سورة الزُّخْرُف نام : آیت 35 کے لفظ : وَزُخْرُفاً سے ماخوذ ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ وہ سورہ جس میں لفظ زُخْرُفْ آیا ہے ۔ زمانۂ نزول : کسی معتبر روایت سے معلوم نہیں ہوسکا ہے ۔ لیکن اس کے مضامین پر غور کرنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ سورہ بھی اسی زمانے میں نازل ہوئی ہے جس میں المومن ، حٰم السجدہ اور الشوریٰ نازل ہوئیں ۔ یہ ایک ہی سلسلے کی سورتیں معلوم ہوتی ہیں جن کا نزول اس وقت سے شروع ہوا جب کفار مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کے درپے ہوگئے تھے ۔ شب و روز اپنی محفلوں میں بیٹھ بیٹھ کر مشورے کر رہے تھے کہ آپ کو کس طرح ختم کیا جائے ، اور ایک حملہ آپ کی جان پر ہو بھی چکا تھا ۔ اس صورت حال کی طرف آیات 79 ۔ 80 ۔ میں صاف اشارہ موجود ہے ۔ موضوع اور مباحث : اس سورے میں پورے زور کے ساتھ قریش اور اہل عرب کے ان جاہلانہ عقائد و اوہام پر تنقید کی گئی ہے جن پر وہ اصرار کیے چلے جا رہے تھے ، اور نہایت محکم و دل نشین طریقے سے ان کی نامعقولیت کا پردہ فاش کیا گیا ہے ، تا کہ معاشرے کا ہر فرد ، جس کے اندر کچھ بھی معقولیت موجود ہو ، یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ آخر یہ کیسی جہالتیں ہیں جن سے ہماری قوم بری طرح چمٹی ہوئی ہے ، اور جو شخص ہمیں ان کے چکر سے نکالنے کی کوشش کر رہا ہے اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئی ہے ۔ کلام کا آغاز اس طرح کیا گیا ہے کہ تم لوگ اپنی شرارتوں کے بل پر یہ چاہتے ہو کہ نزول روک دیا جائے ، مگر اللہ نے کبھی اشرار کی وجہ سے انبیاء کی بعثت اور کتابوں کی تنزیل نہیں روکی ہے ، بلکہ ان ظالموں کو ہلاک کر دیا ہے جو اس کی ہدایت کا راستہ روک کر کھڑے ہوئے تھے ۔ یہی کچھ وہ اب بھی کرے گا ۔ آگے چل کر آیات 41 ۔ 43 ۔ اور 79 ۔ 80 میں یہ مضمون پھر دہرایا گیا ہے ۔ جو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کے درپے تھے ان کو سناتے ہوئے حضور سے فرمایا گیا ہے کہ تم خواہ زندہ رہو یا نہ رہو ، ان ظالموں کو ہم سزا دے کر رہیں گے ۔ اور خود ان لوگوں کو صاف صاف متنبہ کر دیا گیا ہے کہ اگر تم نے ہمارے نبی کے خلاف ایک اقدام کا فیصلہ کر لیا ہے تو ہم بھی پھر ایک فیصلہ کن قدم اٹھائیں گے ۔ اس کے بعد بتایا گیا ہے کہ وہ مذہب کیا ہے جسے یہ لوگ سینے سے لگائے ہوئے ہیں ، اور وہ دلائل کیا ہیں جن کے بل بوتے پر یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ کر رہے ہیں ۔ خود مانتے ہیں کہ زمین و آسمان کا ، اور ان کا اپنا اور ان کے معبودوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ یہ بھی جانتے اور مانتے ہیں کہ جن نعمتوں سے یہ فائدہ اٹھا رہے ہیں وہ سب اللہ کی دی ہوئی ہیں ۔ پھر بھی دوسروں کو اللہ کے ساتھ خدائی میں شریک کرنے پر اصرار کیے چلے جاتے ہیں ۔ بندوں کو اللہ کی اولاد قرار دیتے ہیں ۔ اور اولاد بھی بیٹیاں جنہیں خود اپنے لیے ننگ و عار سمجھتے ہیں ۔ فرشتوں کو انہوں نے دیویاں قرار دے رکھا ہے ۔ ان کے بت عورتوں کی شکل کے بنا رکھے ہیں ۔ انہیں زنانہ کپڑے اور زیور پہناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ ان کی عبادت کرتے ہیں اور ان ہی سے منتیں اور مرادیں مانگتے ہیں ۔ آخر انہیں کیسے معلوم ہوا کہ فرشتے عورتیں ہیں ؟ ان جہالتوں پر ٹوکا جاتا ہے تو تقدیر کا بہانہ پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اللہ ہمارے اس کام کو پسند نہ کرتا تو ہم کیسے ان بتوں کی پرستش کر سکتے تھے ۔ حالانکہ اللہ کی پسند اور ناپسند معلوم ہونے کا ذریعہ اس کی کتابیں ہیں نہ کہ وہ کام جو دنیا میں اس کی مشیت کے تحت ہو رہے ہیں ۔ مشیت کے تحت تو ایک بت پرستی ہی نہیں ، چوری ، زنا ، ڈاکہ ، قتل ، سب ہی کچھ ہو رہا ہے ۔ کیا اس دلیل سے ہر اس برائی کو جائز و برحق قرار دیا جائے گا جو دنیا میں ہو رہی ہے ؟ پوچھا جاتا ہے کہ اپنے اس شرک کے لیے تمہارے پاس اس غلط دلیل کے سوا کوئی اور سند بھی ہے ، تو جواب دیتے ہیں کہ باپ دادا سے یہ کام یوں ہی ہوتا چلا آ رہا ہے ۔ گویا ان کے نزدیک کسی مذہب کے حق ہونے کے لیے یہ کافی دلیل ہے ۔ حالانکہ ابراہیم علیہ السلام ، جن کی اولاد ہونے پر ہی ان کے سارے فخر و امتیاز کا مدار ہے ، باپ دادا کے مذہب کو لات مار کر گھر سے نکل گئے تھے اور انہوں نے اسلاف کی ایسی اندھی تقلید کو رد کر دیا تھا جس کا ساتھ کوئی دلیل معقول نہ دیتی ہو ۔ پھر اگر ان لوگوں کو اسلاف کی تقلید ہی کرنی تھی تو اس کے لیے بھی اپنے بزرگ ترین اسلاف ، ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کو چھوڑ کر انہوں نے اپنے جاہل ترین اسلاف کا انتخاب کیا ! ان سے کہا جاتا ہے کہ کیا کبھی کسی نبی نے اور خدا کی طرف سے آئی ہوئی کسی کتاب نے بھی یہ تعلیم دی ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے بھی عبادت کے مستحق ہیں ، تو یہ عیسائیوں کے اس فعل کو دلیل میں پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے عیسیٰ ابن مریم کو ابنُ اللہ مانا اور ان کے پرستش کی ۔ حالانکہ سوال یہ نہ تھا کہ کسی نبی کی امت نے شرک کیا ہے یا نہیں ، بلکہ یہ تھا کہ خود کسی نبی نے شرک کی تعلیم دی ہے ۔ ؟ عیسیٰ ابن مریم نے کب کہا تھا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں اور تم میری عبادت کرو ۔ ان کی اپنی تعلیم تو وہی تھی جو دنیا کے ہر نبی نے دی ہے کہ میرا رب بھی اللہ ہے اور تمہارا رب بھی ، اسی کی تم عبادت کرو ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت تسلیم کرنے میں انہیں تامل ہے تو اس بنا پر کہ ان کے پاس مال و دولت اور ریاست وجاہت تو ہے ہی نہیں ۔ کہتے ہیں کہ اگر خدا ہمارے ہاں کسی کو نبی بنانا چاہتا تو ہمارے دونوں شہروں ( مکہ و طائف ) کے بڑے آدمیوں میں سے کسی کو بناتا ۔ اسی بنا پر فرعون نے بھی حضرت موسیٰ کو حقیر جانا تھا اور کہا تھا کہ آسمان کا بادشاہ اگر مجھ زمین کے بادشاہ کے پاس کوئی ایلچی بھیجتا تو اسے سونے کے کنگن پہنا کر ، فرشتوں کی ایک فوج اس کی اردلی میں دے کر بھیجتا ۔ یہ فقیر کہاں سے آ کھڑا ہوا ؟ فضیلت مجھے حاصل ہے کہ مصر کی بادشاہی میری ہے اور دریائے نیل کی نہریں میری ماتحتی میں چل رہی ہیں ۔ یہ شخص میرے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتا ہے کہ نہ مال رکھتا ہے نہ اقتدار ۔ اس طرح کفار کی ایک ایک جاہلانہ بات پر تنقید کرنے اور اس کے نہایت معقول و مدلل جوابات دینے کے بعد آخر میں صاف صاف کہا گیا ہے کہ نہ خدا کی کوئی اولاد ہے ، نہ آسمان و زمین کے خدا الگ الگ ہیں ، نہ اللہ کے ہاں کوئی ایسا شفیع ہے جو جان بوجھ کر گمراہی اختیار کرنے والوں کو اس کی سزا سے بچا سکے اللہ کی ذات اس سے منزہ ہے کہ کوئی اسکی اولاد ہو ۔ وہی اکیلا ساری کائنات کا خدا ہے ، باقی سب اس کے بندے ہیں نہ کہ اس کے ساتھ خدائی صفات و اختیارات میں شریک ۔ اور شفاعت اس کے ہاں صرف وہی کر سکتے ہیں جو خود حق پرست ہوں ، اور ان ہی کے لیے کر سکتے ہیں جنہوں نے دنیا میں حق پرستی اختیار کی ہو ۔
تعارف سورۃ الزخرف اس سورت کا مرکزی موضوع مشرکین مکہ کی تردید ہے جس میں ان کے اس عقیدے کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا ہے جس کی رو سے وہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے، نیز وہ اپنے دین کو صحیح قرار دینے کے لئے یہ دلیل دیتے تھے کہ ہم نے اپنے باپ دادؤں کو اسی طریقے پر پایا ہے، اس کے جواب میں اول تو یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ قطعی عقائد کے معاملے میں باپ دادؤں کی تقلید بالکل غلط طرز عمل ہے، اور پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا حوالہ دے کر فرمایا گیا ہے کہ اگر باپ دادؤں ہی کے پیچھے چلنا ہے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کیوں نہیں کرتے، جنہوں نے شرک سے کھلم کھلا بیزاری کا اعلان فرمایا تھا، مشرکین آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو اعتراضات کیا کرتے تھے اس سورت میں ان کا جواب بھی دیا گیا ہے، ان کا ایک اعتراض یہ تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ کو کوئی پیغمبر بھیجنا ہی تھا تو کسی دولت مند سردار کو اس مقصد کے لئے کیوں نامزد نہیں کیا گیا، اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں یہ واضح فرمایا ہے کہ دنیوی مال ودولت کا انسان کے تقدس اور اللہ تعالیٰ کے تقرب سے کوئی تعلق نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کافروں کو بھی سونا چاندی اور دنیا بھر کی دولت دے سکتا ہے ؛ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقرب ہیں، کیونکہ آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں اس مال ودولت کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اس سورت نے یہ بھی واضح فرمایا ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ معاشی وسائل کی تقسیم اپنی حکمت کے مطابق ایک خاص انداز سے فرماتے ہیں، جس کے لئے ایک مستحکم نظام بنایا گیا ہے، اسی ذیل میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بھی اختصار کے ساتھ بیان فرمایا ہے ؛ کیونکہ فرعون کو بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر یہی اعتراض تھا کہ وہ دنیوی مال ودولت کے اعتبار سے کوئی بڑی حیثیت نہیں رکھتے، اور فرعون کے پاس سب کچھ ہے ؛ لیکن انجام یہ ہوا کہ فرعون اپنے کفر کی وجہ سے غرق ہوا، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غالب آکر رہے، نیز اس سورت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بھی مختصر ذکر فرماکر ان کی صحیح حیثیت واضح فرمائی گئی ہے۔ ‘‘ زخرف ’’ عربی زبان میں سونے کو کہتے ہیں اور اس سورت کی آیت نمبر : ٣٥ میں اس کا ذکر اس سیاق میں کیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو سارے کافروں کو سونے ہی سونے سے نہال کردے، اسی وجہ سے اس سورت کا نام زخرف ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم :٭اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو عربی زبان میں اس لئے نازل کیا ہے تا کہ اس کتاب کے اولین مخاطب اہل مکہ ( اور قیامت تک آنے والے) اس کو آسانی سے سمجھ کر اس پر عمل کرسکیں لیکن انہوں نے اس پر عمل کرنے کے بجائے اس سے منہ پھیرا اور اس کا مذاق اڑایا۔ فرمایا کہ انہیں یاد کھنا چاہیے کہ ان سے پہلے اللہ کے پیغمبر جب بھی اللہ کی کتابیں لے کر آئے تو ان کا مذاق اڑایا گیا اور ان کی تعلیمات کو ان کی قوم نے نظر انداز کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنی نا فرمانیوں کی سزا بھگت کر تباہ و برباد ہوگئے۔ حالانکہ وہ ان سے زیادہ طاقت ور اور دنیا بھر کے وسائل رکھتے تھے۔ جب وہ نہ بچ سکے تو تم اللہ کے عذاب سے کیسے بچ سکتے ہو۔ ٭فرمایا تم اس بات کو مانتے ہو کہ زمین و آسمان کو اللہ نے پیدا کیا لیکن پھر بھی تم اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو اور اس بات کا عقیدہ رکھتے ہو کہ فرشتے جو اللہ کی فرماں بردار مخلوق ہیں وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں جو قیامت کے دن تمہاری سفارش کرکے تمہیں عذاب الٰہی سے بچا لیں گے ۔ فرمایا کہ تمہارا یہ عقیدہ بالکل عقیدہ بالکل غلط ہے اور اللہ کی شدید نا شکری ہے۔ ( لڑکا ہو یا لڑکی دونوں کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور پیدا ہونے میں دونوں برابر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ سے فرمایا تمہارا یہ حال ہے کہ اگر تمہارے گھر میں لڑکی پیدا ہوجاتی ہے تو تم شرمندگی سے منہ چھپائے پھرتے ہو تمہارے چہرے تاریک ہوجاتے ہیں لیکن تم اللہ کی فرمانبردار مخلوق فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہو یعنی اپنے لیے بیٹوں کو پسند کرتے ہو اور اللہ کے لیے بیٹیوں کو کیسا عجیب انصاف ہے ؟ ) ٭لڑکایا لڑکی دونوں کو اللہ نے پیدا کیا لیکن یہ کتنی عجیب بات ہے کہ تم نے اللہ کے فرشتوں کو اس کی بیٹیاں سمجھ رکھا ہے خود تمہارا یہ حال ہے کہ اگر تمہارے گھر میں بیٹی پیدا ہوجائے تو شرمندگی سے تمہارا چہرہ سیاہ اور تاریک پڑجاتا ہے تم کیسے عجیب لوگ ہو کہ اپنے لیے بیٹوں کو پسند کرتے ہو اور اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہو۔ ٭کفار قریش کہتے تھے کہ اگر ہماری بت پرستی اللہ کو ناپسند ہوتی تو وہ ہمیں ( اپنے گھر میں) ان کی عبادت سے جبراً روک دیتا ۔ اللہ نے ان کو اس بےوقوفی کی بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا اگر کوئی شخص چوری کرتا ہے یا کسی کو قتل کرتا ہے یا کوئی ناپسندیدہ فعل کرتا ہے کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ اگر اللہ کو پسند نہ ہوتا تو یہ کام میں کیسے کرسکتا تھا ؟ ٭جب ان سے کہا جاتا کہ وہ ایک اللہ کو چھوڑ کر سیکڑوں بتوں کی عبادت و بندگی کیوں کرتے ہیں ؟ وہ یہ کہتے کہ ہم نہ اپنے باپ دادا کو اسی پر پایا ہے۔ اللہ نے فرمایا تم نے باپ دادا کی اندھی تقلید کا ذکر تو کیا لیکن تم نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ ان کی نا فرمانیوں کا انجام کیا ہوا ؟ وہ لوگ غیر اللہ کی عبادت کرنے کی وجہ سے اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکے۔ ٭حضرت ابراہیم خلیل (علیہ السلام) اللہ نے زندگی بھر اللہ کے دین کو پہنچانے اور قوم کو شرک و کفر اور بت پرستی کی لعنت سے نجات دلانے کی جدوجہد فرمائی لیکن جن لوگوں پر مال اور دولت کا بھوت سوار تھا انہوں نے ان کی ہر بات ماننے سے صاف انکار کیا ۔ ( حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے ان کو بغیر باپ کے معجزہ کے طور پر پیدا کیا تو لوگوں نے ان کو مبعود بنا لیا حالانکہ وہ زندگی بھر توحید کی تعلیم دیتے رہے۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کو قیامت کے دن سے ڈرنا چاہیے جو ان سے بہت دور نہیں ہے۔ یہ وہ دن ہوگا جب دوست بھی تمہارے دشمن بن جائیں گے لیکن اہل ایمان آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور ہمدرد ہوں گے۔ ) ٭اللہ نے فرمایا وہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ کو قرآن نازل کرنا ہی تھا تو مکہ کے مال دار ، صاحب حیثیت اور تجربہ کار لوگوں میں سے کسی پر نازل کردیا جاتاتو ہم اس کو آسانی سے مان لیتے۔ جواب میں فرمایا یہ تو اللہ کے نظام کا ایک حصہ ہے وہ جس کو چاہے نبوت کی نعمت سے نواز دیتا ہے وہ کسی کے کہنے سے نبوت نہیں دیتا فرمایا کہ تم دیکھتے ہو دنیا میں کوئی غریب ہے کوئی امیر ہے کوئی آقا ہے کوئی غلام ہے ۔ کیا تم ان میں بھی کہتے ہو کہ فلاں غریب کیوں ہے اور دوسرا مال دار اور رئیس کیوں ہے ؟ فرمایا اللہ کی نظر میں یہ سرداریاں اور مال و دولت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اللہ کے خزانوں میں کمی نہیں ہے ۔ اگر وہ چاہتا تو لوگوں پر سونے کی بارش برسا دیتا کہ ان کے گھروں میں سونے چاندی کے ڈھیر ہوتے مگر اس نے ایسا نہیں کیا ورنہ لوگ اسی طرف ڈھلک جاتے ۔ فرمایا کہ انسان کی قدر و قیمت جاننے اور پہنچاننے کے لیے دولت اور عزت و عظمت معیار نہیں ہے بلکہ انسان کے اعلیٰ اخلاق اور اس کی شرافت اور نیکی سب سے بڑا معیار ہے کیونکہ یہ مال و دولت اور عزت و عظمت تو دنیاوی ساز و سامان ہیں جو وقتی ہیں ہمیشہ اس کے ساتھ نہیں رہیں گے۔ جو لوگ آخرت کا سامان کرتے اور اللہ سے ڈرتے ہیں در حقیقت کامیاب وہی لوگ ہیں۔ ٭فرمایا جب آدمی اپنا گمراہی کا مزاج بنا لیتا ہے تو اللہ اس پر ایک شیطان مسلط کردیتا ہے جو اس کو برے اور گندے راستوں کی طرف لے جاتا ہے اور اچھی بات سے نفرت دلاتا ہے لیکن جب قیامت کے دن اس شیطان کی وجہ سے وہ جہنم میں لے جایاجائیگا تو اس وقت وہ اپنے ساتھی شیطان سے نفرت کرے گا پچھتائے گا مگر اس وقت اس کا پچھتانا اور شرمندہ ہونا اس کے کام نہ آئے گا اور وہ عذاب الٰہی سے بچ نہ سکے گا ۔ ٭فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جب یہ کفار و مشرکین جان بوجھ کر اندھے ، بہرے اور گونگے بنے ہوئے ہیں اور ہر گمراہی کی طرف فوراً لپک کر جاتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کی فرمانیوں کی پروا نہ کیجئے اور اس بات پر غم نہ کیجئے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا فریضہ تبلیغ دین ادا کرتے رہیے آپ ہی سیدھے راستے پر ہیں۔ ٭فرمایا کہ لوگوں کا یہ تصور کہ نبی کو مال دار اور صاحب حیثیت ہونا چاہیے تھا یہ کوئی نبی بات نہیں ہے بلکہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو للکارا اور معجزات دکھائے تو اس نے بھی اپنی قوم سے کہا تھا کہ میرے پاس حکومت و سلطنت ، عیش و عشرت کے سامان ، خوبصورت باغات اور مال و دولت کے ڈھیر ہیں لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس کیا رکھا ہے ؟ یہ موسیٰ اگر واقعی اللہ کے پیغمبر ہوتے تو زمانہ کے دستور کے مطابق ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن ہوتے ان کے آس پاس فرشتے ہوتے۔ فرمایا کہ فرعون نے ان باتوں سے خود ہی گمراہی خرید لی ، ، خود بھی گمراہ ہوا اور دوسروں کو بھی گمراہی میں مبتلا کردیا ۔ بد ترین انجام سے دو چار ہوا خود بھی ڈوب مرا اور اپنی پوری قوم کو بھی مروا دیا اور تباہ و برباد کرا دیا۔ ٭حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب اللہ نے ان کو بغیر باپ کے معجزہ کے طور پر پیدا کیا تو لوگوں نے ان کو اپنا معبود بنا لیا حالانکہ وہ زندگی بھر توحید کی تعلیم دیتے رہے۔ ایسے نافرمانوں کو قیامت کے دن سے ڈرنا چاہیے جو ان سے بہت دور نہیں ہے۔ اس دن دوست بھی دشمن بن جائیں گے لیکن اہل ایمان آپس میں ایک دوسرے کے دوست ، ہمدرد اور غم گسارہوں گے۔ ٭قیامت کے دن اہل ایمان کو نہ تو کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے۔ ان کی صالح اور نیک بیویاں بچے ان کے ساتھ ہوں گے۔ سونے چاندی کے برتنوں میں کھائیں گے ۔ جس چیز کی خواہش کریں گے وہ ان کی ملے گی۔ ان کے بر خلاف مجرمین کا یہ حال ہوگا کہ وہ عذاب الٰہی کو سامنے دیکھ کر جہنم کے داروغہ جس کا نام مالک ہوگا اس سے فریاد کریں گے کہ اپنے اللہ سے یہ کہہ دو کہ وہ ہمیں موت کی نیند سلا دے تا کہ ہم اس عذاب سے بچ سکیں مگر ان کو موت نہ آئے گی۔ ٭اللہ بےنیاز ہے ۔ زمین و آسمان اور اس کے درمیان جو کچھ ہے وہ ان سب کا مالک اور بادشاہ ہے۔ انبیاء اور نیک لوگوں کے علاوہ کسی کی سفارش نہ سنے گا ۔ فرمایا اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اللہ کا پیغام پہنچاتے رہیے اگر کوئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آڑے آتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہیے تم سلامت رہو ۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان کا بھیانک انجام دیکھیں گے جب ان کے سامنے سے سارے پردے ہٹ جائیں گے۔
سورة الزّخرف کا تعارف یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اس کی نواسی آیات اور سات رکوع ہیں۔ ربط سورة : سورة حٰمٓ السجدۃ اور الشوریٰ کی طرح اس سورة کی ابتداء بھی قرآن مجید کے تعارف سے ہوتی ہے۔ ارشاد ہوا کہ قرآن بڑی واضح کتاب ہے اور اس کو ہم نے عربی زبان میں نازل کیا ہے اور یہ ہمارے پاس لوح محفوظ میں بھی درج ہے اس کا مرکزی مضمون اللہ کی توحید ہے اور اس میں خاص طور پر اس بات کی نفی کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ یا کسی اور کو اپنی بیٹیاں نہیں بنایا۔ اس وضاحت کے ساتھ مشرکین کو انسانی فطرت کے حوالے سے یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ تم اپنے لیے بیٹیوں کی بجائے بیٹے پسند کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کے لیے ملائکہ کو بیٹیاں قرار دیتے ہو۔ سوچو اور غور کرو کہ یہ بات حقیقی علم اور فطرت کے خلاف کس قدر ہے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کا مشرکانہ عقیدہ بیان کرنے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نصیحت کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنی اولاد کو شرک سے بچنے کی تلقین کی تھی۔ پھر کفار کے اس مطالبے کا ذکر کیا ہے کہ ان کا کہنا تھا کہ قرآن مجید مکہ یا طائف کے کسی بڑے آدمی پر نازل کیوں نہیں کیا گیا۔ اس کے جواب میں یہ ارشاد فرمایا کیا آپ کے رب کی رحمت تقسیم کرنے کا انہیں اختیار ہے یا اللہ تعالیٰ اپنی رحمت تقسیم کرنے پر اختیار رکھتا ہے اس کے ساتھ ہی یہ وضاحت فرمائی کہ لوگ دنیا کے مال کو عزت کا باعث سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی پر کا ہ کے برابر بھی حیثیت نہیں۔ دنیا کی دولت بےدین شخص کے لیے صرف آزمائش نہیں بلکہ سزا بھی ہوا کرتی ہے کیونکہ اس سے گمراہی میں اضافہ ہوتا ہے۔ دنیادار شخص اللہ کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے جس وجہ سے اس پر شیطان مسلط کردیا جاتا ہے۔ ایسے شخص کو قیامت کے دن پتہ چل جائے گا کہ شیطان اس کا کس قدر بدترین ساتھی تھا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی کشمکش کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ بھی بتلایا کہ جب فرعون اپنی حد سے آگے بڑھاتو اللہ تعالیٰ نے اسے عبرت کا نشان بنا دیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد عیسیٰ ( علیہ السلام) کا ذکر ہوا اور ان کی دعوت کی وضاحت کی گئی جس طرح نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) توحید کی دعوت دے رہے ہیں یہی دعوت عیسیٰ ( علیہ السلام) بھی دیا کرتے تھے۔ توحید ہی صراط مستقیم کی بنیاد اور اساس ہے۔ سورت کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن متقین کو حکم ہوگا کہ نہ آج تمہیں خوف کھانا چاہیے اور نہ آئندہ تمہیں کسی قسم کا غم ہوگا۔ متقین کو ان کی نیک بیویوں کے ساتھ جنت میں داخل کیا جائے گا۔ اور مجرمین ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ ان کا سب سے بڑا گناہ شرک ہوگا اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹ بولتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ یا کچھ لوگوں کو اپنی اولاد بنا لیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ ان باتوں سے مبّرا اور بےنیاز ہے۔
سورة الزخرف ایک نظر میں اس سورت میں ان مشکلات اور مصائب کا ایک حصہ پیش کیا گیا ہے جن سے اس کے زمانہ نزول میں تحریک اسلامی دوچار تھی۔ اور وہ رکاوٹیں اور اعتراضات بھی اس میں نقل کئے گئے جن سے دعوت اسلامی کو سابقہ درپیش تھا۔ ان موضوعات کے ساتھ ساتھ یہ بھی اس سورت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان مسائل کو قرآن مجید کس طرح حل کر رہا تھا۔ چاہے ان کا تعلق خیالات سے ہو یا عمل سے ہو۔ اور یہ کہ قرآن مجید بت پرستانہ عقائد اور افسانوں کی جگہ کس خوبصورتی کے ساتھ اپنے حقائق اور قرآنی اقدار کو لوگوں کے ذہن میں بٹھا رہا تھا ۔ اور جاہلی اقدار کو ایک ایک کر کے ذہنوں سے محو کر رہا تھا۔ یہ جاہلی اقدار اس وقت تو ہر انسان کے ذہن میں بیٹھی ہوئی تھیں ، مگر آج بھی ان کی کوئی کمی نہیں ہے۔ یہ ہر زمان و مکان میں موجود رہی ہیں۔ جاہلیت کی بت پرستی اس بات کی قائل تھی کہ ان جانوروں میں جن کو اللہ نے بندوں کے لئے مسخر کیا ہے ، ایک حصہ اللہ کا ہے اور ایک حصہ ان کے الہوں کا ہے۔ وجعلوا للہ مما۔۔۔۔۔۔ یصل الی شرکائھم (٦ : ١٣٦) “ انہوں نے اللہ کے لئے خود اس کے پیدا کئے ہوئے کھیتوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے اور کہتے ہیں یہ اللہ کے لئے زعم ہے ، بزعم خود اور یہ ہمارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لئے ہے۔ پھر وہ جو ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لئے ہے ، وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا اور مگر جو اللہ کے لئے ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے ”۔ اور انہی جانوروں کے بارے میں انہوں نے اور بیشمار خرافات اور افسانے بھی گھڑ رکھے تھے ، سب کے سب نظریاتی انحراف سے پیدا ہوئے تھے۔ بعض جانور ایسے تھے جن پر سواری ممنوع تھی۔ بعض کے گوشت کو حرام کردیا گیا تھا۔ وقالوا ھذہ انعام ۔۔۔۔۔۔ اسم اللہ علیھا (٦ : ١٣٨) “ اور کہتے ہیں یہ جانور اور کھیت محفوظ ہیں ، انہیں صرف وہی لوگ کھا سکتے ہیں جنہیں ہم کھلانا چاہیں ، حالانکہ یہ پابندی ان کی خود ساختہ ہے۔ پھر کچھ جانور ہیں جن پر سواری اور باربرداری حرام کردی گئی ہے اور کچھ جانور ہیں جن کے اوپر یہ اللہ کا نام نہیں لیتے ”۔ اس سورت میں اس قسم کے نظریاتی اور عقائد کی بےراہ روی کی اصلاح کی گئی ہے۔ انسانی ذہن کو اصل فطرت اور پہلی حقیقت کی طرف لوٹایا گیا ہے کہ تمام جانور اللہ کی مخلوق ہیں۔ یہ حیات روئے زمین پر اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ یہ جانور بھی اس کا حصہ ہیں۔ اور ان کی تخلیق بھی زمین و آسمان کی تخلیق کے ساتھ وابستہ ہے۔ اللہ نے ان کو انسان کے لئے پیدا کیا ہے تا کہ انہیں استعمال کریں اور اپنے رب کی ان نعمتوں پر رب کا شکر ادا کریں۔ یہ نہ کریں کہ اللہ کے لئے بعض لوگوں کو شریک بنائیں اور پھر اللہ کی چیزوں میں سے اپنے لیے اور اپنے شرکاء کے لئے حصے مقرر کریں۔ حالانکہ وہ عقیدتاً اس بات کا بھی اعتراف کرتے ہیں کہ ان چیزوں کا خالق صرف اللہ ہے۔ لیکن اس عقیدے کے لازمی تقاضے سے پھرجاتے ہیں اور اس اقرار کا کوئی اثر ان کی زندگی میں نظر نہیں آتا۔ اور وہ خرافات اور افسانوں کے قائل ہیں۔ ولئن سالتھم من ۔۔۔۔۔ العزیز العلیم (٩) الذی جعل ۔۔۔۔۔ لعلکم تھتدون (١٠) والذی نزل من ۔۔۔۔۔ کذلک تخرجون (١١) والذین خلق ۔۔۔۔۔۔ ما ترکبون (١٢) لتستوا علی ۔۔۔۔۔ لہ مقرنین (١٣) وانا الی ربنا لمنقلبون (١٤) (٤٣ : ٩ تا ١٤) “ اگر تم ان سے پوچھو کہ زمین و آسمان کو کس نے پیدا کیا ہے ، تو وہ خود کہیں گے کہ “ انہیں اسی زبردست علیم ہستی نے پیدا کیا ہے ”۔ وہی جا جس نے تمہارے لیے اس زمین کو گہوارہ بنایا۔ اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنا دئیے تا کہ تم اپنی منزل مقصود کی راہ پاسکو۔ جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اتارا اور اس کے ذریعے سے مردہ زمین کو اٹھایا۔ اس طرح ایک روز تم زمین سے برآمد کئے جا ؤ گے۔ وہی جس نے یہ تمام جوڑے پیدا کئے اور جس نے تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا۔ تا کہ تم ان کی پشت پر چڑھو اور جب ان پر بیٹھو تو ۔۔۔۔۔۔ یاد کرو ، اور کہو کہ “ پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے ان چیزوں کو مسخر کردیا۔ ورنہ ہم انہیں قابو میں کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ اور ایک روز ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ”۔ زمانہ جاہلیت کی بت پرستی کے یہ عقائد بھی تھے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں حالانکہ اپنے لیے وہ بیٹیوں کو پسند نہ کرتے تھے لیکن اللہ کے لئے بیٹیاں بناتے تھے۔ اور اللہ کے سوا ان کی پوجا بھی کرتے تھے۔ اور پھر یہ کہتے تھے کہ ہم جو ان کی عبادت کرتے ہیں تو اللہ کی مرضی اور مشیت سے کرتے ہیں۔ اگر اللہ نہ چاہتا تو ہم ایسا نہ کرتے اور یہ افسانہ محض ان کی نظریاتی بگاڑ سے پیدا ہوا تھا۔ اس سورت میں اللہ ان کے سامنے خود ان کے اقوال رکھتا ہے اور فطری منطق سے استدلال کرتا ہے کہ یہ خرافات اور یہ اوہام اور افسانے کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ وجعلوا لہ ۔۔۔۔۔ لکفور مبین (١٥) ام اتخذ ۔۔۔۔۔ بالبین (١٦) واذا بشر ۔۔۔۔۔۔ وھوکظیم (١٧) او من ینشئوا فی ۔۔۔۔ مبین (١٨) وجعلوا الملئکۃ ۔۔۔۔۔ ویسئلون (١٩) وقالوا لو ۔۔۔۔۔۔ الا یخرصون (٢٠) ام اتینھم ۔۔۔۔۔۔ مستمسکون (٢١) بل قالوا انا ۔۔۔۔۔ مھتدون (٢٢) (٤٣ : ١٥ تا ٢٢) “ ان لوگوں نے اس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جزء بنا ڈالا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلا احسان فراموش ہے۔ کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اس خدائے رحمٰن کی طرف منسوب کرتے ہیں اس کی ولادت کا مژدہ جب خود ان میں سے کسی کو دیا جاتا ہے ، تو اس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے۔ کیا اللہ کے حصے میں وہ اولاد آئی جو زیوروں میں پالی جاتی ہے اور بحث و حجت میں اپنا مدعا اچھی طرح واضح بھی نہیں کرسکتی۔ انہوں نے فرشتوں کو ، جو خدائے رحمٰن کے خاص بندے ہیں ، عورتیں قرار دے لیا۔ کیا ان کے جسم کی ساخت انہوں نے دیکھ لی ہے ؟ ان کی گمراہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جوابدہی کرنی ہوگی یہ کہتے ہیں ، اگر خدائے رحمٰن چاہتا تو ہم ان کو کبھی نہ پوجتے۔ یہ اس معاملہ کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے محض تیر تکے لڑاتے ہیں۔ کیا ہم نے اس سے پہلے کوئی کتاب ان کو دی تھی جس کی سند یہ اپنے پاس رکھتے ہوں۔ نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چلتے ہیں ” جب ان سے کہا جاتا کہ تم تو مورتیوں اور پتھروں اور درختوں کی پوجا کرتے ہو اور تم جن چیزوں کی پوجا کرتے ہو وہ تو جہنم کا ایندھن ہیں کہ جن معبودوں کی تم پوجا کرتے ہو تم اور وہ دونوں جہنم میں ہوں گے تو وہ اس واضح کلام کی تحریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پھر عیسیٰ (علیہ السلام) ۔۔۔۔ کا کیا حال ہوگا ، ان کی قوم نے تو ان کی بندگی کی ہے۔ کیا وہ آگ میں ڈالے جائیں گے ، پھر وہ کہتے ہیں یہ مورتیاں تو فرشتوں کی نقل ہیں اور ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں کیا ان کو بھی جہنم میں ڈالا جائے گا۔ لہٰذا ہم ان کی عبادت کرتے ہوئے بہرحال نصاریٰ کی حال سے بہتر ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بندگی کرتے تھے۔ کیونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) بہرحال بشر تھے۔ اور ہمارے معبود فرشتے ہیں۔ اس سورت میں ان کے اس خلط مبحث کا بھی جواب دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین نے ان کے بعد جو ان کی بندگی شروع کی ہے تو اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے۔ وہ بری الذمہ ہیں۔ ولما ضرب ۔۔۔۔۔۔ منہ یصدون (٥٧) وقالوا ۔۔۔۔۔۔ قوم خصمون (٥٧) ان ھو الا ۔۔۔۔۔ اسرائیل (٥٩) (٤٣ : ٥٧ تا ٥٩) “ اور جونہی ابن مریم کی مثال دی گئی ، تمہاری قوم کے لوگوں نے اس پر غل مچا دیا اور لگے کہنے کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ ؟ یہ مثال وہ تمہارے سامنے کج بحثی کے لئے لاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ۔ ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا اور بنی اسرائیل کے لئے اپنی قدرت کا نمونہ بنا دیا۔ ان کا زعم یہ تھا کہ وہ ملت ابراہیمی کے پیروکار ہیں۔ لہٰذا وہ دوسرے اہل کتاب سے زیادہ ہدایت پر ہیں اور عقائد کے اعتبار سے افضل ہیں۔ حالانکہ وہ اس بت پرستانہ جاہلیت میں گم کردہ راہ تھے۔ چناچہ اس سورت میں حضرت ابراہیم کی حقیقت بتائی گئی اور بتایا کیا کہ ابراہیم کی ملت تو خالص توحید کی ملت تھی۔ کلمہ توحید تو ابراہیم (علیہ السلام) کا کلمہ ہے ، انہی کی وراثت ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو اسی کلمے کو لے کر آئے ہیں لیکن انہوں نے اس کلمے کا اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا استقبال اس طرح نہیں کیا جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد اور ملت کا کرنا چاہئے تھا۔ واذ قال ۔۔۔۔۔۔ تعبدون (٢٦) الا الذی ۔۔۔۔۔۔ سیھدین (٢٧) وجعلھا کلمۃ ۔۔۔۔۔۔ یرجعون (٢٨) بل متعت ۔۔۔۔ رسول مبین (٢٩) ولما جاءھم ۔۔۔۔۔ بہ کفرون (٣٠) (٤٣ : ٢٦ تا ٣٠) “ یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم نے اپنے باپ اور قوم سے کہا تھا کہ جن کی بندگی کرتے ہو ، میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میرا تعلق صرف اس سے ہے جس نے مجھے پیدا کیا ، وہی میری رہنمائی کرے گا ”۔ اور ابراہیم یہی کلمہ اپنے پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ گیا تا کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔ بلکہ میں انہیں اور ان کے باپ دادا کو متاع حیات دیتا رہا یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور کھول کھول کر بیان کرنے والا رسول آگیا مگر جب وہ حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں ”۔ وہ اس حکمت نہ سمجھ سکے کہ اللہ نے کیوں رسول کو منتخب کر کے بھیجا۔ ان کی نظروں میں زمین ہی کی معمولی ، کھوٹی اور بےقدریں بیٹھ گئیں اور انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی دنیا پرستوں میں سے ایک آدمی ہی سمجھا۔ اس سلسلے میں ایک رسول کے بارے میں ان کے اقوال ، ان کے تصورات اور ان کی سوچ کے نمونے بھی دئیے گئے ہیں اور ان کو بتایا گیا کہ رسالت کے بارے میں حقیقی سوچ کیا ہے اور یہ کہ رسول کے متعلق وہ جو سوچتے ہیں وہ محض دنیا داری کی سوچ ہے۔ بہت ہی گھٹیا قسم کی دنیا داری ۔ اسلامی اقدار پر مبنی سوچ کی ایک جھلک ان کو دکھائی جاتی ہے۔ وقالوا لولا۔۔۔۔۔ عظیم (٣١) اھم یقسمون ۔۔۔۔۔۔ یجمعون (٣٢) ولو لا ان یکون ۔۔۔۔۔۔ علیھا یظھرون (٣٣) ولبیوتھم ۔۔۔۔ یتکئون (٣٤) وزخرفا وان ۔۔۔۔۔ للمتقین (٣٥) (٤٣ : ٣١ تا ٣٥) “ کہتے ہیں کہ یہ قرآن دونوں بڑے شہروں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ نازل کیا گیا ؟ کیا تیرے رب کی رحمت یہ تقسیم کرتے ہیں۔ دنیا کی زندگی میں ان کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے ان کے درمیان تقسیم کئے۔ اور ان میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے تا کہ یہ ایک دو سرے سے خدمت لیں اور تیرے رب کی رحمت (یعنی نبوت) اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو سمیٹ رہے ہیں۔ اور یہ اندیشہ نہ وہتا کہ سارے لوگ ایک ہی طریقے کے ہوجائیں گے تو ہم خدائے رحمٰن سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں اور ان کی سیڑھیاں جن سے وہ اپنے بالاخانوں پر چڑھتے ہیں اور ان کے دروازے اور ان کے تخت جن پر وہ تکیے لگائے بیٹھے ہیں سب چاندی اور سونے کے بنا دیتے ۔ یہ تو محض حیات دنیا کی متاع ہے اور آخرت تیرے رب کے ہاں صرف متبعین کے لئے ہے ”۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ اور فرعون کے قصے کی ایک کڑی آتی ہے ، فرعون بھی اسی طرح کی قدروں پر مست ہے۔ اللہ کے مقابلے میں کبر کرتا ہے۔ جن جھوٹی قدروں پر فرعون نے فخر کیا ، ایسے فخر کرنے والوں کا انتظار بہت انجام کرتا ہے۔ ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔۔ رب العلمین (٤٦) فلما جائھم۔۔۔۔۔ ۔ منھا یضحکون (٤٧) وما نریھم ۔۔۔۔۔ لعلھم یرجعون (٤٨) وقالوا ۔۔۔۔۔ اننا لمھتدون (٤٩) فلماکشفنا ۔۔۔۔ ینکثون (٥٠) ونادی فرعون ۔۔۔۔۔ افلا تبصرون (٥١) ام انا خیر ۔۔۔۔۔ یکاد یبین (٥٢) فلو لا ۔۔۔۔۔ مقترنین (٥٣) فاستخف قومہ ۔۔۔۔۔ قوما فسقین (٥٤) فلما اسفونا ۔۔۔۔۔ اجمعین (٥٥) فجعلنھم ۔۔۔۔ للاخرین (٥٦) (٤٣ : ٤٦ تا ٥٦) “ ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان سلطنت کے پاس بھیجا اور اس نے جا کر کہا کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں۔ پھر جب اس نے ہماری نشانیاں ان کے سامنے پیش کیں تو وہ ٹھٹھے مارنے لگے۔ ہم ایک پر ایک ایسی نشانی ان کو دکھاتے چلے گئے جو پہلے سے بڑھ چڑھ کر تھی اور ہم نے ان کو عذاب میں دھر لیا کہ وہ اپنی روش سے باز آئیں۔ ہر عذاب کے موقع پر وہ کہتے : اے ساحر اپنے رب کی طرف سے جو منصب تجھے حاصل ہے ، اس کی بنا پر ہمارے لیے اس سے دعا کر ، ہم ضرور راہ راست پر آجائیں گے ، مگر جونہی کہ ہم ان پر سے عذاب ہٹا دیتے وہ اپنی بات سے پھرجاتے تھے۔ ایک دن فرعون نے اپنی قوم کے درمیان پکار کر کہا “ لوگو کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں ؟ کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آتا ؟ میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کرسکتا ؟ کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا۔ اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انہوں نے اس کی اطاعت کی ۔ در حقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ۔ آخر کار جب انہوں نے ہمیں غضبناک کردیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کو اکٹھا غرق کردیا اور بعد والوں کے لئے پیش رو اور نمونہ عبرت بنا کر رکھ دیا ”۔ غرض اس پوری سورت میں بت پرستی ، نظریاتی بگاڑ ، دنیا کی جھوٹی قدروں پر بات کی گئی ہے اور بھر پور تنقید ۔ اس سورت کے تین اسباق ہیں جیسا کہ ہم نے پہلے اشارہ کیا جن کا اکثر مواد ہم نے یہاں دے دیا ہے۔