Surat ul Hadeed

The Iron

Surah: 57

Verses: 29

Ruku: 4

Listen to Surah Recitation
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

ابو داؤد وغیرہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے ان سورتوں کو پڑھتے تھے جن کا شروع سبح یا یسبح ہے اور فرماتے تھے کہ ان میں ایک آیت ہے جو ایک ہزار آیتوں سے افضل ہے ۔ جس آیت کی فضیلت اس حدیث میں بیان ہوئی ہے غالباً وہ آیت ( هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ Ǽ۝ ) 57- الحديد:3 ) ، ہے ، واللہ اعلم ۔ اس کا تفصیلی بیان عنقریب آ رہا ہے ۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة الْحَدِیْد نام : آیت 25 کے فقرے وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْد سے ماخوذ ہے ۔ زمانۂ نزول : یہ بالاتفاق مدنی سورت ہے اور اس کے مضامین پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ غالباً یہ جنگ احد اور صلح حدیبیہ کے درمیان کسی زمانہ میں نازل ہوئی ہے ۔ وہی زمانہ تھا جب مدینہ کی مختصر سی اسلامی ریاست کو ہر طرف سے کفار نے اپنے نرغے میں لے رکھا تھا اور سخت بے سرو سامانی کی حالت میں اہل ایمان کی مٹھی بھر جماعت پورے عرب کی طاقت کا مقابلہ کر رہی تھی ۔ اس حالت میں اسلام کو اپنے پردوں سے صرف جانی قربانی ہی درکار نہ تھی بلکہ مالی قربانی بھی درکار تھی ، اور اس سورۃ میں اسی قربانی کے لیے پر زور اپیل کی گئی ہے ۔ اس قیاس کو آیت 10 مزید تقویت پہنچاتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی جماعت کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ فتح کے بعد جو لوگ اپنے مال خرچ کریں گے اور خدا کی راہ میں جنگ کریں گے وہ ان لوگوں کے برابر کبھی نہیں ہو سکتے جو فتح سے پہلے جان و مال کی قربانیاں دیں ۔ اور اسی کی تائید حضرت اَنَس کی وہ روایت کرتی ہے جسے ابن مردویہ نے نقل کیا ہے اَلَمْ یَأنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُھُمْ لِذِکْرِ اللہِ کے متعلق فرماتے ہیں کہ نزول قرآن کے آغاز سے 17 برس بعد اہل ایمان کو جھنجھوڑنے والی یہ آیت نازل ہوئی ۔ اس حساب سے اس کا زمانہ نزول 4ھ اور 5 ھ کے درمیان قرار پاتا ہے ۔ موضوع اور مضمون : اس کا موضوع انفاق فی سبیل اللہ کی تلقین ہے ۔ اسلام کی تاریخ کے اس نازک ترین دور میں ، جبکہ عرب کی جاہلیت سے اسلام کا فیصلہ کن معرکہ برپا تھا ، یہ سورۃ اس غرض کے لیے نازل فرمائی گئی تھی کہ مسلمانوں کو خاص طور پر مالی قربانیوں کے لیے آمادہ کیا جائے اور یہ بات ان کے ذہن نشین کرائی جائے کہ ایمان محض زبانی اقرار اور کچھ ظاہری اعمال کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ اور اس کے دین کے لیے مخلص ہونا اس کی اصل روح اور حقیقت ہے ۔ جو شخص اس روح سے خالی ہو اور خدا اور اس کے دین کے مقابلہ میں اپنی جان و مال اور مفاد کو عزیز تر رکھے اس کا اقرار ایمان کھوکھلا ہے جس کی کوئی قدر و قیمت خدا کے ہاں نہیں ہے ۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کی گئی ہیں تاکہ سامعین کو اچھی طرح یہ احساس ہو جائے کہ کس عظیم ہستی کی طرف سے ان کو مخاطب کیا جا رہا ہے ۔ اس کے بعد حسب ذیل مضامین سلسلہ وار ارشاد ہوئے ہیں : ایمان کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ آدمی راہ خدا میں مال صرف کرنے سے پہلو تہی نہ کرے ۔ ایسا کرنا صرف ایمان ہی کے منافی نہیں ہے بلکہ حقیقت کے اعتبار سے بھی غلط ہے ۔ کیونکہ یہ مال دراصل خدا ہی کا مال ہے جس پر تم کو خلیفہ کی حیثیت سے تصرف کے اختیارات دیے گئے ہیں ۔ کل یہی مال دوسروں کے پاس تھا ، آج تمہارے پاس ہے ، اور کل کسی اور کے پاس چلا جائے گا ۔ آخر کار اسے خدا ہی کے پاس رہ جانا ہے جو کائنات کی ہر چیز کا وارث ہے ۔ تمہارے کام اس مال کا کوئی حصہ اگر آسکتا ہے تو صرف وہ جسے تم اپنے زمانہ تصرف میں خدا کے کام پر لگا دو ۔ خدا کی راہ میں جان و مال کی قربانی دینا اگرچہ ہر حال میں قابل قدر ہے ، مگر ان قربانیوں کی قدر و قیمت مواقع کی نزاکت کے لحاظ سے متعین ہوتی ہے ۔ ایک موقع وہ ہوتا ہے جب کفر کی طاقت بڑی زبردست ہو اور ہر وقت یہ خطرہ ہو کہ کہیں اسلام اس کے مقابلہ میں مغلوب نہ ہو جائے ۔ دوسرا موقع وہ ہوتا ہے جب کفر و اسلام کی کشمکش میں اسلام کی طاقت کا پلڑا بھاری ہو جائے اور ایمان کو دشمنان حق کے مقابلہ میں فتح نصیب ہو رہی ہو ۔ یہ دونوں حالتیں اپنی اہمیت کے لحاظ سے یکساں نہیں ہیں اس لیے جو قربانیاں ان مختلف حالتوں میں دی جائیں وہ بھی اپنی قیمت میں برابر نہیں ہیں ۔ جو لوگ اسلام کے ضعف کی حالت میں اس کو سربلند کرنے کے لیے جانیں لڑائیں اور مال صرف کریں ان کے درجہ کو وہ لوگ نہیں پہنچ سکتے جو اسلام کے غلبے کی حالت میں اس کو مزید فروغ دینے کے لیے جان و مال قربان کریں ۔ راہ حق میں جو مال بھی صرف کیا جائے وہ اللہ کے ذمے قرض ہے ، اور اللہ اسے نہ صرف یہ کہ کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس دے گا بلکہ اپنی طرف سے مزید اجر بھی عنایت فرمائے گا ۔ آخرت میں نور انہی اہل ایمان کو نصیب ہو گا جنہوں نے راہ خدا میں اپنا مال خرچ کیا ہو ۔ رہے وہ منافق جو دنیا میں اپنے ہی مفاد کو دیکھتے رہے اور جنہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں رہی کہ حق غالب ہوتا ہے یا باطل ، وہ خواہ دنیا کی اس زندگی میں مومنوں کے ساتھ ملے جلے رہے ہوں ، مگر آخرت میں ان کو مومنوں سے الگ کر دیا جائے گا ، نور سے وہ محروم ہوں گے اور ان کا حشر کافروں کے ساتھ ہو گا ۔ مسلمانوں کو ان اہل کتاب کی طرح نہ ہو جانا چاہیے جن کی عمریں دنیا پرستی میں بیت گئی ہیں اور جن کے دل زمانہ دراز کی غفلتوں سے پتھر ہو گئے ہیں ۔ وہ مومن ہی کیا جس کا دل خدا کے ذکر سے نہ پگھلے اور اس کے نازل کردہ حق کے آگے نہ جھکے ۔ اللہ کے نزدیک صدیق اور شہید صرف وہ اہل ایمان ہیں جو اپنا مال کسی جذبہ ریا کے بغیر صدق دل سے اس کی راہ میں صرف کرتے ہیں ۔ دنیا کی زندگی محض چند روز کی بہار اور ایک متاع غرور ہے ۔ یہاں کا کھیل کود ، یہاں کی دلچسپیاں ، یہاں کی آرائش و زیبائش ، یہاں کی بڑائیوں پر فخر ، اور یہاں کا دھن و دولت ، جس میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوششیں کرتے ہیں ، سب کچھ ناپائدار ہے ۔ اس کی مثال اس کھیتی کی سی ہے جو پہلے سر سبز ہوتی ہے ، پھر زرد پڑ جاتی ہے اور آخر کار بھس بن کر رہ جاتی ہے ۔ پائیدار زندگی دراصل آخرت کی زندگی ہے جہاں بڑے نتائج نکلنے والے ہیں ۔ تمہیں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرنی ہے تو یہ کوشش جنت کی طرف دوڑنے میں صرف کرو ۔ دنیا میں راحت اور مصیبت جو بھی آتی ہے اللہ کے پہلے سے لکھے ہوئے فیصلے کے مطابق آتی ہے ۔ مومن کا کردار یہ ہونا چاہیے کہ مصیبت آئے تو ہمت نہ ہار بیٹھے ، اور راحت آئے تو اترا نہ جائے ۔ یہ تو ایک منافق اور کافر کا کردار ہے کہ اللہ اس کو نعمت بخشے تو وہ اپنی جگہ پھول جائے ، فخر جتانے لگے ، اور اسی نعمت دینے والے خدا کے کام میں خرچ کرتے ہوئے خود بھی تنگ دلی دکھائے اور دوسروں کو بھی بخل کرنے کا مشورہ دے ۔ اللہ نے اپنے رسول کھلی کھلی نشانیوں اور کتاب اور میزان عدل کے ساتھ بھیجے تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں ، اور اس کے ساتھ لوہا بھی نازل کیا تاکہ حق قائم کرنے اور باطل کا سر نیچا کرنے کے لیے طاقت استعمال کی جائے ۔ اس طرح اللہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ انسانوں میں سے کون لوگ ایسے نکلتے ہیں جو اس کے دین کی حمایت و نصرت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور اس کی خاطر جان لڑا دیں ۔ یہ مواقع اللہ نے تمہاری اپنی ہی ترقی و سرفرازی کے لیے پیدا کیے ہیں ، ورنہ اللہ اپنے کام کے لیے کسی کا محتاج نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے انبیاء آتے رہے جن کی دعوت سے کچھ لوگ راہ راست پر آئے اور اکثر فاسق بنے رہے ۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام آئے جن کی تعلیم سے لوگوں میں بہت سی اخلاقی خوبیاں پیدا ہوئیں ، مگر ان کی امت نے رہبانیت کی بدعت اختیار کر لی ۔ اب اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ہے ۔ ان پر جو لوگ ایمان لائیں گے اور خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کریں گے ، اللہ ان کو اپنی رحمت کا دہرا حصہ دے گا اور انہیں وہ نور بخشے گا جس سے دنیا کی زندگی میں وہ ہر ہر قدم پر ٹیڑھے راستوں کے درمیان سیدھی راہ صاف دیکھ کر چل سکیں گے ۔ اہل کتاب چاہے اپنے آپ کو اللہ کے فضل کا ٹھیکہ دار سمجھتے رہیں ، مگر اللہ کا فضل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے ، اسے اختیار ہے جسے چاہے اپنے فضل سے نواز دے ۔ یہ ہے ان مضامین کا خلاصہ جو اس سورت میں ایک ترتیب کے ساتھ مسلسل بیان ہوئے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

تعارف سورۃ الحدید اس سورت کی آیت نمبر : ١٠ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی تھی، اس موقع پر چونکہ مسلمانوں کے خلاف کافروں کی دشمنی کی کاروائیاں بڑی حد تک دھیمی پڑگئی تھیں اور جزیرۂ عرب پر مسلمانوں کا تسلط بڑھ رہا تھا، اس لئے اس سورت میں مسلمانوں کو تلقین کی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان صفات سے آراستہ کرنے پر زیادہ توجہ دیں جو ان کے دین کو مطلوب ہیں، اور اللہ تعالیٰ سے اپنی کوتاہیوں پر مغفرت مانگیں نیز ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنا مال خرچ کریں اور آخرت کی بہبود کو دنیا کے مال ودولت پر ترجیح دیں جس کے نتیجے میں انہیں آخرت میں ایک ایسا نور عطا ہوگا جو انہیں جنت تک لے جائے گا، جبکہ منافق لوگ اس نور سے محروم کردئیے جائیں گے، سورت کے آخر میں عیسائیوں کو یاد دلایا گیا ہے کہ جو رہبانیت (ترک دنیا) انہوں نے اختیار کی تھی، وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مطابقت نہیں رکھتی تھی، اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ دنیا کو بالکل چھوڑ کر بیٹھ جاؤ؛ بلکہ یہ تاکید فرمائی تھی کہ اسی دنیا میں رہ کر اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرو اور تمام حقوق اسی کی ہدایت کے مطابق ادا کرو، نیز عیسائیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہیں تو اس کے لئے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانا ضروری ہے، اس سورت کی آیت نمبر : ٢٥ میں لوہے کا ذکر آیا ہے، لوہے کو عربی میں حدید کہتے ہیں، اس لئے سورت کا نام سورۃ الحدید ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تعارف سورة الحدید۔ سورة نمبر 57 کل رکوع 4 آیات 29 الفاظ و کلمات 586 حروف 2599 مقام نزول مدینہ منورہ فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد جو لوگ اپنے مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کریں گے اور جہاد کریں گے وہ ان لوگوں کے برابر ہرگز نہیں ہوسکتے جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے جان و مال کی قربانیاں دی تھیں۔ ویسے اللہ ہر ایک کے خلوص اور قربانی کو قبول کرتا ہے۔ اللہ کے راستے میں دین اسلام کی ترقی کے لئے جو مال خرچ کیا جائے گا وہ گویا اللہ کے ذمے ایک قرض ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس کو بہت بڑھا چڑھا کر ادا فرمائیں گے اور اس کے علاوہ وہ بہترین اجر کے مستحق بھی ہوں گے۔ انسان پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ تقدیر الٰہی ہے۔ اگر دنیا میں کچھ حاصل نہ ہو تو اس پر رنج اور افسوس نہ کرنا چاہیے اور اگر بہت کچھ مل جائے تو اس پر اترانا نہیں چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو وہ لوگ سخت ناپسند ہیں جو شیخ باز اور فخر و غرور میں مبتلا ہوتے ہیں۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اس حکمت والے اللہ کی پاکیزگی بیان کرتی ہے جس کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے اور وہ ہر طرح کی قدرت و طاقت کا مالک ہے۔ وہی اول وہی آخر وہی ظاہر اور وہی باطن ہے۔ اس نے جس چیز کو بیان کیا ہے وہ شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ اسی اللہ نے زمین وآسمان کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور پھر وہ اپنی شان کے مطابق عرش پر جلوہ گر ہوا۔ کوئی چیز جو زمین میں داخل ہوتی ہے یا سے باہر نکلتی ہے۔ جو چیز آسمان سے اترتی یا آسمان کی طرف چڑھتی ہے اسے ہر چیز کا علم ہے۔ فرمایا کہ تم کہیں بھی ہو وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔ تم اس سے کسی طرح بھی چھپ نہیں سکتے۔ وہ تمہارے سارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ وہی زمین وآسمان کی سلطنت کا مالک ہے۔ وہی اللہ ہے جو رات کو دن میں اور ان کو رات میں داخل کرتا ہے۔ وہ سینوں اور دلوں میں چھپے ہوئے ہر راز سے واقف ہے۔ وہ اللہ جس کی یہ شان ہے وہی اس لائق ہے کہ اس پر ایمان لا کر اس کی عبادت و بندگی کی جائے اور وہ جیسا حکم دے اس پر عمل کرنا چاہیے۔ فرمایا کہ اے ایمان والو ! تمہارے ہاتھ میں جو کچھ مال و دولت ہے درحقیقت اس کا مالک اللہ ہی ہے وہی اللہ تمہیں اپنے راستے میں خرچ کنے کا حکم دیتا ہے۔ تم کسی کنجوسی اور بخل کو قریب نہ آنے دو ۔ اللہ کے راستے میں خرچ کرنا گویا اللہ کو قرض حسنہ دینا ہے جس پر بےانتہا اجرو ثواب ہے اور اللہ اس مال کو دوگنا اور چوگنا کرکے واپس کرے گا۔ فرمایا کہ جو مومن مرد اور مومن عورتیں اللہ کے راستے میں خرچی کریں گے ان کو قیامت کے دن ایک ایسا نور عطا کیا جائے گا جو ان کے آگے اور ان کے داہنی جانب دوڑتا ہوگا جس سے پل صراط پر چلنا آسان ہوگا اور ان کو ایسی جنتوں میں داخل کیا جائے گا جو ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ لیکن وہ منافق جو پوری طرح ایمان نہ لائے تھے اور نہ انہوں نے نے اللہ کے راستے میں خرچ کیا تھا وہ اس نور سے محروم رہیں گے اور اللہ کی رحمت سے دور ہوں گے۔ جب مومنین پل صراط پر سے نور اور روشنی میں چلنے کی کوشش کریں گے اور اہل ایمان کی رفتار تیز ہوگی اس وقت وہ منافق کہیں گے کہ ذرا آہستہ چلو تا کہ ہم بھی تمہارے ساتھ چل سکیں۔ ایسی بھی کیا بےمروتی ہے کیا دنیا میں ہم ایک ساتھ نہ رہتے تھے۔ اس پر مومن جواب دیں گے کہ آج تم ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے کیونکہ دنیا میں تم نے اپنے ہی آپ کو گمراہی میں ڈال رکھا تھا اور تم اپنے مفادات میں اس طرح الجھے رہے کہ تم ہدایت نہ حاصل کرسکے اور تمہیں اسی حالت میں موت آگئی۔ اب تمہارا ٹھکانا جہنم ہی ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو بھی بیان فرما دیا کہ اہل ایمان کا کام یہی ہے کہ وہ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے رہیں جس پر انہیں اجر عظیم عطا کیا جائے گا مگر اس سب کے باوجود ان صحابہ کرام (رض) کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے۔ جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے اپنے جان و مال کی قربانیاں دی تھی ان کا اللہ کے ہاں اعلیٰ ترین مقام ہے۔ اللہ نے سوال کیا ہے کہ کیا ابھی وہ قت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد کی طرف جھک جائیں ؟ اور وہ ان اہل کتاب یہود اور نصاریٰ کی طرح نہ ہوجائیں جنہوں نے اپنی بدعملیوں کی وجہ سے اپنے آپ کو غفلت میں اور دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور جب بھی ان کو کوئی نصیحت کی گئی تو انہوں نے اس کو ماننے سے انکار کردیا اور مسلسل اپنی نافرمانیوں اور گناہوں میں پھنسے رہے۔ فرمایا کہ جو لوگ اللہ پر اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لا کر ان کی تصدیق کریں گے اور ان کی اطاعت کرکے گناہوں سے بچتے رہیں گے ایسے لوگ اپنے پروردگار کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ ان کے لئے زبردست اجر اور نور ہوگا اور کافروں کے لئے جہنم کی آگ ہوگی۔ فرمایا کہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کھیل تماشہ، ایک دوسرے پر فخر و غرور، مال اور اولاد میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی جدوجہد کے سوا اور کیا ہے۔ آخرت کی زندگی ہمیشہ کی ہے اور دنیا کی زندگی انتہائی ناپائیدار ہے۔ دنیا کی زندگی اس کھیتی کی طرح ہے جو خوب پھلتی پھولتی اور سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے۔ کسان اس کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ پھر وہی کھیتی زرد ہو کر چورہ چورہ ہوجاتی ہے۔ ایسے ہی دنیا میں ایک آدمی خوب کماتا ہے، اپنے چاروں طرف راحتوں اور آرام کے سامان جمع کرتا رہتا ہے، دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہے پھر اس پر بڑھاپا آجاتا ہے اور ان تما چیزوں کی محبت کے باوجود ان میں اس کے لئے کوئی دلکشی نہیں ہوتی۔ جب کہ آخرت کی زندگی ہمیشہ کے لئے ہے اللہ سب لوگوں کو مغفرت اور اس جنت کی طرف بلاتا ہے جو ایمان والوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ اہل ایمان کو بتایا گیا کہ آدمی پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اس کی تقدیر ہے۔ لہٰذا اگر دنیا میں کچھ حاصل نہ ہو تو اس پر رنج اور افسوس نہ کرنا چاہیے اور اگر بہت کچھ مل جائے تو اس پر اترایا نہ جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو شیخی باز اور فخر و غرور کرنے والے سخت ناپسند ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام پیغمبروں کو انسانوں کی اصلاح اور عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے بھیجا ہے۔ فرمایا کہ اس اللہ نے لوہا نازل کیا اس میں بڑی ہیبت ہے۔ اس کے ذریعہ سامان جنگ تیار کیا جاتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ جہاد کیا جائے جو انسانوں کے لئے بڑی آزمائش ہے تاکہ اللہ جان لے کہ کون اس کے دین اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب کا سلسلہ قائم کیا۔ ان کے بعد اللہ کے پیغمبر آتے رہے یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کو پیغمبر بنا کر ان کو انجیل جیسی کتاب عطا فرمائی لیکن ان کے ماننے والوں نے اس کتاب پر عمل کرنے کے بجائے رہبانیت یعنی ترک دنیا کو اختیار کرلیا حالانکہ اللہ نے ان کو اس کی کوئی تعلیم نہ دی تھی۔ فرمایا کہ جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم پر ایمان لائے تھے ان کو حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانا چاہیے اور ان کی تصدیق کرنی چاہے اس طرح اللہ تعالیٰ ان کو دوگنا اجر وثواب عطا فرمائے گا یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں پر ایمان لانے کا اجردگنا کردیا جائے گا اور اللہ ان کو ایسا نور فرمائے گا جس کے ذریعہ پل صراط پر چلنا آسان ہوجائے گا۔ فرمایا کہ اللہ کے گناہ معاف فرما دے گا۔ لیکن جو لوگ ان پر ایمان نہ لائیں گے وہ اللہ کی ہر رحمت سے محروم رہیں گے اور وہ قیامت کے دن خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

سورة الحدید کا تعارف یہ سورت مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اس کے چار رکوع اور انتیس (٢٩) آیات ہیں۔ یہ سورت مسبّحات میں پہلی سورت ہے جن سورتوں کی ابتداء سَبَّحَ یُسَبِّحُ کے الفاظ سے ہوتی ہے مفسرین ان سورتوں کو مسبّحات کا نام دیتے ہیں۔ اس کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ زمینوں و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے کیونکہ وہ ہر چیز پر غالب ہے اور اس کے ہر کام اور فرمان میں حکمت کارفرما ہوتی ہے اور وہ غلبہ رکھنے والا ہے اس کی زمین و آسمان میں بادشاہی ہے اور وہی موت وحیات کا مالک ہے جب کوئی چیز موجود نہیں تھی وہ اس وقت بھی موجود تھا جب کوئی نہیں ہوگا تو اس وقت وہ بھی موجود ہوگا وہ اپنی قدرتوں سے ظاہر ہے اور ذات کے حوالے سے پوشیدہ ہے اس نے زمینوں و آسمانوں کو سات دنوں میں پیدا کیا اور پھر اپنے عرش پر استوار ہوا وہ سب کچھ جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو نکلتا ہے، جو آسمان کی طرف چڑھتا ہے اور جو اس سے اترتا ہے۔ وہ اپنے اقتدار و اختیار اور علم کے لحاظ سے ہر وقت انسان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کی زمین و آسمان میں بادشاہی ہے اور ہر کسی نے اسی کے حضور حاضر ہونا ہے۔ جب ہر چیز اسی کی ملکیت ہے تو اس کے دئیے ہوئے مال سے اس کی راہ میں خرچ کر، جو خرچ کرو گے اس کا بڑا اجر پاؤ گے۔ جو لوگ ” اللہ “ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ بالاخر ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ اس کا وعدہ ہے کہ جو کوئی اس کی راہ میں خرچ کرے گا وہ اسے قرض دے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے دوگنا تگنا کر کے واپس لوٹائے گا۔ ایسے مومنوں کو قیامت کے دن ایسا نور عطاء کیا جائے گا جو ان کے سامنے اور دائیں جانب پھیل رہا ہوگا ملائکہ ان کا استقبال کریں گے اور انہیں جنت کی مبارک دیں گے، جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ جن میں جانے والوں کے لیے یہ بڑی کامیابی ہوگی۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ حقیقی ایمان نہیں رکھتے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد اور خرچ نہیں کرتے ان کے لیے اندھیرے ہوں گے اور وہ جنتیوں سے بار بار درخواست کریں گے کہ ٹھہر جاؤ ہم بھی تمہارے نور کی روشنی میں جنت میں داخل ہوجائیں جنتی انہیں کہیں گے کہ تم پیچھے پلٹ کر جاؤ اور وہاں سے اپنا نور تلاش کرو وہ پلٹ کر دیکھیں گے تو ان کے اور جنتی کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی۔ جس کے آگے جنت ہوگی اور اس کے پیچھے جہنم ہوگی اس طرح انہیں جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ اس نے لوہا اور میزان نازل کیا ہے ہر حال میں میزان کا خیال رکھو اور یاد رکھو کے لوہے میں بڑی طاقت ہے اور اس میں لوگوں کے لیے بہت سے فوائد رکھ دئیے گئے ہیں۔ لوہے کے ذریعے طاقت حاصل کرو اور اس طاقت کو اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے استعمال کرو۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورة الحدید ایک نظر میں یہ پوری سورة ایک اسلامی جماعت کو دعوت ہے کہ وہ اپنے اندر حقیقت ایمان پیدا کرے۔ وہ حقیقت جس کے ساتھ وہ جماعت مسلم کے نفوس کو دعوت دین کے لئے خالص کردے۔ اس طرح کہ وہ اس دعوت پر سب کچھ قربان کردیں اور اس کی راہ میں کسی قربانی سے دریغ نہ کریں۔ نہ جانی قربانی سے اور نہ مالی قربانی سے۔ تحریک کے کارکن اپنے دلوں کو تمام خلجانات اور تمام وسوسوں سے پاک کردیں۔ یہ وہ مقام ہے جس پر پہنچ کر انسانی نفوس زمین پر رہتے ہوئے بھی ربانی بن جاتے ہیں۔ ان کے پیمانے اللہ کے پیمانے ہوجاتے ہیں اور ان کی وہ قدریں جن کو وہ اہم سمجھتے ہیں اور جن کے حصول کے لئے وہ ایک دوسرے سے آگے ہوتے ہیں وہ قدریں قرار پائیں جو اللہ کے ترازو میں وزن دار ہوں۔ پھر یہی وہ حقیقت ہے جو ذات باری کا شعور عطا کرتی ہے چناچہ ذات باری کی یاد ہی سے دل خضوع وخشوع اختیار کرلیتے ہیں اور وہ ہر اس رکاوٹ اور ہر اس جاذب نظر چیز کو دیکھ کر کانپ جاتے ہیں جو انہیں فرارالی اللہ سے روکنے والی ہو۔ اسی حقیقت کی اساس پر یہ سورة جماعت مسلمہ کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں مالی قربانی دے یعنی اللہ کی راہ میں جانی اور مالی قربانی دو ۔ امنوا باللہ…………خبیر (7:57 تا 10) ” ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو ان چیزوں میں سے جن میں اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے۔ جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور مال خرچ کریں گے ان کے لئے بڑا اجر ہے۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور وہ تم سے عہد لے چکا ہے۔ اگر تم واقعی ماننے والے ہو۔ وہ اللہ ہی تو ہے جو اپنے بندے پر صاف صاف آیتیں نازل کررہا ہے تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر نہایت شفیق ومہربان ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ حالانکہ زمین و آسمان کی میراث اللہ ہی کے لئے ہے۔ تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں گے وہ کبھی ان لوگوں کے برابر نہیں ہوسکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا۔ ان کا درجہ بعد میں خرچ اور جہاد کرنیوالوں سے بڑھ کر ہے اگرچہ اللہ نے دونوں ہی سے اچھے وعدے فرمائے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے “۔ اس عظیم حقیقت کی اساس پر ایک اسلامی جماعت کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ خضوع اور خشوع کے ساتھ اللہ کو یاد کرے اور اس سچائی کا پاس رکھے اور اس کی اطاعت کرے اور انفاق فی سبیل اللہ بھی اس خدا خوفی کے نتیجے میں ہو اور اس کا داعیہ ایمانی حقیقت کے نتیجے میں پیدا ہو جو اس راہ میں ایمان کی پہلی حقیقت ہے۔ سب اعمال اسی سے پھوٹیں۔ الم یان……………فسقون (16:57) ” کیا ایمان لانے والوں کے لئے ابھی وہ قت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں اور اس کے نازل کردہ حق کے آگے جھکیں اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی پھر ایک لمبی مدت سے ان پر گزرگئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور آج ان میں سے اکثر فاسق بنے ہوئے ہیں “۔ سچائی کے ترازو میں دنیا اور آخرت دونوں کی قدر اور وزن دکھا دیا جاتا ہے اور جماعت اسلامی کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس پلڑے میں اپنا وزن ڈالے جو اقبل ترجیح ہو اور ان قدروں کو اختیار کرے جو باقی رہنے والی ہوں۔ اعلموا……………العظیم (17:57 تا 21) ” خوب جان لو کہ اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ ہم نے نشانیاں تم کو صاف دکھادی ہیں۔ شاید کہ تم عقل سے کام لو۔ مردوں اور عورتوں میں سے جو لوگ صدقات دینے والے ہیں اور جنہوں نے اللہ کو قرض حسن دیا ہے ، ان کو یقینا کئی گنا بڑھا کر دیاجائے گا اور ان کے لئے بہترین اجر ہے اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ ان کے لئے ان کا اجر اور ان کا نور ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے وہ دوزخی ہیں۔ خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ایک کھیل اور دل لگی ہے اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی۔ اس سے پیداوا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہوگئے۔ پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی پھر ہو بھس بن کر رہ جاتی ہے۔ اس کے برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں شخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے۔ دنیا کی زندگی ایک دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں۔ دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس کی جنت کی طرف اس کی وسعت آسمان اور زمنی جیسی ہے جو مہیا کی گئی ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے “۔ اس سورت کے مضامین سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عظیم حقیقت کی طرف عمومی دعوت کے علاوہ یہ سورة اس وقت کے ایک عملی مسئلے کو بھی حل کرنے کی کوشش کررہی تھی اور یہ عملی مسئلہ اس وقت 4 ھ سے لے کر فتح مکہ کے بعد کے زمانے تک مدینہ کی اسلامی سوسائٹی میں موجود تھا۔ اس دور میں اسلامی سوسائٹی میں ایک طرف تو سابق مہاجرین وانصار تھے جنہوں نے سچائی کی راہ میں جانی ومالی انفاق کی ایسی مثال پیش کی جس کو پوری انسانی تاریخ دہرانہ سکی۔ انہوں نے اپنے نفوس کے اندر ایمان کی حقیقت پیدا کی۔ انہوں نے جان ومال کی قربانی کی لازوال مثالیں پیش کیں۔ نہایت خلوص کے ساتھ اور کامل للہیت کے ساتھ۔ انہوں نے راستے کی تمام رکاوٹوں کو اور تمام پرکشش مواقع کو اپنے راہ سے ہٹایا اور اللہ تک پہنچ گئے۔ اس ممتاز اور یگانہ روز گروہ کے ساتھ ساتھ اسلامی جماعت میں ایسے لوگ بھی تھے جو ایمان کے ان مدارج تک پہنچے ہی نہ تھے۔ جن پر یہ گروہ پہنچ چکا تھا۔ خصوصاً فتح مکہ اور اسلامی غلبہ کے بعد لوگ اسلام میں فوج درفوج داخل ہوگئے تھے اور ان میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے ایمان کی حقیقت کا پوری طرح ادراک نہ کیا اور نہ انہوں نے طویل ایمانی زندگی گزاری تھی اور نہ ہی ایمان کے لئے انہوں نے قربانیاں دی تھیں جس طرح یہ مذکورہ بالا خالص اور مخلص لوگ تھے۔ یہ نئے مسلمان ایسے تھے جن کے لئے انفاق فی سبیل اللہ ایک مشکل کام تھا اور اسلامی نظریہ کی طرف سے جان ومال کا انفاق کے جو تقاضے تھے ان کے لئے ان کا پورا کرنا مشکل تھا اور دنیاوی زندگی اور مال ومتاع ان کی آنکھوں کا چکا چوند کررہا تھا۔ اس لئے وہ دنیا کی زندگی کے دھوکے اور جاذبیت سے باہر نہ نکل سکتے تھے۔ اس سورت میں زیادہ تر خطاب ایسے ہی لوگوں کو ہے جیسا کہ ہم نے اس سے قبل اس کے نمونے پیش کئے تاکہ ایسے لوگوں کو روحانی طور پر صاف کرکے ان کو ان گراوٹوں اور ان پر کشش چیزوں کی کشش کے دائرے سے نکالا جائے اور ان کو ان لوگوں کی سطح تک بلند کیا جائے جو ایمان کے درجہ کمال تک پہنچے ہوئے تھے۔ وہ درجہ جس میں اگر کئی پہنچ جائے تو اس کے نزدیک زمین کی قدریں بےوزن ہوجاتی ہیں اور یہ ایمانی جذبہ ایمانی حرارت سے تمام رکاوٹوں کو پگھلا کر رکھ دیتا ہے۔ اس دور میں ایک دوسرا طبقہ بھی تھا۔ یہ ان دونوں گروہوں سے جدا تھا۔ یہ لوگ منافقین تھے۔ یہ اسلامی معاشرے میں گھل مل گئے تھے ۔ ان کا ظاہری وجود تو نہ تھا بالخصوص اس وقت کے بعد جب اسلام جزیرہ عرب میں غالب ہوگیا اور منافقین سب زیر زمین چلے گئے اور اپنے بلوں میں گھس گئے۔ البتہ اسلام ظاہر کرنے کے باوجود ان کے دل نفاق سے آلودہ تھے۔ یہ مسلمانوں کے خلاف کسی بھی فتنے کے اٹھنے کا انتظار میں تھے۔ فتنے ان کو بہا کرلے گئے تھے۔ یہ سورة ان کی تصویر کشی کرتی ہے جبکہ قیامت کے دن ان کو مومنین سے جدا کردیا جائے گا۔ یوم تری…………المصیر (15:57 تا 15) ” اور جب تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا۔ (ان سے کہا جائے گا) ” آج بشارت ہے تمہارے لئے “ جنتیں ہوں گی جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔ اس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے ” ذرا ہماری طرف دیکھ تاکہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائد اٹھائیں “ مگر ان سے کہا جائے گا ” پیچھے ہٹ جائو اپنا نور کہیں اور تلاش کرو “ پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ اس دروازے کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب۔ وہ مومنوں سے پکار پکار کر کہیں گے ” کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ “ مومن جواب دیں گے ” ہاں مگر تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا ، موقع پرستی کی ، شک میں پڑے رہے اور جھوٹی توقعات تمہیں فریب دیتی رہیں ، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا اور آخر وقت تک وہ بڑا دھوکے باز (شیطان) تمہیں اللہ کے معاملہ میں دھوکہ دیتا رہا۔ لہٰذا آج تم سے نہ کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے کھلا کھلا کفر کیا۔ تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے۔ وہی تمہاری خبرگیری کرنے والی ہے او یہ بدترین انجام ہے “۔ اور ان لوگوں کے علاوہ جزیرہ عرب میں بعض یہودی ونصاری بھی موجود تھے۔ یہ سورت ان کے سابقہ کرتوتوں اور موجود حالات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس وقت جو صورت حال تھی اس کے مطابق جس طرح بعض مسلمانوں کو اس سے ڈرایا گیا تھا کہ وہ اہل کتاب کی طرح سنگ دل نہ ہوجائیں۔ کا الذین…………قلوبھم (16:57) ” اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی پھر ایک لمبی مدت ان پر گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور آج ان میں اکثر فاسق بنے ہوئے ہیں “۔ اور یہ اشارہ خصوصاً یہودیوں کی طرف تھا جبکہ نصاری کی طرف سورة کے خاتمہ کے قریب اشارہ ہے۔ ثم قفینا……………فسقون (27:57) ” ان کے بعد ہم نے پے درپے رسول بھیجے اور ان کے بعد عیسیٰ ابن مریم کو مبعوث کیا اور ان کو انجیل عطا کی اور جن لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ان کے دلوں میں ہم نے ترس اور رحم ڈال دیا اور رہبانیت انہوں نے خود ایجاد کرلی۔ ہم نے ان سے ان پر فرض نہ کیا تھا مگر اللہ کی خوشنودی کی طلب میں انہوں نے آپ ہی بدعت نکالی اور پھر اس کی پابندی کرنے کا جو حق تھا اسے ادا نہ کیا۔ ان میں سے جو لوگ ایمان لائے ہوئے تھے ان کا اجر ہم نے ان کو عطا کیا مگر ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں “۔ اس سورة کا مقصد یہ تھا کہ دلوں کے اندر حقیقت ایمانی پیدا کی جائے اور اس حقیقت کے نتیجے میں انسانی شخصیت میں جو خضوع وخشوع اور خدا خوفی ، خلوص وتجرد ، جذبہ جہاد اور جذبہ قربانی پیدا ہوتا ہے یہ اس سورة کا اصل محور اور ہدیف تھا۔ تو اس سورة میں آغاز سے انتہا تک نہایت ہی موثر انداز میں نفوس کے اندر یہی حقیقت بٹھانے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ ابتدائی اسلامی معاشرے میں اس حقیقت کو دلوں میں بٹھانے کی اشد ضرورت تھی جس طرح ہر اسلامی معاشرے میں اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ سورة کا پہلا پیراگراف ان مؤثرات کا بہترین نمونہ ہے۔ اس کے اندر انسان کے دلوں کے سامنے اللہ کی یہ صفات پیش کی گئی ہیں کہ اللہ وحدہ اس کائنات کا اللہ ہے لہٰذا اسی کی تسبیح کرو ، وہ اس کائنات کا مقتدر اعلیٰ ہے اور آخر کار تمام چیزوں نے اسی کی طرف لوٹنا ہے اور اللہ تمام لوگوں کے دلوں کی باتوں سے واقف ہے اور تمام چیزیں اس کی عبادت کرتی ہیں۔ سبح للہ ما……………الصدور (1:57 تا 6) ” اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اس چیز نے جو زمین وآسمانوں میں ہے اور وہی زبردست ودانا ہے۔ زمین اور آسمان کی سلطنت کا مالک وہی ہے۔ زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ وہی اول بھی ہے اور آخر بھی اور ظاہر بھی ہے اور مخفی بھی اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور پھر عرش پر جلوہ فرماہوا۔ اس کے علم میں ہے جو زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمانوں سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو جو کام بھی تم کرتے ہو اسے وہ دیکھ رہا ہے۔ وہی زمین وآسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے اور تمام معاملات ، فیصلے کے لئے اس کی طرف رجوع کئے جاتے ہیں۔ وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور وہ دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے “۔ سورة کا یہ پہلا پیراگراف ہی اس بات کے لئے کافی ہے کہ اسے پڑھ کر دل دہل جائیں اور ان کے اندر خوف خدا تقوی اور ارتعاش پیدا ہوجائے جس طرح یہ اس بات کے لئے کافی ہے کہ دلوں کے اندر اللہ کے لئے خلوص کی رغبت پیدا ہوجائے۔ اللہ سے التجا کی جائے اور اللہ کے راستے میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو دور کردیاجائے اور تمام بوجھ اتار پھینکے جائیں جو اس دعوت کے قبول کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں اور انسان اللہ کی راہ میں قربانی دینے کے لئے جانی اور مالی کنجوسی سے نجات پالے لیکن اس مطلع کے علاوہ پوری سورة کے اندر بھی جگہ جگہ ایسی موثر آوازیں ہیں جو اسی غرض کی نوید ہیں۔ مثلاً مومنین اور مومنات کی ایک نہایت ہی روشن تصویر کھینچی گئی ہے۔ یسعی……………ویایمانھم (16:57) ” ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں طرف چل رہا ہوگا “۔ اور وہ تصویر جس میں اس دنیا کے مال متاع کو نہایت ہی حقیر بتلایا گیا ہے اور آخرت کی قدروں کو اہمیت دی گئی ہے اس طرح دلوں کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اس دنیا کے تمام امور اللہ منشا سے طے پاتے ہیں اور اس پوری کائنات کو اللہ گھیرے ہوئے ہیں۔ ما اصاب…………الحمید (22:57 تا 24) ” کوئی مصیبت ایسی نہیں جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پہ نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب (یعنی نوشتہ تقدیر) میں لکھ نہ رکھا ہو۔ ایسا کرنا اللہ کے لئے بہت آسان کام ہے (یہ سب کچھ اس لئے ہے) تاکہ جو کچھ نقصان بھی تمہیں ہو اس پر تم دل شکستہ نہ ہو اور جو کچھ بھی اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پھول نہ جائو۔ اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور فخر جتاتے ہیں جو خود بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل پر اکساتے ہیں۔ اب اگر کوئی روگردانی کرتا ہے تو اللہ بےنیاز ہے اور ستودہ صفا ہے “۔ تاکہ نفس انسانی قرار پکڑے اور اس کو جو خیروشر پیش ہو اس پر مطمئن ہو۔ یہی اللہ کا راستہ ہے لہٰذا غم پر جزع فزع نہ ہو اور خوشی پر تکبر نہ ہو۔ یوں ایک مسلم خوشی اور غم دونوں کے مقابلے میں سنجیدہ رد عمل ظاہر کرتا رہے اور وہ اللہ کے ساتھ کسی سبب کو کسی حال کو اور کسی حادثہ کو شریک نہ کرے کہ ان کی وجہ سے یوں ہوا اور ووں ہوا۔ جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور تقدیر کی وجہ سے ہوتا ہے۔ تمام امور اللہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ اس سورة میں ، جیسا کہ ہم نے آغاز بحث میں کہا دوپیراگراف ہیں۔ دونوں اپنے موضوع اور محور کے گردگھومتے ہیں۔ اب تفصیل آیات اور تشریحات۔ سورة الحدید درس نمبر 257 ایک نظر میں اس سبق میں بھی اس سورت کے ہر موضوع اور محور ہی کو لیا گیا ہے ، یعنی نفس کے اندر حقیقت ایمان پیدا کرنا تاکہ اس کے نتیجے میں اللہ کی راہ میں مخلصانہ انفاق پر نفس آمادہ ہوجائے اور اس میں تقریباً ویسے ہی دلائل ایمان اور مؤثرات اور تنبہیات ہیں جیسا کہ پہلے حصے میں تھے البتہ وہاں سورت کا آغاز نہایت زور دار تھا۔ یہ سبق مومنین کو ایک نرم سے عناب کے ساتھ شروع ہوتا ہے وہ مومنین جو ابھی تک اس مقام تک نہیں پہنچے جس تک انہیں پہنچانا مطلوب ہے ، یہاں نہیں کہا جاتا کہ انہیں ان اہل کتاب کی طرح نہیں ہونا چاہئے جو سنگ دل تھے اور فاسق تھے۔ ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تم بھی کہیں ان کی طرح نہ ہوجائو۔ البتہ دلوں کو زندہ کرنے والا اللہ ہی ہے جس طرح وہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔ اس اکساہٹ کے بعد اب دوبارہ دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اسی طرح ہے جس طرح کسی نفع بخش کاروبار میں رقم لگانا ہے۔ اللہ آخرت میں کئی گنا کرکے دیتا ہے اور اجر کریم بھی دیتا ہے جیسا کہ پہلے سبق میں کہا گیا تھا۔ لہٰذا اس نفع بخش کاروبار کے ذریعہ جنت کمائو جو بہت وسیع ہے۔ اگلی آیات میں دنیاوی اقدار اور اخروی اقدار کا مقابلہ کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ دنیا تو ایک کھیل کود ہے صحیح زندگی آخرت کی ہے لہٰذا اہل ایمان کو چاہئے کہ آخرت کی طرف دوڑ پڑیں۔ اب دوبارہ ان کو آخرت سے دنیا میں لایا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ دنیا کے معاملات اللہ کے حکم سے چلتے ہیں لہٰذا برے حالات یا اچھے حالات اللہ کے حکم سے آتے ہیں انفاق سے کوئی غریب نہیں ہوتا لہٰذا کہا جاتا ہے کہ تمہیں دنیا کی کوئی چیز انفاق سے روک نہ دے۔ اس کے بعد ان کے سامنے دعوت اسلامی کی ایک تاریخ پیش کی جاتی ہے ، بتایا جاتا ہے کہ یہ ایک ہی دعوت ہے ، ایک ہی پیغام ہے ، ایک ہی صراط مستقیم ہے ، ہر عہد میں جو لوگ اس سے منہ موڑتے ہیں وہ فاسق ہیں۔ اہل کتاب نے ہی کام کیا جس طرح پہلے سبق میں بھی یہی کہا گیا۔ اس کے بعد ان کو پکارا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو ، ایمان لائو تاکہ وہ تمہیں دوگنا اجر اور رحمت دے اور تمہارے چہروں پر نور پیدا کردے۔ اور تم پر فضل وکرم کردے۔ لہٰذا اللہ کا فضل وکرم اہل کتاب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ اللہ بڑے فضل والا ہے۔ یوں یہ سورت اپنے آغاز و انجام دونوں سے باہم مربوط اور متناسب ہوجاتی ہے اور اس کی سب کڑیاں ایک دوسرے سے مل جاتی ہیں۔ عقل وخرد کے تاروں پر مسلسل ضربات لگتی ہیں اور ان میں تنوع بھی ہے اور تکرار بھی ہے تاکہ اس کا دلوں پر گہرا اثر ہو۔ اور دل مومن ایک ضرب کے بعد دوسری ضرب سے گرماتا رہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi