Surat uz Zukhruf

Surah: 43

Verse: 29

سورة الزخرف

بَلۡ مَتَّعۡتُ ہٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَہُمۡ حَتّٰی جَآءَہُمُ الۡحَقُّ وَ رَسُوۡلٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۲۹﴾

However, I gave enjoyment to these [people of Makkah] and their fathers until there came to them the truth and a clear Messenger.

بلکہ میں نے ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادوں کو سامان ( اور اسباب ) دیا ، یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف سنانے والا رسول آگیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

بَلْ مَتَّعْتُ هَوُلاَء ... Nay, but I gave to these, (means, the idolators), ... وَابَاءهُمْ ... and their fathers, means, they lived a long life in their misguidance. ... حَتَّى جَاءهُمُ الْحَقُّ وَرَسُولٌ مُّبِينٌ till there came to them the truth, and a Messenger making things clear. means, his message is clear and his warning is clear. وَلَمَّا جَاءهُمُ الْحَقُّ قَالُوا هَذَا سِحْرٌ وَإِنَّا بِهِ كَافِرُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

29۔ 1 یہاں سے پھر ان نعمتوں کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ نے انہیں عطا کی تھیں اور نعمتوں کے بعد عذاب میں جلدی نہیں کی بلکہ انہیں پوری مہلت دی، جس سے وہ دھوکے میں مبتلا ہوگئے اور خواہش کے بندے بن گئے۔ 29۔ 2 حق سے قرآن اور رسول سے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مراد ہیں۔ مُبِیْن رسول کی صفت ہے، کھول کر بیان کرنے والا بیان کی رسالت واضح اور ظاہر ہے، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٧] بات یہ نہیں جو تم کہہ رہے ہو بلکہ اس کے برعکس معاملہ یہ ہے کہ تم نے جان بوجھ کر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیم کو بھلا رکھا ہے اور ان کی وصیت کی کوئی پروا نہیں کی۔ اللہ نے تمہیں اور تمہارے آباء واجداد کو جو سامان زیست اور نعمتیں عطا کی تھیں ان کے مزوں میں پڑ کر اللہ کی طرف سے بالکل غافل ہوگئے۔ یہ شرکیہ رسوم تمہارے سامان عیش و عشرت کا سہارا بنی ہوئی تھیں۔ جنہیں اب تم چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ [٢٨] (رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ) کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ یہ رسول تمہیں شرک اور توحید کی راہیں صاف صاف اور کھول کھول کر سمجھانے والا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایسا رسول آیا جس کا رسول ہونا بالکل واضح تھا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(بل متعت ھولآء و ابآء ھم …: یہ اس سوال کا جواب ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد میں جو کملہ اس لئے چھوڑا تھا کہ شرک میں گرفتار واپس پلٹ آئیں تو کیا وہ واپس پلٹے ؟ فرمایا نہیں، وہ سب لوگ واپس نہیں پلٹے، بلکہ ان لوگوں یعنی قریش اور ان کے آباء کو ان کے کفر و شرک پر فوراً پکڑنے کے بجائے میں نے واپس پلٹنے کے لئے ملہت دی اور دنیا کا ساز و سامان اور مال و متاع کچھ وقت تک رہنے اور فائدہ اٹھانے کے لئے دیا، مگر وہ ان دنیوی لذتوں ہی کو اپنا مقصد سمجھ بیٹھنے اور ان میں ایسے بدمست ہوئے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی راہ کو بھول گئے، حتیٰ کہا ن کے پاس یہ حق اور رسول مبین آگیا۔ ” الحق “ سے مراد قرآن ہے اور ” رسول مبین “ کا معنی کھول کر بیان کرنے والا رسول بھی ہے اور واضح رسول بھی، یعنی جس کا رسول برحق ہونا بالکل واضح ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

بَلْ مَتَّعْتُ ہٰٓؤُلَاۗءِ وَاٰبَاۗءَہُمْ حَتّٰى جَاۗءَہُمُ الْحَقُّ وَرَسُوْلٌ مُّبِيْنٌ۝ ٢٩ متع الْمُتُوعُ : الامتداد والارتفاع . يقال : مَتَعَ النهار ومَتَعَ النّبات : إذا ارتفع في أول النّبات، والْمَتَاعُ : انتفاعٌ ممتدُّ الوقت، يقال : مَتَّعَهُ اللهُ بکذا، وأَمْتَعَهُ ، وتَمَتَّعَ به . قال تعالی: وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] ، ( م ت ع ) المتوع کے معنی کیس چیز کا بڑھنا اور بلند ہونا کے ہیں جیسے متع النھار دن بلند ہوگیا ۔ متع النسبات ( پو دا بڑھ کر بلند ہوگیا المتاع عرصہ دراز تک فائدہ اٹھانا محاورہ ہے : ۔ متعہ اللہ بکذا وامتعہ اللہ اسے دیر تک فائدہ اٹھانے کا موقع دے تمتع بہ اس نے عرصہ دراز تک اس سے فائدہ اٹھایا قران میں ہے : ۔ وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] اور ایک مدت تک ( فوائد دینوی سے ) ان کو بہرہ مندر کھا ۔ أب الأب : الوالد، ويسمّى كلّ من کان سببا في إيجاد شيءٍ أو صلاحه أو ظهوره أبا، ولذلک يسمّى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أبا المؤمنین، قال اللہ تعالی: النَّبِيُّ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْواجُهُ أُمَّهاتُهُمْ [ الأحزاب/ 6] ( اب و ) الاب ۔ اس کے اصل معنی تو والد کے ہیں ( مجازا) ہر اس شخص کو جو کسی شے کی ایجاد ، ظہور یا اصلاح کا سبب ہوا سے ابوہ کہہ دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ۔ { النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ } [ الأحزاب : 6] میں آنحضرت کو مومنین کا باپ قرار دیا گیا ہے ۔ حَتَّى حَتَّى حرف يجرّ به تارة كإلى، لکن يدخل الحدّ المذکور بعده في حکم ما قبله، ويعطف به تارة، ويستأنف به تارة، نحو : أكلت السمکة حتی رأسها، ورأسها، ورأسها، قال تعالی: لَيَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ [يوسف/ 35] ، وحَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] . ويدخل علی الفعل المضارع فينصب ويرفع، وفي كلّ واحد وجهان : فأحد وجهي النصب : إلى أن . والثاني : كي . وأحد وجهي الرفع أن يكون الفعل قبله ماضیا، نحو : مشیت حتی أدخل البصرة، أي : مشیت فدخلت البصرة . والثاني : يكون ما بعده حالا، نحو : مرض حتی لا يرجونه، وقد قرئ : حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ [ البقرة/ 214] ، بالنصب والرفع «1» ، وحمل في كلّ واحدة من القراء تین علی الوجهين . وقیل : إنّ ما بعد «حتی» يقتضي أن يكون بخلاف ما قبله، نحو قوله تعالی: وَلا جُنُباً إِلَّا عابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا [ النساء/ 43] ، وقد يجيء ولا يكون کذلک نحو ما روي : «إنّ اللہ تعالیٰ لا يملّ حتی تملّوا» «2» لم يقصد أن يثبت ملالا لله تعالیٰ بعد ملالهم حتی ٰ ( حرف ) کبھی تو الیٰ کی طرح یہ حرف جر کے طور پر استعمال ہوتا ہے لیکن اس کے مابعد غایت ماقبل کے حکم میں داخل ہوتا ہے اور کبھی عاطفہ ہوتا ہے اور کبھی استیناف کا فائدہ دیتا ہے ۔ جیسے اکلت السملۃ حتی ٰ راسھا ( عاطفہ ) راسھا ( جارہ ) راسھا ( مستانفہ قرآن میں ہے ليَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ [يوسف/ 35] کچھ عرصہ کے لئے نہیں قید ہی کردیں ۔ وحَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] طلوع صبح تک ۔۔۔۔ جب یہ فعل مضارع پر داخل ہو تو اس پر رفع اور نصب دونوں جائز ہوتے ہیں اور ان میں ہر ایک کی دو وجہ ہوسکتی ہیں نصب کی صورت میں حتی بمعنی (1) الی آن یا (2) گی ہوتا ہے اور مضارع کے مرفوع ہونے ایک صورت تو یہ ہے کہ حتی سے پہلے فعل ماضی آجائے جیسے ؛۔ مشیت حتی ادخل ۔ البصرۃ ( یعنی میں چلا حتی کہ بصرہ میں داخل ہوا ) دوسری صورت یہ ہے کہ حتیٰ کا مابعد حال واقع ہو جیسے مرض حتی لایرجون و دو بیمار ہوا اس حال میں کہ سب اس سے ناامید ہوگئے ) اور آیت کریمۃ ؛۔ حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ [ البقرة/ 214] یہاں تک کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پکار اٹھے ۔ میں یقول پر رفع اور نصب دونوں منقول ہیں اور ان ہر دو قرآت میں دونوں معنی بیان کئے گئے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ حتیٰ کا مابعد اس کے ماقبل کے خلاف ہوتا ہے ۔ جیسا ک قرآن میں ہے : وَلا جُنُباً إِلَّا عابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا [ النساء/ 43] ۔ اور جنابت کی حالت میں بھی نماز کے پاس نہ جاؤ ) جب تک کہ غسل ( نہ ) کرو ۔ ہاں اگر بحالت سفر رستے چلے جارہے ہو اور غسل نہ کرسکو تو تیمم سے نماز پڑھ لو ۔ مگر کبھی اس طرح نہیں بھی ہوتا جیسے مروی ہے ۔ اللہ تعالیٰ لاتمل حتی تملو ا ۔ پس اس حدیث کے یہ معنی نہیں ہیں کہ تمہارے تھک جانے کے بعد ذات باری تعالیٰ بھی تھک جاتی ہے ۔ بلکہ معنی یہ ہیں کہ ذات باری تعالیٰ کو کبھی ملال لاحق نہیں ہوتا ۔ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ مبینبَيَان والبَيَان : الکشف عن الشیء، وهو أعمّ من النطق، لأنّ النطق مختص بالإنسان، ويسمّى ما بيّن به بيانا . قال بعضهم : البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] ، وسمّي الکلام بيانا لکشفه عن المعنی المقصود إظهاره نحو : هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] . وسمي ما يشرح به المجمل والمبهم من الکلام بيانا، نحو قوله : ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] ، ويقال : بَيَّنْتُهُ وأَبَنْتُهُ : إذا جعلت له بيانا تکشفه، نحو : لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ، وقال : نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] ، وإِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] ، وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] ، أي : يبيّن، وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . البیان کے معنی کسی چیز کو واضح کرنے کے ہیں اور یہ نطق سے عام ہے ۔ کیونکہ نطق انسان کے ساتھ مختس ہے اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی بیان کہہ دیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ بیان ، ، دو قسم پر ہے ۔ ایک بیان بالتحبیر یعنی وہ اشیا جو اس کے آثار صنعت میں سے کسی حالت پر دال ہوں ، دوسرے بیان بالا ختیار اور یہ یا تو زبان کے ذریعہ ہوگا اور یا بذریعہ کتابت اور اشارہ کے چناچہ بیان حالت کے متعلق فرمایا ۔ وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] اور ( کہیں ) شیطان تم کو ( اس سے ) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے ۔ یعنی اس کا دشمن ہونا اس کی حالت اور آثار سے ظاہر ہے ۔ اور بیان بالا ختیار کے متعلق فرمایا : ۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ اگر تم نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ اور ان پیغمروں ( کو ) دلیلیں اور کتابیں دے کر ( بھیجا تھا ۔ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو ( ارشادات ) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ اور کلام کو بیان کہا جاتا ہے کیونکہ انسان اس کے ذریعہ اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرتا ہے جیسے فرمایا : ۔ هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] ( قرآن لوگوں کے لئے بیان صریح ہو ۔ اور مجمل مہیم کلام کی تشریح کو بھی بیان کہا جاتا ہے جیسے ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] پھر اس ( کے معافی ) کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے ۔ بینہ وابنتہ کسی چیز کی شروع کرنا ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] تاکہ جو ارشادت لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] کھول کر ڈرانے والا ہوں ۔إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] شیہ یہ صریح آزمائش تھی ۔ وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا ۔ وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . اور جهگڑے کے وقت بات نہ کرسکے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

بلکہ میں نے ان مکہ والوں اور ان سے پہلے لوگوں کو مہلت دی یہاں تک کہ ان کے پاس کتاب اور ایسی زبان میں ان کو بتانے والا رسول آگیا کہ یہ اس کو سمجھ سکیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٩ { بَلْ مَتَّعْتُ ہٰٓؤُلَآئِ وَاٰبَـآئَ ہُمْ حَتّٰی جَآئَ ہُمُ الْحَقُّ وَرَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ ۔ } ” لیکن میں نے ان لوگوں کو اور ان کے آباء و اَجداد کو کچھ سازو سامان دے دیا ‘ یہاں تک کہ ان کے پاس آگیا حق اور ایک واضح کردینے والا رسول۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

28 Another meaning of the word "rasulum-mubin can be: "A Messenger whose being a Messenger was obvious and apparent: whose lift before and after the Prophet hood clearly testified that he was certainly Allah's Messenger."

سورة الزُّخْرُف حاشیہ نمبر :28 اصل میں رَسُولٌ مُّبِیْن کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایسا رسول آگیا جس کا رسول ہونا بالکل ظاہر و باہر تھا ۔ جس کی نبوت سے پہلے کی زندگی اور بعد کی زندگی صاف شہادت دے رہی تھی کہ وہ یقیناً خدا کا رسول ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 اس میں پڑ کر وہ بد مست ہوگئے اور ابراہیم ( علیہ السلام) کے طریق کو بھول گئے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کا مختصر ذکر کرنے کے بعد اب پھر اہل مکہ کو برائے راست مخاطب کیا گیا ہے۔ اہل مکہ تعصّب میں آکر اس قدر بوکھلا چکے تھے کہ وہ کسی ایک بات پر قائم نہیں رہتے تھے۔ جس بنا پر نئی سے نئی بات اور انوکھے سے انوکھا الزام لگاتے تھے۔ جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں مہلت پہ مہلت دئیے جارہا تھا۔ جب کسی ظالم شخص کو طویل مدت تک مہلت حاصل ہوجائے تو وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھنے لگتا ہے۔ حالانکہ وہ حق پر نہیں ہوتا۔ اہل مکہ بھی اپنے آپ کو حق پر گمان کرتے تھے۔ ان کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا کہ ان کی گمراہی اور مخالفت کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ہم انہیں مہلت دئیے جا رہے ہیں۔ جبکہ ان میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واضح حق کے ساتھ مبعوث کردئیے گئے ہیں۔ کفار کی تاریخ یہ ہے کہ جب بھی ان کے پاس حق پہنچا تو انہوں نے اسے جادوقرار دیا اور کہا کہ ہم کھلے بندوں حق کا انکار کرتے ہیں۔ یہی اہل مکہ کا تھا ان کا کہنا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے واقعی قرآن کسی شخص پر نازل کرنا ہوتا تو مکہ اور طائف کے بڑے سرداروں میں سے کسی ایک پر نازل کیا جاتا۔ نبوت کے لیے وہ ابوجہل اور طائف کے سرداروں کا نام لیتے تھے۔ قرآن مجید میں اس بات کے اور بھی جواب دیئے گئے ہیں جن میں ایک جواب یہ ہے کہ کیا آپ کے رب کی رحمت کو یہ تقسیم کرنے والے ہیں یا آپ کا رب اسے تقسیم اور نازل کرنے پر اختیار رکھتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ ہر قسم کے اختیارات اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہیں اور وہ اپنی رحمت اپنی مرضی کے مطابق تقسیم کرنے والا ہے۔ یہاں رحمت سے پہلی مراد نبوت اور دوسری مراد معیشت ہے۔ (اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰہِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا کَانُوْا یَمْکُرُوْنَ ) [ الانعام : ١٢٤] ” اللہ زیادہ جانتا ہے کہ اپنی رسالت کہاں بھیجے۔ عنقریب ان لوگون کو جنہوں نے جرم کیے اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب پہنچے گا۔ اس وجہ سے کہ وہ مکرو فریب کرتے تھے۔ “ (مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ وَ لَا الْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْکُمْ مِّّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ اللّٰہُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ اللّٰہُ ذُوْ الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ [ البقرۃ : ١٠٥] ” نہ اہل کتاب کے کافر اور نہ ہی مشرکین چاہتے ہیں کہ تم پر تمہارے رب کی طرف سے کوئی بھلائی نازل ہو اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص فرماتا ہے۔ اللہ بڑے فضل والا ہے۔ “ مسائل ١۔ اکثر لوگ اپنے رب کی دی ہوئی مہلت سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ٢۔ کفار کے پاس جب بھی حق آیا انہوں نے اس کا انکار ہی کیا۔ ٣۔ اہل مکہ کا یہ بھی اعتراض تھا کہ نبّوت طائف یا مکہ کے کسی سردار پر نازل ہونی چاہیے تھی۔ ٤۔ کسی کو الرّسول منتخب کرنا اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اپنا رسول نامزد کرتا ہے۔ ٥۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد قیامت تک نبوت کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔ تفسیر بالقرآن کفار اور مشرکین کا حق کے ساتھ رویہ : ١۔ مشرکین نے کہا اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرتے۔ (النحل : ٣٥) ٢۔ مشرکین نے آپ پر اعتراض کیا کہ آپ پر خزانہ کیوں نہیں نازل کیا جاتا۔ (ھود : ١٢) ٣۔ بنی اسرائیل نے کہا اے موسیٰ جب تک ہم اللہ کو اپنے سامنے نہیں دیکھ لیتے ہم ایمان نہیں لائیں گے۔ (البقرۃ : ٥٥) ٤۔ کفار اور مشرکین نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جادوگر کہا۔ (الذاریات : ٥٢) ٥۔ کفار اور مشرکین نے کہا یہ نبی کذاب اور جادوگر ہے۔ ( ص : ٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٢٩ تا ٣٥ اب سیاق کلام میں روئے سخن اچانک اہل مکہ کی طرف پھرجاتا ہے ، اسے اضراب کہتے ہیں اور یہ انداز عربوں میں رائج تھا۔ بل متعت ھولاء واباءھم حتی جاء ھم الحق و رسول مبین ( ٤٢ : ٢٩) “ بلکہ میں انہیں اور ان کے باپ دادا کو متاع حیات دیتا رہا ۔ یہاں تک کہ ان کے پاس حق ، اور کھول کھول کر بیان کرنے والا رسول آگیا ”۔ گویا یوں کہا گیا کہ چھوڑو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کو ، ان لوگوں کے ساتھ مناسبت اور نسبت ہی کیا رہ گئی ہے۔ ہمیں ان کے شب و روز کو دیکھنا چاہئے۔ ان کے حالات ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات سے تو ملتے نہیں۔ ان لوگوں کے حالات یہ ہیں کہ ان کو اور ان کے آباو اجداد کو خوب سامان زندگی دیا گیا ، ان کو طویل مہلت دی گئی ، یہاں تک کہ وہ سچائی اس قرآن کی شکل میں آئی اور اس کے ساتھ ایک نہایت ہی کھول کر بات سمجھانے والا رسول بھی آگیا جو ان پر یہ سچائی پیش کرتا ہے اور نہایت ہی وضاحت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ ولما جاءھم الحق قالوا ھذا سحر وانا بہ کفرون (٤٣ : ٣٠) “ مگر جب وہ حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں ”۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جادو میں سچائی کا شائبہ تک نہیں ہوتا ، یہ بات بالکل واضح ہے۔ یہ تو ان کا محض ایک دعویٰ اور الزام تھا اور اس کے بارے میں سب سے پہلے خود ان کو یقین تھا کہ یہ الزام غلط ہے۔ کیونکہ کبراء قریش اس حد تک جہاندیدہ تھے کہ ان سے یہ بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھی کہ قرآن کریم کلام حق ہے ، یہ جو الزامات وہ لگاتے تھے۔ وہ جمہور عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے وہ ایسا کرتے تھے۔ چناچہ وہ کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے اور اس کے بعد یہ جو اعلان کرتے تھے کہ ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔ یہ بات کو پکی کرنے کے لئے اعلان کرتے تھے۔ انہ بہ کفرون (٤٣ : ٣٠) “ اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں ”۔ جمہور عوام کو وہ اس سے یہ تاثر دیتے تھے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا انہیں پورا پورا یقین ہے۔ اس طرح وہ ان کو یہ اشارہ دیتے تھے کہ ہمارے پیچھے چلتے رہو اور ہمارے مطیع فرمان رہو اور ہر قوم سے سردار جمہور عوام کو اس طرح دھوکہ دیتے ہیں ، یہ نہ ہو کہ وہ ان کے دائرہ اختیار سے نکل جائیں اور کلمہ توحید کو قبول کرلیں ۔ کیونکہ جب کلمہ توحید کا اقتدار قائم ہوتا ہے ، تمام گردن کش گرجاتے ہیں۔ پھر تو صرف اللہ کی بندگی ہوتی ہے اور لوگ اللہ ہی سے ڈرتے ہیں۔ اس کے بعد قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ انہوں نے کھری اور کھوٹی قدروں کے درمیان کس طرح ملاوٹ کردی ہے۔ وہ یہ اعتراض کرتے ہیں اللہ نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہی منتخب کیا ہے کہ وہ یہ پیغام پہنچائیں۔ وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (٤٣ : ٣١) “ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہ کیا گیا ؟” دو گاؤں سے ان کی مراد مکہ اور طائف ہے۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قریش کی ایک شاخ سے تھے۔ پھر بنی ہاشم کی ایک شاخ کے فرد تھے۔ اور یہ لوگ عربوں میں سے برتر لوگ تھے جبکہ آپ کی ذات بھی اخلاق عالیہ کے لحاظ سے ممتاز تھی۔ بعثت سے پہلے آپ صادق و امین اور اعلیٰ اخلاق کے مالک انسان کے طور پر مشہور تھے۔ لیکن آپ اپنے قبیلے کے سر براہ نہ تھے ۔ نہ کسی خاندان کے رئیس تھے اور اس دور میں لوگ انہی چیزوں پر فخر کرتے تھے کہ کوئی قبیلے یا کسی شاخ کا سربراہ ہو۔ معترضین کا اعتراض یہی تھا۔ وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (٤٣ : ٣١) “ کہتے ہیں یہ قران ان دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر نازل کیوں نہ کیا گیا ”۔ حالانکہ یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ اس کی رسالت اور دعوت کے لئے کون موزوں ہے اور یہ منصب کس کو دیا جائے۔ لہٰذا ! اللہ نے اہل ترین شخص کا انتخاب کرلیا۔ اللہ کا منشا یہ نہ تھا کہ اس رسالت کو خارجی اسباب میں سے کوئی سہارا ملے ، اس کی قوت اس کے خارج سے نہ ہو بلکہ اس کے اندر سے ہو۔ لہٰذا اس نے اس کے لئے ایسی شخصیت کا انتخاب کیا جس کی بڑی خصوصیت اس کے اخلاق تھے۔ اس دعوت کا مزاج ہی یہ ہے اور یہ اس کی بالکل ممتاز خصوصیت ہے۔ اس لیے کسی قبیلے کے سردار کا انتخاب نہیں کیا گیا۔ نہ کسی خاندان کے سر براہ کو اس کے لئے منتخب کیا گیا۔ نہ کسی صاحب جاہ مرتبہ کا انتخاب ہوا۔ نہ ایک بہت بڑے مالدار کا یوں انتخاب ہوا تا کہ آسمانوں پر سے نازل ہونے والی اس دعوت کی اصل اقدار کسی ایسی قدر سے ملتبس نہ ہوجائیں جس کا تعلق اس دنیا پرستی سے ہو اور اس دعوت کے اندر دنیا پرستی کے خلیات میں سے کوئی خلیہ داخل نہ ہوجائے جو اس دعوت کی حقیقت کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں رکھتا۔ اور دعوت اسلامی کی ذاتی قوت کے سوا کوئی اور خارجی سبب اس پر اثر انداز نہ ہو۔ نہ کوئی طالع آزما اس کے قریب آئے اور نہ کوئی پاکباز اس سے دور ہو۔ لیکن اس قوم پر دنیا پرستی کا غلبہ تھا ، اس لیے جو لوگ آسمانی دعوت کی نوعیت کو سمجھتے نہ تھے۔ وہ اس قسم کے اعتراضات کیا کرتے تھے۔ وقالوا لو لا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (٤٣ : ٣١) “ یہ قرآن ان دو شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ”۔ لہٰذا قرآن نے اللہ کی اس عظیم رحمت پر ان کے اس سطحی اعتراض کو رد فرما دیا ، یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنی رحمت کے لئے جو چاہے ، اختیار کرلے ، جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے انہوں نے دنیا پرستی اور جاہلیت کی اقدار اور اللہ کی آسمانی قدروں کو ملا دیا ہے۔ اور وہ اپنی دنیا پرستی کی آنکھوں سے اس دعوت اسلامی کو دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ دعوت خدا پرستی اور آخرت کے حساب سے دی جارہی ہے۔ اھم یقسمون رحمت ۔۔۔۔۔۔ خیر مما یجمعون (٤٣ : ٣٢) “ کیا تیرے رب کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں ؟ دنیا کی زندگی میں ان کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے ان کے درمیان تقسیم کئے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے تا کہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں۔ اور تیرے رب کی رحمت اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو یہ سمیٹ رہے ہیں ”۔ یعنی تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اب نبوت بھی خود تقسیم کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کو اللہ کی رحمت اور نبوت سے واسطہ کیا ہے ؟ اصل پوزیشن ان کی یہ ہے کہ یہ کسی چیز کے مالک نہیں ہیں ، خود اپنے رزق کے بھی یہ مالک نہیں ہیں ، یعنی اس دنیا کی مختصر زندگی کے لئے بھی ان کا رزق ان کے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ بھی ہم ان پر تقسیم کرتے ہیں۔ یہ ہم اپنی حکمت اور تدبیر سے تقسیم کرتے ہیں اور یہ ہماری تقسیم اس زمین کی تعمیر و ترقی کے لئے ہے۔ اس دنیا میں زندہ رہنے کے لئے رزق لوگوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق دیا جاتا ہے۔ زندگی کے حالات کے مطابق دیا جاتا ہے اور معاشرے کے افراد کے باہم تعلقات کے مطابق دیا جاتا ہے۔ مختلف عوامل کے مطابق افراد معاشرہ کے درمیان اس کی تقسیم ہوتی ہے۔ ہر معاشرے میں نظام تقسیم رزق مختلف ہوتا ہے۔ ہر زمانے میں اس کے اندر تبدیلیاں آتی ہیں۔ ہر سوسائٹی دوسری سے مختلف ہوتی ہے۔ اور اس میں عمومی حالات اور افراد معاشرہ کے باہم تعلقات پر دارومدار ہوتا ہے۔ لیکن ہر دور اور ہر معاشرے میں تقسیم رزق میں جو بات موجود ہو رہی ہے ، وہ یہ رہی ہے کہ رزق کی تقسیم میں فرق رہا ہے۔ یہاں تک کہ ایک مصنوعی معاشروں میں بھی تقسیم رزق میں فرق ہے ، جن کا مقصد ہی پیداوار بڑھانا اور مساویانہ تقسیم کرنا ہے۔ تفاوت رزق کے اسباب مختلف معاشروں میں مختلف رہے ہیں۔ لیکن مقدار رزق کے اختلافات میں اختلاف ناپید کبھی نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ جن مصنوعی معاشروں کے اندر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مکمل مساوات ہے وہاں بھی رزق مختلف ہوتا ہے اور ورفعنا بعضھم فوق بعض (٤٣ : ٣٢) “ اور کچھ لوگ کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے ”۔ اور تمام معاشروں میں فرق مراتب رزق کے اسباب تو مختلف رہے ہیں لیکن حکمت یہی رہی ہے۔ درجت لیتخذ بعضھم سخریا (٤٣ : ٣٢) “ یا کہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں ”۔ یعنی بعض لوگ دوسروں کو اپنا ماتحت کر کے ان سے خدمات لیں ، اس دنیا میں جب معیشت کی گاڑی چلتی ہے تو بعض لوگ خدمات فروخت کرتے ہیں اور بعض خریدتے ہیں۔ یوں بعض بعض کے لئے مسخر ہوجاتے ہیں ، یہاں تسخیر کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک طبعہ برتر ہو اور دوسرا کم تر ہو یا ایک فرد دوسرے کا غلام ہو۔ اگر یہ لیا جائے تو یہ اس لفظ کا بہت ہی سادہ مفہوم ہوگا۔ یہ اللہ کے دائمی اور بلند کلام کی سطح تک نہیں پہنچتا۔ اللہ کے فرمان کا مفہوم کسی تغیر سے بالا ہے ، اگرچہ انسانی سوسائٹی کے حالات میں جس قدر تبدیلی واقع ہوجائے ، یہ ایسا مفہوم نہیں ہے کہ جانے والے حالات میں اور ہو اور آنے والے حالات میں اور ہو۔ حقیقی مفہوم یہ ہے کہ تمام انسان ایک دوسرے کے لئے مسخر ہیں اور زندگی اور معیشت کا چکر سب کو گھماتا ہے۔ اور ہر حال اور ہر صورت میں لوگ ایک دوسرے کے محتاج و مجبور ہیں۔ ہر ایک کے وسائل رزق متعین ہیں ، کسی کے ذرائع ، کشادہ ہیں اور کسی کے محدود ہیں۔ کوئی اس کام میں لگا ہوا کہ دولت جمع کرے ، اس سے خود بھی کھائے اور وہ دوسروں کو بھی دے اور دونوں ایک دوسرے کے لئے مسخر ہیں۔ اور دونوں کے وسائل رزق میں جو فرق ہے اس نے دونوں کو ایک دوسرے کے لئے محتاج اور مسخر بنا دیا ہے۔ اور زندگی خصوصاً معاشی زندگی کے چکر میں ایک دوسرے کے محتاج ہیں ، مزدور انجینئر کا محتاج ہے اور انجینئر مالک کا محتاج ہے۔ انجینئر اور مزدور دونوں مالک کے محتاج ہیں ، مالک انجینئر اور مزدور دونوں کا محتاج ہے۔ اور ہر ایک اپنی اپنی استعداد کے مطابق اس کرۂ ارض پر فریضہ خلافت الٰہیہ کے پورا کرنے میں لگا ہوا ہے اور مسخر ہے۔ اور یہ سب نظام رزق میں تعاون کی وجہ سے قائم ہوا ہے۔ کسی کو خدمات درکار ہیں اور کسی نے بیچنی ہیں۔ بعض ایسے لوگ جو خود ساختہ نظریات کے داعی ہیں وہ اس آیت کو پیش نظر رکھ کر اسلام اور اسلام کے اقتصادی نظام پر بہت سے اعتراضات کرتے ہیں اور پھر بعض مسلمان اس آیت کے سامنے شف شف کرتے ہیں اور ان کا اندازیوں ہوتا ہے کہ وہ گویا اسلام پر یہ ایک الزام ہے اور وہ اس کا رد کرتے ہیں کہ اسلام رزق کے معاملے میں فرق مراتب کا قائل نہیں ہے اور یہ کہ رزق میں فرق مراتب اسلام پر تہمت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ اہل اسلام ، اسلام کے بارے بالکل کھل کر اور صاف صاف بات کریں۔ وہ ان خود ساختہ نظریات سے متاثر ہوئے بغیر اور دفاعی انداز اختیار کئے بغیر صاف صاف کہہ دیں کہ رزق میں فرق مراتب ایک حقیقت ہے جسے اسلام روا رکھتا ہے اور لوگ ہمیشہ وسائل رزق کے معاملے میں مختلف ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی حالت طبیعی اور حالت نفسی اسی تفاوت پر قائم ہے۔ لوگوں کو خالق کائنات کی طرف سے مختلف درجوں کی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ ہر شخص اپنی صلاحیت کے مطابق کام کرسکتا ہے اور یہ تفاوت اور فرق مراتب اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہر شخص نے اس کرۂ ارض پر فریضہ خلافت الٰہیہ کی ادائیگی میں بالکل ایک جدا کردار ادا کرنا ہے۔ اگر سب لوگ اس طرح پیدا کئے گئے ہوتے جس طرح پریس سے ایک اشتہار چھپتا ہے یا کتاب کا ایک نسخہ تیار ہوتا ہے تو اس دنیا میں زندگی کی یہ اجتماعی صورت نہ ہوتی اور کئی ضروری کام یونہی رہ جاتے جن کے سر انجام دینے کے لئے کوئی قابل آدمی نہ ہوتا کیونکہ ان کے لئے کوئی قابل آدمی ہی نہ ملتا۔ جس اللہ نے زندگی پیدا کی ہے اور اس کے لئے بقا کا انتظام فرمایا ہے اس نے ہر شخص کے لئے ایک کردار رکھا ہے اور ہر عمل کے لئے ایک شخص ، ہر کسے رابہر کارے ساختد ، پھر ہر شخص کی کارکردگی کی وجہ سے اس کے رزق میں بھی فرق ہوتا ہے ، گر فرق مراتب نہ کئی زندیقی ، یہ ہے اصل قاعدہ ۔ رہا یہ کہ مختلف اہلیت کے لوگوں کے رزق کے اندر کس قدر فرق ہو تو یہ ہر نظام ، ہر معاشرے اور ہر ملک کے اپنے حالات پر موقوف ہوتا ہے ۔ لیکن یہ فطری اصول کسی جگہ رد نہیں کیا جاسکتا کہ فرق مراتب ہو اور اس طرح زندگی نشوونما پائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے مصنوعی نظامہائے معیشت کے پیروکاروں نے جنہوں نے مساوات کے بلند بانگ دعوے کئے ، مزدور ، انجینئر اور منیجر کی تنخواہوں کے اندر مساوات قائم نہ کی اور نہ کرسکے ۔ حالانکہ انہوں نے اپنے نظام کو بروئے کار لانے کے لئے بڑے سے بڑا تشدد کیا لیکن آخر کار یہ لوگ اللہ کے ابدی اصول کے سامنے شکست کھا گئے۔ کیونکہ اللہ کا قانون اس کائنات کے اندر موجود نہایت ہی مستحکم ناموس زندگی پر مبنی ہے (سید قطب ، اے کاش آپ زندہ ہوتے اور ان مصنوعی مذاہب کو روس میں دھڑام سے گرتے دیکھتے ! ) اور جس نظام کی نشاندہی اللہ نے اس دنیا کی زندگی کے لئے کی ہے اسی میں اللہ کی رحمت ہے۔ و رحمت ربک خیر مما یجمعون (٤٣ : ٣٢) “ تیرے رب کی رحمت اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو یہ جمع کرتے ہیں ” اور یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنی اس رحمت کے لئے جس کو چاہے ، چن لے ، کیونکہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کس منصب کے لئے کون اہل ہے۔ پھر اللہ کی رحمت کا تعلق اس دنیا میں پائے جانے والے نظام معیشت کی اہلیت پر نہیں ہے۔ یہ تو دنیاوی اقدار ہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ کوئی بہت بڑا کمال نہیں ہے کہ کوئی بہت بڑی دولت جمع کر دے کیونکہ دولت کے جمع کرنے میں نیکو کاروں اور بدکاروں کے لئے برابر کے مواقع ہیں اور اچھوں اور بروں کے لئے اس میں برابر مواقع ہیں لیکن اللہ کی رحمت (نبوت) کے لئے تو بہت ہی ممتاز ترین لوگوں کا انتخاب کیا جاتا ہے اور اس کام کو اللہ ہی جانتا ہے۔ اللہ کے نزدیک یہ دنیا اور اس کی دولت اس قدر حقیر اور اس قدر بےوقعت ہے کہ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سب لوگ کافر ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ یہاں کافروں پر دولت کی بارش کردیتا۔ لیکن اندیشہ یہ تھا کہ یہ دولت لوگوں کے لئے فتنہ بن جائے گی اور انہیں ایمان کی راہ سے روک دے گی۔ ولو لا این یکون ۔۔۔۔۔۔ علیھا یظھرون (٤٣ : ٣٣) ولبیوتھم ابوابا ۔۔۔۔۔ یتکئون (٤٣ : ٣٤) وزخرفا وان کل ۔۔۔۔۔ عند ربک للمتقین (٤٣ : ٣٥) “ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ ایک ہی طریقے کے ہوجائیں گے تو ہم خدائے رحمٰن سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں ، اور ان کی سیڑھیاں جن سے وہ سے اپنے بالاخانوں پر چڑھتے ہیں اور ان کے دروازے اور ان کے تخت جن پر وہ تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں ، سب چاندی اور سونے کے بنا دیتے ۔ یہ تو محض حیات دنیا کی متاع ہے اور آخرت تیرے رب کے ہاں صرف متقین کے لئے ہے ”۔ اللہ جانتا ہے کہ اس کی مخلوق ضعیف ہے اور وہ دنیا کے مال و دولت سے کس قدر متاثر ہوجاتی ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ اپنی اس عظیم رحمت کا انکار کرنے والوں کو اس حقیر و ذلیل دنیا سے مالا مال کردیتا ، ان کے مکانات ، ان کی چھتیں اور ان کے دروازے اور ان کا فرنیچر سب سونے چاندی کے ہوجاتے ۔ ان کے گھروں کے بڑے بڑے گیٹ ہوتے۔ جن تختوں پر وہ بیٹھے ان کے بڑے بڑے تکیے ہوتے اور یہ سونے چاندی اور دوسری قیمتی دھاتوں کے ہوتے۔ یہ دنیائے ونی سب کی سب ان کفار کے حوالے کردی جاتی۔ وان کل ذلک لما متاع الحیوۃ الدنیا (٤٣ : ٣٥) “ یہ تو سب حیات دنیا کی متاع ہے ”۔ یعنی زائل ہونے والا سازو سامان ، جو اس دنیا کی حدود سے آگے جاتا ہی نہیں۔ یہ دنیا بھی کم قیمت اور مختصر اور اس پر انسان کی زندگی بھی مختصر۔ والاخرۃ عند ربک للمقتین (٤٣ : ٣٥) “ اور آخرت تیرے رب کے ہاں صرف متقین کے لیے ہے ”۔ اور یہ لوگ اللہ کے نزدیک اپنے تقویٰ کی وجہ سے مکرم ہیں۔ لہٰذا اس نے ان کے لئے وہ انعامات تیار کر رکھے جو بہت ہی باعزت اور قیمتی ہیں۔ اور وہ اس دنیا کے فانی متاع کے مقابلے میں زیادہ باقی رہنے والے بیش قیمت ہیں۔ اور اللہ ان کو قیامت میں رحمٰن کے کافروں کے مقابلے میں بہت ہی امتیازی شان دے گا اور رہے یہ کافر تو ان کو اللہ متاع حیات اس حساب سے دیتا ہے جس طرح حیوانات کو چارہ دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حیات دنیا کا یہ سازو سامان جس کی مثال اللہ نے یہاں دی ، اس دنیا کے بہت سے لوگوں کی نظروں کو چکا چوند کردیتا ہے ۔ اور جب اہل ایمان فساق و فجار کے ہاتھ میں یہ مال و دولت دیکھتے ہیں اور پھر دیکھتے ہیں کہ اللہ کے نیک بندوں کے ہاتھ ان سے خالی ہیں یا وہ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ عسرت ، سختی اور تنگی ترشی کی زندگی بسر کرتے ہیں اور یہ فساق و فجار اپنی دولت کے بل بوتے پر ، قوت و سطوت اور اقتدار پر ہیں تو وہ فتنے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ یہ فتنہ لوگوں پر بہت اثر کرتا ہے لیکن اللہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ یہ چیزیں نہایت ہی حقیر ، عارضی اور کم قیمت ہیں۔ اور اللہ نے اپنے ہاں متقین کے لئے جو کچھ تیار کر رکھا ، وہ ناقابل تصور ہے۔ یہ نیک لوگوں کے لئے ہے۔ اس طرح قلب مومن اس حالت پر مطمئن ہوجاتا ہے جو اللہ نے ابرار کے لئے اختیار کیا ہے یا فجار کے لئے اختیار کیا ہے۔ ان لوگوں کا اعتراض یہ تھا کہ اللہ نے نبوت کے لئے ایسے شخص کا انتخاب کیا ہے جس کے پاس دولت دنیا نہیں ہے ۔ وہ لوگوں کی قدرو قیمت کا اندازہ ان کے اقتدار ، ان کے مال ، اور ان کے مرتبے سے لگاتے ہیں۔ ان کو جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں تو یہ چیزیں حقیر اور فانی ہیں۔ یہ تو اللہ کی شریر ترین مخلوق کے پاس بہت زیادہ ہوتی ہیں اور اللہ کے مبغوض ترین لوگوں کے پاس زیادہ ہوتی ہیں۔ لہٰذا مال و دولت اللہ کے ہاں قرب ، مرتبہ اور رضائے الٰہی کی دلیل نہیں ہے۔ یوں قرآن کریم ہر چیز کو اپنی جگہ اور صحیح مقام پر رکھتا ہے ۔ اور اللہ کے قوانین بابت تقسیم رزق بیان کرتا ہے کہ اس دنیا میں دولت کی تقسیم کا یہ نظام ہے۔ اور یہ وضاحت کرتا ہے کہ اللہ کے نزدیک اس سلسلے میں کیا قدریں ہیں اور یہ تمام باتیں اس حوالے سے کی گئیں کہ ان لوگوں کو رسالت محمدی پر اس زاویہ سے اعتراض تھا کہ اللہ نے مکہ اور طائف کے رؤسا کو چھوڑ کر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی بنا دیا جو دولت کے اعتبار سے ایک عام آدمی تھے۔ یوں ، اس مناسبت سے امارت اور غربت کے بارے میں ، اسلامی نظام معیشت کے لئے بنیادی اور کلی قواعد وضع کر دئیے گئے ، جن کے اندر کوئی تبدیلی نہ ہوگی اور کوئی تغیر ممکن نہ ہوگا۔ زندگی کی بو قلمونیاں ، نظام کا اختلاف ، نظریات کا اختلاف ، معاشروں اور سوسائٹیوں کا اختلاف کوئی چیز بھی ان قواعد کو متاثر نہ کرے گی۔ کیونکہ زندگی کی بعض مستقل قدریں ہیں اور یہ زندگی ان کے دائرے کے اندر ہی حرکت کرتی ہے۔ وہ اس کے دائرے سے خارج نہیں ہو سکتی۔ جن لوگوں کو بدلتے ہوئے حالات اس طرف سے اندھا کردیتے ہیں کہ وہ زندگی کی ان مستقل قدروں کو دیکھ سکیں ، وہ اللہ کے اس مستقل معاشی اصول اور معاشی کلیہ کو نہیں سمجھ سکتے۔ (انہدام روس کے بعد سمجھ لیا ہے ) اسلامی نظام دراصل ثبات اور تغیر کے درمیان ایک حسین امتزاج ہے۔ اس کے معاشی نظام میں بدلنے والے اصول بھی ہیں اور ناقابل تغیر بھی ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو اس حقیقت کو نہیں سمجھتے ، وہ یہی خیال کرتے ہیں کہ زندگی کی ترقی میں تغیر و تبدل ہی اصل چیز ہے۔ یہ تغیر اور انقلاب اشیاء کی حقیقت میں بھی آتا ہے اور شکل میں بھی آتا ہے اور ان لوگوں کا زعم یہ ہے کہ اس تغیر اور تبدیلی کے ساتھ مستقل اور ثابت اصول نہیں چل سکتے۔ یہ لوگ اس بات کے منکر ہیں کہ تبدل و تغیر کے سوا اور کوئی مستقل قانون معیشت بھی ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔ یہ لوگ صرف تغیر کے قانون کو تسلیم کرتے ہیں۔ رہے ہم مسلمان تو ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس پوری کائنات میں ثبات اور تغیر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں اور ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اور اس دنیا کی بعض چیزوں میں ثبات بطور ایک مستقل قدر موجود ہے اور اس کی بڑی مثال تو یہی مسئلہ موضوع بحث ہے۔ لوگوں کے درمیان تقسیم رزق میں تفاوت ایک مستقل اصول ہے اور نسبت تفاوت میں فرق و امتیاز بہرحال ہوتا ہی رہتا ہے۔ یہ نسبت ہر ملک اور ہر معاشرے اور ہر زمانے میں بدل سکتی ہے۔ خود موضوع زیر بحث میں دونوں مثالیں موجود ہیں کہ ثبات و تغیر تقسیم معیشت میں موجود ہے۔ اور تفاوت مستقل ہے اور نسبت تفاوت متغیر ہے۔ ٭٭٭ جب یہ بیان کردیا گیا کہ اللہ کے نزدیک اس دنیا کا مال و متاع کوئی چیز نہیں ہے اور یہ ایک حقیر سامان چند روزہ ہے۔ اور یہ بھی بتا دیا کہ فساق و فجار کو جو دولت دی جاتی ہے یہ ان کی کرامت اور شرافت کی دلیل نہیں ہے۔ اور آخرت کے تمام مزے متقین کے لئے ہیں۔ تو یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ جن لوگوں کو دنیا میں دولت دی گئی اور وہ اللہ کو یاد نہیں کرتے اور وہ ان عبادات سے منہ پھیرے ہیں جن کے نتیجے میں آخرت میں نعمتیں ملیں گی تو ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوگا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد فرمایا ﴿بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ ﴾ (الآیۃ) ان لوگوں کے پاس حق تو آگیا ہے لیکن قبول کرنے سے گریز کر رہے ہیں اس کا سبب یہ ہے کہ ان کو اور ان کے باپ دادوں کو میں نے دنیا کا سامان دے دیا یہ لوگ اس میں مشغول ہیں اس مشغولی نے ان کو یہاں تک پہنچا دیا کہ جب ان کے پاس حق آگیا اور رسول مبین یعنی محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے جنہوں نے واضح طور پر توحید کی دعوت دے دی جسے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بعد میں آنے والوں کے لیے باقی رکھا تھا تب بھی حق کو قبول کرنے سے اعراض کر رہے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

20:۔ ” بل متعت ھؤلاء “ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں توحید کو اللہ تعالیٰ نے قائم ودائم کردیا تو پھر یہ مشرکین مکہ جو ان کی اولاد میں سے ہی، یہ کیونکر مشرک ہوگئے ؟ کیا توحید کے بارے میں ان کے دلوں میں شبہات ہیں ؟ اس کا جواب دیا گیا کہ توحید پر ایسے واضح اور روشن دلائل قائم ہوجانے کے بعد کوئی جائے شبہہ ہی ہے۔ قرآن تمام شبہات کو دور کرتا ہے بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو دنیا کے مال و متاع اور ساز و سامان سے مالا مال کردیا اور وہ دنیوی عیش اور لذت میں محو ہو کر توحید سے منحرف ہوگئے یہاں تک کہ اب پھر ان کے پاس حق (قرآن) کی دعوت پہنچ گئی اور توحید کو واضح اور روشن کرنے والا پیغمبر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگیا۔ آپ اسی دعوت ابراہیمیہ کو لے کر آئے ہیں۔ الحق ای القرا و رسول ای محمد (علیہ السلام) (مدارک ج 4 ص 89) ۔ ای محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بالتوحید والاسلام الذی ھو اصل دین ابراہیم وھو الکلمۃ التی بقاھا اللہ فی عقبہ (قرطبی ج 16 ص 82) ۔ ” ولما جاءھم الحق الخ “ اور جب قرآن آگیا جو انہیں خواب غفلت سے بیدار کرنے والا اور دعوت توحید کا حامل ہے، تو تحقیر وعناد کے لہجے میں کہنے لگے تو یہ جادو ہے، اور ہم اسے نہیں مانتے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(29) مگر یہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کی بات پر نہ چلے بلکہ میں نے ان کو اور ان کے بڑوں کو ہر قسم کے سازوسامان سے بہرہ مند کیا اور یہ اس میں مشغول ہوکر غافل ہوگئے یہاں تک کہ ان کے پاس دین حق اور صاف صاف بیان کرنے والا رسول آپہنچا۔ مطلب یہ ہے کہ میں نے مکہ والوں کو اپنی نعمتوں سے نوازا اور مالا مال کیا، یہ نوازش اس لئے تھی کہ یہ ابراہیم کی اولاد ہیں یہ اللہ تعالیٰ کا احسان مانیں گے اور ابراہیم کے کلمہ باقیہ کا احترام کریں گے۔ لیکن ہوا یہ کہ یہ لوگ مفرور ہوگئے اور عیس و عشرت میں لگ کر دین حنیف کو فراموش کردیا اور شرک میں مبتلا ہوگئے یہاں تک کہ ان کے پاس حق یعنی قرآن یا دین حق اور رسول صاف صاف بتانے والا آپہنچا حق کے دو معنی مفسرین نے کئے ہیں ہم نے ترجمے اور تیسیر میں دونوں کی رعایت رکھی ہے۔ اور جو فرمایا بل متعتھوء لاء واباء ھم مراد اس سے دنیاوی عیش ہے مثلاً عمر کی درازی عزت و آبرو سامان عیش وغیرہ اور بڑی بات یہ کہ مہلت اور ڈھیل لیکن انہوں نے بجائے احسان ماننے کے کفران نعمت کیا یہاں تک کہ ان کے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا سچا قرآن آگیا۔