Surat us Shooraa

Surah: 42

Verse: 3

سورة الشورى

کَذٰلِکَ یُوۡحِیۡۤ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۙ اللّٰہُ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۳﴾

Thus has He revealed to you, [O Muhammad], and to those before you - Allah , the Exalted in Might, the Wise.

اللہ تعالٰی جو زبردست ہے اور حکمت والا ہےاسی طرح تیری طرف اور تجھ سے اگلوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

كَذَلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ ... Likewise Allah, the Almighty, the All-Wise sends revelation to you as to those before you. means, `just as this Qur'an has been revealed to you, so too the Books and Scriptures were revealed to the Prophets who came before you.' ... اللَّهُ الْعَزِيزُ ... Allah, the Almighty, (means, in His vengeance), ... الْحَكِيمُ the All-Wise, (means, in all that He says and does). Imam Malik, may Allah have mercy on him, narrated that A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "Al-Harith bin Hisham asked the Messenger of Allah, `O Messenger of Allah, how does the revelation come to you?' The Messenger of Allah said: أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي الْمَلَكُ رَجُلً فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُول Sometimes it comes to me like the ringing of a bell, which is the most difficult for me; then it goes away, and I understand what was said. And sometimes the angel comes to me in the image of a man, and he speaks to me and I understand what he says." A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "I saw him receiving the revelation on a very cold day, and when it departed from him, there were beads of sweat on his forehead." It was also reported in the Two Sahihs, and the version quoted here is that recorded by Al-Bukhari.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

3۔ 1 یعنی جس طرح یہ قرآن تیری طرف نازل کیا گیا ہے اسی طرح تجھ سے پہلے انبیاء پر آسمانی کتابیں نازل کی گئیں وحی اللہ کا کلام ہے جو فرشتے کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کے پاس بھیجتا رہا ہے ایک صحابی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ نے فرمایا کہ کبھی تو یہ میرے پاس گھنٹی کی آواز کی مثل آتی ہے اور یہ مجھ پر سب سے سخت ہوتی ہے، جب یہ ختم ہوجاتی ہے تو مجھے یاد ہوچکی ہوتی ہے اور کبھی فرشتہ انسانی شکل میں آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور وہ جو کہتا ہے میں یاد کرلیتا ہوں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں، میں نے سخت سردی میں مشاہدہ کیا کہ جب وحی کی کیفیت ختم ہوتی تو آپ پسینے میں شرابور ہوتے اور آپ کی پیشانی سے پسینے کے قطرے گر رہے ہوتے۔ (صحیح بخاری)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١] نام لئے بغیر مابہ النزاع مسائل کے جوابات :۔ مکی دور میں حق و باطل کے درمیان اختلافی مسئلے بنیادی طور پر دو ہی تھے۔ ایک یہ کہ مشرکوں کے بتوں کا کائنات میں کچھ تصرف ہے یا نہیں ؟ اور دوسرا یہ کہ کیا انسان کا مر کر جی اٹھنا پھر اپنے پروردگار کے حضور جواب دہی کے لیے پیش ہونا درست ہے یا نہیں ؟ یہی دو مسائل تھے جن کا اکثر مجلسوں اور نجی گفتگو میں ہر وقت چرچا رہتا تھا۔ پھر ان میں ایک تیسرا مسئلہ از خود شامل ہوجاتا تھا کہ آیا محمد فی الواقع اللہ کا رسول ہے یا نہیں ؟ جو کچھ وہ کلام پیش کرتا ہے۔ فی الواقع اللہ کا کلام ہے ؟ اور قرآن کا انداز خطاب یہ ہے کہ اکثر سورتوں میں تمہید کے طور پر کافروں کے اعتراضات کا ذکر کیے بغیر انہیں سوالوں میں سے کسی سوال کے جواب سے اس سورة کا افتتاح کرتا ہے۔ اس سورة کی تیسری آیت میں دراصل ان تینوں اعتراضات کا اجمالی جواب پیش کردیا گیا ہے۔ جو یہ ہے کہ جو کچھ توحید اور معاد کے متعلق اس قرآن میں مذکور ہے۔ یہ کوئی نیا نظریہ نہیں بلکہ پہلے تمام انبیاء کو بھی یہی باتیں وحی کی جاتی رہی ہیں۔ اور تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ قرآن فی الواقع اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ اور اس کی آیات حکمت سے لبریز ہیں کیونکہ وہ خود حکیم ہے۔ علاوہ ازیں وہ سب پر غالب اور زبردست بھی ہے۔ وہ مخالفین کی مخالفت کے باوجود اپنے کلمہ کا بول بالا کرنے کی قوت اور قدرت بھی رکھتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) کذلک یوحی الیک :” کذلک “ (اسی طرح) سے مراد ایک تو وہ مضامین و معانی ہیں جو اس قرآن یا اس سورت میں ہیں، یعنی آپ کی طرف توحید، آخرت، نبوت اور دوسرے عقائد و اعمال اور واقعات پر مشتمل جو وحی کی گئی ہے۔ یہ کوئی نرالی نہیں کہ کفار کو اس پر تعجب ہو رہا ہے، بلکہ ایسے ہی مضامین کی وحی اللہ تعالیٰ آپ کی طرف اور آپ سے پہلے پیغمبروں کی طرف کرتا چلا آیا ہے۔ بعض وقتی احکام میں فرق ہوسکتا ہے، مگر اصل دعوت جس کے لئے آپ کو اور پہلے تمام پیغمبروں کو مبعوث کیا گیا ایک ہی ہے، جیسا کہ فرمایا :(وما ارسلنا من قبلک من رسول الا لوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون) (الانبیائ : ٢٥َ )” اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔ “ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(الانبیاء اخوہ لعلات، امھاتھم شتی و دینھم واحد) (بخاری، احادیث الانبیائ، باب قول اللہ تعالیٰٓ :(واذکر فی الکتاب مریم…):3773)” انبیاء علاتی (مختلف ماؤں سے پیدا ہونے والے) بھائی ہیں، ان کی مائیں الگ الگ ہیں اور ان کا دین ایک ہے۔ “ اور ” کذلک “ (اسی طرح) سے مراد وحی کرنے کا طریقہ بھی ہے، یعنی جس طرح یہ سورت یا یہ کتاب آپ کی طرف وحی کی جا رہی ہے، اللہ تعالیٰ اسی طرح آپ سے پہلے پیغمبروں کی طسرف بھی وحی کرتا چلا آیا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اپنی رسالت کے لئے چن لیتا ہے، پھر اس کے ساتھ وحی کی ان صورتوں میں سے کسی صورت کے ساتھ کلام کرتا ہے جو اس نے اس سورت کے آخر میں کسی بھی بشر کے ساتھ کلام کرنے کی بیان فرمائی ہیں۔ (دیکھیے شوریٰ : ٥١، ٥٢) کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی کیوں نازل نہیں کی، یا مجھ سے کلام کیوں نہیں فرمایا۔ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ حارث بن ہشام (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا :” یا رسول اللہ ! آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے ؟ “ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(احیاناً یاتینی مثل صلصلۃ الجرس وھو اشدہ علی فیفصم عنی وقد و عیت عنہ ما قال، واحیاناً یتمسل لی الملک رجلاً فیکلمنی فاعی مایقول فالت عائشۃ (رض) ولقد رائیۃ ینزل علیہ الوحی فی الیوم الشدید البرد، فیقصم عنہ و ان جبینہ لیتفصد عرقاً ) (بخاری) بدء الوحی الی الرسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (باب : ٢)” میرے پاس وحی کبھی تو گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح آتی ہے جو مجھ پر وحی کی سب سے زیادہ سخت صورت ہے، پھر وہ مجھ سے اس حال میں ختم ہوتی ہے کہ جو کچھ مجھے کہا ہے وہ میں یاد کرچکا ہوتا ہوں اور کبھی فرشتہ ایک آدمی کی شکل میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے ، تو جو کچھ وہ کہتا ہے میں یاد کرلیتا ہوں۔ “ عائشہ (رض) نے فرمایا :” میں نے آپ کو سخت سردی والے دن میں آپ پر وحی اترنے کی حالت میں دیکھا کہ وہ کیفیت آپ سے ختم ہوتی تو آپ کی پیشانی پسینے سے ٹپک رہی ہوتی تھی۔ “ (٢) والی الذین من قبلک : اس تفسیر کے لئے دیکھیے سورة نساء کی آیات (١٦٣ تا ١٦٥) ۔ (٣) اللہ العزیز الحکیم : سورة نساء کی آیات، جن کا حوالہ اوپر دیا گیا ہے، ان میں پیغمبروں کی طرف وحی کا ذکر فرما کر بات کا خاتمہ اپنے ہمیشہ سے عزیز و حکیم ہونے کے ساتھ کیا، چناچہ فرمایا :(وکان اللہ عزیزاً حکیماً ) (النسائ : ١٦٥)” اور اللہ ہمیشہ سے سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ “ قرآن مجید میں جہاں جہاں وحی نازل کرنے کا ذکر ہے اس کے بعد مقام کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ کے بعض اسماء وصفات کا ذکر بھی ہے۔ کتاب اللہ نازل کرنے کے ساتھ عزیز و حکیم کے ذکر کی مناسبت کے لئے دیکھیے سورة زمر کی پہلی آیت کی تفسیر، ساتھ سورة مومن کی پہلی آیت کی تفسیر بھی ملاحظہ فرمائیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣۔ ٤) اب فرماتے ہیں جیسا کہ اس سورت کو آپ پر وحی کے ذریعے بھیجا ہے اسی طرح ان رسولوں پر جو کہ آپ سے پہلے ہوئے وحی بھیجتا رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ جو کہ کافر کو سزا دینے میں زبردست اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے اس نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کی جائے یا یہ کہ اپنی بادشاہت اور سلطنت میں زبردست اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے جتنی بھی مخلوقات ہیں سب اسی کے بندے ہیں وہ ہی سب سے بڑا اور بلند ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣ { کَذٰلِکَ یُوْحِیْٓ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ لا اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ } ” (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) اسی طرح وحی کرتا ہے آپ کی طرف اور ان کی طرف بھی کرتا رہا ہے جو آپ سے پہلے تھے وہ اللہ جو بہت زبردست ‘ بہت حکمت والا ہے۔ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کرتے ہوئے دراصل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخاطبین کو بتایا جارہا ہے کہ یہ مضامین جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف وحی کیے جا رہے ہیں اسی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے آنے والے انبیاء کرام ( علیہ السلام) کو بھی وحی کیے جا چکے ہیں۔ کَذٰلِکَ میں وحدت مدعا کی طرف بھی اشارہ ہے اور طریقہ وحی کی یکسانیت کی طرف بھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء و رسل (علیہ السلام) کو انہی باتوں کی تعلیم دی ہے جن کی تعلیم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی جا رہی ہے۔ اس کی وضاحت آگے آیت ١٣ میں آرہی ہے : { شَرَعَ لَـکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ …} نیز اس تعلیم کے لیے پہلے بھی یہی طریقہ اختیار فرمایا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اختیار فرمایا ہے ‘ یعنی وحی کا نزول۔ اس کی وضاحت آیت ٥١ میں آرہی ہے۔ مذکورہ آیت میں وحی کی اقسام کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کن کن طریقوں سے انسانوں پر وحی بھیجتا رہا ہے۔ وحی کی ان اقسام کا ذکر میں نے اپنے لیکچر ” تعارفِ قرآن “ میں بھی کیا ہے ‘ جو ” بیان القرآن “ حصہ اول میں بھی شامل ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1 The style of the opening verses by itself shows that in the background there are the misgivings, wonder and amazement which were being expressed at that time in every assembly, every meeting place, every street and every house and shop of Makkah at the message of the Holy Prophet and the themes of the Qur'an. The people said, "Wherefrom is this tnan bringing us new revelations everyday? The like of these we had never heard nor seen before. How strange that he rejects as false the religion that our forefathers have been following in the past, the religion that is still being followed by all of us, and the traditions and ways that have been prevalent in the country for so many centuries; and he says that the religion that he presents only is right and true." They said: `Had he presented even this new religion in a way as to substitute some of the falsehood he found in the ancestral paganism and prevalent customs with certain others which might be the result of his own thought, there could be a dialogue with him. But he says that what he recites is Divine Word. How can we accept this? Does God visit him, or dces he visit God? Or does some dialogue take place between him and God?" It is in the background of such expression of wonder and doubt that although the address is apparently directed to the Holy Prophet, the disbelievers have in fact been told: "Yes: these very things are being revealed by the Almighty, All-Wise Allah, and with the same themes has its Revelation been coming down to all the former Prophets." Lexically, wahi means "swift and secret instruction", i.e. an inspiration which is made with such haste and speed that none may know it except the inspirer and the one being inspired. As a term this word has been used for the guidance and instruction that is put in the mind of a man by Allah like a flash of lightning. What is meant to be said here is this: `There is no question of Allah's visiting somebody or somebody's visiting Allah and speaking face to face with Him. He is All-Mighty and All-Wise. Whenever He pleases to have a contact with a servant for the guidance and instruction of mankind, nothing can obstruct His will and intention, for He adopts the method of revelation for the purpose by His wisdom. " This very theme has been repeated in the last verses of the Surah with greater clarity and detail. As to the people's objection that the Holy Prophet was presenting strange and novel things, it has been said: There is nothing strange and novel in what Muhammmad (upon whom be Allah's peace) presents; Allah has been giving the same guidance and instruction to the Prophets who came before him in the world. "

سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :1 افتتاح کلام کا یہ انداز خود بتا رہا ہے کہ پس منظر میں وہ چہ میگوئیاں ہیں جو مکہ معظمہ کی ہر محفل ، ہر چوپال ، ہر کوہ و بازار ، اور ہر مکان اور دکان میں اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اور قرآن کے مضامین پر ہو رہی تھیں ۔ لوگ کہتے تھے کہ نہ معلوم یہ شخص کہاں سے یہ نرالی باتیں نکال نکال کر لا رہا ہے ۔ ہم نے تو ایسی باتیں نہ کبھی سنیں نہ ہوتے دیکھیں ۔ وہ کہتے تھے ، یہ عجیب ماجرا ہے کہ باپ دادا سے جو دین چلا آرہا ہے ، ساری قوم جس دین کی پیروی کر رہی ہے ، سارے ملک میں جو طریقے صدیوں سے رائج ہیں ، یہ شخص ان سب کو غلط قرار دیتا ہے اور کہتا ہے جو دین میں پیش کر رہا ہوں وہ صحیح ہے ۔ وہ کہتے تھے ، اس دین کو بھی اگر یہ اس حیثیت سے پیش کرتا کہ دین آبائی اور رائج الوقت طریقوں میں اسے کچھ قباحت نظر آتی ہے اور ان کی جگہ اس نے خود کچھ نئی باتیں سوچ کر نکالی ہیں ، تو اس پر کچھ گفتگو بھی کی جا سکتی تھی ، مگر وہ تو کہتا ہے کہ یہ خد ا کا کلام ہے جو میں تمھیں سنا رہا ہوں ۔ یہ بات آخر کیسے مان لی جائے؟ کیا خدا اس کے پاس آتا ہے؟ یا یہ خدا کے پس جاتا ہے؟ یا اس کی اور خدا کی بات چیت ہوتی ہے؟ انہی چرچوں اور چہ میگوئیوں پر بظاہر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے ، مگر دراصل کفار کو سناتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ ہاں ، یہی باتیں اللہ عزیز و حکیم وحی فرما رہا ہے اور یہی مضامین لیے ہوئے اس کی وحی پچھلے تمام انبیاء پر نازل ہوتی رہی ہے ۔ وحی کے لغوی معنی ہیں اشارہ سریع اور اشارہ خفی ، یعنی ایسا اشارہ جو سرعت کے ساتھ اس طرح کیا جائے کہ بس اشارہ کرنے والا جانے یا وہ شخص جسے اشارہ کیا گیا ہے ، باقی کسی اور شخص کو اس کا پتہ نہ چلنے پائے ۔ اس لفظ کو اصطلاحاً اس ہدایت کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو بجلی کی کوند کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے کسی بندے کے دل میں ڈالی جائے ۔ ارشاد الہٰی و مدعا یہ ہے کہ اللہ کے کسی کے پاس آنے یا اس کے پاس کسی کے جانے اور رو برو گفتگو کرنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہو تا ۔ وہ غالب اور حکیم ہے ۔ انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے جب بھی وہ کسی بندے سے رابطہ قائم کرنا چاہے ، کوئی دشواری اس کے ارادے کی راہ میں مزاحم نہیں ہو سکتی ۔ اور وہ اپنی حکمت سے اس کام کے لیے وحی کا طریقہ اختیار فرما لیتا ہے ۔ اسی مضمون کا اعادہ سورۃ کی آخری آیات میں کیا گیا ہے ۔ اور وہاں اسے زیادہ کھول کر بیان فرمایا گیا ہے ۔ پھر یہ جو ان لوگوں کا خیال تھا کہ یہ نرالی باتیں ہیں ، اس پر ارشاد ہوا ہے کہ یہ نرالی باتیں نہیں ہیں بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے انبیاء آئے ہیں ان سب کو بھی خدا کی طرف سے یہی کچھ ہدایات دی جاتی رہی ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(42:3) کذلک۔ ک حرف تشبیہ ہے ذلک اسم اشارہ واحد مذکر ہے۔ مشار الیہ سورة ہذا۔ تشبیہ کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) معانی کے لحاظ سے یعنی جو مطلب و معانی اس صورت میں مذکور ہیں انہیں مطالب و معانی پر مبنی کلام آپ کی طرف بھی وحی ہوتے ہیں اور آپ سے قبل دیگر رسولوں پر بھی نازل ہوتے رہے ہیں۔ ای یوحی مثل ما فی ھذہ السورۃ من المعانی۔ (2) تشبیہ فی المعنی المصدری الذی ھو الایحائ۔ یعنی جس طرح یہ سورة بذریعہ وحی آپ پر نازل ہوئی ہے اسی طرح دوسری سورتیں بھی آپ پر نازل ہوئی ہیں اور یہی وحی آپ سے قبل رسل پر بھی نازل ہوتی رہی ہے مطلب یہ کہ جس طرح یہ سورة بذریعہ وحی آپ پر نازل ہوئی ہے اس طرح وہ تجھ پر اور تجھ سے پہلے پیغمبروں پر بذریعہ وحی اپنا کلام نازل کرتا آیا ہے۔ کذلک مثل ذلک الایحاء (بیضاوی ، کشاف) یوحی : وہ وحی کرتا ہے۔ مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ یہاں مضارع کا صیغہ بمعنی حکایت حال ماضی۔ وحی کے استمرار کی دلیل کے لیے لایا گیا ہے ۔ یعنی یہ دستور الٰہیہ (وحی کے ذریعہ اپنے رسولوں کو کلام نازل فرمانا) کوئی نیا نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی اللہ تعالیٰ کا یہی دستور رہا ہے۔ اللّٰہ : فاعل یوحی کا اور العزیز الحکیم اس کے صفات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کی طرف وحی کرنے کے بعد اور جگہ بھی ان دو اسماء سے اپنی ثناء کی ہے۔ مثلا آیت 4:165 ۔ یہاں آیت 4:164 سے ارشاد ہوتا ہے کہ انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح والنبین من بعدہ ۔۔ اور آیت 165 کے اختتام پر اس مضمون کے بیان کرنے کے بعد ارشاد ہے وکان اللّٰہ عزیزا حکیما۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ عزیز ہے، حکیم ہے، اعلیٰ ہے، عظیم ہے، غفور ہے، رحیم ہے یہ سورة الشوریٰ کے پہلے رکوع کا ترجمہ ہے جو سات آیات پر مشتمل ہے ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ بیان فرمائی ہیں پہلی آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کرکے فرمایا کہ جس طرح یہ سورة اپنے فوائد پر مشتمل ہوکر آپ کی طرف نازل کی جا رہی ہے اسی طرح آپ پر دوسری سورتوں کی بھی وحی کی گئی ہے اور آپ سے پہلے جو حضرات انبیائے کرام تھے ان پر وحی کی گئی یہ وحی اللہ تعالیٰ نے بھیجی جو عزیز یعنی زبردست اور غالب ہے اور حکیم یعنی حکمت والا ہے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اسی کا ہے اس کی مخلوق بھی ہے اور مملوک بھی ہے وہ برتر ہے اور عظیم الشان ہے ﴿تَكَاد السَّمٰوٰتُ ﴾ کچھ بعید نہیں کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اس میں مشرکین کی حرکت بد کی شناعت اور قباحت بیان فرمائی ہے کیونکہ آگے مشرکین کے شرک کا ذکر آ رہا ہے اس لیے پہلے ہی ان کی تردید فرما دی اور یہ ایسا ہی ہے جیسے سورة مریم میں فرمایا ﴿تَكَاد السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ٠٠٩٠ اَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًاۚ٠٠٩١﴾ (اور کہتے ہیں کہ رحمن اولاد رکھتا ہے یہ تو تم ایسی بھاری بات لائے کہ عجب نہیں آسمان پھٹ پڑیں اس کے باعث اور زمین شق ہوجائے اور گرپڑیں پہاڑ ٹوٹ کر، کہ ثابت کیا رحمن کے لیے فرزند) آیت کی یہ تفسیر صاحب معالم التنزیل نے اختیار کی بعض دیگر مفسرین نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے بہت بڑی کثیر تعداد میں ہیں وہ آسمانوں میں سجدہ کیے ہوئے پڑے ہیں اور بہت سے فرشتے دوسرے کاموں میں لگے ہوئے ہیں ان فرشتوں کا بوجھ اتنا زیادہ ہے کہ اس کی وجہ سے آسمانوں کا پھٹ پڑنا کوئی بعید نہیں، آیت کا یہ معنی لینا بھی بعید نہیں ہے چونکہ اس کے بعد فرشتوں کی تسبیح تحمید کا ذکر ہے اس لیے اس کا یہ معنی بھی مرتب ہوتا ہے۔ حضرت ابوذر غفاری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اطت السماء وحق لھا ان تاط والذی نفسی بیدہ ما فیھا موضع اربع اصابع الا وملک واضع جبھتہ ساجد اللّٰہ (آسمان چر چر بولتا ہے اور لازم ہے کہ وہ ایسی آوازیں نکالے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! آسمان میں چار انگل جگہ بھی ایسی نہیں ہے جہاں کسی فرشتے نے سجدہ میں اپنی پیشانی نہ رکھی ہو) (رواہ احمد والترمذی وابن ماجہ کما فی المشکوٰۃ ص ٤٥٧)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

2:۔ ” کذلک یوحی الیک “ اس سورت میں جو مضمون توحید نازل کیا گیا ہے یہی مضمون ہم اس سے پہلی سورتوں میں آپ کی طرف نازل کرتے رہے ہیں، اور یہی مضمون توحید گذشتہ انبیاء (علیہم السلام) کی طرف وحی کرتے رہے ہیں۔ کلام مستانف وارد لتحقیق ان مضمون السورۃ موافق لما فی تضاعیف الکتب المنزلۃ علی سائر الرسل المتقدمین فی الدعوۃ الی التوحید والارشاد الی الحق (روح ج 25 ص 10) ۔ ” کذلک “ یعنی اس کی مانند یہ تعبیر اس لیے اختیار کی گئی کہ عبارت وہ نہیں، البتہ مضمون وہی ہے۔ ای مثل ذلک الوحی (مدارک، جامع البیان) یوحی میں حال گذشتہ کو مضارع سے تعبیر کیا گیا تاکہ استمرار و دوام پر دلالت کرے۔ وذکر المضارع للاستمرار وبیان العادۃ (جامع لابیان ص 414) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(3) جس طرح اے پیغمبر یہ سورت یا یہ کتاب آپ پر نازل کی گئی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ جو کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے آپ پر اور ان رسولوں پر جو آپ سے پہلے ہوئے ہیں وحی بھیجتا رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پیغمبروں پر اپنے احکام بذریعہ وحی بھیجا کرتا ہے جس طرح یہ سورت آپ پر نازل کی گئی اسی طرح آپ پر اور آپ سے پہلے لوگوں پر بھی اللہ تعالیٰ جو عزیز بھی ہے اور حکیم بھی ہے اپنی وحی بھیجتا رہا ہے یعنی عزیز ہے اس لئے کوئی اس کو احکام بھیجنے سے روک نہیں سکتا اور چونکہ حکیم بھی ہے اس لئے اس کے نازل کردہ احکام میں اس کی مخلوق کے لئے بڑی حکمتیں پنہاں ہیں۔