58 That is, one group of the people denied him and in their antagonism went to the extent of accusing him of illegitimate birth and got him crucified as they thought; the other group believed in him but owing to exaggerated reverence made him son of God, and then the question of man's being God became such a riddle for it that every effort to resolve it caused it to be divided into countless sects. (For explanation, see An-Nisa: 171, AI-Ma'idah 17, 77,116-117 and the corresponding E.N.'s),
سورة الزُّخْرُف حاشیہ نمبر :58
یعنی ایک گروہ نے ان کا انکار کیا تو مخالفت میں اس حد تک پہنچ گیا کہ ان پر ناجائز ولادت کی تہمت لگائی اور ان کو اپنے نزدیک سولی پر چڑھوا کر چھوڑا ۔ دوسرے گروہ نے ان کا اقرار کیا تو عقیدت میں بے تحاشا غلو کر کے ان کو خدا بنا بیٹھا اور پھر ایک انسان کے خدا ہونے کا مسئلہ اس کے لیے ایسی گتھی بنا جسے سلجھاتے سلجھاتے اس میں بے شمار فرقے بن گئے ۔ ( تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اول ، النساء ، حواشی ، ۲۱۱ تا ۲۱٦ ، المائدہ ، حواشی ۳۹ ۔ ٤۰ ۔ ۱۰۱ ۔ ۱۳۰ ) ۔