واقدی کی روایت سے پہلے گذر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الضحیٰ اور عید الفطر کی نماز میں سورہ ق اور سورہ اقتربت الساعۃ پڑھا کرتے تھے اسی طرح بڑی بڑی محفلوں میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔ کیونکہ اس میں وعدے وعید کا ، ابتداء آفرینش اور دوبارہ زندگی کا ساتھ ہی توحید اور اثبات رسالت وغیرہ اہم مقاصد اسلامیہ کا ذکر ہے ۔
سورة الْقَمَر نام : پہلی ہی آیت کے فقرہ وَانْشَقَّ الْقَمَر سے ماخوذ ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ وہ سورۃ جس میں لفظ القمر آیا ہے ۔ زمانۂ نزول : اس میں شقّ القمر کے واقعہ کا ذکر آیا ہے جس سے اس کا زمانہ نزول متعین ہو جاتا ہے ۔ محدثین و مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے مکہ معظمہ میں منیٰ کے مقام پر پیش آیا تھا ۔ موضوع اور مضمون : اس میں کفار مکہ کو اس ہٹ دھرمی پر متنبہ کیا گیا ہے جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مقابلہ میں اختیار کر رکھی تھی ۔ شق القمر کا حیرت انگیز واقعہ اس بات کا صریح نشان تھا کہ وہ قیامت جس کے آنے کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دے رہے تھے ، فی الواقع برپا ہو سکتی ہے ، اور اس کی آمد کا وقت قریب آ لگا ہے ۔ چاند جیسا عظیم الشان کرہ ان کی آنکھوں کے سامنے پھٹا تھا ۔ اس کے دونوں ٹکڑے الگ ہو کر ایک دوسرے سے اتنی دور چلے گئے تھے کہ دیکھنے والوں کو ایک ٹکڑا پہاڑ کے ایک طرف اور دوسرا ٹکڑا دوسری طرف نظر آیا تھا ۔ پھر آن کی آن میں وہ دونوں پھر مل گئے تھے ۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت تھا کہ نظام عالم ازلی و ابدی اور غیر فانی نہیں ہے ۔ وہ درہم برہم ہو سکتا ہے ۔ بڑے بڑے ستارے اور سیارے پھٹ سکتے ہیں ۔ بکھر سکتے ہیں ۔ ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں ۔ اور وہ سب کچھ ہو سکتا ہے جس کا نقشہ قیامت کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے قرآن میں کھینچا گیا ہے ۔ یہی نہیں ، بلکہ یہ اس امر کا پتا بھی دے رہا تھا کہ نظام عالم کے درہم برہم ہونے کا آغاز ہو گیا ہے اور وہ وقت قریب ہے جب قیامت برپا ہو گی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حیثیت سے لوگوں کو اس وقعہ کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا ، دیکھو اور گواہ رہو ۔ مگر کفار نے اسے جادو کا کرشمہ قرار دیا اور اپنے انکار پر جمے رہے ۔ اسی ہٹ دھرمی پر اس سورہ میں انہیں ملامت کی گئی ہے ۔ کلام کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا گیا کی یہ لوگ نہ سمجھانے سے مانتے ہیں ، نہ تاریخ سے عبرت حاصل کرتے ہیں ، نہ آنکھوں سے صریح نشانیاں دیکھ کر ایمان لاتے ہیں ۔ اب یہ اسی وقت مانیں گے جب قیامت فی الواقع برپا ہو جائے گی اور قبروں سے نکل کر یہ داورِ محشر کی طرف دوڑے جا رہے ہوں گے ۔ اس کے بعد ان کے سامنے قوم نوح ، عاد ، قوم لوط اور آل فرعون کا حال مختصر الفاظ میں بیان کر کے بتایا گیا ہے کہ خدا کے بھیجے ہوئے رسولوں کی تنبیہات کو جھٹلا کر یہ قومیں کس درد ناک عذاب سے دو چار ہوئیں ، اور ایک ایک قوم کا قصہ بیان کرنے کے بعد بار بار یہ بات دہرائی گئی ہے کہ یہ قرآن نصیحت کا آسان ذریعہ ہے جس سے اگر کوئی قوم سبق لے کر راہ راست پر آ جائے تو ان عذابوں کی نوبت نہیں آسکتی جو ان قوموں پر نازل ہوئے ۔ اب آخر یہ کیا حماقت ہے کہ اس آسان ذریعہ سے نصیحت قبول کرنے کے بجائے کوئی اسی پر اصرار کرے کہ عذاب دیکھے بغیر نہ مانے گا ۔ اس طرح پچھلی قوموں کی تاریخ سے عبرتناک مثالیں دینے کے بعد کفار مکہ کو خطاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ جس طرز عمل پر دوسری قومیں سزا پا چکی ہیں وہی طرز عمل اگر تم اختیار کرو تو آخر تم کیوں نہ سزا پاؤ گے ؟ کیا تمہارے کچھ سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ تمہارے ساتھ دوسروں سے مختلف معاملہ کیا جائے ؟ یا کوئی خاص معافی نامہ تمہارے پاس لکھا ہوا آگیا ہے کہ جس جرم پر دوسرے پکڑے گئے ہیں وہی تم کرو گے تو تمہیں نہ پکڑا جائے گا ؟ اور اگر تم اپنی جمیعت پر پھولے ہوئے ہو تو عنقریب تمہاری یہ جمیعت شکست کھا کر بھاگتی نظر آئے گی ، اور اس سے زیادہ سخت معاملہ تمہارے ساتھ قیامت کے روز ہو گا ۔ آخر میں کفار کو بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو قیامت لانے کے لیے کسی بڑی تیاری کی حاجت نہیں ہے ۔ اس کا بس ایک حکم ہوتے ہی پلک جھپکاتے وہ برپا ہو جائے گی ۔ مگر ہر چیز کی طرح نظام عالم اور نوع انسانی کی بھی ایک تقدیر ہے ۔ اس تقدیر کے لحاظ سے جو وقت اس کام کے لیے مقرر ہے اسی وقت پر وہ ہوگا ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ جب کوئی چیلنج کرے اس کو قائل کرنے کے لیے قیامت لا کھڑی کی جائے ۔ اس کو آتے نہ دیکھ کر تم سرکشی اختیار کرو گے تو اپنی شامت اعمال کا نتیجہ بھگتو گے ۔ تمہارا کچّا چٹھا خدا کے ہاں تیار ہو رہا ہے جس میں تمہاری کوئی چھوٹی یا بڑی حرکت ثبت ہونے سے رہ نہیں گئی ہے ۔
تعارف سورۃ القمر یہ سورت مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل ہوئی جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاند کو دو ٹکڑے کرنے کا معجزہ دکھلایا، اسی لئے اس کا نام سورۂ قمر ہے، حضرت عائشہ (رض) سے صحیح بخاری میں روایت ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی، اس وقت میں بچی تھی، اور کھیلاکرتی تھی، سورت کا موضوع دوسری مکی سورتوں کی طرح کفار عرب کو توحید رسالت اور آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دینا ہے، اور اسی ضمن میں عاد وثمود، حضرت نوح اور حضرت لوط علیہم السلام کی قوموں اور فرعون کے دردناک انجام کا مختصرلیکن بہت بلیغ انداز میں تذکرہ فرمایا گیا ہے، اور بار بار یہ جملہ دہرایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نصیحت حاصل کرنے کے لئے قرآن کریم کو بہت آسان بنادیا ہے تو کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے۔
” قیامت قریب آپہنچی اور چاند پھٹ گیا۔ “ چاند کا پھٹ جانا اور بےنور ہوجانا اس بات کی نشانی ہے کہ اب قیامت دور نہیں ہے اور اس دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو ہمیشہ رہنے والی ہو بلکہ ہر چیز کو فنا ہونا ہے۔ جن کفار کے مطالبہ پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اشارے سے چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے ایک ٹکڑا پہاڑ کے ایک طرف اور دوسرا ٹکڑادوسری طرف چلا گیا اور پھر فوراً ہی مل گیا۔ اس کو کھلی آنکھوں سے دیکھنے اور باہر سے آنے والوں کی تصدیق کے باوجود انہوں نے اس کو جادو قرار دے دیا اور اپنے کفر و شرک پر پہلے کی طرح اڑے رہے اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کفار اپنے نفس اور خواہشات کے غلام بن کر رہ گئے تھے۔ حالانکہ اتنا بڑا واقعہ ان کی نصیحت کے لئے بہت کافی تھا مگر جن لوگوں نے اس بات کی قسم کھا رکھی ہو کہ نہ تو وہ انسانی تاریخ، گناہگاروں کے برے انجام اور قوموں کے عروج پر زوال سے کچھ سیکھنے کی کوشش کریں گے اور نہ وہ آخرت کی ابدی زندگی کی فکر کریں گے ان کے لئے تو کوئی ہولناک حادثہ ہی عبرت دلانے کا سبب بن سکتا ہے۔ فرمایا کہ وہ عبرت ناک اور ہلناک واقعہ یعنی قیامت کے آنے میں بہت دیر نہیں ہے۔ جب پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا تو اس وقت ان کی آنکھیں پھٹی رہ جائیں گی اور وہ زمین سے اور قبروں سے نکل کر بدحواسی میں اس طرح زمین پر بکھر جائیں گے جس طرح ٹڈی دل ہر طرف پھیل جاتا ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بہت سوں کو قیامت کا یہ منظر قیامت آنے سے پہلے ہی دکھا دیتا ہے چناچہ قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور آل فرعون جو اپنے زمانے میں بہت زبردست قوت و طاقت رکھتے تھے لیکن جب ان کی نافرمانیاں حد سے بڑھ گئیں اور انہوں نے اللہ تعالیٰ نے قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور آل فرعون کی مسلسل نافرمانیوں کے بدترین انجام کو بیان کرنے کے بعد بتایا ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ ان کو مہلت دے کر اس بات کا موقع دیتا ہے کہ وہ دونوں راستوں میں سے کسی ایک راستہ کا انتخبا کرلیں دونوں راستوں کا انجام اور قوموں کی تاریخ کو دیکھ کر اس بات کا فیصلہ کرلے کہ وہ کون سے راستے پر چلنا چاہتا ہے۔ دونوں راستوں کا انجام بتا دیا گیا ہے۔ ایک نجات کا راستہ ہے اور دوسرا تباہی کا۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ لوگ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اسے کوئی دیکھنے والا نہیں ہے بلکہ اللہ ہر شخص کے تمام اعمال سے پوری طرح واقف اور باخبر ہے اور اس کے حکم سے اس کے فرشتے آدمی کے ایک ایک عمل کو لکھ رہے ہیں جو قیامت کے دن اس کے سامنے پیش کردیا جائے گا اور کوئی اس سے انکار نہ کرسکے گا۔ اللہ کے نبیوں اور ان کی تعلیمات کا اناکر کیا تو ان پر دنیا کا عذاب قیامت بن کر ٹوٹ پڑا۔ فرمایا حضرت نوح جنہوں نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کی کئی نسلوں کو سمجھایا مگر ان کی قوم نے ان کا مذاق اڑا دیا۔ ان کو دیوانہ اور مجنوں کہا۔ طرح طرح سے ستایا، ان کو دھمکیاں دی گئیں لیکن وہ ان کی نافرمانیوں کے باوجود ان کے عبرت ناک انجام سے ڈراتے رہے۔ جب حضرت نوح نے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا کہ جن لوگوں کو ایمان لانا تھا وہ ایمان لے آئے اور اب ان کی قوم میں ماننے کی صلاحیت ختم ہوگئی ہے تو انہوں نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا :” الٰہی میں ان سے مغلوب و مجبور ہوگیا اب آپ ہی ان سے بدلہ لیجیے۔ “ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی دعا کو قبول کرتے ہوئے زمین و آسمان میں جتنے پانی کے سوتے ہیں ان کو ڈبونے کے لئے کھول دیا۔ حضرت نوح اور ان پر ایمان لانے والوں کو ایک ایسی کشتی میں سوار کر کے جو تختوں اور کیلوں سے بنی ہوئی تھی نجات عطا فرما دی اور ان کی پوری قوم کو اللہ نے پانی کے اس طوفان میں ڈبو دیا جس سے کوئی بھی کافر و مشرک زندہ نہ رہ سکا۔ اسی طرح قوم عاد جو دنیا کی انتہائی ترقی یافتہ قوم تھی جس نے اپنی طاقت کا لوہا ساری دنیا سیم نوا رکھا تھا جب انہوں نے اپنے نبی حضرت ھود اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات کو جھٹلایا اور نافرمانیوں کی انتہا کردی تب اللہ نے ان پر زبردست طوفانی ہواؤں کو بھیجا جن سے ان کے گھر بار اور ہر چیز تباہ و برباد ہو کر رہ گئی۔ ہوا اس قدر تیز تھی کہ وہ لوگوں کو اٹھا اٹھا کر اس طرح پتھروں پر پٹک رہی تھی جیسے ان کے وجود کی کوئی حیثیت ہی نہ ہو اور ہر طرف میدانوں میں ان کی لاشیں اس طرح بکھری پڑی تھیں جیسے کھجور کے بڑے بڑے تنے کاٹ کر بکھیر دیئے گئے ہوں۔ قوم ثمود جو پہاڑوں کو تراش کر بلند ترین عمارتیں بنانے کے ماہر تھے، مال و دولت سے مالا مال اور ہر نعت ان کے چاروں طرف بکھری ہوئی تھی جب انہوں نے اپنے پیغمبر حضرت صالح کو جھٹلایا ان سے کہا کہ تم تو ہمارے ہی جیسے بشر ہو تم میں اور ہم میں کیا فرق ہیڈ کیا اللہ کو تمہارے علاوہ کوئی نہیں ملا جس کو بنی بنا کر بھیجا جاتا۔ ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ اگر ہم تمہیں نبی مان لیں تو ہم سے بڑا بیوقوف کون ہوگا۔ انہوں نے حضرت صالح کو جھوٹا اور شیخی باز تک کہنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ انہوں نے معجزہ طلب کرتے ہوئے کہا کہ ایک گابھن اونٹنی اس پہاڑ میں سے باہر آئیا ور وہ ہمارے سامنے ایک بچہ دے تو ہم تمہیں نبی ماننے پر غور کرسکتے ہیں۔ جب اللہ نے دو معجزہ عطا کردیا تب بھی وہ ایمان نہ لائے۔ پھر ال لہ نے اس اونٹنی کے متعلق فرما دیا تھا کہ اس کو کوئی نہ ستائے تمہارے کنوئیں سے ایک دن وہ پانی پئے گی دوسرے دن اپنی باری پر تم پانی پی سکتے ہو اور اپنے مویشیوں کو پلا سکتے ہو۔ اس قوم نے تنگ آ کر ایک شخص کو تیار کیا اس نے اس اونٹنی کو مار ڈالا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک زور دار دھماکے سے پوری قوم کو تہس نہس کردیا گیا۔ وہ مرے ہوئے ایسے پڑے تھے جیسے وہ بھوسا جسے جانوروں نے کھا کر بکھیر دیا ہو۔ قوم نوح ، قوم عاد ثمود کے عبرت ناک انجام کے بعد قوم لوط کے متعلق ارشاد فرمایا کہ جب حضرت لوط کی قوم نے اپنے خلاف فطرت فعل کو نہ چھوڑا بلکہ وہ فرشتے جو انسانی شکل میں لڑکوں کی صورت میں آئے تھے اور حضرت لوط کے مہمان تھے ان کی بےعزتی کرنا چاہی تو اللہ نے اس قوم کو اندھا کردیا اور اسی حالت میں اس پوری قوم پر ہوا کے جھکڑ اور طوفانوں سے ان کی بستیوں کو الٹ کر اس پوری قوم کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا اور حضرت لوط اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات عطا فرما دی۔ فرعون اور آل فرعون کے متعلق فرمایا کہ ہم نے حضرت موسیٰ کے ذریعہ معجزات اور دلائل سے قوم فرعون کو سمجھانے کی کوشش کی مگر انہوں نے بھی گزری ہوئی قوموں کی طرح نافرمانیوں کی انتہا کردی تب فرعون اور اس کی پوری قوم کو تباہ کر کے حضرت موسیٰ حضرت ہارون اور ایمان لانے والے بنی اسرائیل کو نجات عطا فرما دی۔ اللہ کا یہی دستور ہے جس میں کبھی تبدیلی نہیں اتٓی کہ وہ نافرمانوں کو ختم کر دیات ہے اور اپنے نبیوں، رسولوں اور ایمان رکھنے والوں کو نجات عطا فرما دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام اور ان کی نافرمان قوموں کے انجام کو بیان کرنے کے بعد مکہ والوں سے پوچھا ہے کہ آج اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہاری رہنمائی کے لئے قرآن کریم جیسی کتاب دے کرب ھیجے گئے ہیں اگر تم نے بھی نافرمان قوموں جیسا طریقہ اختیار کیا تو تمہارا انجام بھی ان سے مختلف نہ ہوگا۔ اللہ نے پوچھا ہے کہ تم تو ایسے مطمئن بیٹھے ہو جیسے تمہارے اوپر آسمان سے کوئی ایسا معافی نامہ نازل ہوگیا ہے جس کے ذریعے تمہیں پوری طرح معاف کردیا گیا ہے۔ فرمایا کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم بہت مضبوط جماعت ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ اگر ان کا یہ گمان ہے تو ان کی جماعت اور جتھا بہت جلد اللہ کے فیصلے کے سامنے بری طرح شکست کھا جائے گا اور ان کا یہ گھمنڈ ان کے کسی کام نہ آسکے گا اور قیامت کے دن کا ان کو کڑوا گھونٹ پینا ہی پڑے گا۔ فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ اس قوم کی عقل ماری گئی ہے جب قیاتم کے دن منہ کے بل جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا اس وقت ان سے کہا جائیگا کہ یہی وہ عذاب ہے جس کا تم انکار کیا کرتے تھے اور اب اس آگ کی لپیٹ کا مزہ چکھو۔ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف ارشاد فرمایا کہ جب ہم کسی کام کو کرنا چاہتے ہیں تو اس میں دیر نہیں کی جاتی بلکہ ہم جیسے ہی حکم دیتے ہیں پلک جھپکتے ہی وہ کام ہمارے حکم کے مطابق ہوجاتا ہے۔ یہ بھی فرما دیا کہ یہ لوگ اس گمان میں نہ رہیں کہ یہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ ان کے کرتوتوں سے بیخبر ہے بلکہ ان کے ایک ایک عمل کو اللہ کے فرشتے لکھ رہے ہیں جو قیامت میں لکھا لکھا یا ان کے سامنے آجائے گا۔ البتہ وہ لوگ جو اللہ کے فرمانبرار اور تقویٰ و پرہیز گاری کو اختیار کرتے ہیں وہ جنت کی ابدی راحتوں اور پانی کے بہتے چشموں سے لطف اندوز ہوں گے اور وہ ان کے لئے انتہائی اعلیٰ عزت کا مقام ہوگا۔ سب سے بڑی نعمت انہیں اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل ہوگی۔ وہ اللہ جو ہر چیز پر پوری پوری قدرت و طاقت رکھنے والا ہے۔ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے ایک بات کو بار بار دہرایا ہے کہ ان تمام باتوں کو سمجھانے کے لئے اللہ نے جس قرآن کو نازل کیا وہ وہ انتہائی آسان اور سہل ہے۔ اللہ کی آیات سے اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہے تو یہ بات نہایت آسانی سے سمجھ میں آ جائیگی کہ اللہ تعالیٰ ہر قوم کو مہلت اور مدت عطا کرتا ہے۔ اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ ان کو ہر طرح سمجھاتا ہے۔ اگر کوئی سنبھل جاتا ہے تو اس کو جنت اور اس کی ابدی راحتوں کی خوشخبری سنائی جاتی ہے اور اگر وہ سمجھانے کے باوجود مسلسل نافرمانیوں میں لگا رہتا ہے تو پھر اس قوم کو عبرت ناک سزا دی جاتی ہے۔ دونوں راستے کھلے ہوئے ہیں اب یہ انسان کا اپنا کام ہے کہ وہ ان دونوں میں سے کون سا راستہ اختیار کرتا ہے۔ دونوں راستوں کا انجام قوموں کی تاریخ سے اور اللہ کی آیات سے سمجھنا دشوار نہیں ہے۔
سورة القمرکا تعارف اس سورت کا نام اس کی پہلی آیت کے آخر میں موجود ہے یہ تین رکوع اور پچپن (٥٥) آیات پر مشتمل ہے۔ یہ مکہ معظمہ میں نازل ہوئی ہے۔ اہل مکہ قرآن مجید کی جس تیسری بڑی حقیقت کا انکار کرتے تھے وہ قیامت کا قائم ہونا ہے۔ اس کے انکار کے لیے ان کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہیں تھی۔ قرآن مجید نے انہیں درجنوں دلائل اور پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے دور میں مردوں کے زندہ ہونے کے واقعات سنائے لیکن اس کے باوجود وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دلائل مانگتے تھے۔ ہجرت کے پانچویں سال کا واقعہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قریش کے چند سردار منٰی میں موجود تھے۔ گفتگو کے دوران یہ بات ہوئی کہ اگر آپ چاند کو دو ٹکڑے کر کے دیکھائیں تو ہم آپ کی نبوت کو تسلیم کرلیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاند کو اشارہ کیا تو چاند دو ٹکڑے ہوگیا تفصیل کے لیے اس آیت کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ اس واقعے میں ایک طرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی تائید ہوتی ہے اور دوسری طرف اس بات کا عملی ثبوت فراہم ہوتا ہے کہ جس طرح چاند شق ہوا ہے اسی طرح ہی اپنے وقت پر قیامت برپا ہوجائے گی۔ لیکن اس کے باوجود قیامت کے منکر اسے تسلیم کرنے کے کیے تیار نہیں حالانکہ اس دن لوگ اپنی اپنی قبروں سے اس طرح نکلیں گے جس طرح بکھرے ہوئے پروانے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد مختصر طور پر قوم نوح، قوم ثمود اور قوم لوط کا واقعہ بیان کیا ہے۔ یہ لوگ قیامت کے منکر ہونے کی وجہ سے سرکش ہوئے اور ان کے سرکشی کرنے کی وجہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ذلّت کی موت اتار دیا۔ اس سورت کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ اے اہل مکہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ فرعون کو کس طرح بار بار انتبا کیا گیا تھا مگر وہ ہر دلیل کو ٹھکراتا رہا جس کے نتیجہ میں بالآخر تباہی کے گھاٹ اترا۔ بتاو کہ کیا تم فرعون اور مذکورہ بالا اقوام سے زیادہ طاقتوار ہو ؟ یا وہ تم سے طاقت میں زیادہ تھیں۔ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے قیامت تو ہر صورت برپا ہو کر رہے گی اس دن مجرم منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے پھر انہیں کہا جائے گا کہ اب جہنم کا عذاب جھیلتے رہو۔ منکرین قیامت کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے اسی طرح ہی قیامت کا بھی ایک وقت مقرر ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی کام کرنے کا حکم دیتے ہیں تو وہ کام پلک جھپکنے سے پہلے ہوجاتا ہے۔ اس نے تمہارے جیسے بہت سے لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔ کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا تو اسے نصیحت قبول کرنی چاہیے ؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نصیحت حاصل کرنے کے لیے قرآن مجید کو آسان ترین بنا دیا ہے۔
سورة القمر ایک نظر میں یہ سورت آغاز سے اختتام تک ایک خوفناک اور سخت حملہ ہے اور اس میں مکذبین کے لئے انجام بد سے سخت ڈراوا ہے کہ تمہارا انجام بہت ہی برا ہونے والا ہے جبکہ مومنین اور تصدیق کرنے والوں کے لئے نہایت پختہ اطمینان کا سامان ہے اور یہ سورت کئی مسلسل حلقوں میں منقسم ہے۔ ہر حلقہ جھٹلانے والوں کی سزا کا ایک منظر ہے۔ ہر حلقے کے آخر میں انسانی احساس کو خوب جھنجھوڑا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے۔ فکیف……………ونذر (16:54) ” دیکھ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات “ اور اس دبائو اور جھنجھوڑنے کے بعد احساس کو ذرا آزاد چھوڑ کر کہہ دیا جاتا ہے۔ ولقد…………ممد کر (17:54) ” ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنا دیا ہے پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا۔ “ اس سورت کے موضوعات وہی ہیں جو تمام مکی سورتوں میں وارد ہیں۔ آغاز میں قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر ہے اور آخر میں بھی مناظر قیامت میں سے ایک منظر ہے اور ان کے درمیان کے حصے میں قوم نوح ، قوم عاد ، قوم ثمود ، قوم لوط ، فرعون اور اس کے سرداروں کی ہلاکتیں ہیں۔ یہ سب موضوعات ہیں جن سے مکی سورتیں بھری ہوئی ہیں اور مختلف شکل و صورت میں یہ واقعات بیان ہوئے ہیں۔ لیکن اس سورت میں انہی موضوعات کو ایک بالکل نئے انداز میں لیا گیا ہے۔ اس طرح کہ یہاں یہ پوری طرح جدید نظرآتی ہے۔ البتہ یہ سورت ذرا درشت لہجے میں نہایت فیصلہ کن انداز میں ان موضوعات کو لیتی ہے۔ انسان پر خوف طاری ہوجاتا ہے اور انسان کو اپنیارد گرد تباہی ہلاکت ، قرع ونزع اور توڑ پھوڑ اور خوف وہراس کی فضا نظر آتی ہے۔ انسان کو یہ خوف طاری ہوجاتا ہے کہ کسی وقت بھی کچھ ہوسکتا ہے۔ اس سورت کا مخصوص ترین حصہ یہ ہے کہ اس کا ہر حلقہ ایک درد ناک ، دہشت ناک عذاب پر مشتمل ہے اور جسے تکذیب کرنے والے دیکھ رہے ہیں۔ وہ بذات خود ان مناظر میں موجود ہیں۔ وہ محسوس کررہے ہیں کہ اللہ کے عذاب کے کوڑے برس رہے ہیں جونہی یہ مکذبین ایک عذاب سے نکلتے ہیں ابھی ان سانس پھولا ہوا ہوتا ہے کہ وہ عذاب کے دوسرے حلقے کے سامنے کھڑے ہیں اور پہلے منظر سے پھر یہ دوسرا منظر زیادہ ہولناک اور خوفناک ہے یہاں تک کہ اس سورت کے یہ ساتواں حلقے ایسی ہی خوفناک فضا میں ختم ہوتے ہیں اور مکذبین کا گلا گھٹنے لگتا ہے۔ ایسے ہی حالات میں سورت کا آخری منظر آجاتا ہے۔ اس کا رنگ ڈھنگ مختلف ہے۔ یہاں امن اطمینان اور سکون ہے۔ یہ منظر متعین اور خدا خوفی رکھنے والوں کا منظر ہے۔ ان المتقین……………مقتدر (55:54) ” نافرمانی سے پرہیز کرنے والے یقینا باغوں اور نہروں میں ہوں گے سچی فرحت کی جگہ ، بڑے ذی اقتدار باشادہ کے قریب “ اور یہ پرسکون منظر ان مناظر کے بعد آتا ہے جن میں ہولناکیاں موجوں کی طرح اڑتی چلی آتی ہیں۔ ہلا مارنے والے خوف وہراس میں اور نہایت ہی توہین آمیز عذاب میں۔ یوم یسحبون……………سقر (48:54) ” جس روز یہ منہ کے بل آگے میں گھسیٹے جائیں گے۔ اس روز ان سے کہا جائے گا کہ چکھو جہنم کی لپٹ کا مزہ “۔ ذرا دیکھئے ، دونوں مناظر کا فرق ، دونوں کے مقام و مرتبہ کا فرق ، دونوں گروہوں کے رنگ ڈھنگ کا فرق اور دونوں کے انجام کا فرق۔