Surat ul Fatah

Surah: 48

Verse: 23

سورة الفتح

سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلُ ۚ ۖ وَ لَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا ﴿۲۳﴾

[This is] the established way of Allah which has occurred before. And never will you find in the way of Allah any change.

اللہ کے اس قاعدے کے مطابق جو پہلے چلا آیا ہے تو کبھی بھی اللہ کے قاعدے کو بدلتا ہوا نہ پائے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

That has been the way of Allah already with those who passed away before. And you will not find any change in the way of Allah. means this is the way Allah deals with His creation. Whenever faith and disbelief meet at any distinguishing juncture, Allah gives victory to faith over disbelief, raises high truth and destroys falsehood. For instance, Allah the Exalted helped His loyal faithful supporters during the battle of Badr and they defeated His idolator enemies, even though the Muslims were few in number and lightly armed, while the idolators were large in number and heavily armed. Allah the Exalted and Most Honored said, وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُم بِبَطْنِ مَكَّةَ مِن بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

23۔ 1 یعنی اللہ کی یہ سنت اور عادت پہلے سے چلی آرہی ہے کہ جب کفر و ایمان کے درمیان فیصلہ کن معرکہ آرائی کا مرحلہ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی مدد فرما کر حق کو سر بلندی عطا کرتا ہے، جیسے اس سنت اللہ کے مطابق بدر میں تمہاری مدد کی گئی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(سنۃ اللہ التی قد خلت من قبل …: مراد اللہ تعالیٰ کی وہ سنت ہے جو اس کے انبیاء کو جھٹلانے والی اقوام کے بارے میں ہمیشہ سے جاری ہے کہ جب وہ حد سے گزر جاتی ہیں تو انہیں ایسی سزا دی جاتی ہے کہ انہیں کوئی حمایتی ملتا ہے نہ مددگار اور اللہ تعالیٰ کی اس سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ ہاں عذاب کئی سرح سے آسکتا ہے، قدرتی آفات کے ساتھ بھی جیسا کہ قوم نوح، عاد وثمود اور آل فرعون پر آیا اور مومن بندوں کے ہاتھوں بھی ، جیسا کہ فرمایا :(قاتلوھم یعذنھم اللہ بایدیکم) (التوبۃ : ١٣)” ان سے لڑو، اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

سُـنَّۃَ اللہِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ۝ ٠ ۚۖ وَلَنْ تَجِدَ لِسُـنَّۃِ اللہِ تَبْدِيْلًا۝ ٢٣ سنن وتنحّ عن سَنَنِ الطّريق، وسُنَنِهِ وسِنَنِهِ ، فالسُّنَنُ : جمع سُنَّةٍ ، وسُنَّةُ الوجه : طریقته، وسُنَّةُ النّبيّ : طریقته التي کان يتحرّاها، وسُنَّةُ اللہ تعالی: قد تقال لطریقة حکمته، وطریقة طاعته، نحو : سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا [ الفتح/ 23] ، وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا [ فاطر/ 43] ، فتنبيه أنّ فروع الشّرائع۔ وإن اختلفت صورها۔ فالغرض المقصود منها لا يختلف ولا يتبدّل، وهو تطهير النّفس، وترشیحها للوصول إلى ثواب اللہ تعالیٰ وجواره، وقوله : مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ [ الحجر/ 26] ، قيل : متغيّر، وقوله : لَمْ يَتَسَنَّهْ [ البقرة/ 259] ، معناه : لم يتغيّر، والهاء للاستراحة «1» . سنن تنح عن سنن الطریق ( بسین مثلثہ ) راستہ کے کھلے حصہ سے مٹ ج اور ۔ پس سنن کا لفظ سنۃ کی جمع ہے اور سنۃ الوجہ کے معنی دائرہ رد کے ہیں اور سنۃ النبی سے مراد آنحضرت کا وہ طریقہ ہے جسے آپ اختیار فرماتے تھے ۔ اور سنۃ اللہ سے مراد حق تعالیٰ کی حکمت اور اطاعت کا طریقہ مراد ہوتا ہے جیسے فرمایا : سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا [ الفتح/ 23]( یہی) خدا کی عادت ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے اور تم خدا کی عادت کبھی بدلتی نہ دیکھو گے ۔ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا [ فاطر/ 43] اور خدا کے طریقے میں کبھی تغیر نہ دیکھو گے ۔ تو آیت میں اس بات پر تنبیہ پائی جاتی ہے ۔ کہ شرائع کے فروغی احکام کی گو مختلف صورتیں چلی آئی ہیں ۔ لیکن ان سب سے مقصد ایک ہی ہے ۔ یعنی نفس کو پاکر کرنا اور اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں ثواب اور اس کا جوار حاصل کرنے کے لئے تیار کرنا اور یہ مقصد ایسا ہے کہ اس میں اختلاف یا تبدیلی نہیں ہوسکتی ۔ اور آیت : مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ [ الحجر/ 26] سڑے ہوئے گارے سے ۔ خلا الخلاء : المکان الذي لا ساتر فيه من بناء ومساکن وغیرهما، والخلوّ يستعمل في الزمان والمکان، لکن لما تصوّر في الزمان المضيّ فسّر أهل اللغة : خلا الزمان، بقولهم : مضی الزمان وذهب، قال تعالی: وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدخَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ [ آل عمران/ 144] ( خ ل و ) الخلاء ۔ خالی جگہ جہاں عمارت و مکان وغیرہ نہ ہو اور الخلو کا لفظ زمان و مکان دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ چونکہ زمانہ میں مضی ( گذرنا ) کا مفہوم پایا جاتا ہے اس لئے اہل لغت خلاالزفان کے معنی زمانہ گزر گیا کرلیتے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) تو صرف ( خدا کے ) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہوگزرے ہیں ۔ وجد الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه . ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود فبمعنی العلم المجرّد، إذ کان اللہ منزّها عن الوصف بالجوارح والآلات . نحو : وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] . ( و ج د ) الو جود ( ض) کے معنی کسی چیز کو پالینا کے ہیں اور یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے حواس خمسہ میں سے کسی ایک حاسہ کے ساتھ اور اک کرنا جیسے وجدت طعمہ ( حاسہ ذوق ) وجدت سمعہ ( حاسہ سمع ) وجدت خثومتہ حاسہ لمس ) قوی باطنہ کے ساتھ کسی چیز کا ادراک کرنا ۔ جیسے وجدت الشبع ( میں نے سیری کو پایا کہ اس کا تعلق قوت شہو یہ کے ساتھ ہے ۔ وجدت الحزن وا لسخط میں نے غصہ یا غم کو پایا اس کا تعلق قوت غضبہ کے ساتھ ہے ۔ اور بذریعہ عقل کے کسی چیز کو پالیتا جیسے اللہ تعالیٰ یا نبوت کی معرفت کہ اسے بھی وجدان کہا جاتا ہے ۔ جب وجود پالینا ) کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے تو اس کے معنی محض کسی چیز کا علم حاصل کرلینا کے ہوتے ہیں کیونکہ ذات باری تعالیٰ جوارح اور آلات کے ذریعہ کسی چیز کو حاصل کرنے سے منزہ اور پاک ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] اور ہم نے ان میں سے اکثروں میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا اور ان میں اکثروں کو ( دیکھا تو ) بد عہد دیکھا ۔ بدل الإبدال والتَّبدیل والتَّبَدُّل والاستبدال : جعل شيء مکان آخر، وهو أعمّ من العوض، فإنّ العوض هو أن يصير لک الثاني بإعطاء الأول، والتبدیل قد يقال للتغيير مطلقا وإن لم يأت ببدله، قال تعالی: فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] ، وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] وقال تعالی: فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] قيل : أن يعملوا أعمالا صالحة تبطل ما قدّموه من الإساءة، وقیل : هو أن يعفو تعالیٰ عن سيئاتهم ويحتسب بحسناتهم «5» . وقال تعالی: فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ ما سَمِعَهُ [ البقرة/ 181] ، وَإِذا بَدَّلْنا آيَةً مَكانَ آيَةٍ [ النحل/ 101] ، وَبَدَّلْناهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ [ سبأ/ 16] ، ثُمَّ بَدَّلْنا مَكانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ [ الأعراف/ 95] ، يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ [إبراهيم/ 48] أي : تغيّر عن حالها، أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ [ غافر/ 26] ، وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمانِ [ البقرة/ 108] ، وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ [ محمد/ 38] ، وقوله : ما يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَ [ ق/ 29] أي : لا يغيّر ما سبق في اللوح المحفوظ، تنبيها علی أنّ ما علمه أن سيكون يكون علی ما قد علمه لا يتغيّرعن حاله . وقیل : لا يقع في قوله خلف . وعلی الوجهين قوله تعالی: تَبْدِيلَ لِكَلِماتِ اللَّهِ [يونس/ 64] ، لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ [ الروم/ 30] قيل : معناه أمر وهو نهي عن الخصاء . والأَبْدَال : قوم صالحون يجعلهم اللہ مکان آخرین مثلهم ماضین «1» . وحقیقته : هم الذین بدلوا أحوالهم الذمیمة بأحوالهم الحمیدة، وهم المشار إليهم بقوله تعالی: فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] والبَأْدَلَة : ما بين العنق إلى الترقوة، والجمع : البَئَادِل «2» ، قال الشاعر : 41- ولا رهل لبّاته وبآدله ( ب د ل ) الا بدال والتبدیل والتبدل الاستبدال کے معنی ایک چیز کو دوسری کی جگہ رکھنا کے ہیں ۔ یہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض میں پہلی چیز کے بدلہ میں دوسری چیز لینا شرط ہوتا ہے لیکن تبدیل مطلق تغیر کو کہتے ہیں ۔ خواہ اس کی جگہ پر دوسری چیز نہ لائے قرآن میں ہے فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] تو جو ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کو اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع گیا ۔ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا ۔ اور آیت : فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] کے معنی بعض نے یہ کئے ہیں کہ وہ ایسے نیک کام کریں جو ان کی سابقہ برائیوں کو مٹادیں اور بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف فرمادیگا اور ان کے نیک عملوں کا انہیں ثواب عطا کریئگا فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ ما سَمِعَهُ [ البقرة/ 181] تو جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے ۔ وَإِذا بَدَّلْنا آيَةً مَكانَ آيَةٍ [ النحل/ 101] جب ہم گوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں ۔ وَبَدَّلْناهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ [ سبأ/ 16] ثُمَّ بَدَّلْنا مَكانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ [ الأعراف/ 95] پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا ۔ اور آیت کریمہ : يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ [إبراهيم/ 48] کے معنی یہ ہیں کہ زمین کی موجودہ حالت تبدیل کردی جائے گی ۔ أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ [ غافر/ 26] کہ وہ ( کہیں گی ) تہمارے دین کو ( نہ ) بدل دے ۔ وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمانِ [ البقرة/ 108] اور جس شخص نے ایمان ( چھوڑ کر اس کے بدلے کفر اختیار کیا وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ [ محمد/ 38] 47 ۔ 38 ) اور اگر تم منہ پھروگے تو وہ تہماری جگہ اور لوگوں کو لے آئیگا ۔ اور آیت کریمہ : ما يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَ [ ق/ 29] ہمارے ہاں بات بدلا نہیں کرتی ۔ کا مفہوم یہ ہے کہ لوح محفوظ میں جو کچھ لکھا جا چکا ہے وہ تبدیل نہیں ہوتا پس اس میں تنبیہ ہے کہ جس چیز کے متعلق اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ وقوع پذیر ہوگی وہ اس کے علم کے مطابق ہی وقوع پذیر ہوگی اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آسکتی ۔ بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ اس کے وعدہ میں خلف نہیں ہوتا ۔ اور فرمان بار ی تعالیٰ : { وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللهِ } ( سورة الأَنعام 34) قوانین خدا وندی کو تبدیل کرنے والا نہیں ۔{ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ } ( سورة الروم 30) نیز : لا تبدیل لخلق اللہ فطرت الہیٰ میں تبدیل نہیں ہوسکتی ( 30 ۔ 30 ) بھی ہر دو معافی پر محمول ہوسکتے ہیں مگر بعض نے کہاں ہے کہ اس آخری آیت میں خبر بمعنی امر ہے اس میں اختصاء کی ممانعت ہے الا ابدال وہ پاکیزہ لوگ کہ جب کوئی شخص ان میں سے مرجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ دوسرے کو اس کا قائم مقام فرمادیتے ہیں ؟ درحقیقت ابدال وہ لوگ ہیں ۔ درحقیقت ابدال وہ لوگ ہیں جہنوں نے صفات ذمیمہ کی بجائے صفات حسنہ کو اختیار کرلیا ہو ۔ اور یہ وہی لوگ ہیں جنکی طرف آیت : فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] میں ارشاد فرمایا ہے ۔ البادلۃ گردن اور ہنسلی کے درمیان کا حصہ اس کی جمع بادل ہے ع ( طویل ) ولارھل لباتہ وبآدلہ اس کے سینہ اور بغلوں کا گوشت ڈھیلا نہیں تھا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اللہ تعالیٰ نے کفار کے لیے جبکہ انہوں نے انبیاء کرام کا مقابلہ کیا یہی شکست و عذاب کا دستور کر رکھا ہے جو پہلے سے چلا آتا ہے اور اللہ تعالیٰ بذریعہ قتل کے جو عذاب نازل کرتا ہے اس میں کسی قسم کا ردو بدل نہیں پائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٣ { سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ ” یہ اللہ کا وہ دستور ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ “ یعنی یہ اللہ کا قانون ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں کی مدد کرتا ہے۔ چناچہ اگر قریش مکہ اس موقع پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جنگ کرتے تو اللہ اپنی سنت کے مطابق آپ لوگوں کی مدد کرتا اور ایسی صورت میں انہیں پیٹھ دکھانا پڑتی اور شکست ان کا مقدر بنتی۔ { وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا } ” اور تم ہرگز نہیں پائو گے اللہ کے قانون میں کوئی تبدیلی۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

42 Here, "the Way of Allah" means: Allah disgraces the disbelievers who fight His Messenger and helps His own Messenger.

سورة الْفَتْح حاشیہ نمبر :42 اس جگہ اللہ کی سنت سے مراد یہ ہے کہ جو کفار اللہ کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اللہ ان کو ذلیل و خوار کرتا ہے ۔ اور اپنے رسول کی مدد فرماتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

21: اللہ تعالیٰ کا دستور شروع سے یہ چلا آتا ہے کہ جو لوگ حق پر ہوتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کی مدد کی شرائط پوری کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان کو باطل والوں پر غلبہ عطا فرماتا ہے، اور جہاں کہیں باطل والوں کو غلبہ حاصل ہو، وہاں سمجھ لینا چاہئیے کہ حق والوں کے طرز عمل میں کوئی خرابی تھی، جس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے محروم رہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(48:23) سنۃ اللّٰہ : ای سن اللّٰہ سنۃ۔ اللہ تعالیٰ نے (یہ) دستور اختیار کر رکھا ہے (جلالین، تفسیر حقانی) التی قد خلت من قبل۔ جو قبل ازیں جاری رہا ہے (گزشتہ امتوں میں) اور وہ طریقہ یا دستور کیا تھا۔ کہ اللہ اور اللہ کے اولیاء اور انبیاء ہمیشہ اللہ کے دشمنوں پر غالب ہی رہیں گے۔ جیسا کہ اور جگہ اللہ نے فرمایا ہے :۔ کتب اللّٰہ لاغلبن انا ورسلی (58:21) اللہ نے یہ بات لکھ دی ہے کہ بلاشبہ میں اور میرے پیغمبر غالب آکر رہیں گے۔ اور فان حزب اللّٰہ ہم الغلبون (5:56) بیشک خدا کا لشکر ہی غلبہ پانے والا ہے۔ اور الا ان حزب اللّٰہ ہم المفلحون (58:22) خوب سن لو کہ خدا ہی کا لشکر فلاح پانے ولا ہے۔ التی اسم موصول واحد مؤنث۔ اگلا جملہ اس کا صلہ ہے۔ قدخلت : قد ماضی کے ساتھ تحقیق کا معنی دیتا ہے اور ماضی کو ماضی قریب بنا دیتا ہے۔ خلت ماضی واحد مؤنث غائب خلو (باب نصر) مصدر وہ گزر گئی وہ گزر چکی۔ من قبل (اس سے) پہلے۔ نیز ملاحظہ ہو آیت نمبت 15 مذکورۃ الصدر یہ اللہ کا دستور گزشتہ امتوں میں بھی جاری تھا۔ لن تجد : مضارع منفی تاکید بلن۔ وجود (باب ضرب) مصدر۔ اور تو اللہ کے دستور میں ہرگز تبدیلی نہ پائے گا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا (٤٨ : ٢٣) “ اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے ”۔ اب اللہ فرماتا ہے کہ یہی حکمت تھی کہ وادی مکہ میں اللہ نے کافروں کو توفیق نہ دی کہ وہ مسلمانوں پر ہاتھ ڈالیں اور مسلمانوں کو بھی توفیق نہ دی کہ وہ مشرکین مکہ پر اس وقت ہاتھ ڈالیں جب وہ ان کے قابو میں آگئے تھے۔ یہ ان چالیس آدمیوں کی طرف اشارہ ہے۔ چالیس ہوں یا کم و بیش ۔ جو مسلمانوں کو نقصان پہنچانے آئے تھے۔ یہ پکڑے گئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاف کردیا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ ١ۖۚ﴾ (یہ پہلے سے اللہ کی عادت رہی ہے کہ کارخیر کے ساتھ انجام حضرات انبیاء کرام کے حق میں رہا ہے اپنے اولیاء کی اس نے مدد فرمائی ہے اور دشمنوں کو مغلوب کیا ہے) ﴿ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا ٠٠٢٣﴾ (اور تم اللہ کی عادت میں تبدیلی نہ پاؤ گے) صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ آیت کا یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ اچھا انجام ہمیشہ حضرات انبیاء (علیہ السلام) کے حق میں ہی ہوا یہ مطلب نہیں ہے کہ جب کبھی بھی کافروں سے قتال ہوا تو کافروں پر غلبہ ہوا ہو، ولعل المراد ان سنة تعالیٰ ان تکون العاقبة للانبیاء علیھم السلام لا انھم کلما قاتلوا الکفار غلبوھم وھزموھم ١ ھ (شاید مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ انجام کار فتح انبیاء (علیہ السلام) کی ہوتی ہے یہ مطلب نہیں کہ جب بھی کفار سے لڑائی ہو تو یہ ان پر غالب آجائیں اور انہیں شکست دیدیں۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(23) یہ اللہ تعالیٰ کی رسم پڑی ہوئی ہے اور اس نے اپنا یہی دستور اور طریقہ قائم کررکھا ہے جو پہلے سے ہوتا چلا آتا ہے اور آپ اللہ تعالیٰ کے آئین اور اس کی ڈالی ہوئی رسم میں کوئی تبدیلی اور کسی شخص کی طرف سے ردوبدل نہ پائیں گے۔ یعنی رسم اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ سے یہی ہے کہ اپنے دوستوں کو غالب اور منکروں کو مغلوب کرتا رہتا ہے اس کی اس ربم میں کوئی تدبیلی آپ نہیں پائیں گے۔