Surat ud Dukhaan

Surah: 44

Verse: 1

سورة الدخان

حٰمٓ ﴿۱﴾ۚ ۛ

Ha, Meem.

حم

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Qur'an was revealed on Laylatul-Qadr Allah says, حم Ha Mim. وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) حم والکتب المبین انا انزلنہ : اللہ تعالیٰ نے اس کتاب مبین کی قسم کھا کر فرمایا کہ یقیناً ہم نے ہی اسے نازل فرمایا ہے۔ یعنی یہ کتاب مبین خود اس بات کی شاہد ہے کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا کسی اور کی تصنیف نہیں، بلکہ اسے ہم نے ہی نازل کیا ہے۔ اگر کوئی اسے مخلوق کی تصنیف کہتا ہے تو وہ اس کی ایک سورت کی مثل ہی تصنیف کر کے لے آئے۔ (٢) فی لیلۃ مبرکۃ : کتاب کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ رات بڑی خیر و برکت والی ہے جس میں ہم نے اسے نازل فرمایا۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرما دیا کہ وہ مبارک رات لیلتہ القدر ہے، جیسا کہ سورة قدر میں ہے :(انا انزلنہ فی لیلۃ القدر) (القدر : ١) ” بلاشبہ ہم نے اسے قدر کی رات میں اتارا۔ “ اور وہ ماہ رمضان میں ہے جیسا کہ فرمایا :(شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن) (البقرۃ : ١٨٥)” رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ “ کتاب اتارنے سے مراد اتارنے کی ابتدا ہے جو غار حرا میں ماہ رمضان کی اس مبارک رات میں ہوئی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ رات نصف شعبان کی رات ہے، مگر یہ بات سراسر غلط ہے، کیونکہ یہ قرآن مجید کے صریح خلاف ہے۔ قاضی ابوبکر بن العربی نے ” احکام القرآن “ میں لکھا ہے کہ نصف شعبان کی رات سے متعلق کوئی روایت قابل اعتماد نہیں، نہ اس کی فضیلت کے بارے میں اور نہ اس بارے میں کہ اس رات قسمتوں کے فیصلے ہوتے ہیں۔ مفسر شنقیطی نے فرمایا :” ابن العربی کے علاوہ دوسرے محققین کا بھی یہی فیصلہ ہے کہ ایسیر وایات کی کوئی بنیاد نہیں، نہ ان میں سے کسی کی سند صحیح ہے۔ “ (٣) ” لیلۃ مبرکۃ “ کی برکات کی تفصیل سورة قدر میں ملاحظہ فرمائیں۔ (٤) انا کنا منذرین : یعنی ہم نے یہ کتاب اس لئے نازل کی کہ بندوں کو اچھے اور برے کاموں سے آگاہ کردیا جائے اور نافرمانی کی صورت میں انھیں ان کے انجام بد سے ڈرا دیا جائے، تاکہ ان کے پاس یہ عذر باقی نہ رہے کہ میں خبر دار نہیں کیا گیا۔ یہاں صرف ڈرانے کا ذکر فرمایا بشارت کا نہیں، کیونکہ اکثر لوگوں کے حسب حال یہی ہوتا ہے۔ ویسے ڈرانے کے ضمن میں بشارت بھی ہوتی ہے، اس شخص کے لئے جو ڈر جائے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر حم (اس کے معنی اللہ کو معلوم ہیں) قسم ہے اس کتاب واضح (المعنی) کی کہ ہم نے اس کو (لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر) ایک برکت والی رات (یعنی شب قدر) میں اتارا ہے (کیونکہ) ہم (بوجہ شفقت کے اپنے ارادہ میں اپنے بندوں کو) آگاہ کرنے والے تھے (یعنی ہم کو یہ منظور ہوا کہ ان کو مضرتوں سے بچا لینے کے لئے خیر و شر پر مطلع کردیں، یہ قرآن کو نازل کرنے کا مقصد تھا۔ آگے اس شب کے برکات و منافع کا بیان ہے کہ) اس رات میں ہر حکمت والا معاملہ ہماری پیشی سے حکم (صادر) ہو کر طے کیا جاتا ہے (یعنی سال بھر کے معاملات جو سارے کے سارے ہی حکمت پر مبنی ہوتے ہیں جس طرح انجام دینے اللہ کو منظور ہوتے ہیں اس طریقے کو متعین کر کے ان کی اطلاع متعلقہ فرشتوں کو کر کے ان کے سپرد کردیئے جاتے ہیں، چونکہ وہ رات ایسی ہے اور نزول قرآن سب سے زیادہ حکمت والا کام تھا اس لئے اس کے لئے بھی یہی رات منتخب کی گئی اور یہ قرآن اس لئے نازل کیا گیا کہ) ہم بوجہ رحمت کے جو آپ کے رب کی طرف سے ہوتی ہے آپ کو پیغمبر بنانے والے تھے (تاکہ آپ کی معرفت اپنے بندوں کو آگاہ کردیں) بیشک وہ بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے (اس لئے بندوں کی رعایت کرتا ہے، اور وہ ایسا ہے) جو کہ مالک ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو (مخلوق) ان دونوں کے درمیان میں ہے اس کا بھی، اگر تم یقین لانا چاہو (تو یہ توحید کے دلائل یقین دلانے کے لئے کافی موجود ہیں، آگے توحید کی تصریح ہے کہ) اس کے سوا کوئی لائق عبادت کے نہیں، وہی جان ڈالتا ہے وہ ہی جان نکالتا ہے، وہ تمہارا بھی پروردگار ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا بھی پروردگار ہے (اور اس تصریح و توضیح کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ لوگ مان لیتے مگر یہ لوگ پھر بھی نہیں مانتے) بلکہ وہ (توحید جیسے حقائق کی طرف سے) شک میں (پڑے) ہیں (اور دنیا کے) کھیل (کود) میں مصروف ہیں (آخرت کی فکر نہیں جو حق کو طلب کریں اس میں غور سے کام لیں) ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ حٰـمۗ۝ ١ ۚۛ وَالْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ۝ ٢ ۙۛ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو مبینبَيَان والبَيَان : الکشف عن الشیء، وهو أعمّ من النطق، لأنّ النطق مختص بالإنسان، ويسمّى ما بيّن به بيانا . قال بعضهم : البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] ، وسمّي الکلام بيانا لکشفه عن المعنی المقصود إظهاره نحو : هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] . وسمي ما يشرح به المجمل والمبهم من الکلام بيانا، نحو قوله : ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] ، ويقال : بَيَّنْتُهُ وأَبَنْتُهُ : إذا جعلت له بيانا تکشفه، نحو : لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ، وقال : نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] ، وإِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] ، وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] ، أي : يبيّن، وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . البیان کے معنی کسی چیز کو واضح کرنے کے ہیں اور یہ نطق سے عام ہے ۔ کیونکہ نطق انسان کے ساتھ مختس ہے اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی بیان کہہ دیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ بیان ، ، دو قسم پر ہے ۔ ایک بیان بالتحبیر یعنی وہ اشیا جو اس کے آثار صنعت میں سے کسی حالت پر دال ہوں ، دوسرے بیان بالا ختیار اور یہ یا تو زبان کے ذریعہ ہوگا اور یا بذریعہ کتابت اور اشارہ کے چناچہ بیان حالت کے متعلق فرمایا ۔ وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] اور ( کہیں ) شیطان تم کو ( اس سے ) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے ۔ یعنی اس کا دشمن ہونا اس کی حالت اور آثار سے ظاہر ہے ۔ اور بیان بالا ختیار کے متعلق فرمایا : ۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ اگر تم نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ اور ان پیغمروں ( کو ) دلیلیں اور کتابیں دے کر ( بھیجا تھا ۔ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو ( ارشادات ) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ اور کلام کو بیان کہا جاتا ہے کیونکہ انسان اس کے ذریعہ اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرتا ہے جیسے فرمایا : ۔ هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] ( قرآن لوگوں کے لئے بیان صریح ہو ۔ اور مجمل مہیم کلام کی تشریح کو بھی بیان کہا جاتا ہے جیسے ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] پھر اس ( کے معافی ) کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے ۔ بینہ وابنتہ کسی چیز کی شروع کرنا ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] تاکہ جو ارشادت لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] کھول کر ڈرانے والا ہوں ۔إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] شیہ یہ صریح آزمائش تھی ۔ وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا ۔ وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . اور جهگڑے کے وقت بات نہ کرسکے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١۔ ٣) حم۔ جو کچھ ہونے والا ہے اس کا للہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا اور کتاب مبین یعنی قرآن کریم کی جو کہ حلال و حرام اوامرو نواہی کو بیان کرنے والا ہے۔ قسم ہے کہ ہم نے اس قرآن حکیم کو شب قدر میں جو کہ برکتوں اور رحمتوں اور مغفرتوں والی رات ہے، بذریعہ جبریل امین آسمان دنیا پر اتارا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بیس سال کے عرصے میں ایک ایک آیت اور سورت کر کے رسول اکرم پر اس قرآن کریم کو بذریعہ جبریل امین نازل فرمایا کیونکہ ہم بذریعہ قرآن کریم لوگوں کو ڈرانے والے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١ { حٰمٓ } ” ح ‘ م ۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١۔ ١٦۔ حم و الکتب المبین کی تفسیر سورة الزحزف کے شروع میں گزر چکی ہے جس برکت والی رات کا ذکر ان آیتوں میں ہے اگرچہ بعض فسروں نے لکھا ہے کہ یہ برکت والی رات شعبان کی پندرھویں رات ہے لیکن یہ قول شھر رمضان الذی انزل فیہ القران کے مخالف ہے صحیح وہی حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے جس کو نسائی ١ ؎ اور حاکم وغیرہ نے معتبر سند سے روایت کیا ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن لوح محفوظ سے اول آسمان پر نازل ہوا پھر ہر ایک موقع پر ہر ایک آیت حضرت جبرئیل آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تشریف لائے۔ صحیح بخاری ٢ ؎ میں حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس سے جو روایتیں ہیں۔ ان میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ صاف جتلا دیا ہے کہ شب قدر رمضان میں ہوتی ہے ان آیتوں میں دھوئیں کا جو ذکر ہے اور فارسی اور اردو قاعدہ میں اس دھوئیں کے باب میں اختلاف ہے صحیح قول اس اختلاف میں یہی ہے کہ ان آیتوں میں تو مکہ کے قحط کے دھوئیں کے مانند غبار کا ذکر ہے اور قیامت کے قریب جو دھواں آسمان پر چھاجائے گا جس کا ذکر صحیح ٣ ؎ مسلم کی حذیفہ بن اسید کی روایت میں ہے قیامت کی علامت کا وہ ایک جدا دھواں ہوگا حاصل کلام یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بددعا سے مکہ میں قحط پڑا تھا اور قحط کے دنوں میں بھوک کے سبب سے آنکھوں میں اندھیرا سا آ کر آسمان پر غبار سا چھایا ہوا معلوم ہوتا تھا اس کو دھواں فرمایا ہے۔ حضرت عبد (رض) اللہ بن مسعود کی روایت سے یہی تفسیر صحیح بخاری ٤ ؎ میں ہے اس واسطے یہی تفسیر صحیح ہے کہ ان آیتوں کی تفسیر میں تو اس قحط کے وقت کے غبار کو دھواں قرار دیا جائے اور حذیفہ (رض) بن اسید کی روایت کے موافق علامت قیامت کا دھواں جدا کہا جائے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے پہلے شب قدر میں لوح محفوظ سے اول آسمان پر نازل فرمایا اور پھر ہر ایک موقع پر اس کی آیتیں اول آسمان سے نازل ہوئیں۔ بیہقی کی شعب الایمان تفسیر ابن ابی ١ ؎ حاتم اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے جس میں فیھا یفرق کل امر حکیم امر امن عندنا کی تفسیر حضرت عبد اللہ بن عباس نے یہ بیان فرمائی ہے کہ شب قدر میں سال بھر کے سب کاموں کی تفصیل لوح محفوظ سے نقل کی جا کر فرشتوں کو سال بھر کا انتظام چلانے کے لئے دی جاتی ہے۔ حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے حضرت عبد (رض) اللہ بن عباس کے شاگردوں میں سے مجاہد عکرمہ وغیرہ نے بھی آیت کی یہی تفسیر کی ہے حکیم کے معنی یہاں محکم اور مضبوط کے ٢ ؎ کے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ کے حکم سے سال بھر کا انتظام لوح محفوظ سے اول آسمان پر اور اول آسمان سے زمین پر یہ قرآن اس لئے نازل کیا گیا ہے کہ انجانی کا عذر رفع کردینے کے لئے ہر زمانہ میں آسمانی احکام دے کر رسولوں کا بھیجنا عادت الٰہی میں داخل ہے اس واسطے اس نے اپنی رحمت سے یہ قرآن نازل کیا ہے۔ صحیح ٣ ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے مغیرہ بن شعبہ کی حدیث گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو لوگوں کی انجانی کو رفع کردینا بہت پسند ہے اس واسطے اس نے آسمانی کتابیں دے کر رسول بھیجے۔ یہ حدیث انا کنا مرسلین کی گویا تفسیر ہے۔ اب آگے فرمایا یہ منکر قرآن لوگ جو باتیں قرآن کی آیتوں کے باب میں کہتے ہیں وہ سب اللہ سنتا ہے اور قرآن کی نصیحت کے موافق نیک لوگ جو عمل کرتے ہیں ان سب عملوں کو وہ جانتا ہے سزا وجزا کے وقت اس کا نتیجہ سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔ مشرکین مکہ اپنے بتوں کی بنائی ہوئی کوئی چیز نہیں دکھا سکتے تھے اس واسطے وہ اس بات کے قائل تھے کہ آسمان و زمین اور جو کچھ آسمان و زمین ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کو سب چیزوں کا خالق مانتے ہو اور اپنے بتوں کی پیدا کی ہوئی کوئی چیز دنیا میں نہیں دکھا سکتے تو پھر جس کے اختیار میں تمہاری موت و زندگی ہے اور جس نے تم کو اور تمہارے بڑوں کو پیدا کیا اس کی تعظیم میں تم غیروں کو کس سند سے شریک کرتے ہو پھر فرمایا یہ لوگ اس بات کے بھی پورے قائل نہیں ہیں کہ سب چیزوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے مثلاً جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو کشتی کے ڈوبنے کے خوف کے وقت یا کسی اور ایسی مصیبت کے وقت اپنے بتوں کو بھول جاتے ہیں اور اللہ کو سب چیزوں کا خالق جان کر اسی سے مصیبت کے ٹل جانے کی التجا کرتے ہیں اور جب وہ مصیبت ٹل جاتی ہے تو پھر بتوں کو اپنا معبود جاننے لگتے ہیں حاصل یہ ہے کہ ہر طرف سے یہ لوگ دھوکے میں ہیں اور وہ دھوکہ بھی ان لوگوں کا کھیل کے طور پر ہے جس طرح بچے کھیل کی چیزوں سے کبھی کھیلتے ہیں اور کبھی ان کو توڑ پھوڑ کر پھینک دیتے ہیں یہی حال ان لوگوں کا ہے کہ مصیبت کے وقت کچھ ہے اور راحت کے وقت کچھ۔ اب آگے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا اے رسول اللہ کے اگر یہ لوگ اسی حال میں رہیں تو تم کو اسی دھوئیں کے عذاب کا انتظار کرنا چاہئے جو آسمان پر چھا جائے گا اور لوگوں کو گھیر لے گا اس وقت یہ لوگ التجا کریں گے اور کہیں گے کہ یا اللہ اگر یہ دھوئیں کا عذاب ٹل گیا تو ہم راہ راست پر آجائیں گے لیکن اللہ کو معلوم ہے کہ یہ لوگ راہ راست پر آنے والے نہیں کیونکہ جب اس عذاب سے پہلے یہ لوگ راحت کی حالت میں تھے تو اللہ کے رسول کو دیوانہ بتاتے تھے اور قرآن کی آیتوں کو کہتے تھے کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے ہے خود تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پڑھ ہیں کوئی شخص ان کو یہ باتیں سکھا جاتا ہے جس کو یہ اللہ کا کلام مشہور کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ ان لوگوں کی درمیانی مصیتیں ہیں جو ٹل جاتی ہیں ان کے بداعمالوں کی پوری سزا کے طور پر جب انل وگوں کی سخت گرفت ہوگی تو وہ کسی طرح نہیں ٹل سکتی۔ حضرت ١ ؎ عبد (رض) اللہ بن عباس کے قول کے موافق سخت گرفت بدر کی لڑائی کے دن کی گرفت ہے اور حضرت ٢ ؎ عبد (رض) اللہ بن مسعود کے قول کے موافق آخرت کے عذاب کی گرفت ہے لیکن ان دونوں قولوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے کیونکہ صحیح بخاری ٣ ؎ و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی حدیث جو کئی جگہ گزر چکی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ میں کے جو سرکش لوگ بدر کی لڑائی میں نہایت ذلت سے مارے گئے مرتے کے ساتھ ہی وہ عذاب آخرت میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتلانے کے اللہ کے رسول نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچا پا لیا۔ اب بدر کے دن دونوں جہانوں کے عذابوں کو سخت گرفت کی تفسیر قرار دیا جائے تو اوپر کے دونوں قولوں میں کچھ اختلاف باقی نہیں رہتا۔ پکڑیں گے ہم بڑھ گیے۔ اس کا مطلب بھی سخت گرفت کا ہے۔ (١ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ٢٩ ج ٦۔ ) (٢ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ٢٩ ج ٦۔ ) (٣ ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص ١٦٩۔ ) (١ ؎ جمع الفوائد ص ٢٨٣۔ ) (٢ ؎ صحیح بخاری باب تحری لیلۃ القدر فی الوتر الخ ص ج ١۔ ) (٣ ؎ بحوالہ مشکوٰۃ شریف باب العلامات بین یدی الساعۃ الفصل الاول ص ٤٧٢ ) (٤ ؎ صحیح بخاری تیرو سورة الدخان ص ٧١٤ ج ٢۔ ) (١ ؎ تفسیر فتح القدر ص ٥٥٧ ج ٤۔ ) (٢ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ١٣٧ ج ٤۔ ) (٣ ؎ صحیح بخاری کتاب التوحید قول النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لا شخص اغیر من اللہ ص ٣ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(44:1) حم : حروف مقطعات ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ١ تا ٢٩۔ اسرار ومعارف۔ حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں لیلہ مبارکہ : لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس انداز میں قبول کی ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر بھی عمل درست ہے مگر نزول قرآن کا لیلۃ القدر میں ہونا اور رمضان میں ہونا قرآن نے خود بیان فرمایا ہے۔ اسی رات اللہ کا ہر کام اور ہر فیصلہ جو حکمت پر مبنی ہوتا ہے اگلے سال تک کے لیے فرشتوں کے سپرد کیا جاتا ہے کہ علم الٰہی میں توہربات ازل سے موجود ہے اسے متعلقہ فرشتوں کو سونپا جاتا ہے اور اسی طرح یہ فیصلہ بھی ہمارا تھا کہ ہم آپ کو اپنا پیغمبر بنانے والے تھے اور آپ کی بعثت آپ کے پروردگار کی طرف سے بہت ہی بڑی رحمت ہے کہ وہی مخلوق کی ہر فریاد سننے والا اور ہر بات کا علم رکھنے والا ہے گویا دنیا وآخرت کی انسانی ہر فریاد کا جواب آپ کی ذات ستودہ صفات ہے کہ آپ کا اتباع آپ کی غلامی ہر مصیبت سے نجات اور ہر سوال کا جواب ہے لوگو اگر تمہیں اس کی ربوبیت پہ یقین ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو بھی ہے سب کی تمام ضرورتیں وہی پوری کرتا ہے تو پھر ایک ایسے نبی کی ضرورت بھی تو مخلوق کو تھی جو اس کو اللہ سے واصل کرتا سو اللہ نے آپ کو مبعوث فرما کر پوری کردی یہ اس کی عظمت کی دلیل ہے کہ مخلوق کو اتنی بڑی نعمت سے نوازا اس کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کی عبادت کی جائے کہ وہی زندگی دینے والا ہے اور وہی ذات موت دینے والی ہے پروردگار ہے تم سب کا بھی اور تمہارے آباؤ اجداد کا بھی جو تم سے پہلے گزرچکے ہیں یعنی جس طرح حیات دنیاکودیکھتے ہو کہ وہی دنیا ہے اسی طرح روحانی حیات بھی عطا کردی اپنانبی مبعوث فرما کر اس سے دوری روحانی موت ہے مگر یہ لوگ ان حقائق کے باوجود شک میں پڑے ہوئے ہیں اور دنیا کے کھیل تماشوں میں لگے ہوئے ہیں۔ آسمان سے دھواں آنا۔ آپ انتظار کیجئے جب آسمان دھواں دھواں ہوجائے اور لوگوں کو گھیر لے کہ یہ ایک دردناک عذاب ہوگا۔ مفسرین کرام نے دو معنی نقل فرمائے ہیں اول یہ کہ اہل مکہ کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے آپ نے بددعافرمائی کہ اے اللہ ان پر ایسا قحط نازل فرماجیسا اہل مصر پر یوسف کے زمانہ میں آیا تھا چناچہ سخت قحط سالی ہوئی لوگ ہڈیاں اور مردار تک کھانے لگے اور اوپر دیکھتے تو دھواں دھواں نظرآتاچنانچہ خدمت عالی میں حاضر ہو کر دعا کے طالب ہوئے کہ اے اللہ ہم پر سے یہ عذاب ہٹا دے اب ہم ایمان لائیں گے تو فرمایا ایمان تو یہ کیا لائیں گے جب اللہ کے رسول تشریف لاچکے جو سب سے بڑی اور روشن دلیل ہیں اور جن کا سراپا اور ہر ادا ایک عظیم معجزہ ہے ان کے کہنے پر ایمان نہ لائے توچندے عذاب کے ٹل جانے پہ کیا لائیں گے چناچہ جب عذاب ٹل گیا اور آپ کی دعا سے بارش ہوئی تو مکر گئے اور کہنے لگے کہ انہیں کسی شخص نے یہ باتیں سکھا کرپاگل کردیا ہے اور دوسرامعنی روز حشر کہ آسمان سے دھواں سا اترے گا حدیث شریف کے مطابق اس سے مومن کو ہلکا سازکام جیسا ہوگا جبکہ کافر کے اندر بھرجائے اور ہرمسام سے نکلے گا تو کافر دعا کریں گے اے پروردگار ہم سے یہ مصیبت ہٹا دے ہم ایمان لاتے ہیں تو ارشاد ہوگا کہ اب کہاں کا ایمان لاناجب تمہارے پاس نبی (علیہ السلام) تشریف لائے ایمان کی دعوت دی تب تو لائے نہیں اور کہا کرتے تھے انہیں کسی نے سکھایا ہے اور یہ پاگل ہیں ۔ اور اگر ہم عذاب ہٹاکر تمہیں دنیا میں بھیج بھی دیں تو بھی تمہارے اندر کفر اس طرح رچ بس گیا ہے کہ تم پھر کفر ہی اختیار کرو گے اور قیامت کی پکڑ تو بہت بڑی پکڑ ہے اور اس روز بہانے کہاں چلیں گے اس روز تو ہم پورا پورا بدلہ لیں گے ان لوگوں سے پہلے فرعون کو قوم آزمائی جاچکی جب ان کے پاس اللہ کا ایک بہت محترم ومکرم رسول تشریف لایا اور اس نے فرمایا کہ اللہ کے یہ بندے بنی اسرائیل جن پر تم ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہو میرے سپرد کرو کہ میں ان کا اہتمام کروں اور میں تمہاری طرف اللہ کا رسول اور اس کافرستادہ ہوں کہ تم بھی اس کی عظمت والوہیت پر ایمان لاؤ اور میرے مقابل بڑھ چڑھ کر باتیں نہ کرو کہ تم اللہ سے مقابلہ جوڑ رہے ہو حالانکہ میں تمہارے ساتھ دلیل سے بات کررہا ہوں اور روشن معجزات دکھا رہا ہون مگر وہ نہ مانے اور ان کو قتل اور سنگسار کرنے کی دھمکیاں دینے لگے تو انہوں نے فرمایا کہ اس زیادتی اور سنگسار میں پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں جو تمہارا رب بھی ہے اور پھر پروردگار سے دعا کی کہ یہ قوم مان کر توکیادے گی یہ ایسے بدکار اور مجرم ہیں کہ مجھے بھی سنگسار کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ تو ارشاد ہوا کہ آپ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل کھرے ہوں یہ لوگ یعنی قوم فرعون آپ کا تعاقب کریں گیا للہ آپ کے لیے سمندر میں راستے بنادے گا ، آپ قوم کو پارلے جائیں گے پانی کو تھما رہنے دیں یہ خواہش نہ کریں کہ آپ کے فورا بعد جاری ہوجائے اس طرح یہ لشکر اس میں داخل ہو کر غرق ہوجائے گا کہ جب یہ داخل ہوچکے تو پانی کے پہاڑ مل کر رواں ہوجائیں گے چناچہ ان لوگوں کے باغات اور چشمے بڑی بڑی کھیتیاں اور شاندار گھر سب کچھ دھرے کا دھرا رہ گیا جہاں کبھی وہ عیش کیا کرتے تھے اور ان کی جگہ ہم نے دوسری قوم کو یعنی بنی اسرائیل کو جسے وہ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کا مستحق سمجھتے تھے ان سب احوال کا مالک بنادیا اور ان کی اتنی بڑی تباہی پر نہ آسمان رویا اور نہ زمین نے ہی دکھ کا اظہار کیا اور نہ ہی ان کو کوئی مہلت ملی آسمان اور زمین کارونا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ ایک محاورہ ہے کہ اتنے بڑے حادثے پر نظام دنیا متاثر ہوا نہ فلکی نظام مگر اکثر مفسرین کے نزدیک آپ کی وہ حدیث مراد ہے جس میں ارشاد ہے کہ نیک بندے کی وفات پر زمین بھی روتی ہے جس پر عمل کیا کرتا تھا اور آسمان بھی جہاں سے اعمال گزر کرجاتے تھے کہ ساری مخلوق میں شعور ہے اور ہر مخلوق اپنے انداز میں بات کرتی ہے اسی طرح ارض وسماء کارونا بھی ان کی اپنی طرح پر ہوگا۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 : لیلۃ مبارکۃ (برکت والی رات) یفرق (وہ جدا کردیتا ہے، الگ کردیتا ہے) امر حکیم ( حکمت بھرا فیصلہ) ارتقب (تو انتظارکر ، راہ دیکھ) دخان ( دھواں) یغشی (وہ ڈھانپ لے گا) معلم ( پڑھایا گیا) عائدون ( وہ لوٹنے والے ہیں) البطشۃ (سخت پکڑ) تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 : قرآن کریم میں سات سورتیں وہ ہیں جن کی ابتداء ” حم ‘ ‘ سے کی گئی ہے۔ احادیث میں ان سات سورتوں کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔ ان ہی میں سے یہ پانچویں سورت ہے۔ ” حا۔ میم “ حروف مقطعات میں سے ہیں جن کی تفصیل اس سے پہلی سورتوں میں بیان کردی گئی ہے۔ علماء مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ یہ وہ واضح اور صاف صاف احکامات بیان کرنے والی کتاب ہے جس کو ایک برکتوں والی رات ( شب قدر) میں نازل کیا گیا ہے جس رات میں آئندہ سال ہونے والے واقعات اور احکامات کے بارے میں ہر حکمت بھرے معاملہ کا فیصلہ کر کے اس سے فرشتوں کو آگاہ اور مطلع کردیا جاتا ہے۔ قرآن کریم ساری انسانیت کے لئے قیامت تک سراسر رحمت اور کرم ہی کرم ہے۔ اس کتاب کو اس پروردگار نے نازل کیا ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا خالق ومالک ہے جو پوری قدرت اور کامل اختیار رکھنے والے ہے۔ وہی سب کی پرورش کرتا اور پالتا ہے۔ زندگی اور موت اسی کے قبضہ قدرت میں ہے ، وہی سب کے باپ دادا کا پیدا کرنے والا ہے۔ کفار و مشرکین اور دین اسلام کے دشمن جو دنیا کو ایک کھیل کود اور تماشے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ وہ وقت دور نہیں ہے جب آسمان پر ہر طرف دھواں ہی دھواں ہوگا اور لوگ سخت اذیت اور تکلیف میں مبتلا ہوں گے ۔ جب کفار و مشرکین اللہ کے عذاب کو اپنے سامنے دیکھیں گے تو گھبرا کر کہہ اٹھیں گے الٰہی ! اس عذاب کو ہم سے دور کر دیجئے ہم ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر ان کو مہلت دے دی جائے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔ کیونکہ جب ان کے پاس ہمارے پیغمبر سچائی کا پیغام لے کر آئے تھے تو انہوں نے ان کو نہ صرف جھٹلایا بلکہ ان کو بد نام کرنے کے لئے طرح طرح کی باتیں بنائیں اور ہمارے رسول پر یہاں تک الزام لگا دیا کہ یہ رسول جو کچھ کہتے ہیں وہ اللہ کا کلام نہیں ہے بلکہ کوئی آ کر ان کو سکھا یا جاتا ہے اور وہی باتیں یہ لوگوں کو آ کر بتا دیتے ہیں ۔ وہ کہتے کہ یہ تو سکھائے پڑھائے دیوانے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ ان منکرین کو قیامت کے ہولناک دن اور اس میں دی جانے والی سزاؤں کا اندازہ نہیں ہے ورنہ وہ اس طرح کی حرکتیں نہ کرتے۔ فرمایا کہ جب ہم ایسے لوگوں کو عذاب میں پکڑیں گے تو کوئی ان کی مدد کے لئے نہ آئے گا اور ہم سے چھڑانے والا کوئی نہ ہوگا ۔ زیر مطالعہ آیات میں کچھ مخصوص الفاظ ارشاد فرمائے گئے ہیں جن کی تشریح ضروری ہے تا کہ ان آیات کا مفہوم پوری طرح ذہن نشین ہوجائے۔ (1) الکتاب المبین واضح اور کھلی ہوئی کتاب ۔ یعنی اپنے معنی اور مفہوم میں اس قدر واضح اور کھلی ہوئی کتاب ہے جو حق و باطل اور حرام و حلال کو نہایت وضاحت سے بیان کردیتی ہے۔ اللہ نے اس کتاب کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا ہے یہ قرآن تو ایک واضح کتاب ہے جس کو نہ تو سمجھنامشکل ہے اور نہ اس پر عمل کرنے میں کوئی دشواری ہے۔ اس کو ایک ایسی روشن اور مبارک رات میں اتارا گیا ہے جو ایک ہزار راتوں سے بھی زیادہ افضل و بہتر ہے۔ (2) ” لیلۃ مبارکۃ “ برکت والی رات ۔ اس رات سے مرادرمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہے جس کو اردو میں ” شب قدر “ کہا جاتا ہے ۔ اس مبارک رات میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خاص نظر کرم فرماتے ہیں اور رات بھر ندائیں دی جاتی ہیں کہ ہے کوئی اللہ کی رحمتوں کو سمیٹنے والا کہ اس کو وہ سب کچھ عطاء کردیا جائے جو وہ مانگ سکتا ہے۔ اس رات میں بندوں کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں ۔ آسمان سے فرشتے اور جبرئیل امین اترتے ہیں اور اس رات میں ہر حکمت والے معاملے کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ علماء مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ اس مبارک رات سے مراد شب قدر ہی ہے جو رمضان کے آخری عشرے کی کسی طاق رات میں ہوتی ہے۔ کچھ حضرات نے بعض روایات سے سورة دخان میں ” لیلۃ مبارکہ “ سے مراد شعبان کی پندرہویں رات (شب برأت) مراد لی ہے لیکن علماء و مفسرین کی اکثریت نے اس سے مراد شب قدر ہی کو لیا ہے۔ ممکن ہے اللہ نے شب برأت میں قرآن کریم کو لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر مکمل قرآن کی شکل میں نازل کیا ہو اور رمضان کی شب قدر میں موقع کی مناسبت سے تھوڑا تھوڑا قرآن نازل کرنا شروع کیا ہو ۔ بہر حال اس کی صحیح کیفیت کا علم اللہ کو ہے۔ (3) ” امر حکیم “ حکمت سے بھر پور احکامات ۔ یعنی اس مبارک رات میں اہم اور حکم بھرے معاملات کا ” فیصلہ “ کر کے فرشتوں کے حوالے کردیا جاتا ہے جو آنے والے سال میں پیش آنے والے ہیں دوسرے الفاظ میں یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ فرشتوں میں ان کی ذمہ داریوں کو تقسیم کردیا جاتا ہے۔ (4) ” دخان مبین “ واضح اور چھا جانے والا دھواں ۔ قیامت سے قریب زمانہ میں ایک دھواں پورے آسمان پر چھا جائے گا جو اس بات کی علامت ہوگا کہ اب قیامت بہت قریب ہے۔ چناچہ احادیث میں اس دھویں کا ذکر تفصیل سے کیا گیا ہے۔ حضرت ابو مالک اشعری (رض) سے روایت ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں تمہیں تین چیزوں سے آگاہ اور خبر دار کرتا ہوں ۔ (1) ایک تو دھواں جو مومن کے لئے زکام کی طرح ہوگا لیکن کافروں کی ایک ایک نس میں اس طرح بھر جائے گا کہ ان کے کانوں اور جسم کے ہر حصے سے دھواں نکلتا ( محسوس) ہوگا ۔ (2) دوسرے دابہ ، یہ عجیب و غریب جانور ہوگا جو قیامت کے قریب ظاہر ہوگا۔ (3) تیسرے دجال کا آنا ( ابن کثیر) اسی طرح قیامت کی علامتیں بیان کرتے ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب تک دس علامتیں ظاہر نہ ہوجائیں اس وقت تک قیامت قائم نہ ہوگی۔ (1) سورج کا مغرب سے طلوع ہونا یعنی وہ جس طرف سے روزانہ نکلتا ہے وہ وہاں سے نکلنے کے بجائے مخالف سمت سے نکلے گا ۔ (2) دھواں ( جو پورے آسمان پر چھا جائے گا) ۔ (3) دابہ (عجیب و غریب جانور) (4) یاجوج ماجوج کا خروج۔ (5) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول ( یعنی دنیا میں دوبارہ آنا) (6) زمین کا دھنسنا۔ (7) مشرق میں زمین کا دھنسنا۔ (8) مغرب میں زمین کا دھنسنا۔ (9) جزیرۃ العرب میں زمین کا دھنسنا۔ (10) اور عدن سے ایک زبردست آگ کا نکلنا جو سب لوگوں کو ہانکتی لے جائے گی (مسلم) (5) ” رسول مبین “ وہ رسول جو اعلیٰ ترین اور قابل تعریف صفات کے مالک ہیں اور جن کی سیرت اور ان کا اسوہ حسنہ سورج کی کرنوں سے زیادہ روشن اور واضح ہے۔ (6) ” معلم مجنون “ سکھایا پڑھایا دیوانہ ، کفار و مشرکین جب ہر طرح کی سازشوں اور پروپیگنڈے کے باوجود اپنی ہر کوشش میں نا کام ہوگئے اور انہوں نے دیکھا کہ اتنے شدید پروپیگنڈے کے باوجود عرب کے نوجوان ، بوڑھے ، عورتیں اور بچے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت و کردار اور آپ کے لائے ہوئے پیغام سے متاثر ہوتے چلے جا رہے ہیں تو انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شاعر ، مجنوں ، جادوگر اور کاہن کہنا شروع کیا ۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگانا شروع کردیا کہ جس کو یہ اللہ کا کلام کہتے ہیں وہ ان کو کوئی شخص آ کر سکھا جاتا ہے وہ اسی کو بیان کر کے اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں ( نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے تمام الزامات کے جوابات عنایت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ ہی نے اس واضح اور روشن کتاب کو ایک برکت والی رات میں اپنے رسول پر نازل کیا ہے تا کہ لوگوں کی آخرت سدھر جائے لیکن بعض لوگ اس آگاہی کے باوجود اپنی روش زندگی چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں ۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کو قیامت کے اس ہولناک دن کا خیال ضرور رکھنا چاہیے جس دن ہر انسان کو اللہ کے سامنے حاضر ہو کر اپنی زندگی کے ہر لمحے کا حساب دینا ہوگا اس دن صرف وہی لوگ کامیاب و با مراد ہوں گے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری کی ہوگی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر ٢٣٤ تشریح آیات ١۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ ٥٩ آیت نمبر ١ تا ٨ آغاز دو حروف سے ہوتا ہے حا۔ میم۔ اور دونوں کی قسم اٹھائی جاتی ہے اور پھر کتاب مبین کی بھی قسم اٹھائی جاتی ہے جو ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ ان کے بارے میں سورتوں کے آغاز میں ہم بار ہا بات کرچکے ہیں۔ پھر ان حروف کی بھی اسی طرح قسم اٹھائی گئی جس طرح کتاب مبین کی قسم اٹھائی گئی۔ کتاب مبین کی اہمیت مسلم مگر ان حروف کی اہمیت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر حرف بھی ایک معجزہ اور نشانی ہے اور ہر حرف انسان کی زبان کی ساخت کی نشانی ہے اور پھر کس انداز سے زبان اپنے مخرج سے اس حرج و صوت کو نکالتی ہے ، پھر ان حروف کے مخارج کی ترتیب پھر ہر حرف کے نام اور اس کی آواز کے درمیان ایک رمزد اشارہ اور ان حروف اور کلمات کے ذریعہ انسان عظیم حقائق تک پہنچتا ہے۔ اور علوم کو مرتب کرتا ہے۔ یہ اس قدر عظیم کام ہے کہ اگر ہم اس پر سنجیدگی سے غور کریں اور اپنی عادت اور مانوسیت کو ایک طرف پھینک دیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ ایک حرف کس قدر عظیم چیز ہے اس لیے ان کی قسم اٹھائی گئی۔ وہ چیز کیا ہے جس کے لئے یہ قسم اٹھائی گئی ہے ، وہ ہے وہ عظیم حادثہ جو ایک مبارک رات میں واقع ہوا یعنی نزول قرآن ۔ انا انزلنہ فی۔۔۔۔۔ منذرین (٤٤ : ٣) فیھا یفرق کل امر حکیم (٤٤ : ٤) امرا من عندنا انا کنا مرسلین (٤٤ : ٥) رحمۃ من ۔۔۔۔۔ العلیم (٤٤ : ٦) “ ہم نے اسے ایک بڑی خیرو برکت والی رات میں نازل کیا ہے ، کیونکہ ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ یہ وہ رات تھی جس میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ ہمارے حکم سے صادر کیا جاتا ہے۔ ہم ایک رسول بھیجنے والے تھے ، تیرے رب کی رحمت کے طور پر ، یقیناً وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے ”۔ اور مبارک رات جس میں قرآن نازل ہوا ، وہ رات ہے جس میں قرآن کریم کا نزول شروع ہوا اور یہ رمضان المبارک کی راتوں میں سے ایک رات ہے ، جس کے بارے میں تصریح ہے۔ شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن “ رمضان المبارک کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن مجید نازل ہوا ”۔ قرآن مجید سب کا سب تو نہ اس رات کو نازل ہوا ہے اور نہ سب کا سب رمضان المبارک میں نازل ہوا ہے لیکن اس زمین پر اس کے آنے کا آغاز رمضان المبارک میں ہوا اور پھر اس مبارک رات میں ہوا۔ لیلۃ القدر یا لیلہ مبارکہ کے بارے میں یہی کافی ہے۔ واللہ اعلم ! یہ رات فی الواقع مبارک ہے جس میں انسانیت کے لئے رحمت خداوندی کا یہ عظیم دروازہ کھلا اور جہاں اسلامی نظام زندگی انسانوں کی زندگی میں جاگزیں ہونا شروع ہوا جس کے اندر انسان روح فطرت سے شناسا ہوا ، جس کی نہایت ہی خوبصورت ترجمانی قرآن مجید میں کی گئی ہے۔ فطرت انسانی اس نظام کے لئے لبیک کہتی ہے اور خوشی خوشی اسے قبول کرتے ہے اور یوں داعی فطرت انسانی کے مطابق ایک ایسا نظام قائم ہوجاتا ہے جو فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق اور اس کائنات کے بھی عین مطابق ہوتا ہے جس میں انسان رہ رہا ہے۔ یہ نظام اس قدر پاک و صاف اور بلا تکلف اور بغیر کسی تکلیف کے قائم ہوتا ہے اور اس نظام کے زیر سایہ انسان رہتا تو زمین پر ہے لیکن وہ ہوتا آسمانوں پر ہے۔ صحابہ کرام (رض) اور پہلے انسان جن پر یہ قرآن نازل ہوا ، وہ اسی آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر ایک عرصہ تک اللہ کے ساتھ مربوط اور موصول زندگی گزارتے رہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو فی الفور بتاتا تھا کہ تمہارے دلوں میں یہ یہ تصورات آتے ہیں ، اور یہ کہ میں دیکھ رہا ہوں اور ان کو بھی یقین تھا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ اور اللہ ہمارا نگران ہے ، ہمارے دل کے ہر میلان اور ہر وسوسے اور پھر ہمارے جسم کی ہر حرکت کو وہ جانتا ہے۔ یہ لوگ اپنے معاملات میں سب سے پہلے اسی کے ہاں پناہ لیتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ اللہ قریب بھی ہے اور سننے والا بھی ہے اور دعاؤں کو قبول کرنے والا بھی ہے۔ یہ برگزیدہ گروہ چلا گیا اور اس کے بعد قرآن کریم ایک کھلی کتاب کی حیثیت سے رہ گیا ، جو انسانوں کے دل کے ساتھ مربوط تھا۔ یہ انسان پر اس طرح اثر کرتا رہا جو کسی جادو گر کے لئے بھی ممکن نہ تھا۔ لیکن یہ اثر ان لوگوں پر ہوتا جو اس قرآن کو پڑھ کر اس لیے اپنے دل کھولتے۔ تاہم انسان کے قلب و نظر بعض اوقات یوں بدل جاتے ہیں کہ یہ تغیرو انقلاب بعض اوقات افسانہ نظر آتے۔ انسان ان پر یقین ہی نہیں کرسکتا۔ یہ قرآن بطور ایک نظام زندگی باقی رہا۔ اس کا نظام کا مل ، واضح اور نہایت ہی پاکیزہ “ انسانیت ” دینے والا تھا۔ اور قرآنی نطام زندگی جہاں بھی قائم رہا ، جس معاشرے میں رہا ، جس زمانے میں رہا ایک مثالی نظام رہا۔ جہاں قرآنی نظام زندگی قائم ہوا اور جس زمانے میں قائم ہوا ، اس الٰہی نظام کی روشنی میں ایک ممتاز انسانی زندگی سامنے آئی اور اس کے اندر انسانی زندگی کے تمام خصائص موجود رہے۔ اور یہ خصوصیت صرف اسلامی نظام زندگی کی ہے کہ جہاں یہ قائم ہوتا ہے وہاں ایسی اعلیٰ معیاری زندگی اور معاشرہ وجود میں آتا ہے اور یہ ایسا معاشرہ ہوتا ہے جس کے قیام میں کسی انسانی جدو جہد کا دخل نہیں ہوتا بلکہ وہ اس نظام کی برکت اور قدرت الٰہیہ سے وجود میں آتا ہے۔ انسان جو ادارے بناتے ہیں وہ انہی جیسے انسانوں کے لئے مفید ہو سکتے ہیں۔ اور مخصوص زمان و مکان میں چل سکتے ہیں لیکن اللہ نے جو ادارے اور قوانین بنائے ہیں ان کے اندر صفت دوام رکھ دی ہے۔ ان کے اندر انتہائی حسن و کمال رکھ دیا گیا ہے اور ایسی صلاحیت رکھ دی ہے جو ہر زمان و مکان کی قید سے وراء ہے جن میں اصل حقیقت اپنی جگہ موجود ہوتی ہے۔ اور ہر زمان و مکان کے اعتبار سے اس کی عجیب صورت پذیری ہوتی رہتی ہے۔ اس قرآن کو اللہ نے اس مخصوص رات میں اتار اتا کہ لوگوں کو متنبہ کیا جائے۔ انا کنا منذرین (٤٤ : ٣) “ کیونکہ ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے ”۔ اس لیے کہ اللہ کو معلوم تھا کہ یہ انسان بڑا غافل ہے اور تنبیہہ کا محتاج ہے۔ یہ رات جس میں قرآن کریم نازل ہوا ، اس نزول قرآن کی وجہ سے فیصلے والی اور حق و باطل کے درمیان فرق کی جانے والی رات قرار پائی : فیھا یفرق کل امر حکیم (٤٤ : ٤) “ یہ وہ رات تھی جس میں ہر معاملے کا حکیمانہ فیصلہ ہمارے حکم سے صادر کیا جاتا ہے ”۔ اس رات میں اس قرآن کے ذریعہ ہر معاملے کا فیصلہ کردیا گیا۔ ہر تنازعے کا فیصلہ۔ اس رات کو حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کردیا گیا ، باطل مٹا دیا گیا ، حدود مقرر کر دئیے گئے۔ اور اس زمین پر انسان کے سفر کے لئے نشانات طے کر دئیے گئے اور یہ امور قیامت تک کے لئے طے ہوگئے۔ لہٰذا ایسے تمام اصول طے کر دئیے گئے جن کے اوپر اس دنیا میں انفرادی اور اجتماعی زندگی قائم ہوتی ہے جس طرح اس کائنات کی ۔۔۔۔ کے لئے اللہ نے تمام اصول اس کے اندر ودیعت کر دئیے ہیں۔ (مولانا مودودی کا جو ترجمہ میں نے دیا ہے اس سے اس مذکورہ تفسیر کا فرق واضح ہے ۔ کیونکہ سید قطب “ یفرق ” کو فرق کے معنوں میں لے رہے ہیں جو درست معلوم نہیں ہوتا ۔ (مترجم) ۔ اور یہ فیصلے اللہ کے ارادے سے ہوئے کیونکہ اللہ کی مشیت یہ تھی اور یہ رہی ہے کہ رسولوں کو بھیجا جائے تا کہ وہ کلام الٰہی کو بیان کریں اور اس کے مطابق فیصلے کریں۔ انا کنا مرسلین (٤٤ : ٥) “ ہم ایک رسول بھیجنے والے تھے ”۔ اور رسول کا بھیجنا اللہ کی رحمتوں کے تقاضے سے تھا۔ قیامت میں اللہ لوگوں پر حمت کرنا چاہتا تھا۔ رحمۃ من ربک انہ ھو السمیع العلیم (٤٤ : ٦) “ تیرے رب کی رحمت کے طور پر یقیناً وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے ”۔ قرآن کے نزول سے جس طرح اللہ کی رحمت کا ظہور ہوا ، اس طرح کسی اور رحمت کا ظہور نہیں ہوا۔ یہ قرآن نہایت آسانی کے ساتھ اور سرعت کے ساتھ دلوں میں بیٹھ جاتا ہے اور انسان اس کے رد عمل کے طور پر اس طرح خود کار طریقے سے عمل کرتا ہے جس طرح انسان کے جسم میں خون دوڑتا ہے اس طرح یہ بشر ایک نہایت یہ سنجیدہ اور شریف انسان بن جاتا ہے اور انسانی معاشرہ ایک خوبصورت خواب کی طرح نظر آتا ہے۔ اور یہ خواب ایک عملی خواب ہوتا ہے جو آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ یہ نظریہ حیات جو قرآن مجید نے پیش کیا ، اپنی جامعیت اور ہم آہنگی کے زاویہ سے ، ایک ایسا خوبصورت عقیدہ کہ انسان بےساختہ اس کے ساتھ محبت کرنے لگتا ہے۔ دل اس کے ساتھ اٹک جاتے ہیں۔ یہ نظریہ نہ صرف یہ کہ خیرو صلاح پر مبنی ہے۔ اس کے اندر کمال اور جامعیت بھی موجود ہے بلکہ یہ چیزیں اس میں اس قدر ترقی کرتی ہیں کہ پرکشش خوبصورتی کے مقام تک چلی جاتی ہیں۔ یہ خوبصورتی اس قدر کامل اور جامع ہے کہ اس عقیدے اور نظام کا ایک ایک جزء نہایت ہی خوبصورت ہے۔ پھر اس کا جزئی اور کلی حسن و کمال اس کائنات کے جزئی اور کلی حسن و کمال کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ یہ قرآن مجید رحمۃ من ربک (٤٤ : ٦) “ تیرے رب کی طرف سے بطور رحمت کے نازل ہوا ”۔ اور اس مبارک رات میں نازل ہوا۔ انہ ھو السمیع العلیم (٤٤ : ٦) “ یقیناً وہی سننے اور جاننے والا ہے ”۔ وہ سنتا اور جانتا ہے۔ اللہ جو کلام اور جو احکام نازل کرتا ہے وہ علم ومعرفت کی بنا پر نازل کرتا ہے۔ وہ لوگوں کے اقوال و افعال کو جانتا ہے اور ایسے اصول و قوانین نازل کرتا ہے جو ان کے لئے مفید ہیں اور جن کے ذریعے ان کی اصلاح ہوتی ہے۔ اللہ ہی وہ ذات ہے جو اس کائنات کا نگہبان ہے اور اس کا اور اس کے اندر تمام چیزوں کا محافظ ہے۔ رب السموت والارض وما بینھما ان کنتم موقنین (٤٤ : ٧) “ آسمانوں اور زمین کا رب اور ہر اس چیز کا رب جو آسمان اور زمین کے درمیان ہے ، اگر تم واقعی یقین رکھتے ہو ”۔ اس لیے وہ لوگوں کے لئے جو کلام و نظام نازل کرتا ہے وہ ان کی تربیت کے لئے کرتا ہے جس طرح اس کائنات میں اس کی ربوبیت چلتی ہے ، انسان بھی اسی کا حصہ ہے اور انسان بھی اللہ کے قوانین فطرت کا ایک حصہ ہے اور یہاں ایمان اور ایقان کی طرف جو اشارہ کیا ہے تو وہ اس لیے کہ ان کے عقائد نہایت مضطرب ، اور ڈانواں ڈول تھے کیونکہ ایک طرف تو وہ آسمانوں اور زمین کو اللہ کی مخلوق سمجھتے تھے۔ دوسری جانب انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے ارباب بھی بنا رکھے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ہاں اللہ کا تصور نہایت مجمل ، غیر واضح ، سطحی اور پختگی سے بہت دور تھا۔ حالانکہ اللہ واحد الٰہ ہے جو موت وحیات کا مالک ہے اور اولین اور آخرین سب کا رب ہے۔ لا الہ الا۔۔۔۔۔ الاولین (٤٤ : ٨) “ کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہے وہی زندگی عطا کرتا ہے ، وہی موت دیتا ہے ، تمہارا رب اور تمہارے اسلاف کا رب جو گزر چکے ہیں ”۔ زندہ کرنا اور مارنا تو دونوں ایسی باتیں ہیں جن کو تمام انسان دیکھتے ہیں اور یہ بھی ان کو معلوم ہے کہ یہ کام اللہ کے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔ اس کے لئے تو معمولی فکر و تدبر کی ضرورت ہے۔ موت کا منظر اور حیات کی کہانی دونوں انسانی قلب پر بہت ہی قریب سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان سے انسان کا دل متاثر اور منفعل ہونے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔ اور پھر وہ حق کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا تذکرہ قرآن میں بہت ہوتا ہے۔ اور انسانی قلب اور دماغ کو اس طرف باربار متوجہ کیا جاتا ہے اور مومنین کے دلوں کو بار بار اس کا غسل دیا جاتا ہے۔ ٭٭٭٭

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(1) حٰم ٓ