Surat ul Hadeed

Surah: 57

Verse: 5

سورة الحديد

لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴿۵﴾

His is the dominion of the heavens and earth. And to Allah are returned [all] matters.

آسمانوں کی اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور تمام کام اس کی طرف لوٹائے جاتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

His is the kingdom of the heavens and the earth. And to All�h return all the matters. asserts that Allah is the King and Owner of this life and the Hereafter. Allah said in another Ayah, وَإِنَّ لَنَا لَلٌّخِرَةَ وَالاٍّولَى And truly, unto Us (belong) the last (Hereafter) and the first (this world). (92:13) Surely, Allah is praised for this attribute, just as He said in other Ayat, وَهُوَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِى الاٍّولَى وَالاٌّخِرَةِ And He is Allah, La ilaha illa Huwa, all praise is His in the first and in the last. (28:70) and, الْحَمْدُ للَّهِ الَّذِى لَهُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ وَلَهُ الْحَمْدُ فِى الاٌّخِرَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ All the praise is Allah's, to Whom belongs all that is in the heavens and all that is in the earth. His is all the praise in the Hereafter, and He is the All-Wise, the All-Aware. (34:1) Allah owns everything that is in the heavens and earth, and all their inhabitants are servants to Him and humble before Him, just as He said, إِن كُلُّ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ إِلاَّ اتِى الرَّحْمَـنِ عَبْداً لَّقَدْ أَحْصَـهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدّاً وَكُلُّهُمْ ءَاتِيهِ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ فَرْداً There is none in the heavens and the earth but comes unto the Most Gracious as a servant. Verily, He knows each one of them, and has counted them a full counting. And every one of them will come to Him alone on the Day of Resurrection. (19:93-95) This is why Allah said here, ... وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الامُورُ And to Allah return all the matters. meaning that all matters will be referred to Him on the Day of Resurrection and He will judge His creation as He wills. Indeed, He is the Most Just, Who never falls into injustice, not even the weight of a speck of dust; if one performs even one good deed, Allah will multiply it up to ten times, وَيُوْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْراً عَظِيماً (and gives from Him a great reward. (4:40) وَنَضَعُ الْمَوَزِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَـمَةِ فَلَ تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْياً وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَـسِبِينَ And We shall set up Balances of justice on the Day of Resurrection, then none will be dealt with unjustly in anything. And if there be the weight of a mustard seed, We will bring it. And sufficient are We to take account. (21:47) Allah's statement,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨] یعنی کائنات کی ہر چیز پر اللہ تعالیٰ کی فرمانروائی ہے۔ ہر چیز سے وہ جو کام چاہتا ہے لے رہا ہے۔ اور جب چاہے گا اس نظام کو درہم برہم کرکے ایک دوسرا عالم قائم کردے گا۔ تم اس کی قلمرو سے بھاگ کر نہ اب کہیں جاسکتے ہو نہ آخرت کے دن کہیں جاسکو گے اور تمہارے اعمال کا ریکارڈ پہلے ہی اس کے پاس موجود ہے۔ اور ہر معاملہ کا اور ہر کام کا انجام بھی اسی کی طرف ہے اور فیصلہ بھی وہیں سے صادر ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج : یہ جملہ آیت (٢) میں گزرا ہے ، دوبارہ تاکید کے لیے لایا گیا ہے۔ ٢۔ وَاِلَی اللہ ِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ :” الی اللہ “ پہلے لانے کا مطلب یہ ہے کہ تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹائے جانے ہیں، کسی اور کی طرف نہیں ، لہٰذا وہی تمام اعمال کا فیصلہ فرمائے گا اور ان کی جزاء یا سزا دے گا ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَہٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ ٠ ۭ وَاِلَى اللہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۝ ٥ إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا[ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، وقال تعالی: وَلا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ [ النور/ 22] قيل : هو يفتعل من ألوت، وقیل : هو من : آلیت : حلفت . وقیل : نزل ذلک في أبي بكر، وکان قد حلف علی مسطح أن يزوي عنه فضله وردّ هذا بعضهم بأنّ افتعل قلّما يبنی من «أفعل» ، إنما يبنی من «فعل» ، وذلک مثل : کسبت واکتسبت، وصنعت واصطنعت، ورأيت وارتأيت . وروي : «لا دریت ولا ائتلیت»وذلک : افتعلت من قولک : ما ألوته شيئا، كأنه قيل : ولا استطعت . الیٰ ۔ حرف ( جر ) ہے اور جہات ستہ میں سے کسی جہت کی نہایتہ حدبیان کرنے کے لئے آتا ہے ۔ ( ا ل و ) الوت فی الامر کے معنی ہیں کسی کام میں کو تا ہی کرنا گو یا کوتاہی کرنے والا سمجھتا ہے کہ اس امر کی انتہا یہی ہے ۔ اور الوت فلانا کے معنی اولیتہ تقصیرا ( میں نے اس کوتاہی کا والی بنا دیا ) کے ہیں جیسے کسبتہ ای اولیتہ کسبا ( میں نے اسے کسب کا ولی بنا دیا ) ماالوتہ جھدا میں نے مقدر پھر اس سے کوتاہی نہیں کی اس میں جھدا تمیز ہے جس طرح ماالوتہ نصحا میں نصحا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا } ( سورة آل عمران 118) یعنی یہ لوگ تمہاری خرابی چاہنے میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے ۔ اور آیت کریمہ :{ وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ } ( سورة النور 22) اور جو لوگ تم میں سے صاحب فضل داور صاحب وسعت ) ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ الوت سے باب افتعال ہے اور بعض نے الیت بمعنی حلفت سے مانا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر کے متعلق نازل ہوئی تھی جب کہ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ آئندہ مسطح کی مالی امداد نہیں کریں گے ۔ لیکن اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ فعل ( مجرد ) سے بنایا جاتا ہے جیسے :۔ کبت سے اکتسبت اور صنعت سے اصطنعت اور رایت سے ارتایت اور روایت (12) لا دریت ولا ائتلیت میں بھی ماالوتہ شئیا سے افتعال کا صیغہ ہے ۔ گویا اس کے معنی ولا استطعت کے ہیں ( یعنی تونے نہ جانا اور نہ تجھے اس کی استطاعت ہوئ ) اصل میں رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته : إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اسی کے قبضہ قدرت میں آسمانوں اور زمین کے خزانے ہیں اور آخرت میں تمام کاموں کا انجام اسی کے سامنے لوٹ جائے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥{ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ” آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے۔ “ اللہ تعالیٰ کی ” بادشاہی “ کے بارے میں تکرار و تاکید کا خصوصی اسلوب ملاحظہ ہو۔ آیت ٢ کے ہوبہو الفاظ یہاں پھر دہرائے گئے ہیں۔ اس مضمون کے حوالے سے یہ نکتہ بھی سمجھنے کا ہے کہ جس طرح اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں اسی طرح اس کے علاوہ کوئی اور حاکم و مقتدر بھی نہیں۔ چناچہ جس طرح اللہ کو اکیلے معبود کے طور پر ماننا ضروری ہے ‘ اسی طرح توحید کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اللہ کی زمین پر صرف اسی کی بادشاہی قائم ہو اور اس کے تمام احکام عملاً نافذ ہوں۔ { وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ۔ } ” اور تمام معاملات اسی کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(57:5) والی اللہ ترجع الامور اور اللہ کی طرف ہی سب امور لوٹائے جائیں گے۔ صاحب تفسیر حقانی اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں :۔ عالم سفلی سے لے کر عالم علوی تک اور جسمانی سے لے کر روحانی تک جن کے کاروبار اسباب پر مبنی ہیں۔ سب اسباب اسی مسبب الاسباب کی طرف رجوع کرتے ہیں یعنی قبضہ قدرت میں ہیں۔ اور تمام کائنات کا وہی مرکز اصلی ہے۔ سب کا میلان اسی طرف ہے۔ ہمہ رو سوئے تو بود و ہمہ سو روئے تو بود ” مگر بہیمیت کے ظلمات اور رسم و رواج کی تقلید کے پتھر اس کے راستے میں حائل ہو کر اس کو اس طرف جانے سے روک دیتے ہیں انہیں کے دور کرنے کو انبیاء (علیہم السلام) اور کتابیں بھیجی جاتی ہیں “۔ ترجع مضارع مجہول واحد مؤنث غائب رجع (باب ضرب) مصدر بمعنی لوٹانا۔ اور ر، ج، ع : مادہ سے رجوع (باب ضرب) مصدر سے بمعنی لوٹنا۔ (فعل لازم آتا ہے) یہاں ترجع۔ رجع سے آیا ہے۔ جملہ لہ ملک السموت والارض آیت 2 کے شروع میں بھی آیا ہے اور یہاں اس کا تکرار ہے وہاں آغاز آفرنیش کا ذکر کرکے یہ آیت ذکر کی تھی اور دوبارہ اب یہاں انجام امور کے ساتھ اس کا ذکر کیا ہے گویا آیت آغاز و انجام دونوں کی تمہید ہے (تفسیر مظہری) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 ” نہ کہ کسی اور کی طرف “ لہٰذا وہی تمام اعمال کا فیصلہ فرمائے گا اور بندوں کو اس کے متعلق جزا یا سزا دے گا

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی قیامت میں سب پیش ہوجائیں گے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

5:۔ ” لہ ملک السموات “ یہ توحید کے تیسرے مرتبے کا اعادہ ہے خالق ومالک بھی وہی ہے اور تخت بادشاہی پر بھی وہی مستوی ہے اور کائنات کے تمام معاملات اسی کی طرف راجع ہیں۔ اور کائنات میں وہی متصرف اور مختار ہے۔ ” یولج الیل فی النہار “ یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار و تصرف کا ایک نمونہ ہے یعنی رات دن کا آنا جانا اور ان کا گھٹنا اور بڑھنا اللہ کے اختیار میں ہے اور اس کا علم اس قدر محیط اور کامل ہے کہ وہ سینوں کے پوشیدہ رازوں کو بھی اچھی طرح جانتا ہے۔ جب ساری کائنات کا خالق و مربی اور ساری کائنات میں بلا شرکت غیرے متصرف و مختار وہی ہے تو لامحالہ وہی سب کا کارساز ہے۔ اور حاجات و مصائب میں مافوق الاسباب پکار کے لائق بھی وہی ہے۔ یہ توحید کا تیسرا مرتبہ ہے۔ توحید کے یہ تینوں مراتب سورة انعام کی ابتداء میں مذکور ہوئے ہیں اور اسی طرح سورة حشر کی آخری آیتوں اور پھر سورة الناس کی ابتدائی آیتوں میں بھی مذکور ہوں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(5) اسی کا راج ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور آسمانوں اور زمین کی سلطنت اسی کے لئے ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف تمام امور کی بازگشت ہے یعنی تمام اجسام ہوں یا اعمال سب اسی کے حضور میں پھرنے والے اور پیش ہونے والے ہیں۔