Surat ul Hujraat

The Inner Apartments

Surah: 49

Verses: 18

Ruku: 2

Listen to Surah Recitation
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة الْحُجُرٰت نام : آیت 4 کے فقرے اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَاۗءِ الْحُـجُرٰتِ سے ماخوذ ہے ۔ مراد یہ ہے کہ وہ سورت جس میں لفظ الحجرات آیا ہے ۔ زمانۂ نزول : یہ بات روایات سے بھی معلوم ہوتی ہے اور سورت کے مضامین بھی اس کی تائید کرتے ہیں کہ یہ سورت مختلف مواقع پر نازل شدہ احکام و ہدایات کا مجموعہ ہے جنہیں مضمون کی مناسبت سے یکجا کر دیا گیا ہے ۔ علاوہ بریں روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان میں اکثر احکام مدینہ طیبہ کے آخری دور میں نازل ہوئے ہیں ۔ مثلاً آیت 4 کے متعلق مفسرین کا بیان ہے کہ یہ بنی تمیم کے بارے میں نازل ہوئی تھی جن کے وفد نے آ کر ازواج مطہرات کے حجروں کے باہر سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پکارنا شروع کر دیا تھا ، اور تمام کتب سیرت میں اس وفد کی آمد کا زمانہ 9ھ بیان کیا گیا ہے ۔ اس طرح آیت 6 کے متعلق حدیث کی بکثرت روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ولید بن عقبہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنی المصطلق سے زکوٰۃ وصول کر کے لانے کے لیے بھیجا تھا اور یہ بات معلوم ہے کہ ولید بن عقبہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے ۔ موضوع و مباحث : اس سورت کا موضوع مسلمانوں کو ان آداب کی تعلیم دینا ہے جو اہل ایمان کے شایان شان ہیں ۔ ابتدائی پانچ آیتوں میں ان کو وہ ادب سکھایا گیا ہے جو انہیں اللہ اور اس کے رسول کے معاملے میں ملحوظ رکھنا چاہیے ۔ پھر یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ہر خبر پر یقین کر لینا اور اس پر کوئی کارروائی کر گذرنا مناسب نہیں ہے ۔ اگر کسی شخص یا گروہ یا قوم کے خلاف کوئی اطلاع ملے تو غور سے دیکھنا چاہیے کہ خبر ملنے کا ذریعہ قابل اعتماد ہے یا نہیں ۔ قابل اعتماد نہ ہو تو اس پر کارروائی کرنے سے پہلے تحقیق کر لینا چاہیے کہ خبر صحیح ہے یا نہیں ۔ اس کے بعد بتایا گیا ہے کہ اگر کسی وقت مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو اس صورت میں دوسرے مسلمانوں کو کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے ۔ پھر مسلمانوں کو ان برائیوں سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے جو اجتماعی زندگی میں فساد برپا کرتی ہیں اور جن کی وجہ سے آپس کے تعلقات خراب ہوتے ہیں ۔ ایک دوسرے کا مذاق اڑانا ، ایک دوسرے پر طعن کرنا ، ایک دوسرے کے برے برے نام رکھنا ، بد گمانیاں کرنا ، دوسرے کے حالات کی کھوج کرید کرنا ، لوگوں کی پیٹھ پیچھے ان کی برائیاں کرنا ، یہ وہ افعال ہیں جو بجائے خود بھی گناہ ہیں اور معاشرے میں بگاڑ بھی پیدا کرتے ہیں ۔ اللہ تعالی نے نام بنام ان کا ذکر فرما کر انہیں حرام قرار دے دیا ہے ۔ اس کے بعد قومی اور نسلی امتیازات پر ضرب لگائی گئی ہے جو دنیا میں عالمگیر فسادات کے موجب ہوتے ہیں ۔ قوموں اور قبیلوں اور خاندانوں کا اپنے شرف پر فخر و غرور ، اور دوسروں کو اپنے سے کمتر سمجھنا ، اور اپنی بڑائی قائم کرنے کے لیے دوسروں کو گرانا ، ان اہم اسباب میں سے ہے جن کی بدولت دنیا ظلم سے بھر گئی ہے ۔ اللہ تعالی نے ایک مختصر سی آیت فرما کر اس برائی کی جڑ کاٹ دی ہے کہ تمام انسان ایک ہی اصل سے پیدا ہوئے ہیں اور قوموں اور قبیلوں میں ان کا تقسیم ہونا تعارف کے لیے ہے نہ کہ تفاخر کے لیے ، اور ایک انسان پر دوسرے انسان کی فوقیت کے لیے اخلاقی فضیلت کے سوا اور کوئی جائز بنیاد نہیں ہے ۔ آخر میں لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ اصل چیز ایمان کا زبانی دعوی نہیں ہے بلکہ سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول کو ماننا ، عملا فرمانبردار بن کر رہنا ، اور خلوص کے ساتھ اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال کھپا دینا ہے ۔ حقیقی مومن وہی ہیں جو یہ روش اختیار کرتے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو دل کی تصدیق کے بغیر محض زبان سے اسلام کا اقرار کرتے ہیں اور پھر ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ گویا اسلام قبول کر کے انہوں نے کوئی احسان کیا ہے ، تو دنیا میں ان کا شمار مسلمانوں میں ہو سکتا ہے ، معاشرے میں ان کے ساتھ مسلمانوں کا سا سلوک بھی کیا جا سکتا ہے ، مگر اللہ کے ہاں وہ مومن قرار نہیں پا سکتے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

تعارف سورۃ الحجرات اس سورت کے بنیادی موضوع دو ہیں، ایک یہ کہ مسلمانوں کو حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تعظیم کا کیسا رویہ اختیار کرنا چاہئیے، اور دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد واتفاق قائم رکھنے کے لئے کن اصولوں پر عمل کرناضروری ہے، اس سلسلے میں پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ اگر مسلمانوں کے دوگروہوں میں اختلاف پیدا ہوجائے تو دوسرے مسلمانوں پر کیا فریضہ عائد ہوتا ہے، اور اس کے بعد وہ اسباب بیان فرمائے گئے ہیں جو عام طور سے رہن سہن کے دوران آپس کے لڑائی جھگڑے پیدا کرتے ہیں، مثلاً ایک دوسرے کا مذاق اڑانا، غیبت کرنا، دوسروں کے معاملات میں ناحق مداخلت کرنا، بدگمانی کرنا وغیرہ، نیز یہ حقیقت پوری وضاحت اور تاکید کے ساتھ بیان فرمائی گئی ہے کہ خاندان قبیلے زبان اور قومیت کی بنیاد پر ایک دوسرے کے مقابلے میں اپنی بڑائی جتانے کا اسلام میں کوئی جواز نہیں ہے، تمام انسان برابر ہیں، اور اگر کسی کو دوسرے پر کوئی فوقیت ہوسکتی ہے تو وہ صرف اپنے کردار اور تقوی کی بنیاد پر ہوسکتی ہے، سورت کے آخر میں یہ حقیقت بیان فرمائی گئی ہے کہ مسلمان ہونے کے لئے صرف زبان سے اسلام کا اقرار کرلینا کافی نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام احکام کو دل سے ماننا بھی ضروری ہے، اس کے بغیر اسلام کا دعوی معتبر نہیں ہے۔ حجرات عربی میں حجرۃ کی جمع ہے جو کمرے کو کہتے ہیں، اس سورت کی چوتھی آیت میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رہائشی حجروں کے پیچھے سے آپ کو آواز دینے سے منع فرمایا گیا ہے اس وجہ سے اس سورت کا نام سورۂ حجرات رکھا گیا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تعارف سورة الحجرات بسم اللہ الرحمن الرحیم ( سورة نمبر ٤٩۔ کل رکوع ٢۔ آیات ١٨ ۔ الفاظ و کلمات ٣٥٠ ۔ حروف ١٥٧٣ ۔ مقام نزول مدینہ منورہ ) ( مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں فرمایا گیا کہ اگر وہ بھائیوں یا مسلمانوں کی جماعت میں کبھی کوئی شدید اختالاف یا جھگڑا پیدا ہوجائے تو ہر مومن کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان دونوں کے درمیان صلح صفائی کرادیا کرے ۔ اسی میں دنیا اور آخرت کی کامیابیوں کا راز پوشیدہ ہے۔ ) (نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ادب و احترام ایمان کی علامت اور روح کی حلافت ہے۔ کوئی شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے اپنی آواز کو بلند نہ کرے۔ کوئی آدمی ایسا کام نہ کرے جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت و فرمانبرداری کی خلاف ورزی ہوتی ہو اور کوئی کام نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مرضی کے خلاف نہ ہو۔ ) (اللہ نے سب لوگوں کو خاندانوں اور قبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا ہے کہ ہر ایک دوسرے کو پہچان سکے۔ لیکن حسب نسب، خاندان اور قبیلہ ایک دوسرے پر فخر کے لیے نہیں بنایا گیا۔ کیونکہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل احترام وہ ہے جو پرہیز گار اور تقویٰ اختیار کرنے والا ہے۔ ) اس سورة میں ہر مومن کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا احترام اور تعظیم کرے اس کے لیے کچھ آداب بتائے گئے ہیں۔ (١) پہلا ادب یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آگے نہ بڑھے یعنی کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جو اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف ہو۔ اللہ اور رسول کے مقابلے میں اپنی رائے سے کوئی فیصلہ نہ کیا جائے بلکہ وہی کام کرے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے۔ (٢) فرمایا کہ تم اپنی آواز کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے اونچا نہ کرو بلکہ ان کی آواز سے اپنی آواز کو پست رکھو۔ اللہ کو یہی پسند ہے۔ (٣) فرمایا کہ تم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح مخاطب نہ کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو خطاب کرتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال اس بےادبی کی وجہ سے غارت ہوجائیں اور تمہیں اس کی خبر نہ ہو۔ (٤) ایک ادب یہ سکھایا گیا کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھر کے اندر مصروف ہوں تو ان کو باہر سے آوازیں نہ دی جائیں بلکہ اس وقت تک انتظار کیا جائے جب تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود ہی باہر تشریف نہ لے آئیں۔ (٥) ایک ادب یہ سکھایا گیا کہ اگر کسی طرف سے کوئی بات پہنچے تو اس کو سنتے ہی مشہور نہ کردہ بلکہ اس کی تحقیق کرلیا کرو۔ جب تمہارے اندر رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہیں (یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد آپ کے تابع دار موجود ہوں) تو ان کو اطلاع کردو تاکہ وہ اس کی تحقیق کرلیں۔ کہیں ایسانہ ہو کہ تم کسی غلط فہمی کی بنیاد پر کسی کو نقصان پہنچا دو ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ادب و تعظیم کا حکم دے کر فرمایا گیا کہ اہل ایمان آپس میں بھی ایک دوسرے کا احترام کرنے والے بنیں اور کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے ان کا معاشرہ بکھر کر رہ جائے۔ اس کے لیے چند بنیادی اصول بیان کئے گئے ہیں۔ (١) پہلا اصول یہ ہے کہ اگر مومنوں کی دو جماعتوں میں کسی وجہ سے اختلاف ہوجائے تو ممکن حد تک ان دونوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ صلح صفائی کرانے کی کوششیں کی جائیں کیونکہ دونوں جماعتیں آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ (٢) کوئی مرد دوسرے مرد کا، کوئی مردوں کی جما عت دوسری جماعت کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہ ان سے بہتر ہوں جو مذاق اڑا رہے ہیں۔ (٣) ایک دوسرے کو کسی طرح کے طعنے نہ دیا کریں کیونکہ مومن کی شان نہیں ہے کہ وہ ایک دوسرے کو طعنے دیں۔ (٤) نہ برے القاب اور برے الفاظ سے ایک دوسرے کو پکاریں۔ (٥) کوئی بد گمانی سے کام نہ لے۔ کیونکہ کبھی کبھی بد گمانیوں کی وجہ سے تباہی پھیل جاتی ہے اس سے بچنے کی ضرورت ہے۔ (٦) نہ ایک دوسرے کی پیٹھ پیچھے برائیاں یعنی غیبت کی جائے کیونکہ یہ اتنی بری بات ہے کہ جیسے آدمی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھا رہا ہے۔ جس طرح مردہ بھائی کا گوشت کھانا کوئی بھی گوارا نہیں کرسکتا اسی طرح غیبت کرنا کیسے گوار کرسکتا ہے۔ (٧) سب انسان حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں جن میں مختلف قبیلے اور خاندان ہیں۔ یہ قبیلے اور خاندان ایک دوسرے کی پہچان تو ہیں لیکن فخر کرنے کی ان میں کوئی بات نہیں ہے۔ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل احترام وہ شخص ہے جو تقویٰ میں سب سے آگے ہے۔ (٨) اللہ کا یہ فضل و کرم ہے کہ اس نے تمہیں ایمانلانے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ یہ بھی شکر کا مقام ہے فخر کا مقام نہیں ہے لہٰذا کوئی شخص اپنے ایمان لانے کا دعویٰ نہ کرے۔ فرمایا کہ اصل میں وہ شخص مومن ہے جو دل سے اللہ کو ایک مانتا ہے۔ اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے اور اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے۔ کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنے ایمان و اسلام کا احسان جتاتا پھرے۔ یہ تو اللہ کا احسان اور کرم ہے کہ اس نے تمہیں ایمان اور اسلام لانے کی توفیق دی ہے اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ فرمایا کہ اللہ ہر شخص کے حالات سے اچھی طرح واقف ہے وہی ہر چیز پر اجر اور ثواب عطا کرنے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

سورة الحجرات کا تعارف الحجرات مدینہ میں نازل ہوئی ہے اس کا نام اس کی آیت ٤ میں مذکور ہے یہ سورت ٢ رکوع اور ١٨ آیات پر مشتمل ہے۔ اس سورت کا پس منظر یہ ہے کہ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوپہر کے وقت اپنے گھر میں آرام فرما تھے کہ اس وقت بنی تمیم کا ایک وفد آپ کی ملاقات کے لیے حاضر ہوا۔ وفد نے انتظار کیے بغیر آپ کے گھر کے سامنے کھڑے ہو کر آواز پر آواز دینا شروع کی ” اخرج علینا یا محمد “ اے محمد باہر آؤ، باہر آؤ۔ اس پر یہ سورت مبارکہ نازل ہوئی جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح آواز دینے سے منع کیا گیا اور حکم ہوا کہ جو لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح آواز دیں گے ان کے اعمال ضائع کر دئیے جائیں گے اور انہیں خبر بھی نہیں ہوگی ان کے مقابلے میں ان لوگوں کی تعریف کی گئی ہے جو نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آہستہ اور ادب کے ساتھ بلاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی غلطیاں معاف کرنے کے ساتھ انہیں اجر عظیم سے سرفراز فرمائے گا اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کی اخلاق اور اعمال کو جانچ لیا ہے بلکہ ان کے دلوں کو بھی تقوی کے ساتھ پرکھ لیا ہے اس کے بعد اس صورت میں مسلمانوں کو آداب سکھلائیں ہیں۔ ١۔ اے مسلمانوں اللہ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا۔ ٢۔ اے مسلمانوں اگر تمہارے پاس کوئی فاسق آدمی کوئی خبر لے کر آئے تو اس پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کرلیا کرو ایسا نہ ہو کہ تم سے غلطی ہوجائے جس پر تمہیں پریشان ہونا پڑئے۔ ٣۔ مسلمانوں کے درمیان اختلاف رونما ہوجائے تو دوسرے مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ اصلاح کروانے کی کوشش کریں کیونکہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ان کے درمیان ہر صورت صلح رہنی چاہیے۔ ٤۔ اے مسلمانوں کوئی قوم دوسری قوم کو اور عورتیں دوسری عورتوں کو مذاق نہ کریں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ مذاق کرنے والوں سے بہتر ہوں۔ ٥۔ اے مسلمانوں ایک دوسرے کے برے القاب نہ رکھو۔ ایمان لانے کے بعد برے القاب رکھنا نافرمانی کا کام ہے جو اس سے تائب نہیں ہوں گے وہ ظالموں میں شمار ہوں گے۔ ٦۔ اے مسلمانوں ایک دوسرے کے بارے میں بدظنی سے بچو۔ بدظنی رکھنا گناہ ہے۔ اور نہ ہی ایک دوسرے کا تجسس اور غیبت کیا کروغیبت کرنا مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر ہے۔ ٧۔ اے مسلمانوں تم ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے قبائل اور خاندان بنائے ہیں تاکہ تم ایک دوسرے کا تعارف حاصل کرو۔ لیکن یاد رکھو اللہ کے ہاں وہ بہتر ہے جو اس سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔ ٨۔ حقیقی مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا کر شک نہیں کرتے اور وہ اپنے مال و جان کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں۔ ٩۔ کچھ لوگ اسلام لا کر آپ پر احسان جتلاتے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تم پر ایمان لانے میں تمہاری مدد فرمائی ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورة الحجرات ایک نظر میں یہ سورت صرف اٹھارہ آیات پر مشتمل ہے۔ لیکن اپنے مضامین کے اعتبار سے ایک عظیم سورت ہے۔ اس میں نظریات ، دستور و قانون اور انسانی وجود کے بارے میں نہایت ہی اہم مسائل پر بحث کی گئی ہے۔ یہ وہ حقائق ہیں جو انسان کے دل و دماغ کے لئے نہایت ہی وسیع آفاق اور وسیع دنیا کے دروازے کھولتے ہیں۔ نہایت گہرے تصورات اور نہایت عظیم معانی اس کا موضوع ہیں۔ اس کے ان موضوعات میں تخلیق و تنظیم ، تربیت و تہذیب ، دستور و قانون اور ہدایات و رہنمائی کے مسائل لیے گئے ہیں۔ یہ مسائل اس قدر گہرے ، وسیع اور ہمہ گیر ہیں کہ ان کے بیان کے لئے موجودہ آیات کے مقابلے میں سینکڑوں آیات درکار ہیں۔ لیکن یہاں دریا کوزہ میں بند کردیا گیا ہے یا دریا بحباب اندر۔ یہ سورت دو باتوں کو نہایت کھول کر بیان کرتی ہے اور یہ دو باتیں نہایت اہم ، بہت عظیم اور غور و فکر کے لائق ہیں : پہلی بات یہ ہے کہ سورت ایک بلند ، پاکیزہ اور سلیم الفطرت ماحول اور اونچے معاشرے کے نشانات وضع کرتی ہے۔ یہ وہ اصول اور قوانین بیان کرتی ہے اور وہ طرز زندگی متعین کرتی ہے جس کے اوپر یہ ماحول اور یہ معاشرہ قائم کیا جانا مطلوب ہے۔ وہ اصول و مبادی جس کے اوپر اس سوسائٹی نے قائم ہونا ہے اور پھر جن کے مطابق اس ماحول اور اس سوسائٹی کی حفاظت کی جانی ہے۔ ایک ایسی سوسائٹی جو اللہ کی بنائی ہوئی ہو ، جو اللہ کی طرف رخ کئے ہوئے ہو اور جسے صحیح معنوں میں ایک الٰہی سوسائٹی کہا جاسکتا ہو۔ ایک ایسی سوسائٹی جس کا دل صاف ہو ، جس کے تصورات پاکیزہ ہوں ، جس کی زبان پاک ہو اور جس کی سیرت اور جس کا اندرون پاک ہو ، ایک ایسی دنیا اور سوسائٹی جو اللہ کے ساتھ کچھ آداب کو ملحوظ رکھے ، جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بھی کچھ آداب قائم رکھی ہو ، اپنی ذات کے ساتھ بھی اس کے آداب ہوں اور دوسروں کے ساتھ بھی آداب ہوں جس کے ضمیر میں بھی آداب ہوں ، جس کے اعضا بھی مووب ہوں۔ پھر اس سوسائٹی نے اپنے حالات کے لئے منظم قوانین بنا رکھے ہوں ، اور اس کا نظم و نسق ایسا ہو جو اسے بچاتا ہو ، اور یہ قوانین اور یہ تنظیمی ادارے انہی آداب پر مبنی ہوں ، انہی آداب سے پھوٹتے ہوں ، ان آداب کے ساتھ ہم آہنگ ہوں ، وہ اس سوسائٹی کی روحانی دنیا اور ظاہری دنیا کے لئے کافی ہوں۔ اس کا شعور اور اس کے قوانین ہم آہنگ ہوں۔ اسے آگے جانے اور ترقی کرنے اور اس کے دائرہ ممنوعات کے درمیان بھی توازن ہو ؟ اس کے احساسات اور اقدامات متوازن ہوں اور یہ پوری کی پوری اللہ کی طرف متوجہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کی اعلیٰ ، ارفع اور پاک و صاف سوسائٹی کا قیام نہ تو فقط روحانی تطہیر پر چھوڑا گیا ہے اور نہ ہی فقط قانون سازی اور انتظامی اداروں کے حوالے کیا گیا ہے ، بلکہ اس کی روحانی تطہیر ، اس کا قانون و دستور اور اس کے انتظامی ادارے سب مل کر کام کرتے ہیں۔ یہ سوسائٹی نہ تو ایک فرد کی سوچ کے تابع ہے اور نہ ہی حکومت کے اداروں کی سوچ کے حوالے ہے۔ بلکہ اس میں افراد ، حکومت دونوں مل کر اپنے اپنے فرائض باہم تعاون سے ادا کرتے ہیں ربانی ہدایات کی روشنی میں۔ یہ ایک ایسی سوسائٹی ہے جس کے اندر اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں کچھ لازمی آداب ہیں۔ بندے کو اللہ کے سامنے اور اللہ کے رسول کے سامنے کچھ آداب بھی ملحوظ رکھنے ہوتے ہیں۔۔ یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔ سمیع علیم (٤٩ : ١) ” اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ، اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو ، اور اللہ سے ڈرو ، اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے “۔ کوئی انسان امرو نہی میں اللہ سے آگے نہ بڑھے۔ اللہ پر کوئی فیصلہ اور ڈگری نافذ نہ کرے۔ اور اللہ جو حکم دے اور جس سے روکے اس سے تجاوز نہ کرے ، وہ اپنے خالق کے مقابلے میں اپنے رائے اور اپنے ارادے پر زور نہ دے۔ اس سے ڈرے ، اور اس سے حیا کرے اور نہایت ہی ادب سے اس کی بارگاہ میں رہے۔ اس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں بھی وہ کچھ ظاہری آداب بھی ملحوظ رکھے۔ یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔ وانتم لا تشعرون (٤٩ : ٢) ان الذین یغضون ۔۔۔۔۔۔ مغفرۃ واجر عظیم (٤٩ : ٣) ان الذین ینادونک ۔۔۔۔۔۔۔ لا یعقلون (٤٩ : ٤) ولو انھم صبروا ۔۔۔۔۔۔ غفور رحیم (٤٩ : ٥) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنی آواز نبی کی آواز سے بلند نہ کرو ، اور نہ نبی سے اونچی آواز سے بات کرو ، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہوجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ جو لوگ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں بات کرتے ہوئے اپنی آواز پست رکھتے ہیں ، وہ درحقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لئے جانچ لیا ہے۔ ان کے لئے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو لوگ تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بےعقل ہیں۔ اگر وہ تمہارے برآمد ہونے تک صبر کرتے تو انہی کے لئے بہتر تھا۔ اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے “۔ یہ ایک ایسی سوسائٹی ہے جس میں افعال اور اقوال کو اچھی طرح جانچا جاتا ہے ، کوئی بات اگر سنی جائے تو اس کی تحقیق کی جاتی ہے ، سنتے ہی فیصلہ نہیں کردیا جاتا اور یہ بات خدا سے ڈرنے پر رکھی گئی ہے۔ اور کسی حکم سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مشورہ ضروری ہے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مشورہ بھی اس وقت کیا جائے جب آپ مشورے طلب فرمائیں ، خواہ مخواہ مفت مشورے نہ دیا کریں۔ یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔ ما فعلتم ندمین (٤٩ : ٦) واعلموا ان فیکم ۔۔۔۔۔ اولئک ھم الرشدون (٤٩ : ٧) فضلا من اللہ ۔۔۔۔۔ علیم حکیم (٤٩ : ٨) ” اے لوگوں ، جو ایمان لائے ہو ، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی ۔۔۔۔ آئے تو تحقیق کرلیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ ، تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کئے پر پشیماں ہو ، خوب جان رکھو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے۔ اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات مان لیا کرے تو تم خود ہی مشکلات میں مبتلا ہوجاؤ۔ مگر اللہ نے تم کو ایمان کی محبت دی اور اس کو تمہارے دل لیے دل پسند بنا دیا اور کفر اور فسق اور نافرمانی سے تم کو متنفر کردیا۔ ایسے ہی لوگ اللہ کے فضل اور احسان سے رواست رو ہیں اور اللہ علیم و حکیم ہے “۔ یہ ایک ایسی سوسائٹی ہے جو اپنے وجود کی حفاظت کے لئے ایک انتظامی مشینری رکھتی ہے۔ اس کے ذریعہ اس کے اندر واقع ہونے والے اختلافات کو دور کیا جاتا ہے ، فتنوں کو فرو کیا جانا ، بےچینیاں دور کی جاتی ہیں اور لوگوں کی خواہشات کو کنٹرول کیا جاتا ہے کہ اگر ان کا علاج نہ کیا جائے تو سوسائٹی تباہ ہوجائے۔ ایسے مواقع پر یہ سوسائٹی اسلامی اخوت کے اصولوں کے مطابق اپنے مسائل حل کرتی ہے اور خالص عدل و اصلاح کے نقطہ نظر سے کام کرتی ہے ۔ خدا خوفی اور اللہ کی رحمت کو پیش رکھتے ہوئے۔ وان طائفتن من المؤمنین ۔۔۔۔ ان اللہ یحب المقسطین (٤٩ : ٩) انما الموئمنون ۔۔۔۔۔۔ لعلکم ترحمون (٤٩ : ١٠) ” اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ جائیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے۔ پھر اگر وہ پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو ، کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو ، امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے “ ۔ یہ ایک ایسی سوسائٹی ہے جس کے افراد ایک دوسرے کے بارے میں نیک جذبات اور خواہشات اور شعور رکھتے ہیں ۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ ایک بہترین طرز عمل اختیار کرنے کے بعد بھی کچھ آداب ہیں جن کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔ یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ فاولئک ھم الظلمون (٤٩ : ١١) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں ، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو ، نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہ ظالم ہیں “۔ اس سوسائٹی کا شعور ، اس کے اندر لوگوں کی عزت محوظ ، لوگوں کی خلوتیں محفوظ ، کسی پر شک کرنا گناہ ، کسی کے خلاف تجسس کرنا گناہ ، لوگوں کا امن ، عزت ، شرافت مکمل طور پر محفوظ ، ان معاملات میں کوئی کسی کو چھیڑ نہیں سکتا۔ یایھا الذین امنوا اجتنبوا ۔۔۔۔۔۔ ان اللہ تواب رحیم (٤٩ : ١٢) ” اے لوگوں ، جو ایمان لائے ہو ، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ تجسس نہ کرو ، اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا ؟ دیکھو تم خود اس سے گھن کھاتے ہو۔ اللہ ڈرو ، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے اور رحیم ہے “۔ یہ ایک ایسی سوسائٹی ہے جس کی اساس مطلق انسانیت پر ہے۔ جس میں اقوام اور اجناس محض تعارف کے لئے ہیں اور وہ یہ تمام انسان ایک آدم کی اولاد ہیں۔ یہ سوسائٹی باقی تمام خواہشات اور رنگ ونسل کے شوائب سے پاک ہے۔ یایھا الناس انا خلقنکم ۔۔۔۔۔۔ ان اللہ علیم خبیر (٤٩ : ١٣) ” اے لوگو ، ہم نے تم ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا۔ پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں ، تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو ، در حقیقت اللہ کے نزیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا باخبر ہے “۔ یہ سورت اسلامی سوسائٹی کے نشانات اور اس کے خدو خال کے تعین کے ساتھ مخصوص ہوجاتی اگر اسلام اور ایمان کے حدود کے تعین کو بھی نہ لیا جاتا۔ کیونکہ اس سوسائٹی کے قیام کی دعوت لوگوں کو ایمان کے عنوان سے دی گئی ۔ یا ایھا الذین امنوا ۔۔۔۔ ایمان کے حوالے ہی ان کو پکارا گیا تا کہ جواب دیں اور لبیک کہتے ہوئے اس سوسائٹی کو قائم کریں۔ اس لیے کہ کون بدبخت ایسا ہوگا جو اللہ کی جانب سے یہ میٹھی آواز سنے گا۔ یا ایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔ اور لبیک نہ کہے گا۔ اس آواز کو سن کر حیاء آجاتی ہے اور پھر اس پیاری آواز کے بعد اس راہ میں ہر مشقت آسان ہوجاتی ہے۔ ہر دل سننے کے لئے دوڑتا ہے اور عمل کے لئے اٹھتا ہے۔ قالت الاعراب امنا ۔۔۔۔ غفور رحیم (٤٩ : ١٤) انما المؤمنو الذین ۔۔۔۔۔۔ ھم الصدقون (٤٩ : ١٥) قل اتعلمون اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ بکل شییء علیم (٤٩ : ١٦) ” یہ بدوی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ، ان سے کہو ، تم ایمان نہیں لائے ، بلکہ یوں کہو کہ ہم مطیع ہوگئے “ ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری اختیار کرو تو وہ تمہارے اعمال کے اجر میں کوئی کمی نہ کرے گا۔ یقیناً اللہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔ حقیقت میں تو مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے۔ پھر انہوں نے کوئی شک نہ کیا اور اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ۔ وہی سچے لوگ ہیں۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے کہو کہ کیا تم اللہ کو اپنے دین کی اطلاع دے رہے ہو حالانکہ اللہ زمین و آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے “ ۔ اور سب سے آخر میں یہ سورت بتاتی ہے کہ دین اسلام لوگوں کے لئے اللہ کا بہت ہی بڑا انعام ہے اور ایمان تو جسے مل جائے اس کے لئے اللہ کی نعمت ہے۔ لیکن یہ نعمت اللہ صرف ان کو دیتا ہے جو اس کے مستحق ہوں۔ یمنون علیک ان ۔۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین (٤٩ : ١٧) ان اللہ یعلم ۔۔۔۔۔۔ بما تعملون (٤٩ : ١٨) ” یہ لوگ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ان سے کہ ، اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر اپنا احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی طرف ہدایت دی ، اگر تم واقعی سچے ہو۔ اللہ زمین و آسمان کی ہر پوشیدہ چیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ سب کچھ اس کی نگاہ میں ہے “۔ دوسری بڑی بات جو اس پوری سورت سے ظاہر ہوتی ہے اور ان حالات سے معلوم ہوتا ہے جن میں یہ سورت اور اس کی آیات نازل ہوئیں یہ ہے کہ قرآن کریم نے اسلامی جماعت کی تربیت کے لئے کس قدر عظیم جدو جہد کی۔ اور یہ جد و جہد مسلسل کی جاتی رہی اور پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کس طرح ہر مرحلے میں ، کس قدر عظم حکمت کے ساتھ اس جماعت کے نک سک درست کئے۔ جس کے نتیجے میں اس کرۂ ارض پر اس قدر پاکیزہ سوسائٹی وجود میں آئی جو نہایت ہی باوقار ، پاکباز اور صحت مند سوسائٹی تھی۔ اور ایسی سوسائٹی انسانی تاریخ میں ایک ہی بار اس کرۂ ارض پر وجود میں آئی۔ اس کے بعد اس قسم کی سوسائٹی کا تصور بھی کسی نے پیش نہیں کیا یا نہ کوئی ایسیسوسائٹی کا ناول بھی لکھ سکا ہے۔ لیکن یہ سوسائٹی پاک صاف ، صحت مند ، نظریاتی ، ایماندار اور خالص انسانی بنیادوں پر ، انسانی تاریخ کے ایک دور میں ، زمین کے ایک خطے میں وجود میں آئی۔ یہ اچانک وجود میں نہیں آئی تھی۔ نہ یہ بطور اتفاق وجود میں آئی تھی۔ یہ نہ راتوں رات وجود میں آئی تھی ، نہ یہ کسی طبعی حالات کی وجہ سے اچانک مشروم (ایک قسم کی خودرو گھاس) کی طرح وجود میں آگئی تھی بلکہ یہ نہایت ہی تدریجی طور پر اور ایک پودے کی طرح نمودار ہوئی اور بڑھتے بڑھتے تدریج کے ساتھ وہ پودا درخت بن گیا جس کی شاخیں بلند اور جڑیں زمین میں گہری تھیں اور اس نے اپنی نشوونما کے لئے ضروری وقت بھی لیا اور اس کے لئے نہایت ہی گہری اور مسلسل جدو جہد بھی کرنا پڑی۔ اور اس سلسلے میں راتوں کی نیند حرام کی گئی ، طویل صبر کیا گیا ، بصیرت افروز محنت کی گئی۔ لوگوں کے اخلاق کو سنوارا گیا۔ لوگوں کو ہدایات دی گئیں اور وہ آگے بڑھائے گئے۔ ان کو قوت دی گئی اور ثابت قدم رہنے کی تلقین کی گئی۔ عملی تجربات کئے گئے۔ کڑے سے کڑے امتحانات سے گذارے گئے۔ اور آزمائشوں اور مشکلات سے انہیں گزارا گیا ۔ اور تجربوں اور آزمائشوں سے عبرت لی گئی۔ اور اس پورے عرصے میں یہ سوسائٹی اللہ کی مسلسل نگرانی میں رہی جو علیم وخبیر ہے۔ اور اسے اس عظیم امانت کے اٹھانے کے لئے تیار کیا گیا اور زمین پر اللہ کی مشیت کو رو بعمل لانے کے لئے تیار کیا گیا اور پھر یہ کہ ان حضرات کے اندر کچھ مخصوص خصوصیات بھی تھیں جن کی وجہ سے تاریخ انسانیت میں انہوں نے یہ مقام حاصل کیا۔ اور یہ حقیقت وجود میں آئی۔ آج شاہراہ تاریخ انسانی پر ہمیں یہ سوسائٹی دور سے نظر تو آئی ہے ، مگر ایک خواب کی طرح ! !

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi