Surat uz Zaariyaat

Surah: 51

Verse: 29

سورة الذاريات

فَاَقۡبَلَتِ امۡرَاَتُہٗ فِیۡ صَرَّۃٍ فَصَکَّتۡ وَجۡہَہَا وَ قَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِیۡمٌ ﴿۲۹﴾

And his wife approached with a cry [of alarm] and struck her face and said, "[I am] a barren old woman!"

پس ان کی بیوی آگے بڑھی اور حیرت میں آکر اپنے منہ پر ہاتھ مار کر کہا کہ میں تو بڑھیا ہوں اور ساتھ ہی بانجھ ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي صَرَّةٍ ... Then his wife came forward with a loud voice, She screamed loudly, according to Ibn Abbas, Mujahid, Ikrimah, Abu Salih, Ad-Dahhak, Zayd bin Aslam, Ath-Thawri and As-Suddi. She said when she shouted, يوَيْلَتَا Ah! Woe to me! (25:28), then, ... فَصَكَّتْ وَجْهَهَا ... she smote her face, meaning, she struck herself upon her forehead, according to Mujahid and Ibn Sabit. Ibn Abbas said, "she smacked her face just as women do when confronted with an amazing thing," ... وَقَالَتْ عَجُوزٌ عَقِيمٌ and said: "A barren old woman!" meaning, "How can I give birth while I am an old woman And even when I was young I was barren and could not have children," قَالُوا كَذَلِكَ قَالَ رَبُّكِ إِنَّهُ هُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

29۔ 1 صرۃ کے دوسرے معنی ہیں چیخ و پکار، یعنی چیختے ہوئے کہا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٣] سیدنا ابراہیم کو اسحاق کی خوشخبری :۔ جب فرشتوں نے سیدنا اسحٰق کی خوشخبری دی تو ان کا خوف جاتا رہا۔ البتہ ان کی بیوی آگے بڑھی اور تعجب سے اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر مارتے ہوئے کہا یہ کیسے ہوگا ؟ میں تو بانجھ ہوں، جوانی میں بھی اولاد نہ ہوئی اور اب تو بوڑھی بھی ہوچکی ہوں۔ اب یہ کیسے ہوگی ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) فاقبلت امراتہ فی صرۃ …:” صرۃ “ صیحہ، چیخ ” صر “ یصر “ (ن) ” صریر “ القلم “ (قلم کی آواز) اور ” صربر الباب “ (دروازے کی آواز) بھی اسی سے مشتق ہے۔ ” صرۃ “ میں تنوین تعظیم کی ہے :” ای صبحہ عظیمۃ ورنہ “ ابن کثیر نے فرمایا :” صرۃ “ سے مراد اس کا ” یویلتی “ کہنا ہے جو سورة ہود (٧٢) میں مذکور ہے، یہاں اس کا قول مختصر ذکر فرمایا ہے۔” عجوز عقیم “” ای انا عجوز مقیم “ یعنی یہ بشارت سن کر اپنی عمر دیکھتے ہوئے حیرت و مسرت کے جذبات سے بےاختیار چیختی ہوئی فرشتوں کی طرف آئی۔ (٢) فصکت وجھا :” صک یصک صکا “ (ن) چہرے پر زور سے ہاتھ مارنا، جیسا کہ عورتیں تعجب کے وقت کرتی ہیں یعنی تعجب سے چہرے کو پ یٹ کر کہنے لگی کہ میں تو بڑھی ہوں، جوانی کی عمر سے بانجھ ہوں، اب خاک بچہ جنوں کی۔ (٣) بعض لوگوں نے اس سے ماتم اور سینہ کو بی کی دلیل کشیدگی ہے، مگر یہ نہیں سوچا کہ کیا خوشی کی خبر پر بھی ماتم ہوتا ہے ! ؟

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

فَأَقْبَلَتِ امْرَ‌أَتُهُ فِي صَرَّ‌ةٍ (So his wife came forward with a clamour,...51:29). The word sarrah means vociferation or clamour or most vehement clamour of crying. Sarir is the sound of a pen when it is writing. When Sayyidah Sarah (رض) heard that the angels were giving good news to her husband Ibrahim (علیہ السلام) of the birth of a son, she thought that this news was as good to her as it was to her husband, for the son would be theirs, and therefore, they both were getting some good news. As a result, she involuntarily screamed loudly, she struck herself upon her forehead as women do when confronted with an amazing thing and said: and slapped her own face and said, عَجُوزٌ عَقِيمٌ |"A barren old woman?|" meaning &How can I give birth while I am an old woman? And even when I was young I was barren and could not have children.& The angels replied that Allah has power over all things and therefore this would happen even so: |"This is how your Lord has said.|" Thus when Holy Prophet Ishaq (علیہ السلام) was born, Sayyidah Sarah (رض) was ninety-nine years old and Holy Prophet Ibrahim (علیہ السلام) was one hundred years old. (Qurtubi)

(آیت) فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِيْ صَرَّةٍ ۔ صرة کے معنی غیر معمولی آواز کے ہیں صریر قلم سے نکلنے والی آواز کو کہا جاتا ہے، مراد یہ ہے کہ حضرت سارہ نے جب سنا کہ فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کو بچے کی پیدائش کی خوشخبری دے رہے ہیں اور یہ ظاہر تھا کہ بچہ بیوی سے پیدا ہوتا ہے، بیوی حضرت سارہ ہی تھیں تو سمجھیں کہ یہ خوشخبری ہم دونوں ہی کے لئے ہے، تو غیر اختیاری طور پر ان کے منہ سے کچھ الفاظ حیرت و تعجب کے نکلے اور کہا عَجُوْزٌ عَقِيْمٌ کہ اول تو میں بڑھیا، پھر بانجھ یعنی جوانی میں بھی اولاد کے قابل نہیں تھی، اب بڑھاپے میں یہ کیسے ہوگا جس کے جواب میں فرشتوں نے فرمایا کذلک، یعنی اللہ تعالیٰ کو سب قدرت ہے، یہ کام یونہی ہوگا، چناچہ جس وقت اس بشارت کے مطابق حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو حضرت سارہ کی عمر ننانوے سال اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر سو سال کی تھی (قرطبی )

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُہٗ فِيْ صَرَّۃٍ فَصَكَّتْ وَجْہَہَا وَقَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِيْمٌ۝ ٢٩ إِقْبَالُ التّوجّه نحو الْقُبُلِ ، كَالاسْتِقْبَالِ. قال تعالی: فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ [ الصافات/ 50] ، وَأَقْبَلُوا عَلَيْهِمْ [يوسف/ 71] ، فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ [ الذاریات/ 29] اقبال اور استقبال کی طرح اقبال کے معنی بھی کسی کے رو برو اور اس کی طرف متوجہ ہو نیکے ہیں قرآن میں ہے : ۔ فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ [ الصافات/ 50] پھر لگے ایک دوسرے کو رو ور ود ملا مت کرنے ۔ وَأَقْبَلُوا عَلَيْهِمْ [يوسف/ 71] ، اور وہ ان کی طرف متوجہ ہوکر صَرَّةٍ والصَّرَّةُ : الجماعة المنضمّ بعضهم إلى بعض كأنّهم صُرُّوا، أي : جُمِعُوا في وعاء . قال تعالی: فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي صَرَّةٍ [ الذاریات/ 29] ، وقیل : الصَّرَّةُ الصّيحةُ. الصرۃ جماعت جس کے افراد باہم ملے جلے ہوں گویا وہ کسی تھیلی میں باندھ دیئے گئے ہیں قرآن میں ہے فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي صَرَّةٍ [ الذاریات/ 29] ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی چلاتی آئی ۔ بعض نے کہا ہے کہ صرۃ کے معنی چیخ کے ہیں ۔ فصکت : ف عاطفہ وترتیب کے لئے ہے۔ صلت ماضی واحد مؤنث غائب صک ( باب نصر) مصدر بمعنی کوٹنا۔ زور زور سے پیٹنا۔ اس نے پیٹ لیا۔ وجه أصل الوجه الجارحة . قال تعالی: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] ( و ج ہ ) الوجہ کے اصل معنی چہرہ کے ہیں ۔ جمع وجوہ جیسے فرمایا : ۔ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] تو اپنے منہ اور ہاتھ دھو لیا کرو ۔ عجز والعَجْزُ أصلُهُ التَّأَخُّرُ عن الشیء، وحصوله عند عَجُزِ الأمرِ ، أي : مؤخّره، كما ذکر في الدّبر، وصار في التّعارف اسما للقصور عن فعل الشیء، وهو ضدّ القدرة . قال : وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ [ التوبة/ 2] ، ( ع ج ز ) عجز الانسان عجز کے اصلی معنی کسی چیز سے پیچھے رہ جانا یا اس کے ایسے وقت میں حاصل ہونا کے ہیں جب کہ اسکا وقت نکل جا چکا ہو جیسا کہ لفظ کسی کام کے کرنے سے قاصر رہ جانے پر بولا جاتا ہے اور یہ القدرۃ کی ضد ہے ۔ قرآن میں ہے : وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ [ التوبة/ 2] اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہیں کرسکو گے ۔ عقم أصل الْعُقْمِ : الیبس المانع من قبول الأثر «3» يقال : عَقُمَتْ مفاصله، وداء عُقَامٌ: لا يقبل البرء، والعَقِيمُ من النّساء : التي لا تقبل ماء الفحل . يقال : عَقِمَتِ المرأة والرّحم . قال تعالی: فَصَكَّتْ وَجْهَها وَقالَتْ عَجُوزٌ عَقِيمٌ [ الذاریات/ 29] ، وریح عَقِيمٌ: يصحّ أن يكون بمعنی الفاعل، وهي التي لا تلقح سحابا ولا شجرا، ويصحّ أن يكون بمعنی المفعول کالعجوز العَقِيمِ «4» وهي التي لا تقبل أثر الخیر، وإذا لم تقبل ولم تتأثّر لم تعط ولم تؤثّر، قال تعالی: إِذْ أَرْسَلْنا عَلَيْهِمُ الرِّيحَ الْعَقِيمَ [ الذاریات/ 41] ، ويوم عَقِيمٌ: لا فرح فيه . ( ع ق م ) العقم اصل میں اس خشکی کو کہتے ہیں جو کسی چیز کا اثر قبول کرنے سے مانع ہو چناچہ محاورہ ہے عقمت مفاصلتہ ( اس کے جوڑ بند خشک ہوگئے ) داء عقام لا علاج مرض ۔ العقیم ( بانجھ ) عورت کو مرد کا مادہ قبول نہ کرے چناچہ کہا جاتا ہے ۔ عقمت المرءۃ اولرحم عورت بانجھ ہوگئی یا رحم خشک ہوگیا ۔ قرآن میں ہے : فَصَكَّتْ وَجْهَها وَقالَتْ عَجُوزٌ عَقِيمٌ [ الذاریات/ 29] اور اپنا منہ لپیٹ کر کہنے لگی کہ ( اے ہے ایک تو بڑھیادوسرے ) بانجھ ۔ اور ریح عقیم ( خشک ہوا ) میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فعیل بمعنی فاعل ہو ۔ یعنی وہ ہوا جو بادلوں کو ساتھ نہیں لاتی یا درخت کو بار دار نہیں اور یہ بھی ہو ہوسکتا ہے کہ فعیل بمعنی مفعول ہو جیسا کہ العجوز العقیم میں ہے اس صورت میں ریح عقیم کے معنی ہوں گے وہ ہوا جو کسی چیز کا اثر اپنے اندر نہ رکھتی ہو چونکہ ایسی ہوا نہ کسی چیز اثر کو قبول کرتی ہے اور نہ کسی سے متاثر ہوتی ہے اس لئے نہ وہ کچھ دیتی اور نہ ہی کسی چیز پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِذْ أَرْسَلْنا عَلَيْهِمُ الرِّيحَ الْعَقِيمَ [ الذاریات/ 41] جب ہم نے ان پر خشک ہو اچلائی ۔ یوم عقیم سخت دن جس میں کسی قسم کا سامان فرحت نہ ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٩۔ ٣٠) اتنے میں یہ گفتگو کہیں سے سن کر ان کی بیوی حضرت سارہ پکارتی آئیں اور تعجب سے اپنے ماتھے اور چہرے پر ہاتھ مارا اور کہنے لگیں اول تو بڑھیا پھر بانچھ اس وقت بچہ پیدا ہونا بھی عجیب ہے، حضرت جبریل اور ان کے ساتھ والے کہنے لگے اے سارہ جیسا ہم نے تم سے بیان کیا ہے تمہارے پروردگار نے ایسا ہی فرمایا ہے وہ بانجھ اور غیر بانجھ کے لیے لڑکے کا حکم دیتا ہے اور جو تم سے پیدا ہونے والا ہے وہ اس سے واقف ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٩{ فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُہٗ فِیْ صَرَّۃٍ فَصَکَّتْ وَجْہَہَا وَقَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ ۔ } ” اس پر اس کی بیوی سامنے آئی بڑبڑاتی ہوئی اور اس نے اپنا ماتھا پیٹ لیا اور کہنے لگی : بڑھیا بانجھ (بچہ جنے گی کیا) ؟ “ کہ میں تو ساری عمر بانجھ رہی ہوں اور اب تو میری عمر بھی ماں بننے کی نہیں رہی ‘ تو کیا اب میرے ہاں بیٹا پیداہو گا ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

28 That is, "I am not only old but barren too. How shall a child be born to me?" According to the Bible, the Prophet Abraham at that time was a hundred years old and Sarah was ninety. (Gen., 17: 17).

سورة الذّٰرِیٰت حاشیہ نمبر :28 یعنی ایک تو میں بوڑھی ، اوپر سے بانجھ ۔ اب میرے ہاں بچہ ہوگا ؟ بائیبل کا بیان ہے کہ اس وقت حضرت ابراہیمؑ کی عمر سو سال ، اور حضرت سارہ کی عمر 90 سال تھی ( پیدائش ، 18:17 ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(51:29) اقبلت ۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ اقبال (افعال) مصدر۔ وہ سامنے آئی وہ متوجہ ہوئی۔ اس کی تشریح میں مختلف اقوال ہیں : اول یہ کہ حضرت سارہ (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ محترمہ) قریب کسی جگہ ایسے زادیہ میں بیٹھی تھیں جہاں سے وہ مہمانوں کی نظر سے تو اوجھل تھیں لیکن ان کی گفتگو سن رہی تھیں بیٹے کی بشارت پر وہ سامنے آئیں یا ان کی طرف متوجہ ہوئیں۔ دوم یہ کہ وہ وہیں پاس ہی تھیں بیٹے کی بشارت پر مہمانوں کی طرف متوجہ ہوئیں۔ سورة ہود (11:69 تا 76) میں یہ واقعہ تفصیل سے آیا ہے آیت (11:71) میں ہے وامراتہ قائمۃ فضحکت۔۔ اور ابراہیم کی بیوی (جو پاس) کھڑی تھی ہنس پڑی۔ اس صورت میں اقبلت فی صرۃ کے معنی ہوں گے وہ لگی چلانے جیسا کہا جاتا ہے اقبل فی صرۃ کے معنی ہوں گے وہ لگی چلانے جیسا کہا جاتا ہے اقبل یشتمنی وہ مجھے گالیاں دینے لگا۔ امراتہ : اس کی عورت، اس کی زوجہ، اس کی بیوی۔ مراد اس سے حضرت سارہ زوجہ حضرت ابراہیم ہیں : فی صرۃ ۔ ص (مادہ۔ ہر دو باب نصر، مصدر صر ، باب ضرب صر وصریر سے ہے۔ پہلی صورت میں اس کے معنی انسانوں کی جماعت جو باہم ملی جلی ہوئی ہو گویا وہ کسی تھیلی میں باندھ دینے گئے ہوں۔ لیکن یہ معنی یہاں مراد نہیں ہیں۔ دوسری صورت میں اس کے معنی ہیں چیخ۔ شدت الصوت، اور یہی معنی یہاں مراد ہیں۔ سورة ہود (11 ۔ 71) میں اسی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔ وامر اتہ قائمۃ فضحکت اور اس کی بی بی (جو پاس) کھڑی تھیں ہنس پڑی۔ یہاں فی صرۃ آیا ہے چیختی ہوئی آئی۔ مطلب چیخنے سے شدت الصوت ہے۔ یہ دونوں صورتیں متضاد نہیں ہیں۔ حضرت سائر کو اپنی ضعیف العمری اور بانجھ پن کا شدت سے احساس تھا۔ (ان کی عمر اس وقت 90 سال کی بیان ہوئی ہے) جب انہوں نے بیٹے کی خوشخبری سنی۔ تو فرحت و انبساط کا احساس بھی اتنا ہی شدید تھا ۔ ان دونوں احساسات کی موجودگی میں مافی الضمیر کا اظہار کچھ ایسی ہی صورت میں ہوسکتا ہے جس میں ہنسی خوشی اور شدت الصوت کا آمیزہ ہو۔ لہٰذا یہاں فی صرۃ کا معنی بولتی، پکارتی جو مولانا اشرف علی تھانوی نے اختیار کیا ہے زیادہ صحیح ہے۔ صاحب تفسیر حقانی رقمطراز ہیں :۔ صرۃ کے معنی ہیں آواز اور چیخنے کے، مگر مراد کھل کھلا کر ہنسنا ہے۔ فی صرۃ الجارو والمجرور موضع حال میں ہے۔ فصکت : ف عاطفہ و ترتیب کے لئے ہے۔ صلت ماضی واحد مؤنث غائب صک (باب نصر) مصدر بمعنی کوٹنا۔ زور زور سے پیٹنا۔ اس نے پیٹ لیا۔ وجھھا ۔ مضاف مضاف الیہ۔ وجہ چہرہ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب اپنا چہرہ، اور اپنا چہرہ پیٹ لیا۔ وقالت عجوز عقیم : وائو عاطفہ قالت واحد مؤنث غائب ماضی معروف۔ عجوز عقیم۔ معطوف علیہ معطوف تقدیر کلام ہے وقالت انا عجوز وعقیم ۔ عجوز : بڑھیا۔ عجز الانسان : انسان کا پچھلا حصہ، تشبیہ کے طور پر ہر چیز کے پچھلے حصے کو عجز کہہ دیا جاتا ہے چناچہ قرآن مجید میں ہے۔ کانہم اعجاز نخل خاویہ (54:20) جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔ عجز کے اصل معنی کسی چیز سے پیچھے رہ جانا یا اس کے ایسے وقت میں حاصل ہونا کے ہیں جبکہ اس کا وقت نکل چکا ہو۔ لیکن عام طور پر یہ لفظ کسی کام کے کرنے سے عاجز رہ جانے پر بولا جاتا ہے اور یہ القدرۃ کی ضد ہے قرآن مجید میں ہے اعجزت ان اکون مثل ھذا الغراب (5:31) مجھ سے ایسا بھی، اتنا بھی نہ ہوسکا کہ اس کوے کے برابر ہوتا۔ بڑھیا کو عجوز اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ بھی اکثر امور سے عاجز ہوجاتی ہے عجوز کی جمع ع جائز اور عجز ہے۔ عقیم (ع ق م، مادہ) العقم اصل میں اس خشکی کو کہتے ہیں جو کسی چیز کا اثر قبول کرنے سے مانع ہو۔ چناچہ محاورہ ہے عقمت م فاصلہ اس کے جوڑ خشک ہوگئے۔ العقیم : (بانجھ) وہ عورت جو مرد کا مادہ قبول نہ کرے چناچہ کہا جاتا ہے عقمت المرأۃ او الرحم عورت بانجھ ہوگئی یا رحم خشک ہوگیا۔ وقالت عجوز عقیم : اور کہنے لگی (میں بچہ کیسے جنوں گی) ایک بڑھیا۔ دوسرے بانجھ (ہوں) قرآن مجید میں دوسری جگہ آیا ہے اذ ارسلنا علیہم الریح العقیم (51:41) جب بھیجی ہم نے ہوا ان پر جو خیر سے خالی تھی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 15 بائیبل (باب پیدائش) میں ہے کہ اس وقت حضرت ابراہیم کی عمر سو سال اور حضرت سارہ کی عمر نوے سال تھی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فاقبلت ........ عقیم (١٥ : ٩٢) ” یہ سن کر ان کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی اور اس نے اپنا منہ پیٹ لیا اور کہنے لگی بوڑھی بانجھ “ اس نے یہ خوشخبری سن لی تھی۔ اچان کہ یہ خوشخبری اس کی تو چیخ نکل گئی اور عورتوں کی عادت کے مطابق اس نے اپنا چہرہ پیٹ لیا اور یہ کہہ دیا میں بوڑھی ہوں بانجھ ہوں تو یہ سب امور اس کے لئے خوشگوار حیرت کے باعث ہوئے اور در حقیقت وہ بانجھ تھی اور یہ خبر اس کے لئے اچانک خوشی کی خبر تھی جس کی وہ کسی طرح توقع نہ کرتی تھی لیکن وہ یہ بات بھول گئی کہ یہ خوشخبری تو فرشتے دے رہے ہیں تو فرشتوں نے اسے متوجہ کیا کہ یہ تو قدرت الٰہیہ ہے اور جہاں میں تمام امور علم الٰہی کے مطابق رونما ہوتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

9:۔ ” فاقبلت امراتہ “۔ صرۃ، چیخ، اونچی آواز۔ جب یہ خوشخبری حضرت سارہ (علیہا السلام) نے سنی تو چیخ کر بولیں اور تعجب سے ہاتھ کی انگلیاں منہ پر رکھیں کہ میں مرگئی ! ! ! میں بڑھیا اور بانجھ ہو کر بچہ جنوں گی ؟ ” یویلتیء الد وانا عجوز وھذا بعلی شیخا “ ضرب باطراف اصابعہا جبھ تھا فعل التعجب (مدارک ج 4 ص 141) ۔ جہلائے شیعہ اس سے ماتم ثابت کرتے ہیں جو سراسر جہالت و حماقت ہے۔ ماتم شیعہ سے حضرت سارہ کے اس فعل کو ادنی تعلق بھی نہیں۔ ماتم اظہار غم واندوہ کے لیے میت پر کیا جاتا ہے لیکن حضرت سارہ کا فعل بیٹے کی خوشخبری سن کر اظہار تعجب کے لیے تھا۔ نیز ماتم میں منہ اور سینہ پیٹا جاتا ہے۔ لیکن انہوں نے عورتوں کی عادت کے مطابق ہاتھ تیزی سے منہ پر رکھ کر تعجب کیا تھا۔ ” قالوا کذالک۔ الایۃ “ فرشتوں نے مائی صاحبہ کو جواب دیا بی بی ! تیرے رب نے یوں ہی فرمایا ہے کہ آپ کے اسی حالت میں فرزند ہوگا وہ بڑی حکمتوں کا مالک اور سب کچھ جاننے والا ہے اور ایک بوڑھے خاوند سے ایک بانجھ عورت کے فرزند پیدا کرسکتا ہے اس کے لیے یہ کوئی مشکل نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(29) اتنے میں ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی بولتی ہوئی سامنے آئی اور اس نے ماتھے پر ہاتھ مارا اور کہنے لگی میں بڑھیا بھی اور بانجھ بھی۔ یہ بیوی حضرت سارا ہیں یہ گھر میں سن رہی ہوں گی انہوں نے لڑکے کی بشارت سنی تو ماتھے پر ہاتھ مار کر کہنے لگیں جیسے عورتوں کی عادت ہے کہ تعجب کے وقت ایسا کرتی ہیں وہ آگے آئیں اور ہاتھ مار کر کہنے لگیں میں بڑھیا بھی اور بانجھ بھی ایسی حالت میں بچہ ہونا بڑے تعجب کی بات ہے۔ یہ قصہ سورة ہود میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے۔ بہرحال جب حضرت سارانے ہاتھ مار کر ماتھے تر تعجب کا اظہار کیا تو ان فرشتوں نے عورت کا یہ تعجب دیکھ کر فرمایا۔