Warning the Disbelievers of the imminent Torment;
Allah says,
وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم
...
And how many ...
Allah the Exalted asks, `how many We have destroyed before these denying disbelievers?'
...
مِّن قَرْنٍ هُمْ أَشَدُّ مِنْهُم بَطْشًا
...
a generation who were stronger in power than they.
they were more numerous, mightier than they and who constructed on the earth and built on it more than they.
The statement of Allah the Exalted,
...
فَنَقَّبُوا فِي الْبِلَدِ هَلْ مِن مَّحِيصٍ
And they went about the land! Could they find any place of refuge?
Ibn Abbas commented,
"They left the traces throughout the land,"
Qatadah said,
"They traveled throughout the land seeking provisions through trade and business, more than you have."
Allah's statement,
هَلْ مِن مَّحِيصٍ
(Could they find any place of refuge?)
means, `could they find a shelter from Allah's decision and appointed destiny? Have what they collected benefited them or averted Allah's torment when it came to them on account of their denial of the Messengers? Likewise, you will never be able to avert, avoid, or find refuge or shelter (from His torment).'
Allah the Exalted and Most Honored said,
بے سود کوشش
ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں ؟ ان سے بہت زیادہ قوت وطاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ وبالا کر چکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں زمین میں خوب فساد کیا ۔ لمبے لمبے سفر کرتے تھے ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی اللہ کی قضا و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا ؟ پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آگیا بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے ۔ ہر عقلمند کے لئے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ دھیان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پا سکتا ہے یعنی دل کو حاضر کر کے کانوں سے سنے ۔ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں کو زمین کو اور اسکے درمیان کی چیزوں کو چھ روز میں پیدا کر دیا اور وہ تھکا نہیں اس میں بھی موت کے بعد کی زندگی پر اللہ کے قادر ہونے کا ثبوت ہے کہ جو ایسی بڑی مخلوق کو اولاً پیدا کر چکا ہے اس پر مردوں کا جلانا کیا بھاری ہے ؟ حضرت قتادہ کا فرمان ہے کہ ملعون یہود کہتے تھے کہ چھ دن میں مخلوق کو رچا کر خالق نے ساتویں روز آرام کیا اور یہ دن ہفتہ کا تھا اس کا نام ہی انہوں نے یوم الراحت رکھ چھوڑا تھا ۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس واہی خیال کی تردید کی کہ ہمیں تھکن ہی نہ تھی آرام کیسا ؟ جیسے اور آیت میں ہے آیت ( وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ۭ بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 33 ) 46- الأحقاف:33 ) ، یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا ؟ کہ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا وہ مردوں کے جلانے پر قادر نہیں ؟ ہاں کیوں نہیں وہ تو ہر چیز پر قادر ہے اور آیت میں ہے آیت ( لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57 ) 40-غافر:57 ) البتہ آسمان و زمین کی پیدائش لوگوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے اور آیت میں ہے آیت ( ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاۗءُ ۭ بَنٰىهَا 27۪ ) 79- النازعات:27 ) کیا تمہاری پیدائش سے زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی اسے اللہ نے بنایا ہے ۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہ جھٹلانے اور انکار کرنے والے جو کہتے ہیں اسے صبر سے سنتے رہو اور انہیں مہلت دو ان کو چھوڑ دو اور سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے اور رات کو اللہ کی پاکی اور تعریف کیا کرو ۔ معراج سے پہلے صبح اور عصر کی نماز فرض تھی اور رات کی تہجد آپ پر اور آپ کی امت پر ایک سال تک واجب رہی اس کے بعد رہی اس کے بعد آپ کی امت سے اس کا وجوب منسوخ ہو گیا اس کے بعد معراج والی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں جن میں فجر اور عصر کی نمازیں جوں کی توں رہیں ۔ پس سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے مراد فجر کی اور عصر کی نماز ہے مسند احمد میں ہے ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودہویں رات کے چاند کو دیکھا اور فرمایا تم اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے وہ جس کے دیکھنے میں کوئی دھکا پیلی نہیں پس اگر تم سے ہو سکے تو خبردار سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں سے غافل نہ ہو جایا کرو ، پھر آپ نے آیت ( وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِهَا ۚ وَمِنْ اٰنَاۗئِ الَّيْلِ فَسَبِّحْ وَاَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى ١٣٠ ) 20-طه:130 ) پڑھی یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے ۔ رات کو بھی اس کی تسبیح بیان کر یعنی نماز پڑھ جیسے فرمایا آیت ( وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا 79 ) 17- الإسراء:79 ) ، یعنی رات کو تہجد کی نماز پڑھا کر یہ زیادتی خاص تیرے لئے ہی ہے تجھے تیرا رب مقام محمود میں کھڑا کرنے والا ہے سندوں کے پیچھے سے مراد بقول حضرت ابن عباس نماز کے بعد اللہ کی پاکی بیان کرنا ہے ۔ بخاری و مسلم میں حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مفلس مہاجر آئے اور کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مالدار لوگ بلند درجے اور ہمیشہ والی نعمتیں حاصل کر چکے آپ نے فرمایا یہ کیسے ؟ جواب دیا کہ ہماری طرح نماز روزہ بھی تو وہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ دیتے ہیں جو ہم نہیں دے سکتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں جو ہم نہیں کر سکتے آپ نے فرمایا آؤ تمہیں ایک ایسا عمل بتلاؤں کہ جب تم اسے کرو تو سب سے آگے نکل جاؤ اور تم سے افضل کوئی نہ نکلے لیکن جو اس عمل کو کرے ۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس مرتبہ سبحان اللہ ، الحمد اللہ ، اللہ اکبر پڑھ لیا کرو پھر وہ آئے اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے مال دار بھائیوں نے بھی آپ کی اس حدیث کو سنا اور وہ بھی اس عمل کو کرنے لگے ۔ آپ نے فرمایا پھر یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعت ہیں ۔ حضرت عمر حضرت علی حضرت حسن بن علی حضرت ابن عباس حضرت ابو ہریرہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہم کا یہی فرمان ہے اور یہی قول ہے حضرت مجاہد حضرت عکرمہ حضرت شعبی حضرت نخعی حضرت قتادہ رحھم اللہ وغیرہ کا ۔ مسند احمد میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے بجز فجر اور عصر کی نماز کے عبدالرحمن فرماتے ہیں ہر نماز کے پیچھے ۔ ابن ابی حاتم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گذاری آپ نے فجر کے فرضوں سے پہلے دو ہلکی رکعت ادا کیں پھر گھر سے نماز کیلئے نکلے اور فرمایا اے ابن عباس فجر کے پہلے کی دو رکعت ( وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَارَ النُّجُوْمِ 49ۧ ) 52- الطور:49 ) ہیں اور مغرب کے بعد کی دو رکعت ( وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَارَ السُّجُوْدِ 40 ) 50-ق:40 ) ہیں ۔ یہ اسی رات کا ذکر ہے جس رات حضرت عبداللہ نے تہجد کی نماز کی تیرہ رکعت آپ کی اقتداء میں ادا کی تھیں اور اس رات آپ کی خالہ حضرت میمونہ کی باری تھی ۔ لیکن اوپر جو بیان ہوا یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتلاتے ہیں ہاں اصل حدیث تہجد کی تو بخاری و مسلم میں ہے ۔ ممکن ہے کہ پچھلا کلام حضرت ابن عباس کا اپنا ہو ۔ واللہ اعلم ۔