Surat ud Dukhaan

The Smoke

Surah: 44

Verses: 59

Ruku: 3

Listen to Surah Recitation
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

تفسیر سورۃ الدخان ترمذی شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص رات کو سورہ حم دخان پڑھے اس کے لئے صبح تک ستر ہزار فرشتے استغفار کرتے رہتے ہیں ۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کے ایک راوی عمرو بن ابی خثعم ضعیف ہیں ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں ۔ ترمذی کی اور حدیث میں ہے کہ جس نے اس سورۃ کو جمعہ کی رات پڑھا اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں یہ حدیث بھی غریب ہے ۔ اور اس کے ایک راوی ابو المقدام ہشام ضعیف ہیں اور دوسرے راوی حضرت حسن کا حضرت ابو ہریرہ سے سننا ثابت نہیں ۔ مسند بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کے سامنے اپنے دل میں سورہ دخان کو پوشیدہ کر کے اس سے پوچھا کہ بتا میرے دل میں کیا ہے ؟ اس نے کہا ( دخ ) آپ نے فرمایا بس پرے ہٹ جا نامراد رہ گیا جو اللہ چاہتا ہے ہوتا ہے پھر آپ لوٹ گئے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة الدُّخَان نام : آیت نمبر 10 ، یَوْمَ تَأتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِینٍ کے لفظ دُخان کو اس سورۃ کا عنوان بنایا گیا ہے ، یعنی یہ وہ سورۃ ہے جس میں لفظ دخان وارد ہوا ہے ۔ زمانۂ نزول : اس کا زمانہ نزول بھی کسی معتبر روایت سے معلوم نہیں ہوتا ، مگر مضامین کی اندرونی شہادت بتاتی ہے کہ یہ بھی اسی دور میں نازل ہوئی ہے جس میں سورہ زُخْرُف اور اس سے پہلے کی چند سورتیں نازل ہوئی تھیں ، البتہ یہ ان سے کچھ متأخر ہے ۔ تاریخی پس منظر یہ ہے کہ جب کفار کی مخالفانہ روش شدید سے شدید تر ہوتی چلی گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ خدایا ، یوسف علیہ السلام کے قحط جیسے ایک قحط سے میری مدد فرما ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال یہ تھا کہ جب ان لوگوں پر مصیبت پڑے گی تو انہیں خدا یاد آئے گا اور ان کے دل نصیحت قبول کرنے کے لیے نرم پڑ جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور سارے علاقے میں ایسے زور کا قحط پڑا کہ لوگ بلبلا اٹھے ۔ آخر کار بعض سرداران قریش ، جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود نے خاص طور پر ابو سفیان کا نام لیا ہے ، حضور کے پاس آئے اور آپ سے درخواست کی کہ اپنی قوم کو اس بلا سے نجات دلانے کے لیے اللہ سے دعا کریں ۔ یہی موقع ہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ سورۃ نازل فرمائی ۔ موضوع اور مباحث : اس موقع پر کفار مکہ کی فہمائش اور تنبیہ کے لیے جو خطبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا گیا اس کی تمہید چند اہم مباحث پر مشتمل ہے : اول یہ کہ تم لوگ اس قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصنیف سمجھنے میں غلطی کر رہے ہو ۔ یہ کتاب تو اپنی ذات میں خود اس امر کی بین شہادت ہے کہ یہ کسی انسان کی نہیں بلکہ خداوند عالم کی کتاب ہے ۔ دوسرے یہ کہ تم اس کتاب کی قدر و قیمت سمجھنے میں بھی غلطی کر رہے ہو ۔ تمہارے نزدیک یہ ایک بلا ہے جو تم پر نازل ہو گئی ہے ۔ حالانکہ در حقیقت وہ گھڑی انتہائی مبارک گھڑی تھی جب اللہ تعالیٰ نے سراسر اپنی رحمت کی بنا پر تمہارے ہاں اپنا رسول بھیجنے اور اپنی کتاب نازل کرنے کا فیصلہ فرمایا ۔ تیسرے یہ کہ تم اپنی نادانی سے اس غلط فہمی میں پڑے ہوئے ہو کہ اس رسول اور اس کتاب سے لڑ کر تم جیت جاؤ گے ۔ حالانکہ اس رسول کی بعثت اور اس کتاب کی تنزیل اس ساعت خاص میں ہوئی ہے جب اللہ تعالیٰ قسمتوں کے فیصلے فرمایا کرتا ہے ۔ اور اللہ کے فیصلے بودے نہیں ہوتے کہ جس کا جی چاہے انہیں بدل ڈالے ، نہ وہ کسی جہالت و نادانی پر مبنی ہوتے ہیں کہ ان میں غلطی اور خامی کا کوئی احتمال ہو ۔ وہ تو اس فرمانروائے کائنات کے پختہ اور اٹل فیصلے ہوتے ہیں جو سمیع و علیم اور حکیم ہے ۔ ان سے لڑنا کوئی کھیل نہیں ہے ۔ چوتھے یہ کہ اللہ کو خود بھی زمین و آسمان اور کائنات کی ہر چیز کا مالک و پروردگار مانتے ہو اور یہ بھی مانتے ہو کہ زندگی و موت اسی کے اختیار میں ہے ۔ مگر اس کے باوجود تمہیں دوسروں کو معبود بنانے پر اصرار ہے اور اس کے لیے حجت تمہارے پاس اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ باپ دادا کے وقتوں سے یہی کام ہوتا چلا آ رہا ہے ۔ حالانکہ اگر کوئی شخص شعور کے ساتھ یہ یقین رکھتا ہو کہ اللہ ہی مالک و پروردگار اور زندگی و موت کا مختار ہے تو اسے کبھی یہ شبہ تک لاحق نہیں ہو سکتا کہ معبود ہونے کے مستحق اس کے سوا یا اس کے ساتھ دوسرے بھی ہو سکتے ہیں ۔ تمہارے باپ دادا نے اگر یہ حماقت کی تھی تو کوئی وجہ نہیں کہ تم بھی آنکھیں بند کر کے اسی کا ارتکاب کرتے چلے جاؤ ۔ حقیقت میں تو ان کا رب بھی اکیلا وہی خدا تھا جو تمہارا رب ہے ، اور انہیں بھی اسی ایک کی بندگی کرنی چاہیے تھی جس کی بندگی تمہیں کرنی چاہیے ۔ پانچویں یہ کہ اللہ کی ربوبیت و رحمت کا تقاضا صرف یہی نہیں ہے کہ تمہارا پیٹ پالے بلکہ یہ بھی ہے کہ تمہاری رہنمائی کا انتظام کرے ۔ اسی رہنمائی کے لیے اس نے رسول بھیجا ہے اور کتاب نازل کی ہے ۔ اس تمہید کے بعد اس قحط کے معاملے کو لیا گیا ہے جو اس وقت در پیش تھا ۔ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں ، یہ قحط نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی استدعا پر آیا تھا ، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا اس خیال سے کی تھی کہ مصیبت پڑے گی تو کفار کی اکڑی ہوئی گردنیں ڈھیلی پڑ جائیں گی ، شاید کہ پھر حرف نصیحت ان پر کارگر ہو ۔ یہ توقع اس وقت کسی حد تک پوری ہوتی نظر آ رہی تھی ، کیونکہ بڑے بڑے ہیکڑ دشمنان حق کال کے مارے پکار اٹھے تھے کہ پروردگار ، یہ عذاب ہم پر سے ٹال دے تو ہم ایمان لے آئیں گے ۔ اس پر ایک طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا گیا ہے کہ ایسی مصیبتوں سے یہ لوگ کہاں سبق لینے والے ہیں ، انہوں نے جب اس رسول کی طرف سے منہ موڑ لیا جس کی زندگی سے ، جس کے کردار سے اور جس کے کام اور کلام سے علانیہ ہو رہا ہے کہ وہ یقیناً خدا کا رسول ہے ، تو اب محض ایک قحط ان کی غفلت کیسے دور کر دے گا ۔ دوسری طرف کفار کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ تم بالکل جھوٹ کہتے ہو کہ یہ عذاب تم پر سے ٹال دیا جائے تو تم ایمان لے آؤ گے ۔ ہم اس عذاب کو ہٹائے دیتے ہیں ، ابھی معلوم ہوا جاتا ہے کہ تم اپنے اس وعدے میں کتنے سچے ہو ۔ تمہارے سر پر تو شامت کھیل رہی ہے ۔ تم ایک بڑی ضرب مانگ رہے ہو ، ہلکی چوٹوں سے تمہارا دماغ درست نہیں ہو گا ۔ اسی سلسلے میں آگے چل کر فرعون اور اس کی قوم کا حوالہ دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کو بھی ٹھیک یہی آزمائش پیش آئی تھی جس سے اب کفار قریش کے سرداروں کو سابقہ پڑا ہے ۔ ان کے پاس بھی ایسا ہی ایک معزز رسول آیا تھا ۔ انہوں نے بھی وہ صریح علامات اور نشانیاں دیکھ لی تھیں جن سے اس کا مامور من اللہ ہونا صاف ظاہر ہو رہا تھا ۔ وہ بھی نشانی پر نشانی دیکھتے چلے گئے مگر اپنی ضد سے باز نہ آئے ۔ یہاں تک کہ آخر کار رسول کی جان لینے کے درپے ہو گئے اور نتیجہ وہ کچھ دیکھا جو ہمیشہ کے لیے سامان عبرت بن گیا ۔ اس کے بعد دوسرا موضوع آخرت کا لیا گیا ہے جس سے کفار مکہ کو شدت کے ساتھ انکار تھا ۔ وہ کہتے تھے کہ ہم نے کسی کو مرنے کے بعد دوبارہ اٹھ کر آتے نہیں دیکھا ہے ، تم اگر دوسری زندگی کے دعوے میں سچے ہو تو اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو ۔ اس کے جواب میں عقیدہ آخرت کی دو دلیلیں مختصر طور پر دی گئی ہیں ۔ ایک یہ کہ اس عقیدے کا انکار ہمیشہ اخلاق کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا رہا ہے ۔ دوسرے یہ کہ کائنات کسی کھلنڈرے کا کھلونا نہیں ہے ، بلکہ ایک حکیمانہ نظام ہے ، اور حکیم کا کوئی کام عبث نہیں ہوتا ۔ پھر کفار کے اس مطالبہ کا کہ اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو ، یہ جواب دیا گیا ہے کہ یہ کام روز روز ہر ایک کے مطالبہ پر نہیں ہو گا بلکہ اس کے لیے اللہ نے ایک وقت مقرر فرما دیا ہے جب وہ تمام نوع انسانی بیک وقت جمع کرے گا اور اپنی عدالت میں ان کا محاسبہ فرمائے گا ۔ اس وقت کی اگر کسی کو فکر کرنی ہو تو کر لے ، کیونکہ وہاں کوئی نہ اپنے زور پر بچ سکے گا نہ کسی کے بچائے بچے گا ۔ اللہ کی اس عدالت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جو لوگ وہاں مجرم قرار پائیں گے ان کا انجام کیا ہو گا ، اور جو وہاں سے کامیاب ہو کر نکلیں گے وہ کیا انعام پائیں گے ۔ پھر یہ کہہ کر بات ختم کر دی گئی ہے کہ تم لوگوں کو سمجھانے کے لیے یہ قرآن صاف سیدھی زبان میں اور تمہاری اپنی زبان میں نازل کر دیا گیا ہے ، اب اگر تم سمجھانے سے نہیں سمجھتے اور انجام بدی دیکھنے پر مصر ہو تو انتظار کرو ، ہمارا نبی بھی منتظر ہے ، جو کچھ ہونا ہے وہ اپنے وقت پر سامنے آ جائے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

تعارف سورۃ الدخان مستند روایات کے مطابق یہ سورت اس وقت نازل ہوئی تھی جب اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کے کافروں کو متنبہ کرنے کے لئے ایک شدید قحط میں مبتلا فرمایا، اس موقع پر لوگ چمڑے تک کھانے پر مجبور ہوئے، اور ابو سفیان کے ذریعے کافروں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کی کہ قحط دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں، اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اگر قحط دور ہوگیا تو ہم ایمان لے آئیں گے، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے قحط سے نجات عطا فرمادی، لیکن جب قحط دور ہوگیا تو یہ کافر لوگ اپنے وعدے سے پھر گئے اور ایمان نہیں لائے، اس واقعے کا تذکرہ اس سورت کی آیت نمبر ١٠ تا ١٥ میں آیا ہے، اور اسی سلسلے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ایک آسمان پر دھواں ہی دھواں نظر آئے گا (اس کا مطلب ان شاء اللہ اس آیت کی تفسیر میں آئے گا) دھویں کو عربی زبان میں دخان کہتے ہیں اور اسی وجہ سے اس سورت کا نام سورۂ دخان ہے، سورت کے باقی مضامین توحید رسالت اور آخرت کے اثبات پر مشتمل ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تعارف سورة الدخان ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ٭سب سے پہلے اس قرآن حکیم کی قسم کھائی ہے جسے ایک برکت والی رات میں نازل کیا گیا ہے۔ اس رات کی عظمت یہ ہے کہ اس میں ہر حکمت والے کام جو آئندہ سال میں ہونے والے ہیں ان کو فرشتوں ( جبرائیل ، اسرافیل ، میکائل اور عزرائیل) کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ ٭اللہ کی شان اور وحدانیت کے متعلق بتایا گیا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی زندگی دیتا ہے وہی موت دیتا ہے ۔ وہی سب کا پالنے والا ہے۔ اس کی ذات پر اور اس کی قدرت پر ایمان لانا سعادت اور نیکی ہے لیکن منکرین اللہ کی ذات وصفات پر ایمان نہیں لاتے۔ ایسے منکرین کو ایسے دن کا انتظار کرنا چاہیے جب کہ آسمان پر ایک دھواں پیدا ہو کر ہر چیز پر چھا جائے گا ۔ وہ دن ایسے لوگوں کے لئے بڑا سخت اور کٹھن دن ہوگا ۔ منکرین گھبرا کر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار اگر آپ نے اس کو ہم سے ہٹا لیا ، دور کردیا تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تمہارے نصیب میں ایمان لانا کہاں ہے ؟ اگر تمہیں ایمان لانا ہوتا تو ان عظیم پیغمبروں کی توہین کرتے ہوئے انہیں کسی کا سکھایا ، پڑھایا دیوانہ قرار نہ دیتے۔ جب انہوں نے اس وقت اپنے نبی کی بات کو نہیں مانا تو اب وہ کہاں ایمان لانے والے ہیں ۔ فرمایا کہ اگر آج ہم ان سے اس عذاب کو ہٹا لیں تو یہ پھر وہی حرکتیں کریں گے جو اس سے پہلے کرتے آئے ہیں ۔ ان جیسے لوگوں کو اللہ سخت گرفت میں لے کر ان سے ان کی نافرمانیوں کا بدلہ ضرور لے گا ۔ (اس قرآن مجید کو اس مبارک رات میں نازل کیا گیا ہے جس میں ہر اہم اور حکمت والے کاموں کا فیصلہ کردیا جاتا ہے اور اس سے متعلق احکامات کو فرشتوں کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ ) ( کفار و مشرکین کو قیامت کے دن زقوم کا درخت کھلایا جائے گا جو ان کے پیٹ میں اس طرح کھولتا ہوگا جس طرح پانی گرم کرتے وقت کھولتا ہے۔ ان کو جہنم کے بالکل درمیان میں دھکیل کر ان پر کھولتا پانی اوپر سے ڈالا جائے گا اور کہا جائے گا کہ کھائو تم بڑے عزت والے بنے پھرتے تھے۔ ) فرمایا ان سے پہلے قوم فرعون کا بھی یہی حال تھا کہ جب ان پر عذاب آتاتو وہ اس کے دور کرنے کی درخواست کرتے اور جب وہ ٹل جاتا تو پھر پہلے جیسی حرکتیں کرنے لگتے حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کی قوم کو ہر طرح سمجھایا مگر وہ برابر کو جھٹلاتے رہے بلکہ انہوں نے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل تک کرلینے کا پروگرام بنا لیا تھا مگر اللہ نے ان کو بچا لیا اور قوم فرعون کو پانی میں غرق کردیا اور قوم فرعون نے جو حسین باغات، بہتے چشمے ، کھیتیاں اور اونچے اونچے محل چھوڑے تھے ، بنی اسرائیل کو ان سب کا وارث بنا دیا ۔ (لیکن وہ لوگ جو اللہ سے ڈرتے اور اللہ کے پیغمبروں کی تعلیم پر چلنے والے اور اس کو ماننے والے ہیں ان کو جنت کی راحتیں عطاء کی جائیں گی وہ مانگیں گے ان کو دیا جائے گا ۔ ان کو خوبصورت باغات ، بہتے چشمے اور ریشمی لباس عطاء کیا جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ) فرعون کی تباہی پر نہ تو زمین روئی اور نہ آسمان رویا اور نہ اس کو کسی طرح کی مہلت دی گئی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کی وجہ سے اللہ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات عطاء فرمائی اور وہ جس شدید آزمائش میں مبتلا تھے اس سے ان کو چھٹکارا عطاء کیا پھر بنی اسرائیل کو توریت جیسی کتاب دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو ان کی ضد اور ہٹ دھرمی پر ایک مرتبہ پھر خبردار کیا ہے کہ وہ اللہ کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئیں اسی میں ان کی نجات ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ ذرا اس بات پر غور کرلیں کہ مکہ والے بڑی شان اور قوت والے ہیں یا تبع اور اس کی قوم ۔ فرمایا کہ جب قوم فرعون ، عاد وثمود جیسی ترقی یافتہ قومیں بھی اللہ کی نافرمانیاں کرنے کی وجہ سے اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکیں تو تمہاری کیا حیثیت اور طاقت ہے۔ فرمایا کہ وہ نظام کائنات پر غور کریں کہ اس نے زمین و آسمان اور اس کے درمیان کی تمام چیزوں کو کھیل تماشہ نہیں بنایا ہے بلکہ ان کے پیدا کرنے اور بنانے میں اللہ کی بڑی بڑی حکمتیں پوشیدہ ہیں ۔ یہ نظام کائنات ایک قوت تک چلتا رہے گا پھر اس عالم پر موت طاری ہوگی اور وہ قیامت کا دن ان مجرمین پر بہت سخت اور بھیانک ہوگا سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم و کرم فرما دے۔ فرمایا کہ اس دن کفار و مشرکین کے کھانے کے لئے زقوم کا درخت ہوگا جو ان کے پیٹ میں اس طرح جوش مارے گا جیسے تیز کھولتا ہوا پانی جوش مارتا ہے۔ اللہ کے فرشتے ان کو پکڑ کر جہنم کے بیچ میں دھکیل دیں گے اور ان پر تیز گرم پانی ڈالیں گے اور کہیں گے کہ تم بڑی عزت والے بنے پھرتے تھے آج اس عذاب کا مزہ چکھو ۔ یہ وہی عذاب ہے جس سے تمہیں ڈرایا گیا تھا مگر تم اس کو نہیں سمجھتے تھے آج اس کو بھگتو ۔ ان کے بر خلاف وہ لوگ جو اللہ سے ڈرنے والے ، نیک اور صالح ہوں گے وہ امن و سکون ، چین اور آرام کی جنتوں میں ہوں گے جہاں خوبصورت باغات ، پانی کے بہتے چشمے اور نہریں ہوں گی ۔ باریک اور موٹے ریشمی لباس پہنے مسہریوں اور تخت پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ۔ فرمایا کہ ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ان کی زوجیت میں دے دیں گے۔ وہ ہر طرح خوش و خرم اور طرح طرح کے پھلوں سے اپنا دل بہلائیں گے۔ جو موت ان کو آ چکی ہے اب دوبارہ ان کو نہ آئے گی ۔ سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اللہ نے ان کو جہنم کے عذاب سے بچالیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ آپ کے پروردگار کا فضل و کرم اور ان کی زبردست کامیابی ہوگی ۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کے رب نے قرآن کریم کو آسان عربی زبان میں نازل کیا ہے تا کہ اس پر غور و فکر کرنا آسان ہو اگر اس کے باوجود بھی یہ لوگ قرآن کی عظمت کو نہیں مانتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے انجام کا انتظار کیجئے یہ خود بھی اس کے انتظار میں ہیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

سورة الدّخان کا تعارف الدّخان مکہ معظمہ اور اس کے گردوپیش میں نازل ہوئی۔ یہ سورت انسٹھ آیات اور تین رکوعات پر مشتمل ہے۔ اس کا نام الدّخان ہے جو دسویں آیت میں موجود ہے۔ قیامت کے ایک مرحلہ پر آسمان دھوئیں کی شکل اختیار کر جائے گا اس لیے اس سورت کا نام الدّخان رکھا گیا۔ ربط سورة : سورة الزخرف کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ اگر آپ مشرکین سے سوال کریں کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو ان کا جواب ہوگا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے جو لوگ حقیقت کا اعتراف کرنے کے باوجود ایمان نہیں لاتے ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دینا چاہیے۔ سورة الدّخان کی ابتداء بھی قرآن مجید کے تعارف سے کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے مبارک رات میں نازل فرمایا جس میں ہر کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور یہ فیصلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں جو زمین و آسمانوں اور جو ان کے درمیان ہے ان کا رب ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو تو تمہیں اس پر ایمان لانا چاہیے۔ سورۃ الدّخان کا پہلا مضمون یہ ہے کہ زمین و آسمانوں کا ایک ہی رب ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی موت وحیات کا مالک اور سب لوگوں کا رب ہے۔ یہ حقیقت ٹھوس اور واضح ہونے کے باوجود لوگ اس میں شک کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا شک اس وقت ہی دور ہوگا جب ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس دن آسمان دھوئیں کی مانند ہوگا اور نافرمانوں کو پوری پوری سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مجرموں سے بدلہ لے گا اس کے بعد فرعون کی غرقابی کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ذلت آمیز مظالم سے نجات دی اور انہیں دنیا کی اقوام پر فضلیت اور برتری عنایت فرمائی۔ بنی اسرائیل نے اپنے رب کا شکر ادا کرنے کی بجائے نافرمانی کا راستہ اختیار کیا جس طرح قوم تبّع نے نافرمانی کی۔ سورة کے آخری رکوع میں جہنمیوں کی خوراک کا ذکر کرتے ہوئے بتلایا کہ ان کی غذا زقوم کا درخت ہوگا۔ جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ان کے پیٹ میں کھلبلی پیدا کر دے گا۔ جہنمیوں کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا جب یہ چیخ و پکار کریں گے تو کہا جائے گا کہ اپنے کیے کا مزہ چکھو۔ کیونکہ تم دنیا میں اپنے آپ کو بڑا معزز سمجھتے تھے اور قیامت کے دن کے بارے میں شک کا اظہار کیا کرتے تھے۔ جہنمیوں کے مقابلے میں جنتی جنت میں امن و سکون کے ساتھ رہیں گے۔ انہیں پہننے کے لیے ریشم کا لباس دیا جائے گا۔ ان کی بیویاں جنت کی حوریں ہوں گی اور وہ جنت میں ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوئے خوش گپیوں میں مصروف ہوں گے انہیں سب کچھ دیا جائے گا جس کی وہ چاہت کریں گے۔ انہیں پہلی موت کے سوا پھر موت نہیں آئے گی۔ ان پر ان کے رب کا بڑا فضل ہوگا حقیقت میں یہی بڑی کامیابی ہے۔ سورة الدّخان کا اختتام اس بات پر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی زبان پر قرآن کو آسان فرما دیا تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ اگر یہ نصیحت حاصل نہیں کرتے تو ان سے ارشاد فرمائیں کہ تم اپنی جگہ انتظار کرو ہم اپنی جگہ انتظار کرتے ہیں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فی ظلال القرآن پارہ ۔۔۔۔۔ ٢٥ سورة الدخان ۔ ٤٤ آیات ١۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔ ٥٩ سورة الدخان ایک نظر میں اس سورت کی آیات چھوٹی چھوٹی ہیں اور آیات کے مقضی اور مسجع ردیف اور فواصل ایک دوسرے کے قریب ہیں ، ان میں زور دار قسم کی تصویر کشی ہے جس کے تمام رنگ نہایت اشاراتی ہیں۔ یوں نظر آتا ہے کہ گم گشتہ راہ انسانیت کے دل و دماغ کی تاروں پر زور دار چوٹیں لگائی جا رہی ہیں۔ پوری سورت میں سیاق کلام متحد اور مربوط ہے۔ جس کا محور اور عمود ایک ہے۔ تمام تاریں اسی ایک عمود سے ملتی ہیں ، خواہ قصص ہوں ، قیامت کے مناظر ہوں یا تاریخی کی ہلاک کردہ اقوام کی بربادیوں کے مناظر ہوں یا اس وسیع و عریض کائنات کے مناظر ہوں ۔ توحید ، رسالت اور قیامت پر براہ راست بات چیت ہے ، یہ سب چیزیں انسان کے مردہ دلوں کو زندہ کرنے والی ہیں اور اس کے اندر زندہ متحرک ایمان پیدا کیا جائے ۔ آغاز یوں ہوتا ہے کہ یہ قرآن ایک مبارک رات میں نازل ہوا جس کے اندر اللہ بڑے بڑے فیصلے فرماتا ہے اور اللہ کا بندوں پر بڑا کرم تھا کہ اس نے یہ کتاب نازل فرمائی ۔ اور ان کو قبل از وقت خبردار کردیا۔ اور یہ نازل کرنے اور کرم کرنے والا کون ہے ؟ آسمانوں کا رب اور زمین کا رب۔ اور ان کے درمیان کا بھی رب۔ جو اولین اور آخرین کا رب ہے۔ اور جو زندہ کرنے والا اور مارنے والا رب ہے۔ روئے سخن یکلخت پھرجاتا ہے۔ یہ ایک نہایت ہی دل لگتا انداز ہے۔ بل ھم فی شک یلعبون (٤٤ : ٩) “ بلکہ یہ اپنے شک میں پڑے کھیل رہے ہیں ”۔ اور اس شک پر بھی ان کو خوفناک دھمکی دی جاتی ہے۔ فاتقب یوم ۔۔۔۔۔ مبین (٤٤ : ١٠) یغشی الناس ۔۔۔۔۔ الیم (٤٤ : ١١) “ اچھا انتظار کرو اس دن کا جب آسمان صریح دھواں لیے ہوئے آئے گا اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا ، یہ ہے دردناک سزا ”۔ اب یہ لوگ اس عذاب کے دور کرنے کی دعائیں کرتے ہیں لیکن یہ تو ایسا دن ہے کہ جب آتا ہے تو پھر ٹلتا نہیں۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ تصویر تو تم نے دیکھ لی ہے یہ عذاب گو آیا نہیں ہے تو کیا تم اس فرصت کو غنیمت نہیں سمجھتے۔ بجائے اس کے کہ یہ رب کے سامنے پہنچ جائیں۔ کیوں نہ ابھی سے تیاری شروع کردیتے۔ یوم نبطش ۔۔۔۔۔ انا منتقمون (٤٤ : ١٦) “ جس روز ہم بڑی ضرب لگائیں گے وہ دن ہوگا جب ہم تم سے انتقام لیں گے ” یہ ایک شدید ضرب ہے سوئے ہوئے دلوں پر کہ آرہا ہے وہ دن جس کی پکڑ سخت ہوگی ، شدید عذاب ہوگا اور اللہ کا انتقام ہوگا۔ اس کے بعد فرعون اور اس کے سرداروں کی ہلاکت کا منظر جب ان کے پاس ایک رسول کریم آیا اور اس نے ان کو پکارا۔ ان ادوا ۔۔۔۔۔۔ رسول امین (٤٤ : ١٨) وان لا تعلوا علی اللہ (٤٤ : ١٩) “ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو۔ میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو ”۔ انہوں نے سننے سے انکار کردیا اور یہ شریف رسول ان سے مایوس ہوگیا۔ اس تکبر ، غرور کے بعد پھر ان کی ہلاکت نہایت ہی توہین آمیز انداز سے ہوئی۔ کم ترکوا من جنت وعیون (٤٤ : ٢٥) وزروع و مقام کریم (٤٤ : ٢٦) ونعمۃ کانوا فیھا فکھین (٤٤ : ٢٧) کذلک واورثنھا قوما اخرین (٤٤ : ٢٨) فما بکت ۔۔۔۔۔ منظرین (٤٤ : ٢٩) “ کتنے ہی باغ اور چشمے اور کھیت اور شاندار محل تھے جو وہ چھوڑ گئے ، کتنے ہی عیش کے سرسامان جن میں وہ مزے کر رہے تھے۔ ان کے پیچھے دھرے رہ گئے ، یہ ہوا ان کا انجام اور ہم نے دوسروں کو ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔ پھر نہ آسمان ان پر رویا ، نہ زمین ، اور ذرا سی مہلت بھی ان کو نہ دی گئی ”۔ جب یہ منظر عروج پر تھا تو انہیں متوجہ کیا گیا کہ پھر بھی تم لوگ آخرت کی تکذیب کرتے ہو ، اور تم ایسی باتیں کرتے ہو۔ ان ھی ۔۔۔۔ نحن بمنشرین (٤٤ : ٣٥) فاتوا بابائنا ان کنتم صدقین (٤٤ : ٣٦) “ ہماری پہلی موت کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس کے بعد ہم دوبارہ اٹھائے جانے والے نہیں۔ اگر تم سچے ہو تو اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو ”۔ تا کہ قوم تبع کا انجام انہیں بتایا جائے اور یہ بتایا جائے کہ تم ان سے کچھ اچھے لوگ نہیں ہو کہ اس برے انجام سے بچ کر نکل جاؤ۔ بعث بعد الموت کا ربط زمین و آسمان کی تخلیق کی اسکیم سے ہے۔ وما خلقنا السموت ۔۔۔۔ لعبین (٤٤ : ٣٨) ما خلقنھما الا ۔۔۔۔۔۔ یعلمون (٤٤ : ٣٩) “ یہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزیں ہم نے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنا دیں۔ ان کو ہم نے برحق پیدا کیا ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ مانتے نہیں ہیں۔ اس کے بعد ان کو یوم الفصل کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ میقاتھم اجمعین (٤٤ : ٤٠) “ یہ سب کے لئے طے شدہ ہے ”۔ اور پھر اس کے بعد شجرۂ رقوم کی بابت اور بدکاروں کے رگید نے کی بابت اور پھر ان کو رگید کر جہنم میں پھینکنے اور اوپر سے گرم پانی انڈیلنے کی بابت ایک خوفناک منظر ہے اور اس میں کفار کو خوب ذلیل و خوار کیا جاتا ہے۔ ذق انک انت العزیز الکریم (٤٤ : ٤٩) ان ھذا ما کنتم بہ تمترون (٤٤ : ٥٠) “ چکھ اس کا مزا ، بڑا زبردست عزت دار آدمی ہے تو ، یہ وہی چیز ہے جس کے آنے میں تم لوگ شک رکھتے تھے ”۔ پھر اس منظر کے ساتھ ہی ایک منظر آتا ہے جس کے اندر اللہ کی نعمتیں اسی طرح گہری ہیں جس طرح پچھلے منظر کا عذاب گہرا تھا اور یہ اس پوری سورت کی فضا کو جاری رکھتے ہوئے ، جس میں نہایت ہی موثر مناظر دئیے گئے ہیں۔ جس طرح سورت کا آغاز قرآن مجید کے موضوع سے ہوا۔ اس طرح انجام میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے۔ فانما یسرنہ بلسانک لعلھم یتذکرون (٤٤ : ٥٧) “ اے نبی ، ہم نے اس کتاب کو تمہاری زبان میں سہل بنا دیا ہے تا کہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں ”۔ غرض یہ ایک ایسی سورت ہے جو انسانی دل و دماغ پر آغاز سے اختتام تک حملہ آور ہے۔ اس کا اثر تیز اور مسلسل ہے جس طرح یہ تدبر کی تاروں کو چھیڑتی ہے۔ نغمہ اور زمزمہ دیتی ہے۔ اسی طرح اس کے مناظر ، تصاویر اور ان کے مختلف رنگ ، تیز رنگ اور مسلسل نظارے انسان کو اس جہاں کی سیر کراتے ہیں اور اسے اللہ کے نشانات ارض و سما میں دکھاتے ہیں ۔ یعنی جنت اور جہنم کے مناظر ، ماضی اور حال کے مناظر علاوہ ازیں موت وحیات کے مناظر اور اس کائنات میں موثر قوانین فطرت کبھی سب کے سب موجود ہیں اس لیے اپنے اختصار کے ساتھ یہ سورت بھی اس جہاں کا ایک مطالعاتی سفر ہے۔ ٭٭٭٭

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi