Surat us Shooraa

Surah: 42

Verse: 53

سورة الشورى

صِرَاطِ اللّٰہِ الَّذِیۡ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ اَلَاۤ اِلَی اللّٰہِ تَصِیۡرُ الۡاُمُوۡرُ ﴿۵۳﴾٪  6

The path of Allah , to whom belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. Unquestionably, to Allah do [all] matters evolve.

اس اللہ کی راہ کی جس کی ملکیت میں آسمانوں اور زمین کی ہرچیز ہے ۔ آگاہ رہو سب کام اللہ تعالٰی ہی کی طرف لوٹتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

صِرَاطِ اللَّهِ ... The path of Allah, meaning, His Laws which He enjoins. ... الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الاَْرْضِ ... to Whom belongs all that is in the heavens and all that is on the earth. means, their Lord and Sovereign, the One Who is controlling and ruling them, Whose decree cannot be overturned. ... أَلاَ إِلَى اللَّهِ تَصِيرُ الامُورُ Verily, all matters at the end go to Allah. means, all matters come back to Him and He issues judgement concerning them. Glorified and exalted be He far above all that the evildoers and deniers say. This is the end of the Tafsir of Surah Ash-Shura. All praise and thanks are due to Allah and in Him is all strength and protection.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

53۔ 1 یہ صراط مستقیم، اسلام ہے۔ اس کی اضافت اللہ نے اپنی طرف فرمائی ہے جس سے اس راستے کی عظمت و شان واضح ہوتی ہے اور اس کے واحد راہ نجات ہونے کی طرف اشارہ بھی۔ 53۔ 2 یعنی قیامت والے دن تمام معاملات کا فیصلہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہوگا، اس میں سخت وعید ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٧] یعنی جو رستہ یہ قرآن دکھاتا ہے اور رسول اللہ اس کی رہنمائی کرتے ہیں وہی اس اللہ کا راستہ ہے جو فرمانروائے کائنات ہے۔ اسی راہ پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے اور جو اس راہ سے بھٹکا تو وہ اللہ کی راہ نہیں، سب شیطان کی راہیں ہیں۔ [٧٨] یعنی صرف انسان ہی نہیں، ان کے اعمال و افعال اور دوسرے سب امور کا انجام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ لہذا انسان کو اس دنیا میں بقائمی ہوش و حواس وہ راہ اختیار کرنا چاہئے جو سیدھی اللہ کی بارگاہ تک پہنچتی ہو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) صراط اللہ الذی لہ ما فی السموت و ما فی الارض : یعنی سیدھا راستہ وہ ہے جس پر چل کر انسان زمین و آسمان کے مالک اللہ تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے اور وہ صرف وحی الٰہی کے ذریعے سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کے سوا جتنے راستے ہیں سب شیطان کے راستے ہیں، جو اللہ تعالیٰ سے ہٹے ہوئے ہیں۔ (دیکھیے سورة نحل (٩) ۔ (٢) الا الی اللہ تصیر الامور : یعنی دنیا اور آخرت کے تمام امور کی تدبیر اللہ ہی کی طرف لوٹتی ہے، بظاہر کسی کام کی تدبیر کوئی کر رہا ہو، ظاہر میں لوگ اسے کسی کا کارنامہ سمجھیں، مگر حقیقت میں تمام امور کی تدبیر اللہ ہی کا کام ہے۔ دیکھیے سورة یونس (٣، ٣١) ، رعد (٢) اور سجدہ (٥) ۔ ” تمام امور اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں “ میں یہ بھی شامل ہے کہ قیامت کے دن بندوں کے نیک و بد تمام کام اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے ، وہی ان کا فیصلہ فرمائے گا اور نیکوں کو ثواب اور بدوں کو عذاب دے گا۔ (اللھم احشرنا فی زمرۃ الصالحین)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

صِرَاطِ اللہِ الَّذِيْ لَہٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ۝ ٠ ۭ اَلَآ اِلَى اللہِ تَصِيْرُ الْاُمُوْرُ۝ ٥٣ ۧ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله» وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها «2» ، وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر «5» ، مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حی ھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] أي : نعم شيئا يعظکم به، وقوله : فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] فقد أجيز أن يكون ما نكرة في قوله : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقد أجيز أن يكون صلة، فما بعده يكون مفعولا . تقدیره : أن يضرب مثلا بعوضة «1» . الثالث : الاستفهام، ويسأل به عن جنس ذات الشیء، ونوعه، وعن جنس صفات الشیء، ونوعه، وقد يسأل به عن الأشخاص، والأعيان في غير الناطقین . وقال بعض النحويين : وقد يعبّر به عن الأشخاص الناطقین کقوله تعالی: إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] ، إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] وقال الخلیل : ما استفهام . أي : أيّ شيء تدعون من دون اللہ ؟ وإنما جعله كذلك، لأنّ «ما» هذه لا تدخل إلّا في المبتدإ والاستفهام الواقع آخرا . الرّابع : الجزاء نحو : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ الآية [ فاطر/ 2] . ونحو : ما تضرب أضرب . الخامس : التّعجّب نحو : فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] . وأمّا الحروف : فالأوّل : أن يكون ما بعده بمنزلة المصدر كأن الناصبة للفعل المستقبَل . نحو : وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] فإنّ «ما» مع رَزَقَ في تقدیر الرِّزْق، والدّلالة علی أنه مثل «أن» أنه لا يعود إليه ضمیر لا ملفوظ به ولا مقدّر فيه، وعلی هذا حمل قوله : بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] ، وعلی هذا قولهم : أتاني القوم ما عدا زيدا، وعلی هذا إذا کان في تقدیر ظرف نحو : كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] ، كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] . وأما قوله : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] فيصحّ أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الذي «3» . واعلم أنّ «ما» إذا کان مع ما بعدها في تقدیر المصدر لم يكن إلّا حرفا، لأنه لو کان اسما لعاد إليه ضمیر، وکذلک قولک : أريد أن أخرج، فإنه لا عائد من الضمیر إلى أن، ولا ضمیر لهابعده . الثاني : للنّفي وأهل الحجاز يعملونه بشرط نحو : ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] «1» . الثالث : الکافّة، وهي الدّاخلة علی «أنّ» وأخواتها و «ربّ» ونحو ذلك، والفعل . نحو : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ، إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] ، كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] وعلی ذلك «ما» في قوله : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] ، وعلی ذلك : قَلَّمَا وطَالَمَا فيما حكي . الرابع : المُسَلِّطَة، وهي التي تجعل اللفظ متسلِّطا بالعمل، بعد أن لم يكن عاملا . نحو : «ما» في إِذْمَا، وحَيْثُمَا، لأنّك تقول : إذما تفعل أفعل، وحیثما تقعد أقعد، فإذ وحیث لا يعملان بمجرَّدهما في الشّرط، ويعملان عند دخول «ما» عليهما . الخامس : الزائدة لتوکيد اللفظ في قولهم : إذا مَا فعلت کذا، وقولهم : إمّا تخرج أخرج . قال : فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] ، وقوله : إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما[ الإسراء/ 23] . ( ما ) یہ عربی زبان میں دو قسم پر ہے ۔ اسمی اور حر فی پھر ہر ایک پانچ قسم پر ہے لہذا کل دس قسمیں ہیں ( 1 ) ما اسمی ہو تو واحد اور تذکیر و تانیث کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے ۔ پھر لفظا مفرد ہونے کے لحاظ سے اس کی طرف ضمیر مفرد بھی لوٹ سکتی ہے ۔ اور معنی جمع ہونے کی صورت میں ضمیر جمع کا لانا بھی صحیح ہوتا ہے ۔ یہ ما کبھی بمعنی الذی ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] اور یہ ( لوگ ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پر ستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں ۔ تو یہاں ما کی طرف یضر ھم میں مفرد کی ضمیر لوٹ رہی ہے اس کے بعد معنی جمع کی مناسب سے هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] آگیا ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جوان کو آسمانوں اور زمین میں روزیدینے کا ذرہ بھی اختیار نہیں رکھتے میں بھی جمع کے معنی ملحوظ ہیں اور آیت کریمہ : ۔ بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] کہ تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے ۔ میں بھی جمع کے معنی مراد ہیں اور کبھی نکرہ ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] بہت خوب نصیحت کرتا ہے ۔ تو یہاں نعما بمعنی شیئا ہے نیز فرمایا : ۔ فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] تو وہ بھی خوب ہیں ایت کریمہ : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کیس چیز کی میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما نکرہ بمعنی شیاء ہو اور یہ بھی کہ ماصلہ ہو اور اس کا ما بعد یعنی بعوضۃ مفعول ہو اور نظم کلام دراصل یوں ہو أن يضرب مثلا بعوضة اور کبھی استفھا فیہ ہوتا ہے اس صورت میں کبھی کبھی چیز کی نوع یا جنس سے سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی کسی چیز کی صفات جنسیہ یا نوعیہ کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی غیر ذوی العقول اشخاص اور اعیان کے متعلق سوال کے لئے بھی آجاتا ہے ۔ بعض علمائے نحو کا قول ہے کہ کبھی اس کا اطلاق اشخاص ذوی العقول پر بھی ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] مگر ان ہی بیویوں یا ( کنیزوں سے ) جو ان کی ملک ہوتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے ۔ میں خلیل نے کہا ہے کہ ماتدعون میں ما استفہامیہ ہے ای شئی تدعون من دون اللہ اور انہوں نے یہ تکلف اس لئے کیا ہے کہ یہ ہمیشہ ابتداء کلام میں واقع ہوتا ہے اور مابعد کے متعلق استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جو آخر میں واقع ہوتا ہے جیسا کہ آیت : ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُالآية [ فاطر/ 2] خدا جو اپنی رحمت کا در وازہ کھول دے اور مثال ماتضرب اضرب میں ہے ۔ اور کبھی تعجب کے لئے ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] یہ ( آتش جہنم کیسی بر داشت کرنے والے ہیں ۔ ما حرفی ہونے کی صورت میں بھی پانچ قسم پر ہے اول یہ کہ اس کا بعد بمنزلہ مصدر کے ہو جیسا کہ فعل مستقبل پر ان ناصبہ داخل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ تو یہاں ما رزق بمعنی رزق مصدر کے ہے اور اس ما کے بمعنی ان مصدر یہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کی طرف کہیں بھی لفظا ما تقدیر اضمیر نہیں لوٹتی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] اور ان کے جھوٹ بولتے کے سبب ۔ میں بھی ما مصدر ری معنی پر محمول ہے ۔ اسی طرح اتانیالقوم ماعدا زیدا میں بھی ما مصدر یہ ہے اور تقدیر ظرف کی صورت میں بھی ما مصدر یہ ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی ( چمکتی اور ) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں ۔ خدا اس کو بجھا دیتا ہے ۔ كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] جب ( اس کی آگ ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو ( عذاب دینے ) کے لئے اور بھڑ کا دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] پس جو حکم تم کو ( خدا کی طرف سے ملا ہے وہ ( لوگوں ) کو سنا دو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما مصدر یہ ہوا اور یہ بھی کہ ما موصولہ بمعنی الذی ہو ۔ یاد رکھو کہ ما اپنے مابعد کے ساتھ مل کر مصدری معنی میں ہونے کی صورت میں ہمیشہ حرفی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اسی ہو تو اس کی طرف ضمیر کا لوٹنا ضروری ہے پس یہ ارید ان اخرک میں ان کی طرح ہوتا ہے جس طرح ان کے بعد ضمیر نہیں ہوتی جو اس کی طرف لوٹ سکے اسی طرح ما کے بعد بھی عائد ( ضمیر نہیں آتی ۔ دوم ما نافیہ ہے ۔ اہل حجاز اسے مشروط عمل دیتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] یہ آدمی نہیں ہے تیسرا ما کا فہ ہے جو ان واخواتھا اور ( رب کے ساتھ مل کر فعل پر داخل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] نہیں بلکہ ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے ۔ میں بھی ما کافہ ہی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قلما اور لما میں بھی ما کافہ ہوتا ہے ۔ چہارم ما مسلمۃ یعنی وہ ما جو کسی غیر عامل کلمہ کو عامل بنا کر مابعد پر مسلط کردیتا ہے جیسا کہ اذا ما وحیتما کا ما ہے کہ ما کے ساتھ مرکب ہونے سے قبل یہ کلمات غیر عاملہ تھے لیکن ترکیب کے بعد اسمائے شرط کا سا عمل کرتے ہیں اور فعل مضارع کو جز م دیتے ہیں جیسے حیثما نقعد اقعد وغیرہ پانچواں مازائدہ ہے جو محض پہلے لفظ کی توکید کے لئے آتا ہے جیسے اذا مافعلت کذا ( جب تم ایسا کرو ماتخرج اخرج اگر تم باہر نکلو گے تو میں بھی نکلو نگا قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] اگر تم کسی آدمی کو دیکھوں ۔ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما [ الإسراء/ 23] اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھا پے کو پہنچ جائیں ۔ صير الصِّيرُ : الشِّقُّ ، وهو المصدرُ ، ومنه قرئ : فَصُرْهُنَّ وصَارَ إلى كذا : انتهى إليه، ومنه : صِيرُ البابِ لِمَصِيرِهِ الذي ينتهي إليه في تنقّله وتحرّكه، قال : وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ [ الشوری/ 15] . و «صَارَ» عبارةٌ عن التّنقل من حال إلى حال . ( ص ی ر ) الصیر کے معنی ایک جانب یا طرف کے ہیں دراصل یہ صار ( ض) کا مصدر ہے ۔ اور اسی سے آیت فصوھن ہیں ایک قرآت فصرھن ہے ۔ صار الی کذا کے معنی کسی خاص مقام تک پہنچ جانا کے ہیں اسی سے صیر الباب ہے جس کے معنی درداڑہ میں شگاف اور جھروکا کے ہیں اور اسے صیر اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ نقل و حرکت کا منتہی ہوتا ہے اور صار کا لفظ ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہونے پر بولا جاتا ہے ۔ اسی سے المصیر اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی چیز نقل نہ حرکت کے بعد پہنچ کر ختم ہوجاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ [ الشوری/ 15] یعنی اللہ تعالیٰ ہی لوٹنے کی جگہ ہے ۔ أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته : إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

یعنی اس اللہ کے دین کی طرف کہ تمام مخلوق اسی کی ملکیت ہے اور تمام کاموں کا انجام آخرت میں اسی زبردست حکمت والے کی طرف رجوع کرے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٣{ صِرَاطِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ } ” اس اللہ کے راستے کی طرف جس کی ملکیت ہے ہر وہ شے جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ شے جو زمین میں ہے۔ “ { اَلَآ اِلَی اللّٰہِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ } ” آگاہ ہو جائو ! تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹ جائیں گے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

85. This is the final warning that has been given to the disbelievers. It means: The Prophet (peace be upon him) said something and you heard and rejected it. The matter would not end there. Whatever is happening in the world, will be presented before Allah, and ultimately He Himself will decide what should be the end of every person.

سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :85 یہ آخری تنبیہ ہے جو کفار کو دی گئی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی نے کہا اور تم نے سن کر رد کر دیا ، اس پر بات ختم نہیں ہو جانی ہے ۔ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور آخر کار اسی کے دربار سے یہ فیصلہ ہونا ہے کہ کس کا کیا انجام ہونا چاہیے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(42:53) صراط اللہ۔ مضاف مضاف الیہ یہ بدل ہے صراط مستقیم سے اتحاد اعراب بھی اسی وجہ سے ہے۔ الذی لہ ما فی السموت والارض یہ اللہ کی صفت ہے۔ لہ ای خلقا وملکا ازروئے پیدائش و ملکیت اسی کی ہیں یعنی وہی خالق ومالک ہے ما موصولہ ہے اور فی السموت اور فی الارض صلہ ہے، جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کا خالق اور مالک وہی ہے۔ الا بطور حرف استفتاح استعمال ہوا ہے (یعنی کلام کے شروع کرنے کے لئے) جان لو یاد رکھو۔ نیز ملاحظہ ہو 42:18 متذکرۃ الصدر تصیر : مضارع واحد مؤنث غائب : صیر (باب ضرب) مصدر بمعنی ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنا یا پھرنا۔ جب اس کا صلہ الی آتا ہے (جیسا کہ آیت ہذا میں ہے ) تو معنی وہاں تک پہنچنے اور منتہی ہونے کے ہیں افعال ناقصہ میں سے ہے۔ جملہ امور (فیصلہ کے لئے) اللہ ہی کی طرف پھرتے ہیں : الا الی اللہ تصیر الامور۔ ای ترجع امور جمیع العباد فی یوم القیمۃ الی اللہ تعالی۔ جملہ خلائق کے احوال روز قیامت فیصلہ کے لئے اسی کے حضور پیش ہوں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 وہی اچھے برے کاموں کا فیصلہ کرے گا اور پھر نیکیوں کا ثواب اور بدوں کو عذاب دے گا۔ اللھم اجعلنا فی زمرۃ الصالحین وبہ تحت سورة الشوری والحمد للہ علی ذلک

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

” یہ قرآن رب العالمین کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ اسے لے کر امانت دارفرشتہ آیا اور اس نے اسے آپ کے دل پر اتارا ہے۔ تاکہ آپ ان لوگوں میں شامل ہوں جو ڈرانے والے ہیں۔ یہ قرآن واضح عربی زبان میں ہے اور پہلی کتابوں میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔ “ اسی فرمان کی بنیاد پر امت کے علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید القاء، خواب یا کسی اور ذریعے سے نہیں بلکہ سارے کا سارا قرآن جبرائیل امین (علیہ السلام) کے ذریعے نازل ہوا۔ نزول قرآن سے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں جانتے تھے کہ قرآن اور اس کی دعوت یعنی ایمان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو نور قرار دیا ہے۔ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے ہدایت سے سرفراز کرتا ہے اور یہی نبی آخرالزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کا مقصد تھا اور ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن کے ذریعے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ یہاں ہدایت سے مراد قرآن مجید کی تعلیم اور راہنمائی ہے۔ (عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ اأنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ (رض) ، اِشْتَکٰی فَدَخَلَ عَلَیْہِ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَعُوْدُہٗ فَقَالَ کَیْفَ تَجِدُکَ یَا عُمَرُ ؟ فَقَالَ اأرْجُوْ وَأَخَافُ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَا اجْتَمَعَ الرَّجَاءُ وَالُخَوْفُ فِیْ قَلْبِ مَؤْمِنٍ إِلَّا اأعْطَاہ اللّٰہُ الرَّجَاءَ وَأَمِنَہُ الِخَوْفَ ) [ رواہ البیھقی : باب فی الرجاء من اللہ تعالیٰ ] ” سعید بن مسیب (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) بیمار ہوگئے تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے استفسار فرمایا اے عمر ! اپنے آپ کو کیسے محسوس کررہے ہو ؟ عمر (رض) نے جواب دیا مجھے امید بھی ہے اور خوف بھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مومن کے دل میں امید اور خوف دونوں جمع ہوتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ اس کی امید پوری کردیتے ہیں اور اسے خوف سے محفوظ فرمالیتے ہیں۔ “ (عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ (رض) أَنَّہُ سَمِعَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ ذَاقَ طَعْمَ الْإِیمَانِ مَنْ رَضِیَ باللّٰہِ رَبًّا وَّبِا لإِْسْلَام دینًا وَّبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا) [ رواہ مسلم : باب الدلیل علی ان من رضی باللہ ربا ] ” حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول ہونے پر راضی ہوگیا اس نے ایمان کا لطف پالیا۔ “ اہل علم نے ہدایت کے مدارج کی بہت سی قسمیں بیان فرمائی ہیں لیکن بنیادی طور پر اس کی چار اقسام ہیں : 1 طبعی اور فطری ہدایت 2 الہامی ہدایت 3 توفیقی ہدایت 4 ہدایت وحی۔ طبعی اور فطری ہدایت : چاند، سورج اور سیارے طبعی رہنمائی کے مطابق اپنے مدار میں رواں دواں ہیں۔ ہوائیں اسی اصول کی روشنی میں رخ بدلتی اور چلتی ہیں۔ بادل فطری رہنمائی سے ہی راستے تبدیل کرتے اور برستے ہیں یہاں تک کہ اسی اصول کے تحت درخت روشنی کی تلاش میں ایک دوسرے سے اوپر نکلتے ہیں۔ فطری ہدایت کے مطابق ہی مرغی کا بچہ انڈے سے نکلتے ہی مرغی کے قدموں میں پڑجاتا ہے، بطخ کا بچہ خود بخود پانی کی طرف چلتا اور انسان کا نومولود ماں کی چھاتی کے ساتھ چمٹتا ہے۔ اس طبعی اور فطری ہدایت کی قرآن نے ان الفاظ میں نشاندہی فرمائی ہے : (وَھَدَیْنَاہ النَّجْدَیْنِ ) [ البلد : ١٠] ” ہم نے اسے دو واضح راستے دکھا دیئے۔ “ الہامی ہدایت : الہام وحی کی ایک قسم ہے لیکن وحی اور الہام میں فرق یہ ہے کہ وحی صرف انبیاء کے ساتھ خاص ہے جب کہ الہام انبیاء کے علاوہ نیک اور عام آدمی حتی کہ قرآن مجید نے شہد کی مکھیوں کے لیے بھی وحی یعنی الہام کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا معنٰی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے دل میں کوئی بات القا فرما دیتا ہے۔ اسے ہدایت وہبی بھی کہا جاتا ہے۔ ( النحل : ٦٨) ہدایت بمعنٰی توفیق اور استقامت : ہدایت کی تیسری قسم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی عنایت اور توفیق سے اپنے بندے کی رہنمائی کرتے ہوئے اسے صراط مستقیم پر گامزن رہنے کی توفیق عطا فرما دیتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر یہ دعا کرتے تھے۔ (یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات ] ” اے دلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا۔ “ (اَللّٰھُمَّ اَلْھِمْنِیْ رُشْدِیْ وَأَعِذْنِیْ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات، باب ماء فی جامع الدعوات ] ” اے اللہ ! میری راہنمائی فرما اور مجھے میرے نفس کے شر سے محفوظ رکھ۔ “ وحی اور حقیقی ہدایت : یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اس ہدایت کی دوشکلیں ہیں اور دونوں آپس میں لازم وملزوم اور ضروری ہیں۔ ایک ہدایت ہے ہر نیکی کی ظاہری حالت اور اس کی ادائیگی کا طریقہ جو ہر حال میں سنت نبوی کے مطابق ہونا چاہیے۔ دوسری اس کی روح اور اصل۔ اسے قرآن نے اخلاص سے تعبیر فرمایا ہے۔ اخلاص کے اثرات دل پر اثر انداز ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل ہوگی جس کا بدلہ جنّت ہے۔ کردار پر مرتب ہوں گے تو نفس اور معاشرے میں پاکیزگی پیدا ہوگی جس سے آدمی کو دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل ہوگی۔ صراط مستقیم کا تعارف : ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے ایک لکیر کھینچی پھر فرمایا یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے پھر اس کے دائیں اور بائیں خط کھینچ کر فرمایا یہ راستے ہیں ان میں سے ہر ایک پر شیطان کھڑا ہے اور وہ اس کی طرف بلاتا ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت کی (بےشک یہ میرا سیدھا راستہ ہے اسی پر چلتے رہنا اور پگڈنڈیوں پر نہ چلنا۔ “ [ مسند احمد : باب مسند عبدا اللہ بن مسعود ] قرآن مجید نے اس راستے کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا راستہ قرار دیا اور اسے بصیرت سے تعبیر کیا ہے۔ (قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلِيْ أَدْعُو إِلَی اللّٰہِ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ ) [ یوسف : ١٠٨] ” آپ فرمادیجئے یہ میرا راستہ ہے میں اور میرے پیرو کار بصیرت کی بنیاد پر اللہ کی طرف بلاتے ہیں۔ “ ” حضرت عرباض بن ساریہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا وعظ فرمایا جس سے آنکھیں بہہ پڑیں اور دل ڈر گئے ہم نے کہا اللہ کے رسول یقیناً یہ تو الوداعی وعظ لگتا ہے اس لیے آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا میں تمہیں واضح دین پر چھوڑ کر جارہا ہوں جس کی رات بھی دن کی طرح ہے ہلاک ہونے والے کے علاوہ کوئی اس سے نہیں ہٹے گا تم میں سے جو زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا تم نے جو میرا اور میرے صحابہ کا طریقہ جانا اس کو لازم پکڑنا اور اسے داڑھوں کے ساتھ مضبوطی سے تھامنا اور امیر کی اطاعت کرتے رہنا اگرچہ وہ حبشی ہی کیوں نہ ہو۔ مومن نکیل والے اونٹ کی طرح ہوتا ہے اسے جہاں بھی لے جایا جائے وہ چلا جاتا ہے۔ “ [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب المقدمۃ،] تفسیر بالقرآن صراط مستقیم اور اس کے سنگ میل : ١۔ اللہ تعالیٰ ہی ایمان والوں کو صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔ (الحج : ٥٤) ٢۔ اللہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : ٢١٣) ٣۔ اللہ تعالیٰ میرا اور تمہارا رب ہے۔ تم اسی کی عبادت کرو یہی صراط مستقیم ہے۔ (آل عمران : ٥١، مریم : ٣٦) ٤۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی جماعت کو چن لیا اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دی۔ (الانعام : ٨٧) ٥۔ اللہ کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔ (یٰس : ٦١) ٦۔ صراط مستقیم کی ہی پیروی کرو۔ (الانعام : ١٥٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿صِرَاط اللّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ ١ؕ﴾ (جو اللہ کا راستہ ہے جس کے لیے وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے) یہ راستہ اسی کا تجویز کیا ہوا ہے اور وہ اس پر چلنے والوں سے راضی ہے لہٰذا اسی پر چلیں ﴿اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِيْرُ الْاُمُوْرُ (رح) ٠٠٥٣﴾ (خبر دار تمام امور اللہ ہی کی طرف لوٹیں گے) وہ اپنے علم اور حکمت کے مطابق جزا یا سزا دے گا۔ ولقد تم تفسیر سورة الشوریٰ بحمد اللّٰہ تعالیٰ وحسن توفیقہ والحمد للّٰہ تعالیٰ علی التمام وحسن الختام والصلوٰة والسلام علی سید الانام وعلیٰ اٰلہ وصحبہ البررة الکرام

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

42:۔ ” صراط اللہ الخ “ اس میں دلیل عقلی کی طرف اشارہ ہے یعنی صراط مستقیم (سیدھی راہ) اس اللہ کی راہ ہے جو زمین و آسمان اور ساری کائنات کا ملک اور اس میں متصرف و مختار ہے۔ اس کائنات میں ہر معاملہ اسی کے علم وقدرت سے وابستہ ہے اور یہاں جو کچھ بھی ہوتا ہے اسی کے اختیار و تصرف سے ہوتا ہے۔ وہی متصرف و کارساز ہے اور وہی دعا اور پکار کا مستحق۔ سورة شوری میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ ” لہ ما فی السموات وما فی الارض۔ وھو العلی العظیم “ (رکوع 1) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 2 ۔ ” فاطر السموات والارض “ تا ” انہ بکل شیء علیم “ (رکوع 2) ۔ نفی شرک فی التصرف و نفی شرک فی العلم۔ 3 ۔ ” شرع لکم من الدین “ تا ” ولا تتفرقوا فیہ “ (رکوع 2) ۔ تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرف یہی وحی بھیجی گئی کہ صرف اللہ ہی کو پکارو تمام پیغمبروں کا دین ایک تھا۔ 4 ۔ ” وما تفرقوا الا من بعد ماجاء ھم العلم بغیا بینہم (رکوع 2) ۔ باغیوں نے مسئلہ توحید کو سمجھنے کے بعد محض ضد وعناد کی وجہ سے اس میں اختلاف ڈالا۔ 5 ۔ ” وھو الذی ینزل الغیث “ تا ” اذا یشاء قدیر “ (رکوع 3) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 6 ۔ ” للہ ملک السموات والارض “ تا ” انہ علیم قدیر “ (رکوع 5) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ سورة الشوری ختم ہوئی

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(53) جو اس اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے آگاہ رہو تمام کام اللہ ہی کی طرف لوٹیں گے اور اللہ تک پہنچ ہے کاموں کی۔ یعنی جس طرح ہم نے جس طرح اور رسولوں پر اپنے احکام بذریعہ کتب اور صحف نازل کئے ہیں اسی طرح اس قرآن کو جو ہمارا حکم ہے یا ہمارے کلام سے ہے اس کو ہم نے آپ کی جانب بھیجا ہے آپ کو اس کے نزول سے پہلے معلوم نہ تھا کہ کتاب اللہ کیا ہے اور اسی طرح آپ یہ بھی نہ جانتے کہ منتہائے ایمان کیا ہے گو نفس ایمان تھا جیسا کہ ہر نبی کو نبوت سے پہلے ایمان ہوتا ہے لیکن منتہائے ایمان اور تفصیلی ایمان نبوت کے بعد ہی حاصل ہوتا ہے آپ ایمان کے انتہائی مراتب کو نہیں جانتے تھے لیکن ہم نے اس قرآن کو ایک ایسا نور بنا کر بھیجا ہے جس سے ہم جس کو چاہتے ہیں اور اپنے بندوں میں سے ہدایت عطا فرماتے ہیں قرآن کو شاید روح اس لئے فرمایا کہ یہ مردہ دلوں کو زندگی بخشتا ہے اور قلب میں آثار حیات اس قرآن کی برکت سے پیدا ہوجاتے ہیں آگے آپ کے ہادی برحق ہونے کی توثیق فرمائی کہ بیشک آپ لوگوں کو صراط مستقیم کی رہنمائی فرماتے ہیں اور آپ داعی برحق ہیں صراط مستقیم اور سیدھی راہ کی تفصیل بیان فرمائی کہ یہ راستہ ہی اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے جو تمام آسمانوں اور زمینوں کی چیزوں کا مالک ہے سب کچھ اسی کا ہے سب اس کے مملوک اور مخلوق ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو راستہ آپ دکھاتے ہیں وہ راستہ اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے جو ہر اس چیز کا مالک ہے جو آسمانوں اور زمین میں……ہے۔ پھر فرمایا سن لو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف تمام امور کا مرجع ہے ۔ آخری آیت کا آخری ٹکڑا وعد اور وعید دونوں کو شامل ہے یعنی تمام امور کا مرجع ہے جب اسی کی ذات ہے تو وہ سزادے گا اور نیک لوگوں کو صلہ عطا فرمائے گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ جس نے سورة حٰم ٓ عسق کر پڑھا تو وہ فرشتے اس کو شاباشیں دیتے ہیں اور اس کیلئے بخشش مانگتے اور رحمت طلب کرتے ہیں۔ تم تفسیر سورة الشوریٰ