Surat ul Jasiya

Surah: 45

Verse: 34

سورة الجاثية

وَ قِیۡلَ الۡیَوۡمَ نَنۡسٰکُمۡ کَمَا نَسِیۡتُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا وَ مَاۡوٰىکُمُ النَّارُ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۳۴﴾

And it will be said, "Today We will forget you as you forgot the meeting of this Day of yours, and your refuge is the Fire, and for you there are no helpers.

اور کہہ دیا گیا کہ آج ہم تمہیں بھلا دیں گے جیسے کہ تم نے اپنے اس دن سے ملنے کو بھلا دیا تھا تمہارا ٹھکانا جہنم ہے اور تمہارا مددگار کوئی نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَقِيلَ الْيَوْمَ نَنسَاكُمْ ... And it will be said: "This Day We will forget you..." `We will treat you as if We have forgotten you, casting you in the fire of Jahannam,' ... كَمَا نَسِيتُمْ لِقَاء يَوْمِكُمْ هَذَا ... as you forgot the meeting of this Day of yours. `and did not work for it because you did not believe in its coming,' ... وَمَأْوَاكُمْ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ And your abode is the Fire, and there is none to help you. In the Sahih, it is reported that Allah the Exalted will ask some of His servants on the Day of Resurrection, أَلَمْ أُزَوِّجْكَ أَلَمْ أُكْرِمْكَ أَلَمْ أُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالاِْبِلَ وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ فَيَقُولُ بَلَى يَارَبِّ فَيَقُولُ أَفَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلَقِيَّ فَيَقُولُ لاَ فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى فَالْيَوْمَ أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي "Have I not given you a spouse, honored you and subjected the camels and horses to you? Have I not allowed you to be a chief and a master?" The servant will say in answer, "Yes, O Lord!" Allah will say, "Did you think that you would ever meet Me?" He will say, "No." Allah the Exalted will say, "then this Day, I will forget you as you forgot Me." Allah the Exalted said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

34۔ 1 جیسے حدیث میں آتا ہے۔ اللہ اپنے بعض بندوں سے کہے گا ' کیا میں نے تجھے بیوی نہیں دی تھی ؟ کیا میں نے تیرا اکرام نہیں کیا تھا ؟ کیا میں نے گھوڑے اور بیل وغیرہ تیری ماتحتی میں نہیں دیئے تھے ؟ تو سرداری بھی کرتا اور چنگی بھی وصول کرتا رہا۔ وہ کہے گا ہاں یہ تو ٹھیک ہے میرے رب ! اللہ تعالیٰ پوچھے گا، کیا تجھے میری ملاقات کا یقین تھا ؟ وہ کہے گا، نہیں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا پس آج میں بھی (تجھے جہنم میں ڈال کر) بھول جاؤں گا جیسے تو مجھے بھولے رہا (صحیح مسلم)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٧] اس کا یہ مطلب نہیں کہ حساب کتاب کے وقت انہیں بھلا دیا جائے گا۔ بلکہ حساب کتاب یا سزا کے فیصلہ اور جہنم میں پھینک دیئے جانے کے بعد انہیں وہیں پڑا رہنے دیا جائے گا۔ وہ خواہ چیخیں پکاریں، فریاد کریں۔ ان کی کوئی بات سنی ہی نہ جائے گی۔ اور جو حال بھی ان پر گزرے ان کی خبر تک نہ لی جائے گی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وقیل الیوم ننسکم کما نسیتم لقآء یومکم ھذا…: اس کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة اعراف (٥١) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقِيْلَ الْيَوْمَ نَنْسٰـىكُمْ كَـمَا نَسِيْتُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا وَمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ۝ ٣٤ نسی النِّسْيَانُ : تَرْكُ الإنسانِ ضبطَ ما استودِعَ ، إمَّا لضَعْفِ قلبِهِ ، وإمَّا عن غفْلةٍ ، وإمَّا عن قصْدٍ حتی يَنْحَذِفَ عن القلبِ ذِكْرُهُ ، يقال : نَسِيتُهُ نِسْيَاناً. قال تعالی: وَلَقَدْ عَهِدْنا إِلى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً [ طه/ 115] ، فَذُوقُوا بِما نَسِيتُمْ [ السجدة/ 14] ، فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَما أَنْسانِيهُ إِلَّا الشَّيْطانُ [ الكهف/ 63] ، لا تُؤاخِذْنِي بِما نَسِيتُ [ الكهف/ 73] ، فَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ [ المائدة/ 14] ، ثُمَّ إِذا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِنْهُ نَسِيَ ما کانَ يَدْعُوا إِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ [ الزمر/ 8] ، سَنُقْرِئُكَ فَلا تَنْسى[ الأعلی/ 6] إِخبارٌ وضَمَانٌ من اللهِ تعالیٰ أنه يجعله بحیث لا يَنْسَى ما يسمعه من الحقّ ، وكلّ نسْيانٍ من الإنسان ذَمَّه اللهُ تعالیٰ به فهو ما کان أصلُه عن تعمُّدٍ. وما عُذِرَ فيه نحو ما رُوِيَ عن النبيِّ صلَّى اللَّه عليه وسلم : «رُفِعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأُ وَالنِّسْيَانُ» فهو ما لم يكنْ سَبَبُهُ منه . وقوله تعالی: فَذُوقُوا بِما نَسِيتُمْ لِقاءَ يَوْمِكُمْ هذا إِنَّا نَسِيناكُمْ [ السجدة/ 14] هو ما کان سببُهُ عن تَعَمُّدٍ منهم، وترْكُهُ علی طریقِ الإِهَانةِ ، وإذا نُسِبَ ذلك إلى اللہ فهو تَرْكُهُ إيّاهم استِهَانَةً بهم، ومُجازاة لِما ترکوه . قال تعالی: فَالْيَوْمَ نَنْساهُمْ كَما نَسُوا لِقاءَ يَوْمِهِمْ هذا[ الأعراف/ 51] ، نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ [ التوبة/ 67] وقوله : وَلا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْساهُمْ أَنْفُسَهُمْ [ الحشر/ 19] فتنبيه أن الإنسان بمعرفته بنفسه يعرف اللَّهَ ، فنسیانُهُ لله هو من نسیانه نَفْسَهُ. وقوله تعالی: وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذا نَسِيتَ [ الكهف/ 24] . قال ابن عباس : إذا قلتَ شيئا ولم تقل إن شاء اللَّه فَقُلْهُ إذا تذكَّرْتَه «2» ، وبهذا أجاز الاستثناءَ بعد مُدَّة، قال عکرمة «3» : معنی «نَسِيتَ» : ارْتَكَبْتَ ذَنْباً ، ومعناه، اذْكُرِ اللهَ إذا أردتَ وقصدتَ ارتکابَ ذَنْبٍ يكنْ ذلک دافعاً لك، فالنِّسْيُ أصله ما يُنْسَى کالنِّقْضِ لما يُنْقَض، ( ن س ی ) النسیان یہ سنیتہ نسیانا کا مصدر ہے اور اس کے معنی کسی چیز کو ضبط میں نہ رکھنے کے ہیں خواہ یہ ترک ضبط ضعف قلب کی وجہ سے ہو یا ازارہ غفلت ہو یا قصدا کسی چیز کی یاد بھلا دی جائے حتیٰ کہ وہ دل سے محو ہوجائے قرآن میں ہے : ۔ وَلَقَدْ عَهِدْنا إِلى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً [ طه/ 115] ہم نے پہلے آدم (علیہ السلام) سے عہد لیا تھا مگر وہ اسے بھول گئے اور ہم نے ان میں صبر وثبات نہ دیکھا ۔ فَذُوقُوا بِما نَسِيتُمْ [ السجدة/ 14] سو اب آگ کے مزے چکھو اس لئے کہ تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا ۔ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَما أَنْسانِيهُ إِلَّا الشَّيْطانُ [ الكهف/ 63] تو میں مچھلی وہیں بھول گیا ۔ اور مجھے آپ سے اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا ۔ لا تُؤاخِذْنِي بِما نَسِيتُ [ الكهف/ 73] کہ جو بھول مجھ سے ہوئی اس پر مواخذاہ نہ کیجئے فَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ [ المائدة/ 14] مگر انہوں نے بھی اس نصیحت کا جوان کو کی گئی تھی ایک حصہ فراموش کردیا ۔ ثُمَّ إِذا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِنْهُ نَسِيَ ما کانَ يَدْعُوا إِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ [ الزمر/ 8] پھر جب وہ اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت دے دیتا ہے تو جس کام کے لئے پہلے اس کو پکارتا ہے اسے بھول جاتا ہے اور آیت سَنُقْرِئُكَ فَلا تَنْسى[ الأعلی/ 6] ہم تمہیں پڑھائیں گے کہ تم فراموش نہ کرو گے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے ایسا بنادے گا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سنو گے اسے بھولنے نہیں پاؤ گے پھر ہر وہ نسیان جو انسان کے قصد اور ارداہ سے ہو وہ مذموم ہے اور جو بغیر قصد اور ارادہ کے ہو اس میں انسان معزور ہے اور حدیث میں جو مروی ہے رفع عن امتی الخطاء والنیان کہ میری امت کو خطا اور نسیان معاف ہے تو اس سے یہی دوسری قسم کا نسیان مراد ہے یعنیوی جس میں انسان کے ارادہ کو دخل نہ ہو اور آیت کریمہ : ۔ فَذُوقُوا بِما نَسِيتُمْ لِقاءَ يَوْمِكُمْ هذا إِنَّا نَسِيناكُمْ [ السجدة/ 14] سو اب آگ کے مزے چکھو اس لئے کہ تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا ۔ میں نسیان بمعنی اول ہے یعنی وہ جس میں انسان کے قصد اور ارادہ کو دخل ہو اور کسی چیز کو حقیر سمجھ کرا سے چھوڑ دیا جائے ۔ پھر جب نسیان کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے ازراہ اہانث انسان کو چھوڑ ینے اور احکام الہیٰ کے ترک کرنے کی وجہ سے اسے سزا دینے کے معنی مراد ہوتے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَالْيَوْمَ نَنْساهُمْ كَما نَسُوا لِقاءَ يَوْمِهِمْ هذا[ الأعراف/ 51] تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے تھے اس طرح آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے ۔ نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ [ التوبة/ 67] انہوں نے خدا کو بھلا یا تو خدا نے بھی ان کو بھلا دیا ۔ وَلا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْساهُمْ أَنْفُسَهُمْ [ الحشر/ 19] اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے انہیں ایسا کردیا کہ خود اپنے تئیں بھول گئے ۔ میں متنبہ کیا ہے کہ انسان اپنے نفس کی معرفت حاصل کرنے سے ہی معرفت الہیٰ حاصل کرسکتا ہے لہذا انسان کا اللہ تعالیٰ کو بھلا دینا خود اپنے آپکو بھال دینے کے مترادف ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذا نَسِيتَ [ الكهف/ 24] اور جب خدا کا نام لینا بھال جاؤ تو یاد آنے پر لے لو ۔ کے ابن عباس نے یہ معنی کئے ہیں کہ جب تم کوئی بات کہو اور اس کے ساتھ انشاء اللہ کہنا بھول جاؤ تو یاد آنے پر انشاء اللہ کہہ لیا کرو ۔ اسی لئے ابن عباس کے نزدیک حلف میں کچھ مدت کے بعد بھی انشاء اللہ کہنا جائز ہے اور عکرمہ نے کہا ہے کہ نسیت بمعنی ارتکبت ذنبا کے ہے ۔ اور آیت کے معنی یہ ہیں ۔ کہ جب تمہیں کسی گناہ کے ارتکاب کا خیال آئے تو اس وسوسہ کو دفع کرنے کے لئے خدا کے ذکر میں مشغول ہوجایا کرو تاکہ وہ وسوسہ دفع ہوجائے ۔ النسی کے اصل معنی ماینسیٰ یعنی فراموش شدہ چیز کے ہیں جیسے نقض بمعنی ماینقض آتا ہے ۔ مگر عرف میں نسی اس معمولی چیز کو کہتے ہیں جو در خود اعتناء نہ سمجھی جائے لقی اللِّقَاءُ : مقابلة الشیء ومصادفته معا، وقد يعبّر به عن کلّ واحد منهما، يقال : لَقِيَهُ يَلْقَاهُ لِقَاءً ولُقِيّاً ولُقْيَةً ، ويقال ذلک في الإدراک بالحسّ ، وبالبصر، وبالبصیرة . قال : لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ [ آل عمران/ 143] ، وقال : لَقَدْ لَقِينا مِنْ سَفَرِنا هذا نَصَباً [ الكهف/ 62] . ومُلَاقَاةُ اللہ عز وجل عبارة عن القیامة، وعن المصیر إليه . قال تعالی: وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ [ البقرة/ 223] ( ل ق ی ) لقیہ ( س) یلقاہ لقاء کے معنی کسی کے سامنے آنے اور اسے پالینے کے ہیں اور ان دونوں معنی میں سے ہر ایک الگ الگ بھی بولاجاتا ہے اور کسی چیز کا حس اور بصیرت سے ادراک کرلینے کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ [ آل عمران/ 143] اور تم موت ( شہادت ) آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے اور ملاقات الہی سے مراد قیامت کا بپا ہونا اور اللہ تعالیٰ کے پاس چلے جانا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ [ البقرة/ 223] اور جان رکھو کہ ایک دن تمہیں اس کے دوبرو حاضر ہونا ہے ۔ هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء هذا في المستبعد بالشخص أو بالمنزلة : ( ذَاكَ ) و ( ذلك) قال تعالی: الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] ، ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] ، ذلِكَ أَنْ لَمْ يَكُنْ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرى [ الأنعام/ 131] ، إلى غير ذلك . ( ذ ا ) ہاں ھذا میں ذا کا لفظ اسم اشارہ ہے جو محسوس اور معقول چیز کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ کہا جاتا ہے ۔ ھذہ وھذی وھاتا ۔ ان میں سے سرف ھاتا کا تژنیہ ھاتان آتا ہے ۔ ھذہٰ اور ھٰذی کا تثنیہ استعمال نہیں ہوتا قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تونے مجھ پر فضیلت دی ہے ۔ هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔ هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے ۔ إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ۔ هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] یہی وہ جہنم ہے جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے ۔ هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے ۔ ھذا کے بالمقابل جو چیز اپنی ذات کے اعتبار سے دور ہو یا باعتبار مرتبہ بلند ہو ۔ اس کے لئے ذاک اور ذالک استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] یہ کتاب یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہے ۔ ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] یہ اس لئے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہلاک کردے ۔ أوى المَأْوَى مصدر أَوَى يَأْوِي أَوِيّاً ومَأْوًى، تقول : أوى إلى كذا : انضمّ إليه يأوي أويّا ومأوى، وآوَاهُ غيره يُؤْوِيهِ إِيوَاءً. قال عزّ وجلّ : إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ [ الكهف/ 10] ، وقال : سَآوِي إِلى جَبَلٍ [هود/ 43] ( ا و ی ) الماویٰ ۔ ( یہ اوی ٰ ( ض) اویا و ماوی کا مصدر ہے ( جس کے معنی کسی جگہ پر نزول کرنے یا پناہ حاصل کرنا کے ہیں اور اویٰ الیٰ کذا ۔ کے معنی ہیں کسی کے ساتھ مل جانا اور منضم ہوجانا اور آواہ ( افعال ) ایواء کے معنی ہیں کسی کو جگہ دینا قرآن میں ہے { إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ } ( سورة الكهف 10) جب وہ اس غار میں جار ہے { قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ } ( سورة هود 43) اس نے کہا کہ میں ( ابھی ) پہاڑ سے جا لگوں گا ۔ نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] وَما لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 74] ، وَكَفى بِاللَّهِ وَلِيًّا وَكَفى بِاللَّهِ نَصِيراً [ النساء/ 45] ، ما لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 116] ( ن ص ر ) النصر والنصر کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٤ { وَقِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰٹکُمْ کَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآئَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا } ” اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ آج ہم تمہیں اسی طرح نظر انداز کردیں گے جیسے تم نے اس دن کی ملاقات کو نظر انداز کررکھا تھا “ { وَمَاْوٰٹکُمُ النَّارُ وَمَا لَکُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ } ” اور تمہارا ٹھکانہ اب آگ ہے اور تمہارے لیے کوئی مدد گار نہیں ہے۔ “ چناچہ اب تمہارے رونے دھونے اور چیخنے چلانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ اب تمہیں اس عذاب سے چھڑانے کے لیے کوئی نہیں آئے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٤۔ قرآن شریف میں کہیں تو اللہ تعالیٰ نے خود اپنی ملاقات اور اپنے سامنے کھڑے ہونے کو حشر فرمایا ہے جیسا کہ قد خسرالذین کذبوا بلقاء اللہ اور وقال الذین لا یرجون لقاء نا۔ میں ہے اور کہیں سزا و جزا جو اس دن لوگوں کو پیش آئے گی اسکو حشر فرمایا جیسا کہ اس آیت میں ہے لقاء یومکم ھذا صحیح حدیثوں میں حشر کے حالات کی جو تفصیل ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیکی و بدی کی پرسش کے وقت حشر کے دن نیک و بد سب اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے اور پھر جزا و سزا کا حکم ہوگا اسی واسطے بعضی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے سامنے کھڑے ہونے کو حشر فرمایا ہے اور بعضی آیتوں میں جزا و سزا کو صحیح مسلم ١ ؎ میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے ایک بڑی روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہر طرح کی راحت دی ہے اور وہ لوگ دنیا کے عیش میں آخرت کو بھولے ہوئے ہیں ایسے لوگوں میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ اپنے سامنے کھڑا کرکے پوچھے گا کہ اے شخص کیا تجھ کو میں نے ہر طرح کی عزت اور راحت سے دنیا میں نہیں رکھا وہ شخص کہے گا کہ ہاں پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تجھ کو کیا کبھی یہ خیال بھی آتا تھا کہ ایک روز تجھ کو اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا پڑے گا وہ کہے گا کہ نہیں اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جس طرح تو نے دنیا میں میری بندگی اور فرمانبرداری کو بھلا دیا اسی طرح آج میں نے تجھ کو اپنی نظر رحمت سیبھلا دیا غرض اس حدیث اور صحیح حدیثوں سے معلومہوتا ہے کہ حشر کے دن بد لوگ بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ لیکن صحیحین ٢ ؎ میں حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے دیدار کے وقت فرمائے گا تم لوگ اللہ کی عنایت سے راضی اور خوشی ہو اہل جنت عرض کریں گے یا اللہ تو نے ہم کو ہمارے حوصلہ سے بڑھ کر عیش و آرام دیا ہے پھر ہم کیونکر خوش اور راضی نہ ہوں گے اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا سب سے بڑھ کر تمہارے خوش ہونے کی یہ بات ہے کہ میں بھی تم سے ہمیشہ کے لئے خوش ہوں اب یہ تو ظاہر بات ہے کہ آقا جس غلام سے خوش ہو اس کو کس بات کی کمی ہے غرض اہل جنت کا دیدار تو اس خوشنودی کا ہوگا اور اہل دوزخ جو اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے ان کا دیکھنا اللہ کو ایسا ہے جس طرح کسی مجرم کو حاکم کے رو برو کھڑا کرتے ہیں اور حاکم نظر غضب سے اس مجرم کو دیکھتا ہے۔ چناچہ صحیحین ٣ ؎ وغیرہ کی روایتوں میں ہے کہ جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ہضم کرے گا ایسا شخص جس وقت حشر کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس وقت غضب ناک ہوگا آخری آیت میں فرمایا ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور کوئی ان کی مدد کرکے ان کو اس عذاب سے چھوڑا نہ سکے گا یہ ان مشرک لوگوں کا ذکر ہے جن کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان نہ ہوگا کیونکہ صحیح بخاری ١ ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری کی یہ حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جن لوگوں کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا فرشتے انبیاء اور نیک لوگ ان کی شفاعت مدد کے طور پر کریں گے اور آخر کو وہ ذرہ برابر ایمان دار لوگ دوزخ سے نکل کر جنت میں جائیں گے۔ (١ ؎ صحیح بخاری کتاب التوحید ص ١١٠٧ ج ٢۔ ) (١ ؎ صحیح مسلم کتاب الزھد ص ٤٠٩ ج ٢۔ ) (٢ ؎ صحیح بخاری کلام الرب مع اھل الجنۃ ص ١١٢١ ج ٢۔ ) (٣ ؎ صحیح مسلم باب غلظ تحریم اسبال الازار الخ ص ٧١ ج ١۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(45:34) وقیل ۔ واؤ عاطفہ۔ قیل : ای قیل لہم : ان سے کہا جائیگا ۔ ماضی مجہول بمعنی مستقبل۔ واحد مذکر غائب قول (باب نصر) مصدر ہے قیل کا ۔ الیوم۔ آج کے دن۔ (مراد یوم قیامت) الیوم ۔۔ یستعتبون مقولہ ۔ ننساکم مضارع جمع متکلم نسیان (باب سمع) مصدر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر ہم تم کو بھول جائیں گے۔ ہم تم کو فراموش کردیں گے۔ ہم تم کو بھولے بسرے کی طرح بالکل چھوڑ دیں گے۔ کما نسیتم لقاء یومکم ھذا : ک حرف تشبیہ ما موصولہ نسیتم لقاء یومکم ھذا اس کا صلہ۔ جس طرح تم نے اپنے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا۔ یومکم مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ لقاء کا۔ یہ مصدر کی اضافت اپنے ظرف کی طرف ہے فیکون المعنی : کما نسیتم لقاء ربکم فی یومکم ھذا : اس کے معنی ہیں جس طرح تم نے آج کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو ہونے کو بھلا رکھا تھا۔ وماوکم النار۔ واؤ عاطفہ۔ ماوکم مضاف مضاف الیہ۔ ماوی اسم ظرف مکان ۔ اوی (باب ضرب) مصدر۔ ٹھکانا۔ پناہ گاہ۔ رہنے کی جگہ ۔ جملہ ماوکم النار کا عطف ہے جس کا عطف الیوم پر ہے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اسی طرح وما لکم من نصرین معطوف ہے جس کا عطف الیوم پر ہے اور کوئی تمہارا مدد گار نہیں ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی رحمت سے محروم کئے دیتے ہیں جس کو بھلانا مجازا کہہ دیا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿وَ قِيْلَ الْيَوْمَ نَنْسٰىكُمْ ﴾ (مجرمین سے کہا جائے گا کہ آج ہم تمہیں بھلا دیتے ہیں) یعنی تمہیں عذاب میں ڈال کر چھوڑ دیتے ہیں جیسے کوئی چیز بھول بھلیاں کردی جاتی ہیں، یہ نہ سمجھنا کہ کبھی عذاب سے چھٹکارہ ہوجائے گا جیسے تم نے آج کے دن کو بھلایا ایسے ہی ہمیشہ کے لیے تمہیں رحمت سے محروم کردیا گیا اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ہے۔ مجرمین سے مزید خطاب ہوگا کہ یہ جو کچھ نتیجہ (عذاب کی صورت میں) تمہارے سامنے ہے یہ اس وجہ سے ہے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کا مذاق بنایا تھا اور تمہیں دنیا والی زندگی نے دھوکے میں ڈالے رکھا تھا، آج جب یہاں دوزخ میں ڈال دئیے گئے تو نہ عذاب سے نکالے جاؤ گے اور نہ یہ موقعہ دیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرلو یہ موقعہ دنیا میں تھا وہاں توبہ کرسکتے تھے اور اپنے رب کو راضی کرسکتے تھے، جب موت آگئی اور اس کے بعد میدان حشر میں پہنچ گئے تو کوئی طریقہ خالق ومالک جل مجدہٗ کے راضی کرنے کا نہیں رہا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(34) اور ان دین حق کے منکروں اور جرائم پیشہ لوگوں سے کہا جائیگا کہ جس طرح تم نے اپنے اس دن کی ملاقات اور اس دن کے سامنے آنے کو فراموش کررکھا تھا اسی طرح آج بھی تم کو فراموش کردیں گے اور تمہارا ٹھکانا آگ ہے اور تمہارا کوئی بھی مددگار نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح اس دن کے آنے کو تم نے فراموش کررکھا تھا اسی طرح آج ہم تم سے ایسا معاملہ کریں گے جیسے بھولے ہوئے آدمی سے کہا جاتا ہے۔ حضرت حق تعالیٰ کے فراموش کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تم کو رحمت سے محروم کردیں گے تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اور جب خدا کی رحمت سے محروم کردیئے گئے تو ہر قسم کی مدد اور ہر قسم کے مدد کرنے والوں سے بھی محوم آخری ٹھکانا جہنم قرار پائے گا اور ان کا کوئی مدد کرنے والا نہ ہوگا۔