Surat uz Zukhruf
Surah: 43
Verse: 1
سورة الزخرف
حٰمٓ ۚ﴿ۛ۱﴾
Ha, Meem.
حم
حٰمٓ ۚ﴿ۛ۱﴾
Ha, Meem.
حم
حم : حروف مقطعات کی بحث کے لئے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (١) کی تفسیر۔
خلاصہ تفسیر حم (اس کے معنی اللہ کو معلوم ہیں) قسم (ہے) اس کتاب واضح کی کہ ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ (اے عرب) تم (آسانی سے) سمجھ لو اور وہ ہمارے پاس لوح محفوظ میں پڑے رتبہ کی اور حکمت بھری کتاب ہے (پس جب وہ سمجھنے میں آسان اور خاص ہماری زیر حفاظت اور اعجاز کی وجہ سے بڑے رتبے والی اور حکیمانہ مضامین پر مشتمل ہے تو ایسی کتاب کو ضرور ماننا چاہئے لیکن اگر تم نہ مانو تو تب بھی ہم اپنی حکمت کے مقتضا سے اس کا بھیجنا اور تم کو اس کا مخاطب بنانا نہ چھوڑیں گے چناچہ ارشاد ہے کہ) کیا ہم تم سے اس نصیحت (نامہ) کو (محض) اس بات پر ہٹا دیں گے کہ تم حد (اطاعت) سے گزرنے والے ہو (اور اس کو نہیں مانتے، یعنی خواہ تم مانو یا نہ مانگو مگر نصیحت تو برابر کی جائے گی اور یہ فیض کامل ہو کر رہے گا تاکہ اس سے مومنین کو نفع ہو اور تم پر حجت قائم ہو) اور ہم پہلے لوگوں میں (باوجود ان کی تکذیب کے) بہت سے نبی بھیجتے رہے ہیں (یہ نہیں ہوا کہ ان کے جھٹلانے کی وجہ سے سلسلہ نبوت بند ہوجاتا) اور (اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیسے ہم نے ان کی تکذیب کی پرواہ نہیں کی اسی طرح آپ بھی کچھ پروا اور غم نہ کیجئے، کیونکہ) ان (پہلے) لوگوں (کا بھی یہی حال تھا کہ ان) کے پس کوئی نبی ایسا نہیں آیا جس کے ساتھ جنہوں نے استہزاء نہ کیا ہو، پھر ہم نے ان لوگوں کو جو کہ ان (اہل مکہ) سے زیادہ زور آور تھے (تکذیب اور استہزاء کی سزا میں) غارت کر ڈالا، اور پہلے لوگوں کی یہ حالت ہوچکی ہے (پس نہ آپ غم کریں کہ ان کا بھی ایسا ہی حال ہونا ہے جیسا کہ بدر وغیرہ میں ہوا اور نہ یہ بےفکر ہوں کہ نمونہ موجود ہے)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ حٰـمۗ ١ ۚ ۛوَالْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ ٢ ۙ ۛ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو مبینبَيَان والبَيَان : الکشف عن الشیء، وهو أعمّ من النطق، لأنّ النطق مختص بالإنسان، ويسمّى ما بيّن به بيانا . قال بعضهم : البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] ، وسمّي الکلام بيانا لکشفه عن المعنی المقصود إظهاره نحو : هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] . وسمي ما يشرح به المجمل والمبهم من الکلام بيانا، نحو قوله : ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] ، ويقال : بَيَّنْتُهُ وأَبَنْتُهُ : إذا جعلت له بيانا تکشفه، نحو : لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ، وقال : نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] ، وإِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] ، وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] ، أي : يبيّن، وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . البیان کے معنی کسی چیز کو واضح کرنے کے ہیں اور یہ نطق سے عام ہے ۔ کیونکہ نطق انسان کے ساتھ مختس ہے اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی بیان کہہ دیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ بیان ، ، دو قسم پر ہے ۔ ایک بیان بالتحبیر یعنی وہ اشیا جو اس کے آثار صنعت میں سے کسی حالت پر دال ہوں ، دوسرے بیان بالا ختیار اور یہ یا تو زبان کے ذریعہ ہوگا اور یا بذریعہ کتابت اور اشارہ کے چناچہ بیان حالت کے متعلق فرمایا ۔ وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] اور ( کہیں ) شیطان تم کو ( اس سے ) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے ۔ یعنی اس کا دشمن ہونا اس کی حالت اور آثار سے ظاہر ہے ۔ اور بیان بالا ختیار کے متعلق فرمایا : ۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ اگر تم نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ اور ان پیغمروں ( کو ) دلیلیں اور کتابیں دے کر ( بھیجا تھا ۔ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو ( ارشادات ) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ اور کلام کو بیان کہا جاتا ہے کیونکہ انسان اس کے ذریعہ اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرتا ہے جیسے فرمایا : ۔ هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] ( قرآن لوگوں کے لئے بیان صریح ہو ۔ اور مجمل مہیم کلام کی تشریح کو بھی بیان کہا جاتا ہے جیسے ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] پھر اس ( کے معافی ) کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے ۔ بینہ وابنتہ کسی چیز کی شروع کرنا ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] تاکہ جو ارشادت لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] کھول کر ڈرانے والا ہوں ۔إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] شیہ یہ صریح آزمائش تھی ۔ وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا ۔ وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . اور جهگڑے کے وقت بات نہ کرسکے ۔
(١۔ ٤) حم۔ یعنی جو کچھ ہونے والا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ فرما دیا اور واضھ کردیا اور قسم ہے اس کتاب کی جو کہ حلال و حرام اوامرو نواہی کو بیان کرنے والی ہے کہ جو کچھ ہونے والا تھا اس کا فیصلہ کردیا حکیم کا شعر ہے۔ اے میری قوم جو کہ ہونے والا ہے وہ ہو کر رہے گا پرندے پرواز کرتے رہیں اور ستارے نکلتے ہیں یا یہ کہ حم قسمیہ الفاظ ہیں کہ قسم ہے اس کتاب واضح کی کہ ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن کریم بنایا کہ جن حلال و حرام اوامرو نواہی کا ذکر کیا گیا ہے تم ان کو سمجھ لو۔ اور یہ قرآن کریم لوح محفوظ میں ہمارے پاس لکھا ہوا ہے جو بڑے رتبہ کی اور حلال و حرام کے بیان میں محکم ہے۔
١۔ ١٠۔ حم۔ حروف مقطعات میں سے ہے ان حروف کی تفسیر کا حال سورة بقر میں گزر چکا ہے یہ بھی اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکا ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم بہ اور جس بات پر قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم علیہ کہتے ہیں یہاں مقسم بہ وہ قرآن ہے جو عربی زبان میں سارا کا سارا پہلے لوح محفوظ سے اول آسمان پر اور پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا وہاں سے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوا تاکہ لوگ اس کے موافق عمل کرکے اپنی عقبیٰ درست کریں۔ نسائی مستدرک ٣ ؎ حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی صحیح روایتیں ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن شریف لوح محفوظ سے اول آسمان پر اترا اور پھر رفتہ رفتہ تیئس سال تک اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوتا رہا جس بات پر قسم کھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے محمد رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی طرف سے نہیں بنایا کیونکہ یہ قرآن ان پڑھ رسول پر اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ کوئی پڑھا ہوا شخص بھی بغیر غیبی مدد کے وہ باتیں نہیں بتا سکتا اس واسطے اسی قرآن کی قسم کھا کر یہ بات منکرین قرآن کو جتلائی جاتی ہے کہ یہ قرآن بلاشک اللہ کا کلام ہے لوح محفوظ اونچی اور محفوظ جگہ ہے اور قرآن اسی میں لکھا ہوا ہے اس لئے قرآن کو اونچا اور محکم فرمایا آگے مشرکین مکہ کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا کہ تم لوگوں کے جھٹلانے کے سبب سے قرآن کی آیتوں کا نازل ہونا بند نہیں ہوسکتا کیونکہ علم الٰہی میں جو لوگ راہ راست پر آنے کے قابل ٹھہر چکے ہیں وہ انہیں آیتوں کی نصیحت سے راہ پر آجائیں گے رہے ان آیتوں کو مسخرا پن میں اڑانے والے پہلے ایسے لوگ حال کے لوگوں سے قوت اور ثروت میں بڑھ کر پہلے انبیاء کے زمانہ میں بھی تھے جو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے جن کے قصے ان لوگوں کو عبرت کے لئے سنائے جا چکے ہیں اگر یہ لوگ ان کے ڈھنک پر رہے تو اخیر یہی انجام ان کا ہوگا اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ صحیح ١ ؎ بخاری و مسلم کی انس (رض) بن مالک کی حدیث اس انجام کے ذکر میں کئی جگہ اوپر گزر چکی ہے پھر فرمایا اے رسول اللہ کے اگر تم ان لوگوں سے پوچھو کہ آسمان اور زمین کس نے بنائے یہی جواب دیں گے کہ یہ سب کچھ اللہ صاحب قدرت اور صاحب علم نے پیدا کیا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی ایک اور نشانی بیان فرمائی کہ زمین کو اس نے اونچا نیچا نہیں بنایا تاکہ لوگوں کو چلنے پھرنے میں تکلیف نہ ہو بلکہ اس کو بچھونے کی طرح برابر بنایا اسی طرح زمین کاہلنا بند کرنے کے لئے اس میں پہاڑ جو ٹھونکے تو اس حکمت سے کہ ان پہاڑوں میں گھاٹیاں رکھیں تاکہ لوگوں کو ایک سہر سے دوسرے شہر کو جانے میں کچھ دشواری نہ پیش آئے۔ (٣ ؎ فتح القدیر ص ٤٦٠ ج ٥۔ ) (١ ؎ صحیح بخاری باب قتل ابی جھل ص ٥٦٦ ج ٢۔ )
١ تا ١٥۔ قسم ہے اس کتاب مبین کی یعنی ہر بات کو واضح کرنے والی کتاب اپنی عظمت وصداقت پہ خود ایک بہت بڑا گواہ ہے اور ہم نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے کہ اس کے اول مخاطب عرب اسے آسانی سے سمجھ سکیں اور دانش کی راہ اختیار کریں۔ اور یہ بھی جان لو کہ یہ کتاب بطور خاص ہماری حفاظت میں اور لوح محفوظ میں اپنے اعجاز اور حکیمانہ مضامین پر مشتمل بڑے رتبے والی ہے اس کی عظمت کا تقاضا کہ اسے حرف حرف ماناجائے گا لیکن اگر اپنی بدنصیبی سے تم نہ بھی مانو تو اس کے ذریعہ سے نصیحت کرنا ہم نہ چھوڑیں گے اور نہ قرآن کا نزول بند ہوگا۔ مبلغ کا کام بات پہنچانا ہے خواہ لوگ مانیں یا نہ مانیں۔ یہ بات بھی واضح ہوئی کہ مبلغ کو اپنا کام حکمت و دانش کے ساتھ جاری رکھناچاہیے ، اور نتائج کی پرواہ نہ کرے کہ کتنے لوگ مان رہے ہیں یا نہیں مان رہے اور بدبخت کفار کا توطریقہ یہی ہے کہ ان سے پہلوں کے پاس بھی جس قدر انبیاء آئے جو کہ اللہ کا بہت بڑا احسان تھا مگر انہوں نے انکامذاق اڑایا اور طرح طرح کی باتیں کیں جس کے نتیجے میں ہم نے ان لوگوں کو تباہ کردیا جنہیں اپنی طاقت پر بہت ناز تھا ایسی کتنی مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں اگر آپ ان سے یہ سوال کریں کہ آسمانوں اور زمین کے اس رنگا رنگ جہاں کا مالک کون ہے تو یہ بھی کہہ اٹھیں گے کہ اس کا وہی اللہ ہے جو سب پر غالب ہے اور سب شے کا علم رکھنے والا ہے ۔ کہ یہ انسان کی مجبوری ہے کہ کوئی ایسا دوسرا خالق پیش نہیں کرسکے گا مگر بدبخت ایسے کہ اطاعت کو تیار نہیں حالانکہ وہی کریم ہے جس نے زمین کو وہ خصوصیات عطاکیں کہ وہ انسانوں کے لیے اپنا دامن بچھونے کی طرح پھیلائے ہوئے ہے اور انسانی زندگی بسر کرنے کے قابل ہے۔ پھر اس میں مختلف راستے بنادیے جو انسانوں کے آپس میں رابطے کا باعث بن کر انسانی بقا کے کام آتے ہیں اور جن پر انسانی معاشرہ تعمیر ہوتا ہے وہی کریم ہے جو حسب ضرورت بارش نازل فرماتا ہے اور مردہ زمین میں جان ڈال دیتا ہے کہ طرح طرح کی کونپلیں پھوٹ کرنکلتی اور مٹی میں ملے ہوئے بیج پھوٹنے لگتے ہیں غرض ہر ذرے میں زندگی کروٹ لینے لگتی ہے یہ اس بات پر بھی دلیل ہے کہ تم لوگوں کو بھی یوم حشر اسی طرح زندگہ کیا جائے گا وہ ایسا قادر ہے کہ ہر شے کو جوڑے بناکر بقائے نسل کا ایساطریقہ پیدا فرمادیا ہے جو صرف وہی کرسکتا ہے اور تمہارے لیے کشتیوں کی صنعت اور طرح طرح کی سواریوں کی صنعت آسان بنادی ایسی اشیاء پیدا فرمادیں جو صنعت میں کام آئیں اور انسان کو وہ شعور بخشا کہ انہیں کام میں لائے یا دوسری طرح کی سواری جو جانور ہیں پیدا فرمادیے جن سب کو تم استعمال میں لاتے ہو تو چاہیے یہ کہ کسی بھی سواری پر بیٹھو تو اللہ کے ان انعامات کو یاد کرو جب بھی بیٹھ چکو کہ اللہ کی ذات پاک ہی ہے اور وہی صاحب کمال ہے جس نے ہم کو ان سواریوں پہ قابودے دیا ورنہ ہم اپنے طور پر ان کو قابو میں نہ لاسکتے تھے اور آخر ایک روز ہمیں لوٹ کر اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے۔ مستحب طریقہ جو حضرت علی سے منقول ہے یہ ہے کہ سواری پر پاؤں رکھے تو بسم اللہ کہے بیٹھ جائے توالحمدللہ اور پھر یہ آیت مبارکہ پڑھے رسول اللہ سے مسنون دعا بھی ہے جو آجکل سعودیہ کے جہازوں میں پڑھی جاتی ہے مگر ان بدبختوں نے تو اللہ کے لیے بھی جز مان رکھے ہیں بیٹے اور بیٹیاں مان کر کہ اولاد باپ کا جز اور حصہ ہوتی ہے اور کل ہمیشہ جز کا محتاج ہوتا ہے جبکہ اللہ کی شان اس سے بہت بلند ہے بیشک انسان بہت بڑا ناشکرا ہے۔
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 15 : ام الکتاب ( اصلی کتاب ( کتاب کی جڑ) صفحا (موڑ دینا ، پھیر دینا ( جسم کا چوڑا حصہ) مسرفین ( حد سے بڑھنے والے) بطش ( زور ، گرفت ، پکڑ) مضی (گزر گیا) مھد ( بچھونا) انشرنا ( ہم نے اٹھایا) ترکبون ( تم سواری کرتے ہو) لتستوا ( تا کہ تم سیدھے رہو) ظھور (ظھر) (پیٹھیں) مقرنین (مقرن) (قابو میں لانے والے) منقلبون (لوٹنے والے) تشریح : آیت نمبر 1 تا 15 : سورة زخرف کا آغاز ” حم “ حروف مقطعات سے کیا گیا ہے جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے ۔ جیسا کہ اس سے پہلی والی سورتوں میں تفصیل سے عرض کیا گیا ہے کہ قرآن کریم میں ” حم “ سے شروع کی جانے والی سات سورتیں ہیں جن میں سے یہ چوتھی سورت ہے۔ احادیث میں ” حم “ سے شروع کی جانے والی سورتوں کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ جہنم کے سات دروازے ہیں جو شخص ان سورتوں کو پڑھنے کا عادی ہوگا تو یہ سات سورتیں جہنم کے ساتوں دروازوں پر موجود ہوں گی جو اس کو جہنم سے بچانے کے لئے رکاوٹ بن جائیں گے۔ اس سورت کی ابتداء قرآن کریم کے ذکر سے کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ قرآن کریم ایک ایسی روشن ، واضح اور بلند رتبہ کتاب ہے جو حکمت و دانائی کی باتوں سے بھر پور ہے جو قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے رہبر و رہنماء ہے۔ اس کو جتنا بھی فروغ دیا جائے گا دنیا میں امن و سکون اور آخرت میں نجات کا ذریعہ ہوگا ۔ کفار و مشرکین کو بتایا گیا ہے کہ وہ اس قرآن اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت کم کرنے کی جتنی بھی کوششیں اور شرارتیں کرلیں اللہ اپنے اس کلام کو مکمل کر کے رہے گا اور ساری دنیا میں نہ صرف اس کا پیغام پہنچ کر رہے گا بلکہ سچائی کی اس روشنی کے بغیر زندگی کے اندھیرے ان سے دور نہ ہو سکیں گے۔ یہی وہ روشنی ہے جس کو پھیلانے کے لئے اللہ نے ہر زمانہ میں اپنے پیغمبروں کو بھیجا تا کہ وہ لوگوں کو صراط مستقیم پر چلا سکیں مگر کفار و مشرکین نے ہمیشہ ان پیغمبروں کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا اور گستاخی کرتے ہوئے اللہ کے بھیجے ہوئے پیغام سہ منہ پھیر کر غرور وتکبر اور ضد کا طریقہ اختیار کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ نے ان کو سخت ترین سزائیں دیں اور ان کی زندگیوں کو اس طرح مٹا دیا کہ پھر وہ دوسروں کے لئے نشان عبرت اور قصے کہانی بن کر رہ گئے ۔ اہل مکہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح تم آج اللہ کے بھیجے ہوئے اس کے آخری محبوب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلا رہے ہو اور تمہیں اپنی طاقت پر بڑا گھمنڈ ہے ذرا اپنے سے پہلے گزری ہوئی نافرمان قوموں کو دیکھو کہ جب انہوں نے اپنی نا فرمانیوں کی حد کردی تو اللہ نے ان کو اور ان کے غرور کو خاک میں ملا دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سوال کیا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ذرا آپ ان سے پوچھئے کہ اس زمین و آسمان کو کس نے بنایا اس کو انسانوں کے لئے راحت و آرام اور ان کی تمام ضروریات کا ذریعہ کس نے بنایا ؟ منزل تک پہنچنے کے لئے راستے ۔ مردہ زمین میں زندگی پیدا کرنے کے لئے بارشوں کا انتظام ، مختلف چیزوں کی طرح طرح کی قسمیں ، دریا ، سمندر کو پار کرنے اور کاروبار کے لئے ایک طرف سے دوسری طرف آنے جانے کے وسائل ، قسم قسم کے جانور اور مویشی کس نے پیداکئے ؟ یقینا اگر ضمیر مردہ نہ ہوچکے ہوں تو ہر ایک کے دل سے ایک ہی صدا بلند ہوگی کہ ان سب چیزوں کا خالق اور مالک صرف اللہ ہے۔ لیکن انسان کی یہ کتنی بڑی بد قسمتی ہے کہ وہ ایک اللہ کو ماننے کے بجائے دوسرے بہت سے معبودوں کا گھڑ کر ان سے اپنی امیدیں وابستہ کرلیتا ہے۔ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا ، پتھر کے بےجان بتوں کو اپنا مشکل کشا سمجھ بیٹھتا ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے انسان کو جتنی نعمتوں سے نوازا ہے اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتا اور اسکے سوا کسی کی عبادت و بندی نہ کرتا لیکن وہ اپنی ہر کامیابی کو اپنی محبت کا نتیجہ قرار دے کر اللہ کی نا شکری کرتا رہتا ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو سواری پر سوار ہونے کے وقت ایک دعا سکھائی ہے جس میں اللہ کی عظمت وقدرت اور شکر کا بہترین انداز سکھایا گیا ہے۔
درس نمبر ٢٣١ تشریح آیات ١۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ ٢٥ آیت نمبر ١ تا ٨ سورت کا آغاز دو حروف حا اور میم سے ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد۔ والکتب المبین (٤٣ : ٢) کا عطف ہے۔ اللہ حا اور میم کی بھی قسم اٹھاتا ہے اور کتاب مبین کی بھی۔ حا اور میم بھی اسی کتاب کے حروف ہیں۔ یا کتاب مبین ان دو حروف کے جنس سے ہے۔ غرض یہ کتاب مبین حروف تہجی کے اعتبار سے ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ یہ دو حروف اسی طرح کے حروف ہیں جس طرح کے حروف انسانی زبانوں میں ہوتے ہیں۔ یہ خالق کائنات کی نشانیاں ہیں جس نے انسان کو اس انداز سے پید کیا اور اس کو اس قسم کی آوازیں دیں۔ قرآن کے ساتھ ان حروف کا جب ذکر آتا ہے کہ تو اس کے بیشمار معانی اور بیشمار دلالات و اشارات ہوتے ہیں۔ قسم اس بات پر اٹھائی جاتی ہے کہ ہم نے قرآن مجید کو اس انداز پر بنایا عربی زبان میں۔ انا جعلنہ قرءنا عربیا لعلکم تعقلون (٤٣ : ٣) “ ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تا کہ تم لوگ اسے سمجھو ”۔ جب قرآن ان کی زبان میں ہے اور وہ اس کے معنی جانتے بھی ہیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ قرآن تو وحی الٰہی ہے لیکن اللہ نے اسے عربی زبان میں منتقل کیا ، کیونکہ قرآن کی دعوت کے لئے اللہ نے آغاز میں عربی معاشرے کو چنا اور سب سے پہلے اس دعوت کے حاملین عرب ہی رہے۔ اس حکمت کی بنا پر جس کی طرف ہم نے سورة شوریٰ میں اشارات کئے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس امانت اور اس زبان کی صلاحیتوں کو اچھی طرح جانتا تھا کہ امت عربیہ اور لسان عربی اس دعوت کو دوسری اقوام تک اچھی طرح منتقل کرسکتے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ اپنی رسالت کی امانت کو کہاں رکھے اور کہاں نہ رکھے۔ اس کے بعد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس قرآن کا مقام و مرتبہ اللہ ازلی اور ابدی ذات کے ہاں کیا ہے ؟ وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم (٤٣ : ٤) “ اور در حقیقت یہ ام الکتب میں ثبت ہے اور ہمارے ہاں بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے ”۔ ام الکتاب کیا ہے ، اس کے لفظی معنوں میں ہم نہیں پڑتے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہے یا اللہ کا علم ازلی ہے ، کیونکہ ہمارے ادراک میں نہ تو لوح محفوظ کا۔ اور نہ اللہ کے علم ازلی کا پورا تصور ہے البتہ اس آیت سے ہمارے علم میں ایک اصولی حقیقت آتی ہے۔ جب ہم یہ آیت پڑھتے ہیں۔ وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم (٤٣ : ٤) “ یہ درحقیقت ام الکتب میں ثبت ہے اور ہمارے ہاں بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے ”۔ تو اس سے ہمارے ذہن میں یہ بات واضح طور پر آجاتی ہے کہ اللہ کے علم میں اس کتاب کی بڑی وقعت ہے اور اسے بہت ہی اہم دستاویز سمجھا جاتا ہے۔ بس یہ اصولی اور کلی بات ہمارے لیے کافی ہے کہ قرآن ایک بلند مرتبت کتاب ہے اور حکیم ہے یعنی حکمت والی کتاب ہے۔ یہ دونوں صفات اس کتاب کو ایک ایسی شخصیت دیتی ہیں جس طرح زندہ انسان ہوتا ہے یعنی بلند اور حکیم کا۔ اور بالکل یہ بات اسی طرح ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے گویا اس میں زندگی ہے اور اس میں زندہ شخصیت کی صفات ہیں یہ کہ جو ارواح اس کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرتی ہیں یہ ان کے ہمقدم چلتی ہے۔ اور یہ اپنی بلندی اور حکمت کے بدولت انسانیت پر نگراں ہے ، اس کو ہدایت دیتی ہے ، اس کی قیادت کرتی ہے ، اپنی طبیعت اور اپنے خصائص کے مطابق ، اور یہ انسانی فہم و ادراک میں وہ اقدار اور وہ تصورات بٹھاتی ہے جن پر ان دو صفات علی اور حکیم کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو فیصلہ کن انداز میں طے کرنے کے بعد اب اس قوم کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے جن کی زبان میں یہ علی و حکیم کتاب اتری ہے کہ اللہ نے ان کو کتنا بڑا اعزاز بخشا ہے اور یہ لوگ پھر بھی اللہ کے اس فضل و کرم کو نہیں سمجھتے۔ اور پھر بھی اس خزانہ حکمت سے منہ موڑتے ہیں اور اس کی توہین کرتے ہیں۔ ان حالات میں یہ تو اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے پاس آنے والی اس حکمت و ہدایت پر مشتمل کتاب کا نزول ہی بند کردیں ، چناچہ یہاں ان کی اس زیادتی کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور سوالیہ انداز میں پوچھا جاتا ہے کہ کیا تمہاری اس زیادتی اور حد سے گزر کر زیادتی کی وجہ سے اس سر چشمہ ہدایت دانائی کو بند کردیں۔ افنضرب عنکم ۔۔۔۔۔ مسرفین (٥٣ : ٥) “ اب کیا ہم تم سے بیزار ہو کر یہ درس نصیحت تمہارے ہاں بھیجنا بند کردیں۔ صرف اس لیے کہ تم حد سے گزرے ہوئے ہو۔ یہ بات نہایت ہی عجیب لگتی ہے اور آئندہ بھی عجیب رہے گی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم کو اس قدر اہمیت دی کہ اس کے لئے اس نے کتاب بھیجی۔ ان کی زبان میں بھیجی۔ اس کتاب نے ان کی فطرت کے عین مطابق وہ باتیں کیں جو ان کے دل میں تھیں ، ان کی زندگی کی گہرائیوں تک چلی گئی ، اور ان کے لئے ہدایت کا راستہ بیان کیا ، پہلی اقوام کے عبرت آموز قصے بیان کئے ، گزشتہ اقوام کے ساتھ سنت الہٰیہ نے جو سلوک کیا وہ بیان کیا گیا ، لیکن اس نے اس کتاب کو نظر انداز کردیا اور اعراض کرلیا ! پھر بھی اللہ ان لوگوں کی فکر کرتا ہے حالانکہ وہ نہایت بلند ، نہایت عظیم اور غنی بادشاہ ہے۔ اس آیت میں در حقیقت ایک خوفناک تہدید ہے کہ اگر اللہ چاہے تو اس سر چشمہ فیض و حکمت کو ختم کر دے اور تم پر ہونے والی اس مہربانی کو بند کر دے۔ کیونکہ تم اس عظیم حکیمانہ اور بلند مرتبہ کتاب کے ساتھ بہت ہی برا سلوک کر رہے ہو ، اور تم سے ان اقوام جیسا سلوک کرے جو تم سے پہلے گزر ہیں۔ وکم ارسلان ۔۔۔۔۔ الاولین (٤٣ : ٦) وما یاتیھم ۔۔۔۔ یستھزؤن (٤٣ : ٧) فاھلکنا ۔۔۔۔ مثل الاولین (٤٣ : ٨) “ پہلے گزری ہوئی قوموں میں بھی بارہا ہم نے نبی بھیجے ہیں ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی ان کے ہاں آیا ہو اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو۔ پھر جو لوگ ان سے بدرجہا زیادہ طاقتور تھے ، انہیں ہم نے ہلاک کردیا ، پچھلی قوموں کی مثالیں گزر چکی ہیں ”۔ وہ اب اور کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ، اللہ نے ایسے رویہ پر تو ان سے زیادہ قوت گرفت رکھنے والی اقوام کو ہلاک کیا ہے جو انہی کی طرح رسولوں اور کتابوں کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ کئی مثالیں موجود ہیں۔ بڑے تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے وجود کا اعتراف کرتے تھے۔ یہ بھی اعتراف کرتے تھے کہ اللہ ہی ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ، لیکن ان اعترافات کے بعد پھر ان کے قدرتی نتائج کو قبول نہ کرتے تھے اور اپنی زندگی کے امور میں صرف اللہ کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے ۔ اللہ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو شریک کرتے تھے اور اللہ کے پیدا کردہ بعض جانوروں کو ان الہٰوں کے لیے مخصوص کرتے تھے اور یہ عقیدہ انہوں نے گھڑ لیا تھا کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اور ملائکہ کے بت بنا کر یہ ان کو پوجتے تھے۔ قرآن مجید یہاں ان کے اعترافات کو پیش کر کے پھر اس کے فطری نتائج مرتب کرتا ہے اور پھر ان کو فطری استدلال کے سامنے کھڑا کرتا ہے جس سے وہ بھاگتے تھے۔ قرآن کریم ان کے سامنے اللہ کی مخلوقات میں سے حیوانات اور کشتی کو بطور مثال پیش فرماتا ہے کہ ان میں تمہارے لیے کتنے فائدے ہیں اور اس کے مقابلے میں تمہارا رویہ کیا ہونا چاہئے مگر ایسا نہیں ہے۔ اس کے بعد دوسرے پیرا گراف میں یہ بتایا گیا کہ کیا جواز ہے کہ تم نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔