Surat ul Maeeda

Surah: 5

Verse: 99

سورة المائدة

مَا عَلَی الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَ مَا تَکۡتُمُوۡنَ ﴿۹۹﴾

Not upon the Messenger is [responsibility] except [for] notification. And Allah knows whatever you reveal and whatever you conceal.

رسول کے ذمہ تو صرف پہنچانا ہے ۔ اور اللہ تعالٰی سب جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ پوشیدہ رکھتے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Messenger's duty is but to convey. And Allah knows all that you reveal and all that you conceal. This is a warning from Allah for His servants in which He says: Our Messenger, whom We sent to you, has only to convey Our Message and then the reward for the obedience, and punishment for the disobedience is on Us. The obedience of those who accept Our Message never escapes Our knowledge, just as in the case of those who disobey and defy Our Message. We know what one of you does, demonstrates physically, announces, and utters with his tongue, and what you hide in your hearts, be it of faith, disbelief, certainty, doubt or hypocrisy. He Who is so capable, then nothing that the hearts conceal, nor any of the apparent acts of the souls in the heavens and earth could escape His knowledge. In His Hand, alone, is the reward and punishment, and He is worthy to be feared, obeyed and never disobeyed.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٤٨] یعنی رسول کی ذمہ داری صرف اللہ کے احکام پہنچا دینے تک ہے آگے ان احکام کی فرمانبرداری کی ذمہ داری تم پر ہے۔ اگر تم نافرمانی کرو گے تو رسول تمہاری اس نافرمانی سے بری الذمہ ہے اور اللہ تمہارے ظاہری اعمال و اقوال کے علاوہ باطنی خیالات تک سے واقف ہے کہ تم میں اس کی اطاعت کا جذبہ کیسا ہے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

مَا عَلَي الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ ۭ: یعنی جب انھوں نے یہ حکم پہنچا دیا تو اپنا فریضہ ادا کردیا اور تم پر حجت قائم ہوگئی، اب کسی شخص کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔ (ابن کثیر)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the third verse (99), it was said: مَّا عَلَى الرَّ‌سُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ ﴿٩٩﴾that is, the duty of Our Messenger is only to convey Our Ahkam (injunctions) to people created by Us. After that, whether they accept and believe, or reject and disbelieve, its profit and loss reaches only them. That they disbelieve brings no loss to Our Messenger. And let this be understood that Allah cannot be deceived for He knows every-thing done by anybody, openly or secretly.

تیسری آیت میں ارشاد فرمایا : مَا عَلَي الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ ، یعنی ” ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ تو اتنا ہی کام ہے کہ ہمارے احکام مخلوق کو پہنچادیں، پھر وہ مانیں نہ مانیں اس کا نفع و ضرر انہی کو پہنچتا ہے، ان کی نافرمانی سے ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کچھ نقصان نہیں، اور یہ بھی سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی فریب نہیں دیا جاسکتا، وہ تمہارے ظاہر و باطن اور کھلے اور چھپے ہر کام سے واقف ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مَا عَلَي الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ۝ ٠ۭ وَاللہُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَكْتُمُوْنَ۝ ٩٩ رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] ( ر س ل ) الرسل الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ اور کبھی اس سے مراد انبیا (علیہ السلام) ہوتے ہیں جیسے فرماٰیا وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بڑھ کر اور کیا کہ ایک رسول ہے اور بس بَلَاغ : التبلیغ، نحو قوله عزّ وجلّ : هذا بَلاغٌ لِلنَّاسِ [إبراهيم/ 52] ، وقوله عزّ وجلّ : بَلاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفاسِقُونَ [ الأحقاف/ 35] ، وَما عَلَيْنا إِلَّا الْبَلاغُ الْمُبِينُ [يس/ 17] ، فَإِنَّما عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسابُ [ الرعد/ 40] . والبَلَاغ : الکفاية، نحو قوله عزّ وجلّ : إِنَّ فِي هذا لَبَلاغاً لِقَوْمٍ عابِدِينَ [ الأنبیاء/ 106] البلاغ ۔ کے معنی تبلیغ یعنی پہنچا دینے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : هذا بَلاغٌ لِلنَّاسِ [إبراهيم/ 52] یہ ( قرآن ) لوگوں کے نام ( خدا ) پیغام ہے ۔ بَلاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفاسِقُونَ [ الأحقاف/ 35]( یہ قرآن ) پیغام ہے سود اب وہی ہلاک ہوں گے جو نافرمان تھے ۔ وَما عَلَيْنا إِلَّا الْبَلاغُ الْمُبِينُ [يس/ 17] اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے ۔ فَإِنَّما عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسابُ [ الرعد/ 40] تمہارا کام ہمارے احکام کا ) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے ۔ اور بلاغ کے معنی کافی ہونا بھی آتے ہیں جیسے : إِنَّ فِي هذا لَبَلاغاً لِقَوْمٍ عابِدِينَ [ الأنبیاء/ 106] عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں ( خدا کے حکموں کی ) پوری پوری تبلیغ ہے بدا بَدَا الشیء بُدُوّاً وبَدَاءً أي : ظهر ظهورا بيّنا، قال اللہ تعالی: وَبَدا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ ما لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ [ الزمر/ 47] ( ب د و ) بدا ( ن ) الشئ یدوا وبداء کے معنی نمایاں طور پر ظاہر ہوجانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ وَبَدا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ ما لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ [ الزمر/ 47] اور ان کیطرف سے وہ امر ظاہر ہوجائے گا جس کا ان کو خیال بھی نہ تھا ۔ كتم الْكِتْمَانُ : ستر الحدیث، يقال : كَتَمْتُهُ كَتْماً وكِتْمَاناً. قال تعالی: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ [ البقرة/ 140] ، ( ک ت م ) کتمہ ( ن ) کتما وکتما نا کے معنی کوئی بات چھپانا کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ [ البقرة/ 140] اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا کی شہادت کو جو اس کے پاس کتاب اللہ میں موجود ہے چھپائے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٩۔ ١٠٠) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان لوگوں سے فرما دیجیے، جنھوں نے شریح کے مال پر جو کہ وہ لے کر آئے تھے، دست درازی کی تھی کہ شریح کا مال حرام اور وہ حلال مال جو وہ لے کر آئے تھے برابر نہیں ہوسکتے، لہٰذا عقل والو حرام مال لینے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ اس کے غصہ اور عذاب سے بچ سکو۔ شان نزول : (آیت) ” قل لا یستوی الخبیث “۔ (الخ) واحدی (رح) اور اصبہانی (رح) نے ترغیب میں جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شراب کی حرمت بیان کی تو یہ سن کر ایک اعرابی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میری یہی تجارت تھی اور میں نے اس کام میں کافی مال حاصل کیا ہے اگر میں اس مال کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں خرچ کروں تو کیا وہ مال مجھ کو فائدہ دے گا ؟ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پاکیزہ چیز کے علاوہ اور کسی چیز کو قبول نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کے لیے یہ آیت نازل فرما دی کہ آپ فرما دیجیے کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩٩ (مَا عَلَی الرَّسُوْلِ الاَّ الْبَلٰغُ ط) ( وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَکْتُمُوْنَ ) جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیغام پہنچا دیا تو باقی ساری ذمہ داری اب تمہاری ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(5:99) ما تبدون۔ جو تم ظاہر کرتے ہو۔ یا جو تم ظاہر کرو گے۔ ابداء (افعال) سے ۔ ما تکتمون۔ جو تم چھپاتے ہو۔ جو تم چھپاؤ گے۔ کتم سے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : رسول کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ لوگوں کو حق و باطل اور اچھے، برے سے آگاہ کرے لوگوں کا فرض یہ ہے کہ وہ برائی کے رواج اور اسکی کثرت سے مرعوب ہونے کے بجائے رسول کی اطاعت کریں اسی میں کامیابی ہے۔ اس جاری خطاب کی آیت نمبر ٩٢ میں یہ مضمون بیان ہوا تھا کہ ہمارے رسول کا منصب لوگوں تک پیغام پہنچانا ہے جبراً منوانا نہیں۔ یہاں پھر فرمایا ہے کہ رسول کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ کے پیغام ٹھیک ٹھیک لوگوں تک پہنچانا ہے۔ اس کا کام لوگوں کے پیچھے پیچھے رہنا اور ان کی خلوتوں کی نگرانی کرنا نہیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ جو کچھ تم چھپاتے یا ظاہر کرتے ہو وہ تمہارے ایک ایک لمحہ اور کام کو جانتا ہے۔ رسول کا کام فقط یہ ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے برے بھلے اور نیک و بد کی تمیز واضح کر دے، بیشک برائی کتنی غالب اور لوگوں کی نظر میں کتنی بھلی معلوم ہوتی ہو۔ رسول کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ لوگوں کو خوف خدا سے آگاہ کرے تاکہ صاحب دانش اللہ تعالیٰ سے ڈریں۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ہی دانائی کی علامت اور کامیابی کا راستہ ہے۔ جہاں تک خبیث اور طیب یعنی اچھے اور برے اور نیک اور بد کا تعلق ہے یہ فرق ہر چیز اور کام میں پایا جاتا ہے۔ ہر چیز مفید بھی ہوتی ہے اور اس میں نقصان اور ضرر بھی موجود ہوتا ہے۔ انسانوں میں بھی نیک و بد پائے جاتے ہیں اس طرح کچھ کام دنیا اور آخرت کے لحاظ سے مفیدہوتے ہیں جبکہ کئی کام آدمی کے لیے دنیا میں نقصان اور آخرت میں خسارے کا باعث ہیں اور یہ بھی ہوتا ہے کہ کوئی کام دنیا کے لحاظ سے بظاہر فائدہ مند ہو لیکن آخرت کے اعتبار سے دائمی نقصان کا باعث ہو حقیقی عقل اور خدا خوفی کا تقاضا ہے کہ آدمی وہی کام کرے جو دنیا کے مقابلے میں آخرت کے لحاظ سے اس کے لیے بہتر ہو۔ لہٰذا ہر انسان کو یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا اور معاف کردینے والا، نہایت مہربان ہے۔ اسی کو کائنات کے عظیم دانشور نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوں بیان فرمایا ہے : (عَنْ أَبِی یَعْلٰی شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَہُ ہَوَاہَا ثُمَّ تَمَنَّی عَلَی اللّٰہِ )[ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزہد، باب ذکر الموت والاستعداد لہ ] ” حضرت ابو یعلی شداد بن اوس (رض) بیان کرتے ہیں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عقلمند وہ ہے جو اپنے آپ کو پہچانتا ہے اور مرنے کے بعد فائدہ دینے والے اعمال سر انجام دیتا ہے اور نادان وہ ہے جس نے اپنے آپ کو اپنے نفس کے پیچھے لگایا اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ سے تمنا کرے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ تمام ظاہری و پوشیدہ چیزوں کا علم رکھنے والا ہے۔ ٢۔ اللہ کے فرمانبردار اور نافرمان کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ ٣۔ برائی کا چلن خواہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو وہ گناہ ہی رہتا ہے۔ ٤۔ تقویٰ اختیار کرنے میں ہی کامیابی ہے۔ تفسیر بالقرآن فلاح پانے والے حضرات : ١۔ نمازوں میں خشوع کرنے والے مومن فلاح پا گئے۔ (المومنون : ١ تا ١١) ٢۔ جس نے اپنے آپ کو پاک کرلیا وہ فلاح پا گیا۔ (الاعلیٰ : ١٤) ٣۔ اللہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (البقرہ : ١٨٩) ٤۔ اللہ کا قرب تلاش کرو اور اس کے راستہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (المائدۃ : ٣٥) ٥۔ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (الاعراف : ٦٩) ٦۔ اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (الجمعۃ : ١٠) ٧۔ اپنے رب کی ہدایت پر چلنے والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔ (لقمان : ٥، البقرۃ : ٥) ٨۔ جو نفس کی بخیلی سے بچ گیا وہ فلاح پا گیا۔ (التغابن : ١٦۔ الحشر : ٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (مَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَکْتُمُوْنَ ) (رسول کے ذمہ نہیں ہے مگر پہنچانا اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو) اس میں اس پر تنبیہ ہے کہ تمام احکام کی پابندی کرو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ صرف پہنچا دینا ہے آگے عمل کرنا تمہارا پنا کام ہے۔ ہر طرح کے اعمال ظاہرہ اور باطنہ کو صحیح طریقہ پر انجام دو ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام ارادوں سے اور تمام اعمال باطنہ اور اعمال ظاہرہ سے باخبر ہے وہ ہی حساب لے گا اور جزا دے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

99 پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ پر تو صرف پیام خداوندی کا پہونچا دینا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے ان تمام اعمال کو جانتا ہے جو تم ظاہری طور پر کرتے ہو اور ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جو تم پوشیدہ رکھتے ہو اور اپنے سینوں میں چھپائے رکھتے ہو یعنی خواہ اعمال جوارح ہوں خواہ افعال قلب ہوں وہ سب سے بخوبی واقف ہے۔