حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی عضباء کی نکیل تھامے ہوئی تھی جب آپ پر سورہ مائدہ پوری نازل ہوئی ۔ قریب تھا کہ اس بوجھ سے اونٹنی کے بازو ٹوٹ جائیں ( مسند احمد ) اور روایت میں ہے کہ اس وقت آپ سفر میں تھے ، وحی کے بوجھ سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا اونٹنی کی گردن ٹوٹ گئی ( ابن مردویہ ) اور روایت میں ہے کہ جب اونٹنی کی طاقت سے زیادہ بوجھ ہو گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سے اتر گئے ( مسند احمد ) ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ سب سے آخری سورت جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری وہ سورہ آیت ( اذا جاء نصر اللہ ) ہے ۔ مستدرک حاکم میں ہے حضرت جبیر بن نفیر فرماتے ہیں ، میں حج کے لئے گیا وہاں حضرت اماں عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھ سے فرمایا تم سورہ مائدہ پڑھا کرتے ہو؟ میں نے کہا ہاں فرمایا سنو سب سے آخری یہی سورت نازل ہوئی ہے اس میں جس چیز کو حلال پاؤ ، حلال ہی سمجھو اور اس میں جس چیز کو حرام پاؤ حرام ہی جانو ۔ مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ پھر میں نے اماں محترمہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی نسبت سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق قرآن کا عملی نمونہ تھے ۔ یہ روایت نسائی شریف میں بھی ہے ۔