يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ (...the Day when the caller will call from a near place - 50:41). Sayyidna Ibn ` Asakir (رض) reports from Zaid Ibn Jabir Shafi` i that the |"caller|" referred to here is the angel Israfil (علیہ السلام) who will stand on the Dome of the Rock (Sakhrah) and will address all the dead people of the entire world : |"0 you rotten bones! 0 you decomposed skins! 0 you scattered hair! Listen, Allah commands you to reassemble to render account of your actions (Mazhari).|" This scene depicts how, after the second blowing of the trumpet, the world will be resurrected. The phrase |"a near place|" refers to the fact that the voice of the angel will reach everybody who rises from death anywhere on the surface of the earth, and will feel as though the angel had called him from a nearby place. &Ikrimah (رض) says that the voice will be heard in such a way as if someone is speaking to us in our ears. Other scholars have said that |"a near place|" refers to the Dome of the Rock, because that is the centre of the earth, and is equidistant, being separated by equal distances from all sides of the globe. (Qurtubi)
خلاصہ تفسیر اور (اے مخاطب تو اس اگلی بات کو توجہ سے) سن رکھ کہ جس دن ایک پکارنے والا (فرشتہ یعنی اسرافیل (علیہ السلام) بذریعہ نفخ صور مردوں کو قبروں سے نکلنے کے لئے) پاس ہی سے پکارے گا (پاس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آواز سب کو بےتکلف پہنچے گی، گویا پاس سے ہی کوئی پکار رہا ہے اور جیسے اکثر دور کی آواز کسی کو پہنچتی ہے کسی کو نہیں پہنچتی ایسا نہ ہوگا) جس روز اس چیخنے کو بالیقین سب سن لیں گے، یہ دن ہوگا (قبروں سے) نکلنے کا ہم ہی (اب بھی) جلاتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری طرف پھر لوٹ کر آنا ہے (اس میں بھی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قدرت کی طرف اشارہ ہے) جس روز زمین ان (مردوں) پر سے کھل جاوے گی جبکہ وہ (نکل کر میدان قیامت کی طرف) دوڑتے ہوں گے یہ (جمع کرلینا) ہمارے نزدیک ایک آسان جمع کرلینا ہے (غرض مکرر در مکرر قیامت کا امکان اور وقوع سب ثابت ہوچکا، مگر اس پر بھی جو لوگ نہ مانیں تو آپ غم نہ کیجئے کیونکہ) جو کچھ یہ لوگ (قیامت وغیرہ کے بارے میں) کہہ رہے ہیں ہم خوب جانتے ہیں (ہم خود سمجھ لیں گے) اور آپ ان پر (منجانب اللہ) جبر کرنے والے ( کر کے) نہیں (بھیجے گئے) ہیں (بلکہ صرف منذر اور مبلغ ہیں، جب یہ بات ہے) تو آپ قرآن کے ذریعہ سے (عام تذکیر سے سب کو اور خاص تذکیر نافع سے صرف) ایسے شخص کو نصیحت کرتے رہے جو میری وعید سے ڈرتا ہو (اس مفعول کی تقلید سے اشارہ ہوگیا کہ آپ اگر تذکیرہ تبلیغ عام کرتے ہیں جیسا مشاہدہ ہے لیکن پھر بھی من یخاف وعید (یعنی اللہ کی وعید سے ڈرنے والا) کوئی کوئی ہوتا ہے، پس ثابت ہوا کہ یہ آپ کے اختیار میں نہیں جب آپ کے اختیار میں نہیں پھر بےاختیار بات کی فکر کیا ) ۔ معارف و مسائل (آیت) يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِيْبٍ ، (یعنی جس دن ایک پکارنے والا فرشتہ پاس ہی سے پکارے گا) ابن عسا کرنے زید بن جابر شافعی سے روایت کیا ہے کہ یہ فرشتہ اسرافیل ہوگا، جو بیت المقدس کے صخرہ پر کھڑا ہو کر ساری دنیا کے مردوں کو یہ خطاب کرے گا کہ : ” اے گلی سٹری ہڈیو ! اور ریزہ ریزہ ہوجانے والی کھالو ! اور بکھر جانے والے بالو ! سن لو ! تم کو اللہ تعالیٰ یہ حکم دیتا ہے کہ حساب کے لئے جمع ہوجاؤ “ (مظہری) یہ قیامت کے نفخہ ثانیہ کا بیان ہے جس سے دوبارہ عالم کو زندہ کیا جائے گا اور مکان قریب سے مراد یہ ہے کہ اس وقت اس فرشتے کی آواز پاس اور دور کے سب لوگوں کو اس طرح پہنچے گی کہ گویا پاس ہی سے پکار رہا ہے، حضرت عکرمہ نے فرمایا کہ یہ آواز اس طرح سنی جائے گی جیسے کوئی ہمارے کان میں آواز دے رہا ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ مکان قریب سے مراد صخرہ بیت المقدس ہے، کیونکہ وہ زمین کا وسط ہے، سب طرف اس کی مسافت یکساں ہے (قرطبی)