Surat ul Hadeed

Surah: 57

Verse: 14

سورة الحديد

یُنَادُوۡنَہُمۡ اَلَمۡ نَکُنۡ مَّعَکُمۡ ؕ قَالُوۡا بَلٰی وَ لٰکِنَّکُمۡ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ وَ تَرَبَّصۡتُمۡ وَ ارۡتَبۡتُمۡ وَ غَرَّتۡکُمُ الۡاَمَانِیُّ حَتّٰی جَآءَ اَمۡرُ اللّٰہِ وَ غَرَّکُمۡ بِاللّٰہِ الۡغَرُوۡرُ ﴿۱۴﴾

The hypocrites will call to the believers, "Were we not with you?" They will say, "Yes, but you afflicted yourselves and awaited [misfortune for us] and doubted, and wishful thinking deluded you until there came the command of Allah . And the Deceiver deceived you concerning Allah .

یہ چلا چلا کر ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے وہ کہیں گے کہ ہاں تھے تو سہی لیکن تم نے اپنے آپ کو فتنہ میں پھنسا رکھا تھا اور وہ انتظار میں ہی رہے اور شک وشبہ کرتے رہے اور تمہیں تمہاری فضول تمناؤں نے دھوکے میں ہی رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچا اور تمہیں اللہ کے بارے میں دھو کہ دینے والے نے دھوکے میں ہی رکھا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ ... (The hypocrites) will call the believers: "Were we not with you?" meaning, the hypocrites will call out to the believers saying, "Were we not with you in the life of the world, attending Friday prayers and congregational prayers Did we not stand with you on Mount `Arafah (during Hajj), participate in battle by your side and perform all types of acts of worship with you?" ... قَالُوا بَلَى ... The believers will reply: "Yes!..." The believers will answer the hypocrites by saying, "Yes, you were with us, ... وَلَكِنَّكُمْ فَتَنتُمْ أَنفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الاَْمَانِيُّ ... But you led yourselves into temptations, you looked forward to our destruction; and you doubted (in faith) and you were deceived by false hopes, " Qatadah said, وَتَرَبَّصْتُمْ (you looked forward to destruction), "Of the truth and its people." وَارْتَبْتُمْ (and you doubted), that Resurrection occurs after death, وَغَرَّتْكُمُ الاَْمَانِيُّ (and you were deceived by false hopes), meaning: you said that you will be forgiven your sins; or, they say it means: this life deceived you; ... حَتَّى جَاء أَمْرُ اللَّهِ ... till the command of Allah came to pass. meaning: you remained on this path until death came to you, ... وَغَرَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ And the deceiver deceived you in regard to Allah. `the deceiver' being Shaytan. Qatadah said, "They were deceived by Ash-Shaytan. By Allah! They remained deceived until Allah cast them into Hellfire." The meaning here is that the believers will answer the hypocrites by saying, "You were with us in bodies which were heartless and devoid of intentions. You were cast in doubt and suspicion. You were showing off for people and remembered Allah, little." Mujahid commented, "The hypocrites were with the believers in this life, marrying from among each other, yet betraying them even when they were associating with them. They were dead. They will both be given a light on the Day of Resurrection, but the light of the hypocrites will be extinguished when they reach the wall; this is when the two camps separate and part!" Allah's statement,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

141یعنی دیوار حائل ہونے پر منافقین مسلمانوں سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم تمہارے ساتھ نمازیں نہیں پڑھتے تھے اور جہاد وغیرہ میں حصہ نہیں لیتے تھے۔ 142تم نے اپنے دلوں میں کفر اور نفاق چھپا رکھا تھا۔ 143کہ شاید مسلمان کسی گردش کا شکار ہوجائیں 144دین کے معاملے میں، اسی لیے قرآن کو مانا نہ دلائل و معجزات کو۔ 145جس میں تمہیں شیطان نے مبتلا کیے رکھا۔ 146 یعنی تمہیں موت آگئی، یا مسلمان بالآخر غالب رہے اور تمہاری آرزوں پر پانی پھر گیا۔ 147یعنی اللہ کے حلم اور اس کے قانون امہال کی وجہ سے تمہیں شیطان نے دھوکے میں ڈالے رکھا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٣] اس دیوار میں ایک دروازہ ہوگا اب یہاں سے منافق مومنوں کو پکار پکار کر کہیں گے کہ دنیا میں تو ہم نے تمہارا ساتھ دیا تھا۔ اور آج تم لوگ ہمیں یہاں چھوڑ کر اکیلے ہی جنت کی طرف جارہے ہو۔ تمہیں ہم سے ایسی بےوفائی تو نہ کرنی چاہیے تھی۔ [٢٤] مومن اس بات کا یہ جواب دیں گے کہ تم جھوٹ بکتے ہو جو یہ کہتے ہو کہ ہم نے تمہارا ساتھ دیا تھا۔ اس کے بجائے اصل بات یہ تھی کہ تم لوگ موقع پرست اور مفاد پرست تھے اور اس موقع کی تلاش میں رہتے تھے کہ مومنوں اور کافروں میں سے جس کا پلڑا بھاری رہے اس کے ساتھ مل کر اپنے دنیوی مفاد حاصل کریں۔ [٢٥] یعنی تمہارا نہ اللہ پر ایمان پختہ تھا نہ اس کے رسول پر، نہ اللہ اور اس کے رسول کے وعدوں پر اور نہ آخرت پر۔ جب تم دیکھتے تھے کہ حالات مسلمانوں کے حق میں ناسازگار ہیں اور کافروں کی کثرت تعداد، معاش اور سامان جنگ کی طرف دیکھتے تھے تو تمہارا ایمان متزلزل ہوجاتا تھا۔ تمہارا اللہ اور اس کے رسول کے وعدوں پر اعتماد اٹھ جاتا تھا۔ پھر تم یہ بھی سوچنے لگتے تھے کہ شاید یہ آخرت اور اپنے اعمال کی جزا و سزا والا معاملہ بھی یقینی ہے یا نہیں۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ ایسی روش اختیار کی جائے کہ کسی فریق سے ملنا ہمارے لیے مشکل نہ ہو۔ لہذا تم صرف ظاہری طور پر ہمارے ساتھ لگے رہے۔ لیکن تمہاری ساری ہمدردیاں اور دلچسپیاں کافروں کے ساتھ رہیں۔ [٢٦] اللہ کے حکم سے مراد اسلام کا مکمل غلبہ بھی ہوسکتا ہے اور موت بھی۔ یعنی جہاں تک تمہارا بس چلتا رہا تم نے اپنے اس رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ تم یہ سمجھتے رہے کہ ہمارا مسلمانوں کو اندھیرے میں رکھ کر اور انہیں دھوکا دے کر اپنے مفادات حاصل کرلینا ہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ تم خود شیطان کے ہتھے چڑھے ہوئے تھے اور مرتے دم تک اس نے تمہیں اسی دھوکہ میں مبتلا رکھا کہ اب کوئی دن میں مسلمان تباہ ہوتے ہیں اور اسلام مٹ جاتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ یُنَادُوْنَہُمْ اَلَمْ نَکُنْ مَّعَکُمْ ط : منافق انہیں پکار پکار کر کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ، کیا ہم کلمہ نہیں پڑھتے تھے ، کیا تمہارے ساتھ نمازیں نہیں پڑھتے تھے ، زکوٰۃ اور حج ادا نہیں کرتے تھے اور ہر کام میں تمہارے ساتھ نہیں ہوتے تھے ؟ تم ہمیں ساتھ کیوں نہیں لے جاتے ؟ ٢۔ قَالُوْا بَلٰی وَلٰـکِنَّکُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَکُمْ : یعنی تم مسلمان ہو کر بھی نہ دل سے مسلمان ہوئے اور نہ پوری طرح ایک طرف ہو کر مسلمان کے ساتھی بنے ، بلکہ تم نے اپنے آپ کو نفاق کے فتنے ہی میں مبتلا رکھا۔ ٣۔ وَتَرَبَّصْتُمْ : اور تم انتظار میں رہے کہ کب مسلمانوں پر کوئی آفت آتی ہے۔ ٤۔ وَارْتَبْتُمْ : یہ ” ریب “ سے باب افتعال ” ارتاب یرتاب ارتیابا “ کے ماضی معلوم کا صیغہ ہے ، یعنی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان و یقین کے بجائے تم شک اور تذبذب میں رہے۔ ٥۔ وَغَرَّتْکُمُ الْاَمَانِیُّ :” الامانی “” امینۃ “ کی جمع ہے ، یعنی تمہیں ان آرزوؤں نے دھوکے میں رکھا کہ بس چند دن میں مسلمان تباہ ہوجائیں گے اور اسلام کا نام و نشان مٹ جائے گا ۔ ٦۔ حَتّٰی جَآئَ اَمْرُ اللہ ِ : حتیٰ کہ تمہیں موت آگئی اور توبہ اور اخلاص عمل کا موقع ہاتھ سے نکل گیا۔ ٧۔ وَغَرَّکُمْ بِ اللہ ِ الْغَرُوْرُ :” الغرور “ سے مراد شیطان ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ فاطر (٥، ٦) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يُنَادُوْنَہُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ۝ ٠ ۭ قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الْاَمَانِيُّ حَتّٰى جَاۗءَ اَمْرُ اللہِ وَغَرَّكُمْ بِاللہِ الْغَرُوْرُ۝ ١٤ ندا النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] ونِدَاءُ الصلاة مخصوصٌ في الشَّرع بالألفاظ المعروفة، وقوله : أُولئِكَ يُنادَوْنَمِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ [ فصلت/ 44] فاستعمال النّداء فيهم تنبيها علی بُعْدهم عن الحقّ في قوله : وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ [ ق/ 41] ، وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] ، وقال : فَلَمَّا جاءَها نُودِيَ [ النمل/ 8] ، وقوله : إِذْ نادی رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا [ مریم/ 3] فإنه أشار بِالنِّدَاء إلى اللہ تعالی، لأنّه تَصَوَّرَ نفسَهُ بعیدا منه بذنوبه، وأحواله السَّيِّئة كما يكون حال من يَخاف عذابَه، وقوله : رَبَّنا إِنَّنا سَمِعْنا مُنادِياً يُنادِي لِلْإِيمانِ [ آل عمران/ 193] فالإشارة بالمنادي إلى العقل، والکتاب المنزَّل، والرّسول المُرْسَل، وسائر الآیات الدَّالَّة علی وجوب الإيمان بالله تعالی. وجعله منادیا إلى الإيمان لظهوره ظهورَ النّداء، وحثّه علی ذلك كحثّ المنادي . وأصل النِّداء من النَّدَى. أي : الرُّطُوبة، يقال : صوت نَدِيٌّ رفیع، واستعارة النِّداء للصَّوْت من حيث إنّ من يَكْثُرُ رطوبةُ فَمِهِ حَسُنَ کلامُه، ولهذا يُوصَفُ الفصیح بکثرة الرِّيق، ويقال : نَدًى وأَنْدَاءٌ وأَنْدِيَةٌ ، ويسمّى الشَّجَر نَدًى لکونه منه، وذلک لتسمية المسبَّب باسم سببِهِ وقول الشاعر : 435- كَالْكَرْمِ إذ نَادَى مِنَ الكَافُورِ «1» أي : ظهر ظهورَ صوتِ المُنادي، وعُبِّرَ عن المجالسة بالنِّدَاء حتی قيل للمجلس : النَّادِي، والْمُنْتَدَى، والنَّدِيُّ ، وقیل ذلک للجلیس، قال تعالی: فَلْيَدْعُ نادِيَهُ [ العلق/ 17] ومنه سمّيت دار النَّدْوَة بمكَّةَ ، وهو المکان الذي کانوا يجتمعون فيه . ويُعَبَّر عن السَّخاء بالنَّدَى، فيقال : فلان أَنْدَى كفّاً من فلان، وهو يَتَنَدَّى علی أصحابه . أي : يَتَسَخَّى، وما نَدِيتُ بشیءٍ من فلان أي : ما نِلْتُ منه نَدًى، ومُنْدِيَاتُ الكَلِم : المُخْزِيَات التي تُعْرَف . ( ن د ی ) الندآ ء کے معنی آواز بلند کرنے کے ہیں اور کبھی نفس آواز پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ میں اندر سے مراد آواز و پکار ہے یعنی وہ چو پائے صرف آواز کو سنتے ہیں اور اس کلام سے جو مفہوم مستناد ہوتا ہے اسے ہر گز نہیں سمجھتے ۔ اور کبھی اس کلام کو جس سے کوئی معنی مفہوم ہوتا ہو اسے ندآء کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے ۔ وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] اور جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو پکارا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] اور جب تم لوگ نماز کے لئے اذان دیتے ہو ۔ میں نماز کے لئے اذان دینا مراد ہے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : ۔ إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] جب جمعے کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے ۔ میں بھی نداء کے معنی نماز کی اذان دینے کے ہیں اور شریعت میں ند اء الصلوۃ ( اذان ) کے لئے مخصوص اور مشہور کلمات ہیں اور آیت کریمہ : ۔ أُولئِكَ يُنادَوْنَ مِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ [ فصلت/ 44] ان کو گویا دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے : ۔ میں ان کے متعلق نداء کا لفظ استعمال کر کے متنبہ کیا ہے کہ وہ حق سے بہت دور جا چکے ہیں ۔ نیز فرمایا ۔ وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ [ ق/ 41] اور سنو جس دن پکارنے والا نزدیک کی جگہ سے پکارے گا ۔ وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] اور ہم نے ان کو طور کے ذہنی جانب سے پکارا فَلَمَّا جاءَها نُودِيَ [ النمل/ 8] جب موسیٰ ان ان کے پاس آئے تو ندار آئی ۔ ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِذْ نادی رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا [ مریم/ 3] جب انہوں نے اپنے پروردگار کو دبی آواز سے پکارا میں اللہ تعالیٰ کے متعلق نادی کا لفظ استعمال کرنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زکریا (علیہ السلام) نے اپنے گناہ اور احوال سینہ کے باعث اس وقت اپنے آپ کو حق اللہ تعالیٰ سے تصور کیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے والے کی حالت ہوتی ہے اور آیت کریمہ ؛ ۔ رَبَّنا إِنَّنا سَمِعْنا مُنادِياً يُنادِي لِلْإِيمانِ [ آل عمران/ 193] اے پروردگار ہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا ۔ جو ایمان کے لئے پکاررہا تھا ۔ میں منادیٰ کا لفظ عقل کتاب منزل رسول مرسل اور ان آیات الہیہ کو شامل ہے جو ایمان باللہ کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں اور ان چیزوں کو منادی للا یمان اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ ندا کی طرح ظاہر ہوتی ہیں اور وہ پکارنے والے کی طرح ایمان لانے کی طرف دعوت دے رہی ہیں ۔ اصل میں نداء ندی سے ہے جس کے معنی رطوبت نمی کے ہیں اور صوت ندی کے معنی بلند آواز کے ہیں ۔ اور آواز کے لئے نداء کا استعارہ اس بنا پر ہے کہ جس کے منہ میں رطوبت زیادہ ہوگی اس کی آواز بھی بلند اور حسین ہوگی اسی سے فصیح شخص کو کثرت ریق کے ساتھ متصف کرتے ہیں اور ندی کے معنی مجلس کے بھی آتے ہیں اس کی جمع انداء واندید آتی ہے ۔ اور در خت کو بھی ندی کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ وہ نمی سے پیدا ہوتا ہے اور یہ تسمیۃ المسبب با سم السبب کے قبیل سے ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( 420 ) کالکرم اذا نادٰی من الکافور جیسا کہ انگور کا خوشہ غلاف ( پردہ ) سے ظاہر ہوتا ہے ۔ جیسا کہ منادی کرنے والے کی آواز ہوتی ہے ۔ کبھی نداء سے مراد مجالست بھی ہوتی ہے ۔ اس لئے مجلس کو النادی والمسدیوالندی کہا جاتا ہے اور نادیٰ کے معنی ہم مجلس کے بھی آتے ہیں قرآن پاک میں ہے : ۔ فَلْيَدْعُ نادِيَهُ [ العلق/ 17] تو وہ اپنے یاران مجلس کو بلالے ۔ اور اسی سے شہر میں ایک مقام کا نام درا لندوۃ ہے ۔ کیونکہ اس میں مکہ کے لوگ جمع ہو کر باہم مشورہ کیا کرتے تھے ۔ اور کبھی ندی سے مراد مخاوت بھی ہوتی ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے : ۔ فلان اندیٰ کفا من فلان وپ فلاں سے زیادہ سخی ہے ۔ ھو یتندٰی علیٰ اصحابہ ۔ وہ اپنے ساتھیوں پر بڑا فیاض ہے ۔ ما ندیت بشئی من فلان میں نے فلاں سے کچھ سخاوت حاصل نہ کی ۔ مندیات الکلم رسوا کن باتیں مشہور ہوجائیں ۔ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ، أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخالِدُونَ [ الأنبیاء/ 34] ، أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً [يونس/ 2] ، آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] . والتسوية نحو : سَواءٌ عَلَيْنا أَجَزِعْنا أَمْ صَبَرْنا [إبراهيم/ 21] ، سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ [ البقرة/ 6] «1» ، وهذه الألف متی دخلت علی الإثبات تجعله نفیا، نحو : أخرج ؟ هذا اللفظ ينفي الخروج، فلهذا سأل عن إثباته نحو ما تقدّم . وإذا دخلت علی نفي تجعله إثباتا، لأنه يصير معها نفیا يحصل منهما إثبات، نحو : أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ [ الأعراف/ 172] «2» ، أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ [ الرعد/ 41] ، أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَةُ [ طه/ 133] أَوَلا يَرَوْنَ [ التوبة : 126] ، أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ [ فاطر/ 37] . - الثاني : ألف المخبر عن نفسه نحو : أسمع وأبصر . - الثالث : ألف الأمر، قطعا کان أو وصلا، نحو : أَنْزِلْ عَلَيْنا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ [ المائدة/ 114] ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ [ التحریم/ 11] ونحوهما . - الرابع : الألف مع لام التعریف «4» ، نحو : العالمین . - الخامس : ألف النداء، نحو : أزيد، أي : يا زيد . والنوع الذي في الوسط : الألف التي للتثنية، والألف في بعض الجموع في نحو : مسلمات ونحو مساکين . والنوع الذي في آخره : ألف التأنيث في حبلی وبیضاء «5» ، وألف الضمیر في التثنية، نحو : اذهبا . والذي في أواخر الآیات الجارية مجری أواخر الأبيات، نحو : وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا [ الأحزاب/ 10] ، فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا [ الأحزاب/ 67] ، لکن هذه الألف لا تثبت معنی، وإنما ذلک لإصلاح اللفظ . ا : الف با معنی کی تین قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جو شروع کلام میں آتا ہے ۔ دوسرا وہ جو وسط کلام میں واقع ہو ۔ تیسرا وہ جو آخر کلام میں آئے ۔ ( ا) وہ الف جو شروع کلام میں آتا ہے ۔ اس کی چند قسمیں ہیں : ۔ (1) الف الاستخبار اسے ہمزہ استفہام کہنے کے بجائے الف استخبار کہنا زیادہ صحیح ہوگا ۔ کیونکہ اس میں عمومیت ہے جو استفہام و انکار نفی تبکیت پر زجرو تو بیخ ) تسویہ سب پر حاوی ہے۔ چناچہ معنی استفہام میں فرمایا ۔ { أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ } [ البقرة : 30]( انہوں نے کہا ) کیا تو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے اور تبکیت یعنی سرزنش کبھی مخاطب کو ہوتی ہے اور کبھی غیر کو چناچہ ( قسم اول کے متعلق ) فرمایا :۔ (1){ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُم } [ الأحقاف : 20] تم اپنی لذتیں حاصل کرچکے ۔ (2) { أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدًا } [ البقرة : 80] کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے ؟ (3) { آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ } [يونس : 91] کیا اب ( ایمان لاتا ہے ) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا ؟ اور غیر مخاظب کے متعلق فرمایا :۔ (4) { أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا } [يونس : 2] کیا لوگوں کے لئے تعجب خیز ہے ؟ (5) { أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِل } [ آل عمران : 144] تو کیا اگر یہ مرجائیں یا مارے جائیں ؟ (6) { أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ } [ الأنبیاء : 34] بھلا اگر تم مرگئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے ؟ (7) { آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ } [ الأنعام : 143] بتاؤ تو ( خدا نے ) دونوں نروں کو حرام کیا ہے ۔ یا دونوں ماديؤں کو ۔ اور معنی تسویہ میں فرمایا ، { سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا } [إبراهيم : 21] اب ہم گهبرائیں یا صبر کریں ہمارے حق میں برابر ہے ۔ { سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ } ( سورة البقرة 6) تم خواہ انہیں نصیحت کردیا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے ، وہ ایمان نہیں لانے کے ۔ اور یہ الف ( استخبار ) کلام مثبت پر داخل ہو تو اسے نفی میں تبدیل کردیتا ہے ۔ جیسے اخرج ( وہ باہر نہیں نکلا ) کہ اس میں نفی خروج کے معنی پائے جائے ہیں ۔ اس لئے کہ اگر نفی کے معنی نہ ہوتے تو اس کے اثبات کے متعلق سوال نہ ہوتا ۔ اور جب کلام منفی پر داخل ہو تو اسے مثبت بنا دیتا ہے ۔ کیونکہ کلام منفی پر داخل ہونے سے نفی کی نفی ہوئی ۔ اور اس طرح اثبات پیدا ہوجاتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَلَسْتُ بِرَبِّكُم } [ الأعراف : 172] کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ( یعنی ضرور ہوں ) { أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ } [ التین : 8] کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے یعنی ضرور ہے ۔ { أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ } [ الرعد : 41] کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کا بندوبست کرتے ہیں ۔ { أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَة } [ طه : 133] کیا ان کے پاس کھلی نشانی نہیں آئی ۔ { أَوَلَا يَرَوْنَ } [ التوبة : 126] اور کیا یہ نہیں دیکھتے { أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم } [ فاطر : 37] اور کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی ۔ (2) الف جو مضارع کے صیغہ واحد متکلم کے شروع میں آتا ہے اور میں |" کے معنی رکھتا ہے جیسے اسمع و ابصر یعنی میں سنتاہوں اور میں دیکھتا ہوں (3) ہمزہ فعل امر خواہ قطعی ہو یا وصلي جیسے فرمایا :۔ { أَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِنَ السَّمَاءِ } [ المائدة : 114] ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما ۔ { رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ } [ التحریم : 11] اے میرے پروردگار میرے لئے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا ۔ (4) الف جو لام کے ساتھ معرفہ بنانے کے لئے آیا ہے جیسے فرمایا { الْعَالَمِينَ } [ الفاتحة : 2] تمام جہانوں (5) الف نداء جیسے ازید ( اے زید ) ( ب) وہ الف جو وسط کلمہ میں آتا ہے اس کی پہلی قسم الف تثنیہ ہے ( مثلا رجلان ) اور دوسری وہ جو بعض اوزان جمع میں پائی جاتی ہے مثلا مسلمات و مساکین ۔ ( ج) اب رہا وہ الف جو کلمہ کے آخر میں آتا ہے ۔ وہ یا تو تانیث کے لئے ہوتا ہے جیسے حبلیٰ اور بَيْضَاءُمیں آخری الف یا پھر تثنیہ میں ضمیر کے لئے جیسا کہ { اذْهَبَا } [ الفرقان : 36] میں آخر کا الف ہے ۔ وہ الف جو آیات قرآنی کے آخر میں کہیں بڑھا دیا جاتا ہے جیسے { وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا } [ الأحزاب : 10] { فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا } [ الأحزاب : 67] تو یہ کوئی معنوی اضافہ نہیں کرتا بلکہ محض لفظی اصلاح ( اور صوتی ہم آہنگی ) کے لئے آخر میں بڑھا دیا جاتا ہے ( جیسا کہ ابیات کے اواخر میں الف |" اشباع پڑھاد یتے ہیں ) قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، والقَوْلُ يستعمل علی أوجه : أظهرها أن يكون للمرکّب من الحروف المبرز بالنّطق، مفردا کان أو جملة، فالمفرد کقولک : زيد، وخرج . والمرکّب، زيد منطلق، وهل خرج عمرو، ونحو ذلك، وقد يستعمل الجزء الواحد من الأنواع الثلاثة أعني : الاسم والفعل والأداة قَوْلًا، كما قد تسمّى القصیدة والخطبة ونحوهما قَوْلًا . الثاني : يقال للمتصوّر في النّفس قبل الإبراز باللفظ : قَوْلٌ ، فيقال : في نفسي قول لم أظهره . قال تعالی: وَيَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ لَوْلا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ [ المجادلة/ 8] . فجعل ما في اعتقادهم قولا . الثالث : للاعتقاد نحو فلان يقول بقول أبي حنیفة . الرابع : يقال للدّلالة علی الشیء نحو قول الشاعر : 377- امتلأ الحوض وقَالَ قطني الخامس : يقال للعناية الصادقة بالشیء، کقولک : فلان يَقُولُ بکذا . السادس : يستعمله المنطقيّون دون غيرهم في معنی الحدّ ، فيقولون : قَوْلُ الجوهر كذا، وقَوْلُ العرض کذا، أي : حدّهما . السابع : في الإلهام نحو : قُلْنا يا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِمَّا أَنْ تُعَذِّبَ [ الكهف/ 86] فإنّ ذلک لم يكن بخطاب ورد عليه فيما روي وذكر، بل کان ذلک إلهاما فسماه قولا . ( ق و ل ) القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ قول کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1) عام طور پر حروف کے اس مجموعہ پر قول کا لفظ بولاجاتا ہے جو بذریعہ نطق کت زبان سے ظاہر ہوتے ہیں خواہ وہ الفاظ مفرد ہوں جملہ کی صورت میں منفرد جیسے زید خرج اور مرکب جیسے زید منطق وھل خرج عمر و نحو ذالک کبھی انواع ثلاثہ یعنی اسم فعل اور حرف میں ہر ایک کو قول کہا جاتا ہے جس طرح کہ تصیدہ اور خطبہ وغیرہ ہما کو قول کہہ دیتے ہیں ۔ ( 2 ) جو بات ابھی ذہن میں ہو اور زبان تک نہ لائی گئی ہو اسے بھی قول کہتے ہیں اس بناء پر قرآن میں آیت کریمہ : ۔ وَيَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ لَوْلا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ [ المجادلة/ 8] اور اپنے دل میں اگتے ہیں ( اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں تو ) جو کچھ ہم کہتے ہیں خدا ہمیں اس کی سزا کیوں نہیں دیتا ۔ یعنی دل میں خیال کرنے کو قول سے تعبیر کیا ہے ۔ ( 3 ) رائے خیال اور عقیدہ پر بھی قول کا لفظ بولاجاتا ہے ۔ جیسے فلان یقول بقول ابی حنیفتہ ( فلان ابوحنیفہ کی رائے کا قائل ہے ) ( 4 ) کسی چیز پر دلالت کرنے کو قول سے تعبیر کرلیتے ہیں ۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ۔ الرجز ) ( 324 ) امتلاالحوض وقال قطنی حوض بھر گیا اور اس نے کہا بس مجھے کافی ہے ( 5 ) کسی چیز کا صدق دل سے اعتبار کرنا اور اس کی طرف متوجہ ہونا جیسے فلان یقول بکذا فلان اس کا صدق دل سے خیال رکھتا ہے ( 6 ) اہل منطق کے نزدیک قول بمعنی حد کے آتا ہے جیسے قول اجواھر کزا ۔ وقول العرض کزا یعنی جوہر کی تعریف یہ ہے اور عرض کی یہ ہے ( 7 ) الہام کرنا یعنی کسی کے دل میں کوئی بات ڈال دینا جیسے فرمایا ؛ قُلْنا يا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِمَّا أَنْ تُعَذِّبَ [ الكهف/ 86] ہم نے کہا ذولقرنین تم ان کو تکلیف دو ۔ یہاں قول بمعنی الہام اور القا کے ہے ۔ فتن أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] ( ف ت ن ) الفتن دراصل فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ہوجائے اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا ۔ نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( ن ف س ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے ربص التّربّص : الانتظار بالشیء، سلعة کانت يقصد بها غلاء، أو رخصا، أو أمرا ينتظر زواله أو حصوله، يقال : تربّصت لکذا، ولي رُبْصَةٌ بکذا، وتَرَبُّصٌ ، قال تعالی: وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ [ البقرة/ 228] ، قُلْ تَرَبَّصُوا فَإِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُتَرَبِّصِينَ [ الطور/ 31] ، قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ [ التوبة/ 52] ، وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوائِرَ [ التوبة/ 98] . ( ر ب ص ) التربص کے معنی انتظار کرنے کے ہیں ۔ خواہ وہ انتظار سامان تجارت کی گرانی یا ارزانی کا ہو یا کسی امر وا قع ہونے یا زائل ہونیکا انتظار ہو ۔ کسی چیز کا انتظار کرنا ۔ قرآن میں ہے ۔ وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ [ البقرة/ 228] عورتوں کو چاہئے کہ انتظار کریں ۔ قُلْ تَرَبَّصُوا فَإِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُتَرَبِّصِينَ [ الطور/ 31] ان سے کہو کہ ( بہت اچھا ) تم ( بھی ) انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ [ التوبة/ 52] اے پیغمبر ان لوگوں سے کہو کہ تم ہمارے حق میں دو بھلائیوں میں سے ( خواہ نخواہ ) ایک نہ ایک کا انتظار کرتے ہو اور ہم تمہارے حق میں انتظار کرتے ہیں ۔ ريب فَالرَّيْبُ : أن تتوهّم بالشیء أمرا مّا، فينكشف عمّا تتوهّمه، قال اللہ تعالی: يا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ الْبَعْثِ [ الحج/ 5] ، ( ر ی ب ) اور ریب کی حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کے متعلق کسی طرح کا وہم ہو مگر بعد میں اس تو ہم کا ازالہ ہوجائے ۔ قرآن میں ہے : وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنا عَلى عَبْدِنا [ البقرة/ 23] اگر تم کو ( قیامت کے دن ) پھر جی اٹھنے میں کسی طرح کا شک ہوا ۔ غرر يقال : غَررْتُ فلانا : أصبت غِرَّتَهُ ونلت منه ما أريده، والغِرَّةُ : غفلة في الیقظة، والْغِرَارُ : غفلة مع غفوة، وأصل ذلک من الْغُرِّ ، وهو الأثر الظاهر من الشیء، ومنه : غُرَّةُ الفرس . وغِرَارُ السّيف أي : حدّه، وغَرُّ الثّوب : أثر کسره، وقیل : اطوه علی غَرِّهِ «5» ، وغَرَّهُ كذا غُرُوراً كأنما طواه علی غَرِّهِ. قال تعالی: ما غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ [ الانفطار/ 6] ، لا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلادِ [ آل عمران/ 196] ، وقال : وَما يَعِدُهُمُ الشَّيْطانُ إِلَّا غُرُوراً [ النساء/ 120] ، وقال : بَلْ إِنْ يَعِدُ الظَّالِمُونَ بَعْضُهُمْ بَعْضاً إِلَّا غُرُوراً [ فاطر/ 40] ، وقال : يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً [ الأنعام/ 112] ، وقال : وَمَا الْحَياةُ الدُّنْيا إِلَّا مَتاعُ الْغُرُورِ [ آل عمران/ 185] ، وَغَرَّتْهُمُ الْحَياةُ الدُّنْيا [ الأنعام/ 70] ، ما وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُوراً [ الأحزاب/ 12] ، وَلا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ [ لقمان/ 33] ، فَالْغَرُورُ : كلّ ما يَغُرُّ الإنسان من مال وجاه وشهوة وشیطان، وقد فسّر بالشیطان إذ هو أخبث الْغَارِّينَ ، وبالدّنيا لما قيل : الدّنيا تَغُرُّ وتضرّ وتمرّ «1» ، والْغَرَرُ : الخطر، وهو من الْغَرِّ ، «ونهي عن بيع الْغَرَرِ» «2» . والْغَرِيرُ : الخلق الحسن اعتبارا بأنّه يَغُرُّ ، وقیل : فلان أدبر غَرِيرُهُ وأقبل هريرة «3» ، فباعتبار غُرَّةِ الفرس وشهرته بها قيل : فلان أَغَرُّ إذا کان مشهورا کريما، وقیل : الْغُرَرُ لثلاث ليال من أوّل الشّهر لکون ذلک منه كالْغُرَّةِ من الفرس، وغِرَارُ السّيفِ : حدّه، والْغِرَارُ : لَبَنٌ قلیل، وغَارَتِ النّاقةُ : قلّ لبنها بعد أن ظنّ أن لا يقلّ ، فكأنّها غَرَّتْ صاحبها . ( غ ر ر ) غررت ( ن ) فلانا ( فریب دینا ) کسی کو غافل پاکر اس سے اپنا مقصد حاصل کرنا غرۃ بیداری کی حالت میں غفلت غرار اونکھ کے ساتھ غفلت اصل میں یہ غر سے ہے جس کے معنی کسی شے پر ظاہری نشان کے ہیں ۔ اسی سے غرۃ الفرس ( کگوڑے کی پیشانی کی سفیدی ہے اور غر ار السیف کے معنی تلوار کی دھار کے ہیں غر الثواب کپڑے کی تہ اسی سے محاورہ ہے : ۔ اطوہ علی غرہ کپڑے کو اس کی تہ پر لپیٹ دو یعنی اس معاملہ کو جوں توں رہنے دو غرہ کذا غرورا سے فریب دیا گویا اسے اس کی نہ پر لپیٹ دیا ۔ قرآن میں ہے ؛ما غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ [ الانفطار/ 6] ای انسان تجھ کو اپنے پروردگار کرم گستر کے باب میں کس چیز نے دہو کا دیا ۔ لا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلادِ [ آل عمران/ 196]( اے پیغمبر ) کافروں کا شہروں میں چلنا پھر تمہیں دھوکا نہ دے ۔ وَما يَعِدُهُمُ الشَّيْطانُ إِلَّا غُرُوراً [ النساء/ 120] اور شیطان جو وعدہ ان سے کرتا ہے سب دھوکا ہے ۔ بَلْ إِنْ يَعِدُ الظَّالِمُونَ بَعْضُهُمْ بَعْضاً إِلَّا غُرُوراً [ فاطر/ 40] بلکہ ظالم جو ایک دوسرے کو وعدہ دیتے ہیں محض فریب ہے ۔ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً [ الأنعام/ 112] وہ دھوکا دینے کے لئے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالنتے رہتے ہیں ۔ وَمَا الْحَياةُ الدُّنْيا إِلَّا مَتاعُ الْغُرُورِ [ آل عمران/ 185] اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے ۔ وَغَرَّتْهُمُ الْحَياةُ الدُّنْيا[ الأنعام/ 70] اور دنیا کی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ۔ ما وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُوراً [ الأحزاب/ 12] کہ خدا اور اس کے رسول نے ہم سے دھوکے کا وعدہ کیا تھا ۔ وَلا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ [ لقمان/ 33] اور نہ فریب دینے والا شیطان ) تمہیں خدا کے بارے میں کسی طرح کا فریب دے ۔ پس غرور سے مال وجاہ خواہش نفسانی ، شیطان اور ہر وہ چیز مراد ہے جو انسان کو فریب میں مبتلا کرے بعض نے غرور سے مراد صرف شیطان لیا ہے کیونکہ چو چیزیں انسان کو فریب میں مبتلا کرتی ہیں شیطان ان سب سے زیادہ خبیث اور بعض نے اس کی تفسیر دنیا کی ہے کیونکہ دنیا بھی انسان سے فریب کھیلتی ہے دھوکا دیتی ہے نقصان پہنچاتی ہے اور گزر جاتی ہے ۔ الغرور دھوکا ۔ یہ غر سے ہے اور ( حدیث میں ) بیع الغرر سے منع کیا گیا ہے (57) الغریر اچھا خلق ۔ کیونکہ وہ بھی دھوکے میں ڈال دیتا ہے ۔ چناچہ ( بوڑھے شخص کے متعلق محاورہ ہے ۔ فلان ادبر غریرہ واقبل ہریرہ ( اس سے حسن خلق جاتارہا اور چڑ چڑاپن آگیا ۔ اور غرہ الفرس سے تشبیہ کے طور پر مشہور معروف آدمی کو اغر کہاجاتا ہے اور مہینے کی ابتدائی تین راتوں کو غرر کہتے ہیں کیونکہ مہینہ میں ان کی حیثیت غرۃ الفرس کی وہوتی ہے غرار السیف تلوار کی دھار اور غرار کے معنی تھوڑا سا دودھ کے بھی آتے ہیں اور غارت الناقۃ کے معنی ہیں اونٹنی کا دودھ کم ہوگیا حالانکہ اس کے متعلق یہ گہان نہ تھا کہ اسکا دودھ کم ہوجائیگا گویا کہ اس اونٹنی نے مالک کو دھوکا دیا ۔ تَّمَنِّي : تقدیر شيء في النّفس وتصویره فيها، وذلک قد يكون عن تخمین وظنّ ، ويكون عن رويّة وبناء علی أصل، لکن لمّا کان أكثره عن تخمین صار الکذب له أملك، فأكثر التّمنّي تصوّر ما لا حقیقة له . قال تعالی: أَمْ لِلْإِنْسانِ ما تَمَنَّى [ النجم/ 24] ، فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ [ البقرة/ 94] ، وَلا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَداً [ الجمعة/ 7] والأُمْنِيَّةُ : الصّورة الحاصلة في النّفس من تمنّي الشیء، ولمّا کان الکذب تصوّر ما لا حقیقة له وإيراده باللفظ صار التّمنّي کالمبدإ للکذب، فصحّ أن يعبّر عن الکذب بالتّمنّي، وعلی ذلک ما روي عن عثمان رضي اللہ عنه :( ما تغنّيت ولا تَمَنَّيْتُ منذ أسلمت) «1» ، وقوله تعالی: وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لا يَعْلَمُونَ الْكِتابَ إِلَّا أَمانِيَّ [ البقرة/ 78] قال مجاهد : معناه : إلّا کذبا «2» ، وقال غيره إلّا تلاوة مجرّدة عن المعرفة . من حيث إنّ التّلاوة بلا معرفة المعنی تجري عند صاحبها مجری أمنيّة تمنیتها علی التّخمین، وقوله : وَما أَرْسَلْنا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلا نَبِيٍّ إِلَّا إِذا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ [ الحج/ 52] أي : في تلاوته، فقد تقدم أنّ التّمنّي كما يكون عن تخمین وظنّ فقد يكون عن رويّة وبناء علی أصل، ولمّا کان النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم کثيرا ما کان يبادر إلى ما نزل به الرّوح الأمين علی قلبه حتی قيل له : لا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ [ طه/ 114] ، ولا تُحَرِّكْ بِهِ لِسانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ [ القیامة/ 16] سمّى تلاوته علی ذلک تمنّيا، ونبّه أنّ للشیطان تسلّطا علی مثله في أمنيّته، وذلک من حيث بيّن أنّ «العجلة من الشّيطان» «3» . وَمَنَّيْتَني كذا : جعلت لي أُمْنِيَّةً بما شبّهت لي، قال تعالیٰ مخبرا عنه : وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ [ النساء/ 119] . ۔ التمنی کے معنی دل میں کسی خیال کے باندھے اور اس کی تصویرکھنیچ لینے کے ہیں پھر کبھی یہ تقدیر محض ظن وتخمین پر مبنی بر حقیقت مگر عام طور پر تمنی کی بنا چونکہ ظن وتحمین پر ہی ہوتی ہے اس لئے ا س پر جھوٹ کا رنگ غالب ہوتا ہے ۔ کیونکہ اکثر طور پر تمنی کا لفظ دل میں غلط آرزو میں قائم کرلینے پر بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ أَمْ لِلْإِنْسانِ ما تَمَنَّى [ النجم/ 24] کیا جس چیز کی انسان آرزو کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے ۔ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ [ البقرة/ 94] تو موت کی آرزو تو کرو ۔ وَلا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَداً [ الجمعة/ 7] اور یہ ہر گز نہیں کریں گے ۔ الامنیۃ کسی چیز کی تمنا سے جو صورت ذہن میں حاصل ہوتی ہے اسے امنیۃ کہا جاتا ہے ۔ اور کزب چونکہ کسی وغیرہ واقعی چیز کا تصور کر کے اسے لفظوں میں بیان کردینے کو کہتے ہیں تو گویا تمنی جھوت کا مبدء ہے مہذا جھوٹ کو تمنی سے تعبیر کر نا بھی صحیح ہے اسی معنی میں حضرت عثمان (رض) کا قول ہے ۔ ماتغنیت ولا منذ اسلمت کہ میں جب سے مسلمان ہوا ہوں نہ راگ گایا ہے اور نہ جھوٹ بولا ہے اور امنیۃ کی جمع امانی آتی ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لا يَعْلَمُونَ الْكِتابَ إِلَّا أَمانِيَّ [ البقرة/ 78] اور بعض ان میں ان پڑھ ہیں کہ اپنے خیالات باطل کے سوا ( خدا کی ) کتاب سے واقف نہیں ہیں ۔ مجاہد نے الا امانی کے معنی الا کذبا یعنی جھوٹ کئے ہیں اور دوسروں نے امانی سے بےسوچے سمجھے تلاوت کرنا مراد لیا ہے کیونکہ اس قسم کی تلاوت بھی اس منیۃ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی ہے جس کی بنا تخمینہ پر ہوتی ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَما أَرْسَلْنا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلا نَبِيٍّ إِلَّا إِذا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ [ الحج/ 52] اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر اس کا یہ حال تھا کہ ) جب وہ کوئی آرزو کرتا تھا تو شیطان اس کی آروزو میں ( وسوسہ ) ڈال دیتا تھا ۔ میں امنیۃ کے معنی تلاوت کے ہیں اور پہلے بیان ہوچکا ہے کہ تمنی ظن وتخمین سے بھی ہوتی ہے ۔ اور مبنی بر حقیقت بھی ۔ اور چونکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب مبارک پر روح الامین جو وحی لے کر اترتے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی تلاوت کے لئے مبا ورت کرتے تھے حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آیت لا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ [ طه/ 114] اور ولا تُحَرِّكْ بِهِ لِسانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ [ القیامة/ 16] کے ذریعہ منع فرما دیا گیا ۔ الغرض اس وجہ سے آپ کی تلاوت کو تمنی سے موسوم کیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ ایسی تلاوت میں شیطان کا دخل غالب ہوجاتا ہے اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی فرمایا ہے ان العا جلۃ من الشیطان کہ جلد بازی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے منیتی کذا کے معنی فریب وہی سے جھوٹی امید دلانے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن نے شیطان کے قول کی حکایت کرتے ہوئے فرمایا : ۔ وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ [ النساء/ 119] اور ان کو گمراہ کرتا ۔ اور امید دلاتا رہوں گا ۔ حَتَّى حَتَّى حرف يجرّ به تارة كإلى، لکن يدخل الحدّ المذکور بعده في حکم ما قبله، ويعطف به تارة، ويستأنف به تارة، نحو : أكلت السمکة حتی رأسها، ورأسها، ورأسها، قال تعالی: لَيَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ [يوسف/ 35] ، وحَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] . ويدخل علی الفعل المضارع فينصب ويرفع، وفي كلّ واحد وجهان : فأحد وجهي النصب : إلى أن . والثاني : كي . وأحد وجهي الرفع أن يكون الفعل قبله ماضیا، نحو : مشیت حتی أدخل البصرة، أي : مشیت فدخلت البصرة . والثاني : يكون ما بعده حالا، نحو : مرض حتی لا يرجونه، وقد قرئ : حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ [ البقرة/ 214] ، بالنصب والرفع «1» ، وحمل في كلّ واحدة من القراء تین علی الوجهين . وقیل : إنّ ما بعد «حتی» يقتضي أن يكون بخلاف ما قبله، نحو قوله تعالی: وَلا جُنُباً إِلَّا عابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا [ النساء/ 43] ، وقد يجيء ولا يكون کذلک نحو ما روي : «إنّ اللہ تعالیٰ لا يملّ حتی تملّوا» «2» لم يقصد أن يثبت ملالا لله تعالیٰ بعد ملالهم حتی ٰ ( حرف ) کبھی تو الیٰ کی طرح یہ حرف جر کے طور پر استعمال ہوتا ہے لیکن اس کے مابعد غایت ماقبل کے حکم میں داخل ہوتا ہے اور کبھی عاطفہ ہوتا ہے اور کبھی استیناف کا فائدہ دیتا ہے ۔ جیسے اکلت السملۃ حتی ٰ راسھا ( عاطفہ ) راسھا ( جارہ ) راسھا ( مستانفہ قرآن میں ہے ليَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ [يوسف/ 35] کچھ عرصہ کے لئے نہیں قید ہی کردیں ۔ وحَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] طلوع صبح تک ۔۔۔۔ جب یہ فعل مضارع پر داخل ہو تو اس پر رفع اور نصب دونوں جائز ہوتے ہیں اور ان میں ہر ایک کی دو وجہ ہوسکتی ہیں نصب کی صورت میں حتی بمعنی (1) الی آن یا (2) گی ہوتا ہے اور مضارع کے مرفوع ہونے ایک صورت تو یہ ہے کہ حتی سے پہلے فعل ماضی آجائے جیسے ؛۔ مشیت حتی ادخل ۔ البصرۃ ( یعنی میں چلا حتی کہ بصرہ میں داخل ہوا ) دوسری صورت یہ ہے کہ حتیٰ کا مابعد حال واقع ہو جیسے مرض حتی لایرجون و دو بیمار ہوا اس حال میں کہ سب اس سے ناامید ہوگئے ) اور آیت کریمۃ ؛۔ حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ [ البقرة/ 214] یہاں تک کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پکار اٹھے ۔ میں یقول پر رفع اور نصب دونوں منقول ہیں اور ان ہر دو قرآت میں دونوں معنی بیان کئے گئے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ حتیٰ کا مابعد اس کے ماقبل کے خلاف ہوتا ہے ۔ جیسا ک قرآن میں ہے : وَلا جُنُباً إِلَّا عابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا [ النساء/ 43] ۔ اور جنابت کی حالت میں بھی نماز کے پاس نہ جاؤ ) جب تک کہ غسل ( نہ ) کرو ۔ ہاں اگر بحالت سفر رستے چلے جارہے ہو اور غسل نہ کرسکو تو تیمم سے نماز پڑھ لو ۔ مگر کبھی اس طرح نہیں بھی ہوتا جیسے مروی ہے ۔ اللہ تعالیٰ لاتمل حتی تملو ا ۔ پس اس حدیث کے یہ معنی نہیں ہیں کہ تمہارے تھک جانے کے بعد ذات باری تعالیٰ بھی تھک جاتی ہے ۔ بلکہ معنی یہ ہیں کہ ذات باری تعالیٰ کو کبھی ملال لاحق نہیں ہوتا ۔ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته : إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے غرر يقال : غَررْتُ فلانا : أصبت غِرَّتَهُ ونلت منه ما أريده، والغِرَّةُ : غفلة في الیقظة، والْغِرَارُ : غفلة مع غفوة، وأصل ذلک من الْغُرِّ ، وهو الأثر الظاهر من الشیء، ومنه : غُرَّةُ الفرس . وغِرَارُ السّيف أي : حدّه، وغَرُّ الثّوب : أثر کسره، وقیل : اطوه علی غَرِّهِ «5» ، وغَرَّهُ كذا غُرُوراً كأنما طواه علی غَرِّهِ. قال تعالی: ما غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ [ الانفطار/ 6] ، لا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلادِ [ آل عمران/ 196] ، وقال : وَما يَعِدُهُمُ الشَّيْطانُ إِلَّا غُرُوراً [ النساء/ 120] ، وقال : بَلْ إِنْ يَعِدُ الظَّالِمُونَ بَعْضُهُمْ بَعْضاً إِلَّا غُرُوراً [ فاطر/ 40] ، وقال : يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً [ الأنعام/ 112] ، وقال : وَمَا الْحَياةُ الدُّنْيا إِلَّا مَتاعُ الْغُرُورِ [ آل عمران/ 185] ، وَغَرَّتْهُمُ الْحَياةُ الدُّنْيا [ الأنعام/ 70] ، ما وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُوراً [ الأحزاب/ 12] ، وَلا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ [ لقمان/ 33] ، فَالْغَرُورُ : كلّ ما يَغُرُّ الإنسان من مال وجاه وشهوة وشیطان، وقد فسّر بالشیطان إذ هو أخبث الْغَارِّينَ ، وبالدّنيا لما قيل : الدّنيا تَغُرُّ وتضرّ وتمرّ «1» ، والْغَرَرُ : الخطر، وهو من الْغَرِّ ، «ونهي عن بيع الْغَرَرِ» «2» . والْغَرِيرُ : الخلق الحسن اعتبارا بأنّه يَغُرُّ ، وقیل : فلان أدبر غَرِيرُهُ وأقبل هريرة «3» ، فباعتبار غُرَّةِ الفرس وشهرته بها قيل : فلان أَغَرُّ إذا کان مشهورا کريما، وقیل : الْغُرَرُ لثلاث ليال من أوّل الشّهر لکون ذلک منه كالْغُرَّةِ من الفرس، وغِرَارُ السّيفِ : حدّه، والْغِرَارُ : لَبَنٌ قلیل، وغَارَتِ النّاقةُ : قلّ لبنها بعد أن ظنّ أن لا يقلّ ، فكأنّها غَرَّتْ صاحبها . ( غ ر ر ) غررت ( ن ) فلانا ( فریب دینا ) کسی کو غافل پاکر اس سے اپنا مقصد حاصل کرنا غرۃ بیداری کی حالت میں غفلت غرار اونکھ کے ساتھ غفلت اصل میں یہ غر سے ہے جس کے معنی کسی شے پر ظاہری نشان کے ہیں ۔ اسی سے غرۃ الفرس ( کگوڑے کی پیشانی کی سفیدی ہے اور غر ار السیف کے معنی تلوار کی دھار کے ہیں غر الثواب کپڑے کی تہ اسی سے محاورہ ہے : ۔ اطوہ علی غرہ کپڑے کو اس کی تہ پر لپیٹ دو یعنی اس معاملہ کو جوں توں رہنے دو غرہ کذا غرورا سے فریب دیا گویا اسے اس کی نہ پر لپیٹ دیا ۔ قرآن میں ہے ؛ما غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ [ الانفطار/ 6] ای انسان تجھ کو اپنے پروردگار کرم گستر کے باب میں کس چیز نے دہو کا دیا ۔ لا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلادِ [ آل عمران/ 196]( اے پیغمبر ) کافروں کا شہروں میں چلنا پھر تمہیں دھوکا نہ دے ۔ وَما يَعِدُهُمُ الشَّيْطانُ إِلَّا غُرُوراً [ النساء/ 120] اور شیطان جو وعدہ ان سے کرتا ہے سب دھوکا ہے ۔ بَلْ إِنْ يَعِدُ الظَّالِمُونَ بَعْضُهُمْ بَعْضاً إِلَّا غُرُوراً [ فاطر/ 40] بلکہ ظالم جو ایک دوسرے کو وعدہ دیتے ہیں محض فریب ہے ۔ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً [ الأنعام/ 112] وہ دھوکا دینے کے لئے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالنتے رہتے ہیں ۔ وَمَا الْحَياةُ الدُّنْيا إِلَّا مَتاعُ الْغُرُورِ [ آل عمران/ 185] اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے ۔ وَغَرَّتْهُمُ الْحَياةُ الدُّنْيا[ الأنعام/ 70] اور دنیا کی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ۔ ما وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُوراً [ الأحزاب/ 12] کہ خدا اور اس کے رسول نے ہم سے دھوکے کا وعدہ کیا تھا ۔ وَلا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ [ لقمان/ 33] اور نہ فریب دینے والا شیطان ) تمہیں خدا کے بارے میں کسی طرح کا فریب دے ۔ پس غرور سے مال وجاہ خواہش نفسانی ، شیطان اور ہر وہ چیز مراد ہے جو انسان کو فریب میں مبتلا کرے بعض نے غرور سے مراد صرف شیطان لیا ہے کیونکہ چو چیزیں انسان کو فریب میں مبتلا کرتی ہیں شیطان ان سب سے زیادہ خبیث اور بعض نے اس کی تفسیر دنیا کی ہے کیونکہ دنیا بھی انسان سے فریب کھیلتی ہے دھوکا دیتی ہے نقصان پہنچاتی ہے اور گزر جاتی ہے ۔ الغرور دھوکا ۔ یہ غر سے ہے اور ( حدیث میں ) بیع الغرر سے منع کیا گیا ہے (57) الغریر اچھا خلق ۔ کیونکہ وہ بھی دھوکے میں ڈال دیتا ہے ۔ چناچہ ( بوڑھے شخص کے متعلق محاورہ ہے ۔ فلان ادبر غریرہ واقبل ہریرہ ( اس سے حسن خلق جاتارہا اور چڑ چڑاپن آگیا ۔ اور غرہ الفرس سے تشبیہ کے طور پر مشہور معروف آدمی کو اغر کہاجاتا ہے اور مہینے کی ابتدائی تین راتوں کو غرر کہتے ہیں کیونکہ مہینہ میں ان کی حیثیت غرۃ الفرس کی وہوتی ہے غرار السیف تلوار کی دھار اور غرار کے معنی تھوڑا سا دودھ کے بھی آتے ہیں اور غارت الناقۃ کے معنی ہیں اونٹنی کا دودھ کم ہوگیا حالانکہ اس کے متعلق یہ گہان نہ تھا کہ اسکا دودھ کم ہوجائیگا گویا کہ اس اونٹنی نے مالک کو دھوکا دیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

پھر یہ منافقین دیوار کے باہر سے پکاریں گے کہ اے گروہ مومنین کیا ہم دنیا میں تمہارے دین پر نہیں تھے مسلمان کہیں گے ہاں تھے تو سہی مگر تم نے کفر اور نفاق کی وجہ سے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رکھا تھا۔ اور کفر و نفاق سے توبہ کرنے کو چھوڑ رکھا تھا یا یہ کہ تم رسول اکرم کی موت اور اظہار کفر کے منتظر تھے۔ اور اللہ تعالیٰ اور کتاب اللہ اور رسول اللہ کے بارے میں شک رکھتے تھے اور تمہیں تمہاری جھوٹی تمناؤں نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا یہاں تک کہ تم پر اللہ کا حکم آپہنچا کہ کفر و نفاق کی حالت میں تمہیں موت نے آدبوچا۔ اور تمہیں دھوکا دینے والے شیطان نے اطاعت خداوندی سے دھوکا میں ڈال رکھا تھا یا یہ کہ دنیاوی جھوٹی تمناؤں نے۔ غرض آج قیامت کے دن اے گروہ منافقین نہ تم سے کچھ فدیہ لیا جائے گا اور نہ کافروں سے اور تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے وہی تمہاری ہمیشہ کے لیے رفیق ہے اور وہ دوزخ جس کی طرف یہ جائیں گے واقعی برا ٹھکانا ہے کہ وہاں ان کے ساتھی شیاطین اور پڑوسی کفار اور کھانا درخت زقوم اور پینا کھولتا ہوا پانی اور لباس آگ کے ٹکڑے ہوں گے اور ان کے ملاقاتی سانپ بچھو ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٤{ یُــنَادُوْنَھُمْ اَلَمْ نَـکُنْ مَّـعَکُمْ } ” وہ (منافق) انہیں پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ “ ہم تمہارے ساتھ مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نمازیں پڑھا کرتے تھے ۔ عیدوں کی نمازوں میں بھی ہم تمہارے ساتھ ہوتے تھے۔ ہم نے تمہارے ساتھ فلاں فلاں مہمات میں بھی حصہ لیا۔ ہر جگہ ‘ ہر مقام پر ہم تمہارے ساتھ ہی تو تھے۔ پھر آج تمہارے اور ہمارے مابین اتنا فرق و تفاوت کیوں ہے ؟ { قَالُوْا بَلٰی } ” وہ کہیں گے : ہاں کیوں نہیں ! (تم تھے تو ہمارے ساتھ ہی) ۔ “ { وَلٰـکِنَّکُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَکُمْ } ” لیکن تم نے اپنے آپ کو (اپنے ہاتھوں) فتنے میں ڈالا “ فتنہ کیا ہے ؟ قرآن مجید میں فتنے کی تین نسبتیں بیان کی گئی ہیں۔ کہیں تو اللہ تعالیٰ اس کی نسبت اپنی طرف کرتا ہے کہ ہم نے ان کو فتنے میں ڈالا ہے کہ ہم آزما کر ظاہر کردیں کہ کون کھرا ہے ‘ کون کھوٹا ہے ۔ دوسری نسبت ان کفار کی طرف کی گئی جو مسلمانوں کو ستا رہے تھے اور انہیں فتنے میں ڈال رہے تھے۔ تیسری نسبت یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالتا ہے۔ یعنی جو لوگ اہل و عیال اور متاع دنیوی کی محبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں اور ان کی محبت کو اللہ کی محبت پر ترجیح دیتے ہیں وہ اپنے آپ کو فتنے میں مبتلا کرلیتے ہیں۔ اس فتنے کا ذکر سورة التغابن میں بایں الفاظ فرمایا گیا : { اِنَّمَآ اَمْوَالُـکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ} (آیت ١٥) ” بلاشبہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد (تمہارے حق میں) فتنہ ہیں “۔ اللہ تعالیٰ ‘ اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور جہاد فی سبیل اللہ کے مقابلے میں اپنے مال و متاع اور اہل و عیال کو عزیز ترجاننا سب سے بڑا فتنہ ہے۔ یہاں پر سورة التوبہ کی یہ آیت بھی ذہن میں تازہ کرلیں : { قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ ۔ } ” (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان سے) کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ ‘ تمہارے بیٹے ‘ تمہارے بھائی ‘ تمہاری بیویاں (اور بیویوں کے لیے شوہر) ‘ تمہارے رشتہ دار اور وہ مال جو تم نے بہت محنت سے کمائے ہیں ‘ اور وہ تجارت جس کے مندے کا تمہیں خطرہ رہتا ہے ‘ اور وہ مکانات جو تمہیں بہت پسند ہیں ‘ ( اگر یہ سب چیزیں) تمہیں محبوب تر ہیں اللہ ‘ اس کے رسول اور اس کے راستے میں جہاد سے ‘ تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ سنا دے۔ اور اللہ ایسے فاسقوں کو راہ یاب نہیں کرتا۔ “ اس آیت نے گویا ایک ترازو نصب کر کے اس کے ایک پلڑے میں آٹھ اور دوسرے میں تین محبتیں رکھ دی ہیں۔ اب ہر کوئی اپنے اپنے پلڑوں کی کیفیت کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتا ہے کہ وہ کہاں کھڑا ہے۔ تو اے گروہ منافقین ! تم خود بتائو تم نے اپنی زندگیوں میں ان میں سے کونسے پلڑے کو جھکا کر رکھا تھا ؟ آٹھ محبتوں والے پلڑے کو یا اللہ و رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور جہاد کی محبت والے پلڑے کو ؟ ظاہر ہے دنیا میں تم لوگ دنیاداری کے تقاضوں کو ‘ اپنے مال و منال اور اہل و عیال کو اللہ کی رضا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت پر ترجیح دیتے رہے ہو۔ یہ تمہارا اپنا فیصلہ تھا۔ یہ فیصلہ کرکے تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا اور اس کا نتیجہ کیا نکلا ؟ { وَتَرَبَّصْتُمْ } ” اور تم گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہوگئے “ یہ وہی لفظ ہے جو سورة التوبہ کی مذکورہ بالا آیت کے آخر میں (فَتَرَبَّصُوْا) آیا ہے۔ تَرَبُّص کے معنی انتظار کے بھی ہیں کہ آدمی کسی جگہ پر ٹھٹک کر کھڑا ہوجائے۔ ایمان و عمل کے معاملے میں یہ ” انتظار “ ہی دراصل فتنہ ہے۔ یہ ایمان کی ڈانواں ڈول کیفیت کا نام ہے جس کی وجہ سے آدمی فیصلہ نہیں کرسکتا کہ آگے بڑھوں یا نہ بڑھوں ! آگے بڑھتا ہوں تو جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں اور رکتا ہوں تو باز پرس کا ڈر ہے۔ ایسی صورت حال میں وہ سوچنے لگتا ہے کہ کچھ دیر انتظار کرتا ہوں ‘ اگر خطرہ ٹل گیا تو آگے بڑھ جائوں گا ‘ ورنہ پیچھے مڑ جائوں گا۔ اور باز پرس ہوگی تو جھوٹ بول کر جان بچا لوں گا۔ { وَارْتَبْتُمْ } ” اور تم لوگ شکوک و شبہات میں پڑگئے “ پھر تمہاری منافقت کا مرض بڑھ کر اگلے مرحلے میں داخل ہوگیا۔ یعنی پہلے اللہ کے مقابلے میں مال و اولاد کی محبت نے فتنے میں ڈالا ‘ اس کا نتیجہ ” تربُّص “ (گومگو کی کیفیت) کی صورت میں سامنے آیا ۔ پھر اس کے بعد ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب بچے کھچے ایمان میں شکوک و شبہات کے کانٹے چبھنے شروع ہوگئے کہ کیا پتا قیامت آئے گی بھی کہ نہیں ! معلوم نہیں یہ مر کر زندہ ہونے کی باتیں سچی اور واقعی ہیں یا محض افسانے ہیں ! یہ دنیا تو ایک حقیقت ہے ‘ لیکن آخرت کا کیا اعتبار ! یہاں کا عیش اور یہاں کے مزے تو نقد ہیں۔ اس آرام و آسائش کو اگر میں آخرت کے موہوم وعدے پر قربان کر دوں تو پتا نہیں اس کا اجر ملے گا بھی یا نہیں ! اس کے بعد اس مرض کی آخری نشانی بتائی گئی : { وَغَرَّتْکُمُ الْاَمَانِیُّ } ” اور تمہیں دھوکے میں ڈال دیا تمہاری خواہشات نے “ ان خواہشات کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اللہ بڑا غفور رحیم ہے۔ وہ بڑے بڑے گناہگاروں کو بخش دیتا ہے۔ ہم جو بھی ہیں ‘ جیسے بھی ہیں ‘ اللہ تعالیٰ کے محبوب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت ہیں۔ بالکل ایسا ہی زعم یہودیوں کو بھی تھا کہ ہم اللہ کے محبوب و برگزیدہ بندے ہیں : We are the chosen people of the Lord ۔ چناچہ تم لوگ اپنی انہی خوش فہمیوں میں مگن رہے۔ اس مرحلے میں اگر کبھی توبہ کرنے اور روش تبدیل کرنے کا خیال تمہیں آیا بھی تو خوشنما آرزوئوں (wishful thinkings) کے تصور نے تمہارے ضمیر کو تھپک تھپک کر پھر سے سلا دیا۔ { حَتّٰی جَآئَ اَمْرُ اللّٰہِ وَغَرَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ ۔ } ” یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا اور تمہیں خوب دھوکہ دیا اللہ کے معاملے میں اس بڑے دھوکے باز نے۔ “ یعنی شیطان لعین نے تم لوگوں کو اللہ کے نام پر دھوکہ دیا۔ اس حوالے سے سورة لقمان میں ہم یہ تنبیہہ پڑھ چکے ہیں : { فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَاوقفۃ وَلَا یَغُرَّنَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ ۔ } ” تو (دیکھو ! ) تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے دنیا کی زندگی اور ( دیکھنا ! ) تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے اللہ کے حوالے سے وہ بڑا دھوکے باز۔ “ زیر مطالعہ اس آیت میں بہت جامع انداز میں منافقت کے مدارج اور مراحل کے بارے میں بتادیا گیا ہے۔ مرض کا نقطہ آغاز مال و اولاد کی حد سے بڑھی ہوئی محبت سے ہوتا ہے۔ ان چیزوں میں انہماک کی وجہ سے انسان کے دل میں اللہ ‘ اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور جہاد کی محبت بتدریج کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس صورت حال کے نتیجے میں تَرَبَّصکی کیفیت پیدا ہوتی ہے ۔ جس کی وجہ سے ایمان کے اندر شکوک و شبہات کے رخنے پڑجاتے ہیں اور یہ وہ مرحلہ ہے جب نفاق اپنی اصلی شکل میں نمودار ہو کر دل میں مستقل ڈیرے جما لیتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

20 That is, "Did we not live with you together in the same Muslim society? Did we not affirm the Faith? Did we not offer the Prayers along with you and observe the Fast and perform the Hajj and pay the Zakat? Did we not sit with you in your assemblies and were we not bound in marriage ties and kinship with you? Then, how is it that we have been separated from you today?" 21 That is In spite of yew claim to be Muslims, you never believed like true and ,sincere Muslims and remained suspended between belief and unbelief. You still had your interests attached to disbelief and the disbelievers and you never gave yourselves up wholly to Islam." 22 Tarabbus (from which tarabbastum of the Text is derived) means to wait and tarry for an opportunity. When a person is unable to decide which of the two alternative ways he should choose but stands and waits to consider which way should be more favorable for him to follow, he is involved in tarabbus. The hypocrites, had adopted the same attitude during the critical time of the conflict between Islam and un-Islam. Neither were they siding with disbelief openly nor were spending their energy to support and help Islam with full conviction. They were sitting on the fence, waiting to set which party in the conflict became dominant, so that if it was Islam they may join it on the basis of their affimlation of the faith, and if it was unbelief they may side -with its supporters taking advantage of their neutral position in the conflict. 23 This implies different kinds of doubts that a hypocrite suffers from, and the same also are the actual causes of his hypocrisy. He doubts the existence of God, the Prophethood of the Prophet, the Qur'an's being Allah's book, the Hereafter, its accountability, and its rewards and punishments, and he doubts whether the conflict between the Truth and falsehood is real, or a mere delusion; as for himself he considers the only truth to be that one should enjoy lift and its pleasures to the full, For unless a person is involved in such doubts he can never be a hypocrite. 24 This can have two meanings: (1) "Until death came to him, you could not shed this delusion till the last moment"; and (2) "that Islam became dominant, while you looked on unconcerned." 25 That is, Satan.

سورة الْحَدِیْد حاشیہ نمبر :20 یعنی کیا ہم تمہارے ساتھ ایک ہی مسلم معاشرے میں شامل نہ تھے ؟ کیا ہم کلمہ گو نہ تھے ؟ کیا تمہاری طرح ہم بھی نمازیں نہ پڑھتے تھے ؟ روزے نہ رکھتے تھے ؟ حج اور زکوٰۃ ادا نہ کرتے تھے ؟ کیا تمہاری مجلسوں میں ہم شریک نہ ہوتے تھے ؟ تمہارے ساتھ ہمارے شادی بیاہ اور رشتہ داری کے تعلقات نہ تھے ؟ پھر آج ہمارے اور تمہارے درمیان یہ جدائی کیسی پڑگئی؟ سورة الْحَدِیْد حاشیہ نمبر :21 یعنی مسلمان ہو کر بھی تم مخلص مسلمان نہ بنے ، ایمان اور کفر کے درمیان لٹکتے رہے ، کفر اور کفار سے تمہاری دلچسپیاں کبھی ختم نہ ہوئیں ، اور اسلام سے تم نے کبھی اپنے آپ کو پوری طرح وابستہ نہ کیا ۔ سورة الْحَدِیْد حاشیہ نمبر :22 اصل الفاظ ہیں تَرَبَّصْتُمْ ۔ تَرَبُّص عربی زبان میں انتظار کرنے اور موقع کی تلاش میں ٹھہرے رہنے کو کہتے ہیں ۔ جب کوئی شخص دو راستوں میں سے کسی ایک پر جانے کا قطعی فیصلہ نہ کرے ، بلکہ اس فکر میں کھڑا ہو کہ جدھر جانا مفید ہوتا نظر آئے اسی طرف چل پڑے ، تو کہا جائے گا کہ وہ تربص میں مبتلا ہے ۔ منافقین نے کفر و اسلام کی کشمکش کے اس نازک دور میں یہی رویہ اختیار کر رکھا تھا ۔ وہ نہ کھل کر کفر کا ساتھ دے رہے تھے ، نہ پورے اطمینان کے ساتھ اپنی طاقت اسلام کی نصرت و حمایت میں صرف کر رہے تھے ۔ بس اپنی جگہ بیٹھے یہ دیکھ رہے تھے کہ اس قوت آزمائی میں آخر کار پلڑا کدھر جھکتا ہے ، تاکہ اسلام کامیاب ہوتا نظر آئے تو اس کی طرف جھک جائیں اور اس وقت مسلمانوں کے ساتھ کلمہ گوئی کا تعلق ان کے کام آئے ، اور کفر کو غلبہ حاصل ہو تو اس کے حامیوں سے جا ملیں اور اسلام کی طرف سے جنگ میں کسی قسم کا حصہ نہ لینا اس وقت ان کے حق میں مفید ثابت ہو ۔ سورة الْحَدِیْد حاشیہ نمبر :23 اس سے مراد مختلف قسم کے شکوک میں جو ایک منافق کو لاحق ہوتے ہیں ، اور وہی اس کی منافقت کا اصل سبب ہوا کرتے ہیں ۔ اسے خدا کی ہستی میں شک ہوتا ہے ۔ قرآن کے کتاب اللہ ہونے میں شک ہوتا ہے ۔ آخرت اور وہاں کی باز پرس اور جزا و سزا میں شک ہوتا ہے اور اس امر میں شک ہوتا ہے کہ حق اور باطل کا یہ جھگڑا واقعی کوئی حقیقت بھی رکھتا ہے یا یہ سب محض ڈھکوسلے ہیں اور اصل چیز بس یہ ہے کہ خوش باش دمے کہ زندگانی این است ۔ کوئی شخص جب تک ان شکوک میں مبتلا نہ ہو وہ کبھی منافق نہیں ہو سکتا ۔ سورة الْحَدِیْد حاشیہ نمبر :24 اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ۔ ایک کہ تم کو موت آ گئی اور مرتے دم تک تم اس فریب سے نہ نکلے ۔ دوسرے یہ کہ اسلام کو غلبہ نصیب ہو گیا اور تم تماشا دیکھتے رہ گئے ۔ سورة الْحَدِیْد حاشیہ نمبر :25 مراد ہے شیطان ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

12: یعنی اس انتظار میں رہے کہ کب مسلمانوں پر کوئی مصیبت آئے، اور ہم کھلے بندوں اپنے کفر کا اظہار کریں۔ 13: منافقین اس انتظار اور آرزو میں تھے کہ مسلمانوں کو ان دشمنوں کے ہاتھوں شکست ہوجائے، اور (معاذ اللہ) اسلام کا بالکل خاتمہ ہی ہوجائے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(57:14) ینادونھم : ینادون مضارع جمع مذکر غائب مناواۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ وہ پکاریں گے۔ نداء کریں گے۔ ضمیر فاعل منافقین کے لئے ہے۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ۔ مؤمنین کے لئے ہے۔ یعنی منافقین مؤمنین کو پکاریں گے (دیوار کے باہر کی طرف سے) الم نکن معکم۔ ہمزہ استفہامیہ ہے انکاریہ ہے۔ لم نکن مضارع نفی جحد بلم صیغہ جمع متکلم۔ کیا ہم (دنیا میں) تمہارے ساتھ نہ تھے۔ علامہ پانی پتی (رح) اپنی تفسیر مظہری میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں جب دیوار حائل ہوگئی اور منافق تار کی میں رہ جائیں گے تو دیوار کے پیچھے سے منافقوں نے پکار کر کہا۔ کیا تمہارے ساتھ دنیا میں ہم نمازیں نہیں پڑھتے تھے۔ اور روزے نہیں رکھتے تھے۔ مومن اس کے جواب میں کہیں گے۔ کیوں نہیں۔ تم ہمارے ساتھ تھے ۔ اور نمازیں پڑھتے تھے اور روزہ رکھتے تھے لیکن نفاق اور کفر کرکے اور خواہشات و معاصی میں مبتلا رہ کر تم نے خود اپنے آپ کو ہلاک کیا اور تم انتظار کرتے رہے کہ مومنوں پر تباہی کا چکر آجائے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پاجائیں۔ اور اس طرح تم سکھ اور چین سے ہوجاؤ۔ فتنتم : ماضی جمع مذکر حاضر، فتنۃ (باب ضرب) مصدر سے۔ تم نے آزمائش میں ڈالا تم نے گمراہ کیا۔ (انفسکم مضاف مضاف الیہ۔ اپنے نفسوں کو۔ اپنے آپ کو) ۔ تربصتم : ماضی جمع مذکر حاضر۔ تربص (تفعل) مصدر سے۔ تم نے انتظار کیا۔ (مسلمانوں کے برے دنوں کا) ۔ ارتبتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ ارتیاب (افتعال) مصدر۔ تم شک میں پڑے۔ یعنی تم دین میں یا اس عذاب میں جس کی وعید تم کو سنائی گئی تھی شک کیا کرتے تھے۔ وعزتکم الامانی : واؤ عاطفہ غرت فعل ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ الامانی فاعل۔ غرت غرور (باب نصر) مصدر سے۔ اس نے دھوکہ دیا۔ اس نے فریب دیا۔ امانی امنیۃ کی جمع ہے جھوٹی آرزوئیں۔ خیالات کے اندازے : امیدیں ٹھہرائی ہوئیں بےبنیاد تمنائیں ۔ جیسے مسلمانوں پر مصائب و شدائد کا نزول۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور اس کے بعد دین اسلام کا خاتمہ۔ (یہ جھوٹی امیدیں تھیں جن پر یہ منافقین دنیا میں سہارا لگائے رہے) ۔ حتی جاء امر اللہ : امر سے مراد یہاں موت ہے۔ الغرور : غرور (باب نصر) مصدر سے (بمعنی فریب دینا۔ فریب) مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت دھوکہ دینے والا۔ بہت فریب دینے والا۔ دھوکے کی ٹٹی۔ شیطان۔ دنیا یا مال و جاہ یا خواہش نفسانی اور ہر وہ چیز جو انسان کو فریب میں مبتلا کر دے۔ مغرور۔ جھوٹی تمناؤں میں پڑا ہوا۔ اپنے متعلق دھوکہ کھایا ہوا۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور تم کو دھوکہ دینے والے (شیطان) نے اللہ کے متعلق دھوکہ میں ڈال رکھا تھا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 مطل بیہ ہے کہ یہاں تمہیں روشنی ملنے والی نہیں ہے۔ یہ روشنی تو ایمان اور نیک اعمال کی ہے جو ہم نے دنیا میں کئے تھے۔ اب اگر پلٹ کر دنیا میں جاسکتے ہو تو چلے جائو اور وہاں سے روشنی کما کرلے آئو … ایک روایت میں ہے کہ پل صراط کے پاس اللہ تعالیٰ ہر مومن اور منافق کو روشنی دے گا۔ جب سب لوگ پل صراط پر پہنچیں گے تو اللہ تعالیٰ منافقوں کی روشنی سلب کرلے گا اس وقت ایمانداروں سے درخواست کریں۔ انظھقا نفیس من نورکم اور ایماندار کہیں گے ربنا اتملنا نورناً اے رب ہمارے ہماری روشنی مکمل فرما (یعنی جنت میں داخل ہوجانے تک اسے باقی رکھ) اس موقع پر کوئی کسی دوسرے کو نہ پوچھے گا۔ 9 اس دیوار سے مراد وہ دیوار ہے جو جنت اور دوزخ کے درمیان ہوگی۔ (شو کانی)10 جو آج ہمیں اکیلا چھوڑے دیتے ہو۔11 کہ کب ہم مسلمانوں پر کوء آفت نازل ہوتی ہے۔ “2 ۃ یعنی تم سمجھتے رہے بس چند دن میں مسلمان تباہ ہوجائیں گے اور اسلام کا نام و نشان تک مٹ جائے گا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ مرد بےہودہ تمناوں سے یہ کہ اسلام مٹ جائے گا اور یہ کہ ہمارا مذہب حق اور موجب نجات ہے، اور مراد حکم خدا سے موت ہے یعنی عمر بھر ان ہی کفریات پر مصر رہے، توبہ بھی نہ کی۔ 5۔ حاصل مجموعہ کا یہ ہے کہ ان کفریات کی وجہ سے تمہاری معیت ظاہر یہ نجات کے لئے کافی نہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کی جنتیوں سے آخری فریاد۔ جب جنتی منافقین سے یہ کہیں گے کہ اپنے پیچھے جاکر روشنی تلاش کرو تو منافق کہیں گے کیا دنیا میں ہم تمہارے ساتھ نہیں رہتے تھے ؟ جنتی جواب دیں گے کیوں نہیں ! تم ہمارے ساتھ رہتے تھے لیکن تم نے اپنے آپ کو دھوکے میں رکھا، اسلام کے بارے میں شک میں مبتلا رہے، ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں منتظر رہے کہ کب اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچے گا۔ ان آرزؤں اور شیاطین نے تمہیں ہمیشہ دھوکے میں رکھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آپہنچا۔ تم یہ کام دنیا کے فائدے کی خاطر منافقت کرتے تھے لہٰذا آج اپنے کیے کی سزا پاؤ۔ آج کفار اور تم سے نہ کسی قسم کا فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ تم عذاب سے نجات پاسکو گے۔ لہٰذا تمہارا ٹھکانہ آگ ہے جس کے تم سزاوار ہو۔ رہنے کے اعتبار سے یہ بدترین اور اذّیت ناک جگہ ہے۔ اس موقع پر جنتی لوگ منافق عورتوں اور مردوں کو پانچ باتیں ارشاد فرمائیں گے۔ 1 ۔ دنیا میں تم نے منافقت کر کے اپنے آپ کو لامتناہی مصیبت میں ڈال لیا ہے۔ 2 ۔ دنیا میں تم ہمارے نقصان کے منتظررہتے تھے لہٰذا آج تم ناقابل برداشت اور لامحدود نقصان میں مبتلا رہو گے۔ 3 ۔ دنیا میں تم دین اسلام کے بارے میں شک کا شکار رہے اور اب اس شک کی ہمیشہ سزا پاؤ گے۔ 4 ۔ دنیا میں شیطان نے تمہیں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے فرمان کے فرامین میں دھوکہ میں رکھا اس لیے آج اس دھوکے کی سزا پاتے رہو۔ 5 ۔ دنیا میں تم اپنے مفاد کی خاطر دین اور مسلمانوں کا نقصان چاہتے اور کرتے تھے لہٰذا تم جہنم کے لائق ہو، جو تمہارے رہنے کے لیے بدترین جگہ ہے، تم دنیا کے مفاد کی خاطر اللہ اور اس کے رسول کے فرمان پر حقیقی ایمان نہ لائے اس لیے آج تم سے کسی قسم کا فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ (اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ ہُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِہِمْ مِّلْ ءُ الْاَرْضِ ذَہَبً وَّلَوِ افْتَدٰی بِہٖ اُولٰٓءِکَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَہُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْن) (آل عمران : ٩١) ” بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور وہ کفر کی حالت میں مرگئے ان میں سے کسی ایک سے بھی فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اگرچہ وہ زمین بھر کر سونا پیش کرئے ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا اور کوئی ان کی مدد نہیں کرسکے گا۔ “ مسائل ١۔ کفار اور منافقین کو ہمیشہ جہنم میں رہنا ہوگا۔ ٢۔ رہنے کے اعتبار سے جہنم بدترین جگہ ہے۔ تفسیر بالقرآن منافقین کا اللہ اور اس کے رسول اور دین کے بارے میں روّیہ : ١۔ منافق دوغلی زبان اور دوغلے کردار کا مالک ہوتا ہے۔ (البقرۃ : ١٣، ١٤) ٢۔ منافق اسلام کا دعویٰ کرتا ہے لیکن طاغوت کے فیصلہ پر خوش ہوتا ہے۔ (النساء : ٦٠) ٣۔ مسلمانوں کو تکلیف پہنچا کر صفائی کی قسمیں اٹھاتا ہے۔ (النساء : ٦٢) ٤۔ منافق کی زبان اور دل میں تضاد ہونا۔ (آل عمران : ١٦٧) ٥۔ منافق بغیر تحقیق کے افواہیں اڑاتا ہے۔ (النساء : ٨٢) ٦۔ منافق صرف دنیا کی کامیابی چاہتا ہے۔ (النساء : ١٤١) ٧۔ جب قرآن مجید کی تلاوت کی جائے تو منافقین ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔ (التوبہ : ١٢٧) ٨۔ منافقین قرآن مجید کے نزول کا مذاق اڑاتے اور کہتے ہیں اس سے کس کے ایمان میں اضافہ ہوا ؟ (التوبہ : ١٢٤) ٩۔ منافق اللہ اور اس کے رسول کے مقابلے میں بہانے تراشنے لگتے ہیں۔ (التوبہ : ٨٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ینادونھم ............ معکم (٧٥ : ٤١) ” وہ انہیں پکار کر کہیں گے ” کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے “ ؟ اب ہم کیوں جدا ہورہے ہیں۔ دنیا میں تو ہم تمہارے ساتھ ایک ہی جگہ زندہ رہے تھے۔ ایک ہی سطح پر اور یہاں بھی ہم ایک ہی جگہ تمہارے ساتھ اٹھائے گئے ہیں۔ قالو بلی (٧٥ : ٤١) وہ کہیں ہاں “ معاملہ تو ایسا ہی ہے۔ ولکنکم ................ انفسکم (٧٥ : ٤١) ” مگر تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا “۔ تم نے اپنے آپ کو ہدایت سے توڑ لیا۔ وتربصتم (٧٥ : ٤١) ” موقع پرستی کی “۔ تم نے عزم کرکے فیصلہ کن انداز میں حق کا راستہ اختیار نہ کیا۔ وارتبتم (٧٥ : ٤١) ” شک میں پڑے رہے “۔ تمہیں یقین کی وہ دولت نہ دی گئی جس کے ذریعے تم آتش نمرود میں کود جاتے۔ وغرتکم الامانی (٧٥ : ٤١) ” اور جھوٹی توقعات تمہیں دھوکہ دیتی رہیں “۔ تم نے یہ سوچا کہ اسی طرح تذبذب منافقت اور لاٹھی کو دونوں جانب سے پکڑنے میں کامیابی ہے۔ حتی جاء امر اللہ (٧٥ : ٤١) ” یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا “۔ وغرکم باللہ الغرور (٧٥ : ٤١) ” اور آخر تک وہ بڑا دھوکہ باز تمہیں اللہ کے معاملے میں دھوکہ دیتا رہا۔ “ یہ شیطان تھا۔ تمہیں نئی نئی لالچیں دیتا اور تمناؤں کی دنیا میں بساتا۔ اب مومنین ان کو مزید یاد دلاتے ہیں اور فیصلہ سناتے ہیں گویا آج فیصلہ ان کے ہاتھ میں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

15:۔ ” ینادونہم “ منافقین مومنوں سے کہیں گے کیا دنیا میں ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ دنیا میں ہم تمہارے دین پر تھے اور تمہارے ساتھ مل کر نمازیں بھی پڑھا کرتے تھے اس لیے آج کچھ تو ہماری مدد کرو۔ ” قالوا بلی “ مومنین جواب دیں گے بیشک تم ہمارے ساتھ تھے لیکن تم نے منافقت کر کے اپنی جانوں کو ہلاکت میں ڈال لیا۔ تم کہلاتے تو مسلمان تھے لیکن ہمیشہ مسلمانوں کے مصائب میں مبتلا ہونے کے منتظر اور آرزو مند رہتے تھے اور حقیقت یہ ہے کہ تمہیں اللہ کی توحید میں اور دین اسلام کی صداقت میں شک تھا اور تم دل سے مسلمان تھے ہی نہیں ” وغرتکم الامانی “ تمہیں مختلف جھوٹی آرزوؤں نے دھوکے میں ڈالے رکھا تم نے یہ سمجھا کہ ابھی چند دنوں کے اندر اندر اسلام کا نام و نشان مٹنے والا ہے اس لیے تم نے دوغلی پالیسی اختیار کیے رکھی یہاں تک کہ موت نے تمہی آلیا۔ الامانی الفارغۃ التی من جمل تھا الطمع فی انتک اس الاسلام۔۔ (روح ج 27 ص 177) ۔ ” وغرکم باللہ الغرور “ الغرور بفتح غین صفت مشبہ ہے اور اس سے مراد شیطان ہے۔ شیطان نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمہیں دھوکے میں رکھا اور تمہیں باور کراتا رہا کہ کوئی حشر و نشر اور حساب کتاب نہیں اور اگر بالفرض کچھ ہوا بھی تو اللہ تعالیٰ بڑا مہربان ہے معاف فرما دے گا۔ وغرکم الشیطان بان اللہ عفو کریم لا یعذبکم او بانہ لا بع ولا حساب (مدارک ج 4 ص 170) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(14) یہ منافق مسلمانوں کو پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے وہ کہیں گے بیشک تم ہمارے ساتھ تھے لیکن تم نے اپنے آپ کو گمراہی میں مبتلا کررکھا تھا اور تم ہم پر حوادثات کا انتظار کیا کرتے تھے اور تم شک رکھتے تھے اور تمہاری غلط امیدوں اور آرزوئوں نے تم کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا یہاں ت کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آپہنچا یعنی تم کو موت آگئی اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمکو اس دھوکے باز یعنی شیطان نے دھوکہ میں مبتلا رکھا۔ یعنی بظاہر نماز روزے میں شریک تھے لیکن تم نفاق کی گمراہی میں مبتلا تھے اور تم نے اپنے آپ کو نفاق کے فتنے میں ڈال رکھا تھا اور تم توحید اور پیغمبر کے متعلق شک کیا کرتی تھے اور حوادثات کے منتظر رہتے تھے کہ مسلمان کب مٹیں اور ان کا دین کب ختم ہو اور تم کو تمہاری بیہودہ تمنائوں نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا تم آخر تک اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ موت آگئی اور تم کو شیطان نے اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ دھوکے میں ڈال رکھا تھا وہ دھوکہ یہ کہ اللہ تعالیٰ تم سے کوئی باز پرس اور مواخذہ نہیں کرے گا۔