Surat ul Qamar

Surah: 54

Verse: 6

سورة القمر

فَتَوَلَّ عَنۡہُمۡ ۘ یَوۡمَ یَدۡعُ الدَّاعِ اِلٰی شَیۡءٍ نُّکُرٍ ۙ﴿۶﴾

So leave them, [O Muhammad]. The Day the Caller calls to something forbidding,

پس ( اے نبی ) تم ان سے اعراض کرو جس دن ایک پکارنے والا ناگوار چیز کی طرف پکارے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The terrible End the Disbelievers will meet on the Day of Resurrection Allah the Exalted says, فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ... So withdraw from them. Allah the Exalted says, `O Muhammad, turn away from these people who, when they witness a miracle, they deny it and say that this is continuous magic.' Turn away from them and wait until, ... يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ إِلَى شَيْءٍ نُّكُرٍ The Day that the caller will call (them) to a terrible thing. to the Recompense and the afflictions, horrors and tremendous hardships that it brings forth,

معجزات بھی بے اثر ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم ان کافروں کو جنہیں معجزہ وغیرہ بھی کار آمد نہیں چھوڑ دو ان سے منہ پھیر لو اور انہیں قیامت کے انتظار میں رہنے دو ، اس دن انہیں حساب کی جگہ ٹھہرنے کے لئے ایک پکارنے والا پکارے گا جو ہولناک جگہ ہو گی جہاں بلائیں اور آفات ہوں گی ان کے چہروں پر ذلت اور کمینگی برس رہی ہو گی ، مارے ندامت کے آنکھیں نیچے کو جھکی ہوئی ہوں گی اور قبروں سے نکلیں گے ، پھر ٹڈی دل کی طرح یہ بھی انتشار و سرعت کے ساتھ میدان حساب کی طرف بھاگیں گے پکارنے والے کی پکار پر کان ہوں گے اور تیز تیز چل رہے ہوں گے نہ مخالفت کی تاب ہے نہ دیر لگانے کی طاقت ، اس سخت ہولناکی کے سخت دن کو دیکھ کر کافر چیخ اٹھیں گے کہ یہ تو بڑا بھاری اور بیحد سخت دن ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

6۔ 1 یعنی اس دن کو یاد کرو، نہایت ہولناک اور دہشت ناک مراد میدان محشر اور موقف حساب کے آزمائشیں ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦] یعنی انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیجئے اور ایسے ضدی انسانوں کی ہدایت کے لالچ میں اپنا وقت ضائع نہ کیجئے۔ یہ لوگ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک عذاب کو دیکھ نہ لیں۔ [٧] نکر کا ایک معنی ناگوار ہے جو ترجمہ میں اختیار کیا گیا ہے اور اس کا دوسرا معنی انجانی اور اجنبی چیز ہے یعنی جب وہ حساب کتاب کے لیے بلائے جائیں گے تو یہ بات ان کے لیے بالکل انوکھی ہوگی جس کا انہیں خواب و خیال تک نہ تھا کہ اس طرح انہیں زندہ کرکے حساب کتاب کے لیے پیش ہونا پڑے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَتَوَلَّ عَنْہُمْ : یعنی جب ان لوگوں کو کسی تنبیہ یا ڈرانے کا کچھ فائدہ ہی نہیں ہوتا تو آپ بھی ان سے منہ پھیر لیں اور انہیں ان کے حال پر رہنے دیں ۔ آپ کے ذمے پہنچانا تھا ، وہ آپ نے پہنچا دیا ۔ ٢۔ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰی شَیْئٍ نُّکُرٍ :” یوم “ منصوب بنزع الخافض ہے ، یعنی اس سے پہلے حرف جار ” الی “ ہے جسے حذف کرنے کی وجہ سے یہ منصوب ہے ( بغوی) آلوسی نے کہا : ” ھذاقول الحسن “ کہ یہ حسن کا قول ہے یعنی ” فتول عنھم الی یوم یدع الداع فی الا شی نکر “ ” سو ان سے منہ پھیر لے ، اس دن تک جس میں پکارنے ولا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا “۔ یا ” یوم “ فعل محذوف ” انظر “ کے ساتھ منصوب ہے ، یعنی ” ان سے منہ پھیر لے اور اس دن کا انتظار کر جب ۔۔۔۔ “ پکارنے والے سے مراد اسرافیل (علیہ السلام) ہیں ، جن کے نفحہ سے تمام لوگ قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ ” یدع “ اصل میں ” یدعو “ ہے ، واؤ چونکہ یہاں پڑھنے میں نہیں آتی اس لیے مصحف عثمان میں لکھی نہیں گئی :” الداع “ اصل میں ” الداعی “ ہے ، ” یائ “ تخفیف کے لیے حذف کی گئی ہے اور ” شیء نکر ‘ ‘ سے مراد حساب کتاب ہے۔” نکر “ بمعنی ” منکر “ ہے ، ناگوار ، اجنبی ، اونکھی چیز جو کبھی دیکھی نہ ہوگی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَتَوَلَّ عَنْہُمْ۝ ٠ ۘ يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَيْءٍ نُّكُرٍ۝ ٦ ۙ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم میں ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر سے دوستی کرے گا ۔ اور تعدیہ بعن کے متعلق فرمایا : ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۔ دع الدَّعُّ : الدفع الشدید وأصله أن يقال للعاثر : دع دع، كما يقال له : لعا، قال تعالی: يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلى نارِ جَهَنَّمَ دَعًّا[ الطور/ 13] ، وقوله : فَذلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ [ الماعون/ 2] ، قال الشاعر : دَعَّ الوصيّ في قفا يتيمه ( د ع ع ) الدع ۔ کے معنی سختی کے ساتھ دھکا دینے کے ہیں ۔ اصل میں یہ کلمہ زجر ہے جس طرح پھسلنے والے کو ( بطور دعا لعا کہا جاتا ہے ۔ اسیطرح دع دع بھی کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں : ۔ يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلى نارِ جَهَنَّمَ دَعًّا[ الطور/ 13] جس دن وہ آتش جہنم کی طرف نہایت سختی سے دھکیلے جائیں گے ۔ فَذلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ [ الماعون/ 2] یہ وہی ( بدبخت ) ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے شاعر نے کہا ہے جیسا کہ وحی یتیم کی گدی پر گھونسا مارتا اور اسے دھکے دیتا ہے ۔ شيء الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم . ( ش ی ء ) الشئی بعض کے نزدیک شی وہ ہوتی ہے جس کا علم ہوسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے اور اس کے متعلق خبر دی جا سکے اور اکثر متکلمین کے نزدیک یہ اسم مشترکہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے ماسواپر بھی بولا جاتا ہے ۔ اور موجود ات اور معدہ سب کو شے کہہ دیتے ہیں ، نكر الإِنْكَارُ : ضِدُّ العِرْفَانِ. يقال : أَنْكَرْتُ كذا، ونَكَرْتُ ، وأصلُه أن يَرِدَ علی القَلْبِ ما لا يتصوَّره، وذلک ضَرْبٌ من الجَهْلِ. قال تعالی: فَلَمَّا رَأى أَيْدِيَهُمْ لا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ [هود/ 70] ، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ [يوسف/ 58] وقد يُستعمَلُ ذلک فيما يُنْكَرُ باللّسانِ ، وسَبَبُ الإِنْكَارِ باللّسانِ هو الإِنْكَارُ بالقلبِ لکن ربّما يُنْكِرُ اللّسانُ الشیءَ وصورتُه في القلب حاصلةٌ ، ويكون في ذلک کاذباً. وعلی ذلک قوله تعالی: يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنْكِرُونَها[ النحل/ 83] ، فَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ ( ن ک ر ) الانکار ضد عرفان اور انکرت کذا کے معنی کسی چیز کی عدم معرفت کے ہیں اس کے اصل معنی انسان کے دل پر کسی ایسی چیز کے وارد ہونے کے ہیں جسے وہ تصور میں نہ لاسکتا ہو لہذا یہ ایک درجہ جہالت ہی ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلَمَّا رَأى أَيْدِيَهُمْ لا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ [هود/ 70] جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہین جاتے ( یعنی وہ کھانا نہین کھاتے ۔ تو ان کو اجنبی سمجھ کر دل میں خوف کیا ۔ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ [يوسف/ 58] تو یوسف (علیہ السلام) کے پاس گئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ اس کو نہ پہچان سکے ۔ اور کبھی یہ دل سے انکار کرنے پر بولا جاتا ہے اور انکار لسانی کا اصل سبب گو انکار قلب ہی ہوتا ہے ۔ لیکن بعض اوقات انسان ایسی چیز کا بھی انکار کردیتا ہے جسے دل میں ٹھیک سمجھتا ہے ۔ ایسے انکار کو کذب کہتے ہیں ۔ جیسے فرمایا ۔ يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنْكِرُونَها[ النحل/ 83] یہ خدا کی نعمتوں سے واقف ہیں مگر واقف ہوکر ان سے انکار کرتے ہیں ۔ فَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ [ المؤمنون/ 69] اس وجہ سے ان کو نہیں مانتے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦۔ ٨) سو جو قوم علم خداوندی پر اور اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لائے گی اسے رسولوں کا ڈرانا کچھ فائدہ نہیں پہنچاتا۔ اے محمد سو آپ ان کی طرف سے کچھ خیال نہ کیجیے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا ہے۔ جس روز یعنی قیامت کے دن ایک بلانے والا فرشتہ ایک سخت ترین ناگوار چیز کی طرف بلائے گا اہل جنت کو جنت کی طرف اور دوزخیوں کو دوزخ کی طرف ان کی آنکھییں ذلت سے جھکی ہوں گی قبروں سے اس طرح نکل رہے ہوں گے جیسے ٹڈی پھیل جاتی ہے اور پھر نکل کر بلانے والے کی طرف دوڑے چلے جارہے ہوں گے کہ کس چیز کا ان کو حکم ہوتا ہے کافر قیامت کے دن کہتے ہوں گے کہ یہ دن ان کے حق میں بڑا سخت ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦ { فَتَوَلَّ عَنْہُمْ ٧ } ” تو (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) آپ ان سے صرفِ نظر کر لیجیے۔ “ { یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰی شَیْئٍ نُّـکُرٍ ۔ } ” جس دن ایک پکارنے والا پکارے گا ایک بہت ناگوار چیز کی طرف۔ “ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ ابتدائی مکی دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملتے جلتے الفاظ میں یہ ہدایت بار بار دی گئی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبر کریں ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) درگزر سے کام لیں ‘ انہیں نظر انداز کردیں ‘ وغیرہ وغیرہ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

5 In other words, "Leave them to themselves. When every effort has been made to make them understand the Truth in the most rational ways, when instances have been cited from history to show them the evil results of the denial of the Hereafter, when the dreadful fates suffered by the other nations in consequence of their rejecting the Prophetic messages have been brought to their notice and yet they are disinclined to give up their stubbornness, they should be left alone to gloat over their follies. Now, they would believe only when after death they arise from their graves to see with their own eyes that the Resurrection of which they were being forewarned and exhorted to adopt the truth, had actually Taken place " 6 Another meaning can be "an unknown thing", a thing which they never could imagine, of which they never had any concept and no idea whatever that it also could occur.

سورة الْقَمَر حاشیہ نمبر :5 بالفاظ دیگر انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو ۔ جب انہیں زیادہ سے زیادہ معقول طریقہ سے سمجھایا جا چکا ہے ، اور انسانی تاریخ سے مثالیں دے کر بھی بتا دیا گیا ہے کہ انکار آخرت کے نتائج کیا ہیں اور رسولوں کی بات نہ ماننے کا کیا عبرتناک انجام دوسری قومیں دیکھ چکی ہیں ، پھر بھی یہ اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتے ، تو انہیں اسی حماقت میں پڑا رہنے دو ۔ اب یہ اسی وقت مانیں گے جب مرنے کے بعد قبروں سے نکل کر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ وہ قیامت واقعی برپا ہو گئی جسے قبل از وقت خبردار کر کے راہ راست اختیار کر لینے کا مشورہ انہیں دیا جا رہا تھا ۔ سورة الْقَمَر حاشیہ نمبر :6 دوسرا مطلب انجانی چیز بھی ہو سکتا ہے ۔ یعنی ایسی چیز جو کبھی ان کے سان گمان میں بھی نہ تھی ، جس کا کوئی نقشہ اور کوئی تصور ان کے ذہن میں نہ تھا ، جس کا کوئی اندازہ ہی وہ نہ کر سکتے تھے کہ یہ کچھ بھی کبھی پیش آ سکتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

4: یعنی آپ چونکہ اپنا تبلیغ کا فریضہ ادا کر رہے ہیں، ا سلیے ان کے طرز عمل پر زیادہ صدمہ نہ کیجئے

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦۔ ٨۔ اوپرذکر تھا کہ علم الٰہی کے موافق ازلی کمبختی جن کے سر پر سوار ہے ڈرانے والوں کی ڈر کی باتوں کا ان کے دل پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ اس لئے ان آیتوں میں فرمایا کہ ایسے لوگوں کے دل پر معجزہ اور نصیحت کا کچھ اثر نہ ہو تو ان کو راہ پر لانے کی زیادہ کوشش نہ کی جائے بلکہ ایسے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے دوسرے صور کی آواز سے جب یہ لوگ قبروں سے نکل کر ٹڈیوں کی طرح میدان محشر کی طرف شرمندہ شکل نیچی نگاہ کئے ہوئے دوڑیں گے اس وقت ان کا کیا سب ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔ صحیح بخاری ١ ؎ و مسلم میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے بعض علماء کے قول کے موافق جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دوسرے صور کے وقت بد لوگوں کی قبروں پر ایک آگ تعینات ہوجائے گی جو ان کو گھیر کر حساب و کتاب کے لئے محشر کے میدان میں لے جائے گی۔ بعض علماء نے ابوہریرہ (رض) کی اس حدیث کو علامات قیامت کے احوال کی تفصیل قرار دیا ہے۔ اس صورت میں یہ آگ وہ ہے جس کا ذکر حذیفہ بن اسید کی صحیح مسلم ٢ ؎ کی روایت میں ہے کہ قیامت سے پہلے عدن سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو ھانک کر شام کے ملک کی طرف لے جائے گی پھر وہیں وہ لوگ مریں گے اور حشر کے وقت وہیں سے اٹھیں گے۔ ترمذی ٣ ؎ میں ابوہریرہ (رض) کی دوسری حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اچھے لوگ تو حشر کے دن قبروں سے اٹھ کر اپنے اپنے عملوں کے موافق بعض تو سواریوں پر محشر کے میدان تک جائیں گے اور بعض پیدل اور برے لوگوں کو فرشتے ان بد لوگوں کے منہ کے بل گھیسٹتے ہوئے محشر کے میدان تک لے جائیں گے ترمذی نے اس اس حدیث کو حسن کہا ہے حاصل یہ ہے کہ محشر کے میدان کی ذلتوں کے سوا بد لوگوں کو قبروں سے اٹھنے کے ساتھ ہی ذلت کے وہ سامان پیش آجائیں گے جس سے وہ شرمندہ شکل ہوجائیں گے اور ان کی نگاہ نیچی ہوجائے گی اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے اور یہ حدیثیں آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہیں۔ ان سختیوں کو دیکھ کر بد لوگ یہ کہیں گے کہ آج کا دن مشکل آیا۔ (١ ؎ صحیح بخاری باب کیف الحشر ص ٩٦٥ ج ٢۔ ) (٢ ؎ صحیح مسلم فی امارات الساعۃ ص ٣٩٣ ج ٢۔ ) (٣ ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی شان الحشر ص ٧٨ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(54:6) فتول عنہم : ف سببیہ ہے اور عدم اغناء اس کا سبب۔ پس ، تول امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر، تولی (تفعل) مصدر ۔ تو پھر آ۔ تو ہٹ آ۔ تو منہ پھیرلے۔ خطاب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے۔ اگر تولیٰ کا تعدیہ بلاواسطہ ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں کسی سے دوستی رکھنا ۔ مثلاً ومن یتولہم منکم فانہ منھم (5:51) اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا۔ یا والیو حاکم ہونا۔ مثلا : فہل عسیتم ان تولیتم (47:22) پھر تم سے یہ تو قع ہے کہ اگر تم والی ہو۔ یا کسی کام کو اٹھانا ۔ مثلا : والذی تولی کبرہ منھم (24:11) اور جس نے اٹھایا اس بڑی بات کو۔ اور اگر عن کے ساتھ متعدی ہو۔ خواہ عن لفظوں میں موجود ہو یا پوشیدہ ہو تو منہ پھیرنے اور نزدیکی چھوڑنے کے معنی آتے ہیں۔ جس طرح کہ یہاں آیت ہذا میں استعمال ہوا ہے ۔ پھر منہ پھیرنے کی بھی دو صورتیں ہیں :۔ (1) وہاں سے ٹل جانا۔ (2) توجہ نہ کرنا۔ عنہم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب اہل مکہ کے لئے ہے۔ پس آپ ان سے منہ موڑ لیں۔ ان سے گفتگو نہ کریں۔ ان کی طرف توجہ نہ کریں۔ صاحب تفسیر حقانی (رح) رقمطراز ہیں :۔ اس آیت سے یہ مراد نہیں کہ جنگ کے موقعہ پر آپ ان سے جنگ نہ کریں۔ اور سزار کے موقعہ پر ان کو سزا نہ دیں َ پھر اس کو آیت السیف سے (آیٹ جہاد سے) منسوخ قرار دینا زائد بات ہے۔ فائدہ : یہاں تک پچھلا کلام تمام ہوگیا۔ اور اسی لئے قرار کے نزدیک وقف لازم ہے۔ یوم : فعل محذوف کا مفعول فیہ ہے ای اذکر یوم اذا ۔۔ یاد کرو اس دن کو کہ جب ۔۔ یدع : مضارع واحد مذکر غائب دعا (باب نصر) مصدر۔ پکارتا ہے یا پکارے گا۔ یدع مادہ دعوا (ناقص وادی) سے مشتق ہے۔ اصل میں یدعوا تھا۔ واؤ پر ضمہ دشوار تھا۔ اس کو گرا دیا گیا۔ یدع رہ گیا۔ الداع : اسم فاعل واحد مذکر ۔ بحالت رفع وجر۔ دعاء (باب نصر) مصدر پکارنے والا۔ بلانے والا۔ دعا کرنے والا۔ داع اصل میں داعو تھا۔ واؤ بعد کسرہ کے طرف میں واقع ہوکر داعی ہوا۔ اب ی پر ضمہ دشوار تھا۔ اس کو گرا دیا۔ اب ی اور تنوین دو ساکن اکھٹے ہوگئے۔ ی اجتماع ساکنین سے گرگئی۔ داع ہوگیا۔ الداع میں الف لام معرفہ کا ہے۔ یہاں الداع سے مراد حضرت اسرافیل (علیہ السلام) ہیں جو صخرہ بیت المقدس پر کھڑے ہوکر قیامت کے دن پکاریں گے۔ شیء نکر : موصوف و صفت۔ اتنی بری چیز کہ اس کی مثل معلوم نہ ہو۔ انتہائی مکروہ ہونے کی وجہ سے لوگ اسے جاننا بھی گوارہ نہ کریں۔ مراد یہاں قیامت کا دن ہے یا میدان قیامت۔ ای ساحۃ موقف القیامۃ۔ میدان محشر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی انہیں ان کے حال پر چھوڑ دے اور اس دن کا انتظار کر

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فتول ............ عسر (54: ٨) ” پس اے نبی ان سے رخ پھیر لو ، جس روز پکارنے والا ایک سخت ناگوار چیز کی طرف پکارے گا ، لوگ سہمی ہوئی نگاہوں کے ساتھ انہی قبروں سے اس طرف نکلیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں۔ پکارنے والے کی طرف دوڑے جارہے ہوں گے اور وہی منکر بھی اس وقت کہیں گے یہ دن تو بڑا کٹھن ہے۔ “ یہ اس دن کے مناظر میں سے ایک منظر ہے۔ اس کی ہولناک اور اس کی یہ شدت اس سورت کے موضوع ومضامین اور فضا کے مناسب ہے اور قیامت کے قریب آنے کی تمہید کے لئے بھی مناسب ہے پھر اس خبر کے بھی مناسب کہ چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور سورت کے اندر پائے جانے والے ترنم سے بھی ہم آہنگ ہے۔ یہ منظر بہت تیز چلتا ہے اور فضا کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ صاف نظر آنے والا اور حرکت سے بھر پو رجس کی حرکات اور انداز بھی متوازن ہیں۔ لوگ گروہ در گروہ قبروں سے نکل رہے ہیں یوں جس طرح ٹڈی دل بکھر جاتا ہے۔ یہ منظر ٹڈی دل کی نسبت سے اور بھی واضح ہوجاتا ہے۔ یہ گروہ ڈر کے مارے سہمے ہوئے ہے۔ ذلت اور خوف کے مارے نظریں نیچی نیچی ہیں۔ پکارنے والے کی طرف دوڑ رہے ہیں کہ کیا آفت آگئی ہے۔ معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے۔ سخت بےاطمینانی ہے ، انتہائی برے انجام سے دوچار ہونے کے لئے جانے والے بس یہی کہہ سکے۔ ھذا ........ عسر (54: ٨) ” یہ تو بڑا کٹھن دن ہے “ اور یہ اس شخص کا قول ہے نہایت کربناک اور تھکے ہوئے شخص کی بات ہے جو گویا سولی پر چڑھنے کے لئے بوجھل قدموں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ ہے وہ دن جو آیا ہی چاہتا ہے لیکن یہ لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ڈراوے سے منہ موڑ رہے ہیں۔ حق کی تکذیب کرتے ہیں۔ اے پیغمبر آپ بھی ان سے منہ موڑ لیں اور چھوڑیں انہیں ان کے انجام کے لئے جو نہایت ہی خوفناک ہے۔ سورت کا آغاز اس قدر خوفناک انداز اور زور دار لہجے میں کرنے کے بعد اور قیامت کا ایک خوفناک منظر پیش کرنے کے بعد اب انسانی تاریخ کے کچھ مناظر دیئے جاتے ہیں۔ جن لوگوں پر اس طرح کی قیامت ٹوٹی جو اوپر کے منظر میں دکھائی گئی۔ یہ اقوام بھی ایسا ہی رویہ اختیار کئے ہوئے تھیں جس طرح اہل مکہ نے اختیار کررکھا ہے۔ آغاز قوم نوح (علیہ السلام) سے

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قیامت کے دن کی پریشانی، قبروں سے ٹڈی دل کی طرح نکل کر میدان حشر کی طرف جلدی جلدی روانہ ہونا ان آیات میں اول تو رسول اللہ تعالیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بطور تسلی حکم فرمایا کہ آپ ان سے اعراض کریں یعنی ان کے انکار اور تکذیب سے دلگیر نہ ہوں (حق قبول نہ کرنے کا انجام خود ان کے سامنے آجائے گا) پھر فرمایا کہ جس دن بلانے والا بلائے گا یعنی فرشتہ صور پھونکے گا اس دن قیامت کا ظہور سامنے آجائے گا جو آنکھوں دیکھا ہوگا اللہ تعالیٰ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خبر دینے سے اس وقت نہیں مانتے لیکن جب واقع ہوگا تو ماننا ہی پڑے گا فرشتے کا صور پھونکنا قبروں سے نکلنے کے لیے ہوگا۔ (یہ دوسری مرتبہ صور پھونکے جانے سے متعلق ہے) جب صور کی آواز سنیں گے تو زندہ ہو کر قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور بڑی تیزی کے ساتھ میدان حشر کی طرف روانہ ہوجائیں گے اور چونکہ کروڑوں افراد ہوں گے اس لیے زمین پر اس طرح پھیلے ہوئے ہوں گے جیسے ٹڈیوں کا دل نکلتا ہے اور جہاں تک نظر ڈالو پھیلا ہوا نظر آتا ہے، نظریں جھکی ہوئی ہوں گی۔ کافر لوگ کہیں گے کہ یہ تو بڑا سخت دن ہے، سورة معارج میں فرمایا ﴿يَوْمَ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ يُّوْفِضُوْنَۙ٠٠٤٣ خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ ذٰلِكَ الْيَوْمُ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ (رح) ٠٠٤٤﴾ (جس دن قبروں سے جلدی جلدی نکل کر دوڑیں گے، گویا کہ وہ کسی پرستش گاہ کی طرف دوڑے جا رہے ہیں، ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی، یہ ہے وہ دن جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

6:۔ ” یوم یدع “ یہ تخویف اخروی ہے اور ظرف یخرجون متاخر کے ساتھ متعلق ہے۔ اور ” خشعا ابصارہم “ جملہ یخرجون کی ضمیر سے حال ہے۔ نکر، ایک دہشتناک چیز جس سے پہلے کبھی واسطہ نہ پڑا ہو قیامت کا ہول اور خوف وہراس مراد ہے (مدارک) اور داعی سے مراد حضرت اسرافیل (علیہ السلام) ہیں (روح) ۔ جس دن حضرت اسرائیل (علیہ السلام) صورت پھونکیں گے اور سب کو میدان حشر میں قیامت کے ہولناک اور دہشت انگیز منظر کی طرف بلائیں گے تو سب لوگ قبروں سے نکل آئیں گے، دہشت و خوف سے ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی اور وہ ٹڈی دل کی طرح زمین پر پھیلے ہوں گے اور بلانے والے کی طرف دوڑ رہے ہوں گے کفار و مشرکین اس وقت پکار اٹھیں گے کہ آج کا دن نہایت ہی دشوار اور کٹھن ہے کیونکہ انہیں اپنا انجام نظر آجائے گا۔ قیامت کا دن بلاشبہ کفار کے لیے نہایت شدید ہوگا لیکن مومنین اس دن کی شدت سے محفوظ ہوں گے اگرچہ منظر قیامت کی ہولناکی سے وقتی گھبراہٹ ان پر بھی طاری ہوجائیگی۔ وفیہ اشارۃ الی ان ذلک الیوم یوم شدید علی الکافرین لا علی المومنین (خازن ج 6 ص 274) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(6) سوائے پیغمبر آپ ان کو منہ نہ لگائیے اور ان سے بےرخی کا برتائو کیجئے جس دن ایک بلانے والا فرشتہ ایک ناخوش اور ان دیکھی چیز کی طرف ان کو بلائے گا۔