Surat uz Zukhruf

Surah: 43

Verse: 65

سورة الزخرف

فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ مِنۡۢ بَیۡنِہِمۡ ۚ فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ عَذَابِ یَوۡمٍ اَلِیۡمٍ ﴿۶۵﴾

But the denominations from among them differed [and separated], so woe to those who have wronged from the punishment of a painful Day.

پھر ( بنی اسرائیل کی ) جماعتوں نے آپس میں اختلاف کیا پس ظالموں کے لئے خرابی ہے دکھ والے دن کی آفت سے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَاخْتَلَفَ الاْاَحْزَابُ مِن بَيْنِهِمْ ... But the sects from among themselves differed. means, they differed and became parties and factions, some who stated that he (Isa) was the servant and Messenger of Allah -- which is true - while others claimed that he was the son of Allah or that he himself was Allah -- glorified be Allah far above what they say. Allah says: ... فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ أَلِيمٍ So woe to those who do wrong from the torment of a painful Day!

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

65۔ 1 اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں، یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) میں نقص نکالا اور انہیں نعوذ باللہ ولد الزنا قرار دیا، جب کہ عیسائیوں نے غلو سے کام لے کر انہیں معبود بنا لیا۔ یا مراد عیسائیوں ہی کے مختلف فرقے ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں ایک دوسرے سے شدید اختلاف رکھتے ہیں، ایک انہیں ابن اللہ، دوسرا اللہ اور ثالث ثلاثہ کہتا اور ایک فرقہ مسلمانوں ہی کی طرح انہیں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تسلیم کرتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٤] سیدنا عیسیٰ سے متعلق بنی اسرائیل کے اختلافات :۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے ارشاد کے باوجود بنی اسرائیل اپنے اختلاف اور فرقہ بازی سے باز نہ آئے۔ مزید ستم یہ ڈھایا کہ سیدنا عیسیٰ کی ذات میں بھی اختلاف پیدا کرکے ان اختلافات کو اور بھی زیادہ کردیا۔ بنی اسرائیل کے ایک فرقہ نے سیدہ مریم پر تہمت لگائی اور سیدنا عیسیٰ کے ایسے دشمن بنے کہ حکومت وقت کے تعاون سے بزعم خویش انہیں سولی پر چڑھا کے دم لیا۔ اور جو لوگ سیدنا عیسیٰ پر ایمان لے آئے وہ دوسری انتہا کو جا پہنچے۔ کسی نے انہیں اللہ کا بیٹا، کسی نے تین خداؤں میں سے ایک خدا اور کسی نے انہیں اللہ ہی قرار دے دیا۔ پھر اپنے اپنے موقف کی حمایت میں ایسی ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لیا کہ بیشمار فرقے وجود میں آکر ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے لگے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) فاختلف الاحزاب من بینھم : عیسیٰ (علیہ السلام) کے اس ارشاد کے باوجود بنی اسرائیل اختلاف سیب از نہیں آئے، بلکہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات کے بارے میں مزید گروہوں میں بٹ گئے۔ بعض نے انھیں سچا رسول تسلیم کرلیا اور بعض نے انھیں جھوٹا اور مکار قرار دیا۔ پھر اناکار کرنے والے کئی اس حد تک جا پہنچے کہ ان کی والدہ پر تہمت لگا کر انھیں ولد الزنا قرار دیا اور اس قدر مخالفت کی کہ اپنے گمان میں صلیب پر چڑھا کر دم لیا۔ اور ایمان لانے والے اگر کچھ راہ راست پر رہے تو بعض نے انھیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا، بعض نے تین خداؤں میں سے ایک اور بعض نے اللہ ہی قرآن دے لیا اور ہر فرقے نے ایسی ہٹ دھرمی سے کام لیا کہ بیشمار فرقے وجود میں آکر ایک دوسرے سے جھگڑنے لگے۔ ” من بینھم “ کا مطلب یہ ہے کہ کہ اختلاف کا باعث بیرونی نہیں تھا بلکہ وہ خود ہی تھے۔ (٢) فویل للذین ظلموا من عذاب یوم الیم : ظلم کرنے والوں سے مراد وہ گروہ ہیں جنہوں نے انہیں جھوٹا قرار دیا اور وہ بھی جن ہونے ان کی عقیدت میں غلوا اختیار کرتے ہوئے انھیں اللہ کا بیٹا یا خود اللہ قرار دے کر شرک کا ارتکاب کیا۔ ’ یوم الیم “ سے مراد قیامت کا دن ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَيْنِہِمْ۝ ٠ ۚ فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ اَلِيْمٍ۝ ٦٥ الاختلافُ والمخالفة والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] ( خ ل ف ) الاختلاف والمخالفۃ الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے اعم ہے کیونکہ ضدین کا مختلف ہونا تو ضروری ہوتا ہے مگر مختلفین کا ضدین ہونا ضروری نہیں ہوتا ۔ پھر لوگوں کا باہم کسی بات میں اختلاف کرنا عموما نزاع کا سبب بنتا ہے ۔ اس لئے استعارۃ اختلاف کا لفظ نزاع اور جدال کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] پھر کتنے فرقے پھٹ گئے ۔ حزب الحزب : جماعة فيها غلظ، قال عزّ وجلّ : أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصى لِما لَبِثُوا أَمَداً [ الكهف/ 12] ( ح ز ب ) الحزب وہ جماعت جس میں سختی اور شدت پائی جائے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصى لِما لَبِثُوا أَمَداً [ الكهف/ 12] دونوں جماعتوں میں سے اس کی مقدار کسی کو خوب یاد ہے بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ويل قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر . ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الجاثية/ 7] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا [ مریم/ 37] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] ، وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ، وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ، يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/ 52] ، يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا ظالِمِينَ [ الأنبیاء/ 46] ، يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا طاغِينَ [ القلم/ 31] . ( و ی ل ) الویل اصمعی نے کہا ہے کہ ویل برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور حسرت کے موقع پر ویل اور تحقیر کے لئے ویس اور ترحم کے ویل کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ اور جن لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ویل جہنم میں ایک وادی کا نام ہے۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ان پر افسوس ہے اس لئے کہ بےاصل باتیں اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور پھر ان پر افسوس ہے اس لئے کہ ایسے کام کرتے ہیں وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] اور کافروں کے لئے سخت عذاب کی جگہ خرابی ہے ۔ ۔ فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] سو لوگ ظالم ہیں ان کی خرابی ہے ۔ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ناپ تول میں کمی کر نیوالا کے لئے کر ابی ہے ۔ وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ہر طعن آمیز اشارتیں کرنے والے چغلخور کی خرابی ہے ۔ يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/ 52]( اے ہے) ہماری خواب گا ہوں سے کسی نے ( جگا ) اٹھایا ۔ يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا ظالِمِينَ [ الأنبیاء/ 46] ہائے شامت بیشک ہم ظالم تھے ۔ يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا طاغِينَ [ القلم/ 31] ہائے شامت ہم ہی حد سے گبڑھ گئے تھے ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا ألم الأَلَمُ الوجع الشدید، يقال : أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قال تعالی: فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَما تَأْلَمُونَ [ النساء/ 104] ، وقد آلمت فلانا، و عذاب أليم، أي : مؤلم . وقوله : لَمْ يَأْتِكُمْ [ الأنعام/ 130] فهو ألف الاستفهام، وقد دخل علی «لم» . ( ا ل م ) الالم کے معنی سخت درد کے ہیں کہا جاتا ہے الم یالم ( س) أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قرآن میں ہے :۔ { فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ } ( سورة النساء 104) تو جس طرح تم شدید درد پاتے ہو اسی طرح وہ بھی شدید درد پاتے ہیں ۔ اٰلمت فلانا میں نے فلاں کو سخت تکلیف پہنچائی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } ( سورة البقرة 10 - 174) میں الیم بمعنی مؤلم ہے یعنی دردناک ۔ دکھ دینے والا ۔ اور آیت :۔ اَلَم یَاتِکُم (64 ۔ 5) کیا تم کو ۔۔ نہیں پہنچی ۔ میں الف استفہام کا ہے جو لم پر داخل ہوا ہے ( یعنی اس مادہ سے نہیں ہے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

سو جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ کے بارے میں مختلف گروہ بنائے ان کے لیے درد دینے والا سخت ترین عذاب ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٥ { فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْم بَیْنِہِمْ } ” پھر ان میں سے کئی گروہ باہم اختلافات میں مبتلا ہوگئے۔ “ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں دو بڑے گروہوں کے درمیان شدید اختلافات پید اہو گئے۔ یہودی آپ ( علیہ السلام) کی مخالفت میں اس حدتک چلے گئے کہ انہوں نے آپ ( علیہ السلام) کو جادوگر ‘ مرتد اور ولد الزنا (نقل کفر ‘ کفر نباشد) قرار دے دیا۔ ان کے مقابلے میں عیسائیوں نے دوسری انتہا پر جا کر آپ ( علیہ السلام) کو (نعوذ باللہ ) اللہ کا بیٹا بنا دیا اور آپ ( علیہ السلام) کے بارے میں یہ عقیدہ بھی گھڑ لیا کہ آپ ( علیہ السلام) اپنے نام لیوائوں کی طرف سے خود سولی پر چڑھ گئے ہیں اور یوں آپ ( علیہ السلام) کی یہ ” قربانی “ آپ ( علیہ السلام) کے ہر ماننے والے کے گناہوں کا کفارہ بن گئی ہے۔ بہر حال یہ دونوں رویے ّانتہائی غلط ہیں۔ { فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ } ” پس تباہی اور بربادی ہے ان ظالموں کے لیے ایک دردناک دن کے عذاب سے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

58 That is, one group of the people denied him and in their antagonism went to the extent of accusing him of illegitimate birth and got him crucified as they thought; the other group believed in him but owing to exaggerated reverence made him son of God, and then the question of man's being God became such a riddle for it that every effort to resolve it caused it to be divided into countless sects. (For explanation, see An-Nisa: 171, AI-Ma'idah 17, 77,116-117 and the corresponding E.N.'s),

سورة الزُّخْرُف حاشیہ نمبر :58 یعنی ایک گروہ نے ان کا انکار کیا تو مخالفت میں اس حد تک پہنچ گیا کہ ان پر ناجائز ولادت کی تہمت لگائی اور ان کو اپنے نزدیک سولی پر چڑھوا کر چھوڑا ۔ دوسرے گروہ نے ان کا اقرار کیا تو عقیدت میں بے تحاشا غلو کر کے ان کو خدا بنا بیٹھا اور پھر ایک انسان کے خدا ہونے کا مسئلہ اس کے لیے ایسی گتھی بنا جسے سلجھاتے سلجھاتے اس میں بے شمار فرقے بن گئے ۔ ( تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اول ، النساء ، حواشی ، ۲۱۱ تا ۲۱٦ ، المائدہ ، حواشی ۳۹ ۔ ٤۰ ۔ ۱۰۱ ۔ ۱۳۰ ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(43:65) الاحزاب : حزب کی جمع ۔ گروہ۔ ٹولیاں ۔ جماعتیں۔ من بینھم : باہم۔ آپس میں ، یعنی حضرت عیسیٰ کی امت میں سے مختلف گروہوں نے آپس میں اختلاف ڈال لیا۔ ویل : ہلاکت، عذاب، دوزخ کی ایک وادی۔ عذاب کی شدت۔ امام راغب لکھتے ہیں :۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ویل دوزخ کی ایک وادی کا نام ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ نے جن بدبختوں کیلئے کلمہ ویل استعمال کیا ہے ان کا ٹھکانہ دوزخ میں بن گیا یہ مراد نہیں کہ یہ لفظ وادی دوزخ کیلئے وضع کیا گیا ہے (المفردات) عذاب یوم الیم۔ موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ عذاب مضاف الیم بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے دردناک ۔ دکھ دینے والا یوم الیم ۔ دردناک دن۔ یوم آخرت۔ للذین ظلموا : ای الذین کفروا۔ ظلموا بمعنی کفروا پر متعدد آیات دال ہیں مثلا والکافرون ہم الظلمون (2:254) ان الشرک لظلم عظیم (31:13) وغیرہ۔ ترجمہ ہوگا :۔ سو جو لوگ کافر یا ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والے دن کے عذاب سے ہلاکت ہے۔ للذین ظلموا کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے۔ ان لوگوں کے لئے جنہوں نے خواہشات کی پیروی کرکے اور کتاب و سنت کو ترک کرکے اپنے اوپر ظلم کیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 بعض نے انہیں سچا پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مانا، بعض نے غلو کر کے انہیں خدا کا بیٹا بنا لیا اور بعض نے ان کی اس حد تک مخالفت کی کہ جھوٹا اور مکار قرار دیا اور انہیں سولی دینے کی سکیم بنائی۔ 7 مراد آخری دو گروہ ہیں یعنی جنہوں نے انہیں خدا کا بیٹا قرار دے کر شرک کا ارتکاب کیا اور جنہوں نے ان کی مخالفت کی۔ 8 مراد قیامت کا دن ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ یعنی خلاف توحید طرح طرح کے مذاہب ایجاد کرلئے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَيْنِهِمْ ﴾ (آپس میں جماعتوں کے درمیان اختلاف ہوگیا) یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے عقیدت رکھنے والوں نے ان کے بارے میں گروہ بندی کردی اور مختلف جماعتیں بن گئیں ایک جماعت کہتی ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور ایک جماعت کہتی ہے کہ تین معبود ہیں (جیسا کہ سورة مائدہ میں ان کے قول نقل فرمائے ہیں) اور ان میں سے ایک جماعت کہتی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں (جیسا کہ سورة التوبہ میں نصاریٰ کا یہ قول نقل فرمایا ہے) پھر جن لوگوں نے ان تینوں باتوں کو نہیں مانا انہوں نے بھی اس اعتبار سے کفر اختیار کرلیا کہ محمد رسول اللہ خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو آپ کی رسالت کے منکر ہوگئے جن لوگوں کو اللہ نے ہدایت دی وہ مسلمان ہوگئے جیسا کہ شاہ حبشہ نجاشی اور وہاں کے دوسرے افراد کا واقعہ مشہور ہے۔ ﴿ فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ اَلِيْمٍ ٠٠٦٥﴾ سو جن لوگوں نے ظلم کیا یعنی شرک اور کفر کو اختیار کیا ان کے لیے ہلاکت و بربادی ہے جو درد ناک عذاب کی صورت میں ظاہر ہوگی یعنی قیامت کے دن عذاب میں جائیں گے

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

39:۔ ” فاختلف الاحزاب۔ الایۃ “۔ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے خود اپنی عبادت کا حکم نہیں دیا تھا تو پھر انہیں کیوں پکارا گیا، تو جواب دیا گیا کہ ان کے رفع کے بعد ان کے متبعین میں اختلاف پڑگیا اور وہ مختلف فرقوں میں تقسیم ہوگئے اور ان میں سے بعض فرقوں نے ان کو معبود بنا لیا تو ایسے ظالموں کے لیے دردناک عذاب سے ہلاکت و تباہی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(65) پھربنی اسرائیل کے بہت سے گرو آپس میں پھٹ گئے اور آپس میں اختلاف ڈال لیا۔ سوای سے ظالموں کے لئے ایک درد ناک دن کے عذاب سے بڑی تباہی اور بڑی خرابی ہے۔ یعنی یہود ان کے منکر ہوئے نصاریٰ ان کے قائل ہوئے پھر نصاریٰ میں بھی فرقے فرقے ہوگئے کوئی اقانیم ثلثہ کا قائل ہوا کسی نے ان کو اللہ کہا کسی نے خدا کا بیٹا کہا ایسے لوگوں کے لئے وعید فرمائی کہ قیامت کے دن ان لوگوں کے لئے بڑی خرابی ہے جنہوں نے اختلاف ڈال کر ابن مریم کی صحیح تعلیم کو برباد کردیا آگے منکروں کے لئے تہدید بیان فرمائی۔