Surat ul Hashar

The Exile

Surah: 59

Verses: 24

Ruku: 3

Listen to Surah Recitation
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

صحیح بخاری شریف اور صحیح مسلم شریف میں ہے کہ حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا یہ سورہ حشر ہے تو آپ نے فرمایا قبیلہ بنو نضیر کے بارے میں اتری ہے ۔ بخاری شریف کی اور روایت میں ہے کہ آپ نے جواباً فرمایا یہ سورت سورہ بنو نضیر ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة الْحَشْر نام : دوسری آیت کے فقرے اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ مِنْ دِیَارِھِمْ لِاَ وَّلِ الْحَشْرِ سے ماخوذ ہے ۔ مراد یہ ہے کہ یہ وہ سورۃ ہے جس میں لفظ الحشر آیا ہے ۔ زمانۂ نزول : بخاری و مسلم میں حضرت سعید بن جُبیر کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس سے سورہ حشر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ غزوہ بنی نضیر کے بارے میں نازل ہوئی تھی جس طرح سورہ انفال غزوہ بدر کے بارے میں نازل ہوئی ۔ حضرت سعید بن جبیر کی دوسری روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے الفاظ یہ ہیں کہ : قل سورۃ النَّضِیْر یعنی یوں کہو کہ یہ سورہ نضیر ہے ۔ یہی بات مجاہد ، قتادہ ، زہری ، ابن زید ، یزید بن رومان ، محمد بن اسحاق وغیرہ حضرات سے بھی مروی ہے ۔ ان سب کا متفقہ بیان یہ ہے کہ اس میں جن اہل کتاب کے نکالے جانے کا ذکر ہے ان سے مراد بنی النضیر ہی ہیں ۔ یزید بن رومان ، مجاہد اور محمد بن اسحاق کا قول یہ ہے کہ از اول تا آخر یہ پوری سورۃ اسی غزوہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ اب رہا یہ سوال کہ یہ غزوہ کب واقع ہوا تھا ؟ امام زہری نے اس کے متعلق عُرہ بن زبیر کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ یہ جنگ بدر کے چھ مہینے بعد ہوا ہے ۔ لیکن ابن سعد ، ابن ہشام اور بَلَاذُرِی اسے ربیع الاول 4 ہجری کا واقعہ بتاتے ہیں ، اور یہی صحیح ہے ۔ کیونکہ تمام روایات اس امر میں متفق ہیں یہ غزوہ بِئر مَعُونَہ کے سانحہ کے بعد پیش آیا تھا ، اور یہ بات بھی تاریخی طور پر ثابت ہے کہ بئَر معونہ کا سانحہ جنگ احد کے بعد رونما ہوا ہے نہ کہ اس سے پہلے ۔ تاریخی پس منظر : اس سورہ کے مضامین کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مدینہ طیبہ اور حجاز کے یہودیوں کی تاریخ پر ایک نگاہ ڈال لی جائے ، کیونکہ اس کے بغیر آدمی ٹھیک ٹھیک یہ نہیں جان سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر کار ان کے مختلف قبائل کے ساتھ جو معاملہ کیا اس کے حقیقی اسباب کیا تھے ۔ عرب کے یہودیوں کی کوئی مستند تاریخ دنیا میں موجود نہیں ہے ۔ انہوں نے خود اپنی کوئی ایسی تحریر کسی کتاب یا کتبے کی شکل میں نہیں چھوڑی ہے جس سے ان کے ماضی پر کوئی روشنی پڑ سکے ۔ اور عرب سے باہر کے یہودی مؤرخین و مصنفین نے ان کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے جس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ جزیرۃ العرب میں آ کر وہ اپنے بقیہ ابنائے ملت سے بچھڑ گئے تھے ، اور دنیا کے یہودی سرے سے ان کو اپنوں میں شمار ہی نہیں کرتے تھے ، کیونکہ انہوں نے عبرانی تہذیب ، زبان ، حتیٰ کہ نام تک چھوڑ کر عربیت اختیار کر لی تھی ۔ حجاز کے آثار قدیمہ میں جو کتبات ملے ہیں ان میں پہلی صدی عیسوی سے قبل یہودیوں کا کوئی نشان نہیں ملتا ، اور ان میں بھی صرف چند یہودی نام ہی پائے جاتے ہیں ۔ اس لیے یہود عرب کی تاریخ کا بیشتر انحصار ان زبانی روایات پر ہے جو اہل عرب میں مشہور تھیں ، اور ان میں اچھا خاصا حصہ خود یہودیوں کا اپنا پھیلا ہوا تھا ۔ حجاز کے یہودیوں کا یہ دعویٰ تھا کہ سب سے پہلے وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے آخر عہد میں یہاں آ کر آباد ہوئے تھے ۔ اس کا قصہ وہ یہ بیان کرتے تھے کہ حضرت موسیٰ نے ایک لشکر یثرب کے علاقے سے عَمالقہ کو نکالنے کے لیے بھیجا تھا اور اسے حکم دیا تھا کہ اس قوم کے کسی شخص کو زندہ نہ چھوڑیں ، بنی اسرائیل کے اس لشکر نے یہاں آ کر فرمان نبی کی تعمیل کی ، مگر عمالقہ کے بادشاہ کا ایک لڑکا بڑا خوبصورت جوان تھا ، اسے انہوں نے زندہ رہنے دیا اور اس کو ساتھ لیے ہوئے فلسطین واپس پہنچے ۔ اس وقت حضرت موسیٰ کا انتقال ہو چکا تھا ۔ ان کے جانشینوں نے اس بات پر سخت اعتراض کیا کہ ایک عمالیقی کو زندہ چھوڑ دینا نبی کے فرمان اور شریعت موسوی کے احکام کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ اس بنا پر انہوں نے اس لشکر کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا ، اور اسے مجبوراً یثرب واپس آ کر یہیں بس جانا پڑا ( کتاب الاغانی ، ج 19 ، ص 94 ) ۔ اس طرح یہودی گویا اس بات کے مدعی تھے کہ وہ 12 سو برس قبل مسیح سے یہاں آباد ہیں ۔ لیکن در حقیقت اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے ، اور اغلب یہ ہے کہ یہودیوں نے یہ افسانہ اس لیے گھڑا تھا کہ اہل عرب پر اپنے قدیم الاصل اور عالی نسب ہونے کی دھونس جمائیں ۔ دوسری یہودی مہاجرت ، خود یہودیوں کی اپنی روایت کے مطابق 587 قبل مسیح میں ہوئی جبکہ بابل کے بادشاہ بخت نصر نے بیت المقدس کو تباہ کر کے یہودیوں کو دنیا بھر میں تتر بتر کر دیا تھا ۔ عرب کے یہودی کہتے تھے کہ اس زمانے میں ہمارے متعدد قبائل آ کر وادی القریٰ ، تیماء اور یثرب میں آباد ہو گئے تھے ( فُتُوح البلدان ، البلاذری ) ۔ لیکن اس کا بھی کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے ۔ بعید نہیں کہ اس سے بھی وہ اپنی قدامت ثابت کرنا چاہتے ہوں ۔ درحقیقت جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ جب 70 عیسوی میں رومیوں نے فلسطین میں یہودیوں کا قتل عام کیا ، اور پھر 132 میں انہیں اس سر زمین سے بالکل نکال باہر کیا ، اس دور میں بہت سے یہودی قبائل بھاگ کر حجاز میں پناہ گزین ہوئے تھے ، کیونکہ یہ علاقہ فلسطین کے جنوب میں متصل ہی واقع تھا ۔ یہاں آ کر انہوں نے جہاں جہاں چشمے اور سرسبز مقامات دیکھے ، وہاں ٹھہر گئے اور پھر رفتہ رفتہ اپنے جوڑ توڑ اور سود خواری کے ذریعہ سے ان پر قبضہ جما لیا ۔ ایلہ ، مقنا ، تبوک ، تیماء ، وادی القریٰ ، خدک ، اور خیبر پر ان کا تسلط اسی دور میں قائم ہوا ۔ اور بنی قرَیظہ ، بنی نضیر ، بنی یَہدَل ، اور بنی قَینُقَاع بھی اسی دور میں آ کر یثرب پر قابض ہوئے ۔ یثرب میں آباد ہونے والے قبائل میں سے بنی نضیر اور بنی قریظہ زیادہ ممتاز تھے ، کیونکہ وہ کاہنوں ( Priests ) یا ( Co hens ) کے طبقہ میں سے تھے ، انہیں یہودیوں میں عالی نسب مانا جاتا تھا اور ان کو اپنی ملت میں مذہبی ریاست حاصل تھی ۔ یہ لوگ جب مدینہ میں آ کر آباد ہوئے اس وقت کچھ دوسرے عرب قبائل یہاں رہتے تھے جن کو انہوں نے دبا لیا اور عملاً اس سرسبز و شاداب مقام کے مالک بن بیٹھے ۔ اس کے تقریباً تین صدی بعد 450ء یا 451 میں یمن کے اس سیلاب عظیم کا واقعہ پیش آیا جس کا ذکر سورہ سبا کے دوسرے رکوع میں گزر چکا ہے ۔ اس سیلاب کی وجہ سے قوم سبا کے مختلف قبیلے یمن سے نکل کر عرب کے اطراف میں پھیل جانے پر مجبور ہوئے ۔ ان میں سے غسانی شام میں ، لخمی جبرہ ( عراق ) میں ، بنی خزاعہ جدہ و مکہ کے درمیان ، اور اَوس و خزرج یثرب میں جا کر آباد ہوئے ۔ یثرب پر چونکہ یہودی چھائے ہوئے تھے ، اس لیے انہوں نے اول اول اوس و خزرج کی دال نہ گلنے دی اور یہ دونوں عرب قبیلے چار و ناچار بنجر زمینوں پر بس گئے جہاں ان کو قوت لایموت بھی مشکل سے حاصل ہوتا تھا ۔ آخر کار ان کے سرداروں میں سے ایک شخص اپنے غسانی بھائیوں سے مدد مانگنے کے لیے شام گیا اور وہاں سے ایک لشکر لا کر اس نے یہودیوں کا زور توڑ دیا ۔ اس طرح اوس ، و خزرج کو یثرب پر پورا غلبہ حاصل ہو گیا ۔ یہودیوں کے دو بڑے قبیلے ، بنی نضیر اور بنی قریظہ شہر کے باہر جا کر بسنے پر مجبور ہو گئے ۔ تیسرے قبیلے بنی قَلْینقاع کی چونکہ ان دونوں قبیلوں سے اَن بَن تھی اس لیے وہ شہر کے اندر ہی مقیم رہا ، مگر یہاں رہنے کے لیے اسے قبیلہ خزرج کی پناہ لینی پڑی ۔ اور اس کے مقابلہ میں بنی نضیر و بنی قریظہ نے قبیلہ اوس کی پناہ لی تاکہ اطراف یثرب میں امن کے ساتھ رہ سکیں ۔ ذیل کے نقشہ سے واضح ہو گا کہ اس نئے انتظام کے ماتحت یثرب اور اس کے نواح میں یہودی بستیاں کہاں کہاں تھیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے ، آغاز ہجرت تک ، حجاز میں عموماً اور یثرب میں خصوصاً یہودیوں کی پوزیشن کے نمایاں خد و خال یہ تھے : زبان ، لباس ، تہذیب ، تمدن ، ہر لحاظ سے انہوں نے پوری طرح عربیت کا رنگ اختیار کر لیا تھا ، حتیٰ کہ ان کی غالب اکثریت کے نام تک عربی ہو گئے تھے ۔ 12 یہودی قبیلے جو حجاز میں آباد ہوئے تھے ، ان میں سے بنی زَعُوراء کے سوا کسی قبیلے کا نام عبرانی نہ تھا ۔ ان کے چند گنے چنے علماء کے سوا کوئی عبرانی جانتا تک نہ تھا ۔ زمانہ جاہلیت کے یہودی شاعروں کا جو کلام ہمیں ملتا ہے ان کی زبان اور خیالات اور مضامین میں شعرائے عرب سے الگ کوئی امتیازی شان نہیں پائی جاتی جو انہیں ممیز کرتی ہو ۔ ان کے اور عربوں کے درمیان شادی بیاہ تک کے تعلقات قائم ہو چکے تھے ۔ در حقیقت ان میں اور عام عربوں میں دین کے سوا کوئی فرق باقی نہ رہا تھا ۔ لیکن ان ساری باتوں کے باوجود وہ عربوں میں جذب بالکل نہ ہوئے تھے ، اور انہوں نے شدت کے ساتھ اپنی یہودی عصبیت برقرار رکھی تھی ۔ یہ ظاہری عربیت انہوں نے صرف اس لیے اختیار کی تھی کہ اس کے بغیر وہ عرب میں نہ رہ سکتے تھے ۔ ان کی اس عربیت کی وجہ سے مغربی مستشرقین کو یہ دھوکا ہوا ہے کہ شاید یہ بنی اسرائیل نہ تھے بلکہ یہودی مذہب قبول کرنے والے عرب تھے ، یا کم از کم ان کی اکثریت عرب یہودیوں پر مشتمل تھی ۔ لیکن اس امر کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ملتا کہ یہودیوں نے حجاز میں کبھی کوئی تبلیغی سرگرمی دکھائی ہو ، یا ان کے علماء نصرانی پادریوں اور مشنریوں کی طرح اہل عرب کو دین یہود کی طرف دعوت دیتے ہوں ۔ اس کے برعکس ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے اندر اسرائیلیت کا شدید تعصب اور نسلی فخر و غرور پایا جاتا تھا ۔ اہل عرب کو وہ اُمّی ( Gentiles ) کہتے تھے ، جس کے معنی صرف ان پڑھ کے نہیں بلکہ وحشی اور جاہل کے تھے ۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ ان امیوں کو وہ انسانی حقوق حاصل نہیں ہیں جو اسرائیلیوں کے لیے ہیں اور ان کا مال ہر جائز و ناجائز طریقے سے مار کھانا اسرائیلیوں کے لیے حلال و طیب ہے ۔ سرداران عرب کے ماسوا ، عام عربوں کو وہ اس قابل نہ سمجھتے تھے کہ انہیں دین یہود میں داخل کر کے برابر کا درجہ دے دیں ۔ تاریخی طور پر اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ، نہ روایات عرب میں ایسی کوئی شہادت ملتی ہے کہ کسی عرب قبیلے یا کسی بڑے خاندان نے یہودیت قبول کی ہو ۔ البتہ بعض افراد کا ذکر ضرور ملتا ہے جو یہودی ہو گئے تھے ۔ ویسے بھی یہودیوں کو تبلیغ دین کے بجائے صرف اپنے کاروبار سے دلچسپی تھی ۔ اسی لیے حجاز میں یہودیت ایک دین کی حیثیت سے نہیں پھیلی بلکہ محض چند اسرائیلی قبیلوں کا سرمایہ فخر و ناز ہی بنی رہی ۔ البتہ یہودی علماء نے تعویذ گنڈوں اور فال گیر اور جادوگری کا کاروبار خوب چمکا رکھا تھا جس کی وجہ سے عربوں پر ان کے علم اور عمل کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی ۔ معاشی حیثیت سے ان کی پوزیشن عرب قبائل کی بہ نسبت زیادہ مضبوط تھی ۔ چونکہ وہ فلسطین و شام کے زیادہ متمدن علاقوں سے آئے تھے ، اس لیے وہ بہت سے ایسے فنون جانتے تھے جو اہل عرب میں رائج نہ تھے ۔ اور باہر کی دنیا سے ان کے کاروباری تعلقات بھی تھے ۔ ان وجوہ سے یثرب اور بالائی حجاز میں غلے کی در آمد اور یہاں سے چھوہاروں کی برآمد ان کے ہاتھ میں آگئی تھی ۔ مرغ بانی اور ماہی گیری پر بھی زیادہ تر انہی کا قبضہ تھا ۔ پارچہ بانی کا کام بھی ان کے ہاں ہوتا تھا ۔ جگہ جگہ میخانے بھی انہوں نے قائم کر رکھے تھے جہاں شام سے شراب لا کر فروخت کی جاتی تھی ۔ بنی قینقاع زیادہ تر سنار اور لوہار اور ظروف سازی کا پیشہ کرتے تھے ۔ اس سارے بَنَج بیوپار میں یہ یہودی بے تحاشا منافع خوری کرتے تھے ۔ لیکن ان کا سب سے بڑا کاروبار سود خواری کا تھا جس کے جال میں انہوں نے گرد و پیش کی عرب آبادیوں کو پھانس رکھا تھا ، اور خاص طور پر عرب قبائل کے شیوخ اور سردار ، جنہیں قرض لے لے کر ٹھاٹھ جمانے اور شیخی بگھارنے کی بیماری لگی ہوئی تھی ، ان کے پھندے میں پھنسے ہوئے تھے ۔ یہ بھاری شرح سود پر قرضے دیتے ، اور پھر سود در سود کا چکر چلاتے تھے جس کی گرفت میں آ جانے کے بعد مشکل ہی سے کوئی نکل سکتا تھا ۔ اس طرح انہوں نے عربوں کو معاشی حیثیت سے کھوکھلا کر رکھا تھا ، مگر اس کا فطری نتیجہ یہ بھی تھا کہ عربوں میں بالعموم ان کے خلاف ایک گہری نفرت پائی جاتی تھی ۔ ان کے تجارتی اور مالی مفادات کا تقاضا یہ تھا کہ عربوں میں کسی کے دوست بن کر کسی سے نہ بگاڑیں اور نہ ان کی باہمی لڑائیوں میں حصہ لیں ۔ لیکن دوسری طرف ان کے مفاد ہی کا تقاضا یہ بھی تھا کہ عربوں کو باہم متحد نہ ہونے دیں ، اور انہیں ایک دوسرے سے لڑاتے رہیں ، کیونکہ وہ اس بات کو جانتے تھے کہ جب بھی عرب قبیلے باہم متحد ہوئے ، وہ ان بڑی بڑی جائدادوں اور باغات اور سرسبز زمینوں پر انہیں قابض نہ رہنے دیں گے جو انہوں نے اپنی منافع خوری اور سود خواری سے پیدا کی تھیں ۔ مزید برآں اپنی حفاظت کے لیے ان کے ہر قبیلے کو کسی نہ کسی طاقتور عرب قبیلے سے حلیفانہ تعلقات بھی قائم کرنے پڑتے تھے ، تاکہ کوئی دوسرا زبردست قبیلہ ان پر ہاتھ نہ ڈال سکے ۔ اس بنا پر بارہا انہیں نہ صرف ان عرب قبائل کی باہمی لڑائیوں میں حصہ لینا پڑتا تھا ، بلکہ بسا اوقات ایک یہودی قبیلہ اپنے حلیف عرب قبیلہ کے ساتھ مل کر کسی دوسرے یہودی قبیلے کے خلاف جنگ آزما ہو جاتا تھا جس کے حلیفانہ تعلقات فریق مخالف سے ہوتے تھے ۔ یثرب میں بنی قریظہ اور بنی نضیر اوس کے حلیف تھے اور بنی قینقاع خزرج کے ۔ ہجرت سے تھوڑی مدت پہلے اوس اور خزرج کے درمیان جو خونریز لڑائی بُعاث کے مقام پر ہوئی تھی اس میں یہ اپنے اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے تھے ۔ یہ حالات تھے جب مدینے میں اسلام پہنچا اور بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد وہاں ایک اسلامی ریاست وجود میں آئی ۔ آپ نے اس ریاست کو قائم کرتے ہی جو اولین کام کیے ان میں سے ایک یہ تھا کہ اوس اور خزرج اور مہاجرین کو ملا کر ایک برادری بنائی ، اور دوسرا یہ تھا کہ اس مسلم معاشرے اور یہودیوں کے درمیان واضح شرائط پر ایک معاہدہ طے کیا جس میں اس امر کی ضمانت دی گئی تھی کہ کوئی کسی کے حقوق پر دست درازی نہ کرے گا اور بیرونی دشمنوں کے مقابلے میں یہ سب متحدہ دفاع کریں گے ۔ اس معاہدے کے چند اہم فقرے یہ ہیں جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہود اور مسلمانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات میں کن امور کی پابندی قبول کی تھی: ان علی الیھود نفقتھم و علی المسلمین نفقتھم ، وان بینھم النصر علیٰ من حارب اھل ھٰذہ الصحیفۃ ، وان بینہم النصح والنصیحۃ والبر دون الاثم ، وانہ لم یاثم امرؤٌ بحلیفہ ، وان النصر للمظلوم ، وان الیھود ینفقون مع المؤمنین ماداموا محاربین ، وان یثرب حرام جوفھا لاھل ھٰذہ الصحیفۃ ……… وانہ ما کان بین اھل ھٰذہ الصحیفۃ من حَدَثٍ او اشتجار یخاف فسادہ فان مردہ الی اللہ عزو جل و الیٰ محمد رسول اللہ ……… وانہ لا تجار قریش ولا من نصرھا ، وان بینھم النصر علی من دھم یثرب ۔ علی کل اناس حصتہم من جانبھم الذی قِبَلَھم ۔ ( ابن ہشام ، ج 2 ، ص 147 تا 150 ) یہ کہ یہودی اپنا خرچ اٹھائیں گے اور مسلمان اپنا خرچ ، اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکاء حملہ آور کے مقابلہ میں ایک دوسرے کی مدد کے پابند ہوں گے ۔ اور یہ کہ وہ خلوص کے ساتھ ایک دوسرے کی خیر خواہی کریں گے اور ان کے درمیان نیکی و حق رسانی کا تعلق ہو گا نہ کہ گناہ اور زیادتی کا ، اور یہ کہ کوئی اپنے حلیف کے ساتھ زیادتی نہیں کرے گا ، اور یہ کہ مظلوم کی حمایت کی جائے گی ، اور یہ کہ جب تک جنگ رہے یہودی مسلمانوں کے ساتھ مل کر اس کے مصارف اٹھائیں گے ، اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکاء پر یثرب میں کسی نوعیت کا فتنہ و فساد کرنا حرام ہے ، اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکاء کے درمیان اگر کوئی ایسا قضیہ یا اختلاف رونما ہو جس سے فساد کا خطرہ ہو تو اس کا فیصلہ اللہ کے قانون کے مطابق محمد رسول اللہ کریں گے ، ………… اور یہ کہ قریش اور اس کے حامیوں کو پناہ نہیں دی جائے گی اور یہ کہ یثرب پر جو بھی حملہ آور ہو اس کے مقابلے میں شرکاء معاہدہ ایک دوسرے کی مدد کریں گے ……… ہر فریق اپنی جانب کے علاقے کی مدافعت کا ذمہ دار ہو گا ۔ یہ ایک قطعی اور واضح معاہدہ تھا جس کی شرائط یہودیوں نے خود قبول کی تھیں ۔ لیکن بہت جلدی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ روش کا اظہار شروع کر دیا اور ان کا عناد روز بروز سخت سے سخت تر ہوتا چلا گیا ۔ اس کے بڑے بڑے وجوہ تین تھے ۔ ایک یہ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محض ایک رئیس قوم دیکھنا چاہتے تھے جو ان کے ساتھ بس ایک سیاسی معاہدہ کر کے رہ جائے اور صرف اپنے گروہ کے دنیوی مفاد سے سروکار رکھے مگر انہوں نے دیکھا کہ آپ تو اللہ اور آخرت اور رسالت اور کتاب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں ( جس میں خود ان کے اپنے رسولوں اور کتابوں پر ایمان لانا بھی شامل تھا ) اور معصیت چھوڑ کر ان احکام الہیٰ کی اطاعت اختیار کرنے اور ان اخلاقی حدود کی پابندی کرنے کی طرف بلا رہے ہیں جن کی طرف خود ان کے انبیاء بھی دنیا کو بلاتے رہے ہیں ۔ یہ چیز ان کو سخت ناگوار تھی ۔ ان کو خطرہ پیدا ہو گیا کہ یہ عالمگیر اصولی تحریک اگر چل پڑی تو اس کا سیلاب ان کی جامد مذہبیت اور ان کی نسلی قومیت کو بہا لے جائے گا ۔ دوسرے یہ کہ اوس و خزرج اور مہاجرین کو بھائی بھائی بنتے دیکھ کر ، اور یہ دیکھ کر کہ گرد و پیش کے عرب قبائل میں سے بھی جو لوگ اسلام کی اس دعوت کو قبول کر رہے ہیں وہ سب مدینے کی اس اسلامی برادری میں شامل ہو کر ایک ملت بنتے جا رہے ہیں ، انہیں یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ صدیوں سے اپنی سلامتی اور اپنے مفادات کی ترقی کے لیے انہوں نے عرب قبیلوں میں پھوٹ ڈال کر اپنا الو سیدھا کرنے کی جو پالیسی اختیار کر رکھی تھی وہ اب اس نئے نظام میں نہ چل سکے گی بلکہ اب ان کو عربوں کی ایک متحدہ طاقت سے سابقہ پیش آئے گا جس کے آگے ان کی چالیں کامیاب نہ ہو سکیں گی ۔ تیسرے یہ کہ معاشرے اور تمدن کی جو اصلاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کر رہے تھے اس میں کاروبار اور لین دین کے تمام ناجائز طریقوں کا سد باب شامل تھا ، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سود کو بھی آپ ناپاک کمائی اور حرام خوری قرار دے رہے تھے جس سے انہیں خطرہ تھا کہ اگر عرب پر آپ کی فرمانروائی قائم ہو گئی تو آپ اسے قانوناً ممنوع کر دیں گے ۔ اس میں ان کو اپنی موت نظر آتی تھی ۔ ان وجوہ سے انہوں نے حضور کی مخالفت کو اپنا قومی نصب العین بنا لیا ۔ آپ کو زک دینے کے لیے کوئی چال ، کوئی تدبیر اور کوئی ہتھکنڈا استعمال کرنے میں ان کو ذرہ برابر تامل نہ تھا ۔ وہ آپ کے خلاف طرح طرح کی جھوٹی باتیں پھیلاتے تھے تاکہ لوگ آپ سے بد گمان ہو جائیں ۔ اسلام قبول کرنے والوں کے دلوں میں ہر قسم کے شکوک و شبہات اور وسوسے ڈالتے تھے تاکہ وہ اس دین سے بر گشتہ ہو جائیں ۔ خود جھوٹ موٹ کا اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو جاتے تھے تاکہ لوگوں میں اسلام اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف زیادہ سے زیادہ غلط فہمیاں پھیلائی جا سکیں ۔ فتنے بر پا کرنے کے لیے منافقین سے ساز باز کرتے تھے ۔ ہر اس شخص اور گروہ اور قبیلے سے رابطہ پیدا کرتے تھے جو اسلام کا دشمن ہوتا تھا ۔ مسلمانوں کے اندر پھوٹ ڈالنے اور ان کو آپس میں لڑا دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے تھے ۔ اوس اور خزرج کے لوگ خاص طور پر ان کے ہدف تھے جن سے ان کے مدت ہائے دراز کے تعلقات چلے آ رہے تھے ۔ جنگ بعاث کے تذکرے چھیڑ چھیڑ کر وہ ان کو پرانی دشمنیاں یاد دلانے کی کوشش کرتے تھے تاکہ ان کے درمیان پھر ایک دفعہ تلوار چل جائے اور اخوت کا وہ رشتہ تار تار ہو جائے جس میں اسلام نے ان کو باندھ دیا تھا ۔ مسلمانوں کو مالی حیثیت سے تنگ کرنے کے لیے بھی وہ ہر قسم کی دھاندلیاں کرتے تھے ۔ جن لوگوں سے ان کا پہلے سے لین دین تھا ، ان میں سے جونہی کوئی شخص اسلام قبول کرتا وہ اس کو نقصان پہنچانے کے درپے ہو جاتے تھے ۔ اگر اس سے کچھ لینا ہوتا تو تقاضے کر کر کے اس کے ناک میں دم کر دیتے ، اور اگر اسے کچھ دینا ہوتا تو اس کی رقم مار کھاتے تھے اور علانیہ کہتے تھے کہ جب ہم نے تم سے معاملہ کیا تھا اس وقت تمہارا دین کچھ اور تھا ، اب چونکہ تم نے اپنا دین بدل دیا ہے اس لیے ہم پر تمہارا کوئی حق باقی نہیں ہے ۔ اس کی متعدد مثالیں تفسیر طبری تفسیر نیسابوری ، تفسیر طبرسی اور تفسیر روح المعانی میں سورہ آل عمران ، آیت 75 کی تشریح کرتے ہوئے نقل کی گئی ہیں ۔ معاہدے کے خلاف یہ کھلی کھلی معاندانہ روش تو جنگ بدر سے پہلے ہی وہ اختیار کر چکے تھے ۔ مگر جب بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو قریش پر فتح مبین حاصل ہوئی تو وہ تلملا اٹھے اور ان کے بغض کی آگ اور زیادہ بھڑک اٹھی ۔ اس جنگ سے وہ یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ قریش کی طاقت سے ٹکرا کر مسلمانوں کا خاتمہ ہو جائے گا ۔ اسی لیے انہوں نے فتح اسلام کی خبر پہنچنے سے پہلے مدینے میں یہ افواہیں اڑانی شروع کر دی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ، اور مسلمانوں کو شکست فاش ہوئی ، اور اب ابوجہل کی قیادت میں قریش کا لشکر مدینے کی طرف بڑھا چلا آ رہا ہے ۔ لیکن جب نتیجہ ان کی امیدوں اور تمناؤں کے خلاف نکلا تو وہ غم اور غصے کے مارے پھٹ پڑے ۔ بنی نضیر کا سردار کعب بن اشرف چیخ اٹھا کہ خدا کی قسم اگر محمد نے ان اشراف عرب کو قتل کر دیا ہے تو زمین کا پیٹ ہمارے لیے اس کی پیٹھ سے زیادہ بہتر ہے ۔ پھر وہ مکہ پہنچا اور بدر میں جو سرداران قریش مارے گئے تھے ان کے نہایت اشتعال انگیز مرثیے کہہ کر مکہ والوں کو انتقام پر اکسایا ۔ پھر مدینہ واپس آ کر اس نے اپنے دل کی جلن نکالنے کے لیے ایسی غزلیں کہنی شروع کیں جن میں مسلمان شرفاء کے ساتھ عشق کیا گیا تھا ۔ آخر کار اس کی شرارتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الاول 3 ھ میں محمد بن مسلمہ انصاری کو بھیج کر اسے قتل کرا دیا ( ابن سعد ، ابن ہشام ، تاریخ طبری ) ۔ یہودیوں کا پہلا قبیلہ جس نے اجتماعی طور پر جنگ بدر کے بعد کھلم کھلا اپنا معاہدہ توڑ دیا ، بنی قینقاع تھا ، یہ لوگ خود شہر مدینہ کے اندر ایک محلہ میں آباد تھے اور چونکہ یہ سنار ، لوہار اور ظروف ساز تھے ، اس لیے ان کے بازار میں اہل مدینہ کثرت سے جانا آنا پڑتا تھا ۔ ان کو اپنی شجاعت پر بڑا ناز تھا ۔ آہن گر ہونے کی وجہ سے ان کا بچہ بچہ مسلح تھا ۔ سات سو مردان جنگی ان کے اندر موجود تھے ۔ اور ان کو اس بات کا بھی زعم تھا کہ قبیلہ خزرج سے ان کے پرانے حلیفانہ تعلقات تھے اور خزرج کا سردار عبداللہ بن ابی ان کا پشتی بان تھا ۔ بدر کے واقعہ سے یہ اس قدر مشتعل ہوئے کہ انہوں نے اپنے بازار میں آنے جانے والے مسلمانوں کو ستانا ، اور خاص طور پر ان کی عورتوں کو چھیڑنا شروع کر دیا ۔ رفتہ رفتہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک روز ان کے بازار میں ایک مسلمان عورت کو بر سر عام برہنہ کر دیا گیا ۔ اس پر سخت جھگڑا ہوا اور ہنگامے میں ایک مسلمان اور ایک یہودی قتل ہو گیا ۔ جب حالات اس حد کو پہنچ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے محلہ میں تشریف لے گئے اور ان کو جمع کر کے آپ نے ان کو راہ راست پر آنے کی تلقین فرمائی ۔ مگر انہوں نے جواب دیا اے محمد ، تم نے شاید ہمیں بھی قریش سمجھا ہے؟ وہ لڑنا نہیں جانتے تھے ، اس لیے تم نے انہیں مار لیا ۔ ہم سے سابقہ پیش آئے گا تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ مرد کیسے ہوتے ہیں ۔ یہ گویا صاف صاف اعلان جنگ تھا ۔ آخر کار رسول اللہ علیہ وسلم نے شوال ( اور بروایت بعض ذی القعدہ ) 2 ھ کے آخر میں ان کے محلہ کا محاصرہ کر لیا ۔ صرف پندرہ روز ہی یہ محاصرہ رہا تھا کہ انہوں نے ہتھیار ڈال دیے اور ان کے تمام قابل جنگ آدمی باندھ لیے گئے ۔ اب عبداللہ بن ابی ان کی حمایت کے لیے اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے سخت اصرار کیا کہ آپ انہیں معاف کر دیں ۔ چنانچہ حضور نے اس کی درخواست قبول کر کے یہ فیصلہ فرما دیا کہ بنی قینقاع اپنا سب مال ، اسلحہ اور آلات صنعت چھوڑ کر مدینہ سے نکل جائیں ( ابن سعد ، ابن ہشام ، تاریخ طبری ) ۔ ان دو سخت اقدامات ( یعنی بنی قینقاع کے اخراج اور کعب بن اشرف کے قتل ) سے کچھ مدت تک یہودی اتنے خوف زدہ رہے کہ انہیں کوئی مزید شرارت کرنے کی ہمت نہ ہوئی ۔ مگر اس کے بعد شوال 3 ھ میں قریش کے لوگ جنگ بدر کا بدلہ لینے کے لیے بڑی تیاریوں کے ساتھ مدینہ پر چڑھ کر آئے ، اور ان یہودیوں نے دیکھا کہ قریش کی تین ہزار فوج کے مقابلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف ایک ہزار آدمی لڑنے کے لیے نکلے ہیں ، اور ان میں سے بھی تین سو منافقین الگ ہو کر پلٹ آئے ہیں ، تو انہوں نے معاہدے کی پہلی اور صریح خلاف ورزی اس طرح کی کہ مدینہ کی مدافعت میں آپ کے ساتھ شریک نہ ہوئے ، حالانکہ وہ اس کے پابند تھے ۔ پھر جب معرکہ احد میں مسلمانوں کو نقصان عظیم پہنچا تو ان کی جرأتیں اور بڑھ گئیں ، یہاں تک کہ بنی نضیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لیے باقاعدہ ایک سازش کی جو عین وقت پر ناکام ہو گئی اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ بئر معونہ کے سانحہ ( صفر 4 ھ ) کے بعد عمرو بن امیہ ضمری نے انتقامی کارروائی کے طور پر غلطی سے بنی عامر کے دو آدمیوں کو قتل کر دیا جو دراصل ایک معاہِلہ قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے مگر عمرو نے ان کو دشمن قبیلہ کے آدمی سمجھ لیا تھا ۔ اس غلطی کی وجہ سے ان کا خون بہا مسلمانوں پر واجب آگیا تھا ، اور چونکہ بنی عامر کے ساتھ معاہدے میں بنی نضیر بھی شریک تھے ، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کے ساتھ خود ان کی بستی میں تشریف لے گئے تاکہ خون بہا کی ادائیگی میں ان کو بھی شرکت کی دعوت دیں ۔ وہاں انہوں نے آپ کو چکنی چپڑی باتوں میں لگایا اور اندر ہی اندر یہ سازش کی کہ ایک شخص اس مکان کی چھت پر سے آپ کے اوپر ایک بھاری پتھر گرا دے جس کی دیوار کے سائے میں آپ تشریف فرما تھے ۔ مگر قبل اس کے کہ وہ اپنی اس تدبیر پر عمل کرتے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو بر وقت خبردار کر دیا ، اور آپ فوراً وہاں سے اٹھ کر مدینہ واپس تشریف لے آئے ۔ اب ان کے ساتھ کسی رعایت کا سوال باقی نہ رہا ۔ حضور نے ان کو بلا تاخیر یہ الٹی میٹم بھیج دیا کہ تم نے جو غداری کرنی چاہی تھی وہ میرے علم میں آ گئی ہے ۔ لہٰذا دس دن کے اندر مدینہ سے نکل جاؤ ، اس کے بعد اگر تم یہاں ٹھہرے رہے تو جو شخص بھی تمہاری بستی میں پایا جائے گا ۔ اس کی گردن مار دی جائے گی ۔ دوسری طرف عبداللہ بن ابی نے ان کو پیغام بھیجا کہ میں دو ہزار آدمیوں سے تمہاری مدد کروں گا ، بنی قریظہ اور بنی غطفان بھی تمہاری مدد کو آئیں گے ، تم ڈٹ جاؤ اور ہرگز اپنی جگہ نہ چھوڑو ۔ اس جھوٹے بھروسے پر انہوں نے حضور کے الٹی میٹم کا یہ جواب دیا کہ ہم یہاں سے نہیں نکلیں گے ، آپ سے جو کچھ ہو سکے کر لیجیے ۔ اس پر ربیع الاول 4 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کر لیا ، اور صرف چند روز کے محاصرہ کے بعد ( جس کی مدت بعض روایات میں چھ دن اور بعض میں پندرہ دن آئی ہے ) وہ اس شرط پر مدینہ چھوڑ دینے کے لیے راضی ہو گئے کہ اسلحہ کے سوا جو کچھ بھی وہ اپنے اونٹوں پر لاد کر لے جا سکیں گے لے جائیں گے ۔ اس طرح یہودیوں کے اس دوسرے شریر قبیلے سے مدینہ کی سر زمین خالی کرالی گئی ۔ ان میں سے صرف دو آدمی مسلمان ہو کر یہاں ٹھہر گئے ۔ باقی شام اور خیبر کی طرف نکل گئے ۔ یہی واقعہ ہے جس سے اس سورہ میں بحث کی گئی ہے ۔ موضوع اور مضامین : سورۃ کا موضوع ، جیسا کہ اوپر بیان ہوا ، جنگ بنی نضیر پر تبصرہ ہے ۔ اس میں بحیثیت مجموعی چار مضامین بیان ہوئے ہیں ۔ ( 1 ) ۔ پہلی چار آیتوں میں دنیا کو اس انجام سے عبرت دلائی گئی ہے جو ابھی ابھی بنی نضیر نے دیکھا تھا ۔ ایک بڑا قبیلہ جس کے افراد کی تعداد اس وقت مسلمانوں کی تعداد سے کچھ کم نہ تھی ، جو مال و دولت میں مسلمانوں سے بہت بڑھا ہوا تھا ، جس کے پاس جنگی سامان کی بھی کمی نہ تھی ، جس کی گڑھیاں بڑی مضبوط تھیں ، صرف چند روز کے محاصرے کی تاب بھی نہ لاسکا اور بغیر اس کے کہ کسی ایک آدمی کے قتل کی بھی نوبت آئی ہوتی وہ اپنی صدیوں کی جمائی بستی چھوڑ کر جلا وطنی قبول کرنے پر آمادہ ہو گیا ۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ یہ مسلمانوں کی طاقت کا کرشمہ نہیں تھا بلکہ اس بات کا نتیجہ تھا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے نبرد آزما ہوئے تھے اور جو لوگ اللہ کی طاقت سے ٹکرانے کی جرأت کریں وہ ایسے ہی انجام سے دوچار ہوتے ہیں ۔ ( 2 ) ۔ آیت 5 میں قانون جنگ کا یہ قاعدہ بیان کیا گیا ہے کہ جنگی ضروریات کے لیے دشمن کے علاقے میں جو تخریبی کارروائی کی جائے وہ فساد فی الارض کی تعریف میں نہیں آتی ۔ ( 3 ) ۔ آیت 6 سے 10 تک یہ بتایا گیا ہے کہ ان ممالک کی زمینوں اور جائدادوں کا بندوبست کس طرح کیا جائے جو جنگ یا صلح کے نتیجے میں اسلامی حکومت کے زیر نگیں آئیں ۔ چونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ ایک مفتوحہ علاقہ مسلمانوں کے قبضہ میں آیا اس لیے یہاں اس کا قانون بیان کر دیا گیا ۔ ( 4 ) ۔ آیت 11 سے 17 تک منافقین کے اس رویہ پر تبصرہ کیا گیا ہے جو انہوں نے جنگ بنی نضیر کے موقع پر اختیار کیا تھا ، اور ان اسباب کی نشان دہی کی گئی ہے جو در حقیقت ان کے اس رویہ کی تہہ میں کام کر رہے تھے ۔ ( 5 ) ۔ آخری رکوع پورا ایک نصیحت ہے جس کے مخاطب وہ تمام لوگ ہیں جو ایمان کا دعویٰ کر کے مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہو گئے ہوں ، مگر ایمان کی اصل روح سے خالی رہیں ۔ اس میں ان کو بتایا گیا ہے کہ ایمان کا اصل تقاضا کیا ہے ، تقویٰ اور فسق میں حقیقی فرق کیا ہے ، جو قرآن کو ماننے کا دعویٰ کر رہے ہیں اس کی اہمیت کیا ہے ، اور جس خدا پر ایمان لانے کا وہ اقرار کرتے ہیں وہ کن صفات کا حامل ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

تعارف سورۃ الحشر یہ سورت حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ ہجرت فرمانے کے دوسرے سال نازل ہوئی تھی۔ مدینہ منوَّرہ میں یہودیوں کی ایک بڑی تعداد آباد تھی، آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن سے یہ معاہدہ کرلیا تھا کہ آپس میں امن وامان سے رہیں گے، اور مدینہ منوَّرہ پر حملہ ہونے کی صورت میں مل کر اُس کا دِفاع کریں گے، یہودیوں نے اس معاہدے کو قبول تو کرلیا تھا، لیکن اُن کو حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے دلی بغض تھا، اس لئے وہ خفیہ طور پر آپ کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے، چنانچہ اُنہوں نے در پردہ مکہ مکرَّمہ کے بت پرستوں سے تعلقات رکھے ہوئے تھے، اور ان کو مسلمانوں کے خلاف اُکساتے رہتے تھے، اور اُن سے یہ وعدہ کرلیا تھا کہ اگر تم مسلمانوں پر حملہ کروگے تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے۔ یہودیوں کا ایک قبیلہ بنو نضیر کہلاتا تھا، ایک مرتبہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ان سے معاہدے کی کچھ شرائط پر عمل کرانے کے لئے اُن کے پاس تشریف لے گئے تو ان لوگوں نے یہ سازش کی کہ جب آپ بات چیت کرنے کے لئے بیٹھیں تو ایک شخص اُوپر سے آپ پر ایک چٹان گرادے۔ جس سے (معاذاللہ) آپ شہید ہوجائیں، اﷲ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آپ کو ان کی اس سازش سے باخبر فرمادیا، اور آپ وہاں سے اُٹھ کر چلے آئے۔ اس واقعے کے بعد آپ نے بنو نضیر کے پاس پیغام بھیجا کہ اب آپ لوگوں کے ساتھ ہمارا معاہدہ ختم ہوگیا ہے، اور ہم آپ کے لئے ایک مدت مقرر کرتے ہیں کہ اس مدّت کے اندر اندر آپ مدینہ منوَّرہ چھوڑ کر کہیں چلے جائیں، ورنہ مسلمان آپ پر حملہ کرنے کے لئے آزاد ہوں گے، کچھ منافقین نے بنو نضیر کو جاکر یقین دلایا کہ آپ لوگ ڈٹے رہیں، اگر مسلمانوں نے حملہ کیا تو ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔ چنانچہ بنو نضیر مقرّرہ مدّت میں مدینہ منوَّرہ سے نہیں گئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدّت گذرنے کے بعد اُن کے قلعے کا محاصرہ کرلیا، اور منافقین نے ان کی کوئی مدد نہیں کی۔ آخر کار اُن لوگوں نے ہتھیا ڈال دئیے، اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن کو مدینہ منوَّرہ سے جلاوطن کرنے کا حکم دیا، البتہ یہ اجازت دی کہ ہتھیاروں کے سوا وہ اپنا سارا مال ودولت اپنے ساتھ لے جاسکتے ہیں۔ یہ سورت اس واقعے کے پس منظر میں نازل ہوئی، اور اس میں اس واقعے پر تبصرہ بھی فرمایا گیا ہے، اور اس سے متعلق بہت سی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ ’’حشر‘‘ کے لفظی معنیٰ ہیں ’’جمع کرنا‘‘، چونکہ اس سورت کی آیت نمبر : ۲ میں یہ لفظ آیا ہے جس کی تشریح آیت نمبر : ۲ کے حاشیہ میں آرہی ہے، اس لئے اس سورت کا نام ’’سورۂ حشر‘‘ ہے اور بعض صحابہؓ سے منقول ہے کہ وہ اسے سورہ بنی نضیر بھی کہا کرتے تھے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تعارف سورة الحشر سورة نمبر 59 کل رکوع 3 آیات 24 الفاظ و کلمات 455 حروف 2016 مقام نزول مدینہ منورہ مال غنیمت یہ ہے کہ جنگ میں جو کچھ ہاتھ آئے اس کو ایک جگہ کرکے اس کے پانچ حصے کیے جائیں۔ چار حصے جنگ میں حصہ لینے والوں میں تقسیم کر دئیے جائیں اور پانچواں حصہ بیت المال کو جمع کردیا جائے تاکہ مملکت کے ضروری کام نمٹائے جاسکیں۔ مال فے دشمن سے حاصل ہونے والا وہ مال ہے جو بغیر جنگ کے ہاتھ آئے۔ اس کے لئے اللہ نے فرمایا کہ مال فے کو فوج میں تقسیم نہ کیا جائے بلکہ اس کو اللہ و رسول کے لئے مخصوص کردیا جائے تاکہ اس کی تقسیم اس طرح ہو کہ کوئی بھی اس سے محروم نہ رہے۔ بنو نضیر سے چونکہ جنگ نہیں ہوئی تھی اس لئے اس کو مال فے قرار دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ مال و دولت سب اسی دنیا میں رہ جائے گا۔ اصل چیز یہ ہے کہ آنے والے کل کی فکر کی جائے کہ کس نے اپنے آگے کیا بھیجا ہے کیونکہ جو کچھ اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خرچ کیا ہے وہی قیامت کے دن اس کے کام آئے گا اور باقی سب کچھ اسی دنیا میں رہ جائے گا۔ مدینہ منورہ میں بنو نضیر کی شرارتوں اور میثاق مدینہ کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزیوں کی وجہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نصیر کو دس دن کے اندر اندر یہ شہر چھوڑنے کا نوٹس دے دیا تاکہ ان کو ان کی سازشوں کی سزا دی جاسکے۔ اصل میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں آباد تمام قبیلوں سے ایک معاہدہ امن کیا تھا جس کا بنیادی مقصد آپس میں مل جل کر رہنا اور اگر کوئی بیرونی حملہ یا مداخلت ہو تو سب مل کر اپنے اس شہر کا دفاع کرسکیں۔ ان ہی میں یہودی قبیلہ بنو نضیر سے باقاعدہ تحریری معاہدہ تھا لیکن انہوں نے شروع ہی سے اپنی شرارتوں اور سازشوں کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔ وہ مکہ کے کافروں کو مدینہ منورہ پر حملے پر اکساتے رہتے یہاں تک کہ انہوں نے ایک موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شہید تک کرنے کی سازش کر ڈالی تھی مگر اللہ کی طرف سے بروقت اطلاع پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو نضیر کے قبیلے سے واپس تشریف لے آئے۔ مدینہ منورہ کی بستی سے باہر بنو نضیر کے باقاعدہ بستیاں تھیں جہاں وہ صدیوں سے آباد تھے۔ انہیں اپنے مضبوط قلعے، ہرے بھرے باغات اور اپنی مال و دولت پر بڑا ناز تھا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نضیر کو دس دن کا نوٹس دیا تو وہ اڑ گئے۔ ادھر رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی نے خاموشی کے ساتھ کہلا بھیجا کہ تم اپنی جگہ ڈٹے رہو ڈر نے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں دو ہزار جوانوں کے ساتھ تمہاری طرف سے لڑوں گا اور آس پاس کے دوسرے قبیلے بھی تمہاری مدد کے لئے تیار ہیں۔ بنو نضیر نے اپنے گھمنڈ اور منافقین کے بھروسے پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہلا بھیجا کہ ہم اپنی بستیاں خالی نہ کریں گے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو کچھ ہوسکتا ہے وہ آپ کرلیجئے۔ بنو نضیر نے مقابلے کی تیاریاں شروع کردیں رکاوٹیں کھڑی کیں اور اپنے قلعوں سے تیر اور پتھر پھینکنے کی جگہوں کا انتخاب کرلیا۔ ادھر دس دن کی مدت گزرتے ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) نے اس قدر تیزی سے بنو نضیر کی گڑھیوں اور قلعوں کو گھیر لیا کہ وہ اپنے قلعوں سے سوائے تیر برسانے اور پتھر پھینکنے کے اور کچھ نہ کرسکے اور جن منافقین نے مدد کا وعدہ کیا تھا وہ بھی سب کے سب دبک کر بیٹھ گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یا بعض صحابہ کرام (رض) نے جو آس پاس درخت تھے ان میں سے کچھ کو کاٹ ڈالا تاکہ بنو نضیر اپنی نظروں سے اپنے باغات کی تباہی دیکھ کر مقابلے کے لئے باہر نکلیں مگر وہ دیکھتے رہ گئے اور یہودی اپنے قلعوں اور گڑھیوں سے باہر نہ نکل سکے۔ بنو نضیر نے نہایت بےبسی کے عالم میں مسلمانوں سے صلح پر آمادگی ظاہر کردی اور کہا کہ ہماری جانیں بخش دی جائیں اور ہمیں ہتھیاروں کے سوا جو کچھ لے جاسکتے ہیں وہ لے جانے دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دیدی۔ اس کے بعد انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے بنائے ہوئے مکانات توڑنے شروع کردئیے تاکہ مسلمان ان کو استعمال نہ کرسکیں اور وہ جو کچھ اونٹوں پر لاد کرلے جاسکتے تھے وہ ساتھ لے گئے اور اس طرح بنو نضیر کی پوری بستیوں پر مسلمانون کو فتح حاصل ہوگئی۔ چونکہ بنو نضیر سے بغیر جنگ کیے ان کی دولت اور جائیداد ہاتھ آگئی تھی تو مال غنیمت کی طرح اس کو بھی مجاہدین میں قاعدہ کے مطابق تقسیم کیا جاتا لیکن اللہ نے اس مال کو ” مال فے “ قرار دے کر احکامات نازل فرمائے۔ ” مال غنیمت “ یہ ہے کہ جنگ میں جو کچھ ہاتھ آئے اس کو ایک جگہ جمع کرکے اس کے پانچ حصے کئے جائیں۔ چار حصے جنگ میں حصہ لینے والوں میں تقسیم کیے جائیں اور ایک حصہ بیت المال میں جمع کردیا جائے تاکہ اس سے مملکت کی ضروری امور سرانجام دئے جائیں۔ ” مال فے “ دشمن سے حاصل ہونے والا وہ مال و دولت وغیرہ ہے جو بغیر جنگ کے ہاتھ آئے اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ مال فے کو فوج میں تقسیم نہ کیا جائے بلکہ اس کو اللہ ورسول کے لئے مخصوس کردیا جائے تاکہ کوئی بھی اس سے محروم نہ رہے۔ اللہ کی طرف سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اختیار دیا گیا کہ آپ اس مال فے کو رشتہ داروں، یتیموں اور مسافروں پر خرچ فرمائیں اس طرح وہ ضرورت مند مہاجرین جنہوں نے اللہ کی رضا کے لئے اپنا سب کچھ چھوڑ کر ہجرت کی اسی طرح وہ انصار مدینہ کے ضرورت مند بھی اس کے مستحق ہیں جنہوں نے مہاجرین کے لئے بڑی بڑی قربانیاں دیں اور اپنی ضروریات کے باوجود انہوں نے کبھی بخل اور کنجوسی سے کام نہیں لیا بلکہ اپنے اوپر مہاجرین کو ترجیح دی۔ ٭آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے مومنو ! اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اطاعت و فرمانبرداری کرتے رہو۔ گناہوں سے بچتے رہو تو کہ تم جنت کے مستحق بن جائو۔ اللہ نے فرمایا کہ جہنم والے اور جنت والے کبھی یکساں اور برابر نہیں ہوسکتے کیونکہ جنت والے کامیاب و بامراد لوگ ہیں۔ فرمایا کہ اس باعظمت قرآن پر پوری طرح عمل کرو جس کی شان یہ ہے کہ اگر اس کو پہاڑ پر نازل کردیا جاتا تو وہ اس کے بوجھ سے دب جاتا اور اس کے ٹکڑے اڑ جاتے مگر وہ اس بوجھ کو برداشت نہ کر پاتا۔ فرمایا کہ ہر شخص کو یہ سوچنا چاہیے کہ اس نے اپنے کل کے لئے کیا آگے بھیجا ہے۔ فرمایا کہ اس اللہ کو مانو جو ہر طرح کی عبادت و بندگی کا مستحق ہے جو ہر چیز کے ظاہر اور باطن کو اچھی طرح جانتا ہے۔ بڑا مہربان نہایت رحم و کرم کرنے والا ہے۔ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ وہ بادشاہ ہے نہایت مقدس، سلامتی ہی سلامتی ، امن دینے والا، نگہبان، ہر ایک پر غلبہ رکھنے والا، اپنا حکم پوری قوت سے نافذ کرنے والا، ہر طرح کی بڑائیوں کا مستحق ہے۔ ہر اس شرک سے پاک ہے جو لوگ اس کی ذات اور صفات میں ملا رہے ہیں۔ وہی پیدا کرنے والا، نافذ کرنے والا، صورت شکل بنانے والا، سارے بہترین نام اسی کے ہیں۔ زمین وآسمان میں جو کچھ ہے وہ اسی کی حمدو ثنا کر رہا ہے وہی زبردست حکمت والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

سورة الحشرکا تعارف اس سورت کا نزول مدینہ طیبہ میں ہوا۔ یہ سورت تین رکوعات اور چوبیس (٢٤) آیات پر محیط ہے۔ مسبّحات میں یہ دوسری سورت ہے اس کا پہلا فرمان یہ ہے کہ زمینوں اور آسمانوں کی ہر چیز ” اللہ “ کی تعریف کر رہی ہے وہ اللہ ہر اعتبار سے غالب حکمت والا ہے۔ اسی غالب آنے والے نے مدینہ سے ان کافروں کو نکلنے پر مجبور کیا جو اپنی افرادی قوت اور مضبوط قلعوں کی بنیاد پر مدینہ سے نکلنے کا تصور بھی نہیں کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں کمزور مسلمانوں کے ہاتھوں اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور کردیا۔ واقعہ کی تفصیل اس طرح ہے کہ یہودی کئی صدیوں سے حجاز بلخصوص مدینہ کے علاقے میں اپنا تسلّطجمائے ہوئے تھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ سے مدینہ تشریف لائے تو بقائے باہمی کے اصول پر یہودیوں کے ساتھ معاہدہ کیا کہ خارجی خطرات کی صورت میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مدینہ کا دفاع کریں گے لیکن انہوں نے غزوہ بدر سے لے کر مکہ فتح ہونے تک ہر بار مشرکین مکہ کا پورا پورا ساتھ دیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ خندق سے فارغ ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہودیوں کو مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا اور انہیں مہلت دی کہ اتنے دنوں میں اپنے معاملات سمیٹ لو اور جس قدر سامان اٹھا سکتے ہو اسے لے کر نکل جاؤ لیکن منافقوں کی حوصلہ افزائی پر یہودیوں کے قبیلہ بنوقریظہ نے نکل جانے سے انکار کردیا۔ اس پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے علاقے کی طرف پیش قدمی فرمائی اور ان کے کچھ باغ کاٹنے کا حکم دیا جس پر انہوں نے پروپگنڈہ کیا کہ یہ جہاد کے نام پر فساد پھیلا رہے ہیں۔ اس پر یہ حکم نازل ہوا کہ جہادی ضرورت کے لیے اگر فصل کاٹنا پڑے تو یہ فساد نہیں بلکہ جہاد کے لیے ضروری ہے اس کے بعد جہاد میں حاصل ہونے والے مال فے کی تقسیم کا اصول بیان فرمایا اس اصول میں یہ اصول بھی بتلا دیا گیا کہ مسلمانوں کا نظام معیشت ایسا ہونا چاہیے جس میں دولت کا بھاؤ غریب اور مسکین کی طرف رہے۔ سورت کے دوسرے رکوع میں یہ بتلایا گیا ہے کہ اے مسلمانوں تم کفار کو متحد سمجھتے ہو یہ بظاہر ایک ہیں لیکن ان کے خیالات اور مفادات الگ الگ ہیں اس لیے ان کے ظاہری اکٹھ سے خوف زدہ نہیں ہونا۔ سورت کے آخری رکوع میں قرآن مجید کی عظمت اور تاثیر کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ قرآن کس قدر تاثیر اور عظمت والا ہے اگر یہ پہاڑ پر اتارا جاتا تو پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہوجاتا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورة الحشر ایک نظر میں یہ سورت واقعہ بنی نضیر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ بنی نضیر یہودیوں کا ایک قبیلہ تھا اور یہ واقعہ سن چار ہجری میں پیش آیا۔ اس سورت میں اس واقعہ کی کیفیت اور اسباب پر تبصرہ کیا گیا ہے ۔ اور یہ بتایا گیا ہے کہ اس واقعہ کے بعد جماعت مسلمہ کے اندر کیا کیا تبدیلیاں اور انتظامات کیے گئے۔ ان باتوں کو قرآن کے خاص انداز بیان کے مطابق لیا گیا ہے اور ان واقعات پر سبق آموز تبصرہ کیا گیا ہے اور جماعت مسلمہ کو عملی واقعات سے دو چار کرکے اس کی زندہ تربیت کی گئی ہے۔ اور واقعات پر تبصرے کے دوران مناسب ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ قبل اس کے کہ ہم قرآنی آیات کی تفسیر پیش کریں ، مناسب ہے کہ وہ ہدایات یہاں دے دیں جو اس واقعہ کے بارے میں وارد ہیں۔ تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ قرآن کے بیان کا انداز روایات کے انداز سے کس قدر مختلف ہے۔ قرآن کریم کس طرح واقعات کے پس منظر کو لیتا ہے اور دور تک ان کے اسباب اور محرکات پر بحث کرتا ہے۔ چناچہ واقعات بھی بیان ہوجاتے ہیں اور ان کے ماحول میں ان کے جو اسباب ہوتے تھے وہ بھی بیان ہوتے ہیں اور جو اسباب ان واقعات کے مقابلہ میں زیادہ اصول ہوں انہیں بھی لیتا ہے۔ ایک واقعہ تو ایک متعین زمان ومکان میں ہوتا ہے۔ قرآن کریم اس کی تہہ میں پائے جانے والے اصول بھی لیتا ہے۔ یہ سن چار ہجری کی ابتدائی دنوں کی بات ہے ، زمانہ غزوہ احد کے بعد اور غزوہ احزاب سے پہلے کا ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے دس بڑے رفقاء کے ساتھ دیاربنی نضیر میں گئے۔ ان میں حضرت ابوبکر (رض) ، حضرت عمر (رض) اور حضرت علی (رض) بھی تھے۔ مسلمانوں کے ہاتھوں سے دو افراد ناحق قتل ہوگئے تھے۔ میثاق مدینہ کے مطابق اس کی دیت میں بنی نضیر نے بھی حصہ دینا تھا۔ بنی نضیر نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بےحد گرم جوشی سے استقبال کیا۔ اور وعدہ کیا کہ وہ اپنا حصہ ادا کریں گے۔ لیکن اندر اندر سے وہ اپنے ہاں یہ مشورے کرنے لگے کہ یہ بہترین موقعہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کردیا جائے۔ اس وقت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے محلے کی ایک دیوار کے سائے میں تشریف فرما تھے۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا جس پوزیشن میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے ہیں اس میں تم ان کو کبھی نہ پائو گے۔ کون ہے جو گھر کے اوپر چڑھ کر ایک بہت بڑا پتھر ان کے سر پر دے مارے اور ہمیں ہمیشہ کے لئے ان سے نجات دے دے۔ عمران حجاش ابن کعب اس کام کے لئے تیار ہوگیا۔ اس نے کا میں یہ کام کرتا ہوں۔ یہاوپر چڑھا ، پتھر پھینکنے کے لئے ، اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بذریعہ الہام بتا دیا کہ یہودی تو اس قسم کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے ، گویا قضائے حاجت کے لئے جارہے ہیں ۔ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیر تک غائب ہوگئے تو آپ کے ساتھیوں نے محسوس کیا کہ آپ نے بہت دیر لگادی ہے۔ چناچہ وہ اس محلے سے نکلے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں پوچھنے لگے۔ تو معلوم ہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو مدینہ تشریف لے گئے ہیں اور مدینہ میں پہنچ چکے ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ بنو نضیر کے ساتھ جنگ کی تیاری کی جائے ، کیونکہ ان کی جانب سے خیانت ظاہر ہوگئی تھی اور وہ معاہدہ امن میثاق انہوں نے توڑ دیا تھا۔ اس سے قبل بنی نضیر کے کعب ابن اشرف نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجو کی تھی اور دشمنوں پر چڑھانے کی سعی کی تھی اور کعب اور بنی نضیر کے کچھ لوگوں نے کفار قریش کے ساتھ رابطے کیے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف معاہدے کیے تھے حالانکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور بنی نضیر کو درمیان عہدقائم تھا۔ اس کے نتیجے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے محمد ابن مسلمہ کو اجازت دی کہ وہ کعب ابن الاشرف کو قتل کردیں۔ جب انہوں نے محلہ بنی نضیر میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قتل کی سازش کی تو پھر ان کے ساتھ معاہدے کے قیام کی ضرورت محسوس نہ ہوئی اور اسلامی اصول کے مطابق۔ واماتخافن……………الخائنین (58:8) ” اگر تمہیں کسی قوم سے عہد میں خیانت کرنے کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو اعلانیہ اس کے آگے پھینک دو “۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیاری کی اور محلہ بنو نضیر کا محاصرہ کرلیا۔ اور ان کو تین دن کی مہلت دے دی۔ بعض روایات میں دس دن کی مہلت کا ذکر ہے کہ یہ لوگ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پڑوس چھوڑ دیں اور محلہ سے نکل جائیں۔ ان کو یہ اجازت ہوگی کہ وہ اپنے مال ساتھ لے جائیں اور اپنے کھیتوں پر اور باغوں میں اپنے جانشین یا مختار کار مقرر کریں لیکن منافقین مدینہ جن کا سرخیل عبداللہ ابن ابی ابن سلول تھا ، ان کو پیغام بھیجا کہ یہ شرائط قبول نہ کرو ، مقابلہ کرو اور ان کو یقین دلایا کہ ڈٹ جائو اور روکے رکھو ، ہم تمہیں اس کے سپرد نہ کریں گے۔ اگر تمہارے ساتھ لڑائی ہوئی تو ہم تمہارے ساتھ لڑیں گے ، اور اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے۔ اسی بارے میں یہ آیات۔ الم ترالی……………یفقھون (11:59 تا 13) ” تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہوں نے منافقت کی روش اختیار کی ، یہ اپنے کافر اہل کتاب بھائیوں سے کہتے ہیں ” اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے اور تمہارے بارے میں ہم کسی کی بات نہ مانیں گے۔ اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے “۔ مگر اللہ گواہ ہے کہ یہ لوگ قطعی جھوٹے ہیں۔ اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ ہرگز نہ نکلیں گے۔ اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی ہرگز مدد نہ کریں گے۔ اور اگر یہ ان کی مدد کریں بھی تو پیٹھ پھیر جائیں گے اور پھر کہیں سے کوئی مدد نہ پائیں گے۔ ان کے دلوں میں اللہ سے بڑھ کر تمہارا خوف ہے۔ اس لئے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ بوجھ نہیں رکھتے “۔ چناچہ یہودی قلعہ بند ہوگئے ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ ان کے باغات کو کاٹنا شروع کردو ، اور ان کو آگ لگا دو ، تو انہوں نے پکارا محمد تم تو فساد سے روکتے تھے اور اب جو لوگ فساد کرتے ہیں تم ان کی معاونت کرتے ہو۔ آخر تم باغات کو کیوں جلاتے ہو اور باغات کو کٹواتے کیوں ہو۔ ان کی اس بات کی تردید میں یہ آیات۔ ماقطعتم……………الفسقین (5:59) ” تم لوگوں نے کھجوروں کے جو درخت کاٹے یا جن کو اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا ، یہ سب اللہ ہی کے اذن سے تھا تاکہ فاسقوں کو ذلیل و خوار کرے۔ جب یہ محاصرہ 26 شب وروز تک طول کھینچ گیا تو یہودیوں کو منافقین کے وعدوں کی سچائی میں شک ہونے لگا۔ ان کے دلوں کے اندر سخت خوف پیدا ہوگیا تو انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کی کہ ان کو جلاوطن کردیں اور ان کو قتل نہ کریں ، جیسا کہ اس سے قبل بنی قینقاع کو جلاوطن کیا گیا تھا (اس کی تفصیلات ہم نے سورة احزاب گیارہویں پارے میں بیان کردی ہیں) اس شرط پر کہ وہ اونٹوں پر جو سامان لے جاسکتے ہیں وہ لے جائیں ماسوائے اسلحہ کے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی اس شرط کو قبول کرلیا۔ انہوں نے اپنے وہ اموال لے لیے جو اونٹ لے جاسکتے تھے۔ چناچہ وہ لوگ خود اپنے گھر کو گراتے تھے اور دروازوں کی لکڑیوں کو بھی اونٹوں پر لاد کر منتقل کرتے تھے۔ یا اپنی لکڑیوں اور گھروں کو خراب کردیتے کہ مسلمانوں کے ہاتھ نہ لگیں۔ مسلمانوں نے صرف بعض دیواروں کو گرادیا جن کے اندرون وہ قلعہ بند ہوگئے تھے۔ اس بارے میں اس سورت کی یہ آیات وارد ہیں۔ ھوالذی……………العقاب (2:59 تا 4) ” وہی ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو پہلے حشر کے لئے ان کے گھروں سے نکال باہر کیا۔ تمہیں ہرگز گمان نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے اور وہ بھی یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ان کی گڑھیاں انہیں اللہ سے بچا لیں گی مگر اللہ ایسے رخ سے ان پر آیا جدھر ان کا خیال بھی نہ گیا تھا۔ اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے گھروں کو برباد کررہے تھے اور مومنوں کے ہاتھوں بھی برباد کروا رہے تھے۔ بس عبرت حاصل کروائے دیدہ بینارکھنے والو ، اگر اللہ نے ان کے حق میں جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا ہی میں انہیں عذاب دے ڈالتا۔ اور آخرت میں تو ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے ہی۔ یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا اور جو اللہ مقابلہ کرے اللہ اس کو سزا دینے میں بہت سخت ہے “۔ ان میں سے بعض لوگ تو خیبرکو چلے گئے ، بعض لوگ شام کو چلے گئے اور ان کے سرداروں میں سے جو خیبر کو گئے تھے ان میں سے سلام ابن ابوالحمبق تھا اور کنانہ ابن الربیع ابن ابوالمبق تھا اور حی ابن اخطب جن کا ذکر غزوہ احزاب کے محرکین میں آتا ہے اور بنی قریظہ کے حالات میں بھی۔ جن کی تفصیلا سورة احزاب میں ہیں۔ بعض کا ذکر فتح خیبر میں بھی آتا ہے۔ سورة فتح۔ بنی نضیرکا جو مال رہ گیا تھا ، اسے فے قرار دیا گیا تھا اور یہ خالص اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زیر تصرف فنڈ تھا کیونکہ یہ اموال مسلمانوں کے گھوڑے یا اونٹ دوڑانے سے حاصل نہ ہوتے تھے۔ ان اموال کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مہاجرین میں تقسیم کردیا اور انصار میں سے کسی کو بھی حصہنہ دیا ، ماسوائے دو افراد کے جو غریب تھے۔ سہل ابن حنیف اور ابودجانہ سماک ابن حرمثہ۔ یہ اس لئے کہ مہاجرین مکہ میں سب کچھ چھوڑا آئے تھے ، اور خالص اسلام کی خاطر مدینہ آگئے تھے۔ اور انصار نے ان کو اپنے گھر میں اور مالوں میں شریک کرلیا تھا۔ نہایت حسن سلوک اور سچی برادری کے طور پر اور نہایت ہی اعلیٰ درجہ کے ایثار کے طور پر ۔ جب بنی نضیر جلاوطن ہوئے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مہاجرین کے اندر ان کا علاقہ تقسیم کرکے حالات کو فطری انداز کی طرف لوٹا دیا تاکہ فقراء کے لئے بھی ایک فنڈ قائم ہوجائے۔ اور دولت صرت اغنیاء کے اندر ہی تقسیم نہ ہوتی رہے۔ اس دولت میں سے انصار کے صرف ان دو فقیروں کو حصہ دیا گیا۔ بنی نضیر کے اموال کی تقسیم کے بارے میں بعض لوگوں نے اعتراضات کئے اور یہ اعتراضات منافقین کی طرف سے تھے۔ اس لئے ان کا یہ جواب دیا گیا : وما افاء ……………شیء قدیر (6:59) ” اور جو مال اللہ نے ان کے قبضے سے نکال کر اپنے رسول کی طرف پلٹا دیئے وہ ایسے مال نہیں ہیں جن پر تم نے گھوڑے اور اونٹ دوڑا دیئے ہیں بلکہ اللہ اپنے رسولوں کی جس پر چاہتا ہے ، تسلط عطا فرما دیتا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار سے کہا ، اگر تم چاہتے ہو تو میں مہاجرین کو تمہارے ساتھ شریک کرکے تمہارے اموال میں ان کو شریک کردوں اور تمہیں اس غنیمت میں شریک کردوں اور اگر تم چاہو تو تمہارے مال اور تمہارے مکانات مہاجرین تمہارے لئے خالی کردیں اور تمہیں غنیمت سے کچھ نہ ملے۔ اس پر انصار نے کہا : ” ہم اپنے مال اور شہر بھی ان کے ساتھ تقسیم کرتے ہیں اور غنیمت بھی ان کو دیتے ہیں۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ للفقراء ……………المفلحون (8:59 تا 9) ” ان غریب مہاجرین کے لئے ہے جو اپنے گھروں اور جائیدادوں سے نکال باہر کیے گئے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کا فضل اور خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی حمایت پر کمربستہ رہتے ہیں۔ یہی راست باز لوگ ہیں جو ان مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لاکر دارالحجرت میں مقیم تھے۔ یہ لوگ ان سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ بھی ان کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں۔ خواہ اپنی جگہ خودمحتاج ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لئے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں “۔ یہ ہے وہ واقعہ جس کے بارے میں یہ سورت نازل ہوئی۔ اس سورت کی آیات اسی سے متعلق ہیں جن میں اس سورت کا خاتمہ بھی ہے جس میں خطاب ان لوگوں کو ہے جو ایمان لائے ، جنہوں نے اس واقعہ کو دیکھا اور جو ان کے بعد آئے۔ یہ قرآن کریم کا ایک خاص انداز ہے کہ وہ کسی جزئی واقعہ پر ایک کلی اور اصولی انداز میں تبصرہ کرتا ہے۔ پھر اس واقعہ سے سبق آموز اصول اخذ ہے کہ وہ کسی جزئی واقعہ پر ایک کلی اور اصولی انداز میں تبصرہ کرتا ہے۔ پھر اس واقعہ سے سبق آموز اصول اخذ کرتا ہے اور اس کو بڑے اصولوں سے جوڑ دیتا ہے۔ پھر پوری سورت کے آخر میں اللہ کی صفات کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اور یہ وہ صفات ہیں جو اس کائنات میں نہایت ہی فعال ہیں اور اس کائنات کا واقعات انہی کے زیر اثر رونما ہوتے ہیں۔ اور ان صفات کی حقیقت کے ادراک کی وجہ سے ایک ایسا ایمان وجود میں آتا ہے جو حقائق کو سمجھتا ہے اور جو اس کائنات پر بصیرت افروز نظر رکھتا ہے۔ سورت کا آغاز بھی اس سے ہوتا ہے کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے اور خاتمہ بھی اس حقیقت پر ہوتا ہے۔ یوں آغاز واختتام میں توافق اور تناسب پیدا ہوتا ہے۔ یہ آغاز واختتام سورت کے موضوع ، دعوت تقویٰ اور خضوع وخشوع اور اللہ کی تدبیر میں غوروفکر کے موضوعات کے لئے موزوں ہے۔ اب ذرا نصوص پر تفصیلی گفتگو کہ ان نصوص نے واقعہ کی تصویر کشی کس طرح کی اور اس حادثہ سے نفوس کو کیا تربیت دی گئی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi