Surat ul Fatah

Surah: 48

Verse: 11

سورة الفتح

سَیَقُوۡلُ لَکَ الۡمُخَلَّفُوۡنَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ شَغَلَتۡنَاۤ اَمۡوَالُنَا وَ اَہۡلُوۡنَا فَاسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ۚ یَقُوۡلُوۡنَ بِاَلۡسِنَتِہِمۡ مَّا لَیۡسَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ قُلۡ فَمَنۡ یَّمۡلِکُ لَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ شَیۡئًا اِنۡ اَرَادَ بِکُمۡ ضَرًّا اَوۡ اَرَادَ بِکُمۡ نَفۡعًا ؕ بَلۡ کَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرًا ﴿۱۱﴾

Those who remained behind of the bedouins will say to you, "Our properties and our families occupied us, so ask forgiveness for us." They say with their tongues what is not within their hearts. Say, "Then who could prevent Allah at all if He intended for you harm or intended for you benefit? Rather, ever is Allah , with what you do, Acquainted.

د یہاتیوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دیئے گئے تھے وہ اب تجھ سے کہیں گے کہ ہم اپنے مال اور بال بچوں میں لگے رہ گئے پس آپ ہمارے لئے مغفرت طلب کیجئے یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے ، آپ جواب دے دیجئے کہ تمہارے لئے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا بھی اختیار کون رکھتا ہے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے تو یا تمہیں کوئی نفع دینا چاہے تو بلکہ تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خوب باخبر ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Fabricated Excuse offered by Those Who lagged behind and did not participate in Al-Hلudaybiyyah; Allah's Warning for Them Allah informs to His Messenger, سَيَقُولُ لَكَ الْمُخَلَّفُونَ مِنَ الاَْعْرَابِ شَغَلَتْنَا أَمْوَالُنَا وَأَهْلُونَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا ... Those of the Bedouins who lagged behind will say to you: "Our possessions and our families occupied us, so ask forgiveness for us." Allah informs His Messenger of the excuses that the Bedouins who lagged behind would offer him, those Bedouins who preferred to remain in their homes and possessions and did not join the Messenger of Allah. They offered an excuse for lagging behind, as that of being busy -- in their homes and with their wealth! They asked the Messenger of Allah to invoke Allah to forgive them, not because they had faith in the Prophet and his invocation, but to show off and pretend. This is why Allah the Exalted said about them, ... يَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ قُلْ فَمَن يَمْلِكُ لَكُم مِّنَ اللَّهِ شَيْيًا إِنْ أَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا ... They say with their tongues what is not in their hearts. Say: "Who then has any power at all (to intervene) on your behalf with Allah, if He intends you hurt or intends you benefit?" Allah says, none can resist what Allah has decided in your case, all praise and honor belong to Him. Allah is the Knower of your secrets and what your hearts conceal, even if you pretend and choose to be hypocritical with us. This is why Allah the Exalted said, ... بَلْ كَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا Nay, but Allah is Ever All-Aware of what you do. then He said,

مجاہدین کی کامیاب واپسی جو اعراب لوگ جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ کر موت کے ڈر کے مارے گھر سے نہ نکلتے تھے اور جانتے تھے کہ کفر کی زبردست طاقت ہمیں چکنا چور کر دے گی اور جو اتنی بڑی جماعت سے ٹکر لینے گئے ہیں یہ تباہ ہو جائیں گے بال بچوں کو ترس جائیں گے اور وہیں کاٹ ڈالے جائیں گے جب انہوں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے پاکباز مجاہدین کی جماعت کے ہنسی خوشی واپس آرہے ہیں تو اپنے دل میں مسودے گانٹھنے لگے کہ اپنی مشیخت بنی رہے یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو پہلے ہی سے خبردار کر دیا کہ یہ بد باطن لوگ آکر اپنے ضمیر کے خلاف اپنی زبان کو حرکت دیں گے اور عذر پیش کریں گے کہ حضور بال بچوں اور کام کاج کی وجہ سے نکل نہ سکے ورنہ ہم تو ہر طرح تابع فرمان ہیں ہماری جان تک حاضر ہے اپنی مزید ایمان داری کے اظہار کے لئے یہ بھی کہہ دیں گے کہ حضرت آپ ہمارے لئے استغفار کیجئے ۔ تو آپ انہیں جواب دے دینا کہ تمہارا معاملہ سپرد اللہ ہے وہ دلوں کے بھید سے واقف ہے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچائے تو کون ہے جو اسے دفع کر سکے ؟ اور اگر وہ تمہیں نفع دینا چاہے تو کون ہے جو اسے روک سکے ؟ تصنع اور بناوٹ سے تمہاری ایمانداری اور نفاق سے وہ بخوبی آگاہ ہے ایک ایک عمل سے وہ باخبر ہے اس پر کوئی چیز مخفی نہیں دراصل تمہارا پیچھے رہ جانا کسی عذر کے باعث نہ تھا بلکہ بطور نافرمانی کے ہی تھا ۔ صاف طور پر تمہارا نفاق اس کے باعث تھا تمہارے دل ایمان سے خالی ہیں اللہ پر بھروسہ نہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں بھلائی کا یقین نہیں اس وجہ سے تمہاری جانیں تم پر گراں ہیں تم اپنی نسبت تو کیا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بھی یہی خیال کرتے تھے کہ یہ قتل کر دئیے جائیں گے ان کی بھوسی اڑا دی جائے گی ان میں سے ایک بھی نہ بچ سکے گا جو ان کی خبر تو لا کر دے ، ان بدخیالیوں نے تمہیں نامرد بنا رکھا تھا تم دراصل برباد شدہ لوگ ہو کہا گیا ہے کہ ( بورا ) لغت عمان ہے جو شخص اپنا عمل خالص نہ کرے اپنا عقیدہ مضبوط نہ بنا لے اسے اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ میں عذاب کرے گا گو دنیا میں وہ بہ خلاف اپنے باطن کے ظاہر کرتے رہے پھر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے ملک اپنی شہنشاہی اور اپنے اختیارات کا بیان فرماتا ہے کہ مالک و متصرف وہی ہے بخشش اور عذاب پر قادر وہ ہے لیکن ہے غفور اور رحیم جو بھی اس کی طرف جھکے وہ اس کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور جو اس کا در کھٹکٹھائے وہ اس کے لئے اپنا دروازہ کھول دیتا ہے خواہ کتنے ہی گناہ کئے ہوں جب توبہ کرے اللہ قبول فرما لیتا ہے اور گناہ بخش دیتا ہے بلکہ رحم اور مہربانی سے پیش آتا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

11۔ 1 اس سے مدینے کے اطراف میں آباد قبیلے غفار مزینہ جہینہ اسلم اور وئل مراد ہیں جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خواب دیکھنے کے بعد جس کی تفصیل آگے آئے گی عمرے کے لیے مکہ جانے کی عام منادی کرا دی مذکورہ قبیلوں نے سوچا کہ موجودہ حالات تو مکہ جانے کے لیے ساز گار نہیں ہیں وہاں ابھی کافروں کا غلبہ ہے اور مسلمان کمزور ہیں نیز مسلمان عمرے کے لیے پورے طور پر ہتھیار بند ہو کر بھی نہیں جاسکتے اگر ایسے میں کافروں نے مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کا فیصلہ کرلیا تو مسلمان خالی ہاتھ ان کا مقابلہ کس طرح کریں گے اس وقت مکہ جانے کا مطلب اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے چناچہ یہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عمرے کے لیے نہیں گئے اللہ تعالیٰ ان کی بابت فرما رہا ہے کہ یہ تجھ سے مشغو لیتوں کا عذر پیش کر کے طلب مغفرت کی التجائیں کریں گے۔ 11۔ 2 یعنی زبانوں پر تو یہ ہے کہ ہمارے پیچھے ہمارے گھروں کی اور بیوی بچوں کی نگرانی کرنے والا کوئی نہیں تھا اس لیے ہمیں خود ہی رکنا پڑا لیکن حقیقت میں ان کا پیچھے رہنا نفاق اور اندیشہ موت کی وجہ سے تھا 11۔ 3 یعنی اگر اللہ تمہارے مال ضائع کرنے اور تمہارے اہل کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کرلے تو کیا تم سے کوئی اختیار رکھتا ہے کہ وہ اللہ کو ایسا نہ کرنے دے۔ 11۔ 4 یعنی تمہیں مدد پہنچانا اور تمہیں غنیمت سے نوازنا چاہے تو کوئی روک سکتا ہے یہ دراصل مذکورہ متخلفین پیچھے رہ جانے والوں کا رد ہے جنہوں نے یہ گمان کرلیا تھا کہ وہ اگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہیں گئے تو نقصان سے محفوظ اور منافع سے بہرہ ور ہوں گے حالانکہ نفع وضرر کا سارا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ 11۔ 5 یعنی تمہیں تمہارے عملوں کی پوری جزا دے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١] منافق کن وجو کی بناء پر صلح حدیبیہ کے سفر میں ساتھ نہیں گئے تھے :۔ جب آپ نے عمرہ کا ارادہ کیا تو مدینہ اور آس پاس کی بستیوں میں اس کا باقاعدہ اعلان کرایا گیا تھا کہ جو شخص عمرہ کرنے کے لئے آپ کے ہمراہ جانا چاہتا ہو وہ مدینہ پہنچ جائے۔ مگر آس پاس کی بستیوں کے کچھ قبائل مثلاً غفار، مزنیہ، جہینہ، اسلم اور اشجع کے لوگوں نے آپ کے ہمراہ جانے سے گریز کیا یہ لوگ دراصل منافق تھے اور اپنے خیال میں کسی بھلے وقت کے منتظر رہنے والوں میں سے تھے، وہ سمجھتے تھے کہ قریش مکہ تو مکہ سے یہاں آکر مسلمانوں کے بہت سے افراد کو میدان احد میں قتل کر گئے تھے اب یہ مختصر سی جمعیت جو خود اپنے جانی دشمنوں کے گھر پہنچ رہی ہے وہ لوگ بھلا انہیں زندہ واپس آنے دیں گے۔ اسی خیال سے انہوں نے اس غزوہ سے عدم شمولیت میں ہی اپنی عافیت سمجھی تھی۔ [١٢] جب آپ حدیبیہ سے واپس مدینہ تشریف لا رہے تھے تو اس وقت یہ سورة نازل ہوئی اور اللہ نے آپ کو منافقوں کے خبث باطن اور آئندہ کردار سے بھی مطلع کردیا کہ یہ لوگ طرح طرح کے بہانے اور عذر پیش کریں گے کہ ہم فلاں مجبوری کی وجہ سے آپ کے ساتھ نہ جاسکے۔ لہذا آپ اللہ سے ہمارے لئے دعا فرمائیے کہ وہ ہمارا یہ قصور معاف فرمائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کا آپ کو استغفار کے لئے کہنا بھی ایک فریب ہے اور وہ آپ کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ انہیں آپ کے ساتھ نہ جانے کا واقعی بہت افسوس ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ وہ اپنی اس حرکت کو اپنا قصور سمجھتے ہیں، نہ انہیں کچھ افسوس ہے اور نہ ہی وہ اپنے لئے دعائے استغفار کی ضرورت سمجھتے ہیں۔ یہ سب کچھ ان کا زبانی جمع خرچ ہے جس سے وہ آپ کو مطمئن رکھنا چاہتے ہیں۔ [١٣] یعنی اے منافقو ! تم نے اس غزوہ سے عدم شمولیت میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ پھر اگر اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے گھروں میں موت سے دو چار کر دے یا اور کوئی مصیبت تم پر ڈال دے تو اس سے تمہیں کوئی بچا سکتا ہے یا تم خود اسے روک سکتے تھے ؟ یا مثلاً تم اس سفر پر رسول کے ساتھ چلے جاتے اور اللہ تمہارے اہل و عیال کو کوئی فائدہ پہنچانا چاہے یا اس سفر میں بھی فائدہ پہنچا دے تو کیا اسے کوئی روک سکتا ہے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) سیقول لک المخلقون من الاعراب : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب عمرہ کے لئے جانے کا ارادہ فرمایا تو مدینہ کے اردگرد کے اعراب کو ساتھ چلنے کے لئے کہا، تاکہ اہل مکہ مسلمانوں کی تعداد دیکھ کر انہیں عمرہ سے نہ روکیں، مگر ان میں سے اکثر لوگ جان بوجھ کر پیچھے رہ گئے۔ یہ لوگ اگرچہ منافق نہیں تھے مگر ابھی تک ایمان ان کے دلوں میں پوری طرح جاگزیں نہیں ہوا تھا۔ اس کی دلیل آگے آنے والی آیات (قل للملخفین من الاعراب…“ ہیں۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مظفر و منصور واپس روانہ ہوئے تو ان لوگوں نے اپنے دلوں میں عذر بہانے تیار کئے جو وہ آپ کی آمد پر آپ کے سامنے پیش کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہلے ہی راستے میں ان کے بہانوں کی اطلاع دے دی جو وہ پیش کرنے والے تھے اور ان کے پیچھے رہنے کا حقیقی سبب بھی بتادیا۔ یہ قرآن مجید کے معجزات میں سے ہے کہ اس نے وہ بات پہلے ہی بتادی جو بعد میں ہونے والی تھی۔ (٢) ” المخلفون “ کا لفظی معنی ” پیچھے چھوڑ دیئے جانے والے “ ہے، جبکہ یہ لوگ جان بوجھ کر خود پیچھے رہے تھے، تو بظاہر ان کے لئے لفظ ” متحلفون “ (پیچھے رہنے والے) استعمال ہونا چاہیے تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ” الملخفون “ کا لفظ استعمال فرمایا۔ یعنی ان کی بدنیتی اور شامت اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں ساتھ جانے کی توفیق ہی نہیں دی، بلکہ انہیں پیچھے چھوڑ دیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آدمی کا نیک اعمال سے محروم رہنا اللہ تعالیٰ کے ناراض ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کے اعمال بد کی وجہ سے نیک اعمال کی توفیق سلب کرلیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنگ تبوک کے مخلفین کے متعلق فرمایا :(ولو ارادوا الخروج لا عدوا لہ عدۃ ولکن کرہ اللہ ابعاثھم فثبطھم و قیل اقعدوا مع القعدین) (التوبۃ : ٣٦)” اور اگر وہ نکلنے کا ارادہ رکھتے تو اس کے لئے کچھ سامان ضرور تیار کرتے اور لیکن اللہ نے ان کا اٹھنا نپاسند کیا تو انہیں روک دیا اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔ “ مزید دیکھیے سورة توبہ (٨١) ۔ (٣) شغلتنا اموالنا واھلونا فاستغفرلنا : یعنی یہ اعراب کہیں گے کہ ہمارے مال مویشی اور بیوی بچے ہمارے آپ کے ساتھ چلنے کی راہ میں رکاوٹ بن گئے، کیونکہ ان یک دیکھ بھال اور حفاظت کرنے والا کوئی نہ تھا، اس لئے ہماری اس کوتاہی پر آپ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ ہمیں معاف فرما دے۔ (٤) یقولون بالسنتھم مالیس فی قلوبھم : یعنی یہ لوگ تمہارے مدینہ پہنچنے پر اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہیں گے جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں۔ مال مویشیا ور الہ و عیال کی رکاوٹ ان کا جھوٹا بہانہ ہے۔ اسی طرح ان کا استغفار کے لئے کہنا محض بناوٹ ہے، ورنہ گناہ کا ایسا ہی احساس ہوتا تو ساتھ کیوں نہ جاتے۔ ان کے نہ جانے کا اصل سبب اللہ علام الغیوب نے اگلی آیت میں بیان فرمایا ہے۔ (٥) قل فمن یملک لکم من اللہ شیئاً …: یہ ان کی دونوں باتوں کا جواب ہے، فرمایا تم جو اپنے کہنے کے مطابق اپنے مال و اہل کی دیکھ بھال اور حفاظت کی وجہ سے ساتھ نہیں گئے، بتاؤ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے اور تمہارے جہاد سے پیچھے رہنے پر گھر میں موجود ہونے کے باوجود تمہارے اموال اور گھر والوں کو تباہ و برباد کر دے تو تمہیں اس سے کون بچا سکتا ہے ؟ یا اگر وہ تمہیں کوئی فائدہ پہنچانا چاہے اور تمہارے جہاد پر جانے کے باوجود تمہارے اموال اور گھر والوں کی حافظت کرے اور ان میں برکت اور اضافہ فرما دے تو کون اسے روک سکتا ہے ؟ جب نفع و نقصان کو کوئی روک نہیں سکتا تو اللہ اور سا کے رسول کے حکم کے مقابلے میں ان چیزوں کی پروا کیوں کرتے ہو ؟ اور تم نے جو استغفار کے لئے کہا ہے، اگر تم فی الواقع اپنے کئے پر نادم ہو اور اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کرنا چاہیے تو کون اسے روک سکتا ہے ؟ پھر اگر میں تمہارے لئے استغفار نہ بھی کروں تو تمہارا کچھ نقصان نہیں اور اگر تم نادم نہیں ہو، صرف بناوٹ کے طور پر استغفار کے لئے کہہ رہے ہو تو اس صورت میں اگر میں تمہارے لئے استغافر کر بھی دوں اور اللہ تعالیٰ تمہیں معاف نہ کرنا چاہیے، بلکہ سزا دینا چاہے تو کون اسے روک سکتا ہے ؟ (٦) بل کان اللہ بما تعملون خبیراً : یعنی بات وہ نہیں جو تم نے سمجھ رکھی ہے کہ ہم زبان سے جو کچھ کہہ دیں گے مان لیا جائے گا اور ہمارے دل کا حال چھپا رہے گا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف موجود وقت ہی میں نہیں بلکہ ہمیشہ سے ان تمام اعمال سے پورا باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ ہمیشگی کا مفہم ” کان “ ادا کر رہا ہے۔ مفسر طبری کے الفاظ ہیں :” بل لم یزل اللہ بما یعملون من خیر و شر خبیراً “” بلکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان کے تمام اچھے اور برے اعمال کی پوری خبر رکھنے والا رہا ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Related Considerations Reference in this passage is to those Bedouin tribes who were invited by Allah&s Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to join the party of 1400 Muslims who were marching to Hudaibiyah but on one pretext or another, they requested to be excused. This was narrated in part [ 1] of the story of Hudaibiyah. According to some versions, some of those people later repented and became sincere Muslims.

خلاصہ تفسیر جو دیہاتی (اس سفر حدیبیہ سے) پیچھے رہ گئے (شریک سفر نہیں ہوئے) وہ عنقریب (جب کہ آپ مدینہ پہنچیں گے) آپ سے (بات بنانے کے طور پر) کہیں گے کہ (ہم جو آپ کے ساتھ شریک نہیں ہوئے وجہ اس کی یہ ہوئی کہ) ہم کو ہمارے مال اور عیال نے فرصت نہ لینے دی (یعنی ان کی ضروریات میں مشغول رہے) تو ہمارے لئے (اس کوتاہی کی) معافی کی دعا کر دیجئے (آگے حق تعالیٰ ان کی تکذیب فرماتے ہیں کہ) یہ لوگ اپنی زبان سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں (آگے آپ کو تلقین ہے کہ یہ لوگ جب آپ سے یہ عذر پیش کریں تو) آپ کہہ دیجئے کہ (اول تو یہ عذرا گر سچا بھی ہوتا تو بمقابلہ اللہ و رسول کے حکم قطعی کے محض عذر لنگ اور باطل ہوتا) سو (ہم پوچھتے ہیں کہ) وہ کون ہے جو خدا کے سامنے تمہارے لئے (نفع و نقصان میں) کسی چیز کا اختیار رکھتا ہو اگر اللہ تعالیٰ تم کو کوئی نقصان یا کوئی نفع پہنچانا چاہے (یعنی تمہاری ذات یا تمہارے مال اور عیال میں جو نفع یا نقصان تقدیر الٰہی میں مقدر ہوچکا ہے اس کے خلاف کرنے کا کسی کو اختیار نہیں البتہ شریعت اسلام نے بہت سے مواقع پر اس طرح کے خطرات کا عذر قبول کر کے رخصت دے دی ہے بشرطیکہ وہ عذر واقعی ہو اور جہاں شریعت نے اس عذر کو قبول نہیں کیا اور رخصت نہیں دی بلکہ حکم قطعی کردیا جیسا کہ مسئلہ زیر بحث میں ہے کہ سفر حدیبیہ کے لئے اللہ و رسول نے گھر بار کے مشاغل کو قابل قبول عذر قرار نہیں دیا اگرچہ وہ واقعی ہو۔ دوسرے یہ عذر جو تم کر رہے ہو واقعی اور سچا بھی نہیں جیسا کہ آگے آتا ہے اور تم سمجھتے ہو گے کہ مجھ کو اس جھوٹ کی خبر نہیں ہوئی) بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ ( نے جو کہ) تمہارے سب اعمال پر مطلع ہے (مجھ کو بذریعہ وحی اطلاع کردی ہے کہ تمہاری غیر حاضری کی وجہ وہ نہیں جو تم بیان کر رہے ہو) بلکہ (اصل وجہ یہ ہے کہ) تم نے یہ سمجھا کہ رسول اور مومنین اپنے گھر والوں میں کبھی لوٹ کر نہ آویں گے (بلکہ مشرکین سب کی صفائی کردیں گے) اور یہ بات تمہارے دلوں میں اچھی بھی معلوم ہوتی تھی (بوجہ اللہ و رسول کی عداوت کے تمہاری دلی تمنا بھی تھی) اور تم نے برے برے گمان کئے اور تم (ان برے گمانوں کی وجہ سے جو کہ خیالات کفریہ ہیں) برباد ہونے والے لوگ ہوگئے اور (اگر ان وعیدوں کو سن کر تم اب بھی دل سے ایمان لے آؤ تو خیر ورنہ) جو شخص اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان نہ لاوے گا تو ہم نے کافروں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے اور (مومن و غیر مومن کے لئے مذکورہ قانون مقرر کرنے سے تعجب نہ کیا جائے کیونکہ) تمام آسمان و زمین کی سلطنت اللہ ہی کی ہے وہ جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے سزا دے اور (کافر اگرچہ مستحق عذاب ہوتا ہے لیکن) اللہ تعالیٰ بڑا غفور و رحیم ہے (کہ وہ بھی سچے دل سے ایمان لے آویں تو ان کو بھی بخش دیتا ہے ) معارف و مسائل یہ مضمون جو اوپر مذکور ہوا ان اعراب کے متعلق ہے جن کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سفر حدیبیہ میں ساتھ چلنے کا حکم کیا تھا مگر انہوں نے بہانہ بازی سے کام لیا جس کا بیان قصہ حدیبیہ کے جزو اول میں ہوچکا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں بعض حضرات بعد میں تائب اور مخلص ہوگئے تھے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

سَيَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَآ اَمْوَالُنَا وَاَہْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا۝ ٠ ۚ يَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِہِمْ مَّا لَيْسَ فِيْ قُلُوْبِہِمْ۝ ٠ ۭ قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللہِ شَـيْـــــًٔا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا۝ ٠ ۭ بَلْ كَانَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا۝ ١١ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ خلف پیچھے رہنا وخَلَّفْتُهُ : تركته خلفي، قال فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلافَ رَسُولِ اللَّهِ [ التوبة/ 81] ، أي : مخالفین، وَعَلَى الثَّلاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا[ التوبة/ 118] ، قُلْ لِلْمُخَلَّفِينَ [ الفتح/ 16] ، والخالِفُ : المتأخّر لنقصان أو قصور کالمتخلف، قال : فَاقْعُدُوا مَعَ الْخالِفِينَ [ التوبة/ 83] ، والخَالِفةُ : عمود الخیمة المتأخّر، ويكنّى بها عن المرأة لتخلّفها عن المرتحلین، وجمعها خَوَالِف، قال : رَضُوا بِأَنْ يَكُونُوا مَعَ الْخَوالِفِ [ التوبة/ 87] ، ووجدت الحيّ خَلُوفاً ، أي : تخلّفت نساؤهم عن رجالهم، والخلف : حدّ الفأس الذي يكون إلى جهة الخلف، وما تخلّف من الأضلاع إلى ما يلي البطن، والخِلَافُ : شجر كأنّه سمّي بذلک لأنّه فيما يظنّ به، أو لأنّه يخلف مخبره منظره، ويقال للجمل بعد بزوله : مخلف عام، ومخلف عامین . وقال عمر رضي اللہ عنه : ( لولا الخِلِّيفَى لأذّنت) أي : الخلافة، وهو مصدر خلف . قرآن میں ہے : ۔ فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلافَ رَسُولِ اللَّهِ [ التوبة/ 81] جو لوگ ( غزوہ تبوک ) میں پیچھے رہ گئے وہ پیغمبر خدا کی ( مرضی ) کے خلاف بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے ۔ یعنی پیغمبر خدا کے مخالف ہوکر ۔ وَعَلَى الثَّلاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا[ التوبة/ 118] اور ان تینوں پر بھی جن کا معاملہ ملتوی کیا کیا تھا ۔ قُلْ لِلْمُخَلَّفِينَ [ الفتح/ 16] پیچھے رہ گئے تھے ان سے کہدو ۔ الخالف ۔ نقصان یا کوتاہی کی وجہ سے پیچھے رہنے ولا اور یہی متخلف کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَاقْعُدُوا مَعَ الْخالِفِينَ [ التوبة/ 83] پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو ۔ الخالفۃ خیمے کا پچھلا ستون بطور کنا یہ اس سے مراد عورت لی جاتی ہے کیونکہ یہ مجاہدین سے پیچھے رہ جاتی ہیں ۔ اس کی جمع خوالف ہے قرآن میں ہے : ۔ رَضُوا بِأَنْ يَكُونُوا مَعَ الْخَوالِفِ [ التوبة/ 87] یہ اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں ( گھروں میں ) بیٹھ رہیں ۔ یعنی مرد گئے ہوئے ہیں صرف عورتیں موجود ہیں ۔ الخلف ( ایضا ) کلہاڑی کی دھار ۔ پہلو کی سب سے چھوٹی پسلی جو پیٹ کے جانب سب سے آخری ہوتی ہے ۔ الخلاف بید کی قسم کا ایک درخت کیونکہ وہ امید کے خلاف اگتا ہے یا اس کا باطن ظاہر کے خلاف ہوتا ہے : نہ سالگی یک یا دو سال گذستہ باشد ۔ الخلیفی ۔ خلافت ۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ کا قول ہے اگر بار خلافت نہ ہوتا تو میں خود ہی اذان دیا کرتا ( اذان کی فضیلت کی طرف اشارہ ہے ) عرب ( اعرابي) العَرَبُ : وُلْدُ إسماعیلَ ، والأَعْرَابُ جمعه في الأصل، وصار ذلک اسما لسكّان البادية . قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا [ الحجرات/ 14] ، الْأَعْرابُ أَشَدُّ كُفْراً وَنِفاقاً [ التوبة/ 97] ، وَمِنَ الْأَعْرابِ مَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ [ التوبة/ 99] ، وقیل في جمع الأَعْرَابِ : أَعَارِيبُ ، قال الشاعر : أَعَارِيبُ ذو و فخر بإفك ... وألسنة لطاف في المقال والأَعْرَابِيُّ في التّعارف صار اسما للمنسوبین إلى سكّان البادية، والعَرَبِيُّ : المفصح، والإِعْرَابُ : البیانُ. يقال : أَعْرَبَ عن نفسه . وفي الحدیث : «الثّيّب تُعْرِبُ عن نفسها» أي : تبيّن . وإِعْرَابُ الکلامِ : إيضاح فصاحته، وخصّ الإِعْرَابُ في تعارف النّحويّين بالحرکات والسّکنات المتعاقبة علی أواخر الکلم، ( ع ر ب ) العرب حضرت اسمعیل کی اولاد کو کہتے ہیں الاعراب دراصل یہ عرب کی جمع ہے مگر یہ لفظ بادیہ نشین لوگون کے ساتھ مختص ہوچکا ہے قرآن پاک میں ہے : ۔ قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا [ الحجرات/ 14] بادیہ نشین نے آکر کہا ہم ایمان لے آئے ۔ الْأَعْرابُ أَشَدُّ كُفْراً وَنِفاقاً [ التوبة/ 97] دیہاتی لوگ سخت کافر اور سخت منافق ہیں ۔ وَمِنَ الْأَعْرابِ مَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ [ التوبة/ 99] اور بعض نہ دیہاتی ایسے ہیں کہ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ اعراب کی جمع اعاریب آتی ہے کسی شاعر نے کہا ہے ( 3011 ) اعاریب ذو و فخر بافک والسنۃ لطاف فی المقابل اعرابی جو جھوٹے فخر کے مدعی ہیں اور گفتگو میں نرم زبان رکھتے ہیں ۔ الاعرابی : یہ اعراب کا مفرد ہے اور عرف میں بادیہ نشین پر بولا جاتا ہے العربی فصیح وضاحت سے بیان کرنے والا الاعراب کسی بات کو واضح کردینا ۔ اعرب عن نفسہ : اس نے بات کو وضاحت سے بیان کردیا حدیث میں ہے الثیب تعرب عن نفسھا : کہ شب اپنے دل کی بات صاف صاف بیان کرسکتی ہے ۔ اعراب الکلام کلام کی فصاحت کو واضح کرنا علمائے نحو کی اصطلاح میں اعراب کا لفظ ان حرکاتوسکنات پر بولا جاتا ہے جو کلموں کے آخر میں یکے بعد دیگرے ( حسب عوامل ) بدلتے رہتے ہیں ۔ شغل الشَّغْلُ والشُّغْلُ : العارض الذي يذهل الإنسان . قال عزّ وجلّ : إِنَّ أَصْحابَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِي شُغُلٍ فاكِهُونَ [يس/ 55] ، وقرئ : وقد شُغِلَ فهو مَشْغُولٌ ، ولا يقال : أَشْغَلَ وشُغُلٌ شَاغِلٌ. ( ش غ ل ) الشغل والشغل ۔ ا یسی مصروفیت جس کی وجہ سے انسان دوسرے کاموں کی طرف توجہ نہ دے سکے قرآن میں ہے َ فِي شُغُلٍ فاكِهُونَ [يس/ 55] عیش ونشاط کے مشغلے میں ہوں گے ۔ ایک قرات میں شغل ہے یہ شغل فھو مشغول ( باب مجرد ) سے آتا ہے اور اشغل استعمال نہیں ہوتا شغل شاغل مصروف رکھنے والا کام ۔ ميل المَيْلُ : العدول عن الوسط إلى أَحَد الجانبین، والمَالُ سُمِّي بذلک لکونه مائِلًا أبدا وزَائلا، ( م ی ل ) المیل اس کے معنی وسط سے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں اور المال کو مال اس لئے کہا جاتا ہے ۔ کہ وہ ہمیشہ مائل اور زائل ہوتا رہتا ہے ۔ أهل أهل الرجل : من يجمعه وإياهم نسب أو دين، أو ما يجري مجراهما من صناعة وبیت وبلد، وأهل الرجل في الأصل : من يجمعه وإياهم مسکن واحد، ثم تجوّز به فقیل : أهل الرجل لمن يجمعه وإياهم نسب، وتعورف في أسرة النبيّ عليه الصلاة والسلام مطلقا إذا قيل : أهل البیت لقوله عزّ وجلّ : إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ [ الأحزاب/ 33] ( ا ھ ل ) اھل الرجل ۔ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اس کے ہم نسب یا ہم دین ہوں اور یا کسی صنعت یامکان میں شریک ہوں یا ایک شہر میں رہتے ہوں اصل میں اھل الرجل تو وہ ہیں جو کسی کے ساتھ ایک مسکن میں رہتے ہوں پھر مجازا آدمی کے قریبی رشتہ داروں پر اہل بیت الرجل کا لفظ بولا جانے لگا ہے اور عرف میں اہل البیت کا لفظ خاص کر آنحضرت کے خاندان پر بولا جانے لگا ہے کیونکہ قرآن میں ہے :۔ { إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ } ( سورة الأحزاب 33) اسے پیغمبر گے اہل بیت خدا چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی ( کا میل کچیل ) دور کردے ۔ استغفار الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، والاسْتِغْفَارُ : طلب ذلک بالمقال والفعال، وقوله : اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اور استغفار کے معنی قول اور عمل سے مغفرت طلب کرنے کے ہیں لہذا آیت کریمہ : ۔ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ بڑا معاف کر نیوالا ہے ۔ لسن اللِّسَانُ : الجارحة وقوّتها، وقوله : وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسانِي [ طه/ 27] يعني به من قوّة لسانه، فإنّ العقدة لم تکن في الجارحة، وإنما کانت في قوّته التي هي النّطق به، ويقال : لكلّ قوم لِسَانٌ ولِسِنٌ بکسر اللام، أي : لغة . قال تعالی: فَإِنَّما يَسَّرْناهُ بِلِسانِكَ [ الدخان/ 58] ، وقال : بِلِسانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ [ الشعراء/ 195] ، وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] فاختلاف الْأَلْسِنَةِ إشارة إلى اختلاف اللّغات، وإلى اختلاف النّغمات، فإنّ لكلّ إنسان نغمة مخصوصة يميّزها السّمع، كما أنّ له صورة مخصوصة يميّزها البصر . ( ل س ن ) اللسان ۔ زبان اور قوت گویائی کو کہتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسانِي [ طه/ 27] اور میری زبان کی گرہ گھول دے ۔ یہاں لسان کے معنی قلت قوت گویائی کے ہیں کیونکہ وہ بندش ان کی زبان پر نہیں تھی بلکہ قوت گویائی سے عقدہ کشائی کا سوال تھا ۔ محاورہ ہے : یعنی ہر قوم را لغت دلہجہ جدا است ۔ قرآن میں ہے : فَإِنَّما يَسَّرْناهُ بِلِسانِكَ [ الدخان/ 58]( اے پیغمبر ) ہم نے یہ قرآن تمہاری زبان میں آسان نازل کیا ۔ بِلِسانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ [ الشعراء/ 195] فصیح عربی زبان میں ۔ اور آیت کریمہ : وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] اور تمہاری زبانوں اور نگوں کا اختلاف ۔ میں السنہ سے اصوات اور لہجوں کا اختلاف مراد ہے ۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس طرح دیکھنے میں ایک شخص کی صورت دوسرے سے نہیں ملتی اسی طرح قوت سامعہ ایک لہجہ کو دوسرے سے الگ کرلیتی ہے ۔ قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔ ملك ( مالک) فالمُلْك ضبط الشیء المتصرّف فيه بالحکم، والمِلْكُ کالجنس للمُلْكِ ، فكلّ مُلْك مِلْك، ولیس کلّ مِلْك مُلْكا . قال : قُلِ اللَّهُمَّ مالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] ، وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً وَلا يَمْلِكُونَ مَوْتاً وَلا حَياةً وَلا نُشُوراً [ الفرقان/ 3] ، وقال : أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [يونس/ 31] ، قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا[ الأعراف/ 188] وفي غيرها من الآیات ملک کے معنی زیر تصرف چیز پر بذیعہ حکم کنٹرول کرنے کے ہیں اور ملک بمنزلہ جنس کے ہیں لہذا ہر ملک کو ملک تو کہہ سکتے ہیں لیکن ہر ملک ملک نہیں کہہ سکتے قرآن میں ہے : ۔ وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً وَلا يَمْلِكُونَ مَوْتاً وَلا حَياةً وَلا نُشُوراً [ الفرقان/ 3] اور نہ نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے اور نہ جینا اور نہ مر کر اٹھ کھڑے ہونا ۔ اور فرمایا : ۔ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [يونس/ 31] یا تمہارے کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا[ الأعراف/ 188] کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ اختیار نہیں رکھتا علی بذلقیاس بہت سی آیات ہیں شيء الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم . ( ش ی ء ) الشئی بعض کے نزدیک شی وہ ہوتی ہے جس کا علم ہوسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے اور اس کے متعلق خبر دی جا سکے اور اکثر متکلمین کے نزدیک یہ اسم مشترکہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے ماسواپر بھی بولا جاتا ہے ۔ اور موجود ات اور معدہ سب کو شے کہہ دیتے ہیں ، رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔ ضر الضُّرُّ : سوءُ الحال، إمّا في نفسه لقلّة العلم والفضل والعفّة، وإمّا في بدنه لعدم جارحة ونقص، وإمّا في حالة ظاهرة من قلّة مال وجاه، وقوله : فَكَشَفْنا ما بِهِ مِنْ ضُرٍّ [ الأنبیاء/ 84] ، فهو محتمل لثلاثتها، ( ض ر ر) الضر کے معنی بدحالی کے ہیں خواہ اس کا تعلق انسان کے نفس سے ہو جیسے علم وفضل اور عفت کی کمی اور خواہ بدن سے ہو جیسے کسی عضو کا ناقص ہونا یا قلت مال وجاہ کے سبب ظاہری حالت کا برا ہونا ۔ اور آیت کریمہ : فَكَشَفْنا ما بِهِ مِنْ ضُرٍّ [ الأنبیاء/ 84] اور جوان کو تکلیف تھی وہ دورکردی ۔ میں لفظ ضر سے تینوں معنی مراد ہوسکتے ہیں نفع النَّفْعُ : ما يُسْتَعَانُ به في الوُصُولِ إلى الخَيْرَاتِ ، وما يُتَوَصَّلُ به إلى الخَيْرِ فهو خَيْرٌ ، فَالنَّفْعُ خَيْرٌ ، وضِدُّهُ الضُّرُّ. قال تعالی: وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] ( ن ف ع ) النفع ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے خیرات تک رسائی کے لئے استعانت حاصل کی جائے یا وسیلہ بنایا جائے پس نفع خیر کا نام ہے اور اس کی ضد ضر ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے خبیر والخَبِيرُ : الأكّار فيه، والخبر : المزادة العظیمة، وشبّهت بها النّاقة فسمّيت خبرا، وقوله تعالی: وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِما تَعْمَلُونَ [ آل عمران/ 153] ، أي : عالم بأخبار أعمالکم، ( خ ب ر ) الخبر کسان کو ِِ ، ، خبیر ، ، کہاجاتا ہے ۔ الخبر۔ چھوٹا توشہ دان ۔ تشبیہ کے طور پر زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی کو بھی خبر کہاجاتا ہے اور آیت کریمہ :۔ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِما تَعْمَلُونَ [ آل عمران/ 153] اور جو کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی حقیقت کو جانتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

بنی غفار، اسلم اشجع، ودیل اور مزینہ و جہینہ کے لوگ جو غزوہ حدیبیہ سے پیچھے رہ گئے وہ عنقریب آپ سے کہیں گے کہ ہمیں ہمارے مال و عیال نے آپ کے ساتھ چلنے کے لیے فرصت نہ لینے دی ہمیں ان کے ضائع ہونے کا ڈر ہوا اس وجہ سے ہم آپ کے ساتھ نہ چلے سکے تو ہمارے لیے اس غلطی کی معافی کے لیے دعا کردیجیے۔ یہ لوگ صرف اپنی زبانوں سے طلب مغفرت کے لیے کہہ رہے ہیں ان کے دلوں میں یہ چیز موجود نہیں خواہ آپ ان کے لیے دعا کریں یا نہ کریں۔ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ وہ کون ہے جو عذاب الہی کے سامنے تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار رکھتا ہو اگر وہ تمہیں قتل و غارت کرنا چاہے یا کہ تمہیں فتح و نصرت اور عافیت دینا چاہیے بلکہ حق تعالیٰ تمہارے حدیبیہ سے پیچھے رہنے کی حقیقی وجہ سے باخبر ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

دوسرے رکوع کی یہ آیات صلح حدیبیہ کے بعد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے واپسی کے سفر کے دوران نازل ہوئیں ‘ بالکل اسی طرح جس طرح غزوئہ تبوک سے واپسی پر سورة التوبہ کی کچھ آیات نازل ہوئی تھیں۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت کے تحت بعد میں نازل ہونے والی ان آیات کو پہلے سے جاری سلسلہ کلام کو منقطع کر کے یہاں پر رکھا گیا ہے۔ آیات کے تسلسل میں تقدیم و تاخیر کا بالکل یہی انداز اس سے پہلے ہم سورة التوبہ کے آغاز میں بھی دیکھ چکے ہیں۔ چناچہ ان آیات کے مطالعہ سے پہلے یہ بات نوٹ کر لیجیے کہ پہلے رکوع کا مضمون یہاں پر منقطع ہو رہا ہے اور اس مضمون کا تسلسل اب تیسرے رکوع کے مضمون کے ساتھ جا کر ملے گا۔ آیت ١١ { سَیَقُوْلُ لَکَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ } ” عنقریب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہیں گے وہ لوگ جو پیچھے رہ جانے والے تھے دیہاتیوں میں سے “ گویا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ پہنچتے ہی اردگرد کے قبائل سے بادیہ نشین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ آکر عذر پیش کریں گے کہ : { شَغَلَتْنَآ اَمْوَالُنَا وَاَہْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا } ” ہمیں مشغول رکھا ہمارے اموال اور اہل و عیال (کی دیکھ بھال ) نے ‘ چناچہ آپ ہمارے لیے استغفار کیجیے۔ “ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام مسلمانوں پر عمرے کے لیے نکلنا لازم قرار نہیں دیا تھا۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلانِ عام کروایا تھا کہ جو کوئی عمرے کے لیے جاسکتا ہے ضرور چلے۔ بہر حال جو لوگ استطاعت کے باوجود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہیں گئے تھے یہ ان کی منافقت کا ذکر ہے کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اپنی نام نہاد مصروفیات کے بہانے بنائیں گے۔ { یَـقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِہِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ } ” یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ کچھ کہہ رہے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ “ { قُلْ فَمَنْ یَّمْلِکُ لَـکُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِکُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِکُمْ نَفْعًا } ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان سے) کہیے کہ کون ہے جو کچھ اختیار رکھتا ہو تمہارے بارے میں اللہ کی طرف سے کچھ بھی اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانے کا ارادہ کرے یا تمہیں نفع پہنچانے کا ارادہ کرے ؟ “ اللہ تعالیٰ کا تمہارے بارے میں نفع یا نقصان کا جو بھی ارادہ ہو وہ تمہاری کسی تدبیر سے تبدیل نہیں ہوسکتا۔ اپنے گھروں میں رہ کر تم لوگ اللہ کی تقدیر کو نہیں بدل سکتے تھے۔ تمہارے گھروں میں اگر کوئی خیر آنا تھی تو وہ تمہاری عدم موجودگی میں بھی آسکتی تھی اور اگر کوئی شر تمہارے مقدر میں لکھا تھا تو وہ تمہاری موجودگی میں بھی آسکتا تھا۔ لہٰذا ہمارے ساتھ نہ جانے کے جواز میں تمہارے سب دلائل بےمعنی اور فضول ہیں۔ { بَلْ کَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا } ” بلکہ جو کچھ تم کرتے رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ “ اب وہ بات بتائی جا رہی ہے جو اصل میں ان کے دلوں میں تھی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

20 This refers to the people living in the suburbs of Madinah whom the Holy Prophet had invited to accompany him in his march out for `Umrah, but they had not left their homes in spite of their claim to Faith just because they were afraid of death. Traditions show that these were the people of the tribes of Aslam, Muzainah, Juhainah, Ghifar, Ashja`, Dil and others. 21 This has two meanings: (1) "That after your returning to Madinah the excuse that these people will present for not going out with you, would only be a lame excuse, because they know in their hearts why they had stayed behind"; and (2) °that their imploring the Messenger of Allah for a prayer of forgiveness would only be an empty word of mouth, for in fact, they are neither feeling remorse for their failure to accompany you, nor have they any feeling that they committed a sin by not going out with the Messenger, nor are ,they seeking forgiveness sincerely. As for thetttselves they think that they did a wise thing by not going on the dangerous journey; had they any desire for Allah and His forgiveness, they would not have stayed behind at home. " 22 That is, "Allah's decision will be on the basis of the knowledge that He has about the reality of your actions. If your actions deserve the punishment and I pray for your forgiveness, my this prayer will not save you from Allah's punishment; and if your actions do not deserve the punishment, and I do not pray for your forgiveness, my failure to pray will not do any harm to you. Everything is in Allah's control, not mine, and no one's empty words can deceive Him. Therefore, even if I accept as true what you say and then also pray for your forgiveness on its basis, it will be vain and without result. "

سورة الْفَتْح حاشیہ نمبر :20 یہ اطراف مدینہ کے ان لوگوں کا ذکر ہے جنہیں عمرے کی تیاری شروع کرتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ساتھ چلنے کی دعوت دی تھی ، مگر وہ ایمان کا دعوی رکھنے کے باوجود صرف اس لیے اپنے گھروں سے نہ نکلے تھے کہ انہیں اپنی جان عزیز تھی ۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اَسلم ، مُزَینہ ، جُہَینہ ، غِفار ، اَشْجع ، دِیل وغیرہ قبائل کے لوگ تھے ۔ سورة الْفَتْح حاشیہ نمبر :21 اس کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ تمہارے مدینہ پہنچنے کے بعد یہ لوگ اپنے نہ نکلنے کے لیے جو عذر اب پیش کریں گے وہ محض ایک جھوٹا بہانہ ہوگا ، ورنہ ان کے دل جانتے ہیں کہ وہ دراصل کیوں بیٹھ رہے تھے ۔ دوسرے یہ کہ ان کا اللہ کے رسول سے دعائے مغفرت کی درخواست کرنا محض زبانی جمع خرچ ہوگا ۔ اصل میں وہ نہ اپنی اس حرکت پر نادم ہیں ، نہ انہیں یہ احساس ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہ دے کر کسی گناہ کا ارتکاب کیا ہے ، اور نہ ان کے دل میں مغفرت کی کوئی طلب ہے ۔ اپنے نزدیک تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اس خطرناک سفر پر نہ جا کر بڑی عقلمندی کی ہے ۔ اگر انہیں واقعی اللہ اور اس کی مغفرت کی کوئی پروا ہوتی تو وہ گھر بیٹھے ہی کیوں رہتے ۔ سورة الْفَتْح حاشیہ نمبر :22 یعنی اللہ کا فیصلہ تو اس علم کی بنا پر ہوگا جو وہ تمہارے عمل کی حقیقت کے متعلق رکھتا ہے ۔ اگر تمہارا عمل سزا کا مستحق ہو اور میں تمہارے لیے مغفرت کی دعا کر دوں تو میری یہ دعا تمہیں اللہ کی سزا سے نہ بچا دے گی ۔ اور اگر تمہارا عمل سزا کا مستحق نہ ہو اور میں تمہارے حق میں استغفار نہ کروں تو میرا استغفار نہ کرنا تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچا دے گا ۔ اختیار میرا نہیں بلکہ اللہ کا ہے ، اور اس کو کسی کی زبانی باتیں دھوکا نہیں دے سکتیں ۔ اس لیے تمہارے ظاہری قول کو میں سچ مان بھی لوں اور اس بنا پر تمہارے حق میں دعائے مغفرت بھی کر دوں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

7: حدیبیہ کے سفر میں جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم عمرے کے ارادے سے روانہ ہوئے تو تمام مخلص صحابہ کرامؓ تو خود ہی بڑے شوق کے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہوگئے تھے، لیکن چونکہ یہ اندیشہ شروع ہی سے تھا کہ شاید قریش کے کافر لوگ راستہ روکیں، اور لڑالی کی نوبت آجائے، اس لئے آپ نے ایک بڑی جمعیت کے ساتھ سفر کرنے کی غرض سے مدینہ منوَّرہ کے آس پاس کے دیہات میں بھی یہ اعلان فرمادیا تھا کہ وہاں کے لوگ بھی ساتھ چلیں۔ اِن میں سے جو حضرات مخلص مسلمان تھے، وہ تو آپ کے ساتھ آگئے، لیکن ان میں سے جو لوگ منافق تھے، اُنہوں نے یہ سوچا کہ جنگ کی صورت میں ہمیں لڑائی میں حصہ لینا پڑے گا، اس لئے مختلف بہانے کرکے رک گئے، اِس آیت میں ’’پیچھے رہنے والوں‘‘ سے وہی منافق مراد ہیں، اور فرمایا جارہا ہے کہ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مدینہ منوَّرہ واپس پہنچیں گے تو یہ لوگ یہ بہانہ کریں گے کہ ہم اپنے گھر بار کی مصروفیت کی وجہ سے آپ کے ساتھ نہیں جاسکے تھے۔ 8: یعنی تم تو یہ سوچ کر اپنے گھروں میں رک گئے تھے کہ گھر میں رہنا فائدہ مند ہے، اور حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ جانے میں نقصان ہے، حالانکہ فائدہ اور نقصان تو تمام تر اﷲ تعالیٰ کے قبضے میں ہے، وہ نفع یا نقصان پہنچانے کا ارادہ فرمالے تو کسی کی مجال نہیں ہے کہ اسے روک سکے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١١۔ ١٦۔ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرہ کی نیت سے مکہ کا ارادہ کیا تو جو لوگ ظاہر میں طرح طرح کے عذر کرکے اس سفر میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہیں گئے تھے اور اصل میں ان کے دل میں یہ ڈر تھا کہ قریش سے لڑائی ہوگی اور مفت مارے جائیں گے اب صلح حدیبیہ کے بعد آنحضرت کے مدینہ واپس ہوتے وقت راستہ میں جب یہ سورة نازل ہوئی اور ان لوگوں کے منصوبے اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں ظاہر فرما کر ان لوگوں کو رسوا اور فضیحت کیا اور جو لوگ آنحضرت کے ساتھ حدیبیہ کو گئے تھے ان کو فتح خیبر اور غنیمت کے مال کی خوش خبری دی تو آنحضرت کے مدینہ میں تشریف لانے اور اس سورة کی آیتیں سننے کے بعد کچھ اپنی رسوائی رفع کرنے کی غرض سے اور کچھ غنیمت کے مال کے لالچ سے اس حدیبیہ کے سفر میں نہ جانے والوں نے یہ چاہا کہ وہ بھی خیبر کی لڑائی میں آنحضرت کے ساتھ جائیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ یہ لوگ کلام الٰہی کو بدلنا چاہتے ہیں پہلے اس سورة کی آیتوں میں یہ قرار پا چکا ہے کہ خیبر کی لڑائی میں فقط وہی لوگ جائیں گے جو حدیبیہ کے سفر میں اللہ کے رسول کے ساتھ تھے یہی تفسیر ان آیتوں کی صحیح ١ ؎ ہے۔ تفسیر ابن زید ٢ ؎ وغیرہ میں کلام الٰہی سے سورة برات کی آیت جو مراد لی ہے اس تفسیر پر حافظ ابو جعفر (رض) ابن جریر اور مفسرین نے یہ اعتراض کیا ہے کہ وہ قصہ جنگ تبوک کا ہے اور جنگ تبوک فتح خیبر اور فتح مکہ سے بعد ہے پھر یہ مابعد کا قصہ ماقبل کی آیت کی تفسیر کیونکر قرار پاسکتا ہے یہ بھی فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ عذر کہ ان کے گھر میں بال بچوں کو سنبھالنے والا کوئی نہیں تھا اس مجبوری سے یہ لوگ حدیبیہ کے سفر میں گئے یہ عذر بالکل جھوٹا ہے کیونکہ اگر یہ عذر سچا ہوتا تو یہ لوگ لوٹ کے مال لالچ سے خیبر کے لئے کس طرح تیار ہوگئے۔ یہ بھی فرمایا اے رسول اللہ کے ان لوگوں سے کہہ دیا جائے کہ آسمان و زمین میں سب جگہ اللہ ہی کی حکومت ہے حدیبیہ کے سفر سے بچ کر تم اس کی حکومت سے باہر نہیں ہوسکتے جب تم گھر میں بیٹھے ہو اس وقت بھی تمہارا نفع و نقصان اس کے اختیار میں ہے لیکن وہ غفور رحیم ہے جلدی سے کسی کو نقصان نہیں پہنچتا ہاں ایسے لوگوں کی سزا اس نے دوزخ کی دہکتی آگ ٹھہرا رکھی ہے ان آیتوں میں یہ جو فرمایا کہ ان ڈرپوک لوگوں کو ایسا ہی لڑنے کا شوق ہے تو آئندہ ان کو ایک سخت لڑائی والی قوم سے لڑنا پڑے گا اگرچہ مفسرین نے اس سخت لڑائی والی قوم کی تفسیر میں بڑا اختلاف کیا ہے لیکن علی (رض) بن طلحہ کی سند سے حضرت عبد اللہ (رض) بن عباس کی جو تفسیر ٣ ؎ ہے۔ اس میں اس قوم سے مراد فارس کے لوگ ہیں جن سے حضرت عمر (علیہ السلام) کے زمانہ اور کچھ حضرت عثمان (علیہ السلام) کے زمانہ میں لڑائی ہوئی یہ تفسیر بہت صحیح ہے کیونکہ علی (رض) بن طلحہ کی سند کی قوت و صحت اوپر بیان ہوچکی ہے آخر کو فرمایا کہ اگر اس فارس کی لڑائی میں ان لوگوں نے پہلو تہی کی تو سخت عذاب میں پکڑے جائیں گے حضرت عمر (علیہ السلام) اور عثمان (علیہ السلام) کے زمانہ میں کثرت سے فتوحات ہوئیں اور اطراف مدینہ کے لوگ اس واسطے ان لڑائیوں میں جانے سے پہلو تہی نہیں کرسکے کہ حضرت عمر (علیہ السلام) کے زمانہ سے تمام لشکر اسلام کے لوگوں کے نام کی فہرست لکھی جانی شروع ہوگئی معتبر سند سے مسند امام ١ ؎۔ احمد اور نسائی میں برائ (رض) بن العازب سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ احزاب کی لڑائی کے وقت مسلمانوں کی تسکین کے لئے فتوحات اسلام کے ذکر میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا کہ ملک شام یمن اور فارس کی کنجیاں مجھ کو مل گئیں ہیں اس حدیث کو آیتوں کی ساتھ ملانے سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ جو ملک صحابہ کے زمانہ میں فتح ہوئے اللہ تعالیٰ نے اس کا حال اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہلے ہی بتا دیا تھا۔ ( ١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ١٨٩ ج ٤۔ ) (٢ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ١٨٩ ج ٤۔ ) (٣ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ١٩٠ ج ٤۔ ) (١ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ١٨٦ ج ٥

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(48:11) سیقول : س مستقبل قریب کے لئے یقول مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ یہاں جمع کے لئے استعمال ہوا ہے۔ یعنی المخلفون کے لئے۔ المخلفون۔ اسم مفعول جمع مذکر تخلیف (تفعیل) مصدر۔ پیچھے رہے ہوئے ۔ الاعراب : گنوار، بدو۔ علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد عرب ہے اور اعراب دراصل اسی کی جمع ہے جو صحرا نشینوں کا قلم قرار پا گیا ہے۔ لیکن مجد الدین فیروزآبادی نے قاموس میں تصریح کی ہے کہ اعراب باد یہ نشین عربوں کو کہتے ہیں اس کا واحد نہیں ہے جمع اعاریب آتی ہے۔ قاضی شوکانی تفسیر فتح القدیر میں سورة براء ۃ میں رقمطراز ہیں :۔ کہ اعراب وہ ہیں جو صحراؤں میں سکونت گزیں ہوں۔ اس کے خلاف عرب کے مفہوم میں وسعت ہے کیونکہ اس کا استعمال ان تمام انسانوں کے لئے عام ہے جو ریگستان کے باشندے ہوں خواہ وہ صحراؤں میں بستے ہوں یا آبادیوں میں رہتے ہوں۔ اہل لغت کا بیان یہی ہے اور اسی بناء پر سیبویہ نے کہا ہے کہ اعراب صیغہ جمع تو ہے مگر لفظ عرب کی جعم کا صیغہ نہیں ہے۔ اہل لغت کا بیان ہے کہ اہل لغت رجل عربی اس شخص کو کہتے ہیں جس کا نسب عرب کی طرف ثابت ہوتا ہے اور جس طرح مجوس مجوسی اور یھود یھودی کی جمع ہے۔ اسی طرف عرب عربی کی جمع ہے جب کسی اعرابی سے یا عربی کہا جاتا ہے ہے تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتا لیکن اگر کسی عربی سے یا اعرابی کہہ دیا جائے تو وہ طیش میں آجاتا ہے ایسا کیوں ؟ کہ جو عرب کے شہروں کے متوطن ہیں وہ عربی ہیں اور جو بادیہ نشین ہوں وہ اعرابی ہیں مہاجرین و انصار چونکہ سب کے سب عرب ہیں اس لئے ان کو اعراب کہنا جائز نہیں۔ (لغات القرآن) ۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد نے فرمایا : اعراب سے مراد قبائل عقار، مزنیہ، جہنیہ، نخعی اور اسلم کے بدوی ہیں جب حدیبیہ کے سال حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ تو قریش سے لڑائی کا ڈر ان کے دلوں میں پیدا ہوگیا کیونکہ ان کے خیال میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی اور مسلمان کمزور تھے (اور ان کی شکست لازم تھی) اس لئے ساتھ جانے سے انہوں نے گریز کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کو ٹال دیا۔ لیکن جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمان صحیح طور پر لوٹ آئے تو انہوں نے ساتھ نہ جانے کی معذرت کرلی۔ شغلتنا اموالنا واہلونا۔ ماضٰ واحد مؤنث غائب۔ شغل (باب فتح) مصدر مصروف و مشغول کرنا۔ دھندے میں لگائے رکھنا۔ مطلب یہ کہ ہمارے مال اور اہل عیال نے ہمیں مشغول رکھا۔ اور ہمیں فرصت نہ دی۔ کیونکہ اور کوئی آدمی ان کی دیکھ بھال کرنے والا گھروں میں موجود نہ تھا۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم ۔ اموالنا مضاف مضاف الیہ۔ ہمارے مال اہلونا مضاف مضاف الیہ ہمارے اہل و عیال ۔ اہلو اصل میں اہلون تھا۔ اہل کی جمع بحالت رفع۔ اضافت کی وجہ سے نون گرگیا۔ استغفرلنا : استغفر امر کا صیغہ مذکر حاضر۔ استغفار (استفعال) مصدر تو معافی مانگ۔ تو بخشش مانگ۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم ۔ ہمارے لئے۔ بالسنتھم : ب حرف جار السنتھم : مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور۔ اپنی زبانوں سے۔ مالیس : ما موصولہ ہے لیس فعل ناقص واحد مذکر غائب ۔ نہیں ہے۔ جو (ان کے دلوں میں) نہیں ہے۔ قل : ای قل یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یعنی اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے کہہ دیجئے۔ من استفہامیہ انکاریہ ہے۔ کون ہے ؟ کوئی ہے ؟ یعنی کوئی نہیں۔ یملک مضارع واحد مذکر غائب۔ ملک (باب ضرب) مصدر سے ۔ وہ اختیار رکھتا ہے۔ ملک کے معنی زیر تصرف چیز پر ہر قسم کا کنٹرول اور ہر قسم کا عمل دخل ہو۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے قل لا املک لنفسی نفعا ولا ضرا (7:188) فرما دیجئے۔ میں اپنے فائدے اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ شیئا۔ کوئی چیز ، کچھ بھی۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ فمن یملک لکم من اللّٰہ شیئا۔ جملہ استفہام انکاری ہے کون ہے جو خدا کے سامنے تمہارے لئے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار رکھتا ہو ؟ یعنی کوئی تمہیں اللہ کی مشیت اور فیصلہ کے مقابلہ میں نہیں بچا سکتا ۔ خواہ وہ فیصلہ تمہارے نفع کا ہو یا نقصان کا۔ یہ جملہ جواب شرط ہے اور شرط سے مقدم زور کلام کے لئے لایا گیا ہے۔ (مثلا ہم کہتے ہیں کہ اگر تم نے یہ کام کیا تو میں تمہاری ٹانگیں توڑدوں گا۔ لیکن اگر مخاطب کو زور دیکر کہنا مقصود ہو تو ہم کہیں گے کہ :۔ میں تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گا اگر تم نے یہ کام کیا تو) ان اراد بکم ضرا۔ اگر وہ تم کو نقصان پہنثانا چاہے (یا کوئی نفع پہنچانا چاہے) یہ جملہ شرط ہے۔ ضرا۔ نقصان۔ ضرر۔ مثلاً قتل۔ شکست۔ مال کی تباہی یا عیال کی ہالکت، یا عذاب آخرت وغیرہ ۔ نفع ۔ مثلاً فتحیابی، مال و دولت میں اضافہ۔ برکت ، اہل و عیال کی خیر و عافیت، آخرت کی سرخروئی۔ وغیرہ۔ بل کان اللّٰہ بما تعلمون خبیرا : بل حرف اضراب ہے۔ ای لیس الامر کما تقولون : بل کان اللّٰہ بما تعملون خبیرا : بات یوں نہیں جس طرح تم کہتے ہو بلکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے (حدیبیہ نہ جانے اور پیچھے رہ جانے میں) تمہارا کیا مقصد تھا۔ (تم اصل میں مکہ والوں کے ڈر کی وجہ سے ان سے مخالفت لینے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔ خبیرا۔ باخبر۔ بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے منصوب بوجہ خبر کان ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 یعنی حدیبیہ کے سفر میں آپ کے ساتھ نہیں گئے۔ یہ مدینہ منورہ کے گرد رہنے والے قبائل … غفار، مزینہ، جھینہ، اسلم اور اشجع وغیرہ … کے لوگ تھے۔ 12 یعنی یہ منافق ہیں اور آپ کو جھوٹا سمجھتے ہیں اس وقت جو آپ سے استغفار کی درخواست کر رہے ہیں۔ یہ ان کی ظاہری ضدی ہے ورنہ حقیقت میں یہ اپنی کسی حرکت پر نادم نہیں ہیں۔ 1 یعنی یہ تمہارا خیال قطعاً غلط ہے کہ تم گھروں میں بیٹھ رہے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائو گے اگر وہ تمہارے گھروں میں عذاب بھیجنا چاہے تو تم بچ نہیں سکتے۔ 2 یعنی وہ جانتا ہے کہ تمہارا گھروں میں بیٹھے رہنا بال بچوں کی نگہداشت اور ان میں شغل کی وجہ سے نہ تھا۔ یہ برا بہانہ ہے۔ درحقیقت تمہارے دلوں میں نفاق بھرا ہوا تھا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ١١ تا ١٧۔ اسرار ومعارف۔ وہ دیہاتی گنوار جو ایمان میں پختہ نہ تھے اور دل اور دل میں دشمنی رکھتے تھے جب آپ نے جانے کا حکم دیا تو پیچھے رہ گئے اب آپ کی واپسی پربہانے کریں گے مال مواشی میں مصروف تھے کوئی بچوں کو دیکھنے والا نہ تھا مجبوری تھی ہم رکاب جا نہ سکے ہماری بخشش کی دعا فرمائیے یہ وہ کچھ کہہ رہے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ دراصل اطاعت کرنا ہی نہ چاہتے تھے اب محض بہانے بنا رہے ہیں ان سے کہیے کہ اگر اللہ تمہارے اموال واولاد کو تباہ کرنا چا ہے تو کون ہے جو تمہاری ڈھال چل جائے گا کہ جب رسول اللہ نے حکم دے دیا تو صرف اطاعت کا راستہ ہے کوئی عذر نہیں ہاں اگر آپ عذر کی اجازت دیں تب بات ہے اور تمہارا تو عذر بھی جھوٹا ہے جس کی حقیقت سے اللہ باخبر ہے اور بذریعہ وحی اپنے نبی کو بھی مطلع فرمادیا ہے کہ تمہاراخیال تو یہ تھا کہ اب رسول اللہ اور صحابہ کرام واپس گھر نہ پہنچ پائیں گے کہ مشرکین مکہ کے ہاتھوں سب شہید ہوں گے اور تم اس بات پر اپنے نفاق کے باعث بہت خوش بھی تھے تم نے ایسے برے برے گمان کر رکھتے تھے کہ تم تھے ہی تباہ ہونے والی قوم۔ بدگمانی نبی سے بدگمانی مانع فیض ہو کر ایمان سے محروم کردیتی ہے ایسے ہی شیخ سے بدگمانی اس کے فیوض سے محروم کردیتی ہے ۔ اعاذنا اللہ منھا۔ اور جو لوگ اللہ پر اس کے رسول پر ایمان نہیں لاتے یا ایمان سے محروم رہتے ہیں ان کے لیے ہم نے دوزخ کو دہکتی ہوئی آگ سے بھر رکھا ہے اب بھی توبہ کرلو چناچہ ان میں بعض کو خلوص نصیب ہوا اور تائب ہوگئے) تو وہ بہت عظیم سلطان ہے آسمانوں اور زمینوں کی سلطنت و حکومت دراصل اسی کی ہے جسے چاہے بخش دے اور اگر چاہے عذاب کرے مگر اس کی بخشش ہر حال میں بہت بڑھی ہوئی ہے وہ رحم کرنے والا ہے اور جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے جب انہوں نے رسول اللہ کے طفیل مسلمانوں پر اللہ کے احسانات کا مشاہدہ کیا تو اب خیبر کو جانے کے لیے تیار ہوگئے رہ جانے والوں میں منافقین تو تھے ہی کچھ مخلص مسلمان بھی تھے جنہوں نے چاہا کہ خیبر میں تو ساتھ دیں کچھ منافقین میں سے بھی خلوص سے نوازے گئے اور جب خیبر کو جانے کا ارادہ ہوا کہ جس کی فتح کی نوید بھی آگے آنے والی آیات میں موجود ہے تو اب یہ لوگ ساتھ دینے کو تیار ہیں کہ ہمیں ساتھ چلنے کی اجازت دی جائے گویا یہ اللہ کے فرمودہ کو جھٹلاناچاہتے ہیں۔ وحی غیر متلو۔ نبی (علیہ السلام) نے فرمایا تھا کہ خیبر میں صرف وہ لوگ جائیں گے جو حدبییہ میں شریک تھے یہاں جب دوسروں نے اجازت طلب کی تو فرمایا کہ کیا یہ اللہ کا فرمان غلط ثابت کرنا چاہتے حالانکہ قرآن میں ایسا کوئی ذکر نہین کہ خیبر میں صرف وہی لوگ جائیں چناچہ علماء کا ارشاد ہے کہ صحیح حدیث بھی وحی الٰہی ہے اگرچہ اس کی تلاوت نہیں کی جاتی وہ قرآن نہیں لیکن اس کا انکار بھی قرآن ہی کے انکار کی طرح کفر ہے یہ منکرین حدیث کے لیے سمجھنے کو بہت بڑی دلیل ہے اور وہ جدیدی طبقہ بھی جو حدیث پاک کو خاص اہمیت دینے کو تیار نہیں سبق حاصل کرسکتا ہے۔ ان سے کہہ دیجئے کہ اب تو تم ساتھ نہ چلو گے کہ اللہ نے یہ بات پہلے ہی کہہ دی ہے (حالانکہ پہلے رسول اللہ نے فرمائی تھی اور آپ ہی کے ارشاد کو قال اللہ کہنا اس کے وحی ہونے کا ثبوت ہے) منافق کہیں گے ہم سے حسد رکھتے ہیں اور یہ لوگ نہیں چاہتے کہ ہم غنیمت حاصل کرسکیں اس لیے ان میں بات کو سمجھنے کی استعداد بہت کم ہے آپ ان سے فرمادیجئے کہ عنقریب دنیا کی بڑی طاقت ورقوموں اور ان کی تربیت یافتہ فوجوں سے مقابلہ حق و باطل برپا ہونے والا ہے۔ ظاہر ہے اسلامی حکومت کا قیام کفر کو کھٹکے گا اور نوبت جہاد کی آئے گی جو بعد میں خلافت راشدہ کے زمانے میں پیش آئے اور مسیلمہ کذاب سے لے کر روم فارس کے معرکے اس کے گواہ ہیں وہ جہاد بڑے شدید ہوں گے اور لوگ مسلمان ہوں گے یا اطاعت قبول کریں گے تب تم لوگ داد شجاعت دینا کہ اگر اطاعت کرو گے اور جہاد کرو گے تو بہت شاندار صلہ پاؤ گے اور اگر پہلے کی طرح بیٹھ رہے اور جہاد سے منہ موڑا تو اللہ تمہیں بہت دردناک عذاب میں مبتلا کریں گے ہاں اگر کوئی معذور ہو جیسے اندھا ہو یا چلنے پھرنے میں دقت ہوتی ہو ویسے بیمار ہو تو اس کے لیے کوئی حرج نہیں کہ جہاد میں شامل نہ ہوسکے مگر خلوص سے تمنا تو رکھتا ہو کہ جو لوگ اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے اللہ انہیں جنت میں داخل فرمائے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہیں اور جو اطاعت سے منہ موڑے گا اسے بہت دردناک عذاب دے گا۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر (11 تا 14 ) ۔ المخلفون (پیچھے رہ جانے والے) ۔ الاعراب (دیہاتی۔ گاؤں والے) ۔ شغلت (مشغول کرلیا) ۔ السنتہ (لسان) (زبانیں) ۔ ضر (نقصان (دینے والا) ۔ لن ینقلب ( ہرگز نہ لوٹے گا) ۔ زین (خوبصورت بنا دیا گیا) ۔ بور (تباہ برباد ہونے والا) ۔ سعیر (دھکتی آگ ۔ جہنم) ۔ تشریح : آیت نمبر (11 تا 14 ) ۔ ” نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ کی نیت سے ڈیڑھ ہزار صحابہ کرام (رض) کے ساتھ مکہ کی طرف تشریف لے گئے۔ اس وقت سب کو معلوم تھا کہ آپ زیارت بیت اللہ کے لئے تشریف لے جارہے ہیں سوائے منافقین کے تقریباً سب ہی صحابہ کرام (رض) عمرہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ منافقین کا یہ خیال تھا کہ اب مسلمان کفار کے گڑھ میں جارہے ہیں وہاں سے سب کا بچ کر آنا ممکن نہیں ہے تو انہوں نے مختلف بہانے تراش کر آپ کے ساتھ مکہ مکرمہ جانے سے اپنے پہلو کو بچا لیا۔ جب صلح حدیبیہ کے ذریعہ اللہ نے مسلمانوں کو زبردست کامیابی عطا فرمادی جس سے نیا بھر میں اللہ کے پیغام کو فروغ حاصل ہوا تو اس وقت مدینہ کے آس پاس کے وہ لوگ جو بھی نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور ان کے دلوں نے ایمان کی پختگی حاصل نہ کی تھی اور ان کی کچھ ہمدردیاں کفار قریش کے ساتھ بھی تھیں آکر طرح طرح کی بہانے بازیاں شروع کردیں۔ کہنے لگے کہ ہماری تو دلی آرزو یہی تھی کہ ہم آپ کے ساتھ جانے کی سعادت حاصل کرتے مگر ہمارے لئے مشکل یہ تھی کہ ہمارے گھر والوں اور گھر کے سامان اور مویشوں کی دیکھ بھال اور حفاظت کرنے والا کوئی نہ تھا اس لئے ہم پیچھے رہ گئے ورنہ ہماری تو دلی خواہش یہی تھی کہ ہم آپ کے ساتھ جاتے۔ ہمیں اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ ہم سے بہت بڑی غلطی ہوگئی۔ ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ اب ہم سے یہ خطا اور قصور تو ہوگیا اب آپ ہمارے لئے اللہ سے مغفرت کی دعا کر دیجئے تاکہ اللہ ہمارہ اس غلطی کو معاف فرمادے۔ فرمایا کہ یہ لوگ جو کچھ زبان سے کہہ رہے ہیں یہ ان کے دلوں کی باتیں نہیں ہیں۔ یہ ہر بات میں نفع اور نقصان کے پہلو کو دیکھتے ہیں حالانکہ کسی کو نفع دینا یا نقصان پہنچانا یہ اللہ کا کام ہے جو انسانوں کی ہر بات سے بہت اچھی طرح واقف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دراصل ان لوگوں کا خیال یہ تھا کہ اب اللہ کے رسول اور اہل ایمان اپنے گھروں کو واپس نہ لوٹیں گے لہٰذا اپنی جانیں کھپانے سے کیا فائدہ یہ خیال ان کے دلوں میں اس طرح جم چکا تھا کہ انہوں نے اللہ کے بارے میں بہت ہی برے گمانوں کو دلوں میں پال رکھا تھا جس نے انہیں برباد کر کے رکھ دیا تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر یقین و ایمان نہیں رکھتے ان کے لئے جہنم کی بھڑ کتی آگ تیار ہے جس سے بچنا ممکن نہیں ہے۔ فرمایا کہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے اس کا مالک صرف ایک اللہ ہی ہے جس کی ہر طرح قدرت ہے وہ جس کو چاہے معاف کر دے اور جس کو چاہے عذاب دے لیکن اللہ اپنے بندوں پر اس قدر مہربان ہے کہ وہ پھر بھی لوگوں کے گناہوں کو معاف کر کے ان پر مہربانیاں فرماتا رہتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ ظاہر ہے کہ کوئی ایسا نہیں پس ثابت ہوا کہ واقع میں کوئی عذر دافع قضا و قدر نہیں، مگر جہاں شریعت نے مصلحت سمجھا بہت سے مواقع پر عذر واقعی کو رخصت کا مدار قرار بھی دے یا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : بیعت رضوان سے پہلے منافقین کی سوچ اور کردار۔ کئی مفسرین نے یہ بات تحریر کی ہے کہ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرہ کی غرض سے جانے سے پہلے مکہ کے گرد و نواح کے قبائل کو پیغام بھیجا کہ ہم فلاں دن عمرہ کی غرض سے مکہ کا سفر کرنے والے ہیں۔ آپ لوگوں کو بھی ہمارا ہمسفر ہونا چاہیے۔ اس اطلاع عام کا مقصد یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سفر میں شرکت کرسکیں تاکہ مکہ والے کسی منفی رد عمل کا اظہار نہ کرپائیں۔ لیکن اکثر قبائل نے یہ سوچ کر شرکت نہ کی کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمان جس سفر پر جا رہے ہیں اس سے کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ جن قبائل نے اس سفر میں شمولیت سے انکار کیا وہ اپنے دل میں بہت خوش تھے کہ ہم نے اپنے آپ کو ہلاکت سے بچا لیا ہے۔ حالانکہ حقیقت میں ان کی بزدلی اور منافقت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں اس عظیم سعادت سے محروم رکھا ہے ان کے لیے ” مُخَلَّفِیْنَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا معنٰی ہے پیچھے چھوڑ دیئے جانے والے۔ یہ لوگ اپنے دلوں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کے بارے میں کئی قسم کے نقصانات کی توقع رکھتے تھے اس سوچ کا سبب یہ تھا کہ یہ لوگ بنیادی طور پر برے اور ہلاکت میں مبتلا ہونے والے تھے۔ ان کی بری سوچ کی بنیاد یہ تھی کہ اہل مکہ اس قدر طاقتور ہیں کہ انہوں نے بدر کا معرکہ مکہ سے تقریباً ساڑھے تین سو کلو میٹر کا سفر کرکے مدینہ کے قریب آکر لڑا۔ اُحد میں انہوں نے مدینہ پہنچ کر جنگ کی اور مسلمانوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا۔ غزوہ خندق کے موقع پر مکہ والوں نے مسلمانوں کو مدینہ میں محصور کردیا اور مسلمانوں نے خندق کھود کر اپنی جانیں پجائیں۔ اس صورت حال کے پیش نظر منافقین اور کمزور ایمان والے دیہادتیوں کا خیال تھا کہ مسلمان خالی ہاتھ مکہ کے شیروں کے منہ میں ہاتھ ڈالنے جارہے ہیں۔ لہٰذا یہ اپنے اہل و عیال میں کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ اس لیے دیہات کے منافقین اور کمزور ایمان والے لوگوں نے یہ کہہ کر معذرت کی کہ ہم اپنے مال مویشی اور اہل و عیال کے غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے اس سفر میں شرکت نہیں کرسکتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست ہے کہ ہماری عدم شرکت پر اللہ سے دعا کریں کہ ہماری اس کمزوری کو اللہ تعالیٰ معاف فرمادے۔ ان کے بہانوں اور منافقت کے بارے میں آپ (علیہ السلام) کو ان الفاظ میں آگاہ کیا گیا کہ یہ لوگ اپنی زبان سے آپ کے سامنے معذرت اور استغفار کی درخواست کرتے ہیں حالانکہ ان کے دلوں میں سفر میں عدم شرکت کے گناہ کا کوئی احساس نہیں ان کی معذرت اور استغفار کی درخواست جھوٹ کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ جہاں تک ان کے اس بہانے کا تعلق ہے کہ ہمارے مال اور اہل و عیال غیر محفوظ ہیں۔ ان کو بتلائیں کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے تو کون ہے جو تمہارے مویشیوں کو موت کے منہ سے بچا سکے گا ؟ اگر تمہارے اہل و عیال پر کوئی مصیبت نازل کرے تو پھر کون انہیں اس مصیبت سے محفوظ رکھ سکتا ہے ؟ اگر وہ تمہاری کھیتیوں اور باغات پر کوئی آفت نازل کر دے تو ان کو ویران ہونے سے کون بچائے گا ؟ یارکھو ! اگر اللہ تعالیٰ تمہیں نفع پہنچانا چاہے تو کوئی تمہیں نقصان نہیں دے سکتا۔ یہ بات بتلانے کے بعد کہ نفع و نقصان صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ بھی بتلا دیا گیا کہ اگر تم اس سفر میں شریک ہوتے تو یقیناً دنیا و آخرت میں نفع پاتے۔ لیکن تم اپنی منافقت اور بزدلی کی وجہ سے عظیم ثواب اور مستقبل کے فائدے سے محروم ہوچکے ہو۔ ہمیشہ یاد رکھو کہ تم جو عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح واقف ہوتا ہے۔ جو لوگ سچے دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتے وہ کافر ہیں اور کفار کے لیے اللہ تعالیٰ نے جلادینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زمینوں اور آسمانوں کی بادشاہت ” اللہ “ کے ہاتھ میں ہے۔ جسے چاہے معاف فرمائے اور جسے چاہے سزا سے دوچار کرے۔ حقیقت یہ ہے اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ یہ فرما کر منافقین کو ایک دفعہ پھر موقع دیا گیا کہ اگر تم سچے دل کے ساتھ تائب ہوجاؤ اور اخلاص کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمادئے گا کیونکہ وہ معاف کرنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔ اگر تم ایسا نہیں کرتے تو تمہیں اذّیت ناک عذاب کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ( یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَہُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ فَزادَہُمُ اللّٰہُ مَرَضًا وَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْن) (البقرۃ : ٩، ١٠) ” وہ اللہ تعالیٰ اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتے ہیں مگر حقیقت میں وہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں اور وہ شعور نہیں رکھتے۔ ان کے دلوں میں بیماری ہے اللہ نے انہیں بیماری میں زیادہ کردیا ہے اور انہیں دردناک عذاب ہوگا کیونکہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ أُوقِدَ عَلَی النَّارِ أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی احْمَرَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی ابْیَضَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی اسْوَدَّتْ فَہِیَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَۃٌ) ( رواہ الترمذی : کتاب صفۃ جہنم، قال البانی ضعیف) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک ہزار سال تک دوزخ کی آگ کو بھڑکا یا گیا یہاں تک کہ وہ سرخ ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال تک جلایا گیا تو وہ سفید ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال جلایا گیا یہاں تک کہ وہ سیاہ ہوگئی اب اس کا رنگ سیاہ ہے۔ “ مسائل ١۔ اسلام اور مسلمانوں پر مشکل کے وقت آئے تو منافق جھوٹے بہانوں کے ذریعے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ٢۔ منافق دنیاوی نفع و نقصان کی بنیاد پر اسلام اور مسلمانوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ ٣۔ منافق ہمیشہ اسلام اور دین کی حمایت میں نقصان اٹھانے سے ڈرتے ہیں۔ ٤۔ منافق ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کے نقصان پر خوش ہوتے ہیں۔ ٥۔ منافق حقیقت میں ہلاکت میں پڑنے والے لوگ ہیں۔ ٦۔ اللہ اور اس کے رسول پر اخلاص کے ساتھ ایمان نہ لانے والے لوگ حقیقت میں کافر ہوتے ہیں اور کفار کے لیے اللہ تعالیٰ نے جلا دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ٧۔ زمینوں اور آسمانوں کی بادشاہی اللہ کے ہاتھ میں ہے جسے چاہے معاف فرمادے اور جسے چاہے عذاب دے۔ ٨۔ اللہ تعالیٰ سچی توبہ کرنے والے کو معاف کردیتا ہے کیونکہ وہ غفور رحیم ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی نفع اور نقصان کا مالک ہے : ١۔ کیا تم اللہ کے سوا دوسروں کو خیر خواہ سمجھتے ہو۔ جو اپنے بھی نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ (الرعد : ١٦) ٢۔ میں انپے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے ؟ (یونس : ٤٩) ٣۔ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں ؟ (المائدۃ : ٧٦) ٤۔ اگر اللہ تمہیں نفع و نقصان میں مبتلا کرنا چاہے تو کون ہے جو اس سے بچاسکے۔ (الفتح : ١١) ٥۔ معبودان باطل اپنی جانوں کے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ (الفرقان : ٣) ٦۔ فرما دیجیے میں اپنے نفع و نقصان کا مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے۔ (الاعراف : ١٨٨) ٧۔ (اے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ فرما دیں کہ مجھے تمہارے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں ہے۔ (الجن : ٢١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سیقول لک المخلفون ۔۔۔۔۔ بما تعملون خبیرا (١١) بل ظننتم ان لن ۔۔۔۔۔۔ قوما بورا (١٢) ومن لم یومن باللہ ۔۔۔۔۔ سعیرا (١٣) وللہ ملک السموت ۔۔۔۔۔ غفورا رحیما (١٤) سیقول المخلفون ۔۔۔۔۔۔ الا قلیلا (١٥) قل للمخلفین من الاعراب ۔۔۔۔۔ عذابا الیما (١٦) (٤٨ : ١١ تا ١٦) “ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدوی عربوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دئیے گئے تھے اب وہ آکر ضرور تم سے کہیں گے کہ “ ہمیں اپنے اموال اور بال بچوں کی فکر نے مشغول کر رکھا تھا ، آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں ”۔ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں۔ ان سے کہنا “ اچھا ، یہی بات ہے تو کون تمہارے معاملہ میں اللہ کے فیصلے کو روک دینے کا کچھ بھی اختیار رکھتا ہے۔ اگر وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا نفع بخشنا چاہے ؟ تمہارے اعمال سے تو اللہ ہی باخبر ہے۔ (مگر اصل بات وہ نہیں ہے جو تم کہہ رہے ہو ) بلکہ تم نے یوں سمجھا کہ رسول اور مومنین اپنے گھر والوں میں ہرگز پلٹ کر نہ آسکیں گے اور یہ خیال تمہارے دلوں کو بہت بھلا لگا اور تم نے بہت برے گمان کئے اور تم سخت بدباطن لوگ ہو۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو لوگ ایمان نہ رکھتے ہوں ایسے کافروں کے لئے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگی مہیا کر رکھی ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک اللہ ہی ہے ، جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے سزا دے ، اور وہ غفور ورحیم ہے۔ جب تم مال غنیمت حاصل کرنے کے لئے جانے لگو تو یہ پیچھے چھوڑے جانے والے لوگ تم سے ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو ۔ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے فرمان کو بدل دیں۔ ان سے صاف کہہ دینا کہ “ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے ، اللہ پہلے ہی یہ فرما چکا ہے ”۔ یہ کہیں گے کہ “ نہیں ، بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کر رہے ہو ”۔ (حالانکہ بات حسد کی نہیں ہے) بلکہ یہ لوگ صحیح بات کو کم ہی سمجھتے ہیں۔ ان پیچھے چھوڑے جانے والے بدوی عربوں سے کہنا کہ “ عنقریب تمہیں ایسے لوگوں سے لڑنے کے لئے بلایا جائے گا جو بڑے زور آور ہیں۔ تم کو ان سے جنگ کرنی ہوگی یا وہ مطیع ہوجائیں گے ۔ اس وقت اگر تم نے حکم جہاد کی اطاعت کی تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا ، اور اگر تم پھر اسی طرح منہ موڑ گئے جس طرح پہلے موڑ چکے ہو تو اللہ تم کو دردناک سزا دے گا ”۔ قرآن کریم نے یہاں صرف ان لوگوں کے اقوال نقل کر کے ان کی تردید پر ہی اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ اس بہترین موقعہ پر ان کی گہری نفسیات کو لیا ہے۔ ان کے دلوں کے اندر اٹھنے والے وساوس اور خیالات کو لیا ہے ۔ اور پھر اس کے لئے علاج تجویز کیا ہے۔ ان کے اندر جو اخلاقی بیماریاں تھیں ، یہاں ان کی تشخیص کی گئی تا کہ ان کا مناسب علاج کیا جائے۔ جو حقائق ہیں وہ باقی رہیں اور اسلامی تصور حیات کے اصل الاصول واضح کر کے باقی رکھے جائیں۔ مدینہ کے اردگرد کے جو دیہاتی ، باوجود دعوت کے ، حدیبیہ کے موقعہ پر رہ گئے تھے وہ قبائل غفار ، مزینہ اشجع اور اسلم وغیرہ تھے۔ قرآن کہتا ہے ان کا عذر یہ ہوگا۔ شغلتنا اموالنا واھلونا (٤٨ : ١١) “ ہمیں اپنے اموال اور بال بچوں کی فکر نے مشغول رکھا ”۔ اور یہ تو کوئی عذر نہیں ہے۔ ہمیشہ ہر کسی کا مال اور اولاد اور اہل و عیال تو ہوتے ہی ہیں ، اگر ایسے عذرات مقبول ہوں تو پھر کوئی شخص بھی نظریاتی کام اور اپنے عقیدے اور دعوت اسلامی کی ذمہ داریوں کے لئے کوئی وقت نہ پائے گا۔ اور دوسری بات وہ یہ کہیں گے۔ فاستغفرلنا (٤٨ : ١١) “ آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں ”۔ لیکن پھر اس میں بھی سچ نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے۔ یقولون بالسنتھم ما لیس فی قلوبھم (٤٨ : ١١) “ یہ لوگ اپنی زبان سے وہ باتیں کہتے ہیں جو دلوں میں نہیں ہوتیں ”۔ اس موقعہ پر ان کو بتایا جاتا ہے کہ اللہ کا ایک نظام قضا و قدر ہے اور اسے کوئی بھی روک نہیں سکتا۔ جنگ سے پیچھے رہ جانا تقدیر کو نہیں روک سکتا۔ نہ کسی اقدام کو روکا جاسکتا ہے۔ اللہ کی قدرت کے اندر تم لوگ گھرے ہوئے ہو۔ وہ جس طرح چاہتا ہے ، تصرف کرتا ہے اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے۔ وہ علم کے مطابق تصرفات کرتا ہے۔ قل فمن یملک ۔۔۔۔۔ تعملون خبیرا (٤٨ : ١١) “ ان سے کہنا “ اچھا ، یہی بات ہے تو کون تمہارے معاملہ میں اللہ کے فیصلے کو روک دینے کا کچھ بھی اختیار رکھنا ہے۔ اگر وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا نفع بخشنا چاہے ؟ تمہارے اعمال سے تو اللہ ہی باخبر ہے ”۔ اس سوال ہی میں بتا دیا کہ ایک سچے مومن کا رویہ کیا ہونا چاہئے ، اسے چاہئے کہ وہ اللہ کے فیصلوں کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔ اللہ کے احکام کی فوراً تعمیل کرے اور اس میں لیت و لعل نہ کرے۔ کیونکہ توقف کرنے اور لیت و لعل کرنے سے نہ کوئی نقصان رفع ہو سکتا ہے اور نہ نفع موخر ہو سکتا ہے۔ اور عذرات گھڑنا اس سے مخفی نہیں ہے۔ اللہ جزاء و سزا اپنے علم کے مطابق دیتا ہے۔ اس لیے عذرات گھڑنے سے اس کے ہاں کوئی اثر نہیں ہوتا۔ یہ نہایت ہی بروقت ہدایت ہے۔ مناسب فضا میں ہے اور یہی قرآن کا طریقہ ہے کہ وہ نہایت ہی مناسب وقت پر ٹوک دیتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سفر میں نہ جانے والے دیہاتیوں کی بدگمانی اور حیلہ بازی کا تذکرہ معالم التنزیل ١٩١ ج ٤ میں حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ جس سال صلح حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ منورہ کے آس پاس دیہاتوں میں یہ منادی کرا دی کہ ہم عمرہ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں، مقصد یہ تھا کہ یہ لوگ بھی عمرہ کرلیں اور قریش مکہ کی طرف سے کوئی جنگ کی صورت پیدا ہوجائے یا وہ بیت اللہ سے روکنے لگیں تو ان سے نمنٹ لیا جائے آپ نے عمرہ کا احرام باندھا اور ھدی بھی ساتھ لی تاکہ لوگ یہ سمجھ لیں کہ آپ جنگ کے ارادہ سے روانہ نہیں ہو رہے اس وقت تک بڑی جماعت آپ کے ساتھ روانہ ہوگئی (جن کی تعداد چودہ سو یا اس سے کچھ زیادہ تھی) اس موقع پر دیہات میں رہنے والوں میں بہت سے لوگ پیچھے رہ گئے اور آپ کے ساتھ سفر میں نہ گئے ابھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ واپس نہیں پہنچے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں پہلے سے آپ کو خبر دے دی اور فرمایا ﴿ سَيَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ۠ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا ﴾ کہ دیہاتیوں میں سے جو لوگ پیچھے ڈال دئیے گئے (جن کی شرکت اللہ تعالیٰ کو منظور نہ تھی) وہ شرکت نہ کرنے کا عذر بیان کرتے ہوئے یوں کہیں گے کہ ہمارے مالوں اور ہمارے اہل و عیال نے ہمیں مشغول رکھا ہم ان کی ضروریات میں لگے رہے پیچھے گھروں میں چھوڑنے کے لیے بھی کوئی نہ تھا لہٰذا آپ ہمارے لیے اللہ سے درخواست کردیجیے کہ وہ ہماری مغفرت فرما دے، جب آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ میں واپس تشریف لے آئے تو یہ لوگ حاضر خدمت ہوگئے اور انہوں نے ساتھ نہ جانے کا وہی عذر بیان کردیا کہ ہمیں بال بچوں سے متعلق کام کاج کی مشغولیتوں نے آپ کے ساتھ جانے نہ دیا اب آپ ہمارے لیے استغفار کردیں، اللہ جل شانہٗ نے ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اپنی زبانوں سے وہ بات کہہ رہے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے یعنی ان کا یہ کہنا کہ ہمارا شریک ہونے کا ارادہ تو تھا لیکن گھر کی مشغولیت کی جہ سے نہ جاسکے اور یہ کہنا کہ آپ ہمارے لیے استغفار کردیں یہ ان کی زبانی باتیں ہیں جو ان کے قلبی جذبات اور اعتقادات کے خلاف ہیں نہ ان کا شریک ہونے کا ارادہ تھا اور نہ استغفار کی ان کے نزدیک کوئی حیثیت ہے، یہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لائے پھر گناہ اور ثواب اور استغفار کی باتوں کا کیا موقع ہے ؟

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

10:۔ ” سیقول “ یہاں سے لے کر ” لایفقہون الا قلیلا “ تک ان منافقین پر زجر ہے جو صلح حدیبیہ میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ ” المخلفون “ یعنی جو لوگ اللہ کے قہر سے پیچھے چھوڑ دئیے گئے۔ اور رفاقت پیغمبر (علیہ السلام) سے مھروم کردئیے گئے۔ جب آپ اس سفر سے واپس مدینہ پہنچیں گے تو منافقین آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر ساتھ نہ جانے کے لیے کئی بہانے تراشیں گے مثلا کہیں گے کہ حضرت ہمارے اموال اور اہل و عیال کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں تھا اس لیے ہم آپ کے ہمراہ نہ جاسکے، بیشک ہم سے یہ گناہ سرزد ہوا ہے، اب آپ بھی ہم پر راضی ہوجائیں اور اللہ سے بھی ہمارے لیے معافی کی درخواست کریں۔ تائید : ” یقولون ان بیوتنا عورۃ، وماھی بعورۃ “ احزاب رکوع 2) ۔ ” یقولون بالسنتہم “ جو بہانے وہ زبان سے بیان کر رہے ہیں وہ حقیقت کے خلاف ہیں۔ نہ جانے کی اصل وجہ انہوں نے دلوں میں چھپا رکھی ہے، لیکن زبانوں سے اس کے خلاف کہہ رہے ہیں۔ اصل وجہ کا ذکر اگلی آیات میں آرہا ہے۔ 11:۔ ” قل فن یملک “ یہ مفسِّر اور مفسَّر کے درمیان منافقین کے خیال کر رد کرنے کے لیے جملہ معترضہ ہے۔ فمن یملک لم من اللہ ای من عذاب اللہ۔ یعنی نفع و ضرر اللہ کے اختیار میں ہے۔ اگر وہ تمہیں ضرر (تکلیف) میں ڈالنا چاہے تو اس سے تمہیں کون بچا سکتا ہے ؟ تمہار یہ خیال غلط ہے کہ اگر تم جہاد میں شریک نہ ہوگے تو تکلیف و مشقت سے بچ جاؤ گے (وہ گھروں میں بٹھ رہنے والوں کو بھی مبتلائے عذاب کرسکتا ہے اور اگر وہ تمہیں نفع دینا چاہے تو بھی اسے کوئی روک نہیں سکتا، وہ میدان جہاد میں تیروں کی بارش میں بھی حفاظت کرسکتا ہے، وہ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے اور پوری پوری جزا دے گا۔ اس تقریر سے معلوم ہوا کہ ” اراد بکم نفعا “ سے پہلے من یمنع النفع مقدر ہے بقرینہ سیاق۔ قالہ الشیخ قدس سرہ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(11) اے پیغمر دیہاتی جو حدیبیہ میں پیچھے رہ گئے تھے عنقریب آپ سے کہیں گے کہ ہمارے مالوں اور ہمارے بیوی بچوں نے ہم کو مشغول رکھا اور ہم کو فرصت نہ لینے دی اور ہم لگے رہ گئے اپنے مالوں میں اور گھروں میں سو آپ ہمارے لئے بخشش کی دعا کردیجئے یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے آپ ان سے فرمادیجئے کہ اگر اللہ تعالیٰ تم کو کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا تم کو کسی نفع اور فائدے سے بہرہ مند کرنا چاہے تو وہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے تمہارے لئے کسی چیز کا اختیار رکھتا ہو۔ بلکہ بات یہ ہے کہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سب سے باخبر ہے۔ مدینے کے آس پاس کے بعض قبائل بنی غفار مزینہ جھنیہ اور اسلم وغیرہ کو آپ نے مکہ جانے کے لئے دعوت دی لیکن وہ اس سفر میں شریک نہیں ہوئے۔ جیسا کہ ہم نمبر ایک میں عرض کرچکے ہیں۔ انہی کی طرف اشارہ ہے کہ اب آپ کے مدینے پہنچنے پر یہ لوگ عذر کرنے آئیں گے تو آپ فرمادیجئے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے تمہارے لئے نفع اور ضرر کا کوئی شخص بھی کچھ اختیار رکھتا ہے ! اگر وہ تم کو نفع پہونچانا چاہے یا نقصان پہنچانا چاہے لہٰذا یہ عذر بھی تمہارا صحیح نہیں ہے۔ عذر کے مواقع کے لئے بعض احکام ہوتے ہیں لیکن قطعی حکم کے بعد عذر کا کیا موقع پھر یہ جو کچھ زبان سے کہہ رہے ہیں ان کے قلوب اس کے موافق نہیں۔ لہٰذا جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ محض شک ونفاق کی بنا پر کہہ رہے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے اعمال کی خبر ہے اور جب یہ بات ہے کہ نفع اور ضرر پر اسی کی قدرت ہے و باوجود گھر پر رہنے کے بھی وہ نقصان پہنچ سکتا ہے اور گھر چھوڑ کر جانے پر بھی نفح پہنچ سکتا ہے۔