا کہ آپ کو کیا معلوم کہ وقوع قیامت قریب ہی ہو کیونکہ جس چیز کے وقوع کا وقت معلوم نہ ہو تو کیا کہا جاسکتا ہے کہ وہ کب آجائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ترازو فرمایا دین حق کو جس میں بات پوری ہے نہ کم نہ زیادہ۔