Surat ul Qamar
Surah: 54
Verse: 23
سورة القمر
کَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِالنُّذُرِ ﴿۲۳﴾
Thamud denied the warning
قوم ثمود نے ڈرانے والوں کو جھٹلایا ۔
کَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِالنُّذُرِ ﴿۲۳﴾
Thamud denied the warning
قوم ثمود نے ڈرانے والوں کو جھٹلایا ۔
The Story of Thamud Allah states here that, كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِالنُّذُرِ Thamud denied the warnings. i.e. the people of Thamud denied their Messenger Salih, فَقَالُوا أَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهُ إِنَّا إِذًا لَّفِي ضَلَلٍ وَسُعُرٍ
فریب نظر کے شکار لوگ ثمودیوں نے رسول اللہ حضرت صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں ؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں ، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا ؟ ان کی آزمائش کے لئے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکتھے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا رہے گا اب ان سے کہدیجئے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا ۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت ( قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ١٥٥ۚ ) 26- الشعراء:155 ) ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا ، جیسے اور آیت میں ہے آیت ( اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽ ) 91- الشمس:12 ) ان کا بدترین آدمی اٹھا اس نے آکر اسے پکڑا اور زخمی کیا پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بےنام و نشان کر دیا ، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی میں انہیں بھی برباد کر دیا ۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے ۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا نہ بچ سکا ۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اول قوی ہے واللہ اعلم ۔
كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ ٢٣ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ثمد ثَمُود قيل : هو أعجمي، وقیل : هو عربيّ ، وترک صرفه لکونه اسم قبیلة، أو أرض، ومن صرفه جعله اسم حيّ أو أب، لأنه يذكر فعول من الثَّمَد، وهو الماء القلیل الذي لا مادّة له، ومنه قيل : فلان مَثْمُود، ثَمَدَتْهُ النساء أي : قطعن مادّة مائه لکثرة غشیانه لهنّ ، ومَثْمُود : إذا کثر عليه السّؤال حتی فقد مادة ماله . ( ث م د ) ثمود ( حضرت صالح کی قوم کا نام ) بعض اسے معرب بتاتے ہیں اور قوم کا علم ہونے کی ہوجہ سے غیر منصرف ہے اور بعض کے نزدیک عربی ہے اور ثمد سے مشتق سے ( بروزن فعول ) اور ثمد ( بارش) کے تھوڑے سے پانی کو کہتے ہیں جو جاری نہ ہو ۔ اسی سے رجل مثمود کا محاورہ ہے یعنی وہ آدمی جس میں عورتوں سے کثرت جماع کے سبب مادہ منویہ باقی نہ رہے ۔ نیز مثمود اس شخص کو بھی کہا جاتا ہے جسے سوال کرنے والوں نے مفلس کردیا ہو ۔
آیت ٢٣ { کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ ۔ } ” قومِ ثمود نے بھی جھٹلایا خبردار کرنے والوں کو۔ “
(54:23) کذبت ثمود بالنذر۔ ثمود ۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کا نام ہے ۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو لغات القرآن جلد چہارم۔ قوم ثمود نے بھی ڈرانے والوں (پیغمبران الٰہی) کو جھٹلایا۔
آیات ٢٣ تا ٤٠۔ اسرار ومعارف۔ ثمود نے یہی وطیرہ اپنایا اور اللہ کے نبی کو انہیں اعمال بد کے خطرناک نتائج سے آگاہ فرمانے کو مبعوث ہوا تھا جھوٹا کہا اور کہنے لگا کہ بھلا ایک ہم جیسا انسان وہ بھی اکیلا کہ اور تو کوئی اس کے ساتھ ہے نہیں تو اس کے پیچھے کیوں چلنے لگیں اور اس کی بات کیوں مانیں کیا ہمارا دماغ خراب ہوگیا ہے کہ ہم خواہ مخواہ گمراہ ہوجائیں۔ کثرت افراد دلیل حق نہیں۔ یعنی بہت سے لوگوں کا ماننا حق پر ہونے کی دلیل نہیں بلکہ افراد کم بھی ہوں ان کا حق پر ہونا مطلوب ہے نہ یہ کہ موجودہ جمہوری طریقہ کہ ہر چوراچکا ایک ایک انبوہ بناکرجوکہہ دے وہ درست ہے اور جمہوریت ہے ۔ اسلامی جمہوریت یہ ہے کہ جس فن کی بات ہورہی ہو اس فن کے ماہرین کا جس بات پر اتفاق ہوجائے اور پھر کہنے لگے بھلاہم سے وہ کس طرح بہتر ہے کہ ہمیں چھوڑ کر ان پر کتاب نازل ہوگئی ان کے خیال باطل میں اگر کتاب کو نازل ہونا ہی تھا تو خود ان پر ہوتی کہ وہ خود کو بہت عظیم خیال کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ اس جھوٹ کے سہارے ہمیں اپنے پیچھے لگا کر بڑا آدمی بناچاہتا ہے یاشیخی بگھارتا ہے تو انہیں کل ہی پتہ چل جائے گا کہ شیخی بگھارنے والایاخود بڑا سمجھنے کے زعم باطل میں کون مبتلا ہے ۔ ہم نے اپنی نبی کو خبر دی کہ ان کی آزمائش کے لیے ہم ایک سانڈنی بھیجتے ہیں جس کی تفصیل حضرت صالح (علیہ السلام) کے واقعات میں ہے تو آپ اس بات کا انتظار کیجئے اور صبر کیجئے دیکھیے کہ کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے ہاں انہیں بتادیجئے کہ پانی کی باری ہوگی ایک ہی کنواں یاچشمہ تھا جس سے ایک روز تمہارے مواشی اور ریوڑ پیا کریں گے اور ایک روز کا سارا پانی یہ اونٹنی پی لے گی ان سے یہ برداشت نہ ہوسکا اور منصوبہ بندی کرکے ایک آدمی مقرر کردیا جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اور اسے مار ڈالا۔ سو دیکھ لو کہ میرا عذاب کیسے پڑا اور وعید کس طرح پوری ہوئی کہ ان پر ایک ایسی سخت چنگھاڑ مسلط کردی جس سے دل پھٹ گئے اور جسم تک چورا چورا ہوگئے جیسے کسی کھیت کی پرانی کانٹوں کی باڑ ٹوٹی پھوٹی پڑی اور تباہ حال پڑی لہذا انہیں اس قرآن حکیم سے نصیحت حاصل نہ کی اور نصیحت کرنے والے نبی کی بات نہ مانی نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر پتھر برسانے والی آندھی آئی اور سوائے لوط (علیہ السلام) کے متبعین کے کوئی نہ بچا جبکہ انہیں بوقت سحر ان سے جدا کردیا گیا یہ آل لوط پر اللہ کا احسان تھا اور اللہ اپنے شکرگزار بندوں کو ایسے ہی صلہ دیتا ہے کہ انہیں عذاب وقہر سے بچالیتے ہیں حالانکہ لوط (علیہ السلام) نے تو سب کو خبردار کیا تھا اور ہمارے عذاب سے ڈرایا تھا مگر جب فرشتے لڑکوں کی صورت میں ان کے مہمان بنے تو یہ لوگ چڑھ دوڑے اور چھین لینے کو مرنے مارنے کی بات کرنے لگے تو ہم نے ان کی آنکھیں ہی مسخ کردیں اور انہیں معلوم ہونے لگایہ عذاب الٰہی ہے اور وعید ہے جس کی خبر لوط (علیہ السلام) نے دی تھی اور پھر علی الصبح وہ عذاب جو ان کی بداعمالی کے سبب ان کے لیے مقرر ہوچکا تھا ان پر آپڑا کہ اب میرے عذاب کا مزہ چکھو اور دیکھو عذاب کا وعدہ کیسے پورا ہوا اندھے ہوگئے پھر پتھر برسے اور پھر بستیاں ہی زمین میں الٹ دی گئیں اور ہم نے قرآن حکیم کو تونصیحت کے لیے آسان کردیا ہے اگر کوئی بھی نصیحت حاصل کرنے کا خواہش مند ہو۔
فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد کے بعد قوم ثمود کا تذکرہ۔ قوم ثمود کا علاقہ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ قوم ثمود ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے شعبے میں اس قدر ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور محلات تعمیر کرلیے تھے تاکہ کوئی زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ اس قوم کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث کیے گئے جنہوں نے طویل مدت تک اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم نوح اور قوم عاد کی طرح انہوں نے بھی اپنے رسول یعنی حضرت صالح (علیہ السلام) کو یکسر طور پر جھٹلا دیا۔ قوم کے جواب اور الزامات : ١۔ اے صالح ہم تو تجھے بہت اچھا سمجھتے تھے مگر تو ہمارے آباؤ اجداد کو گمراہ قرار دیتا ہے۔ (ھود : ٦٢) ٢۔ کیا تو ہمیں ان کاموں سے روکتا ہے جو ہمارے بزرگ کرتے آ رہے ہیں۔ (ھود : ٦٢) ٣۔ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو منحوس سمجھتے ہیں۔ (النمل : ٧٤) ٤۔ صالح تو بہت بڑا جھوٹا اور بڑائی بکھیرنے والا ہے۔ (القمر : ٢٥) ٥۔ کیا ہم اپنے بزرگوں، آباؤ اجداد کے مذہب کو چھوڑ کر صرف تیری پیروی کریں۔ (القمر : ٢٤) ٦۔ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے۔ (الشعراء : ١٥٣) ٧۔ ثمود انبیاء کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ (الشعراء : ١٤١) حضرت صالح (علیہ السلام) کا قوم کو باربار سمجھانا : ١۔ اے میری قوم ! اللہ سے ڈر جاؤ اور میری باتوں پر غور کرو۔ (الشعراء : ١٤٤) ٢۔ میں تم سے اللہ کے احکام سنانے پر کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ (الشعراء : ١٤٥) ٣۔ اے میری قوم ! میں واقعی اپنے رب کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔ (ھود : ٦٣) ٤۔ اے قوم ! یہ اونٹنی اللہ کی طرف سے معجزہ ہے اس کے ساتھ زیادتی نہ کرنا۔ (ھود : ٦٤) ٥۔ میں تمہیں وعظ و نصیحت کرتا ہوں جب کہ تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے ہو۔ (الاعراف : ٧٩) ٦۔ اے میری قوم ! ” اللہ “ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اس لیے صرف اسی کی عبادت کرو۔ (الاعراف : ٧٣) ٧۔ اے میری قوم ! تمہیں عاد کے بعد اس دنیا میں بھیجا گیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ (الاعراف : ٧٤) ٨۔ اے میری قوم !” اللہ “ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاکر اس کا شکر ادا کرو۔ (الاعراف : ٧٤)
قبیلہ ثمود جزیرہ عرب میں عاد کے بعد نمودار ہوا۔ یہ بھی عاد کی طرح قوت اور شوکت میں بےمثال تھا۔ ہاں عادی جنوب میں تھے اور ثمود شمال میں تھے۔ ثمود نے بھی رسول کی تکذیب اسی طرح کی جس طرح عاد نے کی تھی حالانکہ ثمود کو عاد کے انجام کا اچھی طرح علم تھا کیونکہ وہ جزیرہ عرب کے جنوب میں تھے۔ فقالوا ............ الاشر (45: ٦٢) ” اور کہنے لگے ایک اکیلا آدمی جو ہم میں سے ہے کیا ہم اس کے پیچھے چلیں ؟ اس کا اتباع ہم قبول کریں تو معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے۔ کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص تھا جس پر خدا کا ذکر نازل کیا گیا ؟ نہیں بلکہ یہ پرلے درجے کا جھوٹا اور لالچی ہے۔ “ یہ وہی شبہ ہے جو پوری تاریخ میں تمام مکذبین کے دلوں میں خلجان پیدا کرتا رہا ہے۔ ء القی ............ بیننا (45:5 ٢) ” کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص تھا جس پر خدا کا ذکر نازل کیا گیا “ یہ ان کی کھوکھلی اور بےحقیقت کبریائی تھی اور جس شخص کے اندر اس قسم کا کبر ہو وہ کبھی حقیقت کو دیکھ ہی نہیں سکتا۔ وہ بات کو نہیں دیکھتا۔ اس کو دیکھتا ہے کہ کہنے والا کون ہے۔ ابشرامنا واحد انتبعہ (45:4 ٢) ” ایک اکیلا آدمی جو ہم میں سے ہے کیا ہم اب اس کے پیچھے چلیں ؟ “ آخر اس میں کیا قباحت ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے ایک اکیلے شخص کو چن لے۔ اللہ تو خوب جانتا ہے کہ رسالت کی امانت کہاں رکھے اور پھر اس کے اوپر ذکر نازل کرے۔ اس کو ہدایات دے اور نصیحت کی باتیں اس پر نازل کرے ، اللہ خالق ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں میں سے اس امانت کی استعداد اس نے کس کو دی ہے۔ پھر ذکر نازل کرنے والا بھی اللہ۔ یہ سوال ایک بےحقیقت سوال ہے اور واہی تباہی ہے جو نہایت گمراہ لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوسکتا ہے۔ ایسے لوگ جو کسی دعوت کے بارے میں یہ نہیں سوچتے کہ اس میں صدق وسچائی کس قدر ہے۔ وہ دعوت دینے والے کو دیکھتے ہیں کہ دو بستیوں میں سے یہ کتنا بڑا آدمی ہے۔ اگر کسی چھوٹے آدمی کی بات مانی گئی تو وہ چھوٹا بڑا بن جائے گا اور یہ چھوٹے رہ جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ ہمیشہ یہ کہتے ہیں۔
قوم ثمود کی تکذیب اور ہلاکت و تعذیب ان آیات میں قوم ثمود کی تکذیب پھر ان کی ہلاکت اور تعذیب کا تذکرہ فرمایا ہے۔ یہ لوگ قوم عاد کے بعد تھے پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر گھر بنا لیتے تھے اللہ تعالیٰ شانہ، نے ان کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا انہوں نے ان کو توحید کی دعوت دی خیر کا راستہ دکھایا لیکن ان پر تکبر سوار ہوگیا اور کہنے لگے تم بھی تو انسان ہو اور ہم بھی انسان ہیں پھر ہو بھی تم ہمیں میں سے تم میں کون سی خاص بات ہے جس کی وجہ سے تم نبی بنائے گئے ہم اپنے ہی میں سے ایک آدمی کا اتباع کریں تو یہ بڑی گمراہی کی بات ہے ہم کوئی دیوانے تو نہیں ہیں جو اتنی بات بھی نہ سمجھیں ہم اپنے ہی جیسے آدمی کا اتباع کریں یہ دیوانگی نہیں ہے تو کیا ہے ؟ بس جی ہماری سمجھ میں تو یہی آتا ہے کہ اس شخص کو رسالت نہیں ملی اپنی بڑائی بگھارنے کے لیے اور بڑا بننے کے لیے اس نے یہ بات نکالی ہے کہ میں رسول ہوں نبی ہوں تاکہ قوم اس کو بڑا ماننے لگے، اللہ تعالیٰ شانہ نے ارشاد فرمایا ﴿سَيَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ ٠٠٢٦﴾ انہیں عنقریب کل کو پتہ چل جائے گا کہ کون ہے بہت جھوٹا شیخی بگھارنے والا، یعنی خود بڑے جھوٹے ہیں اور شیخی خورے ہیں اسی لیے اللہ کے نبی کو نہیں مانتے۔ اپنے جھوٹ کا اور شیخی بگھارنے کا انجام عنقریب دیکھ لیں گے۔ ان لوگوں نے معجزہ کے طور پر حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہا تھا کہ پہاڑ سے ایک اونٹنی نکال کر دکھاؤ۔ اگر تم ایسا کرو گے تو ہم تمہاری نبوت کے اقراری ہوجائیں گے، اللہ جل شانہ، نے ایک بڑی اونٹنی ظاہر فرمادی سب نے دیکھ لیا کہ اونٹنی پہاڑ سے برآمد ہوئی۔ چونکہ اللہ کی اونٹنی تھی جو بطور معجزہ ظاہر کی گئی تھی اس لیے خوب زیادہ کھاتی پیتی تھی۔ سورة الاعراف میں فرمایا ﴿هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰيَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِيْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ٠٠٧٣﴾ (یہ اللہ کی اونٹنی ہے جو تمہارے لیے بڑی نشانی ہے۔ سو اسے تم چھوڑے رکھو۔ اللہ کی زمین میں کھاتی رہے اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ تمہیں دردناک عذاب پکڑ لے گا) ۔ ان لوگوں کا ایک کنواں تھا جس سے پانی بھرتے اور اپنے مویشیوں کو پلاتے تھے اللہ کی اس اونٹنی کو بھی پانی پینے کی ضرورت تھی حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کو بتادیا ﴿لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ٠٠١٥٥﴾ (اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور ایک دن تمہارے پینے کے لیے باری مقرر ہے) اس مضمون کو یہاں سورة قمر میں یوں بیان فرمایا ﴿اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْٞ٠٠٢٧﴾ (کہ ہم اونٹنی کو بھیجنے والے ہیں ان لوگوں کی آزمائش کے لیے (اے صالح) ان کو دیکھتے رہئے اور صبر کیجئے) ۔
12:۔ ” کذبت ثمود “۔ یہ تخویف دنیوی کا تیسرا نمونہ ہے۔ النذر نذیر کی جمع ہے تمام انبیاء (علیہم السلام) کا چونکہ پیغام ایک ہی ہے اس لیے ایک پیغمبر کی تکذیب گویا سب کی تکذیب ہے۔ فان تکذیب احدہم وھو صالح (علیہ السلام) ھنا تکذیب للکل لاتفاقہم علی اصول الشرائع (روح ج 27 ص 87) ۔ بشرا کا ناصب محذوف علی شریطۃ التفسیر ہے (مدارک، روح) سُعُر، جنون اور دیوانگی (قرطبی) ۔ قوم ثمود کے سرکش اور مغرور سرداروں نے کہا کیا ہم اپنی قوم کے ایک بشر کو پیغامبر مان لیں اور اس کے حکمبردار بن جائیں ؟ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہمارا یہ فعل سراسر غلط ہوگا اور یہ کھلی دیوانگی ہوگی کہ ہم ایک بشر کے پیروکار اور فرمانبردار بن جائیں، کیونکہ اس میں ہماری صریح توہین وتذلیل ہے اور یہ سب سے بڑا خسارہ ہے۔ یقولون لقد خبنا وخسرنا ان سلمنا کلنا قیادنا لواحد منا (ابن کثیر ج 4 ص 265) ۔