Surat uz Zaariyaat

Surah: 51

Verse: 33

سورة الذاريات

لِنُرۡسِلَ عَلَیۡہِمۡ حِجَارَۃً مِّنۡ طِیۡنٍ ﴿ۙ۳۳﴾

To send down upon them stones of clay,

تاکہ ہم ان پر مٹی کے کنکر برسائیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

33۔ 1 برسائیں کا مطلب ہے، ان کنکریوں سے انہیں رجم کردیں۔ یہ کنکریاں خالص پتھر کی تھیں نہ آسمانی اولے تھے، بلکہ مٹی کی بنی ہوئی تھیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٧] یعنی ایسے نوکیلے اور چبھ جانے والے کنکر جو ابھی پوری طرح پتھر نہ بنے ہوں اور ان کا کچھ حصہ مٹی سے پتھر بن رہا ہو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لِنُرْسِلَ عَلَيْہِمْ حِجَارَۃً مِّنْ طِيْنٍ۝ ٣٣ ۙ رسل ( ارسال) والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] ، وقد يكون ذلک بالتّخلية، وترک المنع، نحو قوله : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83] ، والْإِرْسَالُ يقابل الإمساک . قال تعالی: ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ [ فاطر/ 2] ( ر س ل ) الرسل الارسال ( افعال ) کے معنی بھیجنے کے ہیں اور اس کا اطلاق انسان پر بھی ہوتا ہے اور دوسری محبوب یا مکروہ چیزوں کے لئے بھی آتا ہے ۔ کبھی ( 1) یہ تسخیر کے طور پر استعمال ہوتا ہے جیسے ہوا بارش وغیرہ کا بھیجنا ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] اور ( اوپر سے ) ان پر موسلادھار مینہ برسایا ۔ اور کبھی ( 2) کسی بااختیار وار وہ شخص کے بھیجنے پر بولا جاتا ہے جیسے پیغمبر بھیجنا چناچہ قرآن میں ہے : وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] اور تم لوگوں پر نگہبان ( فرشتے ) تعنیات رکھتا ہے ۔ فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] اس پر فرعون نے ( لوگوں کی بھیڑ ) جمع کرنے کے لئے شہروں میں ہر کارے دوڑائے ۔ اور کبھی ( 3) یہ لفظ کسی کو اس کی اپنی حالت پر چھوڑے دینے اور اس سے کسی قسم کا تعرض نہ کرنے پر بولاجاتا ہے ہے جیسے فرمایا : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83]( اے پیغمبر ) کیا تم نے ( اس باٹ پر ) غور نہیں کیا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ وہ انہیں انگینت کر کے اکساتے رہتے ہیں ۔ اور کبھی ( 4) یہ لفظ امساک ( روکنا ) کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ [ فاطر/ 2] تو اللہ جو اپنی رحمت دے لنگر لوگوں کے لئے ) کھول دے تو کوئی اس کا بند کرنے والا نہیں اور بندے کرے تو اس کے ( بند کئے ) پیچھے کوئی اس کا جاری کرنے والا نہیں ۔ حجر الحَجَر : الجوهر الصلب المعروف، وجمعه : أحجار وحِجَارَة، وقوله تعالی: وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجارَةُ [ البقرة/ 24] ( ح ج ر ) الحجر سخت پتھر کو کہتے ہیں اس کی جمع احجار وحجارۃ آتی ہے اور آیت کریمہ : وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجارَةُ [ البقرة/ 24] جس کا اندھن آدمی اور پتھر ہوں گے ۔ طين الطِّينُ : التّراب والماء المختلط، وقد يسمّى بذلک وإن زال عنه قوّة الماء قال تعالی: مِنْ طِينٍ لازِبٍ [ الصافات/ 11] ، يقال : طِنْتُ كذا، وطَيَّنْتُهُ. قال تعالی: خَلَقْتَنِي مِنْ نارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ [ ص/ 76] ، وقوله تعالی: فَأَوْقِدْ لِي يا هامانُ عَلَى الطِّينِ [ القصص/ 38] . ( ط ی ن ) الطین ۔ پانی میں ملی ہوئی مٹی کو کہتے ہیں گو اس سے پانی کا اثر زائل ہی کیوں نہ ہوجائے اور طنت کذا وطینتہ کے معنی دیوار وغیرہ کو گارے سے لینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ مِنْ طِينٍ لازِبٍ [ الصافات/ 11] چپکنے والی مٹی سے ۔ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ [ ص/ 76] اور اسے مٹی سے بنایا ۔ فَأَوْقِدْ لِي يا هامانُ عَلَى الطِّينِ [ القصص/ 38] ہامان امیر لئے گارے کو آگ لگو اکر اینٹیں تیار کرواؤ

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٣{ لِنُرْسِلَ عَلَیْہِمْ حِجَارَۃً مِّنْ طِیْنٍ ۔ } ” تاکہ ہم ان پر بارش برسائیں کنکریوں کی۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(51:33) لنرسل۔ لام تعلیل کا ہے نرسل مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) جمع متکلم ۔ ارسال (افعال) مصڈر تاکہ ہم برسائیں۔ تاکہ ہم بھیجیں۔ علیہم ان پر، قوم مجرمین پر۔ حجارۃ من طین۔ مٹی سے بنے ہوئے پتھر، کنکر، وہ مٹی جو پتھر بن گئی ہو۔ مٹی کی قید اس وجہ سے لائی گئی کہ یہ تو ہم دور ہوجائے کیونکہ بعض لوگ اولے کو بھی پتھر کہتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

لنرسل ........ للمسرفین (١٥ : ٤٣) ” تاکہ اس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسا دیں جو آپ کے رب کے ہاں حد سے گزر جانے والوں کے لئے نشان زدہ ہیں۔ “ یہ مٹیالے پتھر ، تیار شدہ اور نشان زدہ تھے اور اللہ نے ان کو مسرفین کے لئے تیار کیا تھا اور یہ مسرف قوم لوط کے لوگ تھے جنہوں نے حدود سے تجاوز کرلیا تھا۔ وہ فطرت کی راہ سے تجاوز کرکے غیر فطری عمل کرتے تھے۔ جو حق اور دین کے خلاف راستہ تھا۔ ان پتھروں کے بارے میں کوئی بات اس سے مانع نہیں ہے کہ وہ آتش فشانی کے عمل کے نتیجے میں برسنے والوے پتھر ہوں کیونکہ گرم لاوا جب ہوا میں اڑتا ہے تو وہ پتھر بن جاتا ہے اور یہ رب تعالیٰ کی طرف سے مسلط ہوتا ہے اور اس کے قوانین قدرت اور نوامیس فطرت کے مطابق کام کرتا ہے اور اسی شخص پر جاکر پڑتا ہے جس کے بارے میں حکم الٰہی ہو اور ہر پتھر کے لئے اللہ نے اپنے علم سے زمان ومکان مقرر کردیا ہے کہ اس نے اس جگہ فلاں کو گھیر لینا ہے اور ہر پتھر کو فرشتوں کے ذریعہ اللہ نے پھینکنا طے کردیا ہے پھر ہمیں فرشتوں کی حقیقت کا بھی تو پوری طرح علم نہیں ہے اور یہ بھی ہمیں معلوم نہیں کہ اس کائنات کے ساتھ فرشتوں کا تعلق کیا ہے پھر جن قوتوں کو ہم جانتے ہیں اور جن کے انکشافات ہمارے سامنے ہوتے رہتے ہیں اور ہم ان قوتوں کے اپنی جانب سے نام رکھتے رہتے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے ؟ ہماری کیا مجال ہے کہ ہم اللہ کی اس اطلاع پر اعتراض کریں کہ اس نے اپنی بعض قوتوں کو بعض مسرفین پر مسلط کردیا اور کسی خاص جگہ ایسا کردیا۔ ہمیں بہرحال اللہ تعالیٰ کی اس اطلاع پر اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس کائنات کے بارے میں ہماری معلومات بہت ہی محدود ہیں اور مفروضوں پر مبنی ہیں بلکہ وہ نظریات ہیں اور بالکل ان چیزوں کی سطحی تاویلات ہیں۔ ابھی تک بہت کم معلومات ہیں جو حقائق بن سکے ہیں۔ غرض یہ آتش فشانی کے عمل میں پتھر ہوں یا اور پتھر ہوں۔ بہرحال وہ دست قدرت کا کرشمہ تھے۔ ان کی تخلیق کا عمل تھے اور وہ کیسے تھے یہ بھی ایک غیب ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(33) تاکہ ہم ان مجرموں پر کھنگر پتھر برسائیں۔