Every available translation of Surat Muahammad, verse 4, side by side - Urdu, English, Hindi and Roman - with the Arabic text above them.
|
فَاِذَا
پھر جب
|
لَقِیۡتُمُ
ملو تم
|
الَّذِیۡنَ
ان سے جنہوں نے
|
کَفَرُوۡا
کفر کیا
|
فَضَرۡبَ
تو مارنا ہے
|
الرِّقَابِ
گردنوں کا
|
حَتّٰۤی
یہاں تک کہ
|
اِذَاۤ
جب
|
اَثۡخَنۡتُمُوۡہُمۡ
خوب خون ریزی کر چکو تم ان کی
|
فَشُدُّوا
پھر مضبوط باندھو
|
الۡوَثَاقَ
بندھن
|
فَاِمَّا
پھر خواہ
|
مَنًّۢا
احسان کرو
|
بَعۡدُ
اس کے بعد
|
وَاِمَّا
اور خواہ
|
فِدَآءً
فدیہ لو
|
حَتّٰی
یہاں تک کہ
|
تَضَعَ
رکھ دے
|
الۡحَرۡبُ
جنگ
|
اَوۡزَارَہَا
ہتھیار اپنے
|
ذٰؔلِکَ
یہ ہے(حکم)
|
وَلَوۡ
اور اگر
|
یَشَآءُ
چاہتا
|
اللّٰہُ
اللہ
|
لَانۡتَصَرَ
البتہ وہ بدلہ لے لیتا
|
مِنۡہُمۡ
ان سے
|
وَلٰکِنۡ
اور لیکن
|
لِّیَبۡلُوَا۠
تا کہ وہ آزمائے
|
بَعۡضَکُمۡ
تمہارے بعض کو
|
بِبَعۡضٍ
ساتھ بعض کے
|
وَالَّذِیۡنَ
اور وہ لوگ جو
|
قُتِلُوۡا
مارے گئے
|
فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ
اللہ کے راستے میں
|
فَلَنۡ
تو ہر گز نہ
|
یُّضِلَّ
وہ ضائع کرے گا
|
اَعۡمَالَہُمۡ
اعمال ان کے
|
|
فَاِذَا لَقِیۡتُمُ
تو جب تم ملو
|
الَّذِیۡنَ
ان لوگوں سے
|
کَفَرُوۡا
جنہوں نے کفر کیا
|
فَضَرۡبَ
تو مارنا ہے
|
الرِّقَابِ
گردنیں
|
حَتّٰۤی
حتیٰ کہ
|
اِذَاۤ
جب
|
اَثۡخَنۡتُمُوۡہُمۡ
تم خوب قتل کرچکو انہیں
|
فَشُدُّوا
تو مضبوط کرو
|
الۡوَثَاقَ
باندھنا
|
فَاِمَّا
پھر یا تو
|
مَنًّۢا
احسان ہے
|
بَعۡدُ
بعد
|
وَاِمَّا
اور یا تو
|
فِدَآءً
فدیہ ہے
|
حَتّٰی
یہاں تک کہ
|
تَضَعَ
رکھ دے
|
الۡحَرۡبُ
جنگ
|
اَوۡزَارَہَا
ہتھیار اپنے
|
ذٰؔلِکَ
یہی ہے
|
وَلَوۡ
اور اگر
|
یَشَآءُ اللّٰہُ
اللہ تعالیٰ چاہتا
|
لَانۡتَصَرَ
ضرور بدلہ لے لیتا
|
مِنۡہُمۡ
ان سے
|
وَلٰکِنۡ
اور لیکن
|
لِّیَبۡلُوَا۠
تاکہ وہ آزمائے
|
بَعۡضَکُمۡ
تمہارے بعض کو
|
بِبَعۡضٍ
بعض سے
|
وَالَّذِیۡنَ
اور وہ لوگ جو
|
قُتِلُوۡا
مارے گئے
|
فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ
اللہ تعالیٰ کی راہ میں
|
فَلَنۡ
تو ہرگز نہ
|
یُّضِلَّ
وہ ضائع کرے گا
|
اَعۡمَالَہُمۡ
ان کے اعمال کو
|
So when you meet those who disbelieve [in battle], strike [their] necks until, when you have inflicted slaughter upon them, then secure their bonds, and either [confer] favor afterwards or ransom [them] until the war lays down its burdens. That [is the command]. And if Allah had willed, He could have taken vengeance upon them [Himself], but [He ordered armed struggle] to test some of you by means of others. And those who are killed in the cause of Allah - never will He waste their deeds.
تو جب کافروں سے تمہاری مڈ بھڑ ہو تو گردنوں پر وار مارو ۔ جب ان کو اچھی طرح کچل ڈالو تو اب خوب مضبوط قیدو بند سے گرفتار کرو ( پھر اختیار ہے ) کہ خواہ احسان رکھ کر چھوڑ دو یا فدیہ لے کر تا وقتیکہ لڑائی اپنے ہتھیا ر رکھ دے ۔ یہی حکم ہے اور اگر اللہ چاہتا تو ( خود ) ہی ان سے بدلہ لے لیتا لیکن ( اس کا منشا یہ ہے ) کہ تم میں سے ایک کا امتحان دوسرے کے ذریعہ سے لے لے جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کر دیے جاتے ہیں اللہ ان کے اعمال ہرگز ضائع نہ کرے گا ۔
(مسلمانو ! ) جب تمہاری کافروں سے مڈ بھیڑ ہوجائے تو ان کی گردنیں اڑا دو یہاں تک کہ جب بےدریغ قتل کر چکو تو ان کی مشکیں کس (کر انہیں قیدی بنا) لو۔ پھر اس کے بعد یا تو ان پر احسان کرو یا تاوان لے کر چھوڑ دو ۔ تاآنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے ۔ (تمہارے لئے) یہی (حکم) ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو خود بھی ان سے انتقام لے سکتا تھا۔ مگر (یہ حکم اس لئے ہے) تاکہ تمہیں ایک دوسرے کے ذریعہ آزمائے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔
تو جب ملوان لوگوں سے جنہوں نے کفرکیاتوگردنیں مارنا ہے حتیٰ کہ جب تم اُنہیں خوب قتل کر چکو تو مضبوطی سے باندھ دوپھراس کے بعد یااحسان ہے یا فدیہ ہے یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار رکھ دے،یہی (حکم) ہے اوراگراﷲ تعالیٰ چاہتاتو ضرور اُن سے بدلہ لے لیتالیکن تاکہ وہ تمہارے ایک کو دوسرے سے آزمائے اورجولوگ اﷲ تعالیٰ کی راہ میں مارے گئے تو ﷲ تعالیٰ اُن کے اعمال کوہرگزضائع نہ کرے گا۔
So, when you encounter those who disbelieve, then (aim at) smiting the necks, until when you have broken their strength thoroughly, then tie fast the bond, (by making them captives). Then choose (to set them free) either (as) a favour, or (after receiving) ransom, until the war throws down its load of arms…That (is the law). And if Allah willed, He would have (Himself) taken vengeance upon them, but (Allah ordered you to fight,) so that He may test some of you through some others. And those who are killed in Allah&s way, He will never let their deeds go in vain.
سو جب تم مقابل ہو منکروں کے تو مارو گردنیں یہاں تک کہ جب خوب قتل کر چکو ان کو تو مظبوط باندھ لو قید پھر یا احسان کیجیو اور یا معاوضہ لیجئیو جب تک کہ رکھ دے لڑائی اپنے ہتھیار۔ یہ سن چکے اور اگر چاہے اللہ تو بدلہ لے ان سے پر جانچنا چاہتا ہے تمہارے ایک سے دوسرے کو اور جو لوگ مارے گئے اللہ کی راہ میں تو نہ ضائع کرے گا وہ ان کے کئے کام
تو (اے مسلمانو ! ) جب تمہاری مڈ بھیڑ ہو کافروں سے تو ان کی گردنیں مارنا ہے یہاں تک کہ جب تم انہیں اچھی طرح سے ُ کچل دو تب انہیں مضبوطی کے ساتھ باندھو پھر اس کے بعد (تم انہیں چھوڑ سکتے ہو) احسان کر کے یا فدیہ لے کر یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے یہ ہے (اس بارے میں حکم) اور اگر اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے بدلہ لے لیتا لیکن اللہ آزماتا ہے تمہارے بعض لوگوں کو بعض دوسروں کے ذریعے سے } اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوگئے تو اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔
When you meet the unbelievers (in battle), smite their necks until you have crushed them, then bind your captives firmly; thereafter (you are entitled to) set them free, either by an act of grace, or against ransom, until the war ends. That is for you to do. If Allah had so willed, He would have Himself exacted retribution from them. (But He did not do so) that He may test some of you by means of others. As for those who are slain in the way of Allah, He shall never let their works go to waste.
پس جب ان کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے ، یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو ، اس کے بعد ( تمہیں اختیار ہے ) احسان کرو یا فدیے کا معاملہ کرلو ، تا آنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے8 ۔ یہ ہے تمہارے کرنے کا کام ۔ اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے نمٹ لیتا ، مگر ( یہ طریقہ اس نے اس لیے اختیار کیا ہے ) تاکہ تم لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ سے آزماۓ9 ۔ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں گے اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گا 10 ۔
اور جب ان لوگوں سے تمہارا مقابلہ ہو جنہوں نے کفر اختیار کر رکھا ہے ، تو گردنیں مارو ، یہاں تک کہ جب تم ان کی طاقت کچل چکے ہو ، تو مضبوطی سے گرفتار کرلو ، پھر چاہے احسان کر کے چھوڑ دو ، یا فدیہ لے کر ( ٢ ) یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار پھینک کر ختم ہوجائے ۔ ( ٣ ) تمہیں تو یہی حکم ہے اور اگر اللہ چاہتا تو خود ان سے انتقام لے لیتا ، لیکن ( تمہیں یہ حکم اس لیے دیا ہے ) تاکہ تمہارا ایک دوسرے کے ذریعے امتحان لے ۔ ( ٤ ) اور جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوئے ، اللہ ان کے اعمال کو ہرگز اکارت نہیں کرے گا ۔ ( ٥ )
تو مسلمانو جب تم لڑائی میں کافروں سے بھڑ جائو ان کی گردنیں اڑا دیئے 1 بےتامل ان کو قتل کرو جب خوب ان کو قتل کر چکو ان کا زور بالکل ٹوٹ جائے تو اب ان کی مشکیں کس لو 2 ان کو قید کرلو اس کے بعد یا احسان رکھ کر مفت چھوڑ دو کچھ بدلے لے کر 3 یہاں تک کہ لڑائی موقوف ہو دشمن ہتھیار رکھ دیں 4 یہ ہمارا حکم ہے اور اگر اللہ چاہتا ہے بغیر تمہارے لڑے کافروں سے بدلہ نے لیتا مگر اس کو یہ منظور ہے کہ تم کو ایک دوسرے سے لڑا کر جانچے 5 اور جو لوگ اللہ کی راہ میں جہاد میں مارے گئے ان کے نیک کام اللہ ہرگز اکارت نہیں کرنیکا 6
پس جب تمہارا کافروں سے مقابلہ ہو تو (ان کی) گردنیں مارو یہاں تک کہ جب ان کو خوب قتل کرچکو (جو گرفتار ہوں انہیں) مضبوطی سے قید کرلو۔ پھر اس کے بعد یا تو احسان کرکے (چھوڑ دو ) اور یا معاوضہ لے کر ، یہاں تک کہ لڑائی (فریق مقابل) اپنے ہتھیار پھینک دے۔ یہ (حکم) ہے اور اگر اللہ چاہتے تو (اور طرح) ان سے انتقام لے لیتے و لیکن تاکہ تم میں سے ایک کو دوسرے کے ذریعہ سے (مقابلہ کروا کے) آزمائے۔ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوجاتے ہیں تو وہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ فرمائیں گے
پھر جب تمہارا کفار سے مقابلہ ہوجائے تو ان کی گردنیں مارو۔ یہاں تک کہ جب تم خوب قتل کر چکو تو پھر ان کو مضبوط باندھ لو۔ پھر اس کے بعد یا تو احسان کر کے یا فدیہ لے کر چھوڑ دو یہاں تک کہ لڑنے والے اپنے ہتھیار نہ رکھ دیں ۔ یہ اللہ کا حکم ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو کافروں سے انتقام لے لیتا ۔ لیکن اس نے تمہیں جہاد کا حکم دیا ہے تاکہ وہ تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ آزمائے اور جو لوگ اللہ کے راستے میں مارے جاتے ہیں تو اللہ ان کے اعمال ہر گز ضائع نہ کرے گا ۔
جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اُڑا دو۔ یہاں تک کہ جب ان کو خوب قتل کرچکو تو (جو زندہ پکڑے جائیں ان کو) مضبوطی سے قید کرلو۔ پھر اس کے بعد یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا چاہیئے یا کچھ مال لے کر یہاں تک کہ (فریق مقابل) لڑائی (کے) ہتھیار (ہاتھ سے) رکھ دے۔ (یہ حکم یاد رکھو) اور اگر خدا چاہتا تو (اور طرح) ان سے انتقام لے لیتا۔ لیکن اس نے چاہا کہ تمہاری آزمائش ایک (کو) دوسرے سے (لڑوا کر) کرے۔ اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کے عملوں کو ہرگز ضائع نہ کرے گا
Now when ye meet those who disbelieve, smite their necks until when ye have slain them greatly, then make fast the bonds; then, thereafter let them off either freely or by ransom, until the war layeth down the burthens thereof. That ye shall do. And had Allah willed, He would have vindicated Himself against them, but He ordained fighting in order that He may prove you one by the other. And those who are slain in the way of Allah, He shall not send their works astray.
سو جب تمہارے مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو (ان کی) گردنیں مار چلو یہاں تک کہ جب ان کی خوب خونریزی کرچکو تو خوب مضبوط باندھ لو ۔ پھر اس کے بعد یا محض احسان رکھ کر (چھوڑ دو ) یا معاوضہ لے کر (چھوڑ دو ) تاآنکہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے (یہ حکم) اسی طرح ہے ۔ اور اگر اللہ کی مشیت ہوئی تو ان سے انتقام لے لیتا لیکن (حکم اس لئے دیا) تاکہ تم میں سے ایک کا دوسرے کے ذریعہ سے امتحان کرے ۔ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گا ۔
پس جب ان کافروں سے تمہارے مقابلہ کی نوبت آئے تو ان کی گردنیں اڑاؤ ، یہاں تک کہ جب ان کو اچھی طرح چور کردو تو ان کو مضبوط باندھ لو ، پھر یا تو احسان کرکے چھوڑنا ہے یا فدیہ لے کر ، یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے ۔ یہ ہے ( کام تمہارے کرنے کا! ) اور اگر اللہ چاہتا تو وہ خود ہی ان سے انتقام لے لیتا لیکن ( اس نے تم کو یہ حکم اس لئے دیا ) کہ ایک کو دوسرے سے آزمائے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ، اللہ ان کے اعمال ہرگز رائیگاں نہیں کرے گا ۔
پس جس وقت تمہاری کافروں سے مدبھیڑ ( دوبدو لڑائی ) ہو تو ( ان کی ) گردنیں مارو ، یہاں تک کہ جب تم انہیں اچھی طرح ( قتل کرکے ) مغلوب کرچکے تو یا تو اس کے بعد احسان کے طور پر ( چھوڑدینا ہے ) یا فدیہ لے کر ( چھوڑدینا ) یہاں تک کہ جب جنگ اپنے ہتھیار رکھ دے ( ختم ہوجائے ) یہ ( تمہارے لیے حکم ) اور اگر اللہ ( تعالیٰ ) چاہتے تو البتہ ان سے خود بدلہ لے لیتے اور لیکن ( تمہیں جنگ کرنے کا حکم دیا ) تاکہ وہ تم میں سے بعض کے ذریعے بعض ( دوسروں ) کی آزمائش کریں اور وہ لوگ جو اللہ ( تعالیٰ ) کے راستے میں قتل کردیے گئے تو اللہ ( تعالیٰ ) ان کے اعمال کو ہرگز ہرگز ضائع نہیں فرمائیں گے ۔
جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اڑا دو یہاں تک کہ جب ان کو خوب قتل کر چکو تو جو زندہ پکڑے جائیں ان کو مضبوطی سے قید کرلو پھر اس کے بعد یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا چاہیے یا کچھ مال لے کر۔ یہاں تک کہ دشمن ہتھیار ڈال دے یہ حکم یاد رکھو اور اگر اللہ چاہتا تو اور طرح ان سے انتقام لے لیتا لیکن اس نے چاہا کہ تمہاری آزمائش ایک سے دوسروں کو لڑوا کر کرے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ان کے عملوں کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔
پس جب کفار سے تمہارا مقابلہ ہو تو تم ان کی گردنیں مارو یہاں تک کہ جب تم ان کو کچل کر رکھ دو تو پھر مضبوط باندھ لو (قیدیوں کو) پھر اس کے بعد (تمہاری مرضی) یا تو تم احسان کر کے ان کو یونہی چھوڑ دو یا فدیہ لے لو یہاں تک کہ لڑائی ڈال دے اپنے ہتھیار یہ ہے تمہارے کرنے کا کام اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی نبٹ لیتا مگر (اس نے جہاد فرض کیا) تاکہ وہ تم لوگوں کو آزمائے ایک دوسرے کے ذریعے اور جو لوگ مارے گئے اللہ کی راہ میں تو اللہ کبھی ضائع نہیں فرمائے گا ان کے اعمال کو
( مسلمانو ) جب تمہاری کافروں سے مڈ بھیڑہوجائے توان کی گردنیں اڑادویہاں تک کہ جب بے دریغ قتل کر چکوتوباقی ماندہ ( قیدیوں ) کواچھی طرح باندھو ، پھراس کے بعدیاتوان پر احسان کرو یا فدیہ لے کر چھوڑ دویہاں تک کہ وہ لڑائی میں اپنے ہتھیارڈال دیں یہی اللہ کا ( حکم ) ہے اور اگر اللہ چاہتاتوخودبھی ان سے سے انتقام لے لیتامگر ( اس نے چاہا ) کہ تمہیں ایک دوسرے سے آزمائے اورجو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا
تو جب کافروں سے تمہارا سامناہو ( ف۸ ) تو گردنیں مارنا ہے ( ف۹ ) یہاں تک کہ جب انہیں خوب قتل کرلو ( ف۱۰ ) تو مضبوط باندھو ، پھر اس کے بعد چاہے احسان کرکے چھوڑ دو چاہے فدیہ لے لو ( ف۱۱ ) یہاں تک کہ لڑائی اپنابوجھ رکھ دے ( ف۱۲ ) بات یہ ہے اور اللہ چاہتا تو آپ ہی ان سے بدلہ لیتا ( ف۱۳ ) مگر اس لئے ( ف۱٤ ) تم میں ایک کو دوسرے سے جانچے ( ف۱۵ ) اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے اللہ ہرگز ان کے عمل ضائع نہ فرمائے گا ( ف۱٦ )
پھر جب ( میدان جنگ میں ) تمہارا مقابلہ ( متحارب ) کافروں سے ہو تو ( دورانِ جنگ ) ان کی گردنیں اڑا دو ، یہاں تک کہ جب تم انہیں ( جنگی معرکہ میں ) خوب قتل کر چکو تو ( بقیہ قیدیوں کو ) مضبوطی سے باندھ لو ، پھر اس کے بعد یا تو ( انہیں ) ( بلامعاوضہ ) احسان کر کے ( چھوڑ دو ) یا فدیہ ( یعنی معاوضہِء رہائی ) لے کر ( آزاد کر دو ) یہاں تک کہ جنگ ( کرنے والی مخالف فوج ) اپنے ہتھیار رکھ دے ( یعنی صلح و امن کا اعلان کر دے ) ۔ یہی ( حکم ) ہے ، اور اگر اﷲ چاہتا تو ان سے ( بغیر جنگ ) انتقام لے لیتا مگر ( اس نے ایسا نہیں کیا ) تاکہ تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائے ، اور جو لوگ اﷲ کی راہ میں قتل کر دیئے گئے تو وہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گا
پس جب کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہوجائے تو ان کی گردنیں اڑاؤ ۔ یہاں تک کہ جب خوب خون ریزی کر چکو ( خوب قتل کر لو ) تو پھر ان کو مضبوط باندھ لو اس کے بعد ( تمہیں اختیار ہے ) یا تو احسان کرو ( رہا کردو ) یا فدیہلے لو یہاں تک کہ جنگ میں اپنے ہتھیار ڈال دے ( یہ حکم ) اسی طرح ہے اور اگر خدا چاہتا تو خود ہی ان سے انتقاملے لیتا لیکن وہ تم لوگوں کے بعض کو بعض سے آزمانا چاہتا ہے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہو گئے تو اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا ۔
Therefore, when ye meet the Unbelievers (in fight), smite at their necks; At length, when ye have thoroughly subdued them, bind a bond firmly (on them): thereafter (is the time for) either generosity or ransom: Until the war lays down its burdens. Thus (are ye commanded): but if it had been Allah's Will, He could certainly have exacted retribution from them (Himself); but (He lets you fight) in order to test you, some with others. But those who are slain in the Way of Allah,- He will never let their deeds be lost.
If you encounter the disbelievers in a battle, strike-off their heads. Take them as captives when they are defeated. Then you may set them free as a favor to them, with or without a ransom, when the battle is over. This is the Law. Had God wanted, He could have granted them (unbelievers) victory, but He wants to test you through each other. The deeds of those who are killed for the cause of God will never be without virtuous results.
So, when you meet those who disbelieve (in battle), smite (their) necks until you have fully defeated them, then tighten their bonds. Thereafter (is the time) either for generosity or ransom, until the war lays down its burden. Thus, and had Allah so willed, He could have taken vengeance against them;--but (He lets you struggle) so as to test with one another. But those who are killed in the way of Allah, He will never let their deeds be lost.
So when you meet in battle those who disbelieve, then smite the necks until when you have overcome them, then make (them) prisoners, and afterwards either set them free as a favor or let them ransom (themselves) until the war terminates. That (shall be so); and if Allah had pleased He would certainly have exacted what is due from them, but that He may try some of you by means of others; and (as for) those who are slain in the way of Allah, He will by no means allow their deeds to perish.
Now when ye meet in battle those who disbelieve, then it is smiting of the necks until, when ye have routed them, then making fast of bonds; and afterward either grace or ransom till the war lay down its burdens. That (is the ordinance). And if Allah willed He could have punished them (without you) but (thus it is ordained) that He may try some of you by means of others. And those who are slain in the way of Allah, He rendereth not their actions vain.
अतः जब इनकार करने वालों से तुम्हारी मुठभेड़ हो तो (उनकी) गरदनें मारना है, यहाँ तक कि जब उन्हें अच्छी तरह कुचल दो तो बन्धनों में जकड़ो, फिर बाद में या तो एहसान करो या फ़िदया (अर्थ-दंड) का मामला करो, यहाँ तक कि युद्ध अपने बोझ उतारकर रख दे। यह भली-भाँति समझ लो, यदि अल्लाह चाहे तो स्वयं उन से निपट ले। किन्तु (उस ने यह आदेश इसलिए दिया) ताकि तुम्हारी एक-दूसरे की परीक्षा ले। और जो लोग अल्लाह के मार्ग में मारे जाते हैं उन के कर्म वह कदापि अकारथ न करेगा
سو تمہارا جب کفار سے مقابلہ ہوجائے تو انکی گردنیں مارو (4) ․یہاں تک کہ جب تم انکی خوب خونریزی کرچکو تو خوب مضبوط باندھ لو پھر اسکے بعد یا تو بلامعاوضہ چھوڑ دینا اور یا معاوضہ لے کر چھوڑ دینا جب تک کہ لڑنے والے اپنے ہتھیار نہ رکھ دیں (5) یہ (حکم جہاد کا جو مذکور ہوا بجالانا) اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے انتقام لے لیتا لیکن تاکہ تم میں ایک کا دوسرے کے ذریعے سے امتحان کرے (6) اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں (اللہ) ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گا۔
پس جب کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو ان کی گردنیں مارنا ہے، یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تو قیدیوں کو مضبوطی سے باندھ لو، اس کے بعد احسان کرو یا فدیے کا معاملہ کرلو یہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔ تمہیں یہ کرنا چاہیے۔ اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے نمٹ لیتا مگر یہ طریقہ اس نے اس لیے اختیار کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ سے آزمائے، اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں گے اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گا
پس جب ان کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارتا ہے ، یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو ، اس کے بعد (تمہیں اختیار ہے) احسان کرو یا فدیے کا معاملہ کرلو ، تا آنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔ یہ ہے تمہارے کرنے کا کا۔ اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے نمٹ لیتا ، مگر ( یہ طریقہ اس نے اس لیے اختیار کیا ہے ) تا کہ تم لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ سے آزمائے۔ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں گے۔ اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گا۔
سو جب کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہوجائے تو ان کی گردنیں مارو یہاں تک کہ جب تم اچھی طرح سے ان کی خوں ریزی کردو تو خوب مضبوط باندھ دو پھر اس کے بعد یا تو بلا معاوضہ چھوڑ دو یا ان کی جانوں کا بدلہ لے کر چھوڑ دو جب تک کہ لڑائی اپنے ہتھیاروں کو نہ رکھ دے، یہ اسی طرح ہے، اور اگر اللہ چاہے تو ان سے انتقام لے لے، اور لیکن تاکہ تم میں بعض کا بعض کے ذریعہ امتحان فرمائے، اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے سو اللہ ہرگز ان کے اعمال ضائع نہ فرمائے گا،
سو جب تم مقابل ہو منکروں کے تو مارو گردنیں یہاں تک کہ جب خوب قتل کر چکو ان کو تو مضبوط باندھ لو قید پھر یا احسان کیجیو اور یا معاوضہ لیجیو جب تک کہ رکھ دے لڑائی اپنے ہتھیار یہ سن چکے اور اگر چاہے اللہ تو بدلہ لے ان سے پر جانچنا چاہتا ہے تمہارے ایک سے دوسرے کو اور جو لوگ مارے گئے اللہ کی راہ میں تو نہ ضائع کرے گا وہ ان کے کیے کام
پھر جب کفار سے تمہارا مقابلہ ہوجائے تو ان کی گردنیں مارو یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب قتل کرچکو تو پھر ان کو قید کرو اور مضبوط بندش باندھو پھر اس قیدوبند کے بعد یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا ہے یا فدیہ لے کر رہا کردینا ہے جب تک کہ لڑائی اپنے ہھیار نہ رکھے دے یہ حکم ہے اور اگر اللہ چاہتا تو ان کافروں سے انتقام لے لیتا لیکن اس نے تم کو جہاد کا حکم دیا تاکہ وہ تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ امتحان کرے اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے خدا ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔