Surat Qaaf

Surah: 50

Verse: 25

سورة ق

مَّنَّاعٍ لِّلۡخَیۡرِ مُعۡتَدٍ مُّرِیۡبِۣ ﴿ۙ۲۵﴾

Preventer of good, aggressor, and doubter,

جو نیک کام سے روکنے والا حد سے گزر جانے والا اور شک کرنے والا تھا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ ... Hinderer of good, meaning for he did not fulfill the duties he was ordered, nor was he dutiful, keeping ties to kith and kin nor giving charity, ... مُعْتَدٍ ... transgressor, meaning, he transgresses the limits in spending. Qatadah commented, "He is a transgressor in his speech, behavior and affairs." Allah said, ... مُّرِيبٍ doubter, meaning, he doubts and raises doubts in those who scrutinize his behavior,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٩] یر کے معنی مال و دولت بھی ہے اور بھلائی بھی۔ پہلے معنی کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے میں بخل سے کام لیتا تھا نہ اللہ کے حقوق ادا کرتا تھا اور نہ اس کے بندوں کے۔ بس ہر جائز و ناجائز طریقے سے مال جمع کرنے میں ہی مصروف رہتا تھا۔ اور دوسرے معنی کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ نہ صرف خود ہی بھلائی کے کاموں سے رکا رہتا تھا بلکہ دوسروں کو بھی روکتا رہتا تھا۔ اس کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ دنیا میں بھلائی کہیں پھیلنے نہ پائے۔ [٣٠] یعنی اپنی ذاتی اغراض اور خواہشات کی خاطر تمام اخلاقی اور قانونی حدود کو توڑنے والا تھا۔ لوگوں کے حقوق پر دست درازیاں کرتا، جائز و ناجائز طریقوں سے مال سمیٹتا اور اچھے کام کرنے والوں کو ستاتا تھا۔ [٣١] شک کا لفظ یقین اور ایمان کے مقابلہ میں آیا ہے۔ یعنی جن باتوں پر ایمان لانا ضروری ہے ان سب باتوں میں شک میں پڑا ہوا تھا۔ پھر اس شک کے جراثیم دوسروں میں بھی پھیلا رہا تھا۔ جس شخص سے اسے سابقہ پڑتا اس کے دل میں کوئی نہ کوئی شک اور وسوسہ ڈال دیتا تھا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مَّنَّاعٍ لِّــلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيْبِۨ۝ ٢٥ ۙ خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» «3» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم پر ہے ( 1 ) خیر مطلق جو ہر حال میں اور ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جیسا کہ آنحضرت نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خیر نہیں ہے جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں سے جس کے بعد جنت حاصل ہوجائے ( 2 ) دوسری قسم خیر وشر مقید کی ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ایک کے حق میں خیر اور دوسرے کے لئے شر ہو مثلا دولت کہ بسا اوقات یہ زید کے حق میں خیر اور عمر و کے حق میں شربن جاتی ہے ۔ اس بنا پر قرآن نے اسے خیر وشر دونوں سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] اگر وہ کچھ مال چھوڑ جاتے ۔ عتد العَتَادُ : ادّخار الشیء قبل الحاجة إليه كالإعداد، والعَتِيدُ : المُعِدُّ والمُعَدُّ. قال تعالی: هذا ما لَدَيَّ عَتِيدٌ [ ق/ 23] ، رَقِيبٌ عَتِيدٌ [ ق/ 18] ، أي : مُعْتَدٌّ أعمالَ العباد، وقوله : أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ،. ( ع ت د ) العتاد ضرورت کی چیزوں کا پہلے سے ذخیرہ کرلینا اور یہی معنی اعداد کے ہیں عتید ( اسم فاعل ) تیار کرنے والا ( اسم مفعول ) تیار کی ہوئی چیز ۔ قرآن میں ہے : ۔ هذا ما لَدَيَّ عَتِيدٌ [ ق/ 23] یہ ( اعمال نامہ ) میرے سامنے حاضر ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رَقِيبٌ عَتِيدٌ [ ق/ 18] میں عتید کے معنی ہیں وہ فرشتہ لوگوں کے اعمال لکھنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ان کے لئے درد انگیز عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ ريب فَالرَّيْبُ : أن تتوهّم بالشیء أمرا مّا، فينكشف عمّا تتوهّمه، قال اللہ تعالی: يا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ الْبَعْثِ [ الحج/ 5] ، ( ر ی ب ) اور ریب کی حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کے متعلق کسی طرح کا وہم ہو مگر بعد میں اس تو ہم کا ازالہ ہوجائے ۔ قرآن میں ہے : وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنا عَلى عَبْدِنا [ البقرة/ 23] اگر تم کو ( قیامت کے دن ) پھر جی اٹھنے میں کسی طرح کا شک ہوا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٥{ مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِ ۔ } ” جو خیر سے روکنے والا ‘ حد سے بڑھنے والا اور شکوک و شبہات میں مبتلا رہنے والا ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

30 "Khair" in Arabic is used both for wealth and for goodness. According to the first meaning, the sentence means that he paid no one his dues from his wealth, neither the dues of Allah nor of the people. According. to the second meaning, it would mean that he did not only withhold himself from the path of goodness but forbade others also to follow it. He had become a hindrance for the people in the way of goodness and exerted his utmost to sec that goodness did not spread. 31 That is, "He transgressed the bounds of morality in every-thing he did. He was ever ready to do anything and everything for the sake of his interests, his desires and his lusts. He amassed wealth by unlawful means and spent it in unlawful ways. He usurped the people's rights, had neither control over his tongue nor over his hands, and committed every injustice and excess. He did not rest content with creating hindrances in the way of goodness but harassed those who adopted goodness and persecuted those who worked for it." 32 The word murib" as used in the original has two meanings: a doubter and the one who puts others in doubt, and both arc implied here. It means that he was not only himself involved in doubt but also created doubts in the hearts of others. He held as doubtful the Being of Allah and the Hereafter and the angels and the Prophet hood and Revelation and every other truth of religion. Anything that was presented by the Prophets as a truth was held as unbelievable by him, and the same disease he spread to other people. Whomever he came in contact with, he would create one or the other doubt, one or the other evil thought in his mind.

سورة قٓ حاشیہ نمبر :30 خیر کا لفظ عربی زبان میں مال کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور بھلائی کے لیے بھی ۔ پہلے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے مال میں سے کسی کا حق ادا نہ کرتا تھا ۔ نہ خدا کا نہ بندوں کا ۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ وہ بھلائی کے راستے سے خود ہی رک جانے پر اکتفا نہ کرتا تھا بلکہ دوسروں کو بھی اس سے روکتا تھا ۔ دنیا میں خیر کے لیے سدِّ راہ بنا ہوا تھا ۔ اپنی ساری قوتیں اس کام میں صرف کر رہا تھا کہ نیکی کسی طرح پھیلنے نہ پائے ۔ سورة قٓ حاشیہ نمبر :31 یعنی اپنے ہر کام میں اخلاق کی حدیں توڑ دینے والا تھا ۔ اپنے مفاد اور اپنی اغراض اور خواہشات کی خاطر سب کچھ کر گزرنے کے لیے تیار تھا ۔ حرام طریقوں سے مال سمیٹتا اور حرام راستوں میں صرف کرتا تھا ۔ لوگوں کے حقوق پر دست درازیاں کرتا تھا ۔ نہ اس کی زبان کسی حد کی پابند تھی نہ اس کے ہاتھ کسی ظلم اور زیادتی سے رکتے تھے ۔ بھلائی کے راستے میں صرف رکاوٹیں ڈالنے ہی پر بس نہ کرتا تھا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر بھلائی اختیار کرنے والوں کو ستاتا تھا اور بھلائی کے لیے کام کرنے والوں پر ستم ڈھاتا تھا ۔ سورة قٓ حاشیہ نمبر :32 اصل میں لفظ مُرِیْب استعمال ہوا ہے جس کے دو معنی ہیں ۔ ایک ، شک کرنے والا ۔ دوسرے ، شک میں ڈالنے والا ۔ اور دونوں ہی معنی یہاں مراد ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ وہ خود شک میں پڑا ہوا تھا اور دوسروں کے دلوں میں شکوک ڈالتا تھا ۔ اس کے نزدیک اللہ اور آخرت اور ملائکہ اور رسالت اور وحی ، غرض دین کی سب صداقتیں مشکوک تھیں ۔ حق کی جو بات بھی انبیاء کی طرف سے پیش کی جاتی تھی اس کے خیال میں وہ قابل یقین نہ تھی ۔ اور یہی بیماری وہ اللہ کے دوسرے بندوں کو لگاتا پھرتا تھا ۔ جس شخص سے بھی اس کو سابقہ پیش آتا اس کے دل میں وہ کوئی نہ کوئی شک اور کوئی نہ کوئی وسوسہ ڈال دیتا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(50:25) مناع : منع باب فتح سے مبالغہ کا صیغہ، بہت منع کرنے والا۔ بہت روک رکھنے والا۔ نیکی کے کام سے یا مال کے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے۔ للخیر میں خیر سے مراد نیکی بھی ہے اور مال بھی۔ خیر سے بہت روکنے والا۔ معتد : اسم فاعل واحد مذکر حد سے بڑھنے والا۔ اصل میں معتدی تھا ۔ اعتداء (افتعال) مصدر سے، حدود حق سے ہٹ جانا۔ تجاوز کرنا۔ اس میں عدو کا مفہوم ہے دل سے اگر ایک دوسرے کی طرف سے ہٹ جائے تو عدوان اور عدو ہے اسی سے عدو اور معادی بمعنی دشمن ہے اور ظلم وتعدی میں، تعدی بمعنی دوسرے کی طرف تجاوز کرنا۔ مریب۔ اسم فاعل واحد مذکر ارابۃ (افعال) مصدر۔ ریب مادہ۔ متردد بنا دینے والا متردد کرنے والا۔ بےچین کردینے والا۔ آیت ہذا میں بمعنی تردد (شک) کرنے والا ہے۔ قرآن میں باقی ہر جگہ بےچین کردینے والا۔ متردد بنا دینے والا ترجمہ ہوگا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(25) اور نیکی سے روکنے والا حد سے تجاوز کرنے والا دین میں شبہ پیدا کرنے والا ہو۔