Surat ul Maeeda

Surah: 5

Verse: 69

سورة المائدة

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَ الصّٰبِئُوۡنَ وَ النَّصٰرٰی مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۶۹﴾

Indeed, those who have believed [in Prophet Muhammad] and those [before Him] who were Jews or Sabeans or Christians - those [among them] who believed in Allah and the Last Day and did righteousness - no fear will there be concerning them, nor will they grieve.

مسلمان ، یہودی ، ستارہ پرست اور نصرانی کوئی ہو ، جو بھی اللہ تعالٰی پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ محض بے خوف رہے گا اور بالکل بے غم ہو جائے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّ الَّذِينَ امَنُواْ ... Surely, those who believe, referring to Muslims, ... وَالَّذِينَ هَادُواْ ... those who are the Jews, who were entrusted with the Tawrah, ... وَالصَّابِوُونَ ... and the Sabians... a sect from the Christians and Magians who did not follow any particular religion, as Mujahid stated. ... وَالنَّصَارَى ... and the Christians, As for the Christians, they are known and were entrusted with the Injil. ... مَنْ امَنَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الاخِرِ وعَمِلَ صَالِحًا فَلَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ whosoever believed in Allah and the Last Day, and worked righteousness, on them shall be no fear, nor shall they grieve. The meaning here is that if each of these groups believed in Allah and the Hereafter, which is the Day of Judgment and Reckoning, and performed good actions, which to be so, must conform to Muhammad's Law, after Muhammad was sent to all mankind and the Jinns. If any of these groups held these beliefs, then they shall have no fear of what will come or sadness regarding what they lost, nor will grief ever affect them. We discussed a similar Ayah before in Surah Al-Baqarah (2:62).

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

69۔ 1 یہ وہی مضمون ہے جو سورة بقرہ کی آیت 62 میں بیان ہوا ہے، اسے دیکھ لیا جائے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١٦] دور نبوی میں رائج ادیان کا مختصر تعارف :۔ اس آیت کی ابتدا میں (اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا) 69؀ المآئدہ سے بعض علماء نے منافقین کا گروہ مراد لیا ہے۔ تاہم اس سے وہ مسلمان بھی مراد لیے جاسکتے ہیں جو اپنے ایمان و عمل میں راسخ نہیں ہیں۔ دوسرے مخاطب یہود ہیں۔ یہود پر ایک وقت ایسا آچکا تھا جب اللہ تعالیٰ نے انہیں تمام اقوام عالم پر فضیلت دے رکھی تھی۔ اور ہر قسم کے انعامات اور برکات سے انہیں نوازا تھا جس سے ان کے دل میں یہ زعم پیدا ہوگیا تھا کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں لہذا اللہ کے چہیتے ہیں اور ہم کو دوزخ کا عذاب کسی صورت میں بھی نہیں ہوگا۔ اور اس سے بڑھ کر یہ غلط فہمی پیدا ہوگئی تھی کہ اخروی نجات کے واحد حقدار صرف یہودی ہیں ان کے علاوہ جتنے بھی لوگ ہیں سب دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔ تیسرے مخاطب صابی ہیں جن کو عام طور پر & بےدین لوگ & سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ ان کا اپنا بھی ایک دین تھا جو یہ تھا کہ اللہ تک رسائی کے لیے وہ کسی پیغمبر کی ضرورت نہیں سمجھتے تھے۔ اور وہ اپنے آپ کو سیدنا نوح سے منسوب کرتے تھے۔ وہ نجوم و کواکب اور ارواح کی عبادت کرتے۔ انہیں ارواح کو اللہ تک رسائی کا ذریعہ یا وسیلہ قرار دیتے اور انہیں کے لیے قربانی اور نذر و نیاز دیتے تھے۔ چوتھے مخاطب نصاریٰ یا عیسائی تھے جو کفارہ مسیح کے عقیدہ کے قائل تھے اور اس لحاظ سے اپنے آپ کو اخروی نجات کا واحد حقدار سمجھتے تھے۔ ان چار گروہوں کا نام اس لیے لیا گیا ہے کہ اس دور میں عرب میں یہی چار مشہور گروہ تھے جو کسی نہ کسی رنگ میں اخروی زندگی کے قائل تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ تنبیہہ فرمائی کہ نجات اخروی کا دار و مدار نہ خاص فرقہ سے منسلک ہونے میں ہے، نہ حسب و نسب میں اور نہ انبیاء کی اولاد ہونے میں ہے بلکہ اس کا دار و مدار سچے دل سے محمد رسول اللہ اور آپ پر نازل شدہ کتاب پر اور صحیح معنوں میں روز جزا و سزا پر ایمان لانے اور اس کے بعد انہیں عقائد کے مطابق اعمال صالحہ کے بجا لانے میں ہے ان سب فرقوں میں سے جو کوئی یہ کام کرے گا۔ اخروی آلام و مصائب اور عذاب سے نجات صرف اسے ہی حاصل ہوگی۔ انہیں نہ کسی آنے والے خطرہ کا خوف ہوگا اور نہ اپنی گزشتہ دنیوی زندگی کے متعلق کچھ غم ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۔۔ : اوپر کی آیات میں بتایا کہ اہل کتاب جب تک ایمان لا کر عمل صالح نہ کریں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اس میں فرمایا کہ صرف اہل کتاب ہی نہیں سب مسلم و غیر مسلم لوگوں کا یہی حکم ہے۔ اس آیت میں لفظ ” اَلصَّابِءُوْنَ “ بظاہر تو منصوب ہونا چاہیے تھا مگر سیبویہ اور خلیل نے لکھا ہے کہ یہ ” مَرْفُوْعٌ بالْاِبْتِدَاءِ عَلٰٰی نِیَّۃِ التَّأْخِیْرِ “ ہے، یعنی یہ لفظ ” الصّٰبِـُٔــوْنَ “ اصل میں ” وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ “ کے بعد ہونے کی نیت سے مبتدا ہے اور اس کی خبر ” کَذٰلِکَ “ ہے، یعنی ” الصّٰبِـُٔــوْنَ “ کا بھی یہی حکم ہے۔ اس کے مؤخر لانے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ دراصل یہ سب فرقوں سے زیادہ گمراہ فرقہ ہے۔ اس لیے ان کا علیحدہ بیان ہوا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان فرقوں میں سے جو بھی ایمان لا کر عمل صالح کرے گا اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمائے گا، حتیٰ کہ اگر صابی بھی ایمان لے آئیں تو ان کو بھی یہ رعایت مل سکتی ہے۔ (کبیر) ” اَلصَّابِءِیْنَ “ کی تشریح کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (٦٢) کے حواشی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبعوث ہونے کے بعد آپ پر ایمان لانا بھی ضروری ہے، گویا اس آیت میں ” آمن باللہ “ سے مراد مسلمان ہونا ہے، یا یہ کہ اپنے اپنے زمانے میں ان میں جو بھی آسمانی دین تھا اس پر ایمان لا کر عمل کرنے والے مراد ہیں، مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد کے بعد کوئی شخص کتنا بھی اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد سے مطلع ہونے کے باوجود کلمہ نہیں پڑھتا تو وہ جہنمی ہے۔ ” اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “ سے مراد یا تو وہ لوگ ہیں جو صرف زبان سے ایمان لائے دل سے نہیں، یعنی منافق، ان میں سے جو دل سے ایمان لا کر عمل صالح کرے گا، یا سب مسلمان مراد ہیں کہ اگر وہ ایمان کے ساتھ عمل صالح کریں گے تو خوف اور حزن سے بچیں گے۔ صرف کلمہ پڑھ لینا کافی نہیں، عمل صالح بھی ضروری ہے۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (٦٢) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Salvation promised for Four Communities having faith and good deeds In the second verse (69), Allah Almighty addresses four traditional religious communities, persuades them to have faith and act right¬eously whereupon He promises salvation for them. The first of those are: الَّذِينَ آمَنُوا (those who believe) that is, the Muslims. Secondly: الَّذِينَ هَادُوا (and those who are Jews); thirdly : صابِئُونَ (the Sabians); and fourthly: نصَارَ‌ىٰ (the Christians). Three of these Communities - Muslims, Jews and Christians - are well-known and found in most parts of the world. Any community having the name Sabian does not exist today. Therefore, scholarly opinion varies as to their exact identity. Quoting Qata-dah, the Tafsir authority, Ibn Kathir has reported that Sabians were people who worshipped angels, offered prayers contra-oriented to the Qiblah and recited the Scripture, Zabur (revealed to Sayyidna Dawud) (علیہ السلام) . The context of the Qur&an seems to support it as the four Scriptures mentioned in the Qur&an are Torah, Zabur, Injil and Qur&an. Thus, named here are the believers in these four Books. Another verse on the same subject, almost in the same words, has appeared in the seventh Section of Surah al-Baqarah: اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَ‌ىٰ وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُ‌هُمْ عِندَ رَ‌بِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿٦٢﴾ Surely, those who believed, and those who are Jews, and Christians, and the Sabians - whoever believes in Allah and in the Last Day, and does good deeds - they have their reward with their Lord. And there is no fear for them nor shall they grieve. (2: 62) Other than the place-oriented transposition of some words, there is no difference between them. With Allah, Distinction Depends on Righteous Deeds The gist of both these verses is that distinctions of lineage, home-land, and nationality do not matter in the sight of Allah. Anyone who takes to total obedience, faith and good deeds as a way of life - no matter what he has been before - shall find himself acceptable with Allah and his devotion will bring the best of appreciation from his Creator. And it is obvious that total obedience after the revelation of the Qur&an depends on being a Muslim - because, there are instructions to this ef¬fect in the past Scriptures of the Torah and the Injil as well, while the Qur&an itself was revealed for this particular purpose. Therefore, after the revelation of the Qur&an and the appearance of the Last among Prophets , (علیہم السلام) it cannot be correct - without believing in the Qur&an and having faith in the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - to follow either the Torah or the Injil or the Zabur. Thus, these verses would mean that whoever from among these communities becomes Muslim shall become deserving of salvation and reward in the Akhirah (Hereafter). Provided right here is the answer to the doubt as to what would happen to all their dark doings of sin and disobedience and dis¬belief and anti-Islam and anti-Muslim mechanizations once they have become Muslims? The disarming answer is: All past sins and short-comings will stand forgiven and in the life-to-come, they shall have no fear or grief. A surface view of the subject may suggest to someone that this should not be the place to mention Muslims because they are - in their faith and through their obedience - at the stage desired in the verse. In other words, the occasion here calls for the mention of only those who are supposed to be persuaded to enter the fold of Islam. But, what we have here is a special mode of eloquence employed by the Qur&an. It is like the law promulgated by the highest imaginable au¬thority saying that it is for everyone, in favour or in opposition, bring-ing reward for the law-abiding and punishment for the law-breaking. It is obvious that those in favour are already obedient. The purpose is to make those in the opposing camp hear it. The particular element of wisdom behind mentioning those already in favour is that they are be¬ing told here that they are being appreciated not because of any per¬sonal or group excellence of theirs but simply because of their quality of obedience to their Creator. If the dissenter in the opposing camp were to take to the path of obedience to his Creator, he too will deserve the same grace and reward. There is No Salvation (Najat) without Belief in Prophethood (&Iman bir-Risalat) The set of instructions given in the address to these four Traditional Religious Communities is divided in three parts: (a) &Iman bil-lah : Belief in Allah (b) &Iman bil-yowmil-akhir : Belief in the Last Day (c) and Al-Amalus-Salih: Good deeds. It is obvious that the intention in this verse is not to give the entire details of Islam&s articles of faith, nor is there any occasion for it. By mentioning some basic beliefs of Islam here, the aim is to point out to all Islamic beliefs, and to invite people to them - nor is it something so necessary that whenever &Iman or faith is mentioned in a verse, all details about it should also be mentioned right there. Therefore, the ab¬sence of a clearly emphasized mention of the faith in the Messenger or Prophet at this place should have not given anyone having the least commonsense and justice the room to entertain any doubt - specially, when the whole Qur&an and hundreds of its verses are brimming with clear statements about belief in the Risalah. Present there are loud and clear assertions that there is no Najat (salvation) without believing in the Rasul (Messenger of Allah) and the sayings of the Rasul fully and completely, and that no belief and action is acceptable or valid without it. But, a group of deviators, which insists on thrusting its re¬pugnant ideas in the Qur&an somehow, has come up with a new theory based on the absence of an explicit mention of prophethood in this verse - which is absolutely contrary to so many open assertions of the Qur&an and Sunnah. They theorize that every person, despite his re¬ligion, a Jew or Christian, even an idol-worshipping Hindu could deserve salvation in the Hereafter - if he believes only in Allah and the Last Day and does good deeds. For final salvation (as they would pre¬fer) entry in Islam is not necessary. (Na` udhu-bil-lah : Refuge with Al¬lah! ) People whom Allah has blessed with the Taufiq of reciting the Qur&an and having true faith in it would not need some major knowl¬edge or insight to help them remove this doubt which even they could do through these very clear statements. Even readers of the Qur&an with the help of authentic translations could understand the falsity of this kind of theorizing. Some verses are being given here as an exam¬ple. The place where the Holy Qur&an has described the articles of faith (&Iman) in details appears at the end of Surah al-Baqarah as follows: كُلٌّ آمَنَ بِاللَّـهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُ‌سُلِهِ لَا نُفَرِّ‌قُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّ‌سُلِهِ All have believed in Allah, and His angels, and His Books, and His Messengers. (in a way that) |"We make no difference between any of His Messengers,|" and they have said ... (2:285). Within the details of &Iman (faith) described clearly in this verse, it has also been clarified that believing in any one or some Messengers is ab¬solutely insufficient for salvation. Instead of that, believing in all Mes¬sengers is a binding condition. If anyone does not believe even in one single Messenger, his or her &Iman shall not be valid and acceptable in the sight of Allah. At another place, it is said: إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُ‌ونَ بِاللَّـهِ وَرُ‌سُلِهِ وَيُرِ‌يدُونَ أَن يُفَرِّ‌قُوا بَيْنَ اللَّـهِ وَرُ‌سُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ‌ بِبَعْضٍ وَيُرِ‌يدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا ﴿١٥٠﴾ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُ‌ونَ حَقًّا Surely those who disbelieve in Allah and His Messengers, and wish to make division between Allah and His Messengers, and say, |"We believe in some, and disbelieve in some|" and wish to take a way in between that. Those are the disbelievers in reality ... (4:150-151). The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said: لَو کَانَ موسٰی حَیًّا لَما وَسعَہ اِلَّا اِتّبَاعِی Had Musa (علیہ السلام) been alive, he would have had no choice but to follow me. Now, if someone were to say: ` Let the followers of every religion keep acting according to their respective religions. Thus, they can find Paradise and achieve salvation in the Hereafter without having to be¬lieve in the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and without having to become Muslims!& - this would, then, be a flagrant disregard of the verses cited above. In addition to that, if every religion or community is something act¬ing according to which in every age is sufficient for ultimate success and salvation, then, the coming of the Last among Prophets and the revelation of the Qur&an itself becomes meaningless. The sending of one Shari&ah after the other also becomes redundant. The first Mes¬senger would have brought one Shari` ah and one Book. That would have been sufficient. at need was there to send other Messengers, Shari` ahs and Books? At the most, sufficient would have been the pres¬ence of people who would have preserved the Shari` ah and the Book, practiced it themselves and pursuaded ethers to do the same - as has been the duty of the ` Ulama of every community. This, then, would be a situation in which the words of the Qur&an: كُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْ‌عَةً وَمِنْهَاجًا ، (For each of you We have made a way and a method - 5:48) will lose their meaning. Is it not that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) carried out the mission of Jihad against Jews and Christians, and others, those who did not believe in him and in the Book of Allah revealed to him, even fought against them on battlefields? What justification would remain for that? And if, for a human being to be a true believer acceptable with Allah, having faith only in Allah and the Last Day should be taken as sufficient, why then, would Iblis (Satan) be cursed? Did he not believe in Allah? Or, was he a denier of the Last Day? Was he not the one who, even in his fit of anger, by saying: إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ (Till the Day, the [ dead ] are raised - 38 :79), confirmed his faith in the Last Day? The truth of the matter is that this error is the product of the no¬tion that religion can be given as a gift on a silver plate as done in marriages. Seen in modern and international context, religion can be used to develop bonds of relationship with other nations - although, the Holy Qur&an has said very openly and clearly that we should have our relations with non-Muslims based on tolerance, sympathy, favour, charity, mercy and things like that, but this should be done by ensur¬ing that the limits of religion are not crossed and that its frontiers re-main fully guarded. If, in the verse under reference, let us suppose, there was no men¬tion of the faith in prophethood, then, other verses quoted above which command it emphatically, would have been sufficient. But, a closer look at this verse itself will show a distinct hint towards belief in pro¬phethood because, in the terminology of the Qur&an, only that &Iman bil¬lah (belief in Allah) is valid, in which there is belief in everything told by Allah. The Qur&an has made its terminology very clear in the fol¬lowing words: فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا So, if they (the Companions) believe in the like of what you (the Prophets) believe in, they have certainly found the right path - 2:137. It means that the kind of &Iman the noble Sahabah had is the only &Iman which deserves to be called &Iman bil-lah. And it is obvious that &Iman bir-rasul was a great pillar of the edifice of their &Iman. Therefore, the words: مَن اٰمَنَ بِاللہِ (whoever believes in Allah) are inclusive of the belief in the Messenger of Allah.

چار قوموں کو ایمان اور عمل صالح کی ترغیب اور آخرت میں نجات کا وعدہ دوسری آیت میں حق تعالیٰ شانہ نے چار قوموں کو مخاطب کرکے ایمان اور عمل صالح کی ترغیب اور اس پر فلاح آخرت کا وعدہ فرمایا۔ ان میں سے پہلے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا، یعنی مسلمان ہیں، دوسرے الَّذِيْنَ هَادُوْا، یعنی یہود، تیسرے صابئون، اور چوتھے نصاریٰ ۔ ان میں تین قومیں مسلمان، یہود، نصاریٰ معروف و مشہور اور دنیا کے اکثر خطوں میں موجود ہیں۔ صابئون یا صابہ کے نام سے آج کل کوئی قوم معروف نہیں۔ اسی لئے اس کی تعیین میں علماء و ائمہ کے اقوال مختلف ہیں۔ امام تفسیر ابن کثیر نے بحوالہ قتادہ رحمة اللہ علیہ ایک یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ صابئون وہ لوگ ہیں جو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور قبلہ کے خلاف نماز پڑھتے ہیں اور آسمانی کتاب زبور کی تلاوت کرتے ہیں (جو حضرت داؤد (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی) ۔ قرآن کریم کے اس سیاق سے بظاہر اسی کی تائید ہوتی ہے کہ چار آسمانی کتابیں جن کا قرآن مجید میں ذکر ہے، تورات، زبور، انجیل اور قرآن، اس میں ان چار کتابوں کے ماننے والوں کا ذکر آگیا۔ اسی مضمون کی ایک آیت تقریباً انہی الفاظ کے ساتھ سورة بقرہ کے ساتویں رکوع میں گزر چکی ہے : (آیت) ان الذین امنوا والذین ھادوا تا ولا ھم یحزنون اس میں بتقاضائے مقام بعض الفاظ کی تقدیم و تاخیر کے سوا کوئی فرق نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک امتیاز کا مدار عمل صالح پر ہے خلاصہ مضمون ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ ہمارے دربار میں کسی کی نسبی، وطنی اور قومی خصوصیت کچھ نہیں جو شخص پوری اطاعت اعتقاد اور عمل صالح اختیار کرے گا، خواہ وہ پہلے سے کیسا ہی ہو، ہمارے یہاں مقبول اور اس کی خدمت مشکور ہے اور یہ ظاہر ہے کہ بعد نزول قرآن کے پوری اطاعت مسلمان ہونے میں منحصر ہے۔ کیونکہ کتب سابقہ تورات و انجیل میں بھی اس کی ہدایات موجود ہیں، اور قرآن کریم تو سراسر اسی کے لئے نازل ہوا۔ اسی لئے نزول قرآن اور بعثت خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد قرآن اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے بغیر نہ تورات و انجیل کا اتباع صحیح ہوسکتا ہے نہ زبور کا۔ تو مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ ان تمام اقوام میں سے جو مسلمان ہوجائے گا آخرت میں نجات وثواب کا مستحق ہوگا۔ اس میں اس خیال کا جواب ہوگیا کہ یہ کفر و معصیت اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف شرارتیں جو اب تک کرتے رہے ہیں۔ مسلمان ہوجانے کے بعد ان کا کیا انجام ہوگا۔ معلوم ہوا کہ پچھلے سب گناہ اور خطائیں معاف کردی جائیں گی اور آخرت میں نہ ان لوگوں کو اندیشہ رہے گا نہ کوئی غم و رنج پیش آئے گا۔ مضمون پر نظر کرنے سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مسلمانوں کا ذکر نہ ہونا چاہیے کیونکہ وہ تو ایمان و اطاعت کے اس مقام پر ہیں جو اس آیت میں مطلوب ہے۔ یہاں ذکر صرف ان لوگوں کا کرنا چاہئے جن کو اس مقام کی طرف بلانا ہے۔ مگر اس طرز خاص میں کہ مسلمانوں کا ذکر بھی ان کے ساتھ ملا دیا گیا ایک خاص بلاغت پیدا ہوگئی۔ اس کی ایسی مثال ہے کہ کوئی حاکم یا بادشاہ کسی ایسے موقع پر یوں کہے کہ ہمارا قانون عام ہے، خواہ کوئی موافق ہو یا مخالف جو شخص اطاعت کرے گا وہ مورد عنایت و انعام ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ موافق کو بھی ذکر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ ہم کو جو موافقین کے ساتھ عنایت ہے وہ کسی نسبی یا قومی خصوصیت کی بناء پر نہیں بلکہ ان کی صفت اطاعت پر تمام عنایت و انعام کا مدار ہے۔ اگر مخالف بھی اطاعت اختیار کرے گا وہ بھی اسی لطف و عنایت کا مستحق ہوگا۔ متذکرہ چار قوموں کو خطاب کرکے جس امر کی ہدایت دی گئی اس کے تین جز ہیں، ایمان باللہ، ایمان بالیوم الآخر اور عمل صالح۔ ایمان بالرسالة کے بغیر نجات نہیں ظاہر ہے کہ اس آیت میں تمام ایمانیات اور عقائد اسلام کی تفصیلات بیان کرنا منظور نہیں، نہ اس کا کوئی موقع ہے۔ اسلام کے چند بنیادی عقائد ذکر کر کے تمام اسلامی عقائد کی طرف اشارہ کرنا اور اس کی طرف دعوت دینا مقصود ہے اور نہ یہ کوئی ضروری بات ہے کہ ہر آیت میں جہاں ایمان کا ذکر آئے اس کی ساری تفصیلات وہیں ذکر کی جائیں اس لئے اس جگہ ایمان بالرسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا ایمان بالنبوة کا ذکر صراحۃ نہ ہونے سے کسی ادنی فہم و عقل اور انصاف و دانش رکھنے والے کو کسی شبہ کی گنجائش نہ تھی۔ خصوصاً جبکہ پورا قرآن اور اس کی سینکڑوں آیتیں ایمان بالرسالت کی تصریحات سے لبریز ہیں جن میں یہ تصریحات موجود ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ارشادات رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مکمل ایمان لائے بغیر نجات نہیں، اور کوئی ایمان و عمل بغیر اس کے مقبول و معتبر نہیں۔ لیکن ملحدین کا ایک گروہ جو کسی نہ کسی طرح قرآن میں اپنے مکروہ نظریات کو ٹھونسنا چاہتا ہے، اور انہوں نے اس آیت میں صراحةً ذکر رسالت نہ ہونے سے ایک نیا نظریہ قائم کرلیا جو قرآن و سنت کی بیشمار تصریحات کے قطعاً خلاف ہے۔ وہ یہ کہ ہر شخص اپنی اپنے مذہب یہودی، نصرانی یہاں تک کہ ہندو بت پرست رہتے ہوئے بھی اگر صرف اللہ پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو اور نیک کام کرے تو نجات آخرت کا مستحق ہوسکتا ہے۔ نجات اخروی کے لئے اسلام میں داخل ہونا ضروری نہیں (نعوذ باللہ منہ) جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے تلاوت قرآن کی توفیق اور اس پر صحیح ایمان عطا فرمایا ہے۔ ان کے لئے قرآنی تصریحات سے اس مغالطہ کا دور کردینا کسی بڑے علم و نظر کا محتاج نہیں، قرآن کریم کا اردو ترجمہ جاننے والے حضرات بھی اس تخیل کی غلطی کو بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔ چند آیات بطور مثال کے یہ ہیں : (آیت) کل امن باللّٰہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ لا نفرق بین احد من رسلہ۔ ” سب ایمان لائے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اس طرح کہ اس کے رسولوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اس آیت میں واضح طور پر ایمان کی جو تفصیلات بیان فرمائی ہیں ان میں یہ بھی واضح کردیا کہ کسی ایک یا چند رسولوں پر ایمان لے آنا قطعاً نجات کے لئے کافی نہیں بلکہ تمام رسولوں پر ایمان شرط ہے اگر کسی ایک رسول پر بھی ایمان نہ لایا تو اس کا ایمان اللہ کے نزدیک معتبر اور مقبول نہیں۔ دوسری جگہ ارشاد ہے : (آیت) ان الذین یکفرون باللّٰہ تا اولئک ہم الکفرون حقا۔ ” جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کا انکار کرتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کردیں، (کہ اللہ پر تو ایمان لائیں مگر اس کے رسولوں پر ایمان نہ ہو) اور وہ کہتے ہیں کہ ہم مانتے ہیں بعضوں کو اور نہیں مانتے بعضوں کو اور وہ چاہیں کہ کفر و اسلام کے بیچ بیچ کا ایک راستہ نکال لیں تو سمجھ لو کہ وہ ہی اصل میں کافر ہیں “۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : لوکان موسیٰ حیاً لما وسعہ الا اتباعی، ” یعنی اگر بالفرض آج حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی زندہ ہوتے تو ان کو میرے اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا “۔ تو اب کسی کا یہ کہنا کہ ہر مذہب والے اپنے اپنے مذہب پر عمل کریں تو بغیر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے اور بغیر مسلمان ہوئے وہ جنت اور فلاح آخرت پاسکتے ہیں قرآن کریم کی مذکورہ آیات کی کھلی مخالفت ہے۔ اس کے علاوہ اگر ہر مذہب و ملت ایسی چیز ہے کہ اس پر ہر زمانہ میں عمل کرلینا نجات اور فلاح کے لئے کافی ہے تو پھر خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت اور نزول قرآن ہی بےمعنی ہوجاتا ہے اور ایک شریعت کے بعد دوسری شریعت بھیجنا فضول ہوجاتا ہے سب سے پہلا رسول ایک شریعت ایک کتاب لے آتا، وہ کافی تھی۔ دوسرے رسولوں، کتابوں شریعتوں کے بھیجنے کی کیا ضرورت تھی۔ زیادہ سے زیادہ ایسے لوگوں کا وجود کافی ہوتا جو اس شریعت و کتاب کو باقی رکھنے اور اس پر عمل کرنے اور کرانے کا اہتمام کرتے جو عام طور پر ہر امت کے علماء کا فریضہ رہا ہے۔ اور اس صورت میں قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ (آیت) لکل جعلنا منکم شرعة ومنھاجا، یعنی ہم نے تم میں سے ہر امت کے لئے ایک خاص شریعت اور خاص راستہ بنایا ہے۔ یہ سب بےمعنی ہوجاتا ہے۔ اور پھر اس کا کیا جواز رہ جاتا ہے، کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اوپر اور اپنی کتاب قرآن پر ایمان نہ رکھنے والے تمام یہود و نصاریٰ سے اور دوسری قوموں سے نہ صرف تبلیغی جہاد کیا۔ بلکہ قتل و قتال اور سیف وسنان کی جنگیں بھی لڑی۔ اور اگر انسان کے مومن اور مقبول عند اللہ ہونے کے لئے صرف اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان لے آنا کافی ہو تو بیچارہ ابلیس کس جرم میں مردود ہوتا کیا اس کو اللہ پر ایمان نہ تھا، یا وہ روزآخرت اور قیامت کا منکر تھا۔ اس نے تو عین حالت غضب میں بھی (آیت) الی یوم یبعثون کہہ کر ایمان بالآخرت کا اقرار کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مغالطہ صرف اس نظریہ کی پیداوار ہے کہ مذہب کو برادری کے نوتہ کی طرح کسی کو تحفہ میں دیا جاسکتا ہے اور اس کے ذریعہ دوسری قوموں سے رشتے جوڑے جاسکتے ہیں۔ حالانکہ قرآن کریم نے کھول کھول کر واضح کردیا ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ رواداری ہمدردی، احسان و سلوک اور مروت سب کچھ کرنا چاہئے، لیکن مذہب کی حدود کی پوری حفاظت اور اس کی سرحدوں کی پوری نگرانی کے ساتھ۔ قرآن کریم کی مذکورہ آیت میں اگر بالفرض ایمان بالرسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر بالکل نہ ہوتا تو دوسری آیات قرآن جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے جن میں اس کی اشد تاکید موجود ہے وہ کافی تھیں۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو خود اس آیت میں بھی ایمان بالرسول کی طرف واضح اشارہ ہے۔ کیونکہ اصطلاح قرآن میں ایمان باللہ وہی معتبر ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی بتلائی ہوئی ساری چیزوں پر ایمان ہو۔ قرآن میں کریم نے اپنی اس اصطلاح کو ان الفاظ میں واضح فرما دیا ‘ (آیت) فان امنوا بمثل ما امنتم بہ فقد اھتدوا، یعنی جس طرح کا ایمان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تھا صرف وہی ایمان باللہ کہلانے کا مستحق ہے اور ظاہر ہے کہ ان کے ایمان کا بہت بڑا رکن ایمان بالرسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھا۔ اس لئے مَن آمَنَ باللّٰہ کے لفظوں میں خود ایمان بالرسول داخل ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ ہَادُوْا وَالصّٰبِـُٔــوْنَ وَالنَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ہُمْ يَحْزَنُوْنَ۝ ٦٩ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ هَادَ ( یہودی) فلان : إذا تحرّى طریقة الْيَهُودِ في الدّين، قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا [ البقرة/ 62] والاسم العلم قد يتصوّر منه معنی ما يتعاطاه المسمّى به . أي : المنسوب إليه، ثم يشتقّ منه . نحو : قولهم تفرعن فلان، وتطفّل : إذا فعل فعل فرعون في الجور، وفعل طفیل في إتيان الدّعوات من غير استدعاء، وتَهَوَّدَ في مشيه : إذا مشی مشیا رفیقا تشبيها باليهود في حركتهم عند القراءة، وکذا : هَوَّدَ الرّائض الدابّة : سيّرها برفق، وهُودٌ في الأصل جمع هَائِدٍ. أي : تائب وهو اسم نبيّ عليه السلام . الھود کے معنی نر می کے ساتھ رجوع کرنا کے ہیں اور اسی سے التھدید ( تفعیل ) ہے جسکے معنی رینگنے کے ہیں لیکن عرف میں ھو د بمعنی تو بۃ استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا[ البقرة/ 62] ہم تیری طرف رجوع ہوچکے بعض نے کہا ہے لفظ یہود بھی سے ماخوذ ہے یہ اصل میں ان کا تعریفی لقب تھا لیکن ان کی شریعت کے منسوخ ہونے کے بعد ان پر بطور علم جنس کے بولا جاتا ہے نہ کہ تعریف کے لئے جیسا کہ لفظ نصارٰی اصل میں سے ماخوذ ہے پھر ان کی شریعت کے منسوخ ہونے کے بعد انہیں اسی نام سے اب تک پکارا جاتا ہے ھاد فلان کے معنی یہودی ہوجانے کے ہیں قرآن پاک میں ہے : ۔ عَلى شَفا جُرُفٍ هارٍ فَانْهارَ بِهِ فِي نارِ جَهَنَّمَ [ التوبة/ 109] جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی کیونکہ کبھی اسم علم سے بھی مسمی ٰ کے اخلاق و عادات کا لحاظ کر کے فعل کا اشتقاق کرلیتے ہیں مثلا ایک شخص فرعون کی طرح ظلم وتعدی کرتا ہے تو اس کے کے متعلق تفر عن فلان کہ فلان فرعون بنا ہوا ہے کا محاورہ استعمال ہوتا ہے اسہ طرح تطفل فلان کے معنی طفیلی یعنی طفیل نامی شخص کی طرح بن بلائے کسی کا مہمان بننے کے ہیں ۔ تھودا فی مشیہ کے معنی نرم رفتاری سے چلنے کے ہیں اور یہود کے تو راۃ کی تلاوت کے وقت آہستہ آہستہ جھومنے سے یہ معنی لئے کئے ہیں ۔ ھو دا لرائض الدبۃ رائض کا سواری کو نر می سے چلانا ھود اصل میں ھائد کی جمع ہے جس کے معنی تائب کے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے ایک پیغمبر کا نام ہے ۔ صابي والصَّابِئُونَ : قوم کانوا علی دين نوح، وقیل لكلّ خارج من الدّين إلى دين آخر : صَابِئٌ ، من قولهم : صَبَأَ نابُ البعیر : إذا طلع، ومن قرأ : صَابِينَ «2» فقد قيل : علی تخفیف الهمز کقوله : لا يَأْكُلُهُ إِلَّا الْخاطِؤُنَ «3» [ الحاقة/ 37] ، وقد قيل : بل هو من قولهم : صَبَا يَصْبُو، قال تعالی: وَالصَّابِئِينَ وَالنَّصاری[ الحج/ 17] . وقال أيضا : وَالنَّصاری وَالصَّابِئِينَ [ البقرة/ 62] . الصابئون ایک فرقے کا نام ہے جو نوح (علیہ السلام) کے دین پر ہونے کا مدعی تھا اور ہر وہ آدمی جو ایک دین کو چھوڑ کر دوسرے دین میں داخل ہوجائے اسے صابئی کہا جاتا ہے صباء ناب البعیر کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں اونٹ کے کچلی نکل آئی ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَالصَّابِئِينَ وَالنَّصاری[ الحج/ 17] اور ستارہ پرست اور عیسائی ۔ وَالنَّصاری وَالصَّابِئِينَ [ البقرة/ 62] اور عیسائی یا ستارہ پرست ۔ اور ایک قرات میں صابین ( بدوں ہمزہ کے ) ہے بعض نے کہا ہے کہ ہمزہ تخفیف کے لئے حزف کردیا گیا ہے جیسا کہ آیت : ۔ لا يَأْكُلُهُ إِلَّا الْخاطِؤُنَ «3» [ الحاقة/ 37] جس کو گنہگاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا ۔ میں الخاطون اصل میں خاطئون ہے ۔ اور بعض نے کہا نہیں بلکہ یہ صبا یصبو سے مشتق ہے جس کے معنی مائل ہونا اور جھکنا کے ہیں ۔ نَّصَارَى وَالنَّصَارَى قيل : سُمُّوا بذلک لقوله : كُونُوا أَنْصارَ اللَّهِ كَما قالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوارِيِّينَ مَنْ أَنْصارِي إِلَى اللَّهِ قالَ الْحَوارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصارُ اللَّهِ [ الصف/ 14] ، وقیل : سُمُّوا بذلک انتسابا إلى قرية يقال لها : نَصْرَانَةُ ، فيقال : نَصْرَانِيٌّ ، وجمْعُه نَصَارَى، قال : وَقالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصاری الآية [ البقرة/ 113] ، ونُصِرَ أرضُ بني فلان . أي : مُطِرَ «1» ، وذلک أنَّ المطَرَ هو نصرةُ الأرضِ ، ونَصَرْتُ فلاناً : أعطیتُه، إمّا مُسْتعارٌ من نَصْرِ الأرض، أو من العَوْن . اور بعض کے نزدیک عیسائیوں کو بھی نصاری اس لئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے نحن انصار اللہ کا نعرہ لگا دیا تھا ۔ چناچہ قران میں ہے : ۔ كُونُوا أَنْصارَ اللَّهِ كَما قالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوارِيِّينَ مَنْ أَنْصارِي إِلَى اللَّهِ قالَ الْحَوارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصارُ اللَّهِ [ الصف/ 14] جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) بن مر یم نے حواریوں سے کہا بھلا کون ہے جو خدا کی طرف بلانے میں میرے مددگار ہوں تو حوراریوں نے کہا ہم خدا کے مددگار ہیں ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ نصرانی کی جمع ہے جو نصران ( قریہ کا نام ) کی طرف منسوب ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَقالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصاریالآية [ البقرة/ 113] یہود کہتے ہیں کہ عیسائی رستے پر نہیں ۔ نصر ارض بنی فلان کے معنی بارش بر سنے کے ہیں کیونکہ بارش سے بھی زمین کی مدد ہوتی ہے اور نصرت فلانا جس کے معنی کسی کو کچھ دینے کے ہیں یہ یا تو نصر الارض سے مشتق ہے اور یا نصر بمعنی عون سے ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے صالح الصَّلَاحُ : ضدّ الفساد، وهما مختصّان في أكثر الاستعمال بالأفعال، وقوبل في القرآن تارة بالفساد، وتارة بالسّيّئة . قال تعالی: خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] ( ص ل ح ) الصالح ۔ ( درست ، باترتیب ) یہ فساد کی ضد ہے عام طور پر یہ دونوں لفظ افعال کے متعلق استعمال ہوتے ہیں قرآن کریم میں لفظ صلاح کبھی تو فساد کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اور کبھی سیئۃ کے چناچہ فرمایا : خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] انہوں نے اچھے اور برے عملوں کے ملا دیا تھا ۔ خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ حزن الحُزْن والحَزَن : خشونة في الأرض وخشونة في النفس لما يحصل فيه من الغمّ ، ويضادّه الفرح، ولاعتبار الخشونة بالغم قيل : خشّنت بصدره : إذا حزنته، يقال : حَزِنَ يَحْزَنُ ، وحَزَنْتُهُ وأَحْزَنْتُهُ قال عزّ وجلّ : لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] ( ح ز ن ) الحزن والحزن کے معنی زمین کی سختی کے ہیں ۔ نیز غم کی وجہ سے جو بیقراری سے طبیعت کے اندر پیدا ہوجاتی ہے اسے بھی حزن یا حزن کہا جاتا ہے اس کی ضد فوح ہے اور غم میں چونکہ خشونت کے معنی معتبر ہوتے ہیں اس لئے گم زدہ ہوے کے لئے خشنت بصررہ بھی کہا جاتا ہے حزن ( س ) غمزدہ ہونا غمگین کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے ۔۔۔۔۔ اس سے تم اندو ہناک نہ ہو

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٩) جو حضرات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور تمام کتابوں اور تمام رسولوں پر ایمان لائے اور اسی حالت میں مرگئے نہ ان پر خوف ہوگا اور نہ انھیں کوئی غم ہوگا اور یہودی اور فرقہ صائبی یہ نصاری ہی کی ایک شاخ ہے جو قول میں ان سے نرم ہے اور نصاری اہل نجران جو ان میں سے اللہ تعالیٰ اور بعث بعد الموت پر ایمان لائے اور جو یہودیت سے اور صائبی صابیت اور نصرانی نصرانیت سے توبہ کرے اور اس کے ساتھ اعمال صالحہ کرے تو آئندہ عذاب کا کوئی خوف اور گزشتہ باتوں پر کوئی غم نہیں ہوگا۔ یا یہ کہ جس وقت لوگ خوفزدہ ہوں گے، ان کو خوف نہیں ہوگا اور جس وقت اور لوگ غم زدہ ہوں گے انھیں غم نہیں ہوگا یا یہ کہ جس وقت موت ذبح کی جائے گی، انھیں خوف نہیں ہوگا اور جب دوزخ بھری جائے گی تو انھیں غم نہیں ہوگا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٩ ( اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ہَادُوْا وَالصّٰبِءُوْنَ وَالنَّصٰرٰی) اس آیت میں تقریباً وہی مضمون ہے جو اس سے پہلے سورة البقرۃ کے آٹھویں رکوع (آیت ٦٢) میں آچکا ہے ‘ جس سے بعض لوگوں کو دھوکا ہوتا ہے کہ شاید نجات کے لیے ایمان بالرسالت کی ضرورت نہیں ہے ‘ حالانکہ سورة النساء (آیات ٥٠ ‘ ٥١ اور ٥٢) میں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مابین تفریق کرنے والوں کے لیے بہت واضح انداز میں فرمایا گیا ہے : (اُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ حَقًّا) وہی لوگ تو پکے کافر ہیں۔ دوسری بات یہاں ذہن میں یہ رکھیے کہ ان تمام سورتوں میں محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کی دعوت قدم قدم پر ہے ‘ بار بار ہے ‘ لہٰذا اس سے استغناء کا کوئی جواز رہتا ہی نہیں ‘ سوائے اس کے کہ کسی کی نیت میں فساد ہو اور دل میں کجی پیدا ہوچکی ہو۔ (مَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وعَمِلَ صَالِحًا فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ) یہاں وہ تمام لوگ مراد ہیں جو اپنے اپنے دور میں اللہ اور آخرت پر ایمان و یقین رکھتے تھے اور اپنے وقت کے نبی اور گزشتہ انبیاء پر ایمان رکھتے تھے۔ جیسے حضرت مسیح (علیہ السلام) سے ماقبل زمانہ میں یہودی تھے ‘ جو کتاب اللہ تورات پر یقین رکھتے تھے ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مانتے تھے ‘ دوسرے نبیوں کو مانتے تھے اور نیک عمل کرتے تھے۔ لیکن عمل کے معاملے میں اصل چیز اور اصل بنیاد اللہ کی رضا جوئی اور آخرت کی جزا طلبی ہے ‘ جس سے کوئی عمل ‘ عمل صالح بنتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

99. See Towards Understanding the Qur'an, vol. I, Surah 2, verse 62, and n 80.

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :99 دیکھئے سورہ بقرہ آیت 62 وحاشیہ نمبر80

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

48: یہی مضمون سورۃ بقرہ کی آیت 62 (62:2) میں گذرا ہے۔ اس کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(5:69) ان الذین امنوا والذین ھادوا والصبئون والنصری من امن باللہ والیوم الاخر وعمل صالحا فلا خوف علیہم ولاہم یحزنون۔ آیت ہذا میں اگر الصبئون کو ان کے تحت لیا جائے تو اس کو منصوب ہونا چاہیے تھا اور الصبئین ہوتا جیسا کہ آیت 2:62 میں ہے اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ اول تقدیر میں آیت یوں ہو۔ ان الذین امنوا والذین ھادو والنصاری من امن باللہ والیوم الاخر وعمل صالحا۔ فلا خوف علیہم ولا ھم یحزنون۔ والصائبون کذلک۔ بیشک وہ لوگ وج ایمان لائے (یعنی جو مسلمان ہے) اور جو یہودی ہے یا جو نصرانی ہیں ان میں سے جو اللہ پر اور روز قیامت پر ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو اس کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور یہی حال صابیوں کا ہے۔ دوم یہ کہ ان الذین امنوا والذین ھادوا کی خبر محذوف لی جائے اور النصری کو الصبئون پر معطوف سمجھا جائے اور من امن کو ان دونوں گروہوں کی خبر لیا جائے اس صورت میں معنی یہ ہونگے بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور وہ جو یہودی ہوئے ان میں سے جو لوگ اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو اس کو نہ کوئی خوف ہوگا ۔ اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور صابیوں اور نصاری میں سے جو لوگ اللہ پر اور آخرت پر ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو ان کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یہ تشریح اس صورت میں ہے ج ان الذین امنو سے منافق مرادلیے جائیں جو بظاہر ہر مسلمان اور احقیقت میں کافر تھے (م، ع)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ یعنی موافق قانون شریعت کے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب کی روش اور کردار کو کفر قرار دینے کے بعد ایمان کے بنیادی ارکان، تقاضوں اور اس کے صلہ کا ذکر کیا گیا ہے اس حقیقت کو سورة البقرۃ کی آیت ٦٢ میں بیان کیا جا چکا ہے۔ اللہ کے ہاں خالی ایمان کا دعویٰ اور مذہبی فرقہ واریت کے لیبل کی کوئی حیثیت نہیں اسلام سچے عقیدے اور حسن کردار کا نام ہے۔ لہٰذا جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان اور آخرت پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اسلام کے منتخب اور پسندیدہ اعمال کو اختیار کرے۔ اس میں ایمان با للہ کے بعد نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج لازم ہیں جو ان اعمال اور ان کے متعلقات کو پورا کرے گا اسے دنیا میں سکون و اطمینان اور آخرت میں کوئی خوف و غم نہیں ہوگا۔ یہاں ایمان کے باقی ارکان کا ذکر کرنے کی بجائے صرف دو ارکان کا بیان ہوا ہے۔ یعنی اللہ اور آخرت پر ایمان لانا یہ اختصار قرآن مجید کے اور مقامات میں بھی پایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان وہی شخص لائے گا جو نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کو تسلیم کرے گا۔ کیونکہ آپ اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ کی رسالت کا انکار کرنے والا ایمان باللہ کے تقاضے پورے نہیں کرسکتا اور آخرت میں کامل ایمان اور نیک اعمال کے بغیر نجات کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے قرآن مجید ارکان ایمان کے بارے میں بسا اوقات تفصیلات چھوڑ کر ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کے ذکر پر اکتفا کرتا ہے کیونکہ جو ان کو دل کی گہرائی اور سچائی کے ساتھ مانتا ہے وہ دوسرے ارکان کا انکار نہیں کرسکتا۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں زبانی کلامی دعوؤں کی قدر نہیں۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان لانے والے لوگ خوف وغم سے محفوظ رہیں گے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

الذین امنو سے مراد اہل ایمان مسلمان ہیں ۔ الذین ھادو سے مراد یہودی ہیں ۔ الصائبون سے مراد وہ طبقہ ہے جو بتوں کی عبادت نہ کرتا تھا یہ لوگ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعث سے پہلے موجود تھے اور صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے لیکن ان کا فرقہ کوئی متعین فرقہ نہ تھا ۔ اس قسم کے لوگ عرب میں معدودے چند تھے ۔ نصاری سے مراد عیسائی ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اتباع کا دعوی کرتے ہیں ۔ اس آیت میں فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ پہلے چاہے کوئی جس عقیدے اور دین پر بھی ہو ‘ اب اگر اللہ پر ایمان لائے گا آخرت پر ایمان لائے گا اور نیک کام کرے گا اور یہاں اس میں ضمنا یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ اب نبی آخری الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل شدہ شریعت پر بھی ایمان لائے جیسا کہ دوسری جگہوں پر تصریح کردی گئی ہے تو ایسے شخص کو نجات ملے گی اور اس کے لئے کوئی خوف ورنج نہ ہوگا ۔ اس بات کا کہ اس سے قبل وہ صحیح رہ پر نہ تھے ۔ ان سے ان کے سابق مذہب اور عنوان کے بارے میں نہ پوچھا جائے گا ۔ اعتبار آخری بات کا ہوگا ۔ یہ جو ہم کہتے ہیں کہ ضمنا یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی عقیدے کی ضرورت اور بدیہات میں یہ بات شامل ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاتم النبیبن ہیں اور یہ کہ آپ کو تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا گیا ہے ۔ اور یہ کہ تمام لوگ چاہے ‘ ان کی ملت ‘ دین ‘ اعتقادات ‘ نسل اور وطن جو بھی ہو ان کو یہ دعوت دی جارہی ہے کہ وہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں اور اپنے تصورات اور اپنی زندگیوں کو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہدایات کے مقابق ڈھالیں ۔ جو شخص آپ کو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں مانتا اور جو شخص اجمالا اور تفصیلا آپ پر ایمان نہیں لاتا وہ گمراہ ہے اور اس کا دین اور مسلک مقبول نہ ہوگا وہ اس اعلان کا مستحق نہ ہوگا ۔ (فلاخوف علیھم ولا ھم یحزنون “۔ (٥ : ٦٩) ” کہ انکے لئے نہ خوف کا مقام ہوگا اور نہ رنج کا “ یہ وہ بنیادی حقیقت ہے جو اس دین سے بطور لازمی نتیجہ برآمد ہوتی ہے ‘ اس لئے ایک سچے مسلمان کے لئے اس بارے میں شف شف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ خصوصا اس عظیم جاہلیت سے متاثر ہو کر جو اس کے سامنے پھیلی ہوئی ہے جاہلیت کے ساتھ تعلقات استوار کرتے ہوئے ایک مسلمان کو غافل نہیں ہونا چاہئے جو مختلف ملتوں اور مسلکوں میں بٹی ہوئی ہے ۔ مسلمان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ مجبور ہو کر اور متاثر ہو کر ان گمراہ ملتوں میں سے کسی کے پیروکاروں کو ” اہل دین “ سمجھے اور یہ سمجھے کہ ان کا دین عندا اللہ مقبول ہے اور یہ کہ اس کے ساتھ تعلق ولایت قائم ہو سکتا ہے ۔ اہل ایمان کا ولی اور ناصر فقط اللہ ہے اور جو شخص بھی اللہ کو ‘ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں دوست بنائے گا تو اسے یقین رکھنا چاہئے کہ حزب اللہ ہی غالب رہے گی ۔ “ چاہے ظاہری حالات کتنے ہیں ناموافق نظر آئیں اور جو شخص بھی ایمان لائے اللہ پر ‘ اور یوم آخرت پر اور نیک عمل کرے اور یہ اس دین آخری کے اصولوں کے مطابق کرے تو اس کے رنج وخوف کا کوئی موقع نہ ہوگا ۔ نہ دنیا میں اس کے لئے خوف ہوگا اور نہ آخرت میں اس کے لئے کوئی خوف ہوگا ۔ جاہلیت کی تہ بہ تہ قوتوں سے بھی اسے کوئی ڈر نہ ہوگا اور نہ انہیں ایمان سے ڈر ہوگا ۔ اب تاریخ بنی اسرائیل کا ایک اور باب کھلتا ہے اور اس باب میں بتایا جاتا ہے کہ یہ یہودیوں کیوں اور کس طرح بےحقیقت ہیں ؟ اور کیوں ضروری ہے کہ ان کو دعوت اسلامی سے روشناس کردیا جائے اور ان کو اس دین جدید کی دعوت دی جائے تاکہ وہ اس دین کی پناہ گاہ میں داخل ہوجائیں۔ یہ باب اس لئے کھولا جاتا ہے کہ یہ معلوم ہوجائے کہ ان کی حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ وہ وہی جو تھے ۔ مقصد یہ ہے کہ اہل اسلام کی نظروں میں ان کا کوئی اعتبار ہی نہ رہے اور مسلمان اس امر پر توجہ ہی نہ دیں کہ ان کے ساتھ تعلق موالات قائم ہو سکتا ہے یا وہ ان کے ساتھ کوئی نصرت کرسکتے ہیں جب تک کہ وہ اس حال پر قائم ہیں اور سچائی کے مقابلے میں اپنا رویہ انہیں نے تبدیل نہیں کیا ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

صرف ایمان اور عمل صالح ہی مدار نجات ہے پھر فرمایا (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا وَ الصّٰبِءُوْنَ وَ النَّصٰرٰی) (بلا شبہ جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہیں اور جو فرقہ صابئین ہیں اور جو نصاریٰ ہیں ان میں سے جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور اعمال صالحہ کرے تو ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے) اس طرح کی آیت سورة بقرہ میں بھی گزر چکی ہے (دیکھو آیت نمبر ٦٢) وہاں آیت کی پوری تفسیر لکھ دی گئی ہے وہاں یہود و نصاریٰ اور صابئین کا تعارف بھی کرادیا گیا ہے سورة بقرہ میں اور یہاں اس آیت میں اللہ تعالیٰ جل شانہ، نے اپنا یہ قانون بیان فرمایا ہے جو بھی کوئی شخص اعتقادات اور اعمال میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ طریقہ کی اتباع کرے گا خواہ وہ شخص پہلے سے کیسا بھی ہو وہ اللہ کے ہاں مقبول ہوگا، نزول قرآن کے بعد اللہ کی پوری اطاعت قرآن کے ماننے میں اور دین اسلام کے قبول کرنے ہی میں منحصر ہے اس لئے مسلمان ہی وہ قوم ہے جنہیں کوئی خوف نہیں اور وہ غمگین نہ ہوں گے، بحیثیت اعتقاد تو یہ لوگ صحیح راہ پر ہیں ہی گناہوں کی وجہ سے کوئی گرفت ہوجائے تو وہ دوسری بات ہے بظاہر قانون بیان کرنے میں (اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ تو مسلمان ہیں ہی لیکن (الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) کے اضافہ کرنے سے ایک خاص بلاغت پیدا ہوگئی اور یہ بتادیا کہ کسی پر ہماری عنایت ذاتی خصوصیت کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ صفت موافقت کی وجہ سے ہے اس کو اس طرح سمجھ لیا جائے جیسے کوئی حاکم وقت یوں اعلان کرے کہ ہمارا قانون سب کے لئے عام ہے مخالف ہو یا موافق جو موافق ہے وہ موافقت کی وجہ سے مورد عنایت ہے اور مخالف بھی اگر مطیع ہوجائے تو وہ بھی مور دعنایت ہوجائے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

: 122 اس آیت کی تفسیر سورة بقرہ میں تفصیل سے گذر چکی ہے ملاحظہ ہو ص 40 حاشیہ نمبر 130 ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 یہ امر واقعی ہے کہ وہ لوگ جو مسلمان ہوئے اور وہ لوگ جو یہود ہیں اور جو صائبین ہیں اور وہ جو نصاریٰ یعنی کوئی بھی ہو جو دل سے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے اور قیامت کو مانتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو ایسے لوگوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ کبھی غمگین ہوں گے۔ (تیسیر) یہ آیت پارئہ الم میں گذر چکی ہے اور وہاں ہم نے تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے خلاصہ یہ ہے کہ جس کا شرعاً اعتقاد صحیح ہے اللہ تعالیٰ کی ذات صفات پر اس کا اعتقاد ٹھیک اور پیغمبر (علیہ الصلوۃ والسلام) نے جو قیامت بتائی ہے اس پر بھی اس کا ایمان ہے اور شریعت کے بتائے ہوئے اعمال صالحہ کا پابند ہے تو وہ لوگ یقینا قیامت کے دن ہر قسم کے خو و غم سے محفوظ ہوں گے یہ مطلب نہیں کہ ظاہری طور پر مسلمان ہوجانا اور نفاق کو سینے میں چھپائے رکھنا یا قرآن کریم سے منکر ہونا اور پیغمبر اسلام کو نہ ماننا اور شریعت اسلامیہ کی بتائی ہوئی قیامت کو نہ ماننا اور اپنے من مانے اعمال کو نیک سمجھ لینا یہ باتیں بھی نجات کے لئے کافی ہیں تو ایسا سمجھنا غلط ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہلی امتوں کے ساتھ مسلمانوں کا بھی ذکر فرمایا ہو کہ خواہ پہلی امتیں ہوں یا امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہو جو اپنے اپنے پیغمبر کے بتائے ہوئے طریقوں کا پابند رہا وہ نجات یافتہ ہے اس آیت سے پیغمبر کی رسالت یا قرآن کریم کے انکار کے ساتھ نجات یافتہ ہونا ایسا ہی شخص کہہ سکتا ہے جو اسلام کو نہ سمجھتا ہو، ورنہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے طریقہ کو چھوڑ کر پانی من مانی توحید اور اپنی من مانی قیامت اور اپنے من مانے اعمال صالحہ نجات اخروی کے لئے نہ مفید ہیں نہ نافع۔ اب آگے پھر یہود و نصاریٰ کی عہد شکنی کا تذکرہ ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)