Surat ud Dukhaan

Surah: 44

Verse: 2

سورة الدخان

وَ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۙ﴿ۛ۲﴾

By the clear Book,

قسم ہے اس وضاحت والی کتاب کی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

By the manifest Book that makes things clear.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The Merit of the Surah Sayyidna Abu Hurairah رضی اللہ تعالیٰ عنہ reports that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said that whoever recites Surah Dukhan on Friday night, his sins will have been forgiven by the morning. Sayyidna Umamah (رض) narrates that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said anyone who recites Surah Dukhan on Friday, in the night or in the day, Allah will build for him a house in Paradise. (Qurtubi on the authority of Thalabi). In the present set of verses, the greatness of Qur&an and some of its special features are described. وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ |"By the manifest Book|". This verse refers to the Holy &Qur&an&. In the verse Allah swears an oath by the magnificent Qur&an to state that it was revealed in a blessed and auspicious Night, the purpose of which is to awaken the unmindful human beings from their deep slumber. A similar oath was taken, in exactly the same words, at the commencement of Surah Az-Zukhruf (Chapter 43). The oath-phrase has been fully discussed there.

معارف مسائل فضیلت سورت : حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کی رات میں سورة دخان پڑھ لے تو صبح کو اس کے گناہ معاف ہوچکے ہوں گے۔ اور حضرت امامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس شخص نے جمعہ کی رات یا دن میں سورة دخان پڑھ لی اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنائیں گے۔ (قرطبی بروایت ثعلبی) آیات مذکورہ میں قرآن کی عظمت اور بعض خاص صفات کا بیان ہے والکتاب المبین یعنی واضح کتاب سے مراد قرآن ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ اس کو ہم نے ایک مبارک رات میں نازل فرمایا جس کا مقصد غافل انسانوں کو بیدار کرنا ہے۔ اسی طرح کی قسم انہی الفاظ کے ساتھ سورة زخرف کے شروع میں بھی گزر چکی ہے وہاں اس کا بیان آ چکا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢ { وَالْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ } ” قسم ہے اس روشن کتاب کی۔ “ جیسا کہ سورة الزخرف کے آغاز میں عرض کیا گیا ‘ سورة الدخان کی سورة الزخرف کے ساتھ نسبت ِزوجیت ہے اور اس کی ایک علامت یہ ہے کہ دونوں سورتوں کی دو ابتدائی آیات مشترک ہیں اور ان کا اسلوب بھی ایک جیسا ہے۔ چناچہ سورة الزخرف کی طرح یہاں اس آیت میں بھی قرآن کی قسم کا جوابِ قسم یا مقسم علیہ محذوف ہے۔ اس ضمن میں یہ وضاحت قبل ازیں کی جا چکی ہے کہ ایسے مقامات پر مقسم علیہ گویا وہی حقیقت ہے جس کا ذکر سورة یٰسٓ کے آغاز میں ہوچکا ہے : { یٰسٓ۔ وَالْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ ۔ اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۔۔ چناچہ یہاں پر اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ کو مقدر (understood) مانتے ہوئے آیت زیر مطالعہ کا مفہوم یوں ہوگا : ” اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کتاب ِمبین گواہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں “۔ گویا یہ روشن اور واضح کتاب ‘ یہ قرآن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا قطعی ثبوت ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(44:2) والکتب المبین : واؤقسمیہ ہے الکتب موصوف المبین صفت۔ اسم فاعل واحد مذکر ابانہ (افعال) مصدر۔ کھلا ہوا۔ ظاہر کرنے والا۔ موصوف و صفت مل کر المقسم بہ الکتب ای القران۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط سورت : الزّخرف کا اختتام اس بات پر ہوا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کو خالق کل ماننے کے باوجود اس کی خالص بندگی کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان سے جھگڑا کرنے کی بجائے آپ ان کو سلام کہہ کر الگ ہوجائیں۔ الدّخان کی ابتداء اس فرمان سے ہوئی کہ ہم نے آپ پر قرآن مجید اس لیے نازل کیا ہے تاکہ ہم اس کے ذریعے کفار اور مشرکین کو ڈرائیں شاید کہ وہ اپنی روش سے باز آجائیں۔ جن سورتوں کی ابتداء میں حٰمٓ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان میں یہ پانچویں سورت ہے۔ حٰمٓ حروف مقطعات میں شمار ہوتے ہیں۔ جن کے بارے میں ہر صاحب علم جانتا ہے کہ ان کا معنٰی اور مفہوم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان نہیں فرمایا اور نہ صحابہ کرام نے ان کا معنٰی آپ سے پوچھنے کی ضرور محسوس فرمائی۔ لہٰذا حروف مقطعات کا معنٰی جانے بغیر ہی ان کی تلاوت کرنی چاہیے۔ حم ٓ کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس سورة کی ابتداء اس بات سے کی ہے کہ اس کھلی کتاب کی قسم ! ہم نے اسے مبارک رات میں نازل فرمایا ہے۔ یقیناً ہم لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانے والے ہیں۔ جس رات میں قرآن مجید نازل کیا گیا اس میں ہر کام کے حکیمانہ فیصلے کیے جاتے ہیں۔ یہ فیصلے صرف ہماری طرف سے صادر ہوتے ہیں اور ہم ہی رسول کو بھیجنے والے ہیں۔ باالفاظ دیگر ہم نے اس رات فیصلہ صادر فرمایا کہ ایک صاحب کتاب رسول مبعوث کرنا چاہیے۔ کتاب مبین اور رسول کو بھیجنا سراسر آپ کے رب کی رحمت کا کرشمہ ہے۔ یقیناً وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ کچھ اہل علم نے کمزور روایات کی بنیاد پر لکھا ہے کہ مبارک رات سے مراد شعبان کی پندرہویں رات ہے۔ جسے شب برأت کہا جاتا ہے۔ یہ نام کسی حدیث سے ثابت نہیں کیونکہ شب فارسی زبان کا لفظ ہے اور برأت عربی کا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس رات کے بارے میں کچھ روایات ایسی ہیں جن سے اس رات کی کچھ نہ کچھ فضیلت معلوم ہوتی ہے لیکن جو فضائل اس رات سے منسوب کیے جاتے ہیں وہ سب کے سب اس رات کے بارے میں ہیں جس رات میں قرآن مجید نازل کیا گیا ہے۔ یہاں اس رات کو مبارک رات اور سورة القدر میں اسے عزت والی رات کہا گیا ہے۔ یہ رات رمضان المبارک میں آتی ہے کیونکہ قرآن مجید نے یہ بات کھلے الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید رمضان میں نازل کیا ہے۔ ( البقرۃ : ١٨٥) ۔ اس فرمان کے بعد اس رات کا قطعی فیصلہ ہوجاتا ہے کہ یہ شعبان کی پندرہویں رات نہیں بلکہ یہ مبارک اور عزت والی رات رمضان المبارک میں آتی ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس رات کی فضیلت اور نشاندہی فرمائی ہے جس میں قرآن مجید نازل کیا گیا ہے اور اسی رات میں لوگوں کی زندگی کے بارے میں اہم فیصلے ہوتے ہیں۔ یہ شب برأت نہیں بلکہ شب قدر ہے۔ جو رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو رحمت قرار دیا ہے جس کا معنٰی ہے کہ جہاں یہ کتاب پڑھی جائے گی اور جن لوگوں پر اس کا نفاذ ہوگا اللہ تعالیٰ اس ملک اور ان لوگوں پر اپنی رحمت کا سایہ فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کی نیت وعمل کو جاننے والا اور ہر بات کو سننے والا ہے۔ رسول اور کتاب بھیجنا آپ کے رب کی اپنے بندوں پر رحمت ہے تاکہ وہ صحیح عقیدہ اور صالح اعمال کریں اور اپنے رب کی رحمت کے دائمی طور پر حقدار ہوجائیں۔ مسائل ١۔ قرآن مجید روشن کتاب ہے۔ ٢۔ اس مبارک رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکیمانہ فیصلے صادر ہوتے ہیں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو مبارک اور عزت والی رات نازل فرمایا ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ ہی رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیجنے والا ہے۔ ٥۔ کتاب کے نزول اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد کا مقصد لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانا ہے۔ ٦۔ قرآن مجید کو نازل کرنا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمانا اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مظہر ہے۔ ٧۔ اللہ تعالیٰ ہر بات سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کس مہینے اور رات میں نازل ہوا : ١۔ قرآن مجید رمضان المبارک میں نازل کیا گیا۔ (البقرۃ : ١٨٥) ٢۔ قرآن مجید عزت والی رات میں نازل کیا گیا۔ (القدر : ١) ٣۔ قرآن مجید مبارک رات میں نازل کیا گیا۔ (الدخان : ٣) ٤۔ اس رات اہم ترین فیصلے صادر ہوتے ہیں۔ ( الدخان : ٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

2:۔ ” والکتب المبین “ یہ تمہید مع ترغیب ہے۔ کتاب سے یا تو قرآن مراد ہے۔ اس صورت میں قرآن کو لیلہ مبارکہ میں نازل کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ اس رات میں قرآن کا نازل کرنا شروع ہوا۔ وقال غیر واحد المراد ابتداء انزالہ فی تلک اللیلۃ علی التجوز (روح ج 25 ص 111) ۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس برکت والی رات میں سارا قرآن لوح مھفوظ سے یکبارگی آسمان دنیا پر اترا اور وہاں سے تھوڑا تھوڑا حسب ضرورت تیئس سال میں اتار لیکن اس بات میں جو حدیث ذکر کی جاتی ہے وہ قوی نہیں یا سورت مراد ہے جیسا کہ فرمایا ” یتلوا صحفا مطہرۃ فیہا کتب قیمۃ “ (البینہ) یہاں ” کتب “ سے سورتیں مراد ہیں۔ اس صورت میں ” انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ “ میں تاویل کی ضرورت نہ ہوگی اور مطلب یہ ہوگا کہ اس سورت کو ہم نے برکت والی رات میں نازل کیا ہے۔ تیسری توجیہہ یہ ہے کہ الکتاب سے سورت کا دعوی مراد ہے۔ یعنی انا انزلنا ھذا الحکم للاتی فی لیلۃ مبارکۃ فعلیکم ان تاتتمروا بہ وننذرکم من مخالفتہ فی ھذہ اللیلۃ افرق عذاب من لم یومن بہذا الحکم وانزلنا ھذا الحکم رحمۃ بکم وھو انہ ہو السمیع لکل شیء العلیم بکل شیء لا غیر (الشیخ (رح) تعالیٰ ) ۔ اللہ تعالیٰ نے محض اپنی رحمت سے یہ حکم بھیجا ہے، اس کی برکات کے آثار ہمیشہ کے لیے باقی ہیں چناچہ لیلۃ القدر جس میں نزول قرآن کا آغاز ہوا ایک ہزار مہینے سے بہتر ہے، سال میں جب وہ رات آتی ہے تو آثار رحمت کا ظہور ہوتا ہے۔ ” والکتب المبین “ قسم ہے اور جواب قسم محذوف ہے ای مابقی موضع شبہۃ یعنی کتاب جو حق کو واضح اور روشن کرنے والی ہے اس پر شاہد ہے کہ مسئلہ توحید ہر پہلو سے عیاں ہوچکا ہے اور اب کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہا۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔ یا انا انزلناہ الخ، جواب قسم مذکور ہے (روح وغیرہ) یا یہ جملہ معترضہ ہے برائے بیان عظمت قرآن اور انا کنا منذرین جواب قسم ہے۔ قال ابن عطیۃ لا یحسن وقوع القسم علیہ ای علی انا انزلناہ وھو اعتراض یتضمن تفخیم الکتاب ویکون الذی وقع علیہ القسم ان کنا منذرین انتہی (بحر ج 8 ص 32) ۔ قرآن مجید میں جو قسمیں وارد ہوئی ہیں ان سے مقصود دلائل و شواہد ہیں جنہیں بصورت اقسام ذکر کیا گیا ہے۔ ان الایمان لتی حلف اللہ تعالیٰ بھا کلھا دلائل اخرجہا فی صورۃ الایمان مثالہ قول القائل لمعنمہ وحق نعمک الکثیرۃ انی لا ازال اشکرک فیذکر النعم وھی سبب مفید لدوام الشکر۔ (کبیر) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(2) قسم ہے اس واضح اور صاف بیان کرنے والی کتاب کی اپنے معنی اور مفہوم میں واضح ہے یا حق و باطل کو الگ لگ کرنے والی ہے یا حلال و حرام کو صاف صاف اور واضح طور پر بیان کرنے والی ہے۔