Surat ul Maeeda

Surah: 5

Verse: 32

سورة المائدة

مِنۡ اَجۡلِ ذٰلِکَ ۚ ۛ ؔ کَتَبۡنَا عَلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اَنَّہٗ مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَیۡرِ نَفۡسٍ اَوۡ فَسَادٍ فِی الۡاَرۡضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَ مَنۡ اَحۡیَاہَا فَکَاَنَّمَاۤ اَحۡیَا النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَ لَقَدۡ جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُنَا بِالۡبَیِّنٰتِ ۫ ثُمَّ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ بَعۡدَ ذٰلِکَ فِی الۡاَرۡضِ لَمُسۡرِفُوۡنَ ﴿۳۲﴾

Because of that, We decreed upon the Children of Israel that whoever kills a soul unless for a soul or for corruption [done] in the land - it is as if he had slain mankind entirely. And whoever saves one - it is as if he had saved mankind entirely. And our messengers had certainly come to them with clear proofs. Then indeed many of them, [even] after that, throughout the land, were transgressors.

اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے والا ہو ، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا ، اور جو شخص کسی ایک کی جان بچالے اس نے گویا تمام لوگوں کو زندہ کر دیا اور ان کے پاس ہمارے بہت سے رسول ظاہر دلیلیں لے کر آئے لیکن پھر اس کے بعد بھی ان میں کہ اکثر لوگ زمین میں ظلم و زیادتی اور زبردستی کرنے والے ہی رہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Human Beings Should Respect the Sanctity of Other Human Beings Allah says, مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ ... Because of that, Allah says, because the son of Adam killed his brother in transgression and aggression, ... كَتَبْنَا عَلَى بَنِي إِسْرَايِيلَ ... We ordained for the Children of Israel..., meaning, We legislated for them and informed them, ... أَنَّهُ مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الاَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا ... that if anyone killed a person not in retaliation of murder, or (and) to spread mischief in the land - it would be as if he killed all mankind, and if anyone saved a life, it would be as if he saved the life of all mankind. The Ayah states, whoever kills a soul without justification -- such as in retaliation for murder or for causing mischief on earth -- will be as if he has killed all mankind, because there is no difference between one life and another. وَمَنْ أَحْيَاهَا (and if anyone saved a life...), by preventing its blood from being shed and believing in its sanctity, then all people will have been saved from him, so, أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا (it would be as if he saved the life of all mankind). Al-Amash and others said that Abu Salih said that Abu Hurayrah said, "I entered on Uthman when he was under siege in his house and said, `I came to give you my support. Now, it is good to fight (defending you) O Leader of the Faithful!' He said, `O Abu Hurayrah! Does it please you that you kill all people, including me?' I said, `No.' He said, `If you kill one man, it is as if you killed all people. Therefore, go back with my permission for you to leave. May you receive your reward and be saved from burden.' So I went back and did not fight."' Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas said, "It is as Allah has stated, ... مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الاَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا ... if anyone killed a person not in retaliation of murder, or (and) to spread mischief in the land - it would be as if he killed all mankind, and if anyone saved a life, it would be as if he saved the life of all mankind. Saving life in this case occurs by not killing a soul that Allah has forbidden. So this is the meaning of saving the life of all mankind, for whoever forbids killing a soul without justification, the lives of all people will be saved from him." Similar was said by Mujahid; وَمَنْ أَحْيَاهَا (And if anyone saved a life...), means, he refrains from killing a soul. Al-`Awfi reported that Ibn Abbas said that Allah's statement, فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا (it would be as if he killed all mankind...) means, "Whoever kills one soul that Allah has forbidden killing, is just like he who kills all mankind." Sa`id bin Jubayr said, "He who allows himself to shed the blood of a Muslim, is like he who allows shedding the blood of all people. He who forbids shedding the blood of one Muslim, is like he who forbids shedding the blood of all people." In addition, Ibn Jurayj said that Al-A`raj said that Mujahid commented on the Ayah, فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا (it would be as if he killed all mankind), "He who kills a believing soul intentionally, Allah makes the Fire of Hell his abode, He will become angry with him, and curse him, and has prepared a tremendous punishment for him, equal to if he had killed all people, his punishment will still be the same." Ibn Jurayj said that Mujahid said that the Ayah, وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا (and if anyone saved a life, it would be as if he saved the life of all mankind) means, "He who does not kill anyone, then the lives of people are safe from him." Warning Those who Commit Mischief Allah said, ... وَلَقَدْ جَاء تْهُمْ رُسُلُنَا بِالبَيِّنَاتِ ... And indeed, there came to them Our Messengers with Al-Bayyinat, meaning, clear evidences, signs and proofs. ... ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم بَعْدَ ذَلِكَ فِي الاَرْضِ لَمُسْرِفُونَ even then after that many of them continued to exceed the limits in the land! This Ayah chastises and criticizes those who commit the prohibitions, after knowing that they are prohibited from indulging in them. The Jews of Al-Madinah, such as Banu Qurayzah, An-Nadir and Qaynuqa, used to fight along with either Khazraj or Aws, when war would erupt between them during the time of Jahiliyyah. When these wars would end, the Jews would ransom those who were captured and pay the blood money for those who were killed. Allah criticized them for this practice in Surah Al-Baqarah, وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَـقَكُمْ لاَ تَسْفِكُونَ دِمَأءِكُمْ وَلاَ تُخْرِجُونَ أَنفُسَكُمْ مِّن دِيَـرِكُمْ ثُمَّ أَقْرَرْتُمْ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ ثُمَّ أَنتُمْ هَـوُلاَءِ تَقْتُلُونَ أَنفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِيقًا مِّنكُم مِّن دِيَـرِهِمْ تَظَـهَرُونَ علَيْهِم بِالاِثْمِ وَالْعُدْوَنِ وَإِن يَأْتُوكُمْ أُسَـرَى تُفَـدُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُمْ أَفَتُوْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَـبِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَاءُ مَن يَفْعَلُ ذلِكَ مِنكُمْ إِلاَّ خِزْىٌ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ الْقِيَـمَةِ يُرَدُّونَ إِلَى أَشَدِّ الّعَذَابِ وَمَا اللَّهُ بِغَـفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ And (remember) when We took your covenant (saying): Shed not your (people's) blood, nor turn out your own people from their dwellings. Then, (this) you ratified and (to this) you bear witness. After this, it is you who kill one another and drive out a party of your own from their homes, assist (their enemies) against them, in sin and transgression. And if they come to you as captives, you ransom them, although their expulsion was forbidden to you. Then do you believe in a part of the Scripture and reject the rest Then what is the recompense of those who do so among you, except disgrace in the life of this world, and on the Day of Resurrection they shall be consigned to the most grievous torment. And Allah is not unaware of what you do. (2:84-85) The Punishment of those Who Cause Mischief in the Land Allah said next,

ایک بےگناہ شخص کا قتل تمام انسانوں کا قتل فرمان ہے کہ حضرت آدم کے اس لڑکے کے قتل بیجا کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل سے صاف فرما دیا ان کی کتاب میں لکھ دیا اور ان کیلئے اس حکم کو حکم شرعی کر دیا کہ جو شخص کسی ایک کو بلا وجہ مار ڈالے نہ اس نے کسی کو قتل کیا تھا نہ اس نے زمین میں فساد پھیلایا تھا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کیا ، اس لئے کہ اللہ کے نزدیک ساری مخلوق یکساں ہے اور جو کسی بےقصور شخص کے قتل سے باز رہے اسے حرام جانے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو زندگی ، اس لئے کہ یہ سب لوگ اس طرح سلامتی کے ساتھ رہیں گے ۔ امیر المومنین حضرت عثمان کو جب باغی گھیر لیتے ہیں ، تو حضرت ابو ہریرہ ان کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں میں آپ کی طرف داری میں آپ کے مخالفین سے لڑنے کیلئے آیا ہوں ، آپ ملاحظہ فرمایئے کہ اب پانی سر سے اونچا ہو گیا ہے ، یہ سن کر معصوم خلیفہ نے فرمایا ، کیا تم اس بات پر آمادہ ہو کہ سب لوگوں کو قتل کر دو ، جن میں ایک میں بھی ہوں ۔ حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا نہیں نہیں ، فرمایا سنو ایک کو قتل کرنا ایسا برا ہے جیسے سب کو قتل کرنا ۔ جاؤ واپس لوٹ جاؤ ، میری یہی خواہش ہے اللہ تمہیں اجر دے اور گناہ نہ دے ، یہ سن کر آپ واپس چلے گئے اور نہ لڑے ۔ مطلب یہ ہے کہ قتل کا اجر دنیا کی بربادی کا باعث ہے اور اس کی روک لوگوں کی زندگی کا سبب ہے ۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں ایک مسلمان کا خون حلال کرنے والا تمام لوگوں کا قاتل ہے اور ایک مسلم کے خون کو بچانے والا تمام لوگوں کے خون کو گویا بچا رہا ہے ۔ ایک مسلمان کا خون حلال کرنے والا تمام لوگوں کا قاتل ہے اور ایک مسلم کے خون کو بچانے والا تمام لوگوں کے خون کو گویا بچا رہا ہے ۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اور عادل مسلم بادشاہ کو قتل کرنے والے پر ساری دنیا کے انسانوں کے قتل کا گناہ ہے اور نبی اور امام عادل کے بازو کو مضبوط کرنا دنیا کو زندگی دینے کے مترادف ہے ( ابن جریر ) ایک اور روایت میں ہے کہ ایک کو بےوجہ مار ڈالتے ہی جہنمی ہو جاتا ہے گویا سب کو مار ڈالا ۔ مجاہد فرماتے ہیں مومن کو بےوجہ شرعی مار ڈالنے والا جہنمی دشمن رب ، ملعون اور مستحق سزا ہو جاتا ہے ، پھر اگر وہ سب لوگوں کو بھی مار ڈالتا تو اس سے زیادہ عذاب اسے اور کیا ہوتا ؟ جو قتل سے رک جائے گویا کہ اس کی طرف سے سب کی زندگی محفوظ ہے ۔ عبد الرحمن فرماتے ہیں ایک قتل کے بدلے ہی اس کا خون حلال ہو گیا ، یہ نہیں کہ کئی ایک کو قتل کرے ، جب ہی وہ قصاص کے قابل ہو ، اور جو اسے زندگی دے یعنی قاتل کے ولی سے درگزر کرے اور اس نے گویا لوگوں کو زندگی دی ۔ اور یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ جس نے انسان کی جان بچا لی مثلاً ڈوبتے کو نکال لیا ، جلتے کو بچا لیا ، کسی کو ہلاکت سے ہٹا لیا ۔ مقصد لوگوں کو خون ناحق سے روکنا اور لوگوں کی خیر خواہی اور امن و امان پر آمادہ کرنا ہے ۔ حضرت حسن سے پوچھا گیا کہ کیا بنی اسرائیل جس طرح اس حکم کے مکلف تھے ، ہم بھی ہیں ، فرمایا ہاں یقینا اللہ کی قسم! بنو اسرائیل کے خون اللہ کے نزدیک ہمارے خون سے زیادہ بوقعت نہ تھے ، پس ایک شخص کا بےسبب قتل سب کے قتل کا بوجھ ہے اور ایک کی جان کے بچاؤ کا ثواب سب کو بچا لینے کے برابر ہے ۔ ایک مرتبہ حضرت حمزہ بن عبد المطلب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسی بات بتائیں کہ میری زندگی با آرام گزرے ۔ آپ نے فرمایا کیا کسی کو مار ڈالنا تمہیں پسند ہے یا کسی کو بچا لینا تمہیں محبوب ہے؟ جواب دیا بچا لینا ، فرمایا بس اب اپنی اصلاح میں لگے رہو ۔ پھر فرماتا ہے ان کے پاس ہمارے رسول واضح دلیلیں اور روشن احکام اور کھلے معجزات لے کر آئے لیکن اس کے بعد بھی اکثر لوگ اپنی سرکشی اور دراز دستی سے باز نہ رہے ۔ بنو قینقاع کے یہود و بنو قریظہ اور بنو نضیر وغیرہ کو دیکھ لیجئے کہ اوس اور خزرج کے ساتھ مل کر آپس میں ایک دوسرے سے لڑتے تھے اور لڑائی کے بعد پھر قیدیوں کے فدیئے دے کر چھڑاتے تھے اور مقتول کی دیت ادا کرتے تھے ۔ جس پر انہیں قرآن میں سمجھایا گیا کہ تم سے عہد یہ لیا گیا تھا کہ نہ تو اپنے والوں کے خون بہاؤ ، نہ انہیں دیس سے نکالو لیکن تم نے باوجود پختہ اقرار اور مضبوط عہد پیمان کے اس کے خلاف گو فدیئے ادا کئے لیکن نکالنا بھی تو حرام تھا ، اس کے کیا معنی کہ کسی حکم کو مانو اور کسی سے انکار کر ، ایسے لوگوں کو سزا یہی ہے کہ دنیا میں رسوا اور ذلیل ہوں اور آخرت میں سخت تر عذابوں کا شکار ہوں ، اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ۔ ( محاربہ ) کے معنی حکم کے خلاف کرنا ، برعکس کرنا ، مخالفت پر تل جانا ہیں ۔ مراد اس سے کفر ، ڈاکہ زنی ، زمین میں شورش و فساد اور طرح طرح کی بدامنی پیدا کرنا ہے ، یہاں تک کہ سلف نے یہ بھی فرمایا ہے کہ سکے کو توڑ دینا بھی زمین میں فساد مچانا ہے ۔ قرآن کی ایک اور آیت میں ہے جب وہ کسی اقتدار کے مالک ہو جاتے ہیں تو فساد پھیلا دیتے ہیں اور کھیت اور نسل کو ہلاک کرنے لگتے ہیں اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتا ۔ یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ اس لئے کہ اس میں یہ بھی ہے کہ جب ایسا شخص ان کاموں کے بعد مسلمانوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہونے سے پہلے ہی توبہ تلا کر لے تو پھر اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں ، برخلاف اس کے اگر مسلمان ان کاموں کو کرے اور بھاگ کر کفار میں جا ملے تو حد شرعی سے آزاد نہیں ہوتا ۔ ابن عباس فرماتے ہیں یہ آیت مشرکوں کے بارے میں اتری ہے ، پھر ان میں سے جو کئی مسلمان کے ہاتھ آ جانے سے پہلے توبہ کر لے تو جو حکم اس پر اس کے فعل کے باعث ثابت ہو چکا ہے وہ ٹل نہیں سکتا ۔ فساد اور قتل و غارت حضرت ابی سے مروی ہے کہ اہل کتاب کے ایک گروہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاہدہ ہو گیا تھا لیکن انہوں نے اسے توڑ دیا اور فساد مچا دیا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا کہ اگر آپ چاہیں تو انہیں قتل کر دیں ، چاہیں تو الٹے سیدھے ہاتھ پاؤں کٹوا دیں ۔ حضرت سعد فرماتے ہیں یہ حروریہ خوارج کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ صحیح یہ ہے کہ جو بھی اس فعل کا مرتکب ہو اس کیلئے یہ حکم ہے ۔ چنانچہ بخاری مسلم میں ہے کہ قبیلہ عکل کے آٹھ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، آپ نے ان سے فرمایا اگر تم چاہو تو ہمارے چرواہوں کے ساتھ چلے جاؤ اونٹوں کا دودھ اور پیشاب تمہیں ملے گا چنانچہ یہ گئے اور جب ان کی بیماری جاتی رہی تو انہوں نے ان چرواہوں کو مار ڈالا اور اونٹ لے کر چلتے بنے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے صحابہ کو ان کے پیچھے دوڑایا کہ انہیں پکڑ لائیں ، چنانچہ یہ گرفتار کئے گئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے ۔ پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے اور آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں اور دھوپ میں پڑے ہوئے تڑپ تڑپ کر مر گئے ۔ مسلم میں ہے یا تو یہ لوگ عکل کے تھے یا عرینہ کے ۔ یہ پانی مانگتے تھے مگر انہیں پانی نہ دیا گیا نہ ان کے زخم دھوئے گئے ۔ انہوں نے چوری بھی کی تھی ، قتل بھی کیا تھا ، ایمان کے بعد کفر بھی کیا تھا اور اللہ رسول سے لڑتے بھی تھے ۔ انہوں نے چرواہوں کی آنکھوں میں گرم سلائیاں بھی پھیری تھیں ، مدینے کی آب و ہوا اس وقت درست نہ تھی ، سرسام کی بیماری تھی ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے بیس انصاری گھوڑ سوار بھیجے تھے اور ایک کھوجی تھا ، جو نشان قدم دیکھ کر رہبری کرتا جاتا تھا ۔ موت کے وقت ان کی پیاس کے مارے یہ حالت تھی کہ زمین چاٹ رہے تھے ، انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے ۔ ایک مرتبہ حجاج نے حضرت انس سے سوال کیا کہ سب سے بڑی اور سب سے سخت سزا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو دی ہو ، تم بیان کرو تو آپ نے یہ واقعہ بیان فرمایا ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ یہ لوگ بحرین سے آئے تھے ، بیماری کی وجہ سے ان کے رنگ زرد پڑ گئے تھے اور پیٹ بڑھ گئے تھے تو آپ نے انہیں فرمایا کہ جاؤ اونٹوں میں رہو اور ان کا دودھ اور پیشاب پیو ۔ حضرت انس فرماتے ہیں پھر میں نے دیکھا کہ حجاج نے تو اس روایت کو اپنے مظالم کی دلیل بنا لی تب تو مجھے سخت ندامت ہوئی کہ میں نے اس سے یہ حدیث کیوں بیان کی؟ اور روایت میں ہے کہ ان میں سے چار شخص تو عرینہ قبیلے کے تھے اور تین عکل کے تھے ، یہ سب تندرست ہو گئے تو یہ مرتد بن گئے ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ راستے بھی انہوں نے بند کر دیئے تھے اور زنا کار بھی تھے ، جب یہ آئے تو اب سب کے پاس بوجہ فقیری پہننے کے کپڑے تک نہ تھے ، یہ قتل و غارت کر کے بھاگ کر اپنے شہر کو جا رہے تھے ۔ حضرت جریر فرماتے ہیں کہ یہ اپنی قوم کے پاس پہنچنے والے تھے جو ہم نے انہیں جا لیا ۔ وہ پانی مانگتے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ، اب تو پانی کے بدلے جہنم کی آگ ملے گی ۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ آنکھوں میں سلائیاں پھیرنا اللہ کو ناپسند آیا ، یہ حدیث ضعیف اور غریب ہے لیکن اس سے یہ معلوم ہوا کہ جو لشکر ان مرتدوں کے گرفتار کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا ، ان کے سردار حضرت جریر تھے ۔ ہاں اس روایت میں یہ فقرہ بالکل منکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیرنا مکروہ رکھا ۔ اس لئے کہ صحیح مسلم میں یہ موجود ہے کہ انہوں نے چرواہوں کے ساتھ بھی یہی کیا تھا ، پس یہ اس کا بدلہ اور ان کا قصاص تھا جو انہوں نے ان کے ساتھ کیا تھا وہی ان کے ساتھ کیا گیا واللہ اعلم ۔ اور روایت میں ہے کہ یہ لوگ بنو فزارہ کے تھے ، اس واقعہ کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سزا کسی کو نہیں دی ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام تھا ، جس کا نام یسار تھا چونکہ یہ بڑے اچھے نمازی تھے ، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا تھا اور اپنے اونٹوں میں انہیں بھیج دیا تھا کہ یہ ان کی نگرانی رکھیں ، انہی کو ان مرتدوں نے قتل کیا اور ان کی آنکھوں میں کانٹے گاڑ کر اونٹ لے کر بھاگ گئے ، جو لشکر انہیں گرفتار کر کے لایا تھا ، ان میں ایک شاہ زور حضرت کرز بن جابر فہری تھے ۔ حافظ ابو بکر بن مردویہ نے اس روایت کے تمام طریقوں کو جمع کر دیا اللہ انہیں جزائے خیر دے ۔ ابو حمزہ عبد الکریم سے اونٹوں کے پیشاب کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ ان محاربین کا قصہ بیان فرماتے ہیں اس میں یہ بھی ہے کہ یہ لوگ منافقانہ طور پر ایمان لائے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مدینے کی آب و ہوا کی ناموافقت کی شکایت کی تھی ، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی دغا بازی اور قتل و غارت اور ارتداد کا علم ہوا ، تو آپ نے منادی کرائی کہ اللہ کے لشکریو اٹھ کھڑے ہو ، یہ آواز سنتے ہی مجاہدین کھڑے ہو گئے ، بغیر اس کے کہ کوئی کسی کا انتظار کرے ان مرتد ڈاکوؤں اور باغیوں کے پیچھے دوڑے ، خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کو روانہ کر کے ان کے پیچھے چلے ، وہ لوگ اپنی جائے امن میں پہنچنے ہی کو تھے کہ صحابہ نے انہیں گھیر لیا اور ان میں سے جتنے گرفتار ہو گئے ، انہیں لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا اور یہ آیت اتری ، ان کی جلاوطنی یہی تھی کہ انہیں حکومت اسلام کی حدود سے خارج کر دیا گیا ۔ پھر ان کو عبرتناک سزائیں دی گئیں ، اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے بھی اعضاء بدن سے جدا نہیں کرائے بلکہ آپ نے اس سے منع فرمایا ہے ، جانوروں کو بھی اس طرح کرنا منع ہے ۔ بعض روایتوں میں ہے کہ قتل کے بعد انہیں جلا دیا گیا ، بعض کہتے ہیں یہ بنو سلیم کے لوگ تھے ۔ بعض بزرگوں کا قول ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سزا انہیں دی وہ اللہ کو پسند نہ آئیں اور اس آیت سے اسے منسوخ کر دیا ۔ ان کے نزدیک گویا اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سزا سے روکا گیا ہے ۔ جیسے آیت ( عفا اللہ عنک ) میں اور بعض کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مثلہ کرنے سے یعنی ہاتھ پاؤں کان ناک کاٹنے سے جو ممانعت فرمائی ہے ، اس حدیث سے یہ سزا منسوخ ہو گئی لیکن یہ ذرا غور طلب ہے پھر یہ بھی سوال طلب امر ہے کہ ناسخ کی تاخیر کی دلیل کیا ہے؟ بعض کہتے ہیں حدود اسلام مقرر ہوں اس سے پہلے کا یہ واقعہ ہے لیکن یہ بھی کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا ، بلکہ حدود کے تقرر کے بعد کا واقعہ معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ اس حدیث کے ایک راوی حضرت جریر بن عبداللہ ہیں اور ان کا اسلام سورہ مائدہ کے نازل ہو چکنے کے بعد کا ہے ۔ بعض کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیرنی چاہی تھیں لیکن یہ آیت اتری اور آپ اپنے ارادے سے باز رہے ، لیکن یہ بھی درست نہیں ۔ اس لئے کہ بخاری و مسلم میں یہ لفظ ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں سلائیں پھروائیں ۔ محمد بن عجلان فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سخت سزا انہیں دی ، اس کے انکار میں یہ آیتیں اتری ہیں اور ان میں صحیح سزا بیان کی گئی ہے جو قتل کرنے اور ہاتھ پاؤں الٹی طرف سے کاٹنے اور وطن سے نکال دینے کے حکم پر شامل ہے چنانچہ دیکھ لیجئے کہ اس کے بعد پھر کسی کی آنکھوں میں سلائیاں پھیرنی ثابت نہیں ، لیکن اوزاعی کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک نہیں کہ اس آیت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل پر آپ کو ڈانٹا گیا ہو ، بات یہ ہے کہ انہوں نے جو کیا تھا اس کا وہی بدلہ مل گیا ، اب آیت نازل ہوئی جس نے ایک خاص حکم ایسے لوگوں کا بیان فرمایا اور اس میں آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیرنے کا حکم نہیں دیا ۔ اس آیت سے جمہور علماء نے دلیل پکڑی ہے کہ راستوں کی بندش کر کے لڑنا اور شہروں میں لڑنا دونوں برابر ہے کیونکہ لفظ ( ویسعون فی الارض فسادا ) کے ہیں ۔ مالک ، اوزاعی ، لیث ، شافعی ، ، احمد رحمہم اللہ اجمعین کا یہی مذہب ہے کہ باغی لوگ خواہ شہر میں ایسا فتنہ مچائیں یا بیرون شہر ، ان کی سزا یہی ہے کہ بلکہ امام مالک تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دوسرے کو اس کے گھر میں اس طرح دھوکہ دہی سے مار ڈالے تو اسے پکڑ لیا جائے اور اسے قتل کر دیا جائے اور خود امام وقت ان کاموں کو از خود کرے گا ، نہ کہ مقتول کے اولیاء کے ہاتھ میں یہ کام ہوں بلکہ اگر وہ درگزر کرنا چاہیں تو بھی ان کے اختیار میں نہیں بلکہ یہ جرم ، بےواسطہ حکومت اسلامیہ کا ہے ۔ امام ابو حنیفہ کا مذہب یہ نہیں ، وہ کہتے ہیں کہ مجاربہ اسی وقت مانا جائے گا جبکہ شہر کے باہر ایسے فساد کوئی کرے ، کیونکہ شہر میں تو امداد کا پہنچنا ممکن ہے ، راستوں میں یہ بات ناممکن سی ہے جو سزا ان محاربین کی بیان ہوئی ہے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جو شخص مسلمانوں پر تلوار اٹھائے ، راستوں کو پُر خطر بنا دے ، امام المسلمین کو ان تینوں سزاؤں میں سے جو سزا دینا چاہے اس کا اختیار ہے ۔ یہی قول اور بھی بہت سوں کا ہے اور اس طرح کا اختیار ایسی ہی اور آیتوں کے احکام میں بھی موجود ہے جیسے محرم اگر شکار کھیلے تو اس کا بدلہ شکار کے برابر کی قربانی یا مساکین کا کھانا ہے یا اس کے برابر روزے رکھنا ہے ، بیماری یا سر کی تکلیف کی وجہ سے حالت احرام میں سر منڈوانے اور خلاف احرام کام کرنے والے کے فدیئے میں بھی روزے یا صدقہ یا قربانی کا حکم ہے ۔ قسم کے کفارے میں درمیانی درجہ کا کھانا دیں مسکینوں کا یا ان کا کپڑا یا ایک غلام کو آزاد کرنا ہے ۔ تو جس طرح یہاں ان صورتوں میں سے کسی ایک کے پسند کر لینے کا اختیار ہے ، اسی طرح ایسے محارب ، مرتد لوگوں کی سزا بھی یا تو قتل ہے یا ہاتھ پاؤں الٹی طرح سے کاٹنا ہے یا جلا وطن کرنا ۔ اور جمہور کا قول ہے کہ یہ آیت کئی احوال میں ہے ، جب ڈاکو قتل و غارت دونوں کے مرتکب ہوتے ہوں تو قابل دار اور گردن وزنی ہیں اور جب صرف قتل سرزد ہوا ہو تو قتل کا بدلہ صرف قتل ہے اور اگر فقط مال لیا ہو تو ہاتھ پاؤں الٹے سیدھے کاٹ دیئے جائیں گے اور اگر راستے پُر خطر کر دیئے ہوں ، لوگوں کو خوف زدہ کر دیا ہو اور کسی گناہ کے مرتکب نہ ہوئے ہوں اور گرفتار کر لئے جائیں تو صرف جلاوطنی ہے ۔ اکثر سلف اور ائمہ کا یہی مذہب ہے پھر بزرگوں نے اس میں بھی اختلاف کیا ہے کہ آیا سولی پر لٹکا کر یونہی چھوڑ دیا جائے کہ بھوکا پیاسا مر جائے؟ یا نیزے وغیرہ سے قتل کر دیا جائے؟ یا پہلے قتل کر دیا جائے پھر سولی پر لٹکایا جائے تا کہ اور لوگوں کو عبرت حاصل ہو؟ اور کیا تین دن تک سولی پر رہنے دے کر پھر اتار لیا جائے؟ یا یونہی چھوڑ دیا جائے لیکن تفسیر کا یہ موضوع نہیں کہ ہم ایسے جزئی اختلافات میں پڑیں اور ہر ایک کی دلیلیں وغیرہ وارد کریں ۔ ہاں ایک حدیث میں کچھ تفصیل سزا ہے ، اگر اس کی سند صحیح ہو تو وہ یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان محاربین کے بارے میں حضرت جبرائیل سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا جنہوں نے مال چرایا اور راستوں کو خطرناک بنا دیا ان کے ہاتھ تو چوری کے بدلے کاٹ دیجئے اور جس نے قتل اور دہشت گردی پھیلائی اور بدکاری کا ارتکاب کیا ہے ، اسے سولی چڑھا دو ۔ فرمان ہے کہ زمین سے الگ کر دیئے جائیں یعنی انہیں تلاش کر کے ان پر حد قائم کی جائے یا وہ دار الاسلام سے بھاگ کر کہیں چلے جائیں یا یہ کہ ایک شہر سے دوسرے شہر اور دوسرے سے تیسرے شہر انہیں بھیج دیا جاتا رہے یا یہ کہ اسلامی سلطنت سے بالکل ہی خارج کر دیا جائے ۔ شعبی تو نکال ہی دیتے تھے اور عطا خراسانی کہتے ہیں ایک لشکر میں سے دوسرے لشکر میں پہنچا دیا جائے یونہی کئی سال تک مارا مارا پھرایا جائے لیکن دار الاسلام سے باہر نہ کیا جائے ۔ ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں اسے جیل خانے میں ڈال دیا جائے ۔ ابن جریر کا مختار قول یہ ہے کہ اسے اس کے شہر سے نکال کر کسی دوسرے شہر کے جیل خانے میں ڈال دیا جائے ۔ ایسے لوگ دنیا میں ذلیل و رذیل اور آخرت میں بڑے بھاری عذابوں میں گرفتار ہوں گے ۔ آیت کا یہ ٹکڑا تو ان لوگوں کی تائید کرتا ہے جو کہتے ہیں کہ یہ آیت مشرکوں کے بارے میں اتری ہے اور مسلمانوں کے بارے وہ صحیح حدیث ہے جس میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ویسے ہی عہد لئے جیسے عورتوں سے لئے تھے کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ، چوری نہ کریں ، زنا نہ کریں ، اپنی اولادوں کو قتل نہ کریں ، ایک دوسرے کی نافرمانی نہ کریں جو اس وعدے کو نبھائے ، اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اور جو ان میں سے کسی گناہ کے ساتھ آلودہ ہو جائے پھر اگر اسے سزا ہو گئی تو وہ سزا کفارہ بن جائے گی اور اگر اللہ تعالیٰ نے پردہ پوشی کر لی تو اس امر کا اللہ ہی مختار ہے اگر چاہے عذاب کرے ، اگر چاہے چھوڑ دے ۔ اور حدیث میں ہے جس کسی نے کوئی گناہ کیا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے ڈھانپ لیا اور اس سے چشم پوشی کر لی تو اللہ کی ذات اور اس کا رحم و کرم اس سے بہت بلند و بالا ہے ، معاف کئے ہوئے جرائم کو دوبارہ کرنے پہ اسے دنیوی سزا ملے گی ، اگر بےتوبہ مر گئے تو آخرت کی وہ سزائیں باقی ہیں جن کا اس وقت صحیح تصور بھی محال ہے ہاں توبہ نصیب ہو جائے تو اور بات ہے ۔ پھر توبہ کرنے والوں کی نسبت جو فرمایا ہے اس کا اظہار اس صورت میں تو صاف ہے کہ اس آیت کو مشرکوں کے بارے میں نازل شدہ مانا جائے ۔ لیکن جو مسلمان مغرور ہوں اور وہ قبضے میں آنے سے پہلے توبہ کرلیں تو ان سے قتل اور سولی اور پاؤں کاٹنا تو ہٹ جاتا ہے لیکن ہاتھ کا کٹنا بھی ہٹ جاتا ہے یا نہیں ، اس میں علماء کے دو قول ہیں ، آیت کے ظاہری الفاظ سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ سب کچھ ہٹ جائے ، صحابہ کا عمل بھی اسی پر ہے ۔ چنانچہ جاریہ بن بدر تیمی بصری نے زمین میں فساد کیا ، مسلمانوں سے لڑا ، اس بارے میں چند قریشیوں نے حضرت علی سے سفارش کی ، جن میں حضرت حسن بن علی ، حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت عبداللہ بن جعفر بھی تھے لیکن آپ نے اسے امن دینے سے انکار کر دیا ۔ وہ سعید بن قیس ہمدانی کے پاس آیا ، آپ نے اپنے گھر میں اسے ٹھہرایا اور حضرت علی کے پاس آئے اور کہا بتایئے تو جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑے اور زمین میں فساد کی سعی کرے پھر ان آیتوں کی ( قبل ان تقدروا علیھم ) تک تلاوت کی تو آپ نے فرمایا میں تو ایسے شخص کو امن لکھ دوں گا ، حضرت سعید نے فرمایا یہ جاریہ بن بدر ہے ، چنانچہ جاریہ نے اس کے بعد ان کی مدح میں اشعار بھی کہے ہیں ۔ قبیلہ مراد کا ایک شخص حضرت ابو موسیٰ اشعری کے پاس کوفہ کی مسجد میں جہاں کے یہ گورنر تھے ، ایک فرض نماز کے بعد آیا اور کہنے لگا اے امیر کوفہ فلاں بن فلاں مرادی قبیلے کا ہوں ، میں نے اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی لڑی ، زمین میں فساد کی کوشش کی لیکن آپ لوگ مجھ پر قدرت پائیں ، اس سے پہلے میں تائب ہو گیا اب میں آپ سے پناہ حاصل کرنے والے کی جگہ پر کھڑا ہوں ۔ اس پر حضرت ابو موسیٰ کھڑے ہو گئے اور فرمایا اے لوگو! تم میں سے کوئی اب اس توبہ کے بعد اس سے کسی طرح کی لڑائی نہ کرے ، اگر یہ سچا ہے تو الحمدللہ اور یہ جھوٹا ہے تو اس کے گناہ ہی اسے ہلاک کر دیں گے ۔ یہ شخص ایک مدت تک تو ٹھیک ٹھیک رہا لیکن پھر بغاوت کر گیا ، اللہ نے بھی اس کے گناہوں کے بدلے اسے غارت کر دیا اور یہ مار ڈالا گیا ۔ علی نامی ایک اسدی شخص نے بھی گزر گاہوں میں دہشت پھیلا دی ، لوگوں کو قتل کیا ، مال لوٹا ، بادشاہ لشکر اور رعایا نے ہر چند اسے گرفتار کرنا چاہا ، لیکن یہ ہاتھ نہ لگا ۔ ایک مرتبہ یہ جنگل میں تھا ، ایک شخص کو قرآن پڑھتے سنا اور وہ اس وقت یہ آیت تلاوت کر رہا تھا آتی ( قل یا عبادی الذین اسرفوا ) الخ ، یہ اسے سن کر رک گیا اور اس سے کہا اے اللہ کے بندے یہ آیت مجھے دوبارہ سنا ، اس نے پھر پڑھی اللہ کی اس آواز کو سن کر وہ فرماتا ہے اے میرے گنہگار بندو تم میری رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ ، میں سب گناہوں کو بخشنے پر قادر ہوں میں غفور و رحیم ہوں ۔ اس شخص نے جھٹ سے اپنی تلوار میان میں کر لی ، اسی وقت سچے دل سے توبہ کی اور صبح کی نماز سے پہلے مدینے پہنچ گیا ، غسل کیا اور مسجد نبوی میں نماز صبح جماعت کے ساتھ ادا کی اور حضرت ابو ہریرہ کے پاس جو لوگ بیٹھے تھے ، ان ہی میں ایک طرف یہ بھی بیٹھ گیا ۔ جب دن کا اجالا ہوا تو لوگوں نے اسے دیکھ کر پہچان لیا کہ یہ تو سلطنت کا باغی ، بہت بڑا مجرم اور مفرور شخص علی اسدی ہے ، سب نے چاہا کہ اسے گرفتار کرلیں ۔ اس نے کہا سنو بھائیو! تم مجھے گرفتار نہیں کر سکتے ، اس لئے کہ مجھ پر تمہارے قابو پانے سے پہلے ہی میں تو توبہ کر چکا ہوں بلکہ توبہ کے بعد خود تمہارے پاس آ گیا ہوں ، حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا! یہ سچ کہتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر مروان بن حکم کے پاس لے چلے ، یہ اس وقت حضرت معاویہ کی طرف سے مدینے کے گورنر تھے ، وہاں پہنچ کر فرمایا کہ یہ علی اسدی ہیں ، یہ توبہ کر چکے ہیں ، اس لئے اب تم انہیں کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ چنانچہ کسی نے اس کے ساتھ کچھ نہ کیا ، جب مجاہدین کی ایک جماعت رومیوں سے لڑنے کیلئے چلی تو ان مجاہدوں کے ساتھ یہ بھی ہو لئے ، سمندر میں ان کی کشتی جا رہی تھی کہ سامنے سے چند کشتیاں رومیوں کی آ گئیں ، یہ اپنی کشتی میں سے رومیوں کی گردنیں مارنے کیلئے ان کی کشتی میں کود گئے ، ان کی آبدار خارا شگاف تلوار کی چمک کی تاب رومی نہ لا سکے اور نامردی سے ایک طرف کو بھاگے ، یہ بھی ان کے پیچھے اسی طرف چلے چونکہ سارا بوجھ ایک طرف ہو گیا ، اس لئے کشتی الٹ گئی جس سے وہ سارے رومی کفار ہلاک ہو گئے اور حضرت علی اسدی بھی ڈوب کر شہید ہو گے ( اللہ ان پر اپنی رحمتیں ناز فرمائے )

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

32۔ 1 اس قتل ناحق کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسانی جان کی قدر و قیمت کو واضح کرنے کے لئے بنو اسرائیل پر یہ حکم نازل فرمایا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ کے ہاں انسانی خون کی کتنی اہمیت اور تکریم ہے اور یہ اصول صرف بنی اسرائیل ہی کے لئے نہیں تھا، اسلام کی تعلیمات کے مطابق بھی یہ اصول ہمیشہ کے لئے ہے۔ سلیمان بن ربعی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن (بصری) سے پوچھا یہ آیت ہمارے لئے بھی ہے جس طرح بنو اسرائیل کے لئے تھی، انہوں نے فرمایا، ہاں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ بنو اسرائیل کے خون اللہ کے ہاں ہمارے خونوں سے زیادہ قابل احترام نہیں تھے (تفسیر ابن کثیر) 32۔ 2 اس میں یہود کو تنبیہ اور ملامت ہے کہ ان کے پاس انبیاء دلائل لے کر آتے رہے۔ لیکن ان کا رویہ ہمیشہ حد سے تجاوز کرنے والا ہی رہا اس میں گویا نبی کو تسلی دی جا رہی ہے کہ یہ آپ کو قتل کرنے اور نقصان پہنچانے کی جو سازش کرتے رہتے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں، ان کی ساری تاریخ ہی مکرو و فساد سے بھری ہوئی ہے۔ آپ بہرحال اللہ پر بھروسہ رکھیں جو خیرالماکرین ہے۔ تمام سازشوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٤] جن صورتوں میں قتل جائز ہے :۔ شریعت نے صرف تین صورتوں میں قتل کو جائز قرار دیا ہے (١) قتل کے بدلے قتل یعنی قصاص (٢) شادی شدہ مرد یا عورت اگر زنا کرے تو حد قائم کرنے کی صورت میں انہیں رجم کر کے مار ڈالنا اور (٣) ارتداد کے جرم میں قتل کرنا۔ ان تینوں صورتوں کے علاوہ جو بھی قتل ہوگا وہ قتل ناحق اور فساد فی الارض کے ضمن میں ہی آئے گا اور ایسے ہی قتل کے متعلق یہ لکھا تھا کہ جس نے ایک آدمی کو بھی ناحق قتل کیا اس نے گویا سب لوگوں کو قتل کیا۔ کیونکہ ایسا آدمی پوری انسانیت کا اور امن عامہ کا دشمن ہوتا ہے اور دوسرے لوگ بھی اسے یہ جرم کرتے دیکھ کر اس پر دلیر ہوجاتے ہیں لہذا اس جرم کی سزا کا اظہار ان الفاظ سے کیا گیا اور بنی اسرائیل چونکہ اس جرم کا ارتکاب کرتے رہتے تھے اس لیے بطور خاص ان الفاظ سے تنبیہ کی گئی ہے اور اس جرم کے برعکس اگر کوئی شخص کسی کو مظلومانہ موت سے نجات دلا کر بچا لیتا ہے تو وہ بھی اتنی ہی بڑی نیکی ہے کیونکہ ایسا شخص انسانیت کا ہمدرد اور امن عامہ میں ممد و معاون بنتا ہے۔ اب اسی ضمن میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے۔ (١) قتل ناحق کے گناہ کا حصہ آدم کے پہلے بیٹے پر :۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا & جو شخص بھی مظلوم قتل ہوتا ہے تو اس کے خون کا گناہ آدم کے پہلے بیٹے پر بھی لاد دیا جاتا ہے کیونکہ وہی پہلا شخص ہے جس نے قتل کو جاری کیا۔ & (بخاری۔ کتاب بدء الخلق باب اذ قال ربک للملئِکۃ۔ نیز کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۔ باب من دعا الی ضلالۃ مسلم۔ کتاب القسامۃ باب اثم من سنّ القتل ) (٢) سیدنا انس کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا & اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم & صحابہ نے عرض کیا & مظلوم کی مدد تو ٹھیک ہے مگر ظالم کی کیسے مدد کریں ؟ & فرمایا & ظلم سے اس کا ہاتھ پکڑ لو & (بخاری۔ کتاب المظالم۔ باب اعن اخاک ظالما او مظلوما مسلم۔ کتاب الفتن۔ باب اذا توجہ المسلمان بسیفھما) (٣) سیدنا جریر فرماتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے مجھے فرمایا کہ & لوگوں کو چپ کراؤ & (میں نے چپ کرا دیا) تو آپ نے فرمایا & لوگو ! میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں مار کر کافر نہ بن جانا & (بخاری کتاب العلم۔ باب الانصات للعلماء ) تیسری حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کا قاتل مسلمان نہیں رہتا بلکہ کافر ہوجاتا ہے۔ [٦٥] بینات سے مراد معجزات انبیاء بھی ہوسکتے ہیں۔ جن سے ان انبیاء کی نبوت کی تصدیق بھی مطلوب ہوتی ہے یعنی انبیاء کی تصدیق ہوجانے کے بعد بھی بنی اسرائیل ان کا انکار ہی کرتے رہے۔ ان سے دشمنی بھی رکھی۔ ان کی راہ میں روڑے بھی اٹکائے۔ حتیٰ کہ انہیں ناحق قتل ہی کیا اور بینات سے مراد واضح احکام بھی ہیں یعنی ٹھیک ٹھیک احکام دیئے جانے کے باوجود بھی ان میں سے اکثر لوگ فساد فی الارض کے مرتکب ہی رہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ ۃ كَتَبْنَا عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : دیکھیے اس سے پہلے آیت (٢٧) کا حاشیہ (٣) حسن بصری (رح) نے فرمایا کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل کے لیے نہیں ہے بلکہ سب لوگوں کے لیے ہے، کیونکہ بنی اسرائیل کے خون دوسرے مسلمانوں کے خون سے زیادہ قیمتی نہ تھے۔ (ابن کثیر) وَمَنْ اَحْيَاهَا فَكَاَنَّمَآ : یعنی اگر ایک شخص کو مرنے سے بچا لے گا تو اس کا ثواب اتنا ہے گویا سب کو بچا لیا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ۝ ٠ۚۛؔ كَتَبْنَا عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِي الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا۝ ٠ۭ وَمَنْ اَحْيَاہَا فَكَاَنَّمَآ اَحْيَا النَّاسَ جَمِيْعًا۝ ٠ۭ وَلَقَدْ جَاۗءَتْہُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنٰتِ۝ ٠ۡثُمَّ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنْہُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِي الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ۝ ٣٢ كتب ( فرض) ويعبّر عن الإثبات والتّقدیر والإيجاب والفرض والعزم بِالْكِتَابَةِ ، ووجه ذلك أن الشیء يراد، ثم يقال، ثم يُكْتَبُ ، فالإرادة مبدأ، والکِتَابَةُ منتهى. ثم يعبّر عن المراد الذي هو المبدأ إذا أريد توكيده بالکتابة التي هي المنتهى، قال : كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي [ المجادلة/ 21] ، وقال تعالی: قُلْ لَنْ يُصِيبَنا إِلَّا ما كَتَبَ اللَّهُ لَنا [ التوبة/ 51] ، لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ [ آل عمران/ 154] نیز کسی چیز کے ثابت کردینے اندازہ کرنے ، فرض یا واجب کردینے اور عزم کرنے کو کتابہ سے تعبیر کرلیتے ہیں اس لئے کہ پہلے پہل تو کسی چیز کے متعلق دل میں خیال پیدا ہوتا ہے پھر زبان سے ادا کی جاتی ہے اور آخر میں لکھ جاتی ہے لہذا ارادہ کی حیثیت مبداء اور کتابت کی حیثیت منتھیٰ کی ہے پھر جس چیز کا ابھی ارادہ کیا گیا ہو تاکید کے طورپر اسے کتب س تعبیر کرلیتے ہیں جو کہ دراصل ارادہ کا منتہیٰ ہے ۔۔۔ چناچہ فرمایا : كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي[ المجادلة/ 21] خدا کا حکم ناطق ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور غالب رہیں گے ۔ قُلْ لَنْ يُصِيبَنا إِلَّا ما كَتَبَ اللَّهُ لَنا [ التوبة/ 51] کہہ دو کہ ہم کو کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی بجز اس کے کہ جو خدا نے ہمارے لئے مقدر کردی ہے ۔ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ [ آل عمران/ 154] تو جن کی تقدیر میں مار جانا لکھا تھا ۔ وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف ضرو ر نکل آتے ۔ اِسْرَاۗءِيْلَ ( بني) ، جمع ابن، والألف في ابن عوض من لام الکلمة المحذوفة فأصلها بنو .(إسرائيل) ، علم أعجمي، وقد يلفظ بتخفیف الهمزة إسراييل، وقد تبقی الهمزة وتحذف الیاء أي إسرائل، وقد تحذف الهمزة والیاء معا أي : إسرال . نفس الَّنْفُس : الرُّوحُ في قوله تعالی: أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] قال : وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] ، وقوله : تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] ، وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، وهذا۔ وإن کان قد حَصَلَ من حَيْثُ اللَّفْظُ مضافٌ ومضافٌ إليه يقتضي المغایرةَ ، وإثباتَ شيئين من حيث العبارةُ- فلا شيءَ من حيث المعنی سِوَاهُ تعالیٰ عن الاثْنَوِيَّة من کلِّ وجهٍ. وقال بعض الناس : إن إضافَةَ النَّفْسِ إليه تعالیٰ إضافةُ المِلْك، ويعني بنفسه نُفُوسَنا الأَمَّارَةَ بالسُّوء، وأضاف إليه علی سبیل المِلْك . ( ن ف س ) النفس کے معنی روح کے آتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] کہ نکال لو اپنی جانیں ۔ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] اور جان رکھو جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے ۔ اور ذیل کی دونوں آیتوں ۔ تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] اور جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے میں اسے نہیں جنتا ہوں ۔ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے اور یہاں نفسہ کی اضافت اگر چہ لفظی لحاظ سے مضاف اور مضاف الیہ میں مغایرۃ کو چاہتی ہے لیکن من حیث المعنی دونوں سے ایک ہی ذات مراد ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ ہر قسم کی دوائی سے پاک ہے بعض کا قول ہے کہ ذات باری تعالیٰ کی طرف نفس کی اضافت اضافت ملک ہے اور اس سے ہمارے نفوس امارہ مراد ہیں جو ہر وقت برائی پر ابھارتے رہتے ہیں ۔ فسد الفَسَادُ : خروج الشیء عن الاعتدال، قلیلا کان الخروج عنه أو كثيرا،. قال تعالی: لَفَسَدَتِ السَّماواتُ وَالْأَرْضُ [ المؤمنون/ 71] ، ( ف س د ) الفساد یہ فسد ( ن ) الشئی فھو فاسد کا مصدر ہے اور اس کے معنی کسی چیز کے حد اعتدال سے تجاوز کر جانا کے ہیں عام اس سے کہ وہ تجاوز کم ہو یا زیادہ قرآن میں ہے : ۔ لَفَسَدَتِ السَّماواتُ وَالْأَرْضُ [ المؤمنون/ 71] تو آسمان و زمین ۔۔۔۔۔ سب درہم برہم ہوجائیں ۔ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ جمع الجَمْع : ضمّ الشیء بتقریب بعضه من بعض، يقال : جَمَعْتُهُ فَاجْتَمَعَ ، وقال عزّ وجل : وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] ، وَجَمَعَ فَأَوْعى [ المعارج/ 18] ، جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] ، ( ج م ع ) الجمع ( ف ) کے معنی ہیں متفرق چیزوں کو ایک دوسرے کے قریب لاکر ملا دینا ۔ محاورہ ہے : ۔ چناچہ وہ اکٹھا ہوگیا ۔ قرآن میں ہے ۔ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے ۔ ( مال ) جمع کیا اور بند رکھا ۔ جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] مال جمع کرتا ہے اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، أي : هم متلذّذون، لما روي في الأخبار الکثيرة في أرواح الشّهداء والخامسة : الحیاة الأخرويّة الأبديّة، وذلک يتوصّل إليه بالحیاة التي هي العقل والعلم، قال اللہ تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] والسادسة : الحیاة التي يوصف بها الباري، فإنه إذا قيل فيه تعالی: هو حيّ ، فمعناه : لا يصحّ عليه الموت، ولیس ذلک إلّا لله عزّ وجلّ. ( ح ی ی ) الحیاۃ ) زندگی ، جینا یہ اصل میں حیی ( س ) یحییٰ کا مصدر ہے ) کا استعمال مختلف وجوہ پر ہوتا ہے ۔ ( 1) قوت نامیہ جو حیوانات اور نباتات دونوں میں پائی جاتی ہے ۔ اسی معنی کے لحاظ سے نوبت کو حیہ یعنی زندہ کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ ۔ ( 2 ) دوم حیاۃ کے معنی قوت احساس کے آتے ہیں اور اسی قوت کی بناء پر حیوان کو حیوان کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] اور زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں ۔ ( 3 ) قوت عاملہ کا عطا کرنا مراد ہوتا ہے چنانچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ ( 4 ) غم کا دور ہونا مراد ہوتا ہے ۔ اس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( خفیف ) جو شخص مرکر راحت کی نیند سوگیا وہ درحقیقت مردہ نہیں ہے حقیقتا مردے بنے ہوئے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا وہ مرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں ۔ میں شہداء کو اسی معنی میں احیاء یعنی زندے کہا ہے کیونکہ وہ لذت و راحت میں ہیں جیسا کہ ارواح شہداء کے متعلق بہت سی احادیث مروی ہیں ۔ ( 5 ) حیات سے آخرت کی دائمی زندگی مراد ہوتی ہے ۔ جو کہ علم کی زندگی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے : قرآن میں ہے : ۔ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی ( جادواں ) بخشتا ہے۔ ( 6 ) وہ حیات جس سے صرف ذات باری تعالیٰ متصف ہوتی ہے ۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کی صفت میں حی کہا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ذات اقدس ہوئی ہے جس کے متعلق موت کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ۔ پھر دنیا اور آخرت کے لحاظ بھی زندگی دو قسم پر ہے یعنی حیات دنیا اور حیات آخرت چناچہ فرمایا : ۔ فَأَمَّا مَنْ طَغى وَآثَرَ الْحَياةَ الدُّنْيا [ النازعات/ 38] تو جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھنا ۔ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] ( ر س ل ) الرسل الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ اور کبھی اس سے مراد انبیا (علیہ السلام) ہوتے ہیں جیسے فرماٰیا وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بڑھ کر اور کیا کہ ایک رسول ہے اور بس بينات يقال : بَانَ واسْتَبَانَ وتَبَيَّنَ نحو عجل واستعجل وتعجّل وقد بَيَّنْتُهُ. قال اللہ سبحانه : وَقَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنْ مَساكِنِهِمْ [ العنکبوت/ 38] فِيهِ آياتٌ بَيِّناتٌ [ آل عمران/ 97] ، وقال : شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ [ البقرة/ 185] . ويقال : آية مُبَيَّنَة اعتبارا بمن بيّنها، وآية مُبَيِّنَة اعتبارا بنفسها، وآیات مبيّنات ومبيّنات . ( ب ی ن ) البین کے معنی ظاہر اور واضح ہوجانے کے ہیں اور بینہ کے معنی کسی چیز کو ظاہر اور واضح کردینے کے قرآن میں ہے ۔ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنا بِهِمْ [إبراهيم/ 45] اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح ( کاملہ ) کیا تھا ۔ وَقَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنْ مَساكِنِهِمْ [ العنکبوت/ 38] چناچہ ان کے ( ویران ) گھر تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں ۔ ۔ فِيهِ آياتٌ بَيِّناتٌ [ آل عمران/ 97] اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں ۔ شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ [ البقرة/ 185] ( روزوں کا مہنہ ) رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن ( وال وال ) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے ۔ كثر الْكِثْرَةَ والقلّة يستعملان في الكمّيّة المنفصلة كالأعداد قال تعالی: وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] ( ک ث ر ) کثرت اور قلت کمیت منفصل یعنی اعداد میں استعمال ہوتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر اور بڑ ھیگا ۔ سرف السَّرَفُ : تجاوز الحدّ في كلّ فعل يفعله الإنسان، وإن کان ذلک في الإنفاق أشهر . قال تعالی: وَالَّذِينَ إِذا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا[ الفرقان/ 67] ، وَلا تَأْكُلُوها إِسْرافاً وَبِداراً [ النساء/ 6] ، ويقال تارة اعتبارا بالقدر، وتارة بالکيفيّة، ولهذا قال سفیان : ( ما أنفقت في غير طاعة اللہ فهو سَرَفٌ ، وإن کان قلیلا) قال اللہ تعالی: وَلا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ [ الأنعام/ 141] ، وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحابُ النَّارِ [ غافر/ 43] ، أي : المتجاوزین الحدّ في أمورهم، وقال : إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ [ غافر/ 28] ، وسمّي قوم لوط مسرفین من حيث إنهم تعدّوا في وضع البذر في الحرث المخصوص له المعنيّ بقوله : نِساؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ [ البقرة/ 223] ، وقوله : يا عِبادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلى أَنْفُسِهِمْ [ الزمر/ 53] ، فتناول الإسراف في المال، وفي غيره . وقوله في القصاص : فَلا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ [ الإسراء/ 33] ، فسرفه أن يقتل غير قاتله، إمّا بالعدول عنه إلى من هو أشرف منه، أو بتجاوز قتل القاتل إلى غيره حسبما کانت الجاهلية تفعله، وقولهم : مررت بکم فَسَرِفْتُكُمْ أي : جهلتكم، من هذا، وذاک أنه تجاوز ما لم يكن حقّه أن يتجاوز فجهل، فلذلک فسّر به، والسُّرْفَةُ : دویبّة تأكل الورق، وسمّي بذلک لتصوّر معنی الإسراف منه، يقال : سُرِفَتِ الشجرةُ فهي مسروفة . ( س ر ف ) السرف کے معنی انسان کے کسی کام میں حد اعتدال سے تجاوز کر جانے کے ہیں مگر عام طور پر استعمال اتفاق یعنی خرچ کرنے میں حد سے تجاوز کرجانے پر ہوتا پے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَالَّذِينَ إِذا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا[ الفرقان/ 67] اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بیچا اڑاتے ہیں اور نہ تنگی کو کام میں لاتے ہیں ۔ وَلا تَأْكُلُوها إِسْرافاً وَبِداراً [ النساء/ 6] اور اس خوف سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے ( یعنی بڑی ہو کہ تم سے اپنا کا مال واپس لے لیں گے ) اسے فضول خرچی اور جلدی میں نہ اڑا دینا ۔ اور یہ یعنی بےجا سرف کرنا مقدار اور کیفیت دونوں کے لحاظ سے بولاجاتا ہے چناچہ حضرت سفیان ( ثوری ) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی میں ایک حبہ بھی صرف کیا جائے تو وہ اسراف میں داخل ہے ۔ قرآن میں ہے : وَلا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ [ الأنعام/ 141] اور بےجانہ اڑان کہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا ۔ وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحابُ النَّارِ [ غافر/ 43] اور حد سے نکل جانے والے دوزخی ہیں ۔ یعنی جو اپنے امور میں احد اعتدال سے تجاوز کرتے ہیں إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ [ غافر/ 28] بیشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جا حد سے نکل جانے والا ( اور ) جھوٹا ہے ۔ اور قوم لوط (علیہ السلام) کو بھی مسرفین ( حد سے تجاوز کرنے والے ) کیا گیا ۔ کیونکہ وہ بھی خلاف فطرف فعل کا ارتکاب کرکے جائز حدود سے تجاوز کرتے تھے اور عورت جسے آیت : نِساؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ [ البقرة/ 223] تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں ۔ میں حرث قرار دیا گیا ہے ۔ میں بیچ بونے کی بجائے اسے بےمحل ضائع کر ہے تھے اور آیت : يا عِبادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلى أَنْفُسِهِمْ [ الزمر/ 53] ( اے پیغمبر میری طرف سے لوگوں کو کہدد کہ ) اے میرے بندو جہنوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی میں اسرفوا کا لفظ مال وغیرہ ہر قسم کے اسراف کو شامل ہے اور قصاص کے متعلق آیت : فَلا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ [ الإسراء/ 33] تو اس کا چاہئے کہ قتل ( کے قصاص ) میں زیادتی نہ کرے ۔ میں اسراف فی القتل یہ ہے کہ غیر قاتل کو قتل کرے اس کی دو صورتیں ہی ۔ مقتول سے بڑھ کر باشرف آدمی کو قتل کرنے کی کوشش کرے ۔ یا قاتل کے علاوہ دوسروں کو بھی قتل کرے جیسا کہ جاہلیت میں رواج تھا ۔ عام محاورہ ہے ۔ کہ تمہارے پاس سے بیخبر ی میں گزر گیا ۔ تو یہاں سرفت بمعنی جھلت کے ہے یعنی اس نے بیخبر ی میں اس حد سے تجاوز کیا جس سے اسے تجاوز نہیں کرنا چاہئے تھا اور یہی معنی جہالت کے ہیں ۔ السرفتہ ایک چھوٹا سا کیڑا جو درخت کے پتے کھا جاتا ہے ۔ اس میں اسراف کو تصور کر کے اسے سرفتہ کہا جاتا ہے پھر اس سے اشتقاق کر کے کہا جاتا ہے ۔ سرفت الشجرۃ درخت کرم خور دہ ہوگیا ۔ اور ایسے درخت کو سرقتہ ( کرم خوردہ ) کہا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (من اجل ذلک کتبنا علی بنی اسرائیل اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ فرمان لکھ دیا تھا) تاآخر آیت۔ اس میں اس بات کا اظہار ہے جس کے سبب بنی اسرائیل پر وہ فرمان لکھ دیا تھا جس کا ذکر آیت کے اندر ہے۔ یہ اس لئے تھا کہ بنی اسرائیل کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کریں۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ بعض اوقات نصوص ایسے معانی لے کر وارد ہوتے ہیں جن کا احکام کے اثبات کے سلسلے میں دوسری چیزوں کے اندر بھی اعتبار کرنا واجب ہوتا ہے اس میں قیاس کے اثبات کی دلیل موجود ہے نیز یہ کہ ان معانی کا اعتبار بھی واجب ہے جن کے ساتھ احکام کو معلق کردیا گیا ہے اور جنہیں ان احکام کے لئے علل اور نشانات کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ فساد بھی قابل گردن زدنی ہے قول باری ہے (من قتل نفسا بغیر نفس او فساد فی الارض، جس نے کسی انسان کے خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کردیا) یہ اس پر دلالت کرتا ہے جو شخص جان کے بدلے کسی کی جان لے لے اس پر کوئی گرفت نہیں۔ نیز یہ کہ جو شخص ناحق کسی کی جان لے لے وہ سزائے موت یعنی قتل کا مستوجب ہے اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ زمین میں فساد پھیلانے کے اندر وہ سبب موجود ہے جس کی بنا پر فسادی قابل گردن زونی قرار دیا جاتا ہے۔ قول باری ہے (فکانما قتل الناس جمیعا۔ اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا) اس کی تفسیر میں کئی وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ اس فعل کے مرتکب پر پڑنے والے بوجھ کی سنگینی کا اظہار ہے۔ ایک اور وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ انسانوں کے ہر قاتل کا گناہ اس پر پڑے گا اس لئے کہ قتل کا ارتکاب کر کے اس نے دوسروں کے لئے اس بھیانک جرم کی راہیں کھول دیں اور اس فعل کو آسان بنادیا اس لئے اس کی حیثیت یہ ہوگئی کہ گویا قتل کے ہر جرم میں اس کی شرکت ہوگئی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (ما من قاتل ظلما الاوعلیٰ ابن آدم کفل من الاثم لانہ سن القتل، جو شخص بھی ظلماً کسی کو قتل کرے گا اس کے گناہ کا ایک حصہ آدم (علیہ السلام) کے قاتل بیٹے کے سر ڈالا جائے گا اس لئے کہ اس نے ہی قتل کا طریقہ جاری کیا تھا) آپ کا یہ بھی ارشاد ہے (من سن سنۃ حسنۃ فلہ اجرھا واجر من عمل بھا الی یوم القیامۃ ومن سن سنۃ سیئۃ فعلیہ وزرھا ووزر من عمل بھا الی یوم القیامۃ جس شخصنے کسی نیکی کی ابتدا کی اسے اس کا اجر ملے گا اور قیامت تک اس نیکی پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی اسے ملتا رہے گا۔ اسی طرح جس شخص نے کسی برائی کی ابتداء کی اس پر اس کے گناہ کا بوجھ پڑے گا اور قیامت تک اس برائی پر چلنے والے لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی اس پر ڈالا جائے گا۔ تیسری وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ تمام لوگوں پر مقتول کے ولی کی معاونت لازم ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ سب مل کر قاتل سے بدلہ لے لیتے ہیں۔ اس طرح تمام لوگ قصاص لئے جانے تک اس مقدمے میں مدعی کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ صورت بن جاتی ہے کہ قاتل نے گویا ان تمام لوگوں کے آدمیوں کو قتل کردیا ہے۔ قاتل گروہ سے قصاص لینا واجب ہے یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ ایک گروہ نے مل کر کسی کو قتل کردیا تو اس پورے گروہ سے قصاص لینا واجب ہوگا اس لئے کہ اس گروہ کی حیثیت یہ ہوگی کہ گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا۔ قول باری (ومن احیاھا فکانما احیا الناس جیمعا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کی زندگی بخش دی) مجاہد کا قول ہے کہ (من احیاھا) کے معنی ” جس نے کسی کی زندگی ہلاک ہونے سے بچا لی۔ “ حسن کا قول ہے ” جس نے قصاص واجب ہوجانے کے باوجود قاتل کا خون معاف کردیا “ دوسرے اہل علم کا قول ہے ایسے طریقے سے کسی کی جان لینے سے باز رکھا جس میں اسے زندگی مل جائے “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں یہ احتمال ہے کہ احیاء یعنی زندگی بخش دینے سے یہ مراد ہے کہ مقتول کے ولی کی پوری معاونت کی جائے تاکہ وہ قاتل کو قتل کر کے مقتول کا قصاص لے لے، اس لئے کہ قصاص لینے میں زندگی ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے (ولکم فی القصاص حیوۃ تمہارے لئے قصاص لینے میں زندگی ہے) ۔ یہ بھی احتمال ہے کہ ’ احیا ‘ سے یہ مراد ہو کہ جو شخص ازروئے ظلم کسی کی جان کے درپے ہوجائے اسے قتل کردیا جائے۔ اس طرح قتل ہوتے ہوتے بچ جانے والے شخص کو زندگی مل جائے گی اور مذکورہ شخص کو قتل کرنے والے کی حیثیت یہ ہوجائے گی کہ گویا اس نے تمام لوگوں کو زندگی بخش دی۔ اس لئے کہ یہ کارروائی دوسرے لوگوں کے لئے جو ناحق قتل کے درپے ہوں، اپنے فعل سے باز رہنے کا ذریعہ بن جائے گی اور اس بات میں تمام لوگوں کے لئے زندگی ہوگی۔ خواہ وہ قتل کا ارادہ رکھتے ہوں یا قتل کا نشانہ بننے والے ہوں۔ اس آیت سے اجتہادی مسائل کا خلاصہ یہ آیت احکام پر کئی طرح کے دلائل کو متضمن ہے۔ ایک تو یہ آیت کی اس امر پر دلالت ہے کہ احکام ایسے معانی اور علل کے ساتھ وارد ہوتے ہیں جن کی موجودگی کا اعتبار واجب ہوتا ہے۔ یہ چیز قیاس کی صحت پر دلالت کرتی ہے۔ دوم جان کے بدلے جان لینے کی اباحت، سوم جس شخص نے ناحق کسی کی جان لی ہو وہ سزائے موت یعنی قتل کا مستوجب ہوتا ہے۔ چہارم جو شخص کسی مسلمان کو ظلماً قتل کرنے کا ارادہ کرتا ہے وہ قتل کا مستحق قرار پاتا ہے۔ اس لئے کہ قول باری (من قتل نفسا بغیر نفس) جس طرح جان کے بدلے جان کے وجوب پر دلالت کرتا ہے اسی طرح یہ اس شخص کے قتل کے وجوب پر بھی دلالت کرتا ہے جو کسی اور کو قتل کرنے کا قصد اور ارادہ کرے اس لئے کہ اس کی زندگی تلف کرنے کے نفس کے ارادے کے ساتھ ہی وہ مقتول بن جاتا ہے۔ پنجم زمین میں فساد پھیلانے والا قتل کا مستحق ہوتا ہے۔ ششم قول باری (فکانما قتل الناس جیمعا) میں یہ احتمال ہے کہ اس قاتل کے بعد ہر آنے والے قاتل کا گناہ بھی اس کے سر ہوگا اس لئے کہ اس نے قتل کے برے کام کی بنیاد رکھی تھی اور دوسروں کے لئے اسے آسان کردیا تھا۔ ہفتم عام لوگوں پر مقتول کے ولی کی اعانت لازم ہے یہاں تک کہ سب مل کر قاتل سے اس کے خون کا بدلہ لے لیں۔ ہشتم آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر ایک گروہ ایک شخص کو قتل کر دے تو پورے گروہ سے قصاص لینا واجب ہے۔ نہم قول باری (فکانما احیا الناس جمیعا) قاتل کو قتل کرنے پر مقتول کے ولی کی اعانت پر دلالت کرتی ہے۔ دہم، جو شخص کسی کو ظلماً قتل کرنے کی ٹھان لے اسے قتل کردینے پر اس قول کی دلالت ہو رہی ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٢) قابیل کے ہابیل کو ظلما قتل کرنے کی وجہ سے توریت میں بنی اسرائیل پر یہ مقرر کردیا ہے کہ جو کسی شخص کو دانستہ قتل کرے تو ایک تو ایک شخص کے قتل کی وجہ سے اس پر دوزخ لازم ہوگئی یہ ایسا ہی ہے کہ وہ تمام انسانوں کو مار ڈالے ، اور جو قتل سے اپنا ہاتھ روکے تو ایک شخص سے ہاتھ روکنے کی وجہ سے اس کے لیے جنت ثابت ہوگئی یہ ایسا ہی ہے کہ جیسا کہ اس نے تمام لوگوں کو بچا لیا۔ اور بنی اسرائیل کی طرف اوامر ونواہی اور دلائل کے ساتھ سے بہت سے رسول آئے مگر وہ زیادتی کرنے والے ہی رہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٢ (مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَج کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ) (مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ ج ) والا فقرہ پچھلی آیت کے ساتھ بھی پڑھا جاسکتا ہے اور اس آیت کے ساتھ بھی ‘ یہ دونوں طرف بامعنی بن سکتا ہے۔ (اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَیْرِ نَفْسٍ ) یعنی اگر کسی نے قتل کیا ہے اور وہ اس کے قصاص میں قتل کیا جائے تو یہ قتل ناحق نہیں ہے۔ (اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ ) اگر کوئی شخص ملک میں فساد پھیلانے کا مجرم ہے اور اسے اس جرم کی سزا کے طور پر قتل کردیا جائے تو اس کا قتل بھی قتل ناحق نہیں۔ لیکن ان صورتوں کے علاوہ اگر کسی نے کسی بےقصور انسان کا قتل کردیا۔ (فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا ط) ۔ اس کا یہ فعل ایسا ہی ہے جیسے اس نے پوری نوع انسانی کو تہہ تیغ کردیا۔ اس لیے کہ اس نے قتل ناحق سے تمدن و معاشرت کی جڑ کاٹ ڈالی۔ جان اور مال کا احترام ہی تو تمدن کی جڑ اور بنیاد ہے۔ (وَمَنْ اَحْیَاہَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا ط) (وَلَقَدْ جَآءَ تْہُمْ رُسُلُنَا بالْبَیِّنٰتِ ز) (ثُمَّ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ ) اب آیت محاربہ آرہی ہے جو اسلامی قوانین کے لحاظ سے بہت اہم آیت ہے۔ محاربہ یہ ہے کہ اسلامی ریاست میں کوئی گروہ فتنہ و فساد مچا رہا ہے ‘ دہشت گردی کر رہا ہے ‘ خونریزی اور قتل و غارت کر رہا ہے ‘ راہزنی اور ڈاکہ زنی کر رہا ہے ‘ گینگ ریپ ہو رہے ہیں۔ اس آیت میں ایسے لوگوں کی سزا بیان ہوئی ہے۔ لیکن واضح رہے کہ یہ اسلامی ریاست کی بات ہو رہی ہے ‘ جہاں اسلامی قانون نافذ ہو ‘ جہاں اسلام کا پورا نظام قائم ہو۔ ورنہ اگر نظام ایسا ہو کہ جھوٹی گواہیاں دینے والے کھلے عام سودے کر رہے ہوں ‘ ایمان فروش موجود ہوں ‘ ججوں کو خریدا جاسکتا ہو اور ایسے نظام کے تحت شرعی قوانین کا نفاذ کردیا جائے تو پھر اس سے جو نتائج نکلیں گے ان سے شریعت الٹا بدنام ہوگی۔ لہٰذا ریاست میں حکومتی نظام اور مروّجہ قوانین دونوں کا درست ہونا لازمی ہے۔ اگر ایسا ہوگا تو یہ دونوں ایک دوسرے کو مضبوط و مستحکم کریں گے اور اسی صورت میں مطلوبہ نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

53.Since the same qualities which had been displayed by the wrong doing son of Adam were manifest in the Children of Israel, God strongly urged them not to kill human beings and couched His command in forceful terms. It is a pity that the precious words which embody God's ordinance are to be found nowhere in the Bible today. The Talmud, however, does mention this subject in the following words: To him who kills a single individual of Israel, it shall be reckoned as if he had slain the whole race and he who preserves a single individual of Israel, it shall be reckoned in the Book of God as if he had preserved the whole world. The Talmud also mentions that in trials for murder, the Israelite judges used to address the witnesses as follows: Whoever kills one person, merits punishment as if he had slain all the men in the world. 54. This means that the survival of human life depends on everyone respecting other human beings and in contributing actively to the survival and protection of others. Whosoever kills unrighteously is thus not merely guilty of doing wrong to one single person, but proves by his act that his heart is devoid of respect for human life and of sympathy for the human species as such. Such a person, therefore, is an enemy of all mankind. This is so because he happens to be possessed of a quality which, were it to become common to all men, would lead to the destruction of the entire human race. The person who helps to preserve the life of even one person, on the other hand, is the protector of the whole of humanity, for he possesses a quality which is indispensable to the survival of mankind.

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :53 یعنی چونکہ بنی اسرائیل کے اندر انہی صفات کے آثار پائے جاتے تھے جن کا اظہار آدم کے اس ظالم بیٹے نے لیا تھا ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل نفس سے باز رہنے کی سخت تاکید کی تھی اور اپنے فرمان میں یہ الفاظ لکھے تھے ۔ افسوس ہے کہ آج جو بائیبل پائی جاتی ہے وہ فرمان خداوندی کے ان قیمتی الفاظ سے خالی ہے ۔ البتہ تلمود میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے:” جس نے اسرائیل کی ایک جان کو ہلاک کیا ، کتاب اللہ کی نگاہ میں اس نے گویا ساری دنیا کو ہلاک کیا ، اور جس نے اسرائیل کی ایک جان کو محفوظ رکھا ، کتاب اللہ کے نزدیک اس نے گویا ساری دنیا کی حفاظت کی“ ۔ اسی طرح تلمود میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ قتل کے مقدمات میں بنی اسرائیل کے قاضی گواہوں کو خطاب کر کے کہا کرتے تھے کہ”جو شخص ایک انسان کی جان ہلاک کرتا ہے وہ ایسی باز پرس کا مستحق ہے کہ گویا اس نے دنیا بھر کے انسانوں کو قتل کیا ہے“ ۔ سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :54 مطلب یہ ہے کہ دنیا میں نوع انسانی کی زندگی کا بقا منحصر ہے اس پر کہ ہر انسان کے دل میں دوسرے انسانوں کی جان کا احترام موجود ہو اور ہر ایک دوسرے کی زندگی کے بقاء و تحفظ میں مدد گار بننے کا جذبہ رکھتا ہو ۔ جو شخص ناحق کسی کی جان لیتا ہے وہ صرف ایک ہی فرد پر ظلم نہیں کرتا بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ اس کا دل حیات انسانی کے احترام سے اور ہمدردی نوع کے جذبہ سے خالی ہے ، لہٰذا وہ پوری انسانیت کا دشمن ہے ، کیونکہ اس کے اندر وہ صفت پائی جاتی ہے جو اگر تمام افراد انسانی میں پائی جائے تو پوری نوع کا خاتمہ ہو جائے ۔ اس کے برعکس جو شخص انسان کی زندگی کے قیام میں مدد کرتا ہے وہ درحقیقت انسانیت کا حامی ہے ، کیونکہ اس میں وہ صفت پائی جاتی ہے جس پر انسانیت کے بقاء کا انحصار ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

25: مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کے خلاف قتل کا یہ جرم پوری انسانیت کے خلاف جرم ہے کیونکہ کوئی شخص قتل ناحق کا ارتکاب اسی وقت کرتا ہے جب اس کے دل سے انسان کی حرمت کا حساس مٹ جائے، ایسی صورت میں اگر اس کے مفاد یا سرشت کا تقاضا ہوگا تو وہ کسی اور کو بھی قتل کرنے سے دریغ نہیں کرے گا، اور اس طرح پوری انسانیت اس کی مجرمانہ ذہنیت کی زد میں رہے گی، نیز جب اس ذہنیت کا چلن عام ہوجائے تو تمام انسان غیر محفوظ ہوجاتے ہیں ؛ لہذا قتل ناحق کا ارتکاب چاہے کسی کے خلاف کیا گیا ہو تمام انسانوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ جرم ہم سب کے خلاف کیا گیا ہے

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

یہ آیت گویا ہابیل اور قابیل کے قصہ کا نتیجہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب ایک بھائی نے ایک ذرا سے حسد پر اپنے بھائی کو بےدھڑک مارڈالا اور اس کے خون ناحق کا کچھ بھی خیال نہ کیا بلکہ آئندہ خون ناحق کا اوروں کے لئے دنیا میں ایک راستہ ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس گناہ عظیم کے روکنے کا یہ انتظام فرمایا کہ تورات میں بنی اسرائیل کو خون ناحق سے روکنے کے لئے یہ تاکید فرما دی کہ جو شخص ایک خون ناحق کرے گا تو اس کو خون ناحق کا پھیلانے والا شمار کیا جائے گا اور یہ رسم پھیل کر دنیا میں جس قدر خون ناحق ہوں گے ہر ایک خون کے وقت قابیل کی طرح اس رسم کے پھیلانے والے شخص کے نامہ اعمال میں بھی ایک خون کا وبال لکھا جائے گا۔ اور جو شخص مظلوموں کی مدد کرے گا خون ناحق کو روکے گا وہ شخص اس رسم بد کا روکنے والا اور ایک جہان بھر کی زیست اور امن کے اجر کا باعث ٹھہرے گا۔ آگے فرمایا کہ باوجود اس سخت حکم کے بنی اسرائیل کی جرأت قابیل سے بھی بڑھ گئی کہ انہوں نے عام لوگوں کے خون ناحق کے علاوہ انبیاء کے خون ناحق کی جرأت بھی کی جس کا خمیازہ ایک دن وہ بھگتیں گے۔ بنی اسرائیل نے انبیاء اور علماء کو جو شہید کیا اس کا ذکر سورة آل عمران میں گزرچکا ہے۔ صحیح مسلم میں جریر بن عبد اللہ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص کسی نیک کام کا رواج پھیلا دے گا اس کو اس کا بھی اجر ملے گا۔ اور قیامت تک جو شخص اس نیک کام پر عمل کرنے والے شخص کی برابر اس نیک کام کے رواج پھیلانے کا بھی اجر ملے گا ١ ؎۔ پھر فرمایا یہی حال بدکام کے رواج پھیلانے والے کا ہے۔ یہ حدیث اس آیت کی گویا تفسیر ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت اگرچہ یہود کی شان میں ہے لیکن اس کے حکم میں امت محمدیہ بھی شریک ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(5:32) مسرفون ۔ اسراف سے حد اعتدال یا حد مقررہ سے آگے بڑھنے والے۔ بیجا صرف کرنے والے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی بھائی کے مر نے پر نہ کہ اپنے فعل پر کیونکہ اگر وہ اپنے فعل پر ندامت کا اظہار اور تو بہ کرتا گناہ معاف ہوجاتا اور دنیا میں جو قتل ہوئے ہیں اس کا گناہ اس پر نہ ہوتا (قرطبی)6 یعنی ایسے شخص کو ناحق مار ڈالے جس نے نہ کوئی خون کیا ہو نہ ازراہ بغاوت کوئی فساد برپا کیا ہو۔ گناہ کی شدت بیان کرنے کے لیے جمیعا کہ دیا ہے کہ گو یا سب کو قتل کرڈالا ورنہ اسے گناہ تو ایک کے قتل کا ہی ہوگا یا مطلب یہ ہے کہ جیسے سب کے قتل کرنے سے انسان جہنم میں جائے گا کسی ایک مسلمان کے ناحق قتل کردینے کی سزا بھی جہنم ہے یعنی تشبیہ نہ نفس عتاب کے لحاظ سے ہے کہ کمیت و کیفیت عذا کے اعتبا سے (قرطبی کبیر ) 3 یعنی اگر کسی ایک شخص کو ظالم کے ہاتھ سے بچا لے گا تو اسکا ثواب اتنا ہے گویا سب لوگوں کو بچیا (کذافی الموضح)4 یعنی لوگوں پر ظلم اور دست درازی کرتے رہتے ہیں اور ناحق خون کرنے سے باز نہیں آتے اور اب پیغمبر اور جماعت حقہ کے قتل اور ایذار سانی کے درپے ہیں پھر ان کے مصرف ہونے ہونے میں کیا شبہ ہے ہوسکتا ہے جو کھلے کھلے معجزات دیکھ کر بھی اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے۔5 یعنی اس حکومت کے خلاف بغاوت کرتے ہیں جو اللہ روسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احکام کو نافذ کرنے ولی ہے ارواسلام کی سرزمین میں ڈاکہ زنی لوٹ مار اور قتل وغا رت کا بازار گرم رکھتے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیت نمبر 32 تا 34 لغات القرآن : من اجل ذلک (اسی وجہ سے) ۔ کتبنا (ہم نے لکھ دیا۔ فرض کردیا) ۔ کانما (گویا کہ وہ۔ جیسا کہ وہ) ۔ مسرفون (حس سے آگے بڑھ جانے والے) ۔ یحاربون (محاربۃ) ۔ وہ لڑتے ہیں۔ لڑائی کرتے ہیں) ۔ یسعون (وہ دوڑتے ہیں۔ وہ کوشش کرتے ہیں) ۔ ان یقتلوا (یہ کہ وہ قتل کئے جائیں) ۔ یصلبوا (سولی دئیے جائیں۔ بھانسی پر چڑھا دئیے جائیں) ۔ تقطع (کاٹ دئیے جائیں) ۔ ینفوا (نکال دئیے گئے ۔ نکال دئیے جائیں) ۔ خزی (رسوائی۔ ذلت۔ شرمندگی) ۔ تابوا (توبہ کرلی) ۔ ان یقدروا (یہ کہ تم قابو پاؤ) ۔ اعلموا (جان لو۔ خبردار رہو) ۔ تشریح : اسلامی قوانین میں قتل کے دو ہی جواز ہیں۔ (1) ایک ہے قاتل کا قتل۔ اس میں یہ شرط ہے کہ قاضی عدالت کے حکم سے مقدمہ چلایا گیا ہو اور وہ اپنی تمام قانونی اور عدالتی منزلوں سے گزر چکا ہو۔ (2) دوسرے ملک میں فتنہ فساد کرنے والے یا بغاوت کرنے والوں کا قتل۔ اگر مجرم ایک شخص ہے یا ایک مختصر جماعت ہے تو اس میں بھی قاضی عدالت کے حکم کی شرط ہے۔ جب کہ مقدمہ اپنے تمام ضروری مراحل سے گزر چکا ہو۔ لیکن اگر فتنہ و فساد کرنے والوں کی ایک بڑی منظم یا غیر منظم جماعت ہے تو ان کے خلاف جہاد کی اجازت ہے بلکہ حکم ہے۔ اس کے علاوہ انسانی قتل بدترین ظلم اور جرم ہے۔ انسانی جان کی حرمت کو بتانے کے لئے اس سے زیادہ بھاری جملہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ ” جس نے بلا جواز ایک جان لی اس نے گویا تمام جانیں لے لیں اور جس نے ایک جان بچائی اس نے تمام جانیں بچالیں “ ۔ اسلام میں جرم کی سزاؤں کی تین قسمیں قرار دی گئی ہیں۔ (1) حدود (2) قصاص اور (3) تعزیرات۔ حدود ان جرائم کی سزائیں ہیں جن میں مجموعی طور پر حقوق العباد پامال کئے گئے ہوں اور وہ پانچ ہیں۔ ڈالہ، چوری، زنا، تہمت زنا، شراب نوشی۔ قصاص ان جرائم کی سزائیں ہیں جن میں مجموعی طور پر حقوق العباد پامال کئے گئے ہوں ان میں قتل، اغوا وغیرہ شامل ہیں۔ قرآن و حدیث نے حدود اور قصاص کا بیان پوری تفصیل و تشریح کے ساتھ کردیا ہے اور سزائیں بھی مقرر کردی ہیں۔ اب رہے وہ جرائم جن کا ذکر قرآن و حدیث میں نہیں ہے اور جن کی سزا بدلتے ہوئے حالات کے تحت حاکم وقت کے صواب دید پر چھوڑا گیا ہے۔ انہیں تعزیرات کہتے ہیں۔ حدود میں سزا کی کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی، تبدیلی یا نرمی کی سفارش بھی حرام ہے۔ قصاص میں وہ جس کا آدمی قتل ہوا ہے یا جس کا مالی نقصان ہوا ہے نرمی دکھا سکتا ہے بلکہ معاف کرسکتا ہے۔ اس کی معافی کے باوجود قاضی عدالت کو سزا کا اختیار ہے مگر کمی بیشی حالات کے تحت ہے۔ مندرجہ بالا آیات کے تحت فقہا کہتے ہیں کہ جس شخص نے قتل کیا اس کو بھی قتل کیا جائے۔ جس شخص نے قتل بھی کیا اور مال بھی لوٹا اس کو سولی پر چڑھا دیا جائے۔ جس نے کوئی قتل نہیں کیا صرف مال لوٹا ہے اس کے ہاتھ پاؤں مخالف جانب سے کاٹ دئیے جائیں اور جس نے ہنگامہ فساد کرکے یا لوگوں کو ڈرا کے امن عامہ میں خلل ڈالا ہے اسے جلاوطن کردیا جائے (یا اس کی شہری آزادی چھین کر قید میں ڈال دیا جائے) ان آیات میں اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محاربہ کرنے کے جو الفاظ آئے ہیں۔ تو یہ کون ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں جو جماعت بن کر مسلح ہوکر طاقت کے زور سے حکومت اسلامی میں خون ریز انقلاب لانا چاہتے ہیں یا مسلح ہو کر جماعت بن کر ڈاکہ زنا وغیرہ کرتے ہیں۔ اگر ان میں سے ایک شخص بھی پکڑا جائے تو جماعت کے سارے افراد پر حد شرعی جاری ہوگی کیونکہ وہ شخص جماعت کی طاقت پر اور تعاون سے یہ سب کچھ کر رہا تھا۔ ان آیات میں جو الفاظ آئے ہیں، ” جو لوگ دنیا میں فساد پھیلانے کو بھاگ دوڑ کرتے پھرتے ہیں “ ، تو یہ کون ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں جو اگرچہ جماعت ہوں لیکن مسلح نہ ہوں۔ پہلی قسم باغیوں کی ہے اور ” محاربہ “ کی تعریف میں آتی ہے۔ دوسری قسم ڈاکوؤں ، چوروں ، زانیوں ، شرابیوں وغیرہ کی ہے۔ ان میں بھی کوئی پکڑا جائے گا تو اس کے سارے ساتھیوں کو سزا ہوجائے گی۔ توبہ کی معافی اس دوسری قسم والوں کے لئے ہے بشرطیکہ گرفتاری سے پہلے وہ سچے دل سے توبہ کرلیں اور حکومت بھی مطمئن ہو۔ پہلی قسم والوں کے لئے توبہ کی معافی نہیں ہے۔ یہ تو دنیا کی سزائیں ہیں آخرت کی سزائیں ان کے علاوہ ہیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ بہتر اس لیے فرمایا کہ بعض مطیع و فرمانبردار بھی تھے

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ عربی گرائمر میں ” مَنْ “ کا لفظ سبب کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اس کے دو مفہوم ہیں یہ قانون روز آفرنیش سے ہی لاگو کیا گیا تھا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اسی وجہ سے یعنی قتل و غارت کو روکنے کے لیے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ قانون نافذ کیا کہ اگر کسی شخص نے دوسرے کو ناحق قتل کیا تو قاتل کو اس کے بدلے میں قتل کردیا جائے۔ اور یہی سزا قتل و غارت کرنے والوں کی ہوگی۔ کیونکہ جس نے ایک جان کو قتل کیا گویا کہ وہ پوری انسانیت کا قاتل ٹھہرا۔ جس نے کسی ایک کی جان بچائی اس نے پوری انسانیت کا تحفظ کیا۔ دین اسلام سے بڑھ کر دنیا میں کوئی مذہب اور قانون انسان کو تحفظ نہیں دے سکتا۔ قانون سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پے درپے انبیاء مبعوث فرمائے۔ تاکہ لوگوں کی اخلاقی تربیت فرمائیں کہ لوگ قتل و غارت اور دنگا فساد کرنے سے اجتناب کریں لیکن اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت آپس میں زیادتی کرنے والی ہے۔ (عن عَبْدِ اللّٰہِ (رض) أَنَّ النَّبِیَّ َ قَالَ سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُہُ کُفْرٌ)[ رواہ البخاری : کتاب الایمان، باب خوف المومن من ان یحبط عملہ وہو لا یشعر ] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں بلاشبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے “ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَزَوَال الدُّنْیَا أَہْوَنُ عِنْدَ اللَّہِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ ) [ رواہ النسائی : باب تَعْظِیم الدَّمِ ] ” حضرت عبداللہ بن عمر و (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا دنیا کا ختم ہوجانا اللہ کے ہاں ایک مسلمان کے قتل سے کم تر ہے۔ “ مسائل ١۔ ایک انسان کا قاتل ساری انسانیت کا قاتل ہے۔ ٢۔ ایک انسان کی زندگی بچانے والا ساری انسانیت کی زندگی بچانے والا ہوتا ہے۔ ٣۔ دلائل وبراہین کے آجانے کے بعد ظلم و زیادتی نہیں کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اسراف کرنے والے لوگ : ١۔ جو اسراف کرے اور اللہ کی آیات پر ایمان نہ لائے اسے سزا دی جائے گی۔ (طہ : ١٢٧) ٢۔ فصل کاٹتے وقت اس کا حق ادا کرو اور اسراف نہ کرو۔ (الانعام : ١٤٢) ٣۔ کھاؤ پیو اور اسراف نہ کرو کیونکہ اسراف کرنے والوں کو اللہ دوست نہیں رکھتا۔ (الاعراف : ٣١) ٤۔ رحمن کے بندے خرچ کرتے وقت اسراف نہیں کرتے۔ (الفرقان : ٦٧) ٥۔ اسراف نہ کرو اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والے سے محبت نہیں کرتا۔ (الانعام : ١٤١) ٦۔ اسراف کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔ ( بنی اسرائیل : ٢٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر : ٣٢۔ اس وجہ سے ‘ یعنی انسانیت کے اندر ایسے لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے ‘ امن پسند ‘ صلح کل ‘ نیک فطرت اور پاک طینت لوگوں کے خلاف ایسے جرائم کے ارتکاب کی وجہ سے ‘ جو شر اور ظلم سے بہت دور بھاگتے ہیں ‘ اور اس وجہ سے کہ بعض نہایت ہی فطری سرپسندوں پر واعظ ونصیحت اور ڈراوا کوئی اثر نہیں کرتا اور اس وجہ سے کہ اگر شر انسان کے رگ وپے میں سرایت کر جائئے تو ایسے لوگوں کے ساتھ امن اور آشتی مفید مطلب نہیں ہوتی اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قتل نفس کو گناہ کبیرہ اور جرم عظیم قرار دیا ۔ اسے اس قدر عظیم جرم قرار دیا کہ گویا اس مجرم نے تمام موجودہ انسانی نسل کو قتل کردیا ۔ پھر جس عمل کے ذریعے ایک شخص کی جان بچ جائے تو گویا اس شخص اور اس عمل نے تمام لوگوں کو زندگی بخش دی ۔ یہ بات ہم نے بنی اسرائیل کے لئے شریعت لکھتے وقت مقرر کردی تھی ۔ (تفصیلات احکام قصاص میں آرہی ہیں) کسی کے قصاص میں قتل کئے جانے کے علاوہ قتل کردینا یا فساد فی الارض کو دور کرنے کے لئے کسی کے قتل کے علاوہ ‘ قتل اس قدر عظیم جرم ہے جس طرح کوئی تمام انسانوں کو قتل کر دے ۔ ہر نفس دوسرے نفس کے برابر ہے ۔ زندگی کا حق ہر ایک نفس کو حاصل ہے ۔ لہذا کسی ایک نفس کا قتل کرنا گویا تمام نفوس سے حق زندگی چھین لینے کے برابر ہے اس لئے حق حیات میں تمام نفوس شریک ہیں ۔ اسی طرح قتل سے تحفظ کا حق بھی تمام نفوس کو حاصل ہے اور زندگی کا بچانا سب کے لیے لازمی ہے ۔ چاہے حالت زندگی میں دفاع کیا جائے یا مرنے کے بعد قصاص جاری کر کے زندگی کا دفاع کیا جائے تاکہ مجرم دوسرے نفوس پر دست درازی نہ کرے ۔ اس طرح گویا قانون قصاص تمام زندہ لوگوں کو زندگی دینے کا مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے ۔ کیونکہ قانون قصاص سے زندہ رہنے کا حق فراہم ہوتا ہے جس میں تمام لوگ شریک ہیں ۔ ان احکام کے سلسلے میں ہم نے جو تشریح کی ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم صرف دارالاسلام کے باشندوں پر منطبق ہوتا ہے ۔ مسلم ہوں ‘ ذمی ہوں یا مستامن ہوں۔ رہے اہل حرب (وہ لوگ جن سے مسلم حکومت پر سر جنگ ہے) تو ان کا خون مباح ہے الا یہ کہ ان کے اور دارالاسلام کے باشندوں کے درمیان کوئی معاہدہ ہوجائے ۔ اسی طرح ان کے مال اور جائیداد کو بھی تحفظ حاصل نہ ہوگا ‘ اس لئے ہمیں اس قانون اصول کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہئے ۔ یہ بات بھی ہمیں ذہن نشین کرنا چاہئے کہ دارالاسلام وہ مملکت ہے جس میں اسلامی شریعت نافذ ہو ‘ اور حکومت کے تمام ادارے اس کے مطابق چلتے ہوں اور دارالحرب اور سرزمین ہے جس میں شریعت نافذ نہ ہو اور کاروبار مملکت میں شریعت کے احکام نہ مانے جاتے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر یہ اصول فرض کردیا تھا ‘ اس لئے یہ لوگ اس وقت اہل کتاب تھے ۔ جب تک توراۃ کے مطابق وہ کاروبار حکومت چلاتے اس وقت تک وہ دارالاسلام تصور ہوتے بشرطیکہ وہ احکام شریعت تحریف شدہ نہ ہو ۔ لیکن بنی اسرائیل نے ہمیشہ حدود شریعت سے تجاوز کیا حالانکہ اس ان کے رسول ان کے سامنے واضح طور پر شریعت کے احکام لے کر آئے تھے ۔ خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں اور ان کے بعد کے ادوار میں بھی آج تک ان میں ایسے لوگ بکثرت ہیں جو انکی شریعت توراۃ کی حدود سے تجاوز کرتے تھے ۔ قرآن کریم ان کے اس اسراف ‘ تجاوز اور دست درازی کو یہاں ریکارڈ کر رہا ہے جو بلاسبب تھی اور یہ بھی ریکارڈ پر لایا جاتا ہے کہ اللہ کے مقابلے میں اب ان کے پاس کوئی حجت نہیں ہے ‘ اس لئے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول آئے اور ان رسولوں نے شریعت کے احکام ان کے سامنے بیان کردیئے تھے ۔ (آیت) ” وَلَقَدْ جَاء تْہُمْ رُسُلُنَا بِالبَیِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ کَثِیْراً مِّنْہُم بَعْدَ ذَلِکَ فِیْ الأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ (32) (مگر ان کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسول پے در پے ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں) اور اس سے بڑا اسراف اور زیادتی اور کیا ہوگی کہ کوئی حدود اللہ سے تجاوز کرے اور اللہ کی شریعت پر دست درازی کرے ۔ اس طرح کہ یا تو اس میں تغیر وتبدل کرے اور یا اس کو مہمل چھوڑ دے ۔ سابقہ آیت میں یہ کہا گیا تھا کہ کسی کی جان لینا فساد فی الارض کے ضمن میں آتا ہے اور قاتل اور مفسد دونوں کی زندگی کو تحفظ سے متثنی کردیا گیا تھا ۔ اور یہ کہا گیا تھا کہ کسی کی ناحق جان لینا نہایت ہی گھناؤنا جرم ہے ۔ اس لئے کہ دارالاسلام میں ایک مسلم سوسائٹی کا امن وامان ‘ اور اس کی جانب سے بھلائی کے کاموں کو امن وامان اور سکون و اطمینان کے ساتھ سرانجام دینا بعینہ اسی طرح ضروری ہے جس طرح اسلامی مملکت میں افراد کا امن و سکون سے زندگی گزارنا ضروری ہے ۔ بلکہ اجتماعی امن کی ضرورت انفرادی امن سے زیادہ ہے اس لئے کہ افراد کو امن و سکون تب ہی نصیب ہوتا ہے جب سوسائٹی کو امن و سکون حاصل ہو ۔ نیز یہ بات اس سے بھی اہم ہے کہ اس قسم کی اعلیٰ اور فاضلانہ سوسائٹی کا امن متاثر نہ ہو اور ایسی سوسائٹی کو ہر قسم کے امن اور استحکام کی ضمانت حاصل ہو ۔ کیونکہ اس ضمانت سے اس قسم کی سوسائٹی میں افراد کو امن و سکون ملتا ہے اور وہ آزادی سے سرگرم رہ سکتے ہیں اور امن کے زیر سایہ ہی انسانی زندگی سکون کے ساتھ نشوونما پاتی ہے ۔ امن کی پر سکون فضا ہی میں ہر قسم کی بھلائی ‘ اخلاق فاضلہ ‘ پیداوار اور ترقی تسلسل کے ساتھ جاری رہ سکتی ہے ۔ ایسی ہی سوسائٹی اپنے افراد کو ضروریات زندگی کی ضمانت بھی دے سکتی ہے اور امن ہی ایسا ماحول اور ایسی فضا فراہم کرتا ہے جس کے اندر بھلائی کے بیج بوئے جاتے ہیں اور نشوونما پاتے ہیں ۔ اور اسی میں برائی کے بیج ختم کئے جاتے ہیں ۔ ایسی سوسائٹی کی پالیسی یہ ہوتی ہے کہ وہ بیماریوں کا علاج کرنے سے بھی پہلے حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کام کرتی ہے اور جہاں حفظان صحت کے اصول کام نہ کرسکیں وہاں پھر یہ علاج کرتی ہے ۔ یہ سوسائٹی ایک سلیم الفطرت شخص کے لئے کوئی ایسا موقع ہی باقی نہیں چھوڑتی جس میں وہ شر اور دست درازی پر آمادہ ہو ‘ ایسے حالات کے اندر اور ایسی سوسائٹی کے اندر پھر بھی اگر کوئی امن وامان کو تباہ کرنے پر آمادہ ہوتا ہے تو سمجھو کہ وہ مادہ خبیثہ ہے اور اسے بذریعہ آپریشن سوسائٹی کے وجود سے خارج کرنا ضروری ہے بشرطیکہ علاج کے دوسرے تمام طریقے ناکام ہوجائیں ۔۔۔۔۔ یہ ایسے ہی عناصر ہیں جن کے بارے میں اس آیت میں احکام آئے ہیں :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

جس نے ایک جان کو قتل کیا گویا تمام انسانوں کو قتل کیا یعنی اس وجہ سے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے نے اپنے بھائی پر ظلم و زیادتی کرتے ہوئے قتل کردیا ہم نے نبی اسرائیل پر یہ بات لکھ دی یعنی ان کے لئے شریعت بناد ی اور اس کا اعلان کردیا کہ جو بھی کوئی شخص کسی شخص کو قتل کر دے اور یہ قتل کرنا کسی جان کے عوض نہ ہو اور زمین میں جو فساد ہوا سے روکنے کے لئے نہ ہو تو گویا کہ اس قاتل نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی جان کو زندہ کردیا یعنی کسی جان کو ہلاکت سے بچا لیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندہ کردیا۔ علامہ قرطبی ج ٦ ص ١٤٦ لکھتے ہیں کہ اس آیت میں جو تشبیہ ہے اس کے بارے میں مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں پھر حضرت ابن عباس (رض) وغیرہ کے اقوال نقل کئے ہیں۔ ان میں ایک قول حضرت مجاہد تابعی کا بھی ہے اور وہ یہ کہ جو شخص کسی بھی ایک جان کو بلا وجہ شرعی قصداً قتل کردے تو اس کی سزا جہنم کا داخلہ ہے اور اللہ کا اس پر غضب ہوگا اور اللہ کی اس پر لعنت ہوگی اور اس کے لئے بڑا عذاب ہے جیسا کہ سورة نساہ میں اس کی تصریح ہے اگر کوئی شخص تمام لوگوں کو قتل کر دے تو اس کی سزا اس سے زیادہ نہیں ہے لہٰذا ایک جان کا قتل کرنا اور سب جانوں کا قتل کرنا برابر ہوا لہٰذا کوئی شخص کسی ایک جان کو بھی قتل نہ کرے اسی طرح سے جو شخص قتل کر رہا تھا اور وہ قتل سے رک گیا تو گویا اس نے سب آدمیوں کو بچالیا۔ اور ایک قول علامہ قرطبی نے یہ نقل کیا ہے کہ ایک جان کو قتل کرنے والا کو ایسا گناہ ہوتا ہے جیسا کہ سب لوگوں کو قتل کرنے کا گناہ، یہ قول آیت کے ظاہر الفاظ سے قریب تر ہے اور حدیث شریف میں جو یہ فرمایا ہے کہ لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا الاّ کَانَ علٰی ابْنِ اٰدَمَ الْاَوَّلِ کِفْلٌ مِنْ دَمِھَا لِاَنَّہٗ اَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ (کہ جو شخص بھی ظلماً قتل ہوگا آدم کے پہلے بیٹے پر بھی اس کے قتل کی شرکت رہے گی کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کی بنیاد ڈالی) (رواہ البخاری ومسلم) اس حدیث سے بھی اس قول کی تائید ہوتی ہے، علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ یہ بنی اسرائیل کے ساتھ مخصوص ہے ان پر عذاب میں تغلیظ اور تشدید فرمائی، اس تغلیظ کی وجہ بعض مفسرین نے لکھی ہے کہ بنی اسرائیل پر سب سے پہلے کتاب اللہ یعنی توریت شریف میں قتل نفس کا ممنوع ہونانازل ہوا تھا اگرچہ اس سے پہلے بھی قتل نفس ممنوع تھا لیکن کسی کتاب الہٰی میں ممانعت وارد نہیں ہوئی تھی۔ اور ان لوگوں میں سرکشی اور طغیانی بھی بہت تھی حتیٰ کہ بہت سے انبیاء ( علیہ السلام) کو بھی انہوں نے قتل کردیا۔ اس کے بعد کسی جان کو بچانے کی فضیلت بیان فرمائی۔ (وَ مَنْ اَحْیَاھَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا) (اور جس کسی نے جان کو زندہ رکھا یعنی کسی کی زندگی کے بچنے کا ظاہری سبب بن گیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندہ کیا) ۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کی نافرمانی کا ذکر فرمایا (وَ لَقَدْ جَآءَ تْھُمْ رُسُلُنَا بالْبَبیِّنٰتِ ثُمَّ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ ) (اور ان کے پاس ہمارے رسول کھلی کھلی دلیلیں لے کر آئے پھر بھی ان میں سے بہت سے لوگ زمین میں اسراف کرنے والے یعنی حد سے بڑھنے والے ہیں) ۔ فائدہ : حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ جو بھی کوئی شخص دنیا میں ظلماقتل کریگا اس کے گناہ میں آدم کے اس بیٹے کا حصہ بھی ہوگا جس نے دنیا میں سب سے پہلے قتل کیا تھا، عذاب وثواب کا ایک یہ بھی قانون ہے کہ جو شخص کسی خیر کی ابتداء کرے گا اسے اپنے عمل کا بھی ثواب ملے گا اور جو لوگ اس کی دیکھا دیکھی یا اس کی تعلیم و تبلیغ سے اس پر عمل کریں گے ان کے عمل کا بھی اس ابتداء کرنے والے شخص کو ثواب ملے گا اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں بھی کچھ کمی نہ ہوگی، اسی طرح اگر کسی شخص نے اپنے عمل سے یا قول سے کسی برائی کی بنیاد ڈال دی تو اس برائی کو جو لوگ اختیار کریں گے ان کے گناہوں کا بوجھ بھی اس بنیاد ڈالنے والے پر ہوگا اور عمل کرنے والوں کو گناہوں میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ (کما جاء مصرحاً فی حدیث ابی مسعود عند مسلم، مشکوٰۃ المصابیح ج ١ ص ٣٣) مومن بندوں کو خیر کا داعی اور خیر کا رواج دینے والا اور خیر کا پھیلانے والا بننا چاہئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس بندہ کے لئے خوشخبری ہو جسے اللہ نے خیر کی چابی بنایا ہو اور خیر کا تالا بنایا ہو، اور خرابی ہے اس شخص کے لئے جسے اللہ تعالیٰ نے شر کی چابی بنایا ہو اور شر کا تالا بنایا ہو (مشکوٰ ۃ المصابیح ص ٤٤٤) بدعتوں کو رواج دینے والے اپنے بارے میں غور کرلیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

59 مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ ۔ مِنْ اجلیہ ہے یعنی خاموش بیٹھے رہنے کی وجہ سے۔ کَتَبْنَا عَلیٰ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ ۔ کَتَبْنَا کا مفعول محذوف ہے یعنی القتال یعنی خاموش بیٹھنے میں چونکہ ذلت و رسوائی ہے اس لیے ہم نے بنی اسرائیل کو دشمن سے قتال کا حکم دیا اور کہا کہ خاموش مت بیٹھو بلکہ مخلوق خدا کو ظالم کے ظلم سے بچاؤ تم نے اگر ایک جان کو بچا لیا تو گویا سب کو بچا لیا۔ اّنَّہٗ مَنْ قَتَلَ یہ فعل محذوف کا معول ہے ای و قلنا۔ قالہ الشیخ روح اللہ روحہ لیکن دیگر مفسرین نے کَتَبْنَا کا مفعول القصاص مقدر کیا ہے اور ذٰلِکَ سے مذکورہ واقعہ قتل مراد لیا ہے یعنی قتل و خون ریزی کو روکنے کے لیے ہم نے قاتل سے قصاص لینا فرض قرار دیا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 اسی واقعہ کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ فرمان لکھ دیا اور یہ حکم مقرر کردیا کہ جو شخص کسی انسان کو بلا کسی انسانی خون کے عوض جو اس نے ناحق کیا ہو یا بدون کسی شر و فساد کے جو اس نے ملک میں برپا کیا ہو قتل کر ڈالے تو یہ بےگناہ انسان کا قتل کر ڈالنا ایسا گناہ ہے گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر ڈالا اور جس شخص نے کسی بےگناہ انسان کو قتل ہونے سے بچا لیا تو بےقصور شخص کو بچا لینا ایسا ثواب ہے گویا اس نے تمام انسانوں کو بچا لیا اور بلاشبہ ہمارے بہت سے رسول بنی اسرائیل کے پاس صاف صاف احکام اور واضح دلائل لے کر آتے رہے یعنی یہ فرمان جاری کرنے کے بعد ہمارے بہت سے رسولبھی اس فرمان کی تائید کرتے رہے اور اس فرمان کی تائید میں دلائل پیش کرتے رہے مگر باوجود اس قدر تاکید و تائید کے پھر بھی بنی اسرائیل میں سے اکثر لوگ زمین میں حد سے تجاوز کرنے والے اور زیادتیاں کرنے والے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اول روئے زمین میں بڑا گناہ یہی ہوا اس سے آگے رسم پڑی اسی سبب سے توریت میں اسیطرح فرمایا کہ ایک کو مارا جیسے سب کو مارا یعنی ایک کے کرنے سے اور دلیر ہوتے ہیں تو سب کے گناہ میں وہ اول بھی شریک ہے اور جیسا ایک کو جلایا سب کو جلایا یعنی ظالم کے ہاتھ سے بچا لیا (موضح القرآن) من اجل ذلک کا تعلق کتبنا سے ہے اور اسی کا سبب ہے جیسا کہ ہم نے اختیار کیا ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس کا تعلق نادمین سے ہو جیسا کہ بعض مفسرین نے اختیار کیا ہے اگر تعلق ناد میں سے ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ قابیل اس سبب سے پچھتانے لگا یعنی قتل کے بعد جو باتیں پیش آئیں ان کی وجہ سے پچھتانے لگا بنی اسرائیل پر قصاص کا فرمان جاری کرنے سے یہ مطلب نہیں کہ اور لوگوں پر یہ حکم نہیں تھا بلکہ یہ قصاص کا حکم تمام مکلفین پر جاری کیا گیا تھا بنی اسرائیل کا نام خاص طور پر اس لئے لیا گیا کہ چونکہ ان میں قتل کا رواج بہت زیادہ تھا۔ حتیٰ کہ انبیاء تک کو قتل کردیا کرتے تھے اس لئے توریت میں خاص طور پر قتل کی مذمت بیان فرمائی اور قتل ناحق کو اس قدر خطرناک فرمایا کہ ایک انسان کا قتل ایسا ہے گویا تمام انسانوں کے قتل کا دروازہ اس قاتل نے کھول دیا البتہ دو صورتوں کو مستثنیٰ فرما دیا جیسا کہ ہم دوسرے پارے میں مفصل عرض کرچکے ہیں کہ بعض مجرموں کی سزا ہی قتل ہے تو ان کا قتل کر ڈالنا نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے اس لئے کہ اگر واجب القتل لوگوں کو سز ا نہ دی جائے تو جرائم کی روک تھام نہیں ہوسکتی اور زمین امن قائم نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس قصاص واجب کو ان الفاظ سے مستثنیٰ فرماتا ہے کہ بغیر نفس او فساد فی الارض یعنی قاتل نے جس شخص کو قتل کیا ہے وہ مقتول کسی کا قاتل نہ ہو اور یہ قتل قصاص کے طور پر نہ کیا ہو، بلکہ خواہ مخواہ کسی بےگناہ کو قتل کر ڈالا ہو اسی طرح جس شخص کو قتل کیا ہے وہ مقتول ملک میں فساد برپا کرنے والا بھی نہ ہو جس کی سزا قتل ہے۔ فساد کی تشریح ہم دوسرے پارے میں عرض کرچکے ہیں یہاں بھی ہر قسم کا وہ فساد مراد ہے جس کی سزا شریعت میں قتل رکھی گئی ہو مثلاً اہل حرب کا فساد، اہل بغاوت کا فساد، زنا، ارتداد و راہزنی، انبیاء (علیہم السلام) کی توہین وغیرہ یعنی مقتول ان جرائم کا مرتکب نہ ہو جن کی سزا شرعاً وجوب قتل ہے اگر کسی ایسے بےگناہ کو قتل کردیا تو گویا قاتل نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور اسی طرح جس نے کسی انسان کو ایک ایسے قتل سے بچا لیا جو غیر واجب قتل تھا اور شرعاً اس قتل کی اجازت نہ تھی تو گویا اس نے بنی نوع انسان کی زندگی کا سامان کردیا۔ بظاہر اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی قتل سے عام انسانوں کے قتل پر لوگوں کو جرأت ہوجاتی ہے اور عام بدامنی کو تقویت پہونچتی ہ اس لئے ایک بےگناہ کا قتل ایسا ہی ہے جیسے تمام انسانوں کو قتل کیا اور اس کے مقابل کسی بےگناہ انسان کا بچانا بھی ایسا ہی ہے جیسے تمام انسانوں کو زندہ رکھا کیونکہ نوع انسانی کی ہلاکت اور نوع انسانی کا بقاء صرف جان کے احترام اور عدم احترام پر موقف ہے جس شخص کے دل میں انسانی جان کا احترام نہیں ہے وہ گویا انسانیت کا دشمن ہے اور جس کے دل میں انسانی جان کی بقاء کا جذبہ ہے وہ گویا انسانیت کا خیر خواہ اور انسانیت کا حامی ہے۔ بعض حضرات نے اس طرح مطلب بیان کیا ہے کہ چونک ایک بےگناہ کا قتل اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہی اور قاتل کے دوزخی ہونے کا سبب ہے تو یہ چیز ایک آدمی کے قتل میں اور ہزار انسانوں کے قتل میں مشترک ہے اس لئے فرمایا کہ ایک بےگناہ انسان کو قتل کرنا ایسا ہی ہے جیسے تمام انسانوں کو قتل کردیا اسی طرح ایک بےگناہ انسان کو بچانے کا ثواب بھی ایسا ہی ہے جیسا سب انسانوں کو بچا لیا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں فتنے کے زمانے میں حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا میں آپ کی امداد کے لئے حاضر ہوا ہوں تاکہ آپکے باغیوں سے جنگ کروں حضرت عثمان نے کہا اے ابوہریرہ کیا تجھ کو یہ بات پسند ہے کہ تو سب لوگوں کو مار ڈالے اور ان کے ہمراہ مجھ کو بھی مار ڈالے۔ ابوہریرہ نے عرض کیا نہیں اس پر حضرت عثمان نے فرمایا اے ابوہریرۃ تو نے اگر ایک آدمی کو مارا تو یہ ایسا ہی ہے جیسے تو نے سب کو قتل کیا میں تجھ کو حکم دیتا ہوں کہ تو لوٹ جا اور کسی پر ہاتھ نہ اٹھا ابوہریرہ کہتے ہیں میں یہ سن کر میں قتال سے رک گیا۔ ابن عباس نے فرمایا سب کا زندہ کرنا یہ ہے کہ جس جان کا مارنا اللہ نے حرام کیا ہے تو اس کو قتل نہ کرے مجاہد نے کہا زندہ کرنا یہ ہے کہ قتل نہ کرے، سعید ابن جبیر فرماتے ہیں جس نے ایک شخص کا خون حلال سمجھا اس نے سب کا خون حلال سمجھا اور جس نے ایک شخص کا قتل حرام سمجھا اس نے سب کا خون حرام سمجھا۔ ابن عباس کا ایک قول یہ ہے کہ جس نے امام عادل یا نبی کو قتل کیا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا اور جس نے پیغمبر یا امام عادل کی مدد کی اور اس کو قوت پہنچائی تو اس نے تمام انسانوں کو زندہ رکھا۔ زید بن اسلم نے کہا جس نے ایک کو مارا اس نے سب کو مارا کیونکہ ایک کو ماریجب بھی قصاص ہے اور سب کو مارے تب بھی قصاص ہے جس نے قاتل کو معاف کیا اس نے گویا سب کو جلایا۔ مجاہد نے کہا جس نے کسی ایک شخص کو غرق ہونے سے ، جلنے سے یا ہلاکت سے بچایا تو گویا اس نے سب کو بچایا۔ سلیمان بن علی نے حضرت حسن (رض) سے دریافت کیا یہ آیت بنی اسرائیل کے لئے ہے یا ہمارے لئے بھی ہے انہوں نے جواب دیا اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں یہ آیت جیسی بنی اسرائیل کے لئے تھی ویسیہ ہی ہمارے لئے ہے کچھ بنی اسرائیل کی جان اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہماری جانوں سے زیادہ اکرم اور اعزنہ تھی واللہ علم بالبینات سے مراد عام دلائل نبوت اور توحید ہیں ہم نے موقع کی رعایت سے تیسیر میں خلاصہ بیان کیا ہے یعنی ہمارے رسول بھی قتل نفس کی حرمت اور برائی کے دلائل پیش کرتے رہے اور سمجھاتے رہے کہ کسی انسان کا قتل بہت بری بات ہے اور اگر یہ سلسلہ روکا نہ جائیتو اس میں نسل انسانی کو بہت نقصان پہونچتا ہے اور اس قتل و غارت گری سے تمام نوع انسانی کے ختم ہ جانے کا اندیشہ ہے مگر باوجود اس فرمان کے اور باوجود انبیاء کے دلائل لے کر آنے کے پھر بھی بنی اسرائیل میں سے اکثر لوگ زمین میں شرارتیں کرتے رہے اور قتل و غارت گری سے باز نہ آئے یہاں تک کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو انہوں نے قتل کر ڈالا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فی الارض مسرفون سے وہ زیادتیاں اور بد عنوانیاں مراد ہوں جو نبی آخر الزماں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں یہ لوگ کرتے رہتے تھے اور مسلمانوں کے عموماً اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خصوصاً در پے آزاد رہتے تھے۔ (واللہ اعلم) غرض آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قابیل کی اس سفاکی کے باعث ہم نے سب لوگوں کو عموماً اور بنی اسرائیل کو خصوصاً یہ حکم دیدیا اور ان کے لئے یہ فرمان مقرر کردیا کہ دیکھو قتل بہت بری چیز ہے جو شخص کسی انسان کو بلا کسی انسان کے قتل کئے اور بیرون ملک میں فساد برپا کئے قتل کر ڈالے گا کیونکہ یہ دونوں باتیں تو یقینا اس قابل ہیں کہ ان میں سے کسی ایک یا دونوں کے مرتکب کو قتل کرنے کی اجازت ہے باقی ان کے علاوہ اگر کوئی شخص کسی بےگناہ کو قتل کرے گا تو یوں سمجھو کہ گویا اس نے ایک ایسا سلسلہ قائم کردیا کہ جس کی وجہ سے اس نے تمام انسانوں کو قتل کر ڈالا اور جس شخص نے کسی کو قتل سے بچا لیا اور ہلاکت سے چھڑا لیا تو یوں سمجھو کہ اس نے ایک ایسی بات کی جس سے تمام بنی نوع انسان کی بقا کا سامان ہوگیا اور ہم نے اس مضمون کی تاکید کے لئے دلائل بھی بھیجے اور ہمارے رسول اس قتل کی مذمت میں بڑے بڑے دلائل لے کر آ رہے ہیں لیکن با ایں ہمہ یہ لوگ اپنی شرارتوں اور بد عنوانیوں سے باز نہ آئے یہاں تک کہ نبی آخر الزماں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں بھیان لوگوں کی زیادتیاں اور حد سے نکل جانا برابر جاری ہے۔ اس آیت میں فساد فی الارض کا ذکر آیا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ بدون فساد فی الارض کے کسی کو قتل کرنا حرام ہے اب آگے فساد فی الارض کی بعض صورتیں اور ان پر بعض سزائوں کا ذکر ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)