Surat Qaaf

Surah: 50

Verse: 41

سورة ق

وَ اسۡتَمِعۡ یَوۡمَ یُنَادِ الۡمُنَادِ مِنۡ مَّکَانٍ قَرِیۡبٍ ﴿ۙ۴۱﴾

And listen on the Day when the Caller will call out from a place that is near -

اور سن رکھیں کہ جس دن ایک پکارنے والا قریب ہی کی جگہ سے پکارے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Admonition from Some Scenes of the Day of Resurrection Allah the Exalted said, وَاسْتَمِعْ ... And listen, (O Muhammad), ... يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ on the Day when the caller will call from a near place. to the gathering for the Day of Judgement,

جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے حضرت کعب احبار فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیو اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ اللہ تمہیں جمع ہو جانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے ، پس مراد اس سے صور ہے یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہو گا ابتداءً ًیہ پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹا لانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے ۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پا لے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی اٹھ کھڑے ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا جس سے مخلوقات کے بدن اگنے لگیں گے جس طرح کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ بارش سے اگ جاتا ہے ۔ جب جسم کی پوری نشوونما ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا ۔ تمام روحیں صور کے سوراخ میں ہوں گی ان کے صور پھونکتے ہی روحیں آسمان کے درمیان پھرنے لگ جائیں گی اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے عزت و جلال کی قسم ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے جسے اس نے دنیا میں آباد رکھا تھا ۔ پس ہر روح اپنے اپنے اصلی جسم میں جا ملے گی اور جس طرح زہریلے جانور کا اثر چوپائے کے رگ و ریشہ میں بہت جلد پہنچ جاتا ہے اس طرح اس جسم کے رگ و ریشے میں فوراً روح دوڑ جائے گی اور ساری مخلوق اللہ کے فرمان کے ماتحت دوڑتی ہوئی جلد از جلد میدان محشر میں حاضر ہو جائے گی یہ وقت ہو گا جو کافروں پر بہت ہی سخت ہو گا ۔ فرمان باری ہے آیت ( يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا 52؀ۧ ) 17- الإسراء:52 ) ، یعنی جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے ۔ صحیح مسلم میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہو گی ۔ فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا آیت ( وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ 50؀ ) 54- القمر:50 ) یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا اور آیت میں ہے آیت ( مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ 28؀ ) 31- لقمان:28 ) ، یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے ۔ پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ يَضِيْقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُوْلُوْنَ 97؀ۙ ) 15- الحجر:97 ) ، واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہیے اور نمازوں میں رہیے اور موت آجانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہیے ۔ پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لا سکتا نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے ۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو ، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہو جائیے جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے ۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آجائے گا جیسے فرمایا ہے آیت ( وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ 40؁ ) 13- الرعد:40 ) یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے اور آیت میں ہے آیت ( فَذَكِّرْ ڜ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ 21؀ۭ ) 88- الغاشية:21 ) تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں ۔ اور جگہ ہے تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے اور جگہ ہے آیت ( اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ 56؀ ) 28- القصص:56 ) ، یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے ۔ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے ۔ حضرت قتادہ اس آیت کو سن کر یہ دعا کرتے ( اللھم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجو موعدک یا بار یا رحیم ) یعنی اے اللہ تو ہمیں ان میں سے کر جو تیری سزاؤں کے ڈراوے سے ڈرتے ہیں اور تیری نعمتوں کے وعدے کی امید لگائے ہوئے ہیں اے بہت زیادہ احسان کرنیوالے اور اے بہت زیادہ رحم کرنے والے ۔ سورہ ق کی تفسیر ختم ہوئی ۔ والحمد للہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

41۔ 1 یعنی قیامت کے جو احوال وحی کے ذریعے سے بیان کئے جا رہے ہیں، انہیں توجہ سے سنیں۔ 41۔ 2 یہ پکارنے والا اسرافیل فرشتہ ہوگا یا جبرائیل اور یہ ندا وہ ہوگی جس سے لوگ میدان محشر میں جمع ہوجائیں گے۔ یعنی نفخہ ثانیہ۔ 41۔ 3 اس سے بعض نے صخرہ بیت المقدس مراد لیا ہے، کہتے ہیں یہ آسمان کے قریب ترین جگہ ہے اور بعض کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص یہ آوازیں اس طرح سنے گا جیسے اس کے قریب سے ہی آواز آرہی ہے (فتح القدیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٨] یہ نفخہ صور ثانی کا وقت ہوگا اور پکارنے والا فرشتہ یہ بات کہے گا کہ && اے مرے ہوئے لوگو ! سب اپنی اپنی قبروں سے اللہ کے حکم سے زندہ ہو کر نکل آؤ اور اللہ کے سامنے جوابدہی کے لئے پیش ہوجاؤ && قبروں میں پڑا ہوا ہر شخص یوں محسوس کرے گا کہ کہیں قریب سے ہی یہ آواز آرہی ہے۔ موجودہ سائنسی ایجادات نے اس چیز کو بہت قریب الفہم بنادیا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) واستمع…: پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کی بےہودہ گوئی پر صبر اور اپنی تسبیح و تحمید کا حکم دیا، اس آیت میں آپ کی تسلی کے لئے قیامت کے دن کا ذکر فرمایا کہ تھوڑا صبر کریں ان کی جزا کے لئے قیامت کا دن آیا ہی چاہتا ہے۔ ابن عطیہ نے ” استمع “ کا معنی ” انتظر “ کیا ہے، یعنی صبر کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں…۔ اگر اس کا لفظی معنی ” کان لگا کر سن “ کیا جائے تو اس سے مراد بھی آپ کو تسلی دینا ہے کہ قیامت اتنی قریب ہے گویا اس میں پکارنے والے کی منادی کی آواز آپ کے کانوں میں آرہی ہے۔ زمخشری نے فرمایا :” واستمع یوم یناد المناد “ کا مطلب یہ ہے کہ کان لگا کر سن قیامت کے دن کا حال جو میں تمہیں بتانے لگا ہوں۔ “ (٢) یوم یناد المناد : اس سے مراد صور میں دوسری دفعہ پھونکے جانے کا وقت ہے، جب فرشتہ صور میں پھونک مار کر سب لوگوں کو قبروں سے نکل کر محشر میں جمع ہوجانے کے لئے آواز دے گا۔ دیکھیے سورة قمر (٦ تا ٨) ۔ (٣) من مکان قریب : یعنی قبروں میں پڑے ہوئے ہر شخص کو وہ آواز بالکل قریب سے آتی ہوئی سنائی دے گی۔ موجودہ سائنسی ایجادات سے یہ بات سمجھنا بہت آسان ہوگیا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِن مَّكَانٍ قَرِ‌يبٍ (...the Day when the caller will call from a near place - 50:41). Sayyidna Ibn ` Asakir (رض) reports from Zaid Ibn Jabir Shafi` i that the |"caller|" referred to here is the angel Israfil (علیہ السلام) who will stand on the Dome of the Rock (Sakhrah) and will address all the dead people of the entire world : |"0 you rotten bones! 0 you decomposed skins! 0 you scattered hair! Listen, Allah commands you to reassemble to render account of your actions (Mazhari).|" This scene depicts how, after the second blowing of the trumpet, the world will be resurrected. The phrase |"a near place|" refers to the fact that the voice of the angel will reach everybody who rises from death anywhere on the surface of the earth, and will feel as though the angel had called him from a nearby place. &Ikrimah (رض) says that the voice will be heard in such a way as if someone is speaking to us in our ears. Other scholars have said that |"a near place|" refers to the Dome of the Rock, because that is the centre of the earth, and is equidistant, being separated by equal distances from all sides of the globe. (Qurtubi)

خلاصہ تفسیر اور (اے مخاطب تو اس اگلی بات کو توجہ سے) سن رکھ کہ جس دن ایک پکارنے والا (فرشتہ یعنی اسرافیل (علیہ السلام) بذریعہ نفخ صور مردوں کو قبروں سے نکلنے کے لئے) پاس ہی سے پکارے گا (پاس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آواز سب کو بےتکلف پہنچے گی، گویا پاس سے ہی کوئی پکار رہا ہے اور جیسے اکثر دور کی آواز کسی کو پہنچتی ہے کسی کو نہیں پہنچتی ایسا نہ ہوگا) جس روز اس چیخنے کو بالیقین سب سن لیں گے، یہ دن ہوگا (قبروں سے) نکلنے کا ہم ہی (اب بھی) جلاتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری طرف پھر لوٹ کر آنا ہے (اس میں بھی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قدرت کی طرف اشارہ ہے) جس روز زمین ان (مردوں) پر سے کھل جاوے گی جبکہ وہ (نکل کر میدان قیامت کی طرف) دوڑتے ہوں گے یہ (جمع کرلینا) ہمارے نزدیک ایک آسان جمع کرلینا ہے (غرض مکرر در مکرر قیامت کا امکان اور وقوع سب ثابت ہوچکا، مگر اس پر بھی جو لوگ نہ مانیں تو آپ غم نہ کیجئے کیونکہ) جو کچھ یہ لوگ (قیامت وغیرہ کے بارے میں) کہہ رہے ہیں ہم خوب جانتے ہیں (ہم خود سمجھ لیں گے) اور آپ ان پر (منجانب اللہ) جبر کرنے والے ( کر کے) نہیں (بھیجے گئے) ہیں (بلکہ صرف منذر اور مبلغ ہیں، جب یہ بات ہے) تو آپ قرآن کے ذریعہ سے (عام تذکیر سے سب کو اور خاص تذکیر نافع سے صرف) ایسے شخص کو نصیحت کرتے رہے جو میری وعید سے ڈرتا ہو (اس مفعول کی تقلید سے اشارہ ہوگیا کہ آپ اگر تذکیرہ تبلیغ عام کرتے ہیں جیسا مشاہدہ ہے لیکن پھر بھی من یخاف وعید (یعنی اللہ کی وعید سے ڈرنے والا) کوئی کوئی ہوتا ہے، پس ثابت ہوا کہ یہ آپ کے اختیار میں نہیں جب آپ کے اختیار میں نہیں پھر بےاختیار بات کی فکر کیا ) ۔ معارف و مسائل (آیت) يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِيْبٍ ، (یعنی جس دن ایک پکارنے والا فرشتہ پاس ہی سے پکارے گا) ابن عسا کرنے زید بن جابر شافعی سے روایت کیا ہے کہ یہ فرشتہ اسرافیل ہوگا، جو بیت المقدس کے صخرہ پر کھڑا ہو کر ساری دنیا کے مردوں کو یہ خطاب کرے گا کہ : ” اے گلی سٹری ہڈیو ! اور ریزہ ریزہ ہوجانے والی کھالو ! اور بکھر جانے والے بالو ! سن لو ! تم کو اللہ تعالیٰ یہ حکم دیتا ہے کہ حساب کے لئے جمع ہوجاؤ “ (مظہری) یہ قیامت کے نفخہ ثانیہ کا بیان ہے جس سے دوبارہ عالم کو زندہ کیا جائے گا اور مکان قریب سے مراد یہ ہے کہ اس وقت اس فرشتے کی آواز پاس اور دور کے سب لوگوں کو اس طرح پہنچے گی کہ گویا پاس ہی سے پکار رہا ہے، حضرت عکرمہ نے فرمایا کہ یہ آواز اس طرح سنی جائے گی جیسے کوئی ہمارے کان میں آواز دے رہا ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ مکان قریب سے مراد صخرہ بیت المقدس ہے، کیونکہ وہ زمین کا وسط ہے، سب طرف اس کی مسافت یکساں ہے (قرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِيْبٍ۝ ٤١ ۙ اسْتِمَاعُ : الإصغاء نحو : نَحْنُ أَعْلَمُ بِما يَسْتَمِعُونَ بِهِ ، إِذْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ [ الإسراء/ 47] ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ [ محمد/ 16] ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ [يونس/ 42] ، وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ [ ق/ 41] ، وقوله : أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [يونس/ 31] ، أي : من الموجد لِأَسْمَاعِهِمْ ، وأبصارهم، والمتولّي لحفظها ؟ والْمِسْمَعُ والْمَسْمَعُ : خرق الأذن، وبه شبّه حلقة مسمع الغرب «1» . استماع اس کے معنی غور سے سننے کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ نَحْنُ أَعْلَمُ بِما يَسْتَمِعُونَ بِهِ ، إِذْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ [ الإسراء/ 47] ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو جس سے یہ سنتے ہیں ۔ ہم اسے خوب جانتے ہیں ۔ وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ [ محمد/ 16] اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو تمہاری ( باتوں کی) طرف کان رکھتے ہیں ۔ وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ [يونس/ 42] اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں ۔ وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ [ ق/ 41] اور سنو ( ن پکارنے والا پکارے گا ۔ اور آیت : ۔ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [يونس/ 31] یا ( تماہرے ) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے ۔ یعنی ان کا پیدا کرنے والا اور ان کی حفاظت کا متولی کون ہے ۔ اور مسمع یا مسمع کے معنی کان کے سوراخ کے ہیں اور اسی کے ساتھ تشبیہ دے کر ڈول کے دستہ کو جس میں رسی باندھی جاتی ہے مسمع الغرب کہا جاتا ہے ندا النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] ونِدَاءُ الصلاة مخصوصٌ في الشَّرع بالألفاظ المعروفة، وقوله : أُولئِكَ يُنادَوْنَمِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ [ فصلت/ 44] فاستعمال النّداء فيهم تنبيها علی بُعْدهم عن الحقّ في قوله : وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ [ ق/ 41] ، وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] ، وقال : فَلَمَّا جاءَها نُودِيَ [ النمل/ 8] ، وقوله : إِذْ نادی رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا [ مریم/ 3] فإنه أشار بِالنِّدَاء إلى اللہ تعالی، لأنّه تَصَوَّرَ نفسَهُ بعیدا منه بذنوبه، وأحواله السَّيِّئة كما يكون حال من يَخاف عذابَه، وقوله : رَبَّنا إِنَّنا سَمِعْنا مُنادِياً يُنادِي لِلْإِيمانِ [ آل عمران/ 193] فالإشارة بالمنادي إلى العقل، والکتاب المنزَّل، والرّسول المُرْسَل، وسائر الآیات الدَّالَّة علی وجوب الإيمان بالله تعالی. وجعله منادیا إلى الإيمان لظهوره ظهورَ النّداء، وحثّه علی ذلك كحثّ المنادي . وأصل النِّداء من النَّدَى. أي : الرُّطُوبة، يقال : صوت نَدِيٌّ رفیع، واستعارة النِّداء للصَّوْت من حيث إنّ من يَكْثُرُ رطوبةُ فَمِهِ حَسُنَ کلامُه، ولهذا يُوصَفُ الفصیح بکثرة الرِّيق، ويقال : نَدًى وأَنْدَاءٌ وأَنْدِيَةٌ ، ويسمّى الشَّجَر نَدًى لکونه منه، وذلک لتسمية المسبَّب باسم سببِهِ وقول الشاعر : 435- كَالْكَرْمِ إذ نَادَى مِنَ الكَافُورِ «1» أي : ظهر ظهورَ صوتِ المُنادي، وعُبِّرَ عن المجالسة بالنِّدَاء حتی قيل للمجلس : النَّادِي، والْمُنْتَدَى، والنَّدِيُّ ، وقیل ذلک للجلیس، قال تعالی: فَلْيَدْعُ نادِيَهُ [ العلق/ 17] ومنه سمّيت دار النَّدْوَة بمكَّةَ ، وهو المکان الذي کانوا يجتمعون فيه . ويُعَبَّر عن السَّخاء بالنَّدَى، فيقال : فلان أَنْدَى كفّاً من فلان، وهو يَتَنَدَّى علی أصحابه . أي : يَتَسَخَّى، وما نَدِيتُ بشیءٍ من فلان أي : ما نِلْتُ منه نَدًى، ومُنْدِيَاتُ الكَلِم : المُخْزِيَات التي تُعْرَف . ( ن د ی ) الندآ ء کے معنی آواز بلند کرنے کے ہیں اور کبھی نفس آواز پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ میں اندر سے مراد آواز و پکار ہے یعنی وہ چو پائے صرف آواز کو سنتے ہیں اور اس کلام سے جو مفہوم مستناد ہوتا ہے اسے ہر گز نہیں سمجھتے ۔ اور کبھی اس کلام کو جس سے کوئی معنی مفہوم ہوتا ہو اسے ندآء کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے ۔ وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] اور جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو پکارا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] اور جب تم لوگ نماز کے لئے اذان دیتے ہو ۔ میں نماز کے لئے اذان دینا مراد ہے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : ۔ إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] جب جمعے کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے ۔ میں بھی نداء کے معنی نماز کی اذان دینے کے ہیں اور شریعت میں ند اء الصلوۃ ( اذان ) کے لئے مخصوص اور مشہور کلمات ہیں اور آیت کریمہ : ۔ أُولئِكَ يُنادَوْنَ مِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ [ فصلت/ 44] ان کو گویا دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے : ۔ میں ان کے متعلق نداء کا لفظ استعمال کر کے متنبہ کیا ہے کہ وہ حق سے بہت دور جا چکے ہیں ۔ نیز فرمایا ۔ وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ [ ق/ 41] اور سنو جس دن پکارنے والا نزدیک کی جگہ سے پکارے گا ۔ وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] اور ہم نے ان کو طور کے ذہنی جانب سے پکارا فَلَمَّا جاءَها نُودِيَ [ النمل/ 8] جب موسیٰ ان ان کے پاس آئے تو ندار آئی ۔ ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِذْ نادی رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا [ مریم/ 3] جب انہوں نے اپنے پروردگار کو دبی آواز سے پکارا میں اللہ تعالیٰ کے متعلق نادی کا لفظ استعمال کرنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زکریا (علیہ السلام) نے اپنے گناہ اور احوال سینہ کے باعث اس وقت اپنے آپ کو حق اللہ تعالیٰ سے تصور کیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے والے کی حالت ہوتی ہے اور آیت کریمہ ؛ ۔ رَبَّنا إِنَّنا سَمِعْنا مُنادِياً يُنادِي لِلْإِيمانِ [ آل عمران/ 193] اے پروردگار ہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا ۔ جو ایمان کے لئے پکاررہا تھا ۔ میں منادیٰ کا لفظ عقل کتاب منزل رسول مرسل اور ان آیات الہیہ کو شامل ہے جو ایمان باللہ کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں اور ان چیزوں کو منادی للا یمان اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ ندا کی طرح ظاہر ہوتی ہیں اور وہ پکارنے والے کی طرح ایمان لانے کی طرف دعوت دے رہی ہیں ۔ اصل میں نداء ندی سے ہے جس کے معنی رطوبت نمی کے ہیں اور صوت ندی کے معنی بلند آواز کے ہیں ۔ اور آواز کے لئے نداء کا استعارہ اس بنا پر ہے کہ جس کے منہ میں رطوبت زیادہ ہوگی اس کی آواز بھی بلند اور حسین ہوگی اسی سے فصیح شخص کو کثرت ریق کے ساتھ متصف کرتے ہیں اور ندی کے معنی مجلس کے بھی آتے ہیں اس کی جمع انداء واندید آتی ہے ۔ اور در خت کو بھی ندی کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ وہ نمی سے پیدا ہوتا ہے اور یہ تسمیۃ المسبب با سم السبب کے قبیل سے ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( 420 ) کالکرم اذا نادٰی من الکافور جیسا کہ انگور کا خوشہ غلاف ( پردہ ) سے ظاہر ہوتا ہے ۔ جیسا کہ منادی کرنے والے کی آواز ہوتی ہے ۔ کبھی نداء سے مراد مجالست بھی ہوتی ہے ۔ اس لئے مجلس کو النادی والمسدیوالندی کہا جاتا ہے اور نادیٰ کے معنی ہم مجلس کے بھی آتے ہیں قرآن پاک میں ہے : ۔ فَلْيَدْعُ نادِيَهُ [ العلق/ 17] تو وہ اپنے یاران مجلس کو بلالے ۔ اور اسی سے شہر میں ایک مقام کا نام درا لندوۃ ہے ۔ کیونکہ اس میں مکہ کے لوگ جمع ہو کر باہم مشورہ کیا کرتے تھے ۔ اور کبھی ندی سے مراد مخاوت بھی ہوتی ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے : ۔ فلان اندیٰ کفا من فلان وپ فلاں سے زیادہ سخی ہے ۔ ھو یتندٰی علیٰ اصحابہ ۔ وہ اپنے ساتھیوں پر بڑا فیاض ہے ۔ ما ندیت بشئی من فلان میں نے فلاں سے کچھ سخاوت حاصل نہ کی ۔ مندیات الکلم رسوا کن باتیں مشہور ہوجائیں ۔ «مَكَانُ»( استکان) قيل أصله من : كَانَ يَكُونُ ، فلمّا كثر في کلامهم توهّمت المیم أصليّة فقیل : تمكّن كما قيل في المسکين : تمسکن، واسْتَكانَ فلان : تضرّع وكأنه سکن وترک الدّعة لضراعته . قال تعالی: فَمَا اسْتَكانُوا لِرَبِّهِمْ [ المؤمنون/ 76] . المکان ۔ بعض کے نزدیک یہ دراصل کان یکون ( ک و ن ) سے ہے مگر کثرت استعمال کے سبب میم کو اصلی تصور کر کے اس سے تملن وغیرہ مشتقات استعمال ہونے لگے ہیں جیسا کہ مسکین سے تمسکن بنا لیتے ہیں حالانکہ یہ ( ص ک ن ) سے ہے ۔ استکان فلان فلاں نے عاجز ی کا اظہار کیا ۔ گو یا وہ ٹہھر گیا اور ذلت کی وجہ سے سکون وطما نینت کو چھوڑدیا قرآن میں ہے : ۔ فَمَا اسْتَكانُوا لِرَبِّهِمْ [ المؤمنون/ 76] تو بھی انہوں نے خدا کے آگے عاجزی نہ کی ۔ قرب الْقُرْبُ والبعد يتقابلان . يقال : قَرُبْتُ منه أَقْرُبُ «3» ، وقَرَّبْتُهُ أُقَرِّبُهُ قُرْباً وقُرْبَاناً ، ويستعمل ذلک في المکان، وفي الزمان، وفي النّسبة، وفي الحظوة، والرّعاية، والقدرة . نحو : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] ( ق ر ب ) القرب والبعد یہ دونوں ایک دوسرے کے مقابلہ میں استعمال ہوتے ہیں ۔ محاورہ ہے : قربت منہ اقرب وقربتہ اقربہ قربا قربانا کسی کے قریب جانا اور مکان زمان ، نسبی تعلق مرتبہ حفاظت اور قدرت سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے جنانچہ قرب مکانی کے متعلق فرمایا : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں داخل ہوجاؤ گے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤١۔ ٤٢) اور محمد اس پکار کو سنیے جس دن ایک پکارنے والا آسمان کے قریب سے پکارے گا یعنی بیت المقدس کے درمیان سے پکارے گا اور یہ جگہ آسمان سے بہ نسبت تمام روئے زمین کے بارہ میل قریب ہے یا یہ کہ قریب سے پکارے گا کہ اس کی آواز سب لوگ اپنے پیروں کے نیچے سے سنیں گے۔ یا یہ کہ محمد آپ اس دن کے لیے نیک اعمال کریں یا یہ کہ جس دن صور پھونکی جائے گی آپ اس کے منتظر رہیں اور قبروں سے نکلنے کے اس حکم کو اس روز سب سن لیں گے اور یہی قبروں سے نکلنے کا دن ہوگا یعنی قیامت کا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤١{ وَاسْتَمِعْ یَوْمَ یُـنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّـکَانٍ قَرِیْبٍ ۔ } ” اور کان لگائے رکھو جس دن پکارنے والا پکارے گا بہت قریب کی جگہ سے۔ “ یعنی اس دن کے منتظررہو جب صور میں پھونکا جائے گا اور ہر شخص کو اس کی آواز بہت قریب سے آتی ہوئی محسوس ہوگی۔ صور کی آواز ایسی زوردار اور خوفناک ہوگی کہ اس سے ہر جان دار کی موت واقع ہوجائے گی۔ اس کے بعد سب انسانوں کو زندہ کر کے محشر میں جمع کرنے کے لیے پھر صور پھونکا جائے گا۔ یہاں اسی دوسرے صور کا ذکر ہے ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

52 That is, "Wherever a dead person would be lying, or wherever his death had occurred is the world, the cry of the caller shall reach him there, which will urge him to rise and go before his Lord to render his account. This cry will be such that everybody who rises from death anywhere on the surface of the earth, will feel as though the caller had called him from a nearby place. Simultaneously will this cry be heard everywhere on the globe equally clearly. From this also one can judge how different will be the concepts of space and time in the neat world from what they arc in this world, and what forces will be working there in accordance with the new laws. "

سورة قٓ حاشیہ نمبر :52 یعنی جو شخص جہاں مرا پڑا ہوگا ، یا جہاں بھی دنیا میں اس کی موت واقع ہوئی تھی ، وہیں خدا کے منادی کی آواز اس کو پہنچے گی کہ اٹھو اور چلو اپنے رب کی طرف اپنا حساب دینے کے لیے ۔ یہ آواز کچھ اس طرح کی ہوگی روئے زمین کے چپے چپے پر جو شخص بھی زندہ ہوکر اٹھے گا وہ محسوس کرے گا کہ پکارنے والے نے کہیں قریب ہی سے اس کو پکارا ہے ۔ ایک ہی وقت میں پورے کرہ ارض پر ہر جگہ یہ آوز یکساں سنای دے گی ، اس سے بھی کچھ اندازہ ہوسکتا ہے کہ عالم آخرت میں زمان و مکان کے اعتبارات ہماری موجودہ دنیا کی بہ نسبت کس قدر بدلے ہوئے ہوں گے اور کیسی قوتیں کس طرح کے قوانین کے مطابق وہاں کارفرما ہوں گی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

18: یعنی اس منادی کی آواز ہر شخص کو بہت قریب سے آتی ہوئی محسوس ہوگی۔ بظاہر یہ منادی حضرت اسرافیل (علیہ السلام) ہوں گے جو مردوں کو قبروں سے نکلنے کے لیے آواز دیں گے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤١۔ ٤٤۔ اوپر فرمایا تھا کہ اگر یہ اہل مکہ اپنی سرکشی کی باتوں سے باز نہ آئیں تو صبر سکون سے کام لیا جائے ان آیتوں میں فرمایا کہ اے نبی اللہ کے تمہارے صبر سکون کے بعد اگر اللہ کی حکمت یوں ہی مقیض ہوئی کہ تمہارے مخالفوں میں کے کچھ لوگ دنیا کے عذاب سے بچ گئے اور اسی حالت مخالفت میں وہ مرگئے تو ان کے مواخذہ کا وقت مقررہ دوسرے صور کی آواز ہے۔ جب دوسرے صور کی آواز سنو تو پھر جو کچھ ان مخالفوں پر گزرے گی ‘ وہ سب آنکھوں کے سامنے آجائے گی۔ اس دوسرے صور کی آواز سے سب لوگ جی اٹھیں گے اور قبروں سے نکل کر میدان محشر کو جانے شروع ہوجائیں گے۔ قبر کے عذاب کے علاوہ اس عذاب سے بڑھ کر جو سختیاں نافرمان لوگوں پر شروع ہوں گی ان کی ابتداء دوسرے صور کی آواز ہے اس لئے اسی کو نافرمان لوگوں کے مواخذہ کا وقت مقرر فرمایا۔ نافرمان لوگوں کو میدان محشر میں پسینے کی دوزخ اور سورج کی گرمی وغیرہ کی ایسی تکلیف ہوگی کہ وہ اس تکلیف سے گھبرا کر دوزخ میں جانا پسند کریں گے۔ چناچہ مستدرک ١ ؎ حاکم میں عبد اللہ بن مسعود کی حدیث ہے جس میں اس کا ذکر ہے۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ صحیح ٢ ؎ مسلم میں انس بن مالک اور ابوہریرہ (رض) سے اور مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن عمر سے جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے دوسرے صور کی آواز سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مزار مبارک شق ہوگا۔ اور آپ مزار سے باہر تشریف لائیں گے۔ اس لئے خاص طور پر آپ کو اس آواز کے سننے کا ارشاد ان آیتوں میں فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے اس آواز کو کوئی نہ سنے گا۔ اکثر مفسرین نے مکان قریب کی تفسیر بیت المقدس کے اس پتھر سے کی ہے جو زمین سے بارہ میل کے قریب اونچا اور آسمان سے اسی قدر قریب ہے ان کا قول ہے کہ اس پتھر پر کھڑے ہو کر حضرت اسرافیل صور پھونکیں ٣ ؎ گے اوپر گزر چکا ہے کہ صورت سے پہلے ایک مینہ ٤ ؎ برسے گا جس سے سب جسم بن کر تیار ہوجائیں گے پھر صور پھونکنے سے روحوں کا تعلق ان جسموں سے اسی طرح ہوجائے گا جس طرح اب ماں کے پیٹ میں بچہ کا جسم تیار ہوجانے کے بعد ہوجاتا ہے صحیح بخاری ‘ مسلم ‘ نسائی ‘ ابو داؤود اور موطا میں ابوہریرہ (رض) کی حدیث ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حال یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انسان کا سب جسم مٹی کھا جائے گی مگر ریڑھ کی ہڈی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا باقی رہے گا ‘ اسی ٹکڑے سے حشر کے دن انسان کا جسم تیار ہوگا۔ اس حدیث کیے ایک ٹکڑے میں صور سے پہلے اس مینہ کا ذکر ہے جس کا حال اوپر گزرا۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ ریڑھ کی ہڈی کا کٹڑا مینہ کے برسنے کے بعد وہی کام دے گا جو اب ہر چیز کا بیج کام دیتا ہے آگے فرمایا کہ حشر کی جن باتوں کو آج یہ لوگ جھٹلا رہے ہیں صور کی آواز سنتے ہی ان باتوں کا برحق ہونا ان کو معلوم ہوجائے گا۔ کیونکہ وہی دن قبروں سے نکلنے کا ہے۔ پھر حشر کی دلیل کے طور پر فرمایا کہ انسان کا نیست سے ہست ہونا اور پھر پوری عمر ہوجانے کے بعد اس کا مرجانا یہ تو سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اس سے یہ نکلنا ہے کہ مرنے کے بعد جزا و سزا کے لئے انسان کو پھر جلایا جائے گا تاکہ دنیا کا پیدا کرنا ٹھکانے سے لگے۔ اور جس نے پانی سے رحم جیسی تنگ جگہ میں انسان کا پتلا بنا کر اس میں روح پھونک دی اس کو خاک سے انسان کا دوبارہ پتلا بنانا کچھ مشکل ہے نہ اسے پتلے میں روح کا پھونکنا کچھ مشکل ہے چناچہ صور کی آواز سے ہی جب فوراً قبروں سے نکل کر ٹڈیوں کی طرح میدان محشر کی طرف یہ لوگ دوڑیں گے تو ان کو معلوم ہوجائے گا کہ جس کام کو یہ لوگ مشکل سمجھتے تھے وہ اس صاحب قدرت کے نزدیک کس قدر آسان تھا۔ پھر فرمایا اے رسول اللہ کے تم کو ‘ قرآن کو ‘ حشر کی باتوں کو جس طرح یہ لوگ جھٹلا رہے ہیں وہ ہم کو سب معلوم ہے تم ان پر کچھ زبردستی مت کرو وقت مقررہ پر ہم خود ان سے سمجھ لیں گے۔ ) ١ ؎ الترغیب والترہیب باب فی الحشر وغیرہ ص ٧٤٨ ج ٤۔ ( (٢ ؎ صحیح مسلم باب فضائل موسیٰ (علیہ السلام) ص ٢٦٧ ج ٢۔ ) (٣ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٢٣٠ ج ٤۔ ) (٤ ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص ٣۔ ) (٥ ؎ صحیح بخاری باب تولہ و نفخ فی الصور (سورۃ الزمر) ص ٧١١ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(50:41) استمع : امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ استماع (افتعال) مصدر۔ تو سن ۔ تو کان لگا کر ایک منادی کرنے والے کی نداء (پکار) کو سن (یہ خطاب عام ہے اور ہر سننے والے کو غور سے سننے کے لئے حکم دیا گیا ہے۔ یوم : جس دن۔ منصوب بوجہ مفعول فیہ۔ یناد مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ مناداۃ (مفاعلۃ) مصدر سے۔ وہ پکارے گا۔ المناد اسم فاعل واحد مذکر ، نداء (باب نصر) ۔ اصل میں یہ المنادی تھا۔ یاء کو بحالت رفع ساقط کردیا گیا۔ منادی کرنے والا۔ نداء کرنے والا۔ پکارنے والا۔ ترجمہ ہوگا :۔ (اے مخاطبین) گوش ہوش سے سنو ، پکارنے والے کی نداء کو جس دن وہ قریب سے پکاریگا ۔ یعنی ہر ایک سننے والا یوں محسوس کریگا اور اس طرح صاف طور پر آواز کو سنے گا گویا پکارنے والا کسی قریب مکان سے پکار رہا ہے۔ یہ منظر اس دن کا ہے جب حضرت اسرافیل (علیہ السلام) صور پھونکیں گے اور مردے قبروں سے زندہ ہوکر اٹھ کھڑے ہوں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 ” قریب کی جگہ سے مردا ایسی جگہ ہے جہاں پر مرنے والے کو قریب سے آواز پہنچ سکے۔ قتادہ کہتی ہیں کہ ہم آپس میں کہا کرتیت ہے کہ اس سے مراد بیت المقدس کا صخرہ ہے۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر (41 تا 45 ) ۔ المناد (ندا دینے والا ۔ آواز دینے والا ) ۔ تشقق (پھٹ پڑے گی) ۔ جبار (زبردستی کرنے والا) ۔ یخاف وعید (جو میرے ڈرانے سے ڈرتا ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر (41 تا 45 ) ۔ ” غفلت وکوتاہی کے ساتھ زندگی گذارنے والے قیامت کو دور کی چیز سمجھتے ہ ہیں حالانکہ اہل ایمان اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ موجودہ دنیا آخر کار ایک دن ختم ہوجائے گی اور پھر سب کو اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر زندگی میں کئے ہوئے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ چناچہ جب صور پھونکا جائے گا تو کائنات کی ابتداء سے انتہا تک جتنے بھی لوگ ہوں گے وہ اپنی قبروں سے دفن کی گئی یا جلائی گئی جگہوں سے زندہ ہو کر میدان حشر میں جمع ہونا شروع ہوجائیں گے۔ احادیث میں آتا ہے کہ جب اللہ کے حکم سے حضرت اسرافیل صور میں پھونک ماریں گے تو اس ہیبت ناک آواز کو دور اور نزدیک والے اس طرح سنیں گے جیسے ان کو قریب ہی سے آواز دی گئی ہے۔ حضرت اسرافیل کہیں گے کہ ” اے گلی سڑی ہڈیو ! ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جانے والی کھالو ! ٹکڑے ٹکڑے ہوجانے والے گوشت کے ٹکڑو ! بکھر جانے والے ذروں سن لو کہ تمہیں اللہ یہ حکم دیتا ہے کہ حساب کے لئے جمع ہوجاؤ۔ “ (بغوی) حضرت اسرافیل کے اس اعلان کے بعد تمام مردے زندہ ہو کر میدان حشر کی طرف درڑنا اور بھاگنا شروع کردیں گے۔ اس طرح زمین و آسمان اور وقت کا نقشہ بدل جائے گا سب لوگ ایک ایسی نئی دنیا میں آنکھ کھولیں گے جہاں ساری دنیا کے لوگ جمع ہوں گے اور اس میدان میں ہر شخص سے زندگی میں کئے ہوئے کاموں کا حساب لی جائے گا۔ انسان یہ سوچتا ہے کہ یہ سب کچھ کیسے ممکن ہوگا ؟ اللہ نے فرمایا کہ وہ اللہ جس کے ہاتھ میں انسان کی زندگی اور موت کا نظام ہے اس کے لئے خاک میں مل جانے والے ذروں کو جمع کرکے پھر سے ان کو انسانی شکل میں لے آنا کوئی دشوار اور مشکل بات نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا ہے کہ یہ سب کچھ ایک سچائی ہے آپ اس پیغام حق کو ہر اس شخص تک پہنچا دیجئے جو نصیحت حاصل کرتا اور میرے عذاب سے ڈرتا ہے۔ آپ کا کام اس بات کو محبت و خلوص سے ہر سخص تک پہنچانا ہے کسی پر زبردستی کر کے ٹھونسنا نہیں ہے کیونکہ ہم نے آپ کو اس پیغام کے پہئچانے پر مامور کیا ہے آپ اپنا کام کرتے رہیے جو بھی سعادت مند ہے وہ اس بات پر دھیان دے گا اور اپنی آخرت سنوار لے گا لیکن بد بخت انسانوں کو بہت جلد اپنے برے انجام کا خود ہی پتہ چل جائے گا۔ واخر دعو انا ان الحمد للہ رب العالمین

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ پاس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آواز سب کو بےتکلف پہنچے گی اور جیسے اکثر دور کی آواز کسی کو پہنچتی ہے کسی کو نہیں پہنچتی ایسا نہ ہوگا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صبر اور ذکر کی تلقین کرنے کے بعد اب پھر قیامت قائم ہونے کے دلائل دیئے گئے ہیں۔ کوئی شخض قیامت کو تسلیم کرے یا اس کا انکار کرے قیامت بہرحال برپا ہوکر رہے گی جس کا دوسرا مرحلہ اسرافیل کے دوسری مرتبہ صور پھونکنے پر ہوگا جونہی اسرافیل صورپھونکیں گے۔ تو زمین جگہ جگہ سے شق ہوجائے گی اور لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور ہر کوئی یہ محسوس کرے گا کہ اس کے پاس کھڑا ہوا کوئی اسے محشر کے میدان میں حاضر ہونے کا حکم دے رہا ہے۔ یہ آواز سنتے ہی ہر کسی کو یقین ہوجائے گا کہ اب قیامت قائم ہوچکی ہے اور بلانے والا قیامت کی طرف بلارہا ہے جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ لوگ اپنی اپنی قبروں سے نکل کر میدان محشر کی طرف اس طرح جارہے ہوں گے جس طرح تیر اپنے نشانے کی طرف جاتا ہے۔ ( یٰس : ٥١) اس صورت حال کو ان الفاظ میں بیان کیا جارہا ہے کہ ہم ہی زندہ کرنے والے ہیں اور ہم ہی مارنے والے ہیں اور ہماری طرف ہی لوگوں کو پلٹ کر آنا ہے۔ اسرافیل کو صور کا حکم دینا، قیامت کا برپا کرنا، لوگوں کو ان کی قبروں سے اٹھا نا اور محشر کے میدان میں جمع کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے بالکل آسان ہے۔ گویا کہ جس طرح زمین و آسمانوں اور ہر چیز کو پیدا کرنا اس کے لیے مشکل نہیں اس طرح ہی لوگوں کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے مشکل نہیں بلکہ آسان تر ہے۔ ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دو صور پھونکنے کے درمیان کا عرصہ چالیس ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے ان کے شاگردوں نے پوچھا چالیس دن ؟ ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا۔ انہوں نے استفسار کیا چالیس مہینے ؟ حضرت ابوہریرہ (رض) نے جواباً فرمایا میں یہ نہیں کہتا۔ انہوں نے پھر پوچھا چالیس سال ہیں ؟ ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں میں یہ بھی نہیں کہتا۔ یعنی ابوہریرہ (رض) بھول گئے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتنی مدت بتلائی تھی اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا۔ لوگ یوں اگیں گے جس طرح انگوری اگتی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، انسان کی دمچی کے علاوہ ہر چیز بو سیدہ ہوجائے گی۔ قیامت کے دن اسی سے تمام اعضاء کو جوڑا جائے گا۔ “ (رواہ البخاری : باب (یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا) زُمَرًا) (دُمچی سے مراد اس کا کوئی خاص ذرّہ ہے جس کو انگلش میں (SMALL TAIL) کہتے ہیں محفوظ رہتا ہے۔ ) (وَعَنْ جَابِرٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یُبْعَثُ کُلُّ عَبْدٍ عَلٰی مَامَاتَ عَلَیْہِ ) (رواہ مسلم : باب الأَمْرِ بِحُسْنِ الظَّنِّ باللَّہِ تَعَالَی عِنْدَ الْمَوْتِ ) ” حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ‘ ہر شخص اسی حالت پر اٹھایا جائے گا جس پر وہ فوت ہوا۔ “ مسائل ١۔ قیامت کے دن ہر کوئی صور کی آواز اس طرح سنے گا جیسے اس کے پاس کھڑا ہوا کوئی آواز دے رہا ہے۔ ٢۔ قبر سے نکلتے ہی ہر انسان کو یقین ہوجائے گا کہ قیامت برپا ہوچکی ہے۔ ٣۔ قیامت کے دن زمین پھٹنے کے ساتھ ہی لوگ اپنی اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ ٤۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سب کو اکٹھا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کے لیے لوگوں کو اکٹھا کرنا مشکل نہیں۔ ٥۔ ” اللہ “ ہی زندہ کرنے اور مارنے والا ہے اور سب نے اسی کی طرف ہی پلٹ کرجانا ہے۔ تفسیر بالقرآن ” اللہ “ موت وحیات پر قادر ہے : ١۔ ” اللہ “ ہی زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ (التوبہ : ١١٦) ٢۔” اللہ “ ہی معبود برحق ہے وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ (الحج : ٦) ٣۔ ” اللہ “ ہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہی تمہارے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔ (آل عمران : ١٥٦) ٤۔ ” اللہ “ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ (الاعراف : ١٥٨) ٥۔ ” اللہ “ وہ ذات ہے جو زندہ کرتی اور مارتی ہے دن اور رات کا مختلف ہونا اسی کے حکم سے ہے (المومنون : ٨٠) ٦۔ ” اللہ “ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے وہ تمہارا اور تمہارے آباء و اجداد کا رب ہے۔ (الدخان : ٨) ٧۔ زمین و آسمان کی بادشاہت اسی کی ہے وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ (الحدید : ٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ایک دوسرا ٹچ جو اس کائنات کے صفحات کے ساتھ مربوط ہے۔ یعنی صبر کرو ، تسبیح کرو اور سجدے کرو اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک عظیم حادثہ اور ایک عظیم واقعہ کے انتظار میں ہوں۔ جو گردش لیل و نہار کے کسی بھی وقت آسکتا ہے۔ اور اس سے غافل وہی لوگ ہو سکتے ہیں جن کے دل غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور یہ وہ بات ہے جو اس سورت کا عمود اور محور ہے اور اصلی موضوع۔ واستمع یوم ۔۔۔۔۔ قریب (٤١) یوم یسمعون ۔۔۔۔ الخروج (٤٢) انا نحن ۔۔۔۔ المصیر (٤٣) یوم تشقق ۔۔۔۔ علینا یسیر (٥٠ : ٤١ تا ٤٤) ” اور سنو ، جس دن منادی کرنے والا (ہر شخص کے) قریب ہی سے پکارے گا ، جس دن سب لوگ آوازۂ حشر کو ٹھیک ٹھیک سن رہے ہوں گے ، وہ زمین کے مردوں کے نکلنے کا دن ہوگا۔ ہم ہی زندگی بخشتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں اور ہماری طرف ہی اس دن سب کو پلٹنا ہے جب زمین پھٹے گی اور لوگ اس کے اندر سے نکل کر تیز تیز بھاگے جا رہے ہوں گے۔ یہ حشر ہمارے لیے بہت آسان ہے “۔ یہ ایک نیا اور پر تاثیر منظر ہے۔ اس دن کا منظر جو بہت ہی مشکل دن ہوگا۔ ایک دوسری جگہ اس منظر کی تعبیر ایک دوسرے انداز میں کی گئی۔ ونفخ فی الصور ذلک یوم الوعید (٥٠ : ٢٠) وجاءت کل نفس معھا سائق وشھید (٥٠ : ٢١) ” اور پھر صور پھونکا گیا یہ ہے وہ دن جس کا تجھے خوف دلایا جاتا تھا۔ ہر شخص اس حال میں آگیا کہ اس کے ساتھ ایک ہانک کر لانے والا اور ایک گواہی دینے والا ہے “ اور یہاں نفخ صور کے ساتھ ایک چیخ کا ذکر بھی ہے اور اس کے ساتھ ہی خروج کا منظر سامنے آتا ہے۔ اور پھر زمین پھٹ رہی ہے اور لوگ اس سے نکلے چلے آرہے ہیں۔ یہ تمام مخلوقات جو آغاز حیات سے اس سفر کے انتہا تک اس زمین میں دفن ہوئے تھے۔ یہ سب قبریں پھٹ پڑیں گی اور جن میں جو بھی جس قدر لوگ بھی دفن ہوئے تھے ، نکلے چلے آئیں گے۔ معری کہتا ہے : رب قبر صار قبرا مرارا ضاحک من تزاحم الاضداد دفین علی بقایا دفین فی طویل الاجال والاماد (کتنی ہی قبریں ہیں ، جو بار بار قبریں بنی ہیں ان کے اندر جو متضاد قسم کے لوگ دفن ہوتے چلے آرہے ہیں ان پر وہ مسکرا رہی ہیں۔ ایک مردے کو دوسرے کے جسم کے بقایا جات پر دفن کیا جاتا ہے ، طویل زمانوں سے اور قدیم زمانوں سے “۔ تمام چیزیں زمین کے پھٹنے کے بعد خود بخود نکلتی چلی آئیں گی۔ ٹوٹے ہوئے جسم ، ہڈیاں ، ذرات جو زمین کی فضاؤ میں ہوں یا زمین کی وادیوں میں بہہ کر جہاں بھی ٹھہرے ہوں جن کی جگہ اللہ ہی جانتا ہے ، جمع ہوتے چلے آئیں گے ، یہ ایک ایسا منظر ہے کہ ہمارے خیال کی گرفت سے برتر ہے۔ اس پر تاثیر منظر کے سایہ ہی میں اس حقیقت کو سامنے لایا جا رہا ہے جس کا وہ انکار کرتے تھے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

وقوع قیامت کے ابتدائی احوال اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی ان آیات میں اولاً وقوع قیامت کے ابتدائی احوال بیان فرمائے ہیں پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے کہ آپ معاندین کی باتوں سے دلگیر نہ ہوں ہمیں ان کی سب باتوں کی خبر ہے۔ وَ اسْتَمِعْ (اور اے مخاطب سن لے) یعنی آئندہ جو قیامت کے احوال بیان ہونے والے ہیں انہیں دھیان سے سن ﴿ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ ﴾ (جس دن پکارنے والا پکارے گا) یعنی حضرت اسرافیل (علیہ السلام) صور پھونک دیں گے، صور کی یہ آواز دور اور قریب سے سنی جائے گی یعنی ہر سننے والے کو ایسا معلوم ہوگا کہ یہیں قریب سے پکارا جا رہا ہے۔ پوری زمین کے رہنے والے زندہ اور مردے سب کے سب یکساں سنیں گے۔ پہلے زمانہ میں تو لوگ اس کو سن کر کچھ تامل کرتے تھے اور سوچتے تھے کہ ایک آواز کو پوری دنیا میں اور آسمانوں میں یکساں کیسے سنا جاسکتا ہے۔ لیکن آج کے حالات اور آلات نے بتادیا کہ اس میں کچھ بھی اشکال کی بات نہیں ہے، آلات تو بہت ہیں ایک ٹیلی فون ہی کو لے لو بآسانی اس کے ذریعہ ہلکی سی آواز بھی ایک براعظم سے دوسرے براعظم میں سنی جاتی ہے دور اور نزدیک کے سننے میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

23:۔ ” واستمع یوم “۔ یوم، استمع سے متعلق ہے۔ المناد، منادی کرنے والا، جبریل (علیہ السلام) (روح) ۔ مکان قریب، ہر شخص یہ خیال کرے گا کہ منادی کرنے والا یہاں کہیں نزدیک ہی ہے اور اس کی آواز ہر شخص سن سکے گا۔ بالحق، یعنی صیحہ (نفخ صور) کی آواز واقعی اور حقیقی ہوگی، وہم و خیال نہیں ہوگا۔ ذلک یوم الخروج یہ استمع کا مفعول ہے اور انتظار کرو جب حشر و نشر کیلئے اس رافیل (علیہ السلام) دوسری بار صورت پھونکیں گے جسے ہر آدمی حقیقۃ سنے گا۔ اس دن ان کے اس اعلان کو غور سے سننا کہ آج کا دن قبروں سے زندہ ہو کر نکلنے کا دن ہے۔ اور یہ وہی دن ہے جس کا کفار و مشرکین انکار کیا کرتے تھے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(41) اور اے مخاطب اس دن کی بات پوری توجہ کے ساتھ سن جس دن ایک پکارنے والا پاس ہی سے پکارے گا۔