Surat Qaaf

Surah: 50

Verse: 11

سورة ق

رِّزۡقًا لِّلۡعِبَادِ ۙ وَ اَحۡیَیۡنَا بِہٖ بَلۡدَۃً مَّیۡتًا ؕ کَذٰلِکَ الۡخُرُوۡجُ ﴿۱۱﴾

As provision for the servants, and We have given life thereby to a dead land. Thus is the resurrection.

بندوں کی روزی کے لئے اور ہم نے پانی سے مردہ شہر کو زندہ کر دیا ۔ اسی طرح ( قبروں سے ) نکلنا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

رِزْقًا لِّلْعِبَادِ ... A provision for (Allah's) servants. (for (Allah's) creation), ... وَأَحْيَيْنَا بِهِ بَلْدَةً مَّيْتًا ... And We give life therewith to a dead land. this is the land that was barren. However, when rain falls upon it, it is stirred to life; it swells and produces all of the lovely pairs such as flowers and the like -- amazing on account of their beauty. All of this comes into existence after the land was without greenery, yet it was stirred back to life and became green. Indeed, this should provide proof of Resurrection after death and disintegration; thus Allah resurrects the dead. This sign of Allah's ability that is seen and witnessed is greater than the denial of those who discount the possibility of Resurrection. Allah the Exalted and Most Honored said in other Ayat, لَخَلْقُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ أَكْـبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ The creation of the heavens and the earth is indeed greater than the creation of mankind; (40:57), and, أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّ اللَّهَ الَّذِى خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَلَمْ يَعْىَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْىِ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ Do they not see that Allah, Who created the heavens and the earth, and was not wearied by their creation, is able to give life to the dead. Yes, He surely is Able to do all things. (46:33) and, وَمِنْ ءَايَـتِهِ أَنَّكَ تَرَى الاٌّرْضَ خَـشِعَةً فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَأءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ الَّذِى أَحْيَـهَا لَمُحْىِ الْمَوْتَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ And among His signs (is this), that you see the earth barren; but when We send down water to it, it is stirred to life and growth. Verily, He Who gives it life, surely is able to give life to the dead. Indeed He is Able to do all things. (41:39) ... كَذَلِكَ الْخُرُوجُ ... Thus will be the Resurrection.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

11۔ 1 یعنی جس طرح بارش سے مردہ زمین کو شاداب کردیتے ہیں، اسی طرح قیامت والے دن ہم قبروں سے انسانوں کو زندہ کر کے نکال لیں گے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢] قدرت کاملہ کے اس مظاہرہ سے ایک تو مرنے کے بعد کی زندگی کی دلیل ملتی ہے۔ دوسرے ان فصلوں کے غلہ اور ان درختوں کے پھلوں سے جو رزق حاصل ہوتا ہے وہ تمام انسانوں اور جانداروں کی زندگی کی بقا کا سبب بنتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی دوسری دلیل ہے کہ کس طرح وہ اپنی تمام مخلوقات کے لئے فراہمی رزق کا انتظام فرما رہا ہے۔ [١٣] نباتات کی روئیدگی سے بعث بعد الموت پر دلیل :۔ عرب کے اور بالخصوص مکہ اور اس کے ارد گرد کے پہاڑ سخت خشک قسم کے پہاڑ ہیں جہاں کوئی ہریاول نظر نہیں آتی۔ شدید گرمی پڑتی ہے اور وہاں کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں کئی کئی سال بارش نہیں ہوتی۔ لیکن جب بارش ہوتی ہے تو وہاں بھی کچھ نہ کچھ سبزہ اگ آتا ہے۔ گھاس اگ آتی ہے اور حشرات الارض بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ میدانی علاقوں میں تو یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ شاید وہاں پچھلے سال کی گھاس کی جڑیں کچھ نہ کچھ باقی رہ گئی ہوں گی یا کوئی نہ کوئی زمینی کیڑا ہی کسی پناہ گاہ میں پناہ لے کر بچ گیا ہوگا اور بارش میں اس کی نسل پھلنے پھولنے لگی ہوگی یا کسی درخت کا بیج ہی زمین میں پڑا ہوگا اور اس میں ابھی زندگی کی رمق باقی ہوگی اور بارش ہونے پر وہ اگ آیا ہوگا۔ لیکن ایسے علاقے جو سخت گرم اور پتھریلے ہیں۔ وہاں تو کسی بیج یا زمینی کیڑے کے اگلی بارش کے موسم تک زندہ رہ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور جو سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ آخر ایسے علاقوں میں حشرات الارض یا نباتات کہاں سے پیدا ہوجاتے ہیں۔ پھر اگر اللہ تعالیٰ نباتات اور حشرات الارض کے بیج کے بغیر بھی یہ چیزیں زمین سے برآمد کرسکتا ہے۔ تو یقیناً ہزارہا برس کے مرے ہوئے اور زمین میں ملے ہوئے انسانوں کو بھی زندہ کرکے زمین سے نکال سکتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(واحیینا بہ بلدۃ میتاً کذلک الخروج : یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ اٹھنے میں تعجب کی کون سی بات ہے ؟ کیا تم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے کہ ایک زمین بارش نہ ہونے کی وجہ سے بنجر پڑی ہوتی ہے، جیسے اس میں زندگی کے کوئی آثار ہی نہیں، پھر ی کیا ک بارش ہوتی ہے تو اس میں کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں اور درخت اگتے ہیں، گویا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اسی طرح تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ۝ ٠ ۙ وَاَحْيَيْنَا بِہٖ بَلْدَۃً مَّيْتًا۝ ٠ ۭ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ۝ ١١ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة «2» ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة، والناس في هذا ضربان : عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] ، عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] ، إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] ، كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] ، إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ، وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] ، وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ، فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ، فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65] . وعَبْدٌ للدّنيا وأعراضها، وهو المعتکف علی خدمتها ومراعاتها، وإيّاه قصد النّبي عليه الصلاة والسلام بقوله : «تعس عَبْدُ الدّرهمِ ، تعس عَبْدُ الدّينار» وعلی هذا النحو يصحّ أن يقال : ليس كلّ إنسان عَبْداً لله، فإنّ العَبْدَ علی هذا بمعنی العَابِدِ ، لکن العَبْدَ أبلغ من العابِدِ ، والناس کلّهم عِبَادُ اللہ بل الأشياء کلّها كذلك، لکن بعضها بالتّسخیر وبعضها بالاختیار، وجمع العَبْدِ الذي هو مُسترَقٌّ: عَبِيدٌ ، وقیل : عِبِدَّى وجمع العَبْدِ الذي هو العَابِدُ عِبَادٌ ، فالعَبِيدُ إذا أضيف إلى اللہ أعمّ من العِبَادِ. ولهذا قال : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] ، فنبّه أنه لا يظلم من يختصّ بِعِبَادَتِهِ ومن انتسب إلى غيره من الّذين تسمّوا بِعَبْدِ الشمس وعَبْدِ اللّات ونحو ذلك . ويقال : طریق مُعَبَّدٌ ، أي : مذلّل بالوطء، وبعیر مُعَبَّدٌ: مذلّل بالقطران، وعَبَّدتُ فلاناً : إذا ذلّلته، وإذا اتّخذته عَبْداً. قال تعالی: أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] . العبد بمعنی غلام کا لفظ چار معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1 ) العبد بمعنی غلام یعنی وہ انسان جس کی خریدنا اور فروخت کرنا شرعا جائز ہو چناچہ آیات کریمہ : ۔ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] اور غلام کے بدلے غلام عَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] ایک غلام ہے جو بالکل دوسرے کے اختیار میں ہے ۔ میں عبد کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ( 2 ) العبد بالایجاد یعنی وہ بندے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے اس معنی میں عبودیۃ اللہ کے ساتھ مختص ہے کسی دوسرے کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] تمام شخص جو آسمان اور زمین میں ہیں خدا کے روبرو بندے ہوکر آئیں گے ۔ میں اسی معنی کی طرح اشارہ ہے ۔ ( 3 ) عبد وہ ہے جو عبارت اور خدمت کی بدولت عبودیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے اس لحاظ سے جن پر عبد کا لفظ بولا گیا ہے وہ دوقسم پر ہیں ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے بن جاتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا : ۔ وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو ۔ إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] بیشک نوح (علیہ السلام) ہمارے شکر گزار بندے تھے نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] جس نے اپنے بندے پر قرآن پاک میں نازل فرمایا : ۔ عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] جس نے اپنی بندے ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) پر یہ کتاب نازل کی ۔ إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] جو میرے مخلص بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں ۔ كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] کہ میری بندے ہوجاؤ ۔ إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔ وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے ۔ وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ ۔ فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65]( وہاں ) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا ۔ ( 2 ) دوسرے اس کی پر ستش میں لگے رہتے ہیں ۔ اور اسی کی طرف مائل رہتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق ہی آنحضرت نے فرمایا ہے تعس عبد الدرھم تعس عبد الدینا ر ) درہم دینار کا بندہ ہلاک ہو ) عبد کے ان معانی کے پیش نظر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر انسان اللہ کا بندہ نہیں ہے یعنی بندہ مخلص نہیں ہے لہذا یہاں عبد کے معنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہیں لیکن عبد عابد سے زیادہ بلیغ ہے اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں : ۔ کہ تمام لوگ اللہ کے ہیں یعنی اللہ ہی نے سب کو پیدا کیا ہے بلکہ تمام اشیاء کا یہی حکم ہے ۔ بعض بعض عبد بالتسخیر ہیں اور بعض عبد بالا اختیار اور جب عبد کا لفظ غلام کے معنی میں استعمال ہو تو اس کی جمع عبید یا عبد آتی ہے اور جب عبد بمعنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہو تو اس کی جمع عباد آئے گی لہذا جب عبید کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو یہ عباد سے زیادہ عام ہوگا یہی وجہ ہے کہ آیت : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے میں عبید سے ظلم کی نفی کر کے تنبیہ کی ہے وہ کسی بندے پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا خواہ وہ خدا کی پرستش کرتا ہو اور خواہ عبدالشمس یا عبد اللات ہونے کا مدعی ہو ۔ ہموار راستہ ہموار راستہ جس پر لوگ آسانی سے چل سکیں ۔ بعیر معبد جس پر تار کول مل کر اسے خوب بد صورت کردیا گیا ہو عبدت فلان میں نے اسے مطیع کرلیا محکوم بنالیا قرآن میں ہے : ۔ أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] کہ تم نے بنی اسرائیل کو محکوم بنا رکھا ہے ۔ حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، أي : هم متلذّذون، لما روي في الأخبار الکثيرة في أرواح الشّهداء والخامسة : الحیاة الأخرويّة الأبديّة، وذلک يتوصّل إليه بالحیاة التي هي العقل والعلم، قال اللہ تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] والسادسة : الحیاة التي يوصف بها الباري، فإنه إذا قيل فيه تعالی: هو حيّ ، فمعناه : لا يصحّ عليه الموت، ولیس ذلک إلّا لله عزّ وجلّ. ( ح ی ی ) الحیاۃ ) زندگی ، جینا یہ اصل میں حیی ( س ) یحییٰ کا مصدر ہے ) کا استعمال مختلف وجوہ پر ہوتا ہے ۔ ( 1) قوت نامیہ جو حیوانات اور نباتات دونوں میں پائی جاتی ہے ۔ اسی معنی کے لحاظ سے نوبت کو حیہ یعنی زندہ کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ ۔ ( 2 ) دوم حیاۃ کے معنی قوت احساس کے آتے ہیں اور اسی قوت کی بناء پر حیوان کو حیوان کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] اور زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں ۔ ( 3 ) قوت عاملہ کا عطا کرنا مراد ہوتا ہے چنانچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ ( 4 ) غم کا دور ہونا مراد ہوتا ہے ۔ اس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( خفیف ) جو شخص مرکر راحت کی نیند سوگیا وہ درحقیقت مردہ نہیں ہے حقیقتا مردے بنے ہوئے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا وہ مرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں ۔ میں شہداء کو اسی معنی میں احیاء یعنی زندے کہا ہے کیونکہ وہ لذت و راحت میں ہیں جیسا کہ ارواح شہداء کے متعلق بہت سی احادیث مروی ہیں ۔ ( 5 ) حیات سے آخرت کی دائمی زندگی مراد ہوتی ہے ۔ جو کہ علم کی زندگی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے : قرآن میں ہے : ۔ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی ( جادواں ) بخشتا ہے۔ ( 6 ) وہ حیات جس سے صرف ذات باری تعالیٰ متصف ہوتی ہے ۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کی صفت میں حی کہا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ذات اقدس ہوئی ہے جس کے متعلق موت کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ۔ پھر دنیا اور آخرت کے لحاظ بھی زندگی دو قسم پر ہے یعنی حیات دنیا اور حیات آخرت چناچہ فرمایا : ۔ فَأَمَّا مَنْ طَغى وَآثَرَ الْحَياةَ الدُّنْيا [ النازعات/ 38] تو جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھنا ۔ بلد البَلَد : المکان المحیط المحدود المتأثر باجتماع قطّانه وإقامتهم فيه، وجمعه : بِلَاد وبُلْدَان، قال عزّ وجلّ : لا أُقْسِمُ بِهذَا الْبَلَدِ [ البلد/ 1] ، قيل : يعني به مكة «1» . قال تعالی: بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ [ سبأ/ 15] ، فَأَنْشَرْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ الزخرف/ 11] ، وقال عزّ وجلّ : فَسُقْناهُ إِلى بَلَدٍ مَيِّتٍ [ الأعراف/ 57] ، رَبِّ اجْعَلْ هذا بَلَداً آمِناً [ البقرة/ 126] ، يعني : مكة و تخصیص ذلک في أحد الموضعین وتنکيره في الموضع الآخر له موضع غير هذا الکتاب «2» . وسمیت المفازة بلدا لکونها موطن الوحشیات، والمقبرة بلدا لکونها موطنا للأموات، والبَلْدَة منزل من منازل القمر، والبُلْدَة : البلجة ما بين الحاجبین تشبيها بالبلد لتمدّدها، وسمیت الکركرة بلدة لذلک، وربما استعیر ذلک لصدر الإنسان «1» ، ولاعتبار الأثر قيل : بجلده بَلَدٌ ، أي : أثر، وجمعه : أَبْلَاد، قال الشاعر : وفي النّحور کلوم ذات أبلاد وأَبْلَدَ الرجل : صار ذا بلد، نحو : أنجد وأتهم «3» . وبَلِدَ : لزم البلد . ولمّا کان اللازم لموطنه كثيرا ما يتحيّر إذا حصل في غير موطنه قيل للمتحيّر : بَلُدَ في أمره وأَبْلَدَ وتَبَلَّدَ ، قال الشاعر : لا بدّ للمحزون أن يتبلّدا ولکثرة وجود البلادة فيمن کان جلف البدن قيل : رجل أبلد، عبارة عن عظیم الخلق، وقوله تعالی: وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَباتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ وَالَّذِي خَبُثَ لا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِداً [ الأعراف/ 58] ، کنایتان عن النفوس الطاهرة والنجسة فيما قيل «5» . ( ب ل د ) البلد شہر ) وہ مقام جس کی حد بندی کی گئی ہو اور وہاں لوگ آباد ۔ اس کی جمع بلاد اور بلدان آتی ہے اور آیت : ۔ لا أُقْسِمُ بِهذَا الْبَلَدِ [ البلد/ 1] سے مکہ مکرمہ مراد ہے دوسری جگہ فرمایا رَبِّ اجْعَلْ هذا بَلَداً آمِناً [ البقرة/ 126] کہ میرے پروردگار اس شہر کو ( لوگوں کے لئے ) امن کی جگہ بنادے ۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ [ سبأ/ 15] پاکیزہ شہر ہے ۔ فَأَنْشَرْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ الزخرف/ 11] پھر ہم نے اس سے شہر مردہ کو زندہ کردیا ۔ فَسُقْناهُ إِلى بَلَدٍ مَيِّتٍ [ الأعراف/ 57] پھر ہم ان کو ایک بےجان شہر کی طرف چلاتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رَبِّ اجْعَلْ هذا بَلَداً آمِناً [ البقرة/ 126] پروردگار اس جگہ کو امن کا شہر بنا میں بھی مکہ مکرمہ مراد ہے لیکن ایک مقام پر اسے معرفہ اور دوسرے مقام پر نکرہ لانے میں جو لطافت اور نکتہ ملحوظ ہے اسے ہم دوسری کتاب میں بیان کرینگے اور بلد کے معنی بیابان اور قبرستان بھی آتے ہیں کیونکہ پہلاوحشی جانوروں دوسرا مردوں کا مسکن ہوتا ہی ۔ البلدۃ منازل قمر سے ایک منزل کا نام ہے اور تشبیہ کے طور پر ابرو کے درمیان کی جگہ اور اونٹ کے کے سینہ کو بھی بلدۃ کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ یہ بھی شہر کی طرح محدود ہوتے ہیں اور بطور استعارہ انسان کے سینہ پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے اور اثر یعنی نشان کے معنی کے اعتبار سے بجلدہ بلد کا محاورہ استعمال ہوتا ہے یعنی اس کی کھال پر نشان ہے اس کی جمع ابلاد آتی ہے ۔ شاعر نے کہا ہے اور ان کے سینوں پر زخموں کے نشانات ہیں ۔ ابلد الرجل شہر میں چلاجانا جیسا کہ انجد اتھم کے معنی نجد اور تہمامہ میں چلے جانے کے ہیں ۔ بلد الرجل کے معنی شہر میں مقیم ہونے کے ہیں اور کسی مقام پر ہمیشہ رہنے والا اکثر اوقات دوسری جگہ میں جاکر متحیر ہوجاتا ہے اس لئے متجیر آدمی کے متعلق وغیرہ ہا کے محاورات استعمال ہوتے ہیں شاعر نے کہا ہے ( ع ) کہ اند وہ گیں لازما متحیر رہے گا ) ۔ اجد لوگ دام طور پر بلید یعنی کند ذہن ہوتے ہیں اس لئے ہر لئے جیم آدمی کو ابلد کہا جاتا ہے اور آیت کریمہ : وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَباتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ وَالَّذِي خَبُثَ لا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِداً [ الأعراف/ 58]( جو زمین پاکیزہ دے ) اس میں سے سبزہ بھی پروردگار کے حکم سے ( نفیس ہی ) نکلتا ہے اور جو خراب ہے ۔ اس میں سے جو کچھ نکلتا ہے ناقص ہوتا ہے ) میں بلد کے طیب اور خبیث ہونے سے کنایہ نفوس کا طیب اور خبیث ہونا مراد ہے ۔ خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

مخلوق کو رزق دینے کے لیے ہم نے اس بارش سے مردہ اور بنجر زمین کو زندہ کیا اسی طرح تم لوگ زندہ کیے جاؤ گے اور قیامت کے دن قبروں سے نکالے جاؤ گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١ { رِّزْقًا لِّلْعِبَادِلا وَاَحْیَیْنَا بِہٖ بَلْدَۃً مَّیْتًاط } ” یہ سب رزق ہے بندوں کے لیے ‘ اور اسی (پانی) سے ہم زندہ کردیتے ہیں مردہ زمین کو ۔ “ { کَذٰلِکَ الْخُرُوْجُ ۔ } ” اسی طریقے سے نکلنا ہوگا (تمہارا بھی) ۔ “ جس طرح بارش کے پانی کے باعث خشک اور بنجر زمین سے طرح طرح کی نباتات اُگ آتی ہیں اسی طرح تم بھی ہمارے حکم سے زندہ ہو کر زمین سے نکل آئو گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

10 For explanation, set E.N.'s 73, 74, 81 of An-Naml, E.N.'s 25, 33, 35 of Ar-Rum and E. N . 29 of Ya Sin. 11 The reasoning is this: `Your conjecture about God Who made this sphere of the earth a suitable home for living creatures and Who by combining the lifeless clay of the earth with the lifeless water from the sky produced such a fine vegetable life that you witness flourishing in the form of your gardens and crops, and W ho made the vegetation a means of sustenance for both man and beast, that He has no power to resurrect you after death, is a foolish and absurd conjecture. You witness almost daily the phenomenon that a Iand is lying barren and lifeless; then as soon as it receives a shower of rain, it gives birth to an endless train of life all of a sudden, the roots lying dead for ages sprout up and a variety of insects emerge playfully from the layers of the earth. This is a manifest proof that life after death is not impossible. When you cannot deny this express observation of yours, how can you deny that when Allah wills, you too will sprout up from the earth as the vegetation sprouts up. In this connection, one may note that in many parts of Arabia it does not sometimes rain for as long as five years at a stretch and sometimes even for longer periods the land does not receive even a drop of rain. For such long intervals in the burning deserts it is not conceivable that the roots of grass and the insects of the earth would survive. In spite of this when a little of the rain falls at some place, grass sprouts up and the insects of the earth return to life. Therefore, the inhabitants of Arabia can understand this reasoning much better than those people who do not have to experience such long periods of drought.

سورة قٓ حاشیہ نمبر :10 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد سوم ، النمل ، حواشی 73 ۔ 74 ۔ 81 ۔ الروم ، حواشی 25 ۔ 33 ۔ 35 ۔ جلد چہارم ، ی یسٰ ، حاشیہ 29 ۔ سورة قٓ حاشیہ نمبر :11 استدلال یہ ہے کہ جس خدا نے زمین کے اس کرے کو زندہ مخلوقات کی سکونت کے لیے موزوں مقام بنایا ، اور جس نے زمین کی بے جان مٹی کو آسمان کے بے جان پانی کے ساتھ ملا کر اتنی اعلیٰ درجے کی نباتی زندگی پیدا کر دی جسے تم اپنے باغوں اور کھیتوں کی شکل میں لہلہاتے دیکھ رہے ہو ، اور جس نے اس نباتات کو انسان و حیوان سب کے لیے رزق کا ذریعہ بنا دیا ، اس کے متعلق تمہارا یہ گمان کہ وہ تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہے ، سراسر بے عقلی کا گمان ہے ۔ تم اپنی آنکھوں سے آئے دن دیکھتے ہو کہ ایک علاقہ بالکل خشک اور بے جان پڑا ہوا ہے ۔ بارش کا ایک چھینٹا پڑتے ہی اس کے اندر یکایک زندگی کے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں ، مدتوں کی مری ہوئی جڑیں یک لخت جی اٹھتی ہیں ، اور طرح طرح کے حشرات الارض زمین کی تہوں سے نکل کر اچھل کود شروع کر دیتے ہیں ۔ یہ اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ موت کے بعد دوبارہ زندگی ناممکن نہیں ہے ۔ اپنے اس صریح مشاہدے کو جب تم نہیں جھٹلا سکتے تو اس بات کو کیسے جھٹلاتے ہو کہ جب خدا چاہے گا تم خود بھی اسی طرح زمین سے نکل آؤ گے جس طرح نباتات کی کونپلیں نکل آتی ہیں ۔ اس سلسلے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عرب کی سر زمین میں بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں بسا اوقات پانچ پانچ برس بارش نہیں ہوتی ، بلکہ کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ مدت گزر جاتی ہے اور آسمان سے ایک خطرہ تک نہیں ٹپکتا ۔ اتنے طویل زمانے تک تپتے ہوئے ریگستانوں میں گھاس کی جڑوں اور حشرات الارض کا زندہ رہنا قابل تصور نہیں ہے ۔ اس کے باوجود جب وہاں کسی وقت تھوڑی سی بارش بھی ہو جاتی ہے تو گھاس نکل آتی ہے اور حشرات الارض جی اٹھتے ہیں ۔ اس لیے عرب کے لوگ اس استدلال کو ان لوگوں کی بہ نسبت زیادہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جنہیں اتنی طویل خشک سالی کا تجربہ نہیں ہوتا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

4: جس طرح ایک مردہ پڑی ہوئی زمین کو اللہ تعالیٰ بارش کے ذریعے زندگی عطا کردیتے ہیں کہ اس میں ڈالے ہوئے بیج سے طرح طرح کی سبزیاں، پھل اور اناج وجود میں آجاتا ہے، اسی طرح جو لوگ قبروں میں مٹی ہوچکے ہیں ان کو بھی اللہ تعالیٰ نئی زندگی دینے پر قادر ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١١۔ صحیحین ٣ ؎ میں حضرت ابوہریرہ (رض) کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ حشر کے دن پہلے ایک مینہ برسے گا جس سے حضرت آدم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ سے لے کر ایک مینہ برسے گا جس سے حضرت آدم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ سے لے کر قیامت تک کے جس قدر جسموں کی خاک زمین میں ہے اس خاک سے سب جسم بن کر اس طرح تیار ہوجائیں گے جس طرح اب مینہ سے ہر طرح کے درخت تیار ہوجاتے ہیں پھر ان جسموں میں روح پھونک دی جائے گی اسی مناسبت کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں جگہ جگہ مینہ سے ہر طرح کے درختوں کے پیدا ہونے اور حشر کے دن انسان کو دوبارہ پیدا ہونے کی تشبیہ دے کر فرمایا ہے اس سورت کی اوپر کی آیتوں میں اور سوہ آلم سجدہ اور سورة یٰسین میں اور کئی جگہ یہ گزر چکا ہے کہ جو لوگ حشر کے منکر ہیں ان کا بڑا شبہ یہ تھا کہ جب وہ مرجائیں گے اور ان کی ہڈیاں ‘ ان کا گوشت پوست سب کچھ خاک ہوجائے گا اور وہ خاک کچھ ہوا میں اڑ جائے گی اور کچھ پانی کے ریلے میں بہہ جائے گی تو پھر وہ متفرق اور پریشان خاک کیونکر جمع ہوجائے گی اور اس کا پتلہ کیونکر بنے گا۔ اوپر کی آیتوں میں اور جگہ جگہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی خاک اڑ کر یا بہہ کر جہاں جائے گی وہ سب حال اس کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ اسی پتے سے ہر ایک کی خاک جمع کرلی جائے گی اور جس طرح ایک دانہ سے ہزار دانے اناج کے اور ایک گٹھلی سے تودہ کے تودہ میووں کے مینہ کے اثر سے سب کی آنکھوں کے سامنے خلاف عقل زمین میں سے پیدا ہوتے ہیں ‘ اسی طرح حشر کے دن ایک مینہ کے اثر سے اللہ تعالیٰ ان کے جسموں کو پیدا کرے گا۔ عقل کا کام یہ نہیں ہے کہ ایک چیز کا موجودہ ہونا ایک دفعہ آزما کر پھر دوبارہ اس چیز کے موجود ہوجانے سے انکار کرے۔ بلکہ عقل کا کام یہ ہے کہ ایک چیز کے وجود پر دوسری چیز کے وجود کو قیاس کرلے۔ تمام عالم کی چیزیں اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تھکان کے ان کی آنکھوں کے سامنے پیدا کریں۔ پھر کون سی عقل سے یہ لوگ ان چیزوں کے دوبارہ پیدا ہونے سے انکار کرتے ہیں صحیحین ١ ؎ اور صحاح کی کتابوں میں حضرت ابوہریرہ (رض) اور صحابہ (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک شخص بڑا گناہ گار تھا اس نے اپنے وارثوں کو وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد مجھ کو جلا کر آدھی خاک کو ہوا میں اڑا دینا اور آدھی کو دریا میں بہا دینا۔ وارثوں نے اس شخص کے مرنے کے بعد اس کی وصیت کے موافق عمل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے جنگل اور دریا میں سے اس کی خاک کو جمع کرکے پھر دوبارہ اس کو زندہ کیا ‘ اور اس سے پوچھا کہ یہ وصیت تو نے کیوں کی تھی ؟ اس شخص نے جواب دیا ‘ یا اللہ تو عالم الغیب ہے۔ گناہ گاری کے سبب سے مجھ کو تیرے سامنے کھڑے ہونے سے خوف آتا تھا۔ اس واسطے میں نے وہ وصیت کی تھی۔ اتنی بات پر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی مغفرت فرما دی۔ اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ جنگل یا دریا جہاں انسان کی پہلی خاک ہوگی وہی جمع کی جائے گی اور اسی خاک کا دوبارہ پتلا بنایا جائے گا۔ (٣ ؎ صحیح مسلم باب مابین التفختین ص ٤٠٦ ج ٢۔ ) (١ ؎ صحیح بخاری ص ٤٩٥ ج ١ و ص ١١٨ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(50:11) رزقا للعباد : زرقا مفعول لہ ہے انبتنا کا۔ یعنی پیدا کرنے کی اصل غرض یہ ہے ۔ واحیینا بہ بلدۃ میتا : واؤ عاطفہ ہے اس کا عطف انبینا بہ پر ہے بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ماء ہے ای احیینا بذلک الماء بلدۃ میتا۔ موصوف و صفت مل کر احیینا کا مفعول ۔ اور اس پانی سے ہم نے مردہ شہر کو زندہ کردیا۔ یعنی جہاں کوئی سبزہ اور روئیدگی نہ تھی اس کو سرسبز و شاداب بنادیا۔ کذلک الخروج : مبتداء خبر۔ جیسے مثل زیدا خوک۔ کذلک۔ کاف تشبیہ واقع موقع مثل ہے۔ ذلک الخروج۔ یعنی ان خروج الناس احیاء من قبورہم بعد الموت کخروج النبات من الارض بعد عدمہ موت کے بعد لوگوں کا قبروں سے زندہ نکال لانا ایسے ہی ہے جیسا کہ عدم کے بعد زمین سے سبزہ اگا دینا ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے میں تعجب کی کونسی بات ہے ؟ کیا تم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے کہ ایک زمین بارش نہ ہونے کی وجہ سے بنجر پڑی ہوتی ہے جیسے اس میں زندگی کے کوئی آثار ہی نہیں۔ یکایک بارش ہوتی ہے تو اس میں کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں اور درخت اگتے ہیں گویا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اس طرح تم بھی مرنے کے بعد زندہ کئے جاسکتے ہو۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یعنی جب ان امور پر ہماری قدرت ثابت ہوگئی تو احیاء موتی پر کیوں نہ ہوگی، پس مقدر و ممکن اور فاعل علم وقدرت سے متصف ثابت ہوا، پھر تعجب یا تکذیب کیا معنی ؟

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

رزقا للعباد (٥٠ : ١١) ” یہ انتظام ہے بندوں کو رزق دینے گا “۔ اس رزق کے اسباب اللہ کہاں سے چلا کر لاتا ہے۔ پھر نباتات اگاتا ہے ، پھر ثمرات لگاتا ہے ، یہ سب کچھ بندوں کے لئے۔ اور اللہ ہی صحیح آقا ہے اور اس کا پورا پورا شکر ادا کرنے کی قدرت ہی یہ بندے نہیں رکھتے۔ اور اب یہ کہ یہ پوری کائنات اس ہدف کی طرف بڑھ رہی ہے۔ واحیینا بہ بلدۃ میتتا کذلک الخروج (٥٠ : ١١) ” اور اس پانی سے ہم ایک مردہ زمین کو زندگی بخش دیتے ہیں (مرے ہوئے انسانوں کا زمین سے نکلنا بھی اسی طرح ہوگا “۔ یہ عمل تمہارے ماحول میں رات دن دہرایا جا رہا ہے ، تم اس کے عادی ہوگئے ہو۔ دیکھتے ہو لیکن یہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آرہی ہے اور پھر بھی تم اعتراض کرتے ہو۔ اگر تم غور کرتے تو تمہیں اپنا اعتراض عجیب لگتا۔ جس طرح موجودہ زمین پر لوگ پیدا ہورہے ہیں۔ اسی سہولت سے دوبارہ اٹھا لیے جائیں گے۔ قرآن کا انداز کیا ہی شاندار ہے۔ پہلے دلائل دے کر بعد دعویٰ ، کہ کائنات سے مختلف قسم کے دلائل اور موثرات کی ایک طویل فہرست دے کر آخر میں کہتا ہے کہ ” یوں “ ۔ اور اس انداز سے انسان بہت متاثر ہوتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ ١ۙ﴾ یہ سب چیزیں بندوں کے رزق کے لیے پیدا فرمائی ہیں ﴿ وَ اَحْيَيْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّيْتًا ١ؕ﴾ (اور ہم نے اس بارش کے ذریعہ زمین کے مردہ ٹکڑوں کو زندہ کردیا) ۔ ﴿كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ ٠٠١١﴾ (اسی طرح قبروں سے نکلنا ہوگا) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کر کے قبروں سے نکال دے گا جیسا کہ مرد زمین کو زندہ فرما کر اس سے مذکورہ چیزیں نکالتا ہے، اس آخری جملہ سے پوری آیت کا ماسبق سے ارتباط سمجھ میں آگیا یعنی منکرین بعث وقوع قیامت کو نہیں مانتے حالانکہ ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر ہیں جیسے وہ ان چیزوں پر قادر ہے ایسے ہی مردوں میں جان ڈال کر اور قبروں سے نکال کر میدان حشر میں جمع کرنے پر بھی قادر ہے سورة ٴ الروم میں فرمایا ﴿فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَيْفَ يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْيِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ٠٠٥٠﴾ (سو اللہ کی رحمت کے آثار دیکھو کہ اللہ تعالیٰ زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد کسی طرح زندہ کرتا ہے کچھ شک نہیں کہ وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(11) یہ سب کچھ بندوں کے رزق دینے کے لئے اگایا اور اسی پانی کے ذریعے ہم نے مری ہوئی زمین کو زندہ کیا اور اسی طرح قبروں سے مردوں کا نکلنا ہوگا۔ بارش کے پانی کو برکت والا فرمایا کیونکہ مخلوق کے لئے اس میں خیر کثیر اور منافع کثیرہ ہیں اس برکت والی بارش کی وجہ سے ہی زمین سے ہر قسم کی چیز پیدا ہوتی ہے نباتات ہی کیا بلکہ جمادات لوہا، سیسہ، سونا، چاندی غرض زمین کی ہر چیز کا تعلق آسمانی بارش سے ہے۔ بلدۃ کا ترجمہ ہم نے زمین کردیا ہے اس لئے کہ شہر کا زندہ کرنا یا کسی قصبہ کا زندہ کرنا یہی ہے کہ اس کی زمین میں زندگی پیدا ہوجائے اور اس میں روئیدگی کی طاقت از سر نو آجائے۔ اس میں مری ہوئی زمین کو زندہ کرنے کی تشبیہہ دی مردوں کے زمین سے نکلنے کو۔ جب اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کے پیدا کرنے پر قدرت رکھتا ہے تو انسان کے دوبارہ پیدا کرنے پر ان دین حق کے منکروں کو تعجب کیوں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اناج وہی جس کے ساتھ کھیت بھی کٹ جاوے اور درخت قائم رہتا ہے پھل ٹوٹ کر۔ آگے دین حق کے منکروں کے لئے تہدید اور وعید ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔