Surat Qaaf

Surah: 50

Verse: 36

سورة ق

وَ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا قَبۡلَہُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ ہُمۡ اَشَدُّ مِنۡہُمۡ بَطۡشًا فَنَقَّبُوۡا فِی الۡبِلَادِ ؕ ہَلۡ مِنۡ مَّحِیۡصٍ ﴿۳۶﴾

And how many a generation before them did We destroy who were greater than them in [striking] power and had explored throughout the lands. Is there any place of escape?

اور اس سے پہلے بھی ہم بہت سی امتوں کو ہلاک کر چکے ہیں جو ان سے طاقت میں بہت زیادہ تھیں وہ شہروں میں ڈھونڈھتے ہی رہ گئے کہ کوئی بھا گنے کا ٹھکانا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Warning the Disbelievers of the imminent Torment; Allah says, وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم ... And how many ... Allah the Exalted asks, `how many We have destroyed before these denying disbelievers?' ... مِّن قَرْنٍ هُمْ أَشَدُّ مِنْهُم بَطْشًا ... a generation who were stronger in power than they. they were more numerous, mightier than they and who constructed on the earth and built on it more than they. The statement of Allah the Exalted, ... فَنَقَّبُوا فِي الْبِلَدِ هَلْ مِن مَّحِيصٍ And they went about the land! Could they find any place of refuge? Ibn Abbas commented, "They left the traces throughout the land," Qatadah said, "They traveled throughout the land seeking provisions through trade and business, more than you have." Allah's statement, هَلْ مِن مَّحِيصٍ (Could they find any place of refuge?) means, `could they find a shelter from Allah's decision and appointed destiny? Have what they collected benefited them or averted Allah's torment when it came to them on account of their denial of the Messengers? Likewise, you will never be able to avert, avoid, or find refuge or shelter (from His torment).' Allah the Exalted and Most Honored said,

بے سود کوشش ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں ؟ ان سے بہت زیادہ قوت وطاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ وبالا کر چکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں زمین میں خوب فساد کیا ۔ لمبے لمبے سفر کرتے تھے ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی اللہ کی قضا و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا ؟ پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آگیا بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے ۔ ہر عقلمند کے لئے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ دھیان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پا سکتا ہے یعنی دل کو حاضر کر کے کانوں سے سنے ۔ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں کو زمین کو اور اسکے درمیان کی چیزوں کو چھ روز میں پیدا کر دیا اور وہ تھکا نہیں اس میں بھی موت کے بعد کی زندگی پر اللہ کے قادر ہونے کا ثبوت ہے کہ جو ایسی بڑی مخلوق کو اولاً پیدا کر چکا ہے اس پر مردوں کا جلانا کیا بھاری ہے ؟ حضرت قتادہ کا فرمان ہے کہ ملعون یہود کہتے تھے کہ چھ دن میں مخلوق کو رچا کر خالق نے ساتویں روز آرام کیا اور یہ دن ہفتہ کا تھا اس کا نام ہی انہوں نے یوم الراحت رکھ چھوڑا تھا ۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس واہی خیال کی تردید کی کہ ہمیں تھکن ہی نہ تھی آرام کیسا ؟ جیسے اور آیت میں ہے آیت ( وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ۭ بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 33؀ ) 46- الأحقاف:33 ) ، یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا ؟ کہ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا وہ مردوں کے جلانے پر قادر نہیں ؟ ہاں کیوں نہیں وہ تو ہر چیز پر قادر ہے اور آیت میں ہے آیت ( لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57؀ ) 40-غافر:57 ) البتہ آسمان و زمین کی پیدائش لوگوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے اور آیت میں ہے آیت ( ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاۗءُ ۭ بَنٰىهَا 27؀۪ ) 79- النازعات:27 ) کیا تمہاری پیدائش سے زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی اسے اللہ نے بنایا ہے ۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہ جھٹلانے اور انکار کرنے والے جو کہتے ہیں اسے صبر سے سنتے رہو اور انہیں مہلت دو ان کو چھوڑ دو اور سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے اور رات کو اللہ کی پاکی اور تعریف کیا کرو ۔ معراج سے پہلے صبح اور عصر کی نماز فرض تھی اور رات کی تہجد آپ پر اور آپ کی امت پر ایک سال تک واجب رہی اس کے بعد رہی اس کے بعد آپ کی امت سے اس کا وجوب منسوخ ہو گیا اس کے بعد معراج والی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں جن میں فجر اور عصر کی نمازیں جوں کی توں رہیں ۔ پس سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے مراد فجر کی اور عصر کی نماز ہے مسند احمد میں ہے ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودہویں رات کے چاند کو دیکھا اور فرمایا تم اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے وہ جس کے دیکھنے میں کوئی دھکا پیلی نہیں پس اگر تم سے ہو سکے تو خبردار سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں سے غافل نہ ہو جایا کرو ، پھر آپ نے آیت ( وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِهَا ۚ وَمِنْ اٰنَاۗئِ الَّيْلِ فَسَبِّحْ وَاَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى ١٣٠؁ ) 20-طه:130 ) پڑھی یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے ۔ رات کو بھی اس کی تسبیح بیان کر یعنی نماز پڑھ جیسے فرمایا آیت ( وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا 79؀ ) 17- الإسراء:79 ) ، یعنی رات کو تہجد کی نماز پڑھا کر یہ زیادتی خاص تیرے لئے ہی ہے تجھے تیرا رب مقام محمود میں کھڑا کرنے والا ہے سندوں کے پیچھے سے مراد بقول حضرت ابن عباس نماز کے بعد اللہ کی پاکی بیان کرنا ہے ۔ بخاری و مسلم میں حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مفلس مہاجر آئے اور کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مالدار لوگ بلند درجے اور ہمیشہ والی نعمتیں حاصل کر چکے آپ نے فرمایا یہ کیسے ؟ جواب دیا کہ ہماری طرح نماز روزہ بھی تو وہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ دیتے ہیں جو ہم نہیں دے سکتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں جو ہم نہیں کر سکتے آپ نے فرمایا آؤ تمہیں ایک ایسا عمل بتلاؤں کہ جب تم اسے کرو تو سب سے آگے نکل جاؤ اور تم سے افضل کوئی نہ نکلے لیکن جو اس عمل کو کرے ۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس مرتبہ سبحان اللہ ، الحمد اللہ ، اللہ اکبر پڑھ لیا کرو پھر وہ آئے اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے مال دار بھائیوں نے بھی آپ کی اس حدیث کو سنا اور وہ بھی اس عمل کو کرنے لگے ۔ آپ نے فرمایا پھر یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعت ہیں ۔ حضرت عمر حضرت علی حضرت حسن بن علی حضرت ابن عباس حضرت ابو ہریرہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہم کا یہی فرمان ہے اور یہی قول ہے حضرت مجاہد حضرت عکرمہ حضرت شعبی حضرت نخعی حضرت قتادہ رحھم اللہ وغیرہ کا ۔ مسند احمد میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے بجز فجر اور عصر کی نماز کے عبدالرحمن فرماتے ہیں ہر نماز کے پیچھے ۔ ابن ابی حاتم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گذاری آپ نے فجر کے فرضوں سے پہلے دو ہلکی رکعت ادا کیں پھر گھر سے نماز کیلئے نکلے اور فرمایا اے ابن عباس فجر کے پہلے کی دو رکعت ( وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَارَ النُّجُوْمِ 49؀ۧ ) 52- الطور:49 ) ہیں اور مغرب کے بعد کی دو رکعت ( وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَارَ السُّجُوْدِ 40؀ ) 50-ق:40 ) ہیں ۔ یہ اسی رات کا ذکر ہے جس رات حضرت عبداللہ نے تہجد کی نماز کی تیرہ رکعت آپ کی اقتداء میں ادا کی تھیں اور اس رات آپ کی خالہ حضرت میمونہ کی باری تھی ۔ لیکن اوپر جو بیان ہوا یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتلاتے ہیں ہاں اصل حدیث تہجد کی تو بخاری و مسلم میں ہے ۔ ممکن ہے کہ پچھلا کلام حضرت ابن عباس کا اپنا ہو ۔ واللہ اعلم ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

36۔ 1 (فَنقبُوْفِی الْبِلَادِ ) (شہروں میں چلے پھرے) کا ایک مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ اہل مکہ سے زیادہ تجارت و کاروبار کے لئے مختلف شہروں میں پھرتے تھے۔ لیکن ہمارا عذاب آیا تو انہیں کہیں پناہ اور راہ فرار نہ ملی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٢] اس کا ایک مطلب تو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ یہ قومیں اتنی طاقتور اور جنگجو تھیں کہ انہوں نے اپنے ملک پر ہی اکتفا نہیں کیا تھا۔ بلکہ اردگرد کے بھی کئی ملکوں کو تاخت و تاراج کیا تھا۔ پھر جب ہمارا عذاب آیا تو انہیں کہیں بھی پناہ کی جگہ نہ مل سکی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) وکم اھلکنا قبلھم من قرب …:” فتقبوا “ نقب کا معنی سوراخ ہے۔” نقب (ن) فی الارض “ زمین میں گھوما پھرا۔ ” نقب تنقیباً “ (تفعیل) میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں مبالغہ ہے، خوب گھوما پھرا۔ نقب (سوراخ) کی مناسب سے ” فنقبوا فی البلاد “ کا ترجمہ کیا گیا ہے :” پس انہوں نے شہروں کو چھان مارا۔ “ اس سے پہلے کفار کو آخرت میں دیئے جانے والے عذاب کا ذکر فرمایا : درمیان میں ایمان والوں کے حسن انجام کا ذکر کرنے کے بعد اب کفار کو دنیا میں دیئے جانے والے ہولناک عذابوں کا ذکر فرمایا۔ مقصود کفار کو ڈرانا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ایمان والوں کو تسلی دلانا ہے کہ وہ کفار کی شان و شوکت سے مرعوب نہ ہوں۔ (٢) یعنی ہم نے ان کفار سے پہلے بہت سی نسلیں ہلاک کردیں جو گرفت میں ان سے بہت سخت اور ان سے زیادہ قوت والی تھیں، جیسا کہق وم نوح ، عاد، ثمود اور قوم فرعون وغیرہ۔ تو ان کے مقابلے میں ان بےچ اورں کی کیا بساط ہے ؟ مزید دیکھیے سورة روم (٩) ۔ (٣) فنقبوا فی البلاد : یعنی وہ اہل مکہ سے تجارت اور ک اور بار میں بھی بہت آگے تھے، چناچہ انہوں نے اس مقصد کے لئے دنیا کے شہروں کو چھان مارا تھا۔ بعض اہل علم نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ وہ اپنے ملک ہی پر قوت و گرفت نہیں رکھتے تھے بلکہ دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی جا گھسے تھے۔ (٤) ھل من محیص :” محیص “” خاص یحیص حیصا “ سے ظرف ہے، بھاگنے کی جگہ۔ یعنی جب ان پر عذاب آیا تو وہ اس سے بھاگنے کی جگہ ڈھونڈتے پھرے کہ کیا بھاگنے کی کوئی جگہ ہے، مگر انہیں کہیں جائے پناہ نہ ملی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Warning the Disbelievers of the imminent Torment In the concluding sentence of verse [ 36] نَقَّبُوا فِي الْبِلَادِ هَلْ مِن مَّحِيصٍ (and they searched out the cities: Was there any place to escape?), the verb نَقَّبُوا naqqabu is derived from the infinitive tanqib which literally means to make a hole, to perforate or pierce. Idiomatically, it connotes to go or go away through the distant land or country or journey or traverse. (al-Qamus). The word mahis means asylum or a place of refuge. In this verse Allah poses a rhetorical question to the unbelievers: How many generations We have destroyed before you! They were more numerous and mightier than you, and they traveled throughout the land for trade and business, but they could not find shelter from their destined death. No land could give them shelter.

خلاصہ تفسیر اور ہم ان (اہل مکہ) سے پہلے بہت سی امتوں کو ( ان کے کفر کی شامت سے) ہلا کرچکے ہیں جو قوت میں ان سے (کہیں) زیادہ تھے اور (دنیا کا سامان بڑھانے کے لئے) تمام شہروں کو چھانتے پھرتے تھے (یعنی قوت کے ساتھ اسباب معیشت میں بھی بڑی ترقی کی تھی، لیکن جب ہمارا عذاب نازل ہوا تو ان کو) کہیں بھاگنے کی جگہ بھی نہ ملی (یعنی کس طرح بچ نہ سکے) اس (واقعہ اہلاک) میں اس شخص کیلئے بڑی عبرت ہے، جس کے پاس (فہیم) دل ہو یا (اگر فہیم نہ ہو تو کم از کم یہی ہو کہ) وہ (دل سے) متوجہ ہو کر (بات کی طرف) کان ہی لگا دیتا ہو ( اور سننے کے بعد اجمالاً حقانیت کا معتقد ہو کر اس بات کو قبول کرلیتا ہو) اور (اگر قیامت کا انکار اس بنا پر ہے کہ تم اللہ کی قدرت کو اس سے قاصر سمجھتے ہو تو وہ اس لئے باطل ہے کہ ہماری قدرت ایسی ہے کہ) ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے اس سب کو چھ دن (کی مقدار کے موافق زمانہ) میں پیدا کیا اور ہم کو تکان نے چھوا تک نہیں (پھر آدمی کا دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے، وھذا کقولہ تعالیٰ فی الاحقاف (آیت) اولم یرو ان اللہ الذی خلق السمٰوٰت والارض و لم یعی بخلقہن بقدر علی ان یحی الموتی۔ اور باوجود ان قاطع شبہات جوابوں کے یہ لوگ پھر انکار ہی پر اڑے ہیں) سو ان کی باتوں پر صبر کیجئے (یعنی رنج نہ کیجئے) اور چونکہ بدون اس کے کہ کسی طرف دل کو مشغول کیا جاوے وہ غم کی بات دل سے نہیں نکلتی اور بار بار یاد آ کر دل کو مخزون کرتی ہے، اس لئے ارشاد فرماتے ہیں کہ) اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے رہیے ( اس میں نماز بھی داخل ہے) آفتاب نکلنے سے پہلے (مثلاً صبح کی نماز) اور (اس کے) چھپنے سے پہلے (مثلاً ظہر و عصر) اور رات میں بھی اس کی تسبیح (وتحمید) کیا کیجئے (اس میں مغرب اور عشاء آگئیں) اور (فرض) نمازوں کے بعد بھی (اس میں نوافل و اوراد آگئے، حاصل یہ ہوا کہ ذکر اللہ میں اور اس کی فکر میں لے رہئے تاکہ ان کے اقوال کفریہ کی طرف دھیان ہی نہ ہوا) معارف و مسائل (آیت) فَنَقَّبُوْا فِي الْبِلَادِ ۭ هَلْ مِنْ مَّحِيْصٍ ، نقبو، تنقیب سے مشتق ہے، اس کے اصلی معنی سوراخ کرنے اور پھاڑنے کے ہیں، محاورات میں زمین میں دور دراز ملکوں تک پھرنے چلنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے (ذکرہ فی القاموس) اور محیص کے معنی جائے پناہ کے ہیں، معنی آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے کتنی قوموں اور جماعتوں کو ہلاک کردیا ہے جو قوت و طاقت میں تم سے کہیں زیادہ تھیں اور جو مختلف ملکوں اور خطوں میں تجارت وغیرہ کے لئے پھرتی رہیں، مگر دیکھو کہ انجام کار ان کو موت آئی اور ہلاک ہوئیں کوئی خطہ زمین یا مکان ان کو موت سے پناہ نہیں دے سکا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَكَمْ اَہْلَكْنَا قَبْلَہُمْ مِّنْ قَرْنٍ ہُمْ اَشَدُّ مِنْہُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِي الْبِلَادِ۝ ٠ ۭ ہَلْ مِنْ مَّحِيْصٍ۝ ٣٦ كم كَمْ : عبارة عن العدد، ويستعمل في باب الاستفهام، وينصب بعده الاسم الذي يميّز به نحو : كَمْ رجلا ضربت ؟ ويستعمل في باب الخبر، ويجرّ بعده الاسم الذي يميّز به . نحو : كَمْ رجلٍ. ويقتضي معنی الکثرة، وقد يدخل «من» في الاسم الذي يميّز بعده . نحو : وَكَمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها[ الأعراف/ 4] ، وَكَمْ قَصَمْنا مِنْ قَرْيَةٍ كانَتْ ظالِمَةً [ الأنبیاء/ 11] ، والکُمُّ : ما يغطّي الید من القمیص، والْكِمُّ ما يغطّي الثّمرةَ ، وجمعه : أَكْمَامٌ. قال : وَالنَّخْلُ ذاتُ الْأَكْمامِ [ الرحمن/ 11] . والْكُمَّةُ : ما يغطّي الرأس کالقلنسوة . کم یہ عدد سے کنایہ کے لئے آتا ہے اور یہ دو قسم پر ہے ۔ استفہامیہ اور خبریہ ۔ استفہامیہ ہوتا اس کا مابعد اسم تمیزبن کر منصوب ہوتا ( اور اس کے معنی کتنی تعداد یا مقدار کے ہوتے ہیں ۔ جیسے کم رجلا ضربت اور جب خبریہ ہو تو اپنی تمیز کی طرف مضاف ہوکر اسے مجرور کردیتا ہے اور کثرت کے معنی دیتا ہے یعنی کتنے ہی جیسے کم رجل ضربت میں نے کتنے ہی مردوں کو پیٹا اور اس صورت میں کبھی اس کی تمیز پر من جارہ داخل ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَكَمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها[ الأعراف/ 4] اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کروالیں ۔ وَكَمْ قَصَمْنا مِنْ قَرْيَةٍ كانَتْ ظالِمَةً [ الأنبیاء/ 11] اور ہم نے بہت سے بستیوں کو جو ستم گار تھیں ہلاک کر ڈالا ۔ هلك الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه : افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] - وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله : وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام . والثالث : الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار : وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] . ( ھ ل ک ) الھلاک یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ایک یہ کہ کسی چیز کا اپنے پاس سے جاتے رہنا خواہ وہ دوسرے کے پاس موجود ہو جیسے فرمایا : هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] ہائے میری سلطنت خاک میں مل گئی ۔ دوسرے یہ کہ کسی چیز میں خرابی اور تغیر پیدا ہوجانا جیسا کہ طعام ( کھانا ) کے خراب ہونے پر ھلک الطعام بولا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] اور کھیتی کو بر باد اور انسانوں اور حیوانوں کی نسل کو نابود کردی ۔ موت کے معنی میں جیسے فرمایا : ۔ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] اگر کوئی ایسا مرد جائے ۔ قرن والقَرْنُ : القوم المُقْتَرِنُونَ في زمن واحد، وجمعه قُرُونٌ. قال تعالی: وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ مِنْ قَبْلِكُمْ [يونس/ 13] ، ( ق ر ن ) قرن ایک زمانہ کے لوگ یا امت کو قرن کہا جاتا ہے اس کی جمع قرون ہے قرآن میں ہے : ۔ وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ مِنْ قَبْلِكُمْ [يونس/ 13] اور تم سے پہلے ہم کئی امتوں کو ۔ ہلاک کرچکے ہیں شد الشَّدُّ : العقد القويّ. يقال : شَدَدْتُ الشّيء : قوّيت عقده، قال اللہ : وَشَدَدْنا أَسْرَهُمْ [ الإنسان/ 28] ، ( ش دد ) الشد یہ شدد ت الشئی ( ن ) کا مصدر ہے جس کے معنی مضبوط گرہ لگانے کے ہیں ۔ قرآں میں ہے : وَشَدَدْنا أَسْرَهُمْ [ الإنسان/ 28] اور ان کے مفاصل کو مضبوط بنایا ۔ بطش البَطْشُ : تناول الشیء بصولة، قال تعالی: وَإِذا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ [ الشعراء/ 130] ، يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرى[ الدخان/ 16] ، وَلَقَدْ أَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنا [ القمر/ 36] ، إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ [ البروج/ 12] . يقال : يد بَاطِشَة . ( ب ط ش ) البطش کے معنی کوئی چیز زبردستی لے لینا کے ہیں قرآن میں : { وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ } ( سورة الشعراء 130) اور جب کسی کو پکڑتے تو ظالمانہ پکڑتے ہو ۔ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرى[ الدخان/ 16] جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے ۔ وَلَقَدْ أَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنا [ القمر/ 36] اور لوط نے ان کو ہماری گرفت سے ڈرایا ۔ إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ [ البروج/ 12] بیشک تمہاری پروردگار کی گرفت بڑی سخت ہے ید کا طشۃ سخت گیر ہاتھ ۔ نقب النَّقْبُ في الحائِطِ والجِلْدِ کا لثَّقْبِ في الخَشَبِ ، يقال : نَقَبَ البَيْطَارُ سُرَّةَ الدَّابَّةِ بالمِنْقَبِ ، وهو الذي يُنْقَبُ به، والمَنْقَبُ : المکانُ الذي يُنْقَبُ ، ونَقْبُ الحائط، ونَقَّبَ القومُ : سَارُوا . قال تعالی: فَنَقَّبُوا فِي الْبِلادِ هَلْ مِنْ مَحِيصٍ [ ق/ 36] وکلب نَقِيبٌ: نُقِبَتْ غَلْصَمَتُهُ لِيَضْعُفَ صَوْتُه . والنَّقْبَة : أوَّلُ الجَرَبِ يَبْدُو، وجمْعُها : نُقَبٌ ، والنَّاقِبَةُ : قُرْحَةٌ ، والنُّقْبَةُ : ثَوْبٌ كالإِزَارِ سُمِّيَ بذلک لِنُقْبَةٍ تُجْعَلُ فيها تِكَّةٌ ، والمَنْقَبَةُ : طریقٌ مُنْفِذٌ في الجِبَالِ ، واستُعِيرَ لفعل الکريمِ ، إما لکونه تأثيراً له، أو لکونه مَنْهَجاً في رَفْعِهِ ، والنَّقِيبُ : الباحثُ عن القوم وعن أحوالهم، وجمْعه : نُقَبَاءُ ، قال : وَبَعَثْنا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيباً [ المائدة/ 12] . ( ن ق ب ) النقب کے معنی دیوار یا چمڑے میں سوراخ کرنے کے ہیں اور ثقب کے معنی لکڑی میں سوراخ کرنے کے محاورہ ہے ۔ نقب البیطار سر ۃ الدابۃ بیطار نے جانور کی ناف میں منقب نشتر کے ساتھ سوراخ کردیا منقب سوراخ کرنے کی جگہ ۔ نقب الحائط دیوار میں تقب لگائی گئی نقب القوم قوم کا چلنا پھرنا قرآن پاک میں ہے : ۔ فَنَقَّبُوا فِي الْبِلادِ هَلْ مِنْ مَحِيصٍ [ ق/ 36] وہ شہروں میں گشت کرنے لگے کیا کہیں بھا گنے کی جگہ ہے کلب نقیب کتا جس کے گلے میں آواز کمزور کرنے کے لئے سوراخ کردیا گیا ہو ۔ النقبۃ ابتائی خارش ج نقب الناقبۃ ناسور زخم جو کئی روز تک ایک پہلو پر لیٹے رہنے کی وجہ سے پیدا ہوجاتا ہے النقبۃ ازار کی مثل ایک قسم کا کپڑا جس میں سوراخ ہونے کی وجہ سے تکہ لگایا جاتا ہے المنقبۃ اصل میں پہاڑ کے درہ کو کہتے ہیں ۔ اور بطور استعارہ شر یفانہ کارنامہ کو منقبۃ کہا جاتا ہے یا تو اس لئے کہ اس کا اچھا اثر باقی رہ جاتا ہے اور یا اس لئے کہ وہ بھی اس کی رفعت کے لئے بمنزلہ منہاج کے ہے ۔ النقیب کسی قوم کے حالات جاننے والا ج نقباء قرآن پاک میں ہے ۔ وَبَعَثْنا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيباً [ المائدة/ 12] اور ان میں ہم نے بارہ سر دار مقرر کئے ۔ بلد البَلَد : المکان المحیط المحدود المتأثر باجتماع قطّانه وإقامتهم فيه، وجمعه : بِلَاد وبُلْدَان، قال عزّ وجلّ : لا أُقْسِمُ بِهذَا الْبَلَدِ [ البلد/ 1] ، قيل : يعني به مكة «1» . قال تعالی: بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ [ سبأ/ 15] ، فَأَنْشَرْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ الزخرف/ 11] ، وقال عزّ وجلّ : فَسُقْناهُ إِلى بَلَدٍ مَيِّتٍ [ الأعراف/ 57] ، رَبِّ اجْعَلْ هذا بَلَداً آمِناً [ البقرة/ 126] ، يعني : مكة و تخصیص ذلک في أحد الموضعین وتنکيره في الموضع الآخر له موضع غير هذا الکتاب «2» . وسمیت المفازة بلدا لکونها موطن الوحشیات، والمقبرة بلدا لکونها موطنا للأموات، والبَلْدَة منزل من منازل القمر، والبُلْدَة : البلجة ما بين الحاجبین تشبيها بالبلد لتمدّدها، وسمیت الکركرة بلدة لذلک، وربما استعیر ذلک لصدر الإنسان «1» ، ولاعتبار الأثر قيل : بجلده بَلَدٌ ، أي : أثر، وجمعه : أَبْلَاد، قال الشاعر : وفي النّحور کلوم ذات أبلاد وأَبْلَدَ الرجل : صار ذا بلد، نحو : أنجد وأتهم «3» . وبَلِدَ : لزم البلد . ولمّا کان اللازم لموطنه كثيرا ما يتحيّر إذا حصل في غير موطنه قيل للمتحيّر : بَلُدَ في أمره وأَبْلَدَ وتَبَلَّدَ ، قال الشاعر : لا بدّ للمحزون أن يتبلّدا ولکثرة وجود البلادة فيمن کان جلف البدن قيل : رجل أبلد، عبارة عن عظیم الخلق، وقوله تعالی: وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَباتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ وَالَّذِي خَبُثَ لا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِداً [ الأعراف/ 58] ، کنایتان عن النفوس الطاهرة والنجسة فيما قيل «5» . ( ب ل د ) البلد شہر ) وہ مقام جس کی حد بندی کی گئی ہو اور وہاں لوگ آباد ۔ اس کی جمع بلاد اور بلدان آتی ہے اور آیت : ۔ لا أُقْسِمُ بِهذَا الْبَلَدِ [ البلد/ 1] سے مکہ مکرمہ مراد ہے دوسری جگہ فرمایا رَبِّ اجْعَلْ هذا بَلَداً آمِناً [ البقرة/ 126] کہ میرے پروردگار اس شہر کو ( لوگوں کے لئے ) امن کی جگہ بنادے ۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ [ سبأ/ 15] پاکیزہ شہر ہے ۔ فَأَنْشَرْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ الزخرف/ 11] پھر ہم نے اس سے شہر مردہ کو زندہ کردیا ۔ فَسُقْناهُ إِلى بَلَدٍ مَيِّتٍ [ الأعراف/ 57] پھر ہم ان کو ایک بےجان شہر کی طرف چلاتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رَبِّ اجْعَلْ هذا بَلَداً آمِناً [ البقرة/ 126] پروردگار اس جگہ کو امن کا شہر بنا میں بھی مکہ مکرمہ مراد ہے لیکن ایک مقام پر اسے معرفہ اور دوسرے مقام پر نکرہ لانے میں جو لطافت اور نکتہ ملحوظ ہے اسے ہم دوسری کتاب میں بیان کرینگے اور بلد کے معنی بیابان اور قبرستان بھی آتے ہیں کیونکہ پہلاوحشی جانوروں دوسرا مردوں کا مسکن ہوتا ہی ۔ البلدۃ منازل قمر سے ایک منزل کا نام ہے اور تشبیہ کے طور پر ابرو کے درمیان کی جگہ اور اونٹ کے کے سینہ کو بھی بلدۃ کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ یہ بھی شہر کی طرح محدود ہوتے ہیں اور بطور استعارہ انسان کے سینہ پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے اور اثر یعنی نشان کے معنی کے اعتبار سے بجلدہ بلد کا محاورہ استعمال ہوتا ہے یعنی اس کی کھال پر نشان ہے اس کی جمع ابلاد آتی ہے ۔ شاعر نے کہا ہے اور ان کے سینوں پر زخموں کے نشانات ہیں ۔ ابلد الرجل شہر میں چلاجانا جیسا کہ انجد اتھم کے معنی نجد اور تہمامہ میں چلے جانے کے ہیں ۔ بلد الرجل کے معنی شہر میں مقیم ہونے کے ہیں اور کسی مقام پر ہمیشہ رہنے والا اکثر اوقات دوسری جگہ میں جاکر متحیر ہوجاتا ہے اس لئے متجیر آدمی کے متعلق وغیرہ ہا کے محاورات استعمال ہوتے ہیں شاعر نے کہا ہے ( ع ) کہ اند وہ گیں لازما متحیر رہے گا ) ۔ اجد لوگ دام طور پر بلید یعنی کند ذہن ہوتے ہیں اس لئے ہر لئے جیم آدمی کو ابلد کہا جاتا ہے اور آیت کریمہ : وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَباتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ وَالَّذِي خَبُثَ لا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِداً [ الأعراف/ 58]( جو زمین پاکیزہ دے ) اس میں سے سبزہ بھی پروردگار کے حکم سے ( نفیس ہی ) نکلتا ہے اور جو خراب ہے ۔ اس میں سے جو کچھ نکلتا ہے ناقص ہوتا ہے ) میں بلد کے طیب اور خبیث ہونے سے کنایہ نفوس کا طیب اور خبیث ہونا مراد ہے ۔ حاص قال تعالی: هَلْ مِنْ مَحِيصٍ [ ق/ 36] ، وقوله تعالی: ما لَنا مِنْ مَحِيصٍ [إبراهيم/ 21] ، أصله من حَيْص بيص أي : شدّة، وحَاصَ عن الحقّ يَحِيصُ ، أي : حاد عنه إلى شدّة ومکروه . وأمّا الحوص فخیاطة الجلد ومنه حصت عين الصّقر . ( ح ی ص ) حاص ( ض ) عن الحق کے معنی حق سے بھاگ کر شدت ومکروہ کی طرف جانے کے میں قرآن میں ہے : ۔ هَلْ مِنْ مَحِيصٍ [ ق/ 36] کہ کہیں بھاگنے کی جگہ ہی : ما لَنا مِنْ مَحِيصٍ [إبراهيم/21] کوئی جگہ گریز اور رہائی ہمارے لئے نہیں ہے ۔ یہ اصل میں حیص وبیص سے ہے جس کے شدت اور سختی کے ہیں مگر الحوص ( وادی ) ہو تو اس کے معنی چمڑا سلنا ہوتے ہیں اور اسی سے حصت عین الصقر کا محاورہ ہے جس کے معنی صقرۃ کی آنکھیں سی دینے کے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ہم آپ کی قوم سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کرچکے ہیں جو قوت میں آپ کی قوم سے کہیں زیادہ تھے اور اپنی تجارتوں کے سلسلہ میں تمام شہروں کا سفر کرتے اور ان کو چھانتے پھرتے تھے۔ لیکن جب ہمارا عذاب ان پر نازل ہوا تو انہیں کوئی جائے پناہ اور بھاگنے کی جگہ تک نہ ملی یا یہ کہ ان میں سے کیا کوئی باقی رہا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٦ { وَکَمْ اَہْلَکْنَا قَـبْلَہُمْ مِّنْ قَرْنٍ ہُمْ اَشَدُّ مِنْہُمْ بَطْشًا فَنَقَّــبُوْا فِی الْبِلَادِ ط ہَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ ۔ } ” اور کتنی ہی قوموں کو ہم نے ان سے پہلے ہلاک کیا ہے جو قوت میں ان سے بڑھ کر تھیں ‘ سو انہوں نے ملکوں کے ملک فتح کیے ! پھر کیا وہ کوئی جائے فرار پا سکے ؟ “ نَقَبَ کا معنی ہے نقب لگانا ‘ یعنی دیوار میں سوراخ کرنا ‘ جبکہ نَقَّبَ فِی الْاَرْضِ (باب تفعیل) کا مفہوم ہے : بھاگ دوڑ کرتے ہوئے کسی ملک میں جا گھسنا ‘ یعنی کسی علاقے کو فتح کرلینا۔ وہ لوگ اتنے زور آور تھے کہ اپنی فتوحات کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے مختلف علاقوں میں گھستے چلے گئے اور ملکوں پر ملک فتح کرتے چلے گئے ‘ لیکن جب اللہ کی پکڑ آئی تو انہیں بھاگنے کو جگہ نہ ملی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

46 That is, "They were not only powerful and strong in their own land but had also made incursions into other lands and brought under their sway far off lands as well. " 47 That is, "Could their power and might save them when the time appointed by Allah came for their seizure? And could they fmd shelter and refuge anywhere? Now, on what trust do you hope that you will get refuge somewhere in the world when you have rebelled against Allah ?"

سورة قٓ حاشیہ نمبر :46 یعنی صرف اپنے ملک ہی میں وہ زور آور نہ تھیں بلکہ دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی وہ جا گھسی تھیں اور ان کی تاخت ( طاقت ) کا سلسلہ روئے زمین پر دور دور تک پہنچا ہوا تھا ۔ سورة قٓ حاشیہ نمبر :47 یعنی جب خدا کی طرف سے ان کی پکڑ کا وقت آیا تو کیا ان کی وہ طاقت ان کو بچا سکی؟ اور کیا دنیا میں پھر کہیں ان کو پناہ مل سکی؟ اب آخر تم کس بھروسے پر یہ امید رکھتے ہو کہ خدا کے مقابلے میں بغاوت کر کے تمہیں کہیں پناہ مل جائے گی؟

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

15: یعنی ان کی خوش حالی کا عالم یہ تھا کہ وہ تجارت اور سیاحت کے لیے شہر شہر گھومتے تھے۔ اور اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے عذاب سے بچنے کے لیے مختلف بستیوں میں بہت ہاتھ پاؤں مارے، لیکن عذاب الٰہی سے بچ نہیں سکے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٦۔ ٤٠۔ دوزخ کے عذاب کے ذکر کے بعد دنیا کے عذاب سے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو ڈرایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب کچھ قیامت پر ہی موقوف نہیں ہے۔ دنیا کے طرح طرح کے عذابوں سے بھی بہت سی پہلی ایسی قومیں ہلاک ہوچکی ہیں جو حال کے لوگوں سے قوت ثروت سب میں زیادہ تھیں۔ پھر باوجود اس قوت و ثروت کے اللہ کے عذاب سے بچنے کا کوئی ٹھکانہ انہوں نے نہ پایا حال کے لوگ بھی اگر اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں گے تو ایک دن یہی نتیجہ ان کا ہوگا پھر فرمایا ہر شخص صاحب عقل نصیحت کو کان لگا کر سننے والے کو یہ پچھلی قوموں کی ہلاکت کے قصے سن کر بڑی عبرت پکڑنی چاہئے تاکہ کہیں یہی دن اس کے آگے نہ آئے۔ مسند امام احمد صحیحین ١ ؎ وغیرہ میں ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے آپ کو ایک ایسے شخص سے تشبیہ دی ہے جو لوگوں کو ایک بڑے دشمن کے حملہ سے ڈرائے اور پھر یہ فرمایا ہے کہ جس آدمی نے اس دشمن سے ڈرانے والے کی نصیحت مان کر دشمن کے حملہ سے بچنے کا کچھ سامان کرلیا وہ آفت سے بچ گیا۔ اور جس نے ایسا نہیں کیا وہ دشمن کے حملہ سے ہلاک ہوگیا۔ حدیث کا یہ ٹکڑا آیت کے ٹکڑے کی تفسیر ہے۔ مطلب آیت اور حدیث کا یہ ہے کہ قرآن اور حدیث کی اس طرح کی نصیحتیں جس طرح کی نصیحت اس آیت میں ہے جس نے مان لیں وہ دوزخ کے حملہ سے بچ گیا۔ ورنہ مرنے کے بعد بڑی دشواری کا سامانا ہے۔ اہل مکہ کی ساری سرکشی اس سبب سے تھی کہ وہ حشر کے قائل نہ تھے اس لئے آگے ان کو قائل کیا ہے کہ جس صاحب قدرت نے آسمان و زمین سب کچھ ایک دفعہ پیدا کردیا اور ہزارہا برس ایک اسلوب پر دنیا کا انتظام چلایا جو اس بات کو جتاتا ہے کہ اس صاحب قدرت کو دنیا کے پیدا کرنے میں کوئی درماندگی نہیں ہوئی اس کی قدرت کے آگے انسان کی دوبارہ پیدائش کیا مشکل ہے جو کوئی اس کو مشکل سمجھتا ہے یہ اس کی نادانی ہے پھر اپنے رسول کی یہ تسلی فرمائی کہ باوجود اس نصیحت کے بھی یہ لوگ مخالفت سے باز نہ انیں گے تو وقت مقررہ آنے تک صبر کیا جائے اور اوقات معین پر اللہ کی عبادت کی جائے وقت پر ان سرکشوں سے اللہ خود سمجھ لے گا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے۔ وقت مقررہ پر رفتہ رفتہ مکہ کے سب سرکش زیر ہوگئے۔ اور مکہ فتح ہوگیا وہ اوقات معین کی عبادت یہ ہے کہ سورج نکلنے سے پہلے صبح کی نماز ہے سورج غروب ہونے سے پہلے ظہر ‘ عصر ‘ رات کی نماز مغرب ‘ عشاء اور بار السجود۔ مغرب کی دو سنتیں فرضوں کے بعد۔ (١ ؎ صحیح بخاری باب الانھاء عن المعاصی ص ٩٥٩ ج ٢ و صحیح مسلم باب شفقتہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الخ ٢٤٨ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(50:36) وکم اہلکنا قبلہم من قرن : واؤ عاطفہ ہے۔ کم دو طرح آتا ہے :۔ (1) سوالیہ : استفہام کے لئے آتا ہے، کتنی مقدار۔ کتنی تعداد۔ کتنی دیر۔ اس کی تمیز ہمیشہ مفرد منصوب ہوتی ہے کبھی مذکور ہوتی ہے جیسے کم درھما عندک تیرے پاس کتنے درہم ہیں اور کبھی محذوف ہوتی ہے جیسے قال کم لبثت (2:259) ای کم زمانا لبثت۔ تو کتنی مدت ٹھہرا ۔ (2) خبر یہ۔ جو مقدار بیشی اور تعداد کی کثرت کو ظاہر کرتا ہے ۔ اس کی تمیز ہمیشہ مجرور ہوتی ہے جیسے کم قریۃ اہلکناھا : ہم نے بہت سی بستیوں کو برباد کردیا۔ کبھی تمیز سے پہلے من آتا ہے جیسے وکم من قریۃ اہلکناہا (7:4) یا آیت ہذا۔ کم من قرن کتنی ہی قوموں کو، بہت سی قوموں کو۔ قبلہم میں ہم ضمیر جمع ذکر غائب کا مرجع کفار مکہ یا قومک محذوف ہے۔ قرن ای قوما مقترنین فی زمن واحد۔ وہ لوگ جو ایک ہی زمانہ میں رہتے ہوں قومیں۔ کم من قرن بہت سی قوموں کو۔ ہم اشد منہم : ہم اول سے مراد وہ قومیں جن کو ہل مکہ سے قبل ہلاک کیا گیا۔ اور ہم دوم سے مراد کفار مکہ ہیں۔ اشد افعل التفضیل کا صیغہ۔ بہت سخت، بہت طاقتور، بہت بڑھ کر۔ بطشا : ازروئے طاقت و سختی وقوت، اسم تمیز ہے۔ نقبوا۔ ماضی جمع مذکر غائب تنقیب (تفعیل) مصدر۔ بمعنی گھومنا۔ گشت لگانا۔ نقب مصدر۔ (باب نصر) دیوار میں سوراخ کرنا۔ نقابۃ (باب نصر) مصدر سے فی کے صلہ کے ساتھ۔ گھومنا۔ چکر لگانا۔ فنقبوا فی البلاد : ساروا فی الارض وطوفوا فیہا حذار الموت، موت سے بچنے کے لئے ملکوں میں گھومتے رہے اور چکر لگاتے رہے ف تعقیب کے لئے ہے۔ ہل من محیص : ہل استفہامیہ انکاریہ ہے محیص اسم ظاف مکان۔ پناہ گاہ۔ کیا عذاب الٰہی سے انہیں کوئی پناہ گاہ ملی ؟

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کاروبار کے سلسلہ میں دنیا بھر کا چکر کاٹتے تھے لیکن جب ہماری گرفت کا وقت آیاتو کیا انہیں کہیں پناہ مل سکی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 36 تا 40 : نقبوا (وہ بھاگے دوڑے) محیص ( پناہ کی جگہ) ‘ ستۃ ایام (چھ دن) مامسنا ( ہم کو نہیں چھوا) ‘ لغوب (تھکاوٹ۔ تھکن) ‘ ادبار ( پیچھے۔ بعد میں) ۔ تشریح : آیت نمبر 36 تا 40 : اعلان نبوت کے بعد وہی لوگ جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہت چاہتے تھے اس طرح آپ کے دشمن بن گئے کہ آپ کا اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام کا مکہ میں رہنا دشوار ہوگیا اور ان مکہ کی سرزمین کو تنگ کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کرام (رض) کو تسلی دیتے ہوئے قوموں کے ابھرنے ‘ عروج و ترقی تک پہنچنے اور نافرمانیوں کی وجہ سہ مٹ جانے کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ حق و صداقت کے راستے پر چلنے والوں کو پورے عزم و یقین کے ساتھ صبر کرتے رہنا چاہیے کیونکہ سچائی کے اس کلمے کو بلند کرنے میں لوگوں کی بےحسی ‘ بد اخلاقی کو برداشت کر کے کڑوے گھونٹ پینا ہی پڑتے ہیں۔ اگر اتنا کچھ سمجھا نے کے باوجود قوم اپنی بداعمالیوں کا راستہ نہیں چھوڑتی تو پھر وہ قہر الہی کی زد میں آجاتی ہے۔ فرمایا کہ یہ مکہ کے لوگ جس طاقت و قوت پر ناز کررہے ہیں ان سے پہلے گذری ہوئی قومیں ان سے بہت زیادہ طاقت و قوت اور دنیا کے وسائل رکھتی تھیں لیکن جب انہوں نے نافرمانیوں کی انتہا کردی تب ان پر اللہ کا فیصلہ آگیا اور پھر انہیں دنیا کے کسی کونے میں بھی پناہ نصیب نہ ہوئی۔ فرمایا کہ یہ تاریخ انسانی کے سچے واقعات ہیں جن سے عرب کے لوگ اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ ان ظالم قوموں کے کھنڈرات کے پاس سے گذرتے رہتے ہیں لیکن عبرت حاصل نہیں کرتے اور اپنے انجام پر غور نہیں کرتے۔ فرمایا کہ انسانی تاریخ کے ان واقعات سے وہی لوگ عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں جن میں سوچنے اور سمجھنے کی اہلیت و صلاحیت زندہ ہوتی ہے لیکن جو لوگ بےحس ہوچکے ہوں اور وہ کسی بات کو سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتے اور غلط عقیدوں کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں وہ بہت جلد اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہودیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ نے اس زمین و آسمان یعنی کائنات کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور ساتویں دن تھکن کی وجہ سے اس نے آرام کیا (نعوذ باللہ) ۔ فرمایا کہ بیشک اللہ نے اس کائنات کو چھ دنوں میں بنایا لیکن ساتویں دن اس نے آرام نہیں کیا ۔ وہ تھک کر نہیں بیٹھ گیا کیونکہ وہ لوگوں کی طرح ہاتھ پیر سے محنت نہیں کرتا کہ کچھ کام کرکے تھک جائے بلکہ جس کام کو وہ کرنا چاہتا ہے اس کے لئے کہتا ہے ” کن “ ہوجا اور وہ چیز اسی وقت وجود اختیار کرلیتی ہے۔ اب اس نے کائنات کو بتدریج بنایا ہے یہ اس کی مصلحت ہے لیکن تھک جانا یہ تو انسانی عادت ہے جس کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ فرمایا کہ آپ ان کفار یہودیوں اور نصاری کی اذیتوں پر صبر کیجئے۔ تحمل اور برداشت سے کام لیجئے ‘ صبح و شام اور رات کے اندھیروں میں اور دن کی روشنی میں اللہ کی حمد وثنا کیجئے۔ دین اسلام کے مخالف جو اسلام کو مٹانا چاہتے ہیں یہ خود ہی مٹ کر رہ جائیں گے۔ آپ اور آپ کے صحابہ (رض) اس کلمہ حق کو بلند کرتے رہیں ان کفار سے اللہ خود نبٹ لے گا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشادات کا خلاصہ یہ ہے کہ مکہ کے کفار جن نافرمانیوں اور رسول دشمنی میں لگے ہوئے ہیں انہیں یادرکھنا چاہیے کہ ان سے پہلے وہ زبردست قوت اور طاقت رکھنے والی قومیں گذری ہیں جنہیں اللہ کے پیغمبروں نے ہر طریقے پر سمجھایا اور کفر و شرک سے بازرکھنے کی تلقین کی لیکن وہ اپنی بد مستیوں میں اللہ کے پیغمبروں کی باتوں کو ٹکھراتے رہے۔ آخر کار ان پر اللہ کا فیصلہ آگیا اور انہوں نے شہر شہر گھومنے اور پناہ کی جگہ تلاش کرنے میں اپنی ساری صلاحیتوں کو لگا دیا لیکن ان کو کسی جگہ بھی پناہ نصیب نہ ہوسکی۔ ان تمام واقعات سے اہل عرب اچھی طرح واقف تھے ان کے تباہ کئے گئے کھنڈرات سے اکثر گذرتے تھے مگر سب کچھ دیکھ کر بھی وہ عبرت و نصیحت حاصل نہیں کرتے تھے اور اپنے بدترین انجام سے غافل تھے۔ فرمایا بات یہ ہے کہ ان کے پاس وہ نگاہیں نہیں ہیں جو انپے انجام کو دیکھ سکیں وہ عقل وفکر نہیں جس سے وہ سوچ سکیں۔ جن کے پاس نگاہیں اور دل ہوتے ہیں وہی عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ کفار و مشرکین ‘ یہودو نصاری جو بھی بکواس کرتے ہیں آپ اس کی پرواہ نہ کیجئے بلکہ صبر و تحمل اور برداشت سے اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کی جدوجہد کرتے رہیے اور صبح و شام سورج نکلنے سے پہلے ‘ سورج ڈوبنے سے پہلے ‘ کچھ رات کے اندھیروں میں اور کچھ سجدوں سے فارغ ہوکر اللہ کی حمد وثنا کیجئے۔ کسی کی پرواہ نہ کیجئے۔ اللہ آپ پر اپنی رحمتیں نازل کرتا رہے گا اور دشمنان اسلام ہی گذشتہ قوموں کی طرح بےنام ونشان ہو کر رہ جائیں گے کیونکہ اللہ کا یہی دستور ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یعنی قوت کے ساتھ اسباب معیشت میں بھی بڑی ترقی دی تھی۔ 3۔ یعنی کسی طرح بچ نہ سکے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ جہنم کی وعید اور جنت کی نوید سننے کے باوجود اپنے رب کی طرف قلباً اور عملاً رجوع نہیں کرتے ان کا دنیا میں انجام۔ قرآن مجید کے پہلے مخاطب اہل مکہ تھے اس لیے انہیں بتلایا کہ تم سے پہلے کتنی جماعتیں گزرچکی ہیں جو جسمانی قوت اور وسائل کے لحاظ سے تم سے زیادہ طاقت ور تھیں اور وہ بہت سے شہروں اور علاقوں میں پھرنے والے تھے۔ لیکن ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تو انہیں پناہ لینے کے لیے کوئی جگہ میسر نہ آئی۔ ” فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ “ کے اہل تفسیر نے دو معانی کیے ہیں۔ 1 ۔ وہ اس قدر طاقت ور تھے کہ انہوں نے کئی شہر اور علاقے فتح کیے اور ان میں پوری عیش و عشرت کے ساتھ رہتے اور گھوما کرتے تھے لیکن جب ان کی گرفت ہوئی تو وہ کہیں بھی پناہ حاصل نہ کرسکے۔ پناہ کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں تہس نہس کردیا۔ 2 ۔” فَنَقَّبُوْا “ کا دوسرا معنٰی یہ ہے کہ وہ بہت سے شہروں کو فتح کرنے والے اور ان میں فاتح انداز میں داخل ہونے والے تھے۔ پہلی اقوام کی تباہی اس شخص کے لیے عبرت کا باعث ہے جو اپنے سینے میں دل رکھتا ہے۔ سینے میں دل رکھنے سے مراد وہ دل ہے جس میں سچ بات سننے اور اسے قبول کرنے کا جذبہ ہو۔ جب دل سچے جذبے کے ساتھ کسی طرف متوجہ ہوتا ہے تو کان بھی سننے کے لیے طرح تیار ہوجاتے ہیں۔ دل اور کان کسی بات کی طرف متوجہ ہوں تو سننے والا اس بات کو جلد قبول کرلیتا ہے۔ یہی شخص ہی نصیحت سے مستفید ہوتا ہے۔ گویا کہ نصیحت حاصل کرنے کے لیے بیک وقت تین کام ضروری ہیں۔ ١۔ دل کی توجہ۔ ٢۔ ہمہ تن گوش ہونا۔ ٣۔ اور حق کی طرف پوری طرح متوجہ ہونا۔ ان میں سے کوئی ایک بات منقود ہو تو انسان بڑے سے بڑے واقعہ اور سانحہ سے عبرت حاصل نہیں کرتا۔ جن قوموں کو نیست و نابود کیا گیا ان میں یہی نقص پایا جاتا تھا کہ وہ حق بات کو اس طرح سننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ جس طرح انہیں سننے کا حکم دیا گیا تھا ان کے دل تھے مگر بصیرت سے اندھے تھے، ان کے کان تھے لیکن سچ بات سننے کے لیے تیار نہ تھے۔ ان کی آنکھیں تھیں مگر عبرت کی نظر سے دیکھنے سے محروم ہوچکی تھیں۔ ” بلاشبہ ہم نے بہت سے جن اور انسان جہنم کے لیے ہی پیدا کیے ہیں ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں یہ لوگ چوپاؤں جیسے ہیں بلکہ یہ زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں یہی ہیں جو غافل ہیں۔ “ (الاعراف : ١٧٩) (اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَکُوْنَ لَہُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِہَآ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِہَا فَاِنَّہَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَ لٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ ) (الحج : ٤٦) ” کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان کے دل سمجھنے والے یا ان کے کان سننے والے ہوتے ؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ “ (الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا وَّہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ ) (الملک : ٢) ” جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرنے والا ہے اور وہ زبردست، اور درگزر فرمانے والا ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی طاقتور اقوام کو ان کے جرائم کی وجہ سے تہس نہس کردیا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو انہیں دنیا میں کوئی پناہ دینے والا نہ تھا۔ تفسیر بالقرآن نصیحت حاصل کرنے کے لیے کن باتوں کی ضرورت ہوتی ہے ؟ : ١۔ ہم نے قرآن مجید کو واضح کردیا تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (بنی اسرئیل : ٤١) ٢۔ اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کو مختلف عذابوں سے دو چار کیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (الاعراف : ١٣٠) ٣۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے جوڑے (نرومادہ) بنادیے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (الذاریات : ٤٩) ٤۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (الزمر : ٢٧) ٥۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (البقرۃ : ٢٢١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر ٢٤٩ ایک نظر میں یہ اس سورت کا آخری سبق ہے ۔ گویا یہ آخری زمزمہ ہے اور نہایت ہی زور دار آواز میں بتایا جاتا ہے کہ سنو انسانی تاریخ میں امم سابقہ کے ساتھ کیا ہوتا رہا ہے۔ اس میں کائنات کی ایک جھلک بھی ہے اور حشر ونشر کے بارے میں بھی ایک منظر پیش کیا گیا ہے اور قرآن کے بارے میں بھی ہدایت ہے کہ آپ کام جاری رکھیں۔ قلب و نظر کے لئے بھی کئی ہدایات ہیں ، اس سبق میں۔ یہ تمام جھلکیاں اس پوری سورت میں بھی گزری ہیں لیکن آخر میں یہ ایک نئے ٹچ کے ساتھ دہرائی گئی ہیں ۔ نہایت تیزی کے ساتھ نکتہ وار ، انہی باتوں کو دہرایا گیا ہے لیکن ایک نئے ذوق اور نئے انداز میں اور یہی قرآن کا اعجاز ہے کہ وہ ایک بات کو جب ایک ہی سورت میں دہراتا ہے تو وہ نئی معلوم ہوتی ہے۔ پہلے کیا گیا۔ کذبت قبلھم ۔۔۔۔ وثمود (٥٠ : ١٢) وعاد وفرعون واخوان لوط (٥٠ : ١٣) واصحب الیکۃ ۔۔۔۔ فحق وعید (٥٠ : ١٤) ” ان سے پہلے نوح کی قوم ، اصحاب الرس اور ثمود ، اور عاد اور فرعون اور لوط کے بھائی اور ایکہ والے اور تبع کی قوم کے لوگ جھٹلا چکے ہیں ، ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا اور آخر کار میری وعید ان پر چسپاں ہوگئی “ ۔ اور یہاں کہا گیا : جس حقیقت کی طرف اشارہ مطلوب تھا وہ یہ ہے لیکن یہاں بالکل جدید انداز میں ہے اور پہلی آیت میں جو انداز ہے اس سے بالکل مختلف۔ یہاں اقوام کی ایک صفت کا اضافہ کردیا گیا کہ انہوں نے پوری دنیا میں نقب لگاکر اسے چھان مارا تھا۔ وہ ہر طرف دوڑے پھرتے تھے۔ اسباب حیات تلاش کرتے تھے لیکن جب ان کو پکرا گیا تو پھر کیا کوئی جائے فرار تھی ؟ ھل من محیص (٥٠ : ٣٦) ” پھر کیا وہ کوئی جائے پناہ پا سکے “ ۔ نہیں ! پیش ہے ایک اضافہ اور جس سے بات اور جاندار ہوجاتی ہے :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

گزشتہ امتوں کی ہلاکت سے عبرت حاصل کرنے کا حكم اول تو ان آیات میں گزشتہ اقوام کی بربادی کا تذکرہ فرمایا کہ ہم نے قرآن کے مخاطبین سے پہلے بہت سی قوموں کو ہلاک کردیا وہ لوگ گرفت کرنے میں ان لوگوں سے زیادہ سخت تھے، جیسا کہ قوم عاد کے بارے میں فرمایا ﴿ وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَۚ٠٠١٣٠﴾ (اور جب تم پکڑتے ہو تو بڑے جابر بن کر پکڑتے ہو) ۔ اور سورة ٴ محمد میں فرمایا ﴿ وَ كَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ هِيَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْيَتِكَ الَّتِيْۤ اَخْرَجَتْكَ ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ ٠٠١٣﴾ (اور بہت سی بستیاں ایسی تھیں جو قوت میں آپ کی اسی بستی سے بڑھی ہوئی تھیں جس کے رہنے والوں نے آپ کو گھر سے بےگھر کردیا ہم نے ان کو ہلاک کردیا سو ان کا کوئی مددگار نہیں ہوا) ۔ ﴿فَنَقَّبُوْا فِي الْبِلَادِ ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِيْصٍ ٠٠٣٦﴾ (سو وہ لوگ شہروں میں چلتے پھرتے رہے جب ہلاک ہونے کا وقت آیا تو ان کی قوت اور سیر و سیاحت نے انہیں کچھ بھی نفع نہ پہنچایا، عذاب آنے پر کہنے لگے کہ کیا کوئی بھاگنے کی جگہ ہے) لیکن بھاگنے کا کوئی موقعہ نہیں ملا اور بالآخر ہلاک ہوگئے۔ صاحب روح المعانی نے ایک قول یہ لکھا ہے کہ فنقبوا کی ضمیر اہل مکہ کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ اہل مکہ سے پہلے جو قومیں ہلاک ہوچکی ہیں یہ لوگ اپنے اسفار میں ان تباہ شدہ شہروں سے گزرتے ہیں کیا انہیں کوئی ایسی صورت نظر آتی ہے کہ عذاب آئے تو بھاگنے کی جگہ مل جائے جس کی وجہ سے اپنے بارے میں گمان کرتے ہیں کہ ہم بھی انہیں کی طرح راہ فرار حاصل کرلیں گے (یعنی ایسا نہیں ہے) جب ایسا نہیں ہے تو یہ لوگ کفر پر کیوں جمے ہوئے ہیں ؟

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

19:۔ ” وکم اھلکنا یہ تخویف دنیوی ہے۔ بطشا، قت یا شدید گرفت۔ نقبوا فی البلاد، انہوں نے مختلف حیلوں اور تدبیروں سے شہروں پر قبضہ جمایا اور ان کو تابع کرلیا۔ اس صورت میں ھل من محیص علیحدہ جملہ ہوگا یعنی انہوں نے شہروں کو تو تابع کرلیا۔ لیکن کیا ہمارے عذاب سے بھی بچ سکے ؟ یا مطلب یہ ہے کہ ہمارے عذاب کے وقت اس سے بچنے کے لیے بہت حیلے کیے، لیکن کیا ہمارے عذاب سے خلاصی ہوئی ؟ اب یہ جملہ ما قبل کے ساتھ مرتبط ہوگا۔ دور درواز شہروں کے سفر کرتے رہے۔ سارو فیہا یبتغون الارزاق والمتاجر والمکاسب اکثر مما تخاطقتم انتم بھا ؟ (ابن کثیر ج 4 ص 229) ۔ مکہ والوں سے پہلے ہم نے بہت سی قوموں کو ہلاک کیا ہے جو قوت و شوکت میں ان سے زیادہ تھیں اور ذرائع دولت بھی ان کے پاس زیادہ تھے اور عذاب سے بچنے کے لیے بھی انہوں نے بہت بھاگ دوڑ کی اور بہت حیلے کیے تو کیا کسی چیز نے قوت و شوکت نے، مال و دولت نے یا حیلہ سازی نے ان کو اللہ کی قضاء سے اور اس کے عذاب سے بچا لیا استفہام انکاری ہے یعنی کوئی چیز بھی ان کو اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(36) اور ہم بہت سی امتوں اور قوموں کو ان کفار مکہ سے پہلے تباہ و برباد کرچکے ہیں جو وقت وزور میں اور دست درازی میں ان سے بہت زیادہ تھیں پھر وہ اپنی بستیوں میں تلاش کرتے پھرے اور شہروں کو چھانتے پھرے کہ کوئی پناہ کی جگہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان سے پہلے بہت سی قوموں نے یہ شیوہ اختیار کیا کہ پیغمبروں کی تکذیب کرتے تھے وہ ان سے قوت اور زور میں بھی زیادہ تھے۔ پھر جب عذاب آیا تو شہروں میں بھاگنے کی جگہ تلاش کرتے پھرے یا یہ ان کی قوت و طاقت کے ساتھ ان کا شہروں میں پھر کر دنیاوی سازو سامان میں ترقی کرنے کو ظاہر کیا گیا ہے کہ زور آور بھی اور سازوسامان میں بھی ان سے زیادہ تھے اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ مکہ والے جو سفر کرتے رہتے ہیں ان مکہ والوں نے تفتیش کی اور تضحص کیا کہ ان کے لئے کوئی بھاگنے کی جگہ تھی تاکہ ان پر عذاب آئے تو یہ وہاں جاکر پناہ حاصل کرلیں۔ تنقیب کے معنی میں تنقیر اور تفتیش کسی بات کی ۔ تفحص چلنا، زمین میں پہاڑوں میں چلنا اور بحث یعنی کرید کرنا کسی بات کی انہی معنی کے اعتبار سے ترجمے کئی طرح سے کئے گئے ہیں بھاگنے کی جگہ موت سے یا اللہ تعالیٰ کے عذاب سے سب کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلی قومیں قوت میں سازوسامان زیادہ تھیں سو وہ عذاب کے وقت بچنے کی جگہ ڈھوندتی پھریں۔ اور ان کو کہیں بچنے کی جگہ نہ ملی اور سب ہلاک ہوگئیں آگے ان واقعات سے عبرت اور نصیحت پکڑنے کا ذکر فرمایا۔