Surat ul Hashar

Surah: 59

Verse: 1

سورة الحشر

سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ۚ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱﴾

Whatever is in the heavens and whatever is on the earth exalts Allah , and He is the Exalted in Might, the Wise.

آسمانوں اور زمین کی ہرچیز اللہ تعالٰی کی پاکی بیان کرتی ہے ، اور وہ غالب با حکمت ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Everything glorifies Allah in its own Way Allah states that سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الاَْرْضِ ... Whatsoever is in the heavens and whatsoever is on the earth glorifies Allah. Allah states that everything that exists in the heavens and on the earth praises, glorifies, reveres and prays to Him and affirms His Oneness. Allah said in another Ayah, تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَـوَتُ السَّبْعُ وَالاٌّرْضُ وَمَن فِيهِنَّ وَإِن مِّن شَىْءٍ إِلاَّ يُسَبِّحُ بِحَمْدَهِ وَلَـكِن لاَّ تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ The seven heavens and the earth and all that is therein, glorify Him and there is not a thing but glorifies His praise. But you understand not their glorification. (17:44) Allah's statement, ... وَهُوَ الْعَزِيزُ ... And He is the Almighty, (meaning of invincible majesty), ... الْحَكِيمُ the All-Wise. (in what He decrees and legislates). The End that Bani An-Nadir suffered Allah said,

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح تقدیس تمجید تکبیر توحید میں مشغول ہے ، جیسے اور جگہ فرمان ہے ( وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا 44؀ ) 17- الإسراء:44 ) یعنی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور ثناء خوانی کرتی ہے ، وہ غلبہ والا اور بلند جناب والا اور عالی سرکار والا ہے اور اپنے تمام احکام و فرمان میں حکمت والا ہے ۔ جس نے اہل کتاب کے کافروں یعنی قبیلہ بنو نضیر کے یہودیوں کو ان کے گھروں سے نکالا ، اس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ مدینہ میں آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان یہودیوں سے صلح کر لی تھی کہ نہ آپ ان سے لڑیں نہ یہ آپ سے لڑیں ، لیکن ان لوگوں نے اس عہد کو توڑ دیا جن کی وجہ سے اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پر غالب کیا اور آپ نے انہیں یہاں سے نکال دیا ، مسلمانوں کو کبھی اس کا خیال تک نہ تھا ، خود یہ یہود بھی سمجھ رہے تھے کہ ان مضبوط قلعوں کے ہوتے ہوئے کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ، لیکن جب اللہ کی پکڑ آئی یہ سب چیزیں یونہی رکھی کی رکھی رہ گئیں اور اچانک اس طرح گرفت میں آ گئے کہ حیران رہ گئے اور آپ نے انہیں مدینہ سے نکلوا دیا ، بعض تو شام کی زراعتی زمینوں میں چلے گئے جو حشر و نشر کی جگہ ہے اور بعض خیبر کی طرف جا نکلے ، ان سے کہہ دیا گیا تھا کہ اپنے اونٹوں پر لاد کر جو لے جا سکو اپنے ساتھ لے جاؤ ، اس لئے انہوں نے اپنے گھروں کو توڑ پھوڑ کر جو چیزیں لے جا سکتے تھے اپنے ساتھ اٹھالیں ، جو رہ گئیں وہ مسلمانوں کے ہاتھ لگیں ، اس واقعہ کو بیان کر کے فرماتا ہے کہ اللہ کے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین کا انجام دیکھو اور اس سے عبرت حاصل کرو کہ کس طرح ان پر عذاب الٰہی اچانک آ پڑا اور دنیا میں بھی تباہ و برباد کئے گئے اور آخرت میں بھی ذلیل و رسوا ہوگئے اور درد ناک عذاب میں جا پڑا ۔ ابو داؤد میں ہے کہ ابن ابی اور اس کے مشرک ساتھیوں کو جو قبیلہ اوس و خزرج میں سے تھے کفار قریش نے خط لکھا یہ خط انہیں حضور علیہ السلام کے میدان بدر سے واپس لوٹنے سے پہلے مل گیا تھا اس میں تحریر تھا کہ تم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے شہر میں ٹھہرایا ہے پس یا تو تم اس سے لڑائی کرو اور اسے نکال کر باہر کرو یا ہم تمہیں نکال دیں گے اور اپنے تمام لشکروں کو لے کر تم پر حملہ کریں گے اور تمہارے تمام لڑنے والوں کو ہم تہ تیغ کر دیں گے اور تمہاری عورتوں لڑکیوں کو لونڈیاں بنا لیں گے اللہ کی قسم یہ ہو کر ہی رہے گا اب تم سوچ سمجھ لو ، عبداللہ بن ابی اور اس کے بت پرست ساتھیوں نے اس خط کو پا کر آپس میں مشورہ کیا اور خفیہ طور پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی کرنے کی تجویز بالاتفاق منظور کر لی ، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبریں معلوم ہوئیں تو آپ خود ان کے پاس گئے اور ان سے فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ قریشیوں کا خط کام کر گیا اور تم لوگ اپنی موت کے سامان اپنے ہاتھوں کرنے لگے ہو تم اپنی اولادوں اور اپنے بھائیوں کو اپنے ہاتھوں ذبح کرنا چاہتے ہو میں تمہیں پھر ایک مرتبہ موقعہ دیتا ہوں کہ سوچ سمجھ لو اور اپنے اس بد ارادے سے باز آؤ ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد نے ان پر اثر کیا اور وہ لوگ اپنی اپنی جگہ چلے گئے لیکن قریش نے بدر سے فارغ ہو کر انہیں پھر ایک خط لکھا اور اسی طرح دھمکایا انہیں ان کی قوت ان کی تعداد اور ان کے مضبوط قلعے یاد دلائے مگر یہ پھر اکڑ میں آ گئے اور بنو نضیر نے صاف طور پر بد عہدی پر کمر باندھ لی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قاصد بھیجا کہ آپ تیس آدمی لے کر آیئے ہم میں سے بھی تیس ذی علم آدمی آتے ہیں ، ہمارے تمہارے درمیان کی جگہ پر یہ ساٹھ آدمی ملیں اور آپس میں بات چیت ہو اگر یہ لوگ آپ کو سچا مان لیں اور ایمان لے آئیں تو ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں ۔ اس بد عہدی کی وجہ سے دوسرے دن صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لشکر لے جا کر ان کا محاصرہ کر لیا اور ان سے فرمایا کہ اب اگر تم نئے سرے سے امن و امان کا عہد و پیمان کرو تو خیر ورنہ تمہیں امن نہیں انہوں نے صاف انکار کر دیا اور لڑنے مرنے پر تیار ہوگئے ، چنانچہ دن بھر لڑائی ہوتی رہی ، دوسری صبح کو آپ بنو قریظہ کی طرف لشکر لے کر بڑھے اور بنو نضیر کو یونہی چھوڑا ان سے بھی یہی فرمایا کہ تم نئے سرے سے عہد و پیمان کرو انہوں نے منظور کر لیا اور معاہدہ ہو گیا ، آپ وہاں سے فارغ ہو کر پھر بنو نضیر کے پاس آئے لڑائی شروع ہوئی ، آخر یہ ہارے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ تم مدینہ خالی کر دو جو اسباب لے جانا چاہو اور اونٹوں پر لاد کر لے جاؤ چنانچہ انہوں نے گھر بار کا اسباب یہاں تک کہ دروازے اور لکڑیاں بھی اونٹوں پر لادیں اور جلا وطن ہوگئے ، ان کے کھجوروں کے درخت خاصتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوگئے اللہ تعالیٰ نے یہ آپ کو ہی دلوا دیئے ، جیسے آیت ( وَمَآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَآ اَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَّلَا رِكَابٍ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّــطُ رُسُلَهٗ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ Č۝ ) 59- الحشر:6 ) میں ہے ، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اکثر حصہ مہاجرین کو دے دیا وہاں انصاریوں میں سے صرف دو ہی حاجت مندوں کو حصہ دیا باقی سب مہاجرین میں تقسیم کر دیا ۔ تقسیم کے بعد جو باقی رہ گیا تھا یہی وہ مال تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ تھا اور جو بنو فاطمہ کے ہاتھ لگا ۔ غزوہ بنو نضیر کا مختصر قصہ اور سبب یہ ہے کہ مشرکوں نے دھوکہ بازی سے صحابہ کرام کو بیئر معونہ میں شہید کر دیا ان کی تعداد ستر تھی ان میں سے ایک حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بچ کر بھاگ نکلے مدینہ شریف کی طرف آئے آتے آتے موقعہ پا کر انہوں نے قبیلہ بنو عامر کے دو شخصوں کو قتل کر دیا حالانکہ یہ قبیلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کر چکا تھا اور آپ نے انہیں امن و امان دے رکھا تھا لیکن اس کی خبر حضرت عمر و کو نہ تھی ، جب یہ مدینے پہنچے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا تم نے انہیں قتل کر ڈالا اب مھے ان کے وارثوں کو دیت یعنی جرمانہ قتل ادا کرنا پڑے گا ، بنو نضیر اور بنو عامر میں بھی حلف و عقد اور آپس میں مصالحت تھی اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف چلے تاکہ کچھ یہ دیں کچھ آپ دیں اور بنو عامر کو راضی کر لیا جائے ۔ قبیلہ بنو نضیر کی گڑھی مدینہ کے مشرق کی جانب کئی میل کے فاصلے پر تھی جب آپ یہاں پہنچے تو انہوں نے کہاں ہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں موجود ہیں ابھی ابھی جمع کر کے اپنے حصے کے مطابق آپ کی خدمت میں حاضر کرتے ہیں ادھر آپ سے ہٹ کر یہ لوگ آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ اس سے بہتر موقعہ کب ہاتھ لگے گا ۔ اس وقت آپ قبضے میں ہیں آؤ کام تمام کر ڈالو ، چنانچہ یہ مشورہ ہوا کہ جس دیوار سے آپ لگے بیٹھے ہیں اس گھر پر کوئی چڑھ جائے اور وہاں سے بڑا سا پتھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پھینک دے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دب جائیں ، عمرو بن مجاش بن کعب اس کام پر مقرر ہوا اس نے آپ کی جان لینے کا بیڑا اٹھایا اور چھت پر چڑھ گیا چاہتا تھا کہ پتھر لڑھکا دے اتنے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور حکم دیا کہ آپ یہاں سے اٹھ کھڑے ہوں چنانچہ آپ فوراً ہٹ گئے اور یہ بدباطن اپنے برے ارادے میں ناکام رہے ۔ آپ کے ساتھ اس وقت چند صحابہ تھے مثلاً حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، حضرت علی رضی اللہ وغیرہ آپ یہاں سے فوراً مدینہ شریف کی طرف چل پڑے ، ادھر جو صحابہ آپ کے ساتھ نہ تھے اور مدینہ میں آپ کے منتظر تھے انہیں دیر لگنے کے باعث خیال ہوا اور وہ آپ کو ڈھونڈنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے لیکن ایک شخص سے معلوم ہوا کہ آپ مدینہ شریف پہنچ گئے ہیں چنانچہ یہ لوگ وہیں آئے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا واقعہ ہے؟ آپ نے سارا قصہ کہہ سنایا اور حکم دیا کہ جہاد کی تیاری کرو مجاہدین نے کمریں باندھ لیں اور اللہ کی راہ میں نکل کھڑے ہوئے ۔ یہودیوں نے لشکروں کو دیکھ کر اپنے قلعہ کے پھاٹک بند کر دیئے اور پناہ گزین ہوگئے آپ نے محاصرہ کر لیا پھر حکم دیا کہ ان کے کھجور کے درخت جو آس پاس ہیں وہ کاٹ دیئے جائیں اور جلا دیئے جائیں ، اب تو یہود چیخنے لگے کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ آپ تو زمین میں فساد کرنے سے اوروں کو روکتے تھے اور فسادیوں کو برا کہتے تھے پھر یہ کیا ہونے لگا ؟ پس ادھر تو درخت کٹنے کا غم ، ادھر جو کمک آنے والی تھی اس کی طرف سے مایوسی ان دونوں چیزوں نے ان یہودیوں کی کمر توڑ دی ۔ کمک کا واقعہ یہ ہے کہ بنو عوف بن خزرج کا قبیلہ جس میں عبداللہ بن ابی بن سلول اور ودیعہ بن مالک ، ابن ابو قوقل اور سوید اور داعس وغیرہ تھے ان لوگوں نے بنو نضیر کو کہلوا بھیجا تھا کہ تم مقابلے پر جمے رہو اور قلعہ خالی نہ کرو ہم تمہاری مدد پر ہیں تمہارا دشمن ہمارا دشمن ہے ہم تمہارے ساتھ مل کر اس سے لڑیں گے اور اگر تم نکلے تو ہم بھی نکلیں گے ، لیکن اب تک ان کا یہ وعدہ پورا نہ ہوا اور انہوں نے یہودیوں کی کوئی مدد نہ کی ، ادھر ان کے دل مرعوب ہوگئے تو انہوں نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری جان بخشی کیجئے ہم مدینہ چھوڑ جاتے ہیں لیکن ہم اپنا جو مال اونٹوں پر لاد کر لے جاسکیں وہ ہمیں دے دیا جائے آپ نے ان پر رحم کھا کر ان کی یہ درخواست منظور فرمالی اور یہ لوگ یہاں سے چلے گئے جاتے وقت اپنے دروازں تک کو اکھیڑ کر لے گئے گھروں کو گرا گئے اور شام اور خیبر میں جا کر آباد ہوگئے ، ان کے باقی کے اہل خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوگئے کہ آپ جس طرح چاہیں انہیں خرچ کریں چنانچہ آپ نے مہاجرین اولین کو یہ مال تقسیم کر دیا ، ہاں انصار میں سے صرف دو شخصوں کو یعنی سہل بن حنیف اور ابو دجانہ سماک بن خرشہ کو دیا اس لئے کہ یہ دونوں حضرات مساکین تھے ، بنو نضیر میں سے صرف دو شخص مسلمان ہوئے جن کے مال انہی کے پاس رہے ایک تو یامین بن عمیر جو عمرو بن حجاش کے چچا کے لڑکے کا لڑکا تھا یہ عمرو وہ ہے جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر پھینکنے کا بیڑا اٹھایا تھا ، دوسرے ابو سعد بن وہب ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت یامین سے فرمایا کہ اے یامین تیرے اس چچا زاد بھائی نے دیکھ تو میرے ساتھ کس قدر برا برتاؤ برتا اور مجھے نقصان پہنچانے کی کس بےباکی سے کوشش کی؟ حضرت یامین نے ایک شخص کو کچھ دینا کر کے عمرو کو قتل کرا دیا ، سورہ حشر اسی واقعہ بنو نضیر کے بارہ میں اتری ہے ، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جسے اس میں شک ہو کہ محشر کی زمین شام کا ملک ہے وہ اس آیت کو پڑھ لے ، ان یہودیوں سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم یہاں سے نکل جاؤ تو انہوں نے کہا ہم کہاں جائیں؟ آپ نے فرمایا محشر کی زمین کی طرف ، حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کو جلا وطن کیا تو فرمایا یہ اول حشر ہے اور ہم بھی اس کے پیچھے ہی پیچھے ہیں ( ابن جریر ) بنو نضیر کے ان قلعوں کا محاصرہ صرف چھ روز رہا تھا ، محاصرین کو قلعہ کی مضبوطی یہودیوں کی زیادتی یکجہتی منافقین کی سازشیں اور خفیہ چالیں وغیرہ دیکھ کر ہرگز یہ یقین نہ تھا کہ اس قدر جلد یہ قلعہ خالی کر دیں گے ادھر خود یہود بھی اپنے قلعہ کی مضبوطی پر نازاں تھے اور جانتے تھے کہ وہ ہر طرح محفوظ ہیں ، لیکن امر اللہ ایسی جگہ سے آ گیا جو ان کے خیال میں بھی نہ تھی ، یہی دستور اللہ کا ہے کہ مکار اپنی مکاری میں ہی رہتے ہیں اور بےخبر ان پر عذاب الٰہی آ جاتا ہے ، ان کے دلوں میں رعب چھا گیا بھلا رعب کیوں نہ چھاتا محاصرہ کرنے والے وہ تھے جنہیں اللہ کی طرف سے رعب دیا گیا تھا کہ دشمن مہینہ بھر کی راہ پر ہو اور وہیں اس کا دل دہلنے لگا تھا صلوات اللہ وسلامہ علیہ ۔ یہودی اپنے ہاتھوں اپنے گھروں کو برباد کرنے لگے چھتوں کی لکڑی اور دروازے لے جانے کے لئے توڑنے پھوڑنے شروع کر دیئے مقاتل فرماتے ہیں مسلمانوں نے بھی ان کے گھر توڑے اس طرح کہ جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے ان کے جو جو مکانات وغیرہ قبضے میں آتے گئے میدان کشادہ کرنے کے لئے انہیں ڈھاتے گئے ، اسی طرح خود یہود بھی اپنے مکانوں کو آگے سے تو محفوظ کرتے جاتے تھے اور پیچھے سے نقب لگا کر نکلنے کے راستے بناتے جاتے تھے ، پھر فرماتا ہے ، اے آنکھوں والو! عبرت حاصل کرو اور اس اللہ سے ڈرو جس کی لاٹھی میں آواز نہیں ۔ اگر ان یہودیوں کے مقدر میں جلا وطنی نہ ہوتی تو انہیں اس سے بھی سخت عذاب دیا جاتا ، یہ قتل ہوتے اور قید کر لئے جاتے وغیرہ وغیرہ ، پھر آخرت کے بدترین عذاب بھی ان کے لئے تیار ہیں ۔ بنو نضیر کی یہ لڑائی جنگ بدر کے چھ ماہ بعد ہوئی ، مال جو اونٹوں پر لد جائیں انہیں لے جانے کی اجازت تھی مگر ہتھیار لے جانے کی اجازت نہ تھی ، یہ اس قبیلے کے لوگ تھے جنہیں اس سے پہلے کبھی جلا وطنی ہوئی ہی نہ تھی بقول حضرت عروہ بن زبیر شروع سورت سے فاسقین تک آیتیں اسی واقعہ کے بیان میں نازل ہوئی ہیں ۔ جلاء کے معنی قتل و فنا کے بھی کئے گئے ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جلا وطنی کے وقت تین تین میں ایک ایک اونٹ اور ایک ایک مشک دی تھی ، اس فیصلہ کے بعد بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ کو ان کے پاس بھیجا تھا اور انہیں اجازت دی تھی کہ تین دن میں اپنا سامان ٹھیک کر کے چلے آئیں ، اس دنیوی عذاب کے ساتھ ہی اخروی عذاب کا بھی بیان ہو رہا ہے کہ وہاں بھی ان کے لئے حتمی اور لازمی طور پر جہنم کی آگ ہے ۔ ان کی اس درگت کی اصلی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا خلاف کیا اور ایک اعتبار سے تمام نبیوں کو جھٹلایا اس لئے کہ ہر نبی نے آپ کی بابت پیش گوئی کی تھی ، یہ لوگ آپ کو پوری طرح جانتے تھے بلکہ اولاد کو ان کا باپ جس قدر پہچانتا ہے اس سے بھی زیادہ یہ لوگ نبی آخری الزماں کو جانتے تھے لیکن تاہم سرکشی اور حسد کی وجہ سے مانے نہیں ، بلکہ مقابلے پر تل گئے اور یہ ظاہر بات ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اپنے مخالفوں پر سخت عذاب نازل فرماتا ہے ۔ لینہ کہتے ہیں اچھی کھجوروں کے درختوں کو عجوہ اور برفی جو کھجور کی قسمیں ہیں بقول بعض وہ لینہ میں داخل نہیں اور بعض کہتے ہیں صرف عجوہ نہیں اور بعض کہتے ہیں ہر قسم کی کھجوریں اس میں داخل ہیں جن میں بویرہ بھی داخل ہے ، یہودیوں نے جو بطور طعنہ کے کہا تھا کہ کھجوروں کے درخت کٹوا کر اپنے قول کے خلاف فعل کر کے زمین میں فساد کیوں پھیلاتے ہیں؟ یہ اس کا جواب ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ حکم رب سے اور اجازت اللہ سے دشمنان اللہ کو ذلیل و ناکام کرنے اور انہیں پست و بدنصیب کرنے کے لئے ہو رہا ہے جو درخت باقی رکھے جائیں وہ اجازت سے اور جو کاٹے جاتے ہیں وہ بھی مصلحت کے ساتھ ، یہ بھی مروی ہے کہ بعض مہاجرین نے بعض کو ان درختوں کے کاٹنے سے منع کیا تھا کہ آخر کار تو یہ مسلمانوں کو بطور مال غنیمت ملنے والے ہیں پھر انہیں کیوں کاٹا جائے؟ جس پر یہ آیت اتری کہ روکنے والے بھی حق بجانب ہیں اور کاٹنے والے بھی برحق ہیں ان کی نیت مسلمانوں کے نفع کی ہے اور ان کی نیت کافروں کو غیظ و غضب میں لانے اور انہیں ان کی شرارت کا مزہ چکھانے کی ہے ، اور یہ بھی ارادہ ہے کہ اس سے جل کر وہ غصے میں پھر کر میدان میں آئیں تو پھر دو دو ہاتھ ہو جائیں اور اعداء دین کو کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے ، صحابہ نے یہ فعل کر تو لیا پھر ڈرے کہ ایسا نہ ہو کاٹنے میں یا باقی چھوڑنے میں اللہ کی طرف سے کوئی مواخذہ ہو تو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور یہ آیت نازل ہوئی ۔ یعنی دونوں باتوں پر اجر ہے کاٹنے پر بھی اور چھوڑنے پر بھی ، بعض روایتوں میں ہے کٹوائے بھی تھے اور جلوائے بھی تھے ۔ بنو قریظہ کے یہودیوں پر اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کیا اور ان کو مدینہ شریف میں ہی رہنے دیا لیکن بالآخر جب یہ بھی مقابلے پر آئے اور منہ کی کھائی تو ان کے لڑنے والے مرد تو قتل کئے گئے اور عورتیں ، بچے اور مال مسلمانوں میں تقسیم کر دیئے گئے ہاں جو لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور ایمان لائے وہ بچ رہے ، پھر مدینہ سے تمام یہودیوں کو نکال دیا بنو قینقاع کو بھی جن میں سے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے اور بنو حارثہ کو بھی اور کل یہودیوں کو جلا وطن کیا ۔ ان تمام واقعات کو عرب شاعروں نے اپنے اشعار میں بھی نہایت خوبی سے ادا کیا ہے ، جو سیرۃ ابن اسحاق میں مروی ہیں یہ واقعہ بقول ابن اسحاق کے احد اور بیر معونہ کے بعد کا ہے اور بقول عروہ بدر کے چھ مہینے بعد کا ہے واللہ اعلم ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

یہ سورت یہود کے ایک قبیلے بنو نضیر کے بارے میں نازل ہوئی، اس لئے اسے سورة النضیر بھی کہتے ہیں۔ صحیح بخاری۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

سَبَّحَ ِﷲِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ج ۔۔۔۔۔۔: اس آیت کی تفسیر سورة ٔ حدید کی پہلی آیت اور سورة ٔ بنی اسرائیل کی آیت (٤٤) میں گزر چکی ہے ، یہاں صرف چند باتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو اس مقام سے متعلق ہیں :(١) سورة ٔ حدید میں ” مَا فِی السَّمٰوٰتِ والارض “ ہے ، جب کہ یہاں ” مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ “ ہے ۔ ابن عاشور (رح) تعالیٰ نے اس کی توجیہ یہ فرمائی ہے کہ سورة ٔ حدید کی ابتداء میں زمین و آسمان کی ہر چیز کے اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرنے کو بطور دلیل بیان کیا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ کی توحید اور ان صفات کے ثبوت کے لیے جو بعد کی آیات میں بیان ہوئی ہے ۔ چونکہ وہ سب کچھ جو زمین و آسمان میں پایا جاتا ہے مجموعی طور پر اس کی دلیل ہے ، اس لیے ” مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ “ میں اسے اکٹھا کردیا ہے۔ جب کہ سورة ٔ حشر کی ابتداء میں اللہ کی تسبیح کا ذکر مسلمانوں پر اس احسان کی یاد دلانے کے لیے ہے جو زمین پر پیش آنے والے ایک واقعہ کی صورت میں ہوا اور وہ ہے بنو نضیر کی جلا وطنی اور مسلمانوں کا ان کی راضی اور اموال کا مالک بن جانا ۔ اس لیے اس میں زمین والوں کو خاص طور پر الگ ذکر کرنے کے لیے ” مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ “ فرمایا۔ یہی معاملہ سورة ٔ صف ، سورة ٔ جمعہ اور سورة ٔ تغابن کا ہے ، ان سب میں ” مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ “ کے بجائے ” مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ “ کہ اگیا ہے ، کیونکہ ان کے بعد مذکور چیزوں کا تعلق خاص طور پر زمین والوں کے ساتھ ہے۔ ٢۔ بنو نضیر کے واقعہ کے ذکر سے پہلے ” سَبَّحَ ِﷲِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ “ لانے کا مقصد یہ ہے کہ اس جیسے طاقتور قبیلے کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا وہ مسلمانوں کی طاقت کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ تھا ، جو ہر عیب اور عجز سے پاک ہے ، یہ کام جو مسلمانوں کی تعداد اور قوت کے لحاظ سے ممکن ہی نہ تھا ، اللہ تعالیٰ کے لیے بالکل معمولی ہے ، کیونکہ وہ سبحان ہے ، اللہ تعالیٰ کی صفات ” العزیز الحکیم “ لانے میں بھی حکم ہے کہ جب وہ کسی کو غالب کرنا چاہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا اور اس واقعہ میں بھی اس کی بیشمار حکمتیں ہیں ۔ اس کے علاوہ اس میں مسلمانوں کے لیے سبق بھی ہے کہ جب آسمانوں کی ہر چیز اور زمین کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے تو تمہیں بھی اس کی بیشمار نعمتوں پر ، جن میں بنو نضیر کی جلا وطنی کی نعمت بھی ہے اس کی تسبیح کرنی چاہیے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Sequencing of Surahs The preceding Surah had condemned the close friendship developed by the hypocrites with the Jews. The present Surah describes the punishment faced by the Jews in this world in the form of exile and in the Hereafter in the form of grievous torment. Cause of Revelation The story of their banishment from Madinah is that when the Messeger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) migrated to Madinah, he concluded a peace treaty with the Jews. Banu Nadir, one of the Jew tribes living around Madinah, were one of the three signatories. The latter tribe lived about two miles away from Madinah. Once it happened that ` Amr Ibn &Umayyah Damuri killed two persons by mistake. According to Law, the Muslims jointly had to settle the blood-wit. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) first collected money from the Muslims for this purpose. Then he decided to collect money from the Jews as well in terms of the treaty he already had with them. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) visited the tribe of Banu Nadir for this purpose. Before his arrival, they conspired to put an end to his life. When he reached there, they made him sit against a wall and said to him that they were going to gather the blood money. In the meanwhile, they secretly plotted that someone should climb the particular wall in the shade of which the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was sitting and drop a rock on him and kill him. But before the Jews could execute their sinister plan, Allah revealed to him in time about their plot and conspiracy. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) instantly left the place, returned to Madinah and sent a message to Banu Nadir that they have betrayed the treaty. Therefore, they are given ten days in which to leave the town and go into exile, and were warned that if they would not meet the deadline, they might be killed at sight. They decided to leave, but ` Abdullah Ibn &Ubayy prevented them. He said that they did not have to leave because he had an army of two thousand men who were willing to lay down their lives to protect the Jewish lives. It is stated in Ruh-ul-Ma` ani on the authority of Ibn Ishaq that along with ` Abdullah were Wadi&ah Ibn Malik, Suwaid and Ra&ish. The Jews fell into the trap of the three and sent a message to the Holy Prophet that they would not leave. As a result, he together with the noble Companions (رض) marched on that tribe. The Jews locked themselves up in the fortresses, but the hypocrites, being essentially cowards, hid themselves. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) laid a siege to the Jewish fortresses. Some of their date palms were felled and others were burnt down. Eventually, they agreed to go into exile. So, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forced them to evacuate and abandon their fortresses and, in kindness, allowed to take with them enough provisions, whatever their cavalry and camelry could carry except arms and weapons, which, they were told, would be confiscated. Some of them went to Syria, while others went to Khaibar. On account of their greed, they carried with them even beams, rafters, woods and the doors of their houses. This incident took place after the battle of Badr in RabI&-ul Awwal 4 AH. Sayyidna ` Umar (رض) ، during his caliphate, sent them away to Syria to live with the rest of the Jews. The two banishments go under the names of the &first banishment& and the &second banishment&. [ Zad-ul-Ma’ ad ]. The Characteristics of Surah AI-Hashr and the History of Banu Nadir The entire Surah Al-Hashr was revealed in connection with Bani Nadir [ Ibn Ishaq ]. Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) used to call this Surah, Surah Banff Nadir. [ Ibn Kathir ]. Bani Nadir were the descendents of the Holy Prophet Harun (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Their forefathers were scholars of Torah, which contained a full description of the Last Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) such as his physical features, his signs of Prophet-hood and his migration to Yathrib (Madinah). This tribe was under the impression that the Last Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) would be one of the descendents of Holy Prophet Harun (علیہ السلام) and they would have the pleasure of being in his company. For this reason, they migrated from Syria and settled in Yathrib. Some of the contemporaries of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) were also scholars of the Torah, who saw his physical features and other signs of Prophet-hood and recognized him as the Final Messenger but, as they thought that he would be one of the descendents of Harun they were disappointed when he was raised among the descendents of Ismail (علیہ السلام) . They were jealous and, on account of their jealousy, they were inhibited from embracing the Faith. But in their heart of hearts they knew that Sayyidna Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was the Final Messenger of Allah. When, in the battle of Badr, they saw the amazing victory of the Muslims and the humiliating defeat of the pagan Quraish, their degree of certainty was somewhat augmented. They even expressed their amazement. But distinguishing between truth and falsehood on the basis, measurement, or standard of the apparent victory and defeat is a weak yardstick. As a result, when in the battle of Uhud, Muslims initially suffered a temporary setback and some of the Companions (رض) were martyred, their certainty was shaken. After that they started conspiring with the pagan Arabs. When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) migrated to Madinah, as stated earlier, he with his political sagacity felt his first task was to enter into a peace treaty with the Jews of Madinah and other neighbouring Jewish tribes, stipulating that he would not fight them and they would not fight him, nor would they aid and abet those who take up arms against the Muslims, and if the Jews were attacked, the Muslims would assist them. There were many other clauses in the peace accord, the details of which are available in &Sirah of Ibn Hisham&. All the Jewish tribes, including Banu Nadir, had their area, strong fortresses and orchards at a distance of 3.2 kilometers from Madinah. Up to the point of the battle of &Uhud, they apparently kept to the terms of the treaty. But after that battle, they betrayed the treaty and started conspiring secretly, in that a leader of Banu Nadir, Ka&b Ibn Ashraf, went to Makkah with a caravan of forty Jewish members to curry favour with the pagan Quraish who were anxious to avenge the defeat of the battle of Badr, and had gone to the battle of &Uhud for that reason but were eventually defeated in the latter battle as well. The defeated men returned and the Jews met them. They conspired and agreed to wage a war against the Messenger of Allah and the Muslims. Ka&b Ibn Ashraf with his forty Jewish members and Abu Sufyan with his forty members of pagan Quraish entered the Sacred Mosque and, holding on the curtain of the House of Allah, pledged that they would jointly fight the Muslims and annihilate them. When, after this pledge, Ka&b Ibn Ashraf returned to Madinah, Jibra&il (علیہ السلام) descended and informed the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about the entire episode and the details of the pledge. In the meantime, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) issued the command to kill Ka&b Ibn Ashraf. A noble Companion Muhammad Ibn Maslamah killed him. Subsequently, Banu Nadir hatched many different plots to harm the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، one of which was, as reported earlier, their plot to kill him. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، after collecting blood money from the Muslims in a particular case of murder, decided to collect money from the Jews in terms of the treaty that was concluded between himself (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، the tribes of Banu Nadir, Banu Qainuqa` and Banu Quraizah. Before his arrival, they planned to kill him, as detailed above. The person who was entrusted with the task of throwing a rock on the head of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was a Jew ` Umar Ibn Jahhash by name who had volunteered himself for the task. Had it not been for the revelatory information the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ; received from Allah, their plot would have worked. But Allah protected His Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and the conspiracy was thus thwarted and their plan failed. A Lesson It is a remarkable co-incidence that subsequently the entire Banu Nadir clan was expelled from Madinah except for two persons who embraced the Islamic Faith and were spared: One of them was ` Umar Ibn Jahhash and the other was his paternal uncle Yamin Ibn ` Amr Ibn Ka&b. [ Ibn Kathir ]. The Story of ` Amr Ibn Umayyah Damuri Under the rubric of &cause of revelation& above, reference was made to the incident that ` Amr Ibn Umayyah Damuri accidentally killed two men. The Muslims as well as the Jews had to jointly settle the blood-wit in terms of the treaty existing between them. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) collected money from the Muslims for this purpose. Then he decided to collect money from the Jews. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) visited the tribe of Banu Nadir in their area for this purpose. Ibn Kathir writes that the enemy plans to harm the Muslims are many and long-drawn-out. One famous incident in Islamic history is that of Bi&r Ma` unah: Some of the hypocrites and the non-believers requested the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to send a band of the noble Companions (رض) to preach the religion of Islam. He dispatched about seventy Companions (رض) for the purpose. Later on it was discovered that this was a mere conspiracy. The plan was to surround them and kill them, in which they succeeded. Of the seventy Muslims, only ` Amr Ibn Umayyah Damuri managed to escape. He had seen and experienced the dishonesty and treachery of the non-believers, and how they mercilessly massacred sixty-nine of his brethren. In the circumstances, one can imagine how his emotions would have been against the enemies. Co-incidentally, when he was returning to Madinah he encountered two non-believers and killed them. Later on it was discovered that the two men killed were members of Bani ` Amir, a tribe which was an ally of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Banu Nadir was also an ally of Bani ` Amir tribe. The agreements of Muslim politicians were not like the political agreements of today in which every effort is made at the very beginning to find out ways to escape or violate it. In the case of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and the early sincere Muslims, whatever the tongue uttered or the pen wrote was treated as part of religion and Divine law and binding. When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) learnt about ` Amr Ibn &Umayyah Damrui&s error of judgment, he decided to pay the blood-wit, in terms of the sacred law of Shari’ ah, for the two men killed. In this matter, he first collected money from the Muslims and then he had to go to Banu Nadir for collection. [ Ibn Kathir ] Tolerance and Human Rights in Islam: A Model for Present-day Politicians There are many lessons in the incidents cited above for the heralds of human rights, and for the political leaders and the big powers who talk highly about them and are deemed as &Champions of Human Rights&. Let us look at the case of Banu Nadir: They unceasingly were involved in conspiracies, endlessly behaved treacherously and continuously plotted to kill the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Would the present-day political leaders or heads of governments tolerate all this? How would they treat them? Nowadays, the opponents are killed even by sprinkling petrol on them or in some other execution style. There is no need for political leadership or government for that purpose. A few wicked hooligans gather together and carry out the executions. The official wrath and anger manifest itself much more grievously. But here we are describing the government of Allah and His Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : Even when the enemy conspiracies and treacheries reached the peak, no massacre was contemplated. No thought of usurping their property and wealth was ever considered. In fact, the following humane punitive measures were taken: [ 1] They were allowed to take all their wealth with them, and were ordered only to evacuate the town. [ 2] To do this, they were given ten days, so that they might be able to take their things comfortably and transfer themselves to some other place. When they did not comply, it became necessary to take a sterner measure at national level. [ 3] Some trees were though cut down and others were burned down, but even at that stage, no edict was issued to burn down their fortresses or attack them and kill them on a large scale. [ 4] When they expressed that it was in their best interests to go into exile, they were given the choice that each man could take with him as much provisions as his camel could carry. As a result, they carried their hooks, latches, doors, planks, beams and rafters. [ 5] No Muslim ever frowned upon any of the persons transferring his stuff. They took their things and moved out peacefully and safely. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) showed this kindness to them when they were completely subdued and he was in complete command of the situation. He had the power to fully avenge their treachery, dishonesty and conspiracy. But he did not do it. This behavior of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) corresponds to his behavior with the pagans of Makkah when he entered the city after the triumph. Let us now explain some expressions of these verses in the background of these events.

ربط سورت اور شان نزول : پچھلی سورت میں یہود کی دوستی جو منافقین نے اختیار کر رکھی تھی اس کی مذمت کا بیان تھا، اس سورت میں یہود پر دنیا میں جلا وطنی کی سزا اور آخرت کا عذاب مذکور ہے اور قصہ ان یہود کا یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مدینہ طیبیہ میں تشریف لائے تو یہود سے معاہدہ صلح کا ہوچکا تھا اور ان یہودیوں کے مختلف قبائل میں ایک قبیلہ بنو نضیر کا تھا وہ بھی معاہدہ صلح میں داخل تھا اور یہ لوگ مدینہ طیبہ سے دو میل پر رہتے تھے، ایک مرتبہ یہ واقعہ پیش آیا کہ عمرو بن امیہ ضمری کے ہاتھ سے دو قتل ہوگئے تھے جس کا خون بہا سب کو مل کر ادا کرنا تھا، آپ نے اپنے مسلمانوں سے اس کے لئے چندہ حاصل کیا، پھر یہ ارادہ ہوا کہ یہود بھی ازروئے صلح نامے مسلمانوں کے ساتھ ہیں خون بہا کی رقم میں ان کو بھی شریک کیا جائے، اس کام کے لئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبیلہ بنو نضیر کے پاس تشریف لے گئے، انہوں نے یہ سازش کی کہ آپ کو قتل کردینے کا موقع ہمارے ہاتھ آ گیا، اس لئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک جگہ بٹھلا دیا اور کہا کہ ہم خون بہا کی رقم جمع کرنے کا انتظام کرتے ہیں اور خفیہ مشورہ کر کے یہ طے کیا کہ جس دیوار کے نیچے آپ تشریف فرما ہیں کوئی شخص اوپر چڑھ کر کوئی بڑا بھاری پتھر آپ کے اوپر چھوڑ دے کہ آپ کا کام تمام ہوجائے، آپ کو فوراً بذریعہ وحی ان کی یہ سازش معلوم ہوگئی، آپ وہاں سے اٹھ کر واپس تشریف لائے اور ان سے کہلا بھیجا کہ تم نے عہد شکنی کر کے صلح توڑ دی اس لئے اب تمہیں دس روز کی مہلت دی جاتی ہے اس میں تم جہاں چاہو چلے جاؤ، اس مدت کے بعد جو شخص یہاں نظر آوے گا اس کی گردن مار دی جاوے گی، انہوں نے چلے جانے کا ارادہ کیا تو عبداللہ بن ابی منافق نے ان کو روکا کہ کہیں نہ جاؤ، میرے پاس دو ہزار آدمیوں کی جمعیت ہے جو اپنی جان دیدیں گے، تم پر آنچ نہ آنے دیں گے اور روح المعانی میں ابن اسحاق کی روایت سے اس میں عبداللہ کے ساتھ ودیعہ مالک اور سوید اور راعس کا شریک ہونا بھی لکھا ہے، یہ لوگ ان کے کہنے میں آگئے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہلا بھیجا کہ ہم کہیں نہیں جائیں گے، آپ سے جو کچھ ہو سکے کرلیجئے، آپ صحابہ کرام کے ساتھ اس قبیلہ پر حملہ آور ہوئے اور یہ لوگ قلعہ بند ہوگئے اور منافقین منہ چھپا کر بیٹھ گئے، آپ نے ان کا محاصرہ کرلیا اور ان کے درخت جلوا دیئے، کچھ کٹوا دیئے، آخر تنگ آ کر انہوں نے جلا وطن ہونا منظور کرلیا، آپ نے اس حال میں بھی ان کے ساتھ یہ رعایت کی کہ حکم دے دیا کہ جتنا سامان تم ساتھ لے جاسکتے ہو لے جاؤ، بجز ہتھیار کے وہ ضبط کر لئے جاویں گے، یہ لوگ نکل کر کچھ شام میں چلے گئے، کچھ خیبر میں اور حرص دنیا کی وجہ سے اپنے گھروں کی کڑیاں، تختے، کواڑ تک اکھاڑ کرلے گئے اور یہ قصہ غزوہ احد کے بعد ربیع الاول سن 4 ھ میں پیش آیا، پھر حضرت عمر نے اپنے زمانہ خلافت میں ان کو دوسرے یہود کے ساتھ ملک شام کی طرف نکال دیا، یہ دونوں جلا وطنی حشر اول اور حشرثانی کہلاتی ہیں، کذافی زادلمعاد۔ خلاصہ تفسیر اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں سب جو کچھ آسمانوں اور زمین میں (مخلوقات) ہیں اور وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے (چنانچہ اس کی علو شان اور قدرت اور حکمت کا ایک اثر یہ ہے کہ) وہی ہے جس نے (ان) کفار اہل کتاب (یعنی بنی نضیر) کو ان کے گھروں سے پہلی ہی بار اکٹھا کر کے نکال دیا (یعنی بقول زہری اس کے قبل ان پر یہ مصیبت واقع نہ ہوئی تھی، یہ مصیبت ان پر پہلی بار ہی آئی ہے جو ان کی حرکات شنیعہ کا ثمرہ ہے اور اس میں ایک لطیف اشارہ ہے ایک پیشین گوئی کی طرف کہ ان کے لئے پھر بھی ایسا اتفاق ہوگا، چناچہ دوبارہ حضرت عمر نے تمام یہود کو جزیرہ عرب سے نکال دیا، کذافی الخازن اور اشارہ کو لطیف اس لئے کہا گیا کہ لفظ اول ہمیشہ مقتضی نہیں ہوگا کہ اس کا کوئی ثانی بھی ہو، چناچہ بولتے ہیں فلاں عورت کے پہلی ہی بار بچہ پیدا ہوا ہے، ان کا گھروں سے نکال دینا مسلمان کی طاقت اور غلبہ کا اثر تھا، آگے اس کی تقریر ہے کہ اے مسلمانوں ان کا سامان و شوکت دیکھ کر) تمہارا گمان بھی نہ تھا کہ وہ (کبھی اپنے گھروں سے) نکلیں گے اور (خود) انہوں نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ ان کے قلعے ان کو اللہ (کے انتقام) سے بچالیں گے (یعنی اپنے قلعوں کے استحکام پر ایسے مطمئن تھے کہ ان کے دل میں انتقام غیبی کا خطرہ بھی نہ آتا تھا، پس ان کی حالت مشابہ اس شخص کے تھی جس کا یہ گمان ہو کہ ان کے قلعے اللہ کی گرفت سے بچا لیں گے اور اگر خاص قبیلہ بنو نضیر کے قلعے متعدد نہ ہوں تو حصو نہم جمع کی ضمیر مطلق یہود کی طرف ہوگی اور انہم کی ضمیر بھی اور صرفضمیر بنی نضیر کی طرف ہوجاوے گی، یعنی بنی نضیر کا یہ خیال تھا کہ سب یہود کو ان کے قلعے حوادث سے بچا لیں گے، ان سب یہود میں یہ بھی آگئے کہ اپنے قلعہ کو اپنا محافظ سمجھتے تھے) سو ان پر خدا (کا عقاب) ایسی جگہ سے پہنچا کہ ان کو خیال (اور گمان) بھی نہ تھا، (مراد اس جگہ سے یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھوں نکالے گئے جن کی بےسرو سامانی پر نظر کر کے اس کا احتمال بھی نہ تھا کہ یہ بےسامان ان باسامانوں پر غالب آجائیں گے) اور ان کے دلوں میں (اللہ تعالیٰ نے مسلمان کا) رعب ڈال دیا کہ (اس رعب کی وجہ سے نکلنے کا قصر کیا اور اس وقت یہ حالت تھی کہ) اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے بھی اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے بھی اجاڑ رہے تھے (یعنی خود بھی کڑی تختہ لے جانے کے واسطے اپنے مکانوں کو منہدم کرتے تھے اور مسلمان بھی ان کے قلب کو صدمہ پہنچانے کے واسطے منہدم کرتے تھے اور مسلمانوں کے منہدم کرنے کو بھی ان کی طرف منسوب اس لئے کیا کہ سبب اس انہدام کا وہ ہی لوگ تھے کیونکہ انہوں نے عہد شکنی کی اور وہ فعل یہود کا ہے پس اسناد سبب کی طرف ہوگئی اور مسلمانوں کا ہاتھ بمنزلہ آلہ کے ہوگیا) سو اے دانش مندو ( اس حالت کو دیکھ کر) عبرت حاصل کرو (کہ انجام خدا اور رسول کی مخالفت کا بعض اوقات دنیا میں بھی نہایت برا ہوتا ہے) اور اگر اللہ تعالیٰ ان کی قسمت میں جلا وطن ہونا نہ لکھ چکتا تو ان کو دنیا ہی میں (قتل کی) سزا دیتا (جس طرح ان کے بعد بنی قریظہ کے ساتھ معاملہ کیا گیا) اور (گو دنیا میں عذاب قتل سے بچ گئے لیکن) ان کے لئے آخرت میں دوزخ کا عذاب (تیار) ہے (اور) یہ (سزائے جلاوطنی دنیا میں اور سزا نار آخرت میں) اس سبب سے ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ کی مخالفت کرتا ہے ( اور وہی مخالفت رسول کی بھی ہے) تو اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے (یہ مخالفت دو طرح کی ہوئی، ایک نقض عہد سے جس سے کہ سزا جلاوطنی ہوئی اور دوسرے عدم ایمان سے جو سبب عذاب آخرت کا ہے، آگے یہود کے ایک طعن کا جواب ہے جو درختوں کے کاٹنے اور جلانے کے باب میں کیا تھا کہ ایسا کرنا تو فساد ہے اور فساد مذموم ہے، کذا فی الدرو نیز بعض مسلمانوں نے باوجود اجازت کے یہ سمجھ کر کہ ترک جائز جائز ہے اور آخر میں یہ درخت مسلمانوں ہی کے ہوجائیں گے تو ان کا رہنا ہی بہتر ہے، نہیں کاٹے اور بعض نے یہ سمجھ کر کہ یہود کا دل دکھے گا کاٹ دیئے، کذافی الدر، جواب کے ساتھ ان دونوں فعل کی بھی تصویب ہے پس ارشاد ہے کہ) جو کجھوروں کے درخت تم نے کاٹ ڈالے (اسی طرح جو جلا دیئے) یا ان کو ان کی جڑوں پر (بحالہا) کھڑا رہنے دیا سو (دونوں باتیں) خدا ہی کے حکم (اور رضا) کے موافق ہیں اور تاکہ کافروں کو ذلیل کرے (یعنی دونوں فعل میں مصلحت ہے، چناچہ ترک میں بھی مسلمانوں کی ایک کامیابی اور کفار کو غیظ میں ڈالنا ہے کہ یہ مسلمان اس کو برتیں گے اور قطع کرنے اور جلا دینے میں بھی مسلمانوں کی دوسری کامیابی یعنی ظہور آثار غلبہ اور کفار کو غیظ میں ڈالنا ہے کہ مسلمان ہماری چیزوں میں کیسے تصرفات کر رہے ہیں، پس دونوں امر جائز ہیں اور حکمت پر مبنی ہونے کے سبب ان میں کوئی قباحت نہیں۔ معارف و مسائل سورة حشر کی خصوصیات اور قبیلہ بنو نضیر کی تاریخ : سورة حشر پوری یہود کے قبیلہ بنو نضیر کے متعلق نازل ہوئی ہے ( قالہ ابن اسحق) اور حضرت ابن عباس اس سورت کا نام ہی سورة بنی نضیر کہا کرتے تھے (ابن کثیر) بنو نضیر یہود کا ایک قبیلہ ہے جو حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں ہے، ان کے آباؤ اجداد تورات کے عالم تھے، جس میں حضرت خاتم الانبیاء (علیہ السلام) کی خیر اور آپ کا حلیہ اور علامات مذکور تھے اور یہ کہ ان کی ہجرت یثرب (مدینہ) کی طرف ہوگی، یہ خاندان اس طمع میں کہ خاتم الانبیاء کے ساتھ رہیں شام سے مدینہ طیبہ منتقل ہوا تھا، اس کے موجودہ لوگوں میں بھی کچھ تورات کے عالم تھے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ تشریف لانے کے بعد علامات دیکھ کر پہچان بھی لیا تھا کہ یہ وہی خاتم الانبیاء ہیں لیکن ان کا خیال تھا کہ وہ آخری نبی ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں ان کے خاندان میں ہوں گے اور خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل میں معبوث ہوئے تو اس حسد نے ان لوگوں کو ایمان لانے سے روک دیا، مگر دل میں ان کے اکثر لوگ آپ کے آخر الانبیاء ہونے کو جانتے پہچانتے تھے اور غزوہ بدر میں مسلمانوں کی حیرت انگیز فتح اور مشرکین کی شکست دیکھ کر ان کا یہ یقین کچھ اور بڑھا بھی تھا اس کا اقرار ان کی زبانوں سے سنا بھی گیا، مگر اس ظاہری فتح و شکست کو حق و باطل کے پہچاننے کا معیار بنا لینا ہی ایک بودی اور کمزور بنیاد تھی، نتیجہ یہ ہوا کہ غزوہ احد میں جب ابتداً مسلمانوں کو شکست ہوئی، کچھ حضرات صحابہ شہید ہوئے تو ان کا یقین متزلزل ہوگیا اور اس کے بعد سے انہوں نے مشرکین مکہ کے ساتھ ساز باز شروع کردی۔ اس سے پہلے یہ واقعہ ہوچکا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ طیبہ پہنچ کر حکیمانہ سیاست کے مقتضیٰ پر سب سے پہلا کام یہ کیا تھا کہ مدینہ طیبہ میں اور شہر کے آس پاس کچھ یہود کے قبائل آباد تھے، ان سے معاہدہ صلح اس پر کرلیا تھا کہ یہ لوگ نہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کریں گے اور نہ کسی جنگ کرنے والے کی امداد کریں گے، اگر ان پر کوئی حملہ آور ہوا تو مسلمان ان کی امداد کریں گے، صلح نامہ میں اور بھی بہت سی دفعات تھیں جن کی تفصیل سیرت ابن ہشام وغیرہ میں مذکور ہے، اسی طرح یہود کے تمام قبائل کی جن میں بنو نضیر بھی داخل تھے، مدینہ طیبہ سے دو میل کے فاصلہ پر ان کی بستی اور مضبوط قلعے اور باغات تھے۔ غزوہ احد تک تو یہ لوگ بظاہر اس صلح نامہ کے پابند نظر آئے، مگر احد کے بعد انہوں نے غداری کی اور خفیہ خیانت شروع کردی، اس غدر و خیانت کی ابتداء اس سے ہوئی کہ بنو نضیر کا ایک سردار کعب بن اشرف غزوہ احد کے بعد اپنے یہودیوں کے چالیس آدمیوں کے ایک قافلہ کے ساتھ مکہ معظمہ پہنچا اور یہاں کے کفار قریش جو غزوہ بدر کی شکست کا بدلہ لینے کی نیت سے غزوہ احد پر گئے تھے اور اس میں بالآخر شکست کھا کر واپس ہوچکے تھے ان سے ملاقات کی اور ان دونوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کا ایک معاہدہ ہونا قرار پایا، جس کی تکمیل اس طرح کی گئی کہ کعب بن اشرف اپنے چالیس یہودیوں کے ساتھ اور ان کے بالمقابل ابوسفیان اپنے چالیس قریشیوں کے ساتھ حرم بیت اللہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کا پردہ پکڑ کر یہ معاہدہ کیا کہ ہم ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کریں گے۔ کعب بن اشرف اس معاہدہ کے بعد مدینہ طیبہ واپس آیا تو جبرئیل امین نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ سارا واقعہ اور معاہدہ کی تفصیل بتلا دی، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کعب بن اشرف کے قتل کا حکم جاری فرما دیا، چناچہ محمد بن مسلمہ صحابی نے اس کو قتل کردیا۔ اس کے بعد بنو نضیر کی مختلف خیانتیں اور سازشیں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم ہوتی رہیں، جن میں ایک وہ واقعہ ہے جو اوپر شان نزول کے عنوان سے لکھا گیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قتل کی سازش کی اور اگر فوری طور پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بذریعہ وحی اس سازش پر مطلع نہ ہوتے تو یہ لوگ اپنی سازش قتل میں کامیاب ہوجاتے، کیونکہ جس مکان کے نیچے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو انہوں نے بٹھایا تھا اس کی چھت پر چڑھ کر ایک بڑا بھاری پتھر آپ کے سر مبارک پر چھوڑ دینے کا منصوبہ تقریباً مکمل ہوچکا تھا، جو شخص اس منصوبہ کو عملی صورت دینے والا تھا اس کا نام عمر بن حجاش تھا، حق تعالیٰ جل شانہ نے آپ کی حفاظت فرمائی اور یہ منصوبہ فیل ہوگیا۔ ایک عبرت : یہ بھی عجیب معاملہ ہے کہ بعد کے واقعہ میں سارے ہی بنو نضیر جلا وطن ہو کر مدینہ سے نکل گئے، مگر ان میں سے صرف دو آدمی مسلمان ہو کر محفوظ و مامون رہے، ان دو میں ایک یہی عمر بن جحاش تھے دوسرے ان کے چچا یامین بن عمرو بن کعب تھے (ابن کثیر) عمرو بن امیہ ضمری کا واقعہ : شان نزول کے واقعہ میں جو یہ ذکر آیا ہے کہ عمر و بن امیہ ضمیری کے ہاتھ سے دو قتل ہوگئے تھے ان کا خون بہا جمع کرنے کی کوشش رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے اسی خون بہا کے سلسلے میں بنو نضیر کا چندہ حاصل کرنے کے لئے آپ ان کی بستی میں تشریف لے گئے تھے، اس کا واقعہ ابن کثیر نے یہ بیان کیا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کفار کی سازشیں اور مظالم کی داستان تو بہت طویل ہے ان میں سے ایک واقعہ بیر معونہ کا تاریخ اسلام میں معروف و مشہور ہے کہ بعض منافقین و کفار نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنی بستی میں تبلیغ اسلام کے لئے صحابہ کرام کی ایک جماعت بھیجنے کی درخواست کی، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ستر صحابہ کرام ان کے ساتھ کئے بعد میں حقیقت یہ کھلی کہ ان لوگوں نے یہ محض سازش کی تھی، ان سب کو گھیر کر قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور وہ اس میں کامیاب ہوگئے، ان سے صرف عمرو بن امیہ ضمری کسی طرح نکل کر بھاگ جانے میں کامیاب ہوگئے جو بزرگ ابھی کفار کی یہ غداری اور خیانت اور اپنے انہتر بھائیوں کا بیدردی سے قتل دیکھ کر آ رہے تھے ان کا جذبہ کفار کے مقابلہ میں کیا ہوگا ہر شخص خود اندازہ کرسکتا ہے، اتفاق یہ ہوا کہ مدینہ طیبہ واپس آنے کے وقت راستہ میں ان کو دو کافروں سے سابقہ پڑا، انہوں نے دونوں کو قتل کردیا، بعد میں معلوم ہوا کہ دونوں آدمی قبیلہ بنی عامر کے تھے جن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معاہدہ صلح تھا۔ مسلمانوں کے معاہدات آج کل کے سیاسی لوگوں کے معاہدات تو ہوتے نہیں کہ پہلے ہی خلاف ورزی اور عہد شکنی کی راہیں تلاش کرلی جاتی ہیں، یہاں تو جو کچھ زبان یا قلم سے نکلتا تھا دین و مذہب اور خدا تعالیٰ کے حکم کی حیثیت رکھتا تھا اور اس کی پابندی لازمی تھی، جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس غلطی کا علم ہوا تو آپ نے اصول شرعیہ کے مطابق ان دونوں مقتولوں کی دیت (خون بہا) ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا اور اس کے لئے مسلمانوں سے چندہ جمع کیا، اس میں بنو نضیر کے پاس بھی چندہ کے سلسلے میں جانا ہوا (ابن کثیر) بنو نضیر کو جلا وطن کرنے کے وقت اسلام اور مسلمانوں کی رواداری موجودہ اہل سیاست کے لئے سبق آموز معاملہ : آج کے بڑے حکمران اور بڑی حکومتیں جو انسانی حقوق کے تحفظ پر بڑے بڑے لیکچر دیتے ہیں اور اس کے لئے ادارے قائم کرتے ہیں اور دنیا میں تحفظ حقوق انسانیت کے چودھری کہلاتے ہیں ذرا اس واقعہ پر نظر ڈالیں کہ بنو نضیر کی مسلسل سازشیں، خیانتیں، قتل رسول کے منصوبے جو آپ کے سامنے آتے رہے اگر آج کل کے کسی حکمران اور کسی سربراہ مملکت کے سامنے آئے ہوتے تو ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ کرتا، آج کل تو زندہ لوگوں پر پٹرول چھڑک کر میدان صاف کردینا کسی بڑے اقتدار و حکومت کا بھی محتاج نہیں، کچھ غنڈے شریر جمع ہوجاتے ہیں اور یہ سب کچھ کر ڈالتے ہیں، شاہانہ غیظ و غضب کے کرشمے کچھ اس سے آگے ہی ہوتے ہیں۔ مگر یہ حکومت خدا کی اور اس کے رسول کی ہے جب خیانتیں اور غداریاں انتہاء کو پہنچ گئیں تو اس وقت بھی ان کے قتل عام کا ارادہ نہیں فرمایا، ان کے مال و اسباب چھین لینے کا کوئی تصور نہیں تھا، بلکہ (1) اپنا سب سامان لے کر صرف شہر خالی کردینے کا فیصلہ کیا۔ (2) اور اس کے لئے بھی دس روز کی مہلت دی کہ آسانی سے اپنا سامان ساتھ لے کر اطمینان سے کسی دوسرے مقام پر منتقل ہوجائیں جب اس کی بھی خلاف ورزی کی تو قومی اقدام کی ضرورت پیش آئی۔ (3) اس لئے کچھ درخت تو جلائے گئے، کچھ کاٹے گئے کہ ان پر اثر پڑے، مگر قلعہ کو آگ لگا دینے کا یا ان کے قتل عام کا حکم اس وقت بھی نہیں دیا گیا۔ (4) پھر جب مجبور ہو کر ان لوگوں نے شہر خالی کردینا منظور کرلیا تو اس فوجی اقدام کے باوجود ان کو یہ اختیار دیا گیا کہ ایک اونٹ پر جس قدر سامان ایک آدمی لے جاسکتا ہے لے جائے، اسی کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے اپنے مکانوں کی کڑیاں، تختے، دروازے، کواڑ تک اتار کر لاد لئے۔ (5) اس سازو سامان کے ساتھ منتقل ہونے والوں کو کسی مسلمان نے ترچھی نظر سے نہیں دیکھا، امن و عافیت اور پورے اطمینان کے ساتھ سامان لے کر رخصت ہوئے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے یہ معاملات اس وقت کے ہیں جبکہ آپ کو اپنے دشمن سے انتقام پورا پورا لے لینے کی مکمل قدرت و طاقت حاصل تھی، ان غدار، خائن، سازشی دشمنوں کے ساتھ اس وقت آپ کا یہ معاملہ اسی کی نظیر ہے جو فتح مکہ کے بعد اپنے قدیمی دشمنوں کے ساتھ آپ نے فرمایا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

سَبَّحَ لِلہِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ۝ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝ ١ سبح السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو : وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في العبادات قولا کان، أو فعلا، أو نيّة، قال : فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ [ الصافات/ 143] ، ( س ب ح ) السبح اس کے اصل منعی پانی یا ہوا میں تیز رفتار ری سے گزر جانے کے ہیں سبح ( ف ) سبحا وسباحۃ وہ تیز رفتاری سے چلا پھر استعارہ یہ لفظ فلک میں نجوم کی گردش اور تیز رفتاری کے لئے استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] سب ( اپنے اپنے ) فلک یعنی دوائر میں تیز ی کے ساتھ چل رہے ہیں ۔ اور گھوڑے کی تیز رفتار پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] اور فرشتوں کی قسم جو آسمان و زمین کے درمیان ) تیر تے پھرتے ہیں ۔ اور کسی کام کو سرعت کے ساتھ کر گزرنے پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] اور دن کے وقت کو تم بہت مشغول کا رہے ہو ۔ التسبیح کے معنی تنزیہ الہیٰ بیان کرنے کے ہیں اصل میں اس کے معنی عبادت الہی میں تیزی کرنا کے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پھر اس کا استعمال ہر فعل خیر پر ہونے لگا ہے جیسا کہ ابعاد کا لفظ شر پر بولا جاتا ہے کہا جاتا ہے ابعد اللہ خدا سے ہلاک کرے پس تسبیح کا لفظ قولی ۔ فعلی اور قلبی ہر قسم کی عبادت پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ [ الصافات/ 143] قو اگر یونس (علیہ السلام) اس وقت ( خدا کی تسبیح ( و تقدیس کرنے والوں میں نہ ہوتے ۔ یہاں بعض نے مستحین کے معنی مصلین کئے ہیں لیکن انسب یہ ہے کہ اسے تینوں قسم کی عبادت پر محمول کیا جائے الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله»وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حی ھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] أي : نعم شيئا يعظکم به، وقوله : فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] فقد أجيز أن يكون ما نكرة في قوله : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقد أجيز أن يكون صلة، فما بعده يكون مفعولا . تقدیره : أن يضرب مثلا بعوضة «1» . الثالث : الاستفهام، ويسأل به عن جنس ذات الشیء، ونوعه، وعن جنس صفات الشیء، ونوعه، وقد يسأل به عن الأشخاص، والأعيان في غير الناطقین . وقال بعض النحويين : وقد يعبّر به عن الأشخاص الناطقین کقوله تعالی: إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] ، إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] وقال الخلیل : ما استفهام . أي : أيّ شيء تدعون من دون اللہ ؟ وإنما جعله كذلك، لأنّ «ما» هذه لا تدخل إلّا في المبتدإ والاستفهام الواقع آخرا . الرّابع : الجزاء نحو : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ الآية [ فاطر/ 2] . ونحو : ما تضرب أضرب . الخامس : التّعجّب نحو : فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] . وأمّا الحروف : فالأوّل : أن يكون ما بعده بمنزلة المصدر كأن الناصبة للفعل المستقبَل . نحو : وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] فإنّ «ما» مع رَزَقَ في تقدیر الرِّزْق، والدّلالة علی أنه مثل «أن» أنه لا يعود إليه ضمیر لا ملفوظ به ولا مقدّر فيه، وعلی هذا حمل قوله : بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] ، وعلی هذا قولهم : أتاني القوم ما عدا زيدا، وعلی هذا إذا کان في تقدیر ظرف نحو : كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] ، كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] . وأما قوله : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] فيصحّ أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الذي «3» . واعلم أنّ «ما» إذا کان مع ما بعدها في تقدیر المصدر لم يكن إلّا حرفا، لأنه لو کان اسما لعاد إليه ضمیر، وکذلک قولک : أريد أن أخرج، فإنه لا عائد من الضمیر إلى أن، ولا ضمیر لهابعده . الثاني : للنّفي وأهل الحجاز يعملونه بشرط نحو : ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] «1» . الثالث : الکافّة، وهي الدّاخلة علی «أنّ» وأخواتها و «ربّ» ونحو ذلك، والفعل . نحو : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ، إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] ، كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] وعلی ذلك «ما» في قوله : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] ، وعلی ذلك : قَلَّمَا وطَالَمَا فيما حكي . الرابع : المُسَلِّطَة، وهي التي تجعل اللفظ متسلِّطا بالعمل، بعد أن لم يكن عاملا . نحو : «ما» في إِذْمَا، وحَيْثُمَا، لأنّك تقول : إذما تفعل أفعل، وحیثما تقعد أقعد، فإذ وحیث لا يعملان بمجرَّدهما في الشّرط، ويعملان عند دخول «ما» عليهما . الخامس : الزائدة لتوکيد اللفظ في قولهم : إذا مَا فعلت کذا، وقولهم : إمّا تخرج أخرج . قال : فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] ، وقوله : إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما[ الإسراء/ 23] . ( ما ) یہ عربی زبان میں دو قسم پر ہے ۔ اسمی اور حر فی پھر ہر ایک پانچ قسم پر ہے لہذا کل دس قسمیں ہیں ( 1 ) ما اسمی ہو تو واحد اور تذکیر و تانیث کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے ۔ پھر لفظا مفرد ہونے کے لحاظ سے اس کی طرف ضمیر مفرد بھی لوٹ سکتی ہے ۔ اور معنی جمع ہونے کی صورت میں ضمیر جمع کا لانا بھی صحیح ہوتا ہے ۔ یہ ما کبھی بمعنی الذی ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] اور یہ ( لوگ ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پر ستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں ۔ تو یہاں ما کی طرف یضر ھم میں مفرد کی ضمیر لوٹ رہی ہے اس کے بعد معنی جمع کی مناسب سے هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] آگیا ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جوان کو آسمانوں اور زمین میں روزیدینے کا ذرہ بھی اختیار نہیں رکھتے میں بھی جمع کے معنی ملحوظ ہیں اور آیت کریمہ : ۔ بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] کہ تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے ۔ میں بھی جمع کے معنی مراد ہیں اور کبھی نکرہ ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] بہت خوب نصیحت کرتا ہے ۔ تو یہاں نعما بمعنی شیئا ہے نیز فرمایا : ۔ فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] تو وہ بھی خوب ہیں ایت کریمہ : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کیس چیز کی میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما نکرہ بمعنی شیاء ہو اور یہ بھی کہ ماصلہ ہو اور اس کا ما بعد یعنی بعوضۃ مفعول ہو اور نظم کلام دراصل یوں ہو أن يضرب مثلا بعوضة اور کبھی استفھا فیہ ہوتا ہے اس صورت میں کبھی کبھی چیز کی نوع یا جنس سے سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی کسی چیز کی صفات جنسیہ یا نوعیہ کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی غیر ذوی العقول اشخاص اور اعیان کے متعلق سوال کے لئے بھی آجاتا ہے ۔ بعض علمائے نحو کا قول ہے کہ کبھی اس کا اطلاق اشخاص ذوی العقول پر بھی ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] مگر ان ہی بیویوں یا ( کنیزوں سے ) جو ان کی ملک ہوتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے ۔ میں خلیل نے کہا ہے کہ ماتدعون میں ما استفہامیہ ہے ای شئی تدعون من دون اللہ اور انہوں نے یہ تکلف اس لئے کیا ہے کہ یہ ہمیشہ ابتداء کلام میں واقع ہوتا ہے اور مابعد کے متعلق استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جو آخر میں واقع ہوتا ہے جیسا کہ آیت : ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُالآية [ فاطر/ 2] خدا جو اپنی رحمت کا در وازہ کھول دے اور مثال ماتضرب اضرب میں ہے ۔ اور کبھی تعجب کے لئے ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] یہ ( آتش جہنم کیسی بر داشت کرنے والے ہیں ۔ ما حرفی ہونے کی صورت میں بھی پانچ قسم پر ہے اول یہ کہ اس کا بعد بمنزلہ مصدر کے ہو جیسا کہ فعل مستقبل پر ان ناصبہ داخل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ تو یہاں ما رزق بمعنی رزق مصدر کے ہے اور اس ما کے بمعنی ان مصدر یہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کی طرف کہیں بھی لفظا ما تقدیر اضمیر نہیں لوٹتی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] اور ان کے جھوٹ بولتے کے سبب ۔ میں بھی ما مصدر ری معنی پر محمول ہے ۔ اسی طرح اتانیالقوم ماعدا زیدا میں بھی ما مصدر یہ ہے اور تقدیر ظرف کی صورت میں بھی ما مصدر یہ ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی ( چمکتی اور ) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں ۔ خدا اس کو بجھا دیتا ہے ۔ كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] جب ( اس کی آگ ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو ( عذاب دینے ) کے لئے اور بھڑ کا دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] پس جو حکم تم کو ( خدا کی طرف سے ملا ہے وہ ( لوگوں ) کو سنا دو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما مصدر یہ ہوا اور یہ بھی کہ ما موصولہ بمعنی الذی ہو ۔ یاد رکھو کہ ما اپنے مابعد کے ساتھ مل کر مصدری معنی میں ہونے کی صورت میں ہمیشہ حرفی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اسی ہو تو اس کی طرف ضمیر کا لوٹنا ضروری ہے پس یہ ارید ان اخرک میں ان کی طرح ہوتا ہے جس طرح ان کے بعد ضمیر نہیں ہوتی جو اس کی طرف لوٹ سکے اسی طرح ما کے بعد بھی عائد ( ضمیر نہیں آتی ۔ دوم ما نافیہ ہے ۔ اہل حجاز اسے مشروط عمل دیتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] یہ آدمی نہیں ہے تیسرا ما کا فہ ہے جو ان واخواتھا اور ( رب کے ساتھ مل کر فعل پر داخل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] نہیں بلکہ ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے ۔ میں بھی ما کافہ ہی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قلما اور لما میں بھی ما کافہ ہوتا ہے ۔ چہارم ما مسلمۃ یعنی وہ ما جو کسی غیر عامل کلمہ کو عامل بنا کر مابعد پر مسلط کردیتا ہے جیسا کہ اذا ما وحیتما کا ما ہے کہ ما کے ساتھ مرکب ہونے سے قبل یہ کلمات غیر عاملہ تھے لیکن ترکیب کے بعد اسمائے شرط کا سا عمل کرتے ہیں اور فعل مضارع کو جز م دیتے ہیں جیسے حیثما نقعد اقعد وغیرہ پانچواں مازائدہ ہے جو محض پہلے لفظ کی توکید کے لئے آتا ہے جیسے اذا مافعلت کذا ( جب تم ایسا کرو ماتخرج اخرج اگر تم باہر نکلو گے تو میں بھی نکلو نگا قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] اگر تم کسی آدمی کو دیکھوں ۔ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما [ الإسراء/ 23] اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھا پے کو پہنچ جائیں ۔ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ عزیز ، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] ( ع ز ز ) العزیز العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ ) حكيم والحِكْمَةُ : إصابة الحق بالعلم والعقل، فالحکمة من اللہ تعالی: معرفة الأشياء وإيجادها علی غاية الإحكام، ومن الإنسان : معرفة الموجودات وفعل الخیرات . وهذا هو الذي وصف به لقمان في قوله عزّ وجلّ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] ، ونبّه علی جملتها بما وصفه بها، فإذا قيل في اللہ تعالی: هو حَكِيم «2» ، فمعناه بخلاف معناه إذا وصف به غيره، ومن هذا الوجه قال اللہ تعالی: أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، وإذا وصف به القرآن فلتضمنه الحکمة، نحو : الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] ( ح ک م ) الحکمتہ کے معنی علم وعقل کے ذریعہ حق بات دریافت کرلینے کے ہیں ۔ لہذا حکمت الہی کے معنی اشیاء کی معرفت اور پھر نہایت احکام کے ساتھ انکو موجود کرتا ہیں اور انسانی حکمت موجودات کی معرفت اور اچھے کو موں کو سرانجام دینے کا نام ہے چناچہ آیت کریمہ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی ۔ میں حکمت کے یہی معنی مراد ہیں جو کہ حضرت لقمان کو عطا کی گئی تھی ۔ لهذا جب اللہ تعالے کے متعلق حکیم کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے وہ معنی مراد نہیں ہوتے جو کسی انسان کے حکیم ہونے کے ہوتے ہیں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا ہے ۔ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] کیا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

جتنی بھی آسمانوں اور زمین میں مخلوقات ہیں وہ سب اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں اور اس کا ذکر کرتی ہیں۔ اور وہ اپنی بادشاہت اور سلطنت میں زبردست اور اپنے فیصلہ میں حکمت والا ہے کیا ہی خوب حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ اور کسی کی پرستش نہ کی جائے۔ شان نزول : سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ (الخ) امام بخاری نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ سورة انفال غزوہ بدر کے بارے میں اور سورة حشر بنی نضیر کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور امام حاکم نے تصحیح کے ساتھ حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے کہ واقعہ بنی نضیر غزوہ بدر کے چھ ماہ بعد ہوا ہے اور یہ یہودیوں کی ایک جماعت تھی ان کے مکانات اور نخلستان مدینہ منورہ کے ایک کونے پر تھے رسول اکرم نے ان کا محاصرہ کیا تو یہ جلا وطنی پر راضی ہو کر قلعوں سے اتر گئے اور یہ کہ ان کو ہتھیاروں کے علاوہ جتنا سامان اور مال اونٹ اٹھا سکے اتنا لے جانے کی اجازت دی ان ہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١{ سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِج } ” تسبیح کرتی ہے اللہ کی ہر وہ شے جو آسمان میں ہے اور ہر وہ شے جو زمین میں ہے۔ “ المُسَبِّحات کے سلسلے کی پہلی سورة یعنی سورة الحدید کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے : { سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِج }۔ یہاں ” مَا فِی “ کا اضافہ ہے ‘ جس سے گویا مفہوم میں مزید زور (emphasis) پیدا ہوگیا ہے۔ باقی ساری آیت کے الفاظ وہی ہیں۔ { وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ } ” اور وہ زبردست ہے ‘ کمال حکمت والا۔ “ اس کے اختیارات مطلق ہیں ‘ لیکن وہ اپنے اختیارات کا استعمال بہت حکمت سے کرتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1 For explanation, see E.N.'s 1, 2 of Surah AI-Hadid. The object of this introductory sentence before making an appraisal of the banishment of the Ban; an-Nadir is to prepare the mind to understand the truth that the fate this powerful tribe met was not the result of the power of the Muslims but a manifestation of the power of Allah.

سورة الْحَشْر حاشیہ نمبر :1 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد پنجم ، تفسیر سورہ الحدید ، حاشیہ ۔ 1 ، و 2 ، بنی نضیر کے اخراج پر تبصرہ شروع کرنے سے پہلے یہ تمہیدی فقرہ ارشاد فرمانے سے مقصود ذہن کو یہ حقیقت سمجھنے کے لیے تیار کرنا ہے کہ اس طاقتور یہودی قبیلے کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا وہ مسلمانوں کی طاقت کا نہیں بلکہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ تھا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١۔ ٥۔ مستدرک ٣ ؎ حاکم وغیرہ میں حضرت عائشہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی کے چھ مہینے بعد بنی نضیر کا محاصرہ ہوا اور پھر ان کی جلا وطنی ہوئی اسی پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے بنی نضیر نے مشرکین مکہ اور مدینہ کے منافقوں سے مسلمانوں کی بدخواہی کی غرض سے میل جول پیدا کرنے میں تو اللہ اور اللہ کے رسول کی مخالفت کی تھی مگر بنی نضیر کی ایک بہت بڑی مخالفت یہ تھی کہ بیر ١ ؎ معونہ کی بدعہدی کے جھگڑے میں جب بڑے بڑے عالم ستر صحابہ شہید ہوئے اور صحابیوں میں سے عمرو بن امیہ ایک صحابی بچ کر مدینہ کو آرہے تھے راستہ میں ان کو بنی عامر قبیلہ کے دو شخص ملے۔ ان دونوں شخصوں کا خون بہا بنی نضیر کے مشورہ سے ادا کردیا جائے کیونکہ بنی نضیر اور بنی عامر کی دوستی تھی۔ اسی خون بہا کے مشورے کے لئے چند صحابہ کو ساتھ لے کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی نضیر کی گڑھی میں تشریف لے گئے اور خون بہا کے باب میں بات چیت کی۔ ظاہر میں تو بنی نضیر کے لوگوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اچھی طرح بات چیت کی لیکن باطن میں ان لوگوں کا یہ قصہ ہوا کہ جس دیوار کے پاس آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے تھے اس دیوار کی آڑ میں سے ایک بہت بڑا پتھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نیچے گرا دیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے ارادہ سے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آگاہ کردیا اور آپ ان لوگوں کے ارادہ سے آگاہ ہو کر مدینہ کو واپس تشریف لے آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنی نضیر پر چڑھائی کا ارادہ کیا۔ چڑھائی سے پہلے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمانے کے موافق محمد بن مسلمہ ایک صحابی نے کعب بن اشرف بنی نضیر کے سردار کو قتل کیا اور پھر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنی نضیر پر چڑھائی کی اور ان کی گڑھی کو گھیر لیا اور ان کو جلا وطن کردیا۔ ان آیتوں میں اللہ نے وہی قصہ ذکر فرمایا ہے کہ بنی نضیر پر اللہ اور اللہ کے رسول کی مخالفت کے سبب سے آفت آئی۔ بیر معونہ کا قصہ ٢ ؎ اور کعب ٣ ؎ بن اشرف کے قتل کا قصہ صحیح بخاری اور حدیث کی کتابوں میں تفصیل سے ہے بیر معونہ کے قصہ کا حاصل یہ ہے کہ بیر معونہ مکہ اور عسفان کے بیچ میں ہذیل کی بستیوں میں کی ایک بستی ہے۔ رعل و ذکو ان قبیلہ کے کچھ لوگوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنی قوم کی مدد کے لئے کسی قدر آدمیوں کی خواہش ظاہر کی اور آپ نے انصار کے ستر آدمی ان کے ساتھ کردیئے۔ رعل وزکوان قبیلہ کے لوگوں نے عہد شکنی کرکے ان انصار کو اس بیر معونہ کے مقام پر شہید کر ڈالا۔ کعب بن اشرف کے قصہ کا حاصل یہ ہے کہ یہ شخص بڑا شاعر تھا اکثر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجو میں شعر کہا کرتا تھا اور طرح طرح کی شرارت اس کی عادت میں تھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن صحابہ (رض) کے رو برو اس کی شرارتوں کا تذکرہ کیا۔ اس پر محمد بن مسلمہ ایک صحابی نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ اگر آپ کا ارادہ ہو تو میں اس کو قتل کر ڈالوں۔ آپ نے اس کی اجازت دی اور محمد بن مسلمہ نے موقع پاکر کعب بن اشرف کا کام تمام کردیا۔ بنی قینقاع ‘ بنی نضیر ‘ بنی قریظہ یہود کے یہ تین قبیلے مدینہ کے گرد و نواح میں رہتے تھے اور ان تینوں قبیلوں سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صلح قائم رکھنے کا معاہدہ تھا لیکن رفتہ رفتہ ان تینوں قبیلوں نے عہد شکنی کی جس کی سزا میں بنی قینقاع اور بنی نضیر ان دونوں قبیلوں کو تو جلا وطنی نصیب ہوئی اور بنی قریظہ قتل کئے گئے۔ چناچہ ان کے قتل کا قصہ سورة احزاب میں گزرا سب مفسروں کا اس پر اتفاق ہے کہ اس سورة میں یہود کے بنی نضیر قبیلہ کا ذکر ہے۔ فقط حسن بصری اس کے مخالف ہیں۔ ان کا قول یہ ہے کہ اس سورة میں بنی قریظہ کا ذکر ہے لیکن یہ قول اس سبب سے تردد طلب ہے کہ اس سورة میں جلا وطنی کا ذکر ہے اور بنی قریظہ کی جلا وطنی نہیں ہوئی بلکہ ان کو تو قتل کیا گیا ہے۔ اس جلا وطنی میں بنی نضیر نواح مدینہ سے اجڑ کر خیبر میں جا کر آبا ہوئے۔ اور پھر حضرت عمر (رض) کی خلافت میں وہاں سے جلا وطن ہو کر ملک شام میں جا کر بسے۔ اس لئے ان کی اس پہلی جلا وطنی کو پیشن گوئی کے طور پر اول حشر فرمایا۔ حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ بنی نضیر کی گڑھی کی مضبوطی کے سبب سے نہ اہل اسلام کو یہ گمان تھا کہ ایسی مضبوط گڑھی اس طرح جلدی سے خالی ہوجائے گی نہ بنی نضیر کو یہ خیال تھا کہ اس طرح وقت پر گڑھی سے ان کو پناہ نہ ملے گی مگر اللہ کی حکمت ایسی زبردست ہے کہ اس کی قدرت اور حکمت سے جو کچھ ہوا وہ لوگوں نے آنکھوں سے دیکھ لیا۔ حشر کے معنی کسی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نکال دینا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی نضیر کے دل میں لشکر اہل اسلام کی ایسی ہیبت پیدا کردی کہ وہ لڑائی کی جرأت نہ کرسکے بلکہ جلا وطنی پر راضی ہوگئے جلا وطنی کے وقت یہ امر قرار پایا کہ تین آدمیوں میں ایک اونٹ بار برداری کو دیا جائے اور ایک مشک پانی پینے کو دی جائے اور اس ایک اونٹ پر جو چیز لا دی جاسکے وہ یہ لوگ اپنے ساتھ لے جاسکتے ہیں اس واسطے گھروں میں کا کڑی تختہ اور جو چیز ان کو اچھی معلوم ہوتی تھی اس کو وہ اونٹوں پر لادنے کے لئے گھروں کو توڑ پھوڑ کر نکال رہے تھے اور گڑھی کے باہر جو بنی نضیر کا کھجوروں کا باغ تھا اہل اسلام نے اس کے کچھ پیڑ جلا دیئے تھے اور کچھ کاٹ ڈالتے تھے اسی کو قابل عبرت ذلت اور ویرانی فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ جلا وطنی کی ذلت اور ویرانی ان لوگوں کی قسمت میں نہ لکھی ہوتی تو اللہ اور رسول کی مخالفت کے سبب سے ان پر کوئی اور آفت آتی پیڑوں کو پہلے تو اہل اسلام نے اس لئے کاٹا اور جلایا کہ اس کی جلن سے بنی نضیر گڑھی کے باہر نکل آئیں لیکن پھر اہل اسلام کے دل میں خیال گزرا کہ کہیں اس کا کچھ گناہ نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی یہ تسکین فرمائی کہ جو کچھ ہوا اللہ تعالیٰ نے وہ تمہارے دل میں ڈالا ہے کہ تمہارے دشمنوں کی ذلت اس میں تھی۔ لینۃ کھجور کی ایک قسم ہے یا کھجور کے پیڑ کو کہتے ہیں۔ (٣ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ١٨٧ ج ٦۔ ) (١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٣٣١ ج ٤۔ ) (٢ ؎ صحیح بخاری باب غزوۃ الرجیع و دعلی و ذکوان الخ ص ٥٨٦ ج ٢۔ ) (٣ ؎ صحیح بخاری باب قتل کعب بن اشرف ص ٥٧٦ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(59:1) سبح : ماضی واحد مذکر غائب ۔ تسبیح (تفعیل) مصدر۔ یہاں فعل ماضی بمعنی مضارع آیا ہے۔ پاکی بیان کرتی ہے اللہ کی ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ بعض جگہ بصیغہ مضارع آیا ہے جیسے سورة ہذا کی آخری آیت (59:24) سورة الجمعہ (62:1) سورة التغابن (64:1) وغیرہ۔ صیغہ مضارع دوام و استمراء پر دلالت کرتا ہے۔ صاحب اضواء البیان نے لکھا ہے :۔ التسبیح اصل میں مادہ سبح سے ہے۔ سباحۃ و تسبیح میں مادہ مشترک ہے ان کے معانی میں بھی اشتراک ہے سباحۃ فی الماء (پانی میں تیرنا) تیرنے والے کو پانی میں ڈوبنے سے بچانا ہے اسی طرح اللہ کی تسبیح اور تنزیہہ کرنے والا شرک سے نجات پاتا ہے (نیز ملاحظہ ہو 57:1) العزیز : غالب، زبردست ، عزۃ سے بروزن فعیل بمعنی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے ۔ الحکیم : حکمت والا۔ بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ حکمت والا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یہ سورة بالاتفاق غزوہ بنی نفسیر کے بعد مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ (شوکانی)3 یعنی بعض زبان حال سے اور بعض زبان قال سے گواہی ہی دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور ہر نقص سے پاک ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ١ تا ١٠۔ اسرار ومعارف۔ یہود کے قبیلہ بنونظیر کے ساتھ مسلمانوں کا صلح کا معاہدہ تھا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک کام سے ان کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے قتل کی سازش کی جس کی اطلاع بذریعہ وحی ہوگئی۔ آپ واپس تشریف لائے انہیں حکم دیا کہ تم نے معاہدے کی خلاف ورزی کی لہذا دس روز کے اندر گھر سے چلے جاؤ ورنہ تمہارے ساتھ جنگ ہوگی ۔ منافقین نے انہیں مدد کا یقین دلایا وہ نہ گئے تو آپ نے محاصرہ کرلیاچنانچہ جانے پر رضامند ہوگئے آپ نے مال لے جانے کی اجازت دے دی صرف ہتھیار ضبط فرمالیے تو کواڑ تک اکھاڑ کرلے گئے کچھ خیبر میں اور کچھ شام وغیرہ میں چلے گئے پھر خلافت عمر میں سب کو شام کی طرف نکال دیا گیا یہی دو جلاوطنیاں حشر اول اور حشرثانی کہلاتی ہیں۔ اسلام زیادتی نہیں کرتا۔ بات اللہ کی پاکی سے شروع فرمائی کہ وہ کسی پر زیادتی نہیں کرتا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی کے حکم کے مطابق سلوک فرماتے ہیں لہذا کسی بھی طرح اسلامی احکام کسی فریاد یا قوم پر زیادتی نہیں کرتے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر شے اللہ کی پاکیزگی اور تقدس پر دال ہے اور اللہ غالب بھی ہے اور بہت بڑا حکمت والا بھی لہذا اسی نے ان لوگوں کو جو کتاب الٰہی پر ایمان نہ لائے مراد (بنونضیر ہیں ) ان کو گھروں سے جلاوطنی کے لیے نکالا ، کہ انہوں نے بدعہدی کی منافقین بھی ان کے ساتھ مل گئے اور ان کی اپنی طاقت اور قلعے بھی مضبوط تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم اللہ ہی کا حکم ہے۔ مگر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں مدینہ بدر ہونے کا حکم دیاتو اللہ نے اسے اپناحکم بیان فرمایا نیز ایک لطیف بات ارشاد فرمادی کہ پہلی بار نکالے گئے گویا اشارہ ہے کہ بغاوت سے باز نہ آئیں گے اور دو بار بھی نکالے جائیں گے چناچہ عہد فاروقی میں شام کی طرف نکال دیے گئے نیزا نہیں اپنی طاقت کا بڑاگھمنڈ تھا یہاں تک مسلمان بھی یہی یقین رکھنے کے باوجود کہ جب آپ نے فرمایا توایساضرور ہوگا ظاہری اسباب الٹا ان کے حق میں پاتے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ ان کے قلعے ان کی حفاظت کے لیے کافی ہیں انہیں کوئی نہیں توڑ سکتا اور یہ قلعے ہمیں اللہ کی گرفت سے بچالیں گے مگر اللہ نے انہیں ایسی ذلت آمیز شکست سے دوچار کردیا کہ جس کا انہیں گمان بھی نہ تھا مسلمانوں نے محاصرہ کرلیا تھا۔ منافقین دبک گئے تھے اور یہود پر قلعوں کے اندارایسی ہیبت طاری ہوگئی اور اللہ نے ان کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دیا کہ وہ جلاوطنی پر مجبور ہوگئے آپ نے اجازت دے دی کہ ایک اونٹ پر اپنا سامان اور مال دولت لے جاسکتے ہو چناچہ کچھ توقلعے مسلمانوں کے ہاتھوں ٹوٹے اور انہیں نقصان پہنچا باقی وہ خود اپنے ہاتھوں توڑ رہے تھے کہ دروازے کھڑکیاں وغیرہ نکال کرلے جاسکیں مسلمانوں کی پوری کوشش اور صلح کے معاہدوں کے باوجود سازشوں سے باز نہ آئے حتی کہ رسول اللہ کے قتل کی سازش کی مگر اس کے باوجود ادھر اس قدر کرم تھا کہ مال سمیت جانے کی اجازت دے دی گئی۔ فتح کی شرط۔ ان واقعات میں سمجھدار لوگوں کے لیے بہت بڑی عبرت کی دلیل ہے کہ فتح نری وسائل کی محتاجی نہیں بلکہ تائید باری سے ممکنہ وسائل کے ساتھ ہی نصیب ہوجاتی ہے بشرطیکہ مسلمان اتباع نبوی میں میدان میں تواتریں۔ اگر اللہ نے ان کے لیے یہ بات مقدرن ہ کردی ہوتی تو ان کا جرم اتنا بڑا تھا کہ دنیا میں انہیں سخت ترین سزا دی جاتی اور آخرت میں تو ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی مخالفت کی کیونکہ اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کی اور جو کوئی اللہ کی مخالفت کرتا ہے تو پھر اس پر اللہ کا بہت سخت عذاب آتا ہے۔ مقام فنافی اللہ۔ اس محاصرے میں کچھ درخت بھی ان کے کاٹے گئے کچھ صحابہ نے نہ کاٹے کہ یہ تو چلے جائیں گے اور درخت مسلمانوں کے کام آئیں گے اللہ کریم نے دونوں کا کام اپنا کام قرار دیا کہ دونوں راہیں اللہ کی رضا کے لیے تھیں اور وہ لوگ فنا فی اللہ تھے چناچہ فرمایا تم نے اگر کوئی کھجور کاٹی تو وہ میرے حکم سے تھی اور کوئی باقی رہنے دی تو وہ بھی میرا حکم تھا۔ اجتہاد۔ یہ اجتہاد تھا جس میں اختلاف رائے بہتری کے لیے تھا لہذا دونوں کو پسند فرمایا لہذا اجتہاد میں کسی رائے کو گناہ قرار نہیں دیاجاسکتا ۔ مسئلہ۔ جنگ میں کفار کے درخت یافصلیں وغیرہ برباد نہ کی جائیں گی اور نہ ان کے گھرجلائے یامنہدم کیے جائیں گے لیکن اگر جنگی نقطہ نظر سے یہ ضروری ہوا کہ اس کے بغیر فتح نہ ہوسکتی ہوتویہ جائز ہوگا کہ اس سے کفار کی شوکت کو توڑا جائے۔ مال فئی۔ کہ یہاں بھی ارشاد ہوا ہے کہ یہ سب اس لیے کیا گیا ان بدکاروں کو ذلیل کیا جائے اور یہ شکست سے دوچار ہوں جہاں کفار بغیر جنگ کے مال یا گھر بار چھوڑ جائیں جیسے یہاں بنونضیر نے جنگ کے بغیر جلاوطنی قبول کرلی تو اس مال کوفی کہاجائے گا فئی کا معنی سایہ ڈھلنے کا ہے جیسے بعد دوپہر سایہ ڈھلتا ہے ایسے ہی جب کفار بغیر جنگ کے مال چھوڑ دیں تو وہ اللہ کی طرف جو اصل مالک ہے پلٹ گیا لہذا اللہ نے اس کی تقسیم کا طریق کار غنیمت سے الگ ارشاد فرمایا غنیمت کا مال قتال سے حاصل ہوتا ہے اور ایک حصہ بیت المال کودے کر باقی چار حصے مجاہدین میں تقسیم کیے جاتے ہیں لیکن جو مال اللہ نے فئی کا اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا فرمایا جس پر کسی کو قتال نہیں کرنا پڑا بلکہ اللہ نے اپنے رسول کو کفار پر غلبہ دے دیا کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے تو ان بستیوں کا حاصل شدہ مال جو بغیرجنگ کے کفار نے خالی کردیں صرف اللہ کا مال ہے جو اس نے اپنے رسول کو دیا اب وہ اس میں سے خود رکھیں قرابت داروں کو عطا کریں کہ رسول اللہ اور ان کے قرابت داروں پہ زکوہ جائز نہ تھی ) کہ یہ مال اللہ نے ان کے لیے حلال فرمادیا یا پھر یتیموں مساکین اور مسافروں کو بھی اس میں سے عطا کریں یہ سب ان کی مرضی پہ ہے۔ مسئلہ۔ مال فے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا ان کے خلفاء یا مسلمان حکمران تقسیم کرنے کا حق بھی رکھتا ہے اور اگر قومی امور عامۃ المسلمین کے لیے روک لے اور بیت المال میں داخل کرے تو بھی درست ہے یہ اس لیے کہا گیا ہے کہ مال صرف امراء کے درمیان ہی گردش نہ کرتا رہے۔ اسلام ارتکاذ دولت کے خلاف ہے۔ اسلام کے معاشی نظام نے دولت اس انداز سے تقسیم کی ہے کہ اللہ نے غریب اور امیر ہی کا نہیں مومن وکافر کا بھی حق متعین فرمادیا ، انسانی ضروریات کے حصے ہیں ایک اصلی اور فطری جیسے سورج ، ہوا ، بارش ، ان کو اپنے دست قدرت میں رکھ کر ہر ایک تک پہنچاتا ہے دوسری چیز زمین کی پیداوار ہے اور اس میں پہاڑوں جنگلوں اور قدرتی چشموں کو وقف عام قرار دیاپھرملکیتی زمین میں اول تو مزدور کسان کے بغیر کچھ حاصل نہیں کرسکتا اس کے بعد اس میں عشر مساکین وفقراء کے لیے مقرر فرمادیا اور مال وزر جو تکمیل ضرورت کا سبب بنتا ہے اس میں ایک طرف تو حق ملکیت کو ایسا تحفظ دیا کہ ناجائز طور پر لینے کے لیے کوئی بڑھے تو اسے کاٹ دیاجائے دوسری طرف وہ راستہ بند کردیے کہ کچھ لوگ قابض ہوکربیٹھ جائیں اور باقی محروم رہیں لہذا ، جوا ، سود ، ستہ ، وغیرہ حرام قرار دے کر شراکت کا نظام دیا اور پھر جو کچھ نہ کرسکنے والے معذور ہوں ان کے لیے زکوۃ ، عشر صدقہ فطر اور کفارات وغیرہ کی صورت میں تقسیم زر کا قاعدہ عطا فرمایا اور تیسراذریعہ حصول زر کا غنیمت یافے تھا اس کے بھی قاعدے مقرر فرمادیے اور سب سے بڑا قانون یہ عطا فرمایا کہ جو کچھ بھی رسول عطا کردیں لے لو اور جہاں سے روک دیں وہاں سے رک جاؤ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم قرآن کے حکم کی طرح واجب التعمیل ہے۔ یہ سب سے بڑا اور سنہری اصول ہے جو تمام اختلافات کو ختم کردیتا ہے کہ رسول اللہ جو حکم دیں وہی اللہ کا حکم ہے اور صحابہ کرام نے اس کا یہی مفہوم اختیار فرمایا ہے لہذا قرآنی احکام کی تشریح کوئی شخص اپنی مرضی سے نہیں کرسکتا وہاں بھی آپ کے ارشادات اور سنت ہی حق ہے علاوہ ازیں جو بھی حکم آپ کی ذات سے ثابت ہو وہ قرآن کی طرح ہی واجب التعمیل ہوگا اور ذرا منکرین حدیث غور فرمالیں نیز حدیث کو کم اہم سمجھنے والوں کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ نظام باطل سے انکار۔ مال فے اگرچہ عام فقراء کے لیے ہے مگر اولیت ان مہاجرین فقرا کو ہے جو اپنے گھروں اور اموال سے محض اس لیے محروم کردیے گئے کہ وہ اللہ کی رضامندی کے طالب تھے اور کفار کے بنائے ہوئے باطل نظام کو قبول کرنے سے انہوں نے انکار کردیا اور اللہ کے دین پر عمل پیرا ہونے کے جرم میں ہجرت کرنا پڑی یہ سب کچھ برداشت کرکے وہ اللہ کے دین اور اللہ کے رسول کے معاون مددگار بنے یہی لوگ جہان میں سچے ہیں۔ عظمت صحابہ کامنکر کافر ہے۔ جب کتاب اللہ نے ان کے صادق ہونے کی گواہی دی تو اب ان کی ذات پر الزام تراشی کرنے والا یا ان کی دیانت وامانت اور صدق میں شبہ کرنے والا یامثل روافض ان پر الزام لگانے والا منکر قرآن ہوگا۔ جبکہ مفسرین کرام کے مطابق ان کا درجہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک یہ تھا کہ اپنی دعاؤں میں ان کا وسیلہ دیا کرتے تھے۔ فضائل انصار۔ یا پھر وہ لوگ جو اپنے گھروں میں مقیم تھے یعنی انصار اور ایمان پر پختہ تر تھے انہوں نے ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کا حق ادا کردیا اپنے گھروں اور اموال میں انہیں شریک کرلیا اور جب کبھی مہاجرین کو کوئی نعمت دی گئی کبھی ان کے دلوں میں اس کے خلاف کوئی بات نہ آئی اگرچہ یہ ثابت ہے کہ بعد فتوحات اور فراخی کے مہاجرین نے بھی انصار کو دینے میں کسر نہ چھوڑی مگر یہ باہمنی محبت کا معاملہ تھا دلوں میں کوئی ناگوار بات کسی طرف سے نہ تھی بلکہ انصار کی کیفیت یہ تھی کہ اگر خود حاجت مند ہوتے پھر بھی ایثار کرتے اور دوسروں کی حاجت روائی ضرور کرتے جس کے بدلے میں اللہ نے ان کے دل لالچ سے آزاد کردیے تھے اور جس کے دل سے لالچ نکال دیا گیا گویا اس نے دوعالم کی کامیابی حاصل کرلی۔ امت مرحومہ کے تین طبقے۔ اور تیسرا طبقہ جو ان کے بعد آنے والے لوگ ہیں جو اپنی ہر دعا میں جہاں اپنی بخشش چاہتے ہیں وہاں یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ ہم سے پہلے گزرنے والے ان کامل الایمان لوگوں کی بخشش فرما اور ہمارے دلوں میں کوئی ناگوار بات پیدا نہ ہونے دے جو ان کی شان کے خلاف ہو کہ اے پروردگار تونرمی والا اور رحم کرنے والا ہے ۔ حضرت عمر (رض) نے جب دور دراز تک ممالک فتح فرمائے تو بعد میں آنے والے مسلمانوں کے فائدے کے لیے ان ممالک کی زمینیں تقسیم نہ فرما کر بیت المال میں داخل کردیں تاکہ حکومت اسلامیہ مالی اعتبار سے مضبوط رہے اور آنے والوں کو بھی فلاحی ریاست میسر ہو نیز یہ بات بھ یطے ہوگئی کہ امت کے تین طبقے ہیں اول مہاجرین دوم انصار ، اور تیرے قیامت تک آنے والے وہ مسلمان ہیں جن کے دل ان کی عظمت و محبت سے سرشار ہوں گے ۔ قرطبی نے اس آیت سے محبت صحابہ کے واجب ہونے کا لکھا ہے اور حضرت امام مالک فرماتے تھے کہ جو شخص مہاجرین اور انصار کی عظمت میں شبہ کرے وہ مال فئی سے حصہ نہیں لے سکتا اور جسے اس قابل نہ سمجھاجائے اس کا ایمان مشکوک ہوگیا۔ فضیلت مدینہ منورہ۔ نیز انصار کے ساتھ حضرت امام مالک فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ دنیا میں واحد شہر ہے جو صرف ایمان کے زور پر فتح ہوا باقی سب جہاد سے فتح ہوئے حتی کہ مکہ مکرمہ بھی۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن۔ اول الحشر۔ پہلا مقابلہ۔ مانعت۔ بچانے والی۔ حصون (حصن) ۔ قلعے۔ قذف۔ پھینکا۔ ڈالا۔ یخربون۔ وہ برباد کرتے ہیں۔ الجلائ۔ (وطن سے) نکلنا۔ شاقوا۔ انہوں نے نافرمانی کی۔ ماقطعتم۔ تم نے نہیں کاٹا۔ لینۃ۔ کھجور ( مدینہ منورہ کی مشہور کھجور) ۔ اصول۔ بنیاد۔ جڑ۔ تشریح : مکہ مکرمہ سے جب آپ نے یثرب (مدینہ منورہ) کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ نے مدینہ کے آس پاس رہنے والے یہودیوں اور مختلف قبیلوں سے برابری کی بنیاد پر ایک ایسا معاہدہ کیا جس سے سب اپنی اپنی جگہ اپنے اپنے مذہب پر پوری آزادی سے عمل کریں اور اگر مدینہ منورہ پر کسی طرف سے بھی حملہ ہو تو سب مل کر اس کا دفاع اور ایک دوسرے کی خیر خوہای کریں گے۔ اس وقت خاص طور پر بنو نضیر، بنو قریظہ، بنو قینقاع یہودیوں کے بڑے قبیلے تھے ان کی باہمی دشمنی کے باوجود اس معاہدے کا پابند بنانے کی کوشش کی گئی۔ مکہ کے قریش شروع ہی سے اس ” میثاق مدینہ “ کے شریک قبائل کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) کے خلاف بھڑکانے کی کوششیں کرتے رہتے تھے لیکن ان کو ہر طرح کی ناکامی ہوئی اور تمام قبائل اس معاہدے کی پابندی کرتے رہے۔ غزوہ بدر میں کفار مکہ کی زبردست شکست سے مدینہ کے قبائل چونک اٹھے۔ غزوہ احد میں بعض مسلمانوں کی اجتہادی غلطی کی وجہ سے وقتی شکست ہوئی جو بعد میں فتح سے بدل گئی لیکن اس کے منفی اثرات پورے علاقے پر مرتب ہوئے جس کے نتیجہ میں بعض قبیلوں نے کفار مکہ کے اشارے پر کچھ غداری کرنے کی کوشش کی لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بروقت اقدام کرکے بنو قریظہ اور بنو قینقاع کو سخت سزا دی اور مدینہ سے بھاگنے پر مجبور کردیا۔ بنو نضیر جو صدیوں سے مدینہ میں رہتے آئے تھے اور انہیں حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد ہونے پر بڑا فخر تھا ان کے مضبوط قلعے اور گڑھیاں تھیں، سرسبز و شاداب باغات تھے اور جماعتی لحاظ سے بھی وہ ایک منظم گروہ تھے۔ غزوہ احد تک وہ خاموش رہے لیکن اس کے بعد انہوں نے اپنی حفاظت کے لئے خاموشی سے اقدامات کرنا شروع کردئیے کیونکہ وہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور قوت سے سخت پریشان تھے۔ بنو نضیر کے سردار کعب ابن اشرف غزوہ احد کے بعد چالیس اہم ترین لوگوں کو لے کر قریش مکہ کے پاس پہنچا اور ایک خفیہ معاہدہ کیا اور آخر میں چالیس یہودیوں اور قریش مکہ کے چالیس ذمہ دار لوگوں نے بیت اللہ میں اس کے پردوں سے لپٹ کر دعائیں کیں اور یہ معاہدہ کیا کہ وہ ہر حال میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔ جیسے ہی ان لوگوں نے معاہدہ کیا حضرت جبرئیل نے آکر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے معاہدے سے مطلع کردیا۔ مدینہ کے یہودیوں کی یہ پہلی اور سب سے بڑی عہد شکنی تھی۔ دوسری طرف ایک ہی مہینے میں دو زبردست حادثے پیش آگئے رجیع اور بیر معونہ۔ ان دو واقعات نے اہل ایمان کو ہلا کر رکھ دیا اور یہودیوں کے حوصلے اور بھی بڑھ گئے اور انہوں نے طرح طرح سے میثاق مدینہ کی دھجیاں بکھیرنا شروع کردیں۔ صفر 4 ھ میں عضل اور قارہ کے لوگ حاضر ہوئے اور انہوں نے ظاہری طور پر ایمان قبول کرنے کا ڈھونگ رچایا اور آپ سے درخواست کی کہ ان کے قبیلے کے لوگوں کو قرآن پڑھانے کے لئے کچھ حضرات کو بھیج دیجئے۔ آپو نے چھ ایسے صحابہ کرام (رض) کو بھیجا جو سب کے سب حافظ قرآن تھے لیکن ان کو راستے ہی میں دھوکے سے شہید کردیا گیا۔ ایسا ہی دوسرا واقعہ بیر معونہ کا پیش آیا جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو براء عامر ابن مالک کی درخواست پر ستر صحابہ کی جماعت قرآبن کریم پڑھانے کے سلسلہ میں بھیج دی جو دین کے عالم ، قاری اور ممتاز صحابہ تھے۔ یہ وہ مجاہدین تھے جو دن بھر لکڑیاں کاٹ کر لاتے، ان کو فروخت کرکے اہل صفہ کے لئے غلہ خریدتے، لوگوں کو قرآن کریم پڑھاتے اور رات بھر اللہ کی عبادت و بندگی کرتے تھے۔ یہ صحابہ کی جماعت جب معونہ کے کنویں کے قریب پہنچی تو ان پر زبردست حملہ کرکے سب کو شہید کردیا گیا۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اتنے بڑے حادثے کی اطلاع دی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رنج و غم سے نڈھال ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظالموں کے لئے بددعا فرمائی۔ غزوہ احد کی ظاہری شکست اور ان دو مسلسل واقعات کی وجہ سے بنو نضیر کی شرارتیں عروج پر پہنچ گئیں یہاں تک کہ ایک موقع پر یہودیوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے جلیل القدر صحابہ کرام (رض) کو شہید کرنے کی سازش کی جس کی بروقت اطلاع حضرت جبرائیل نے دی۔ بنو نظیر کی ان مسلسل سازشوں اور عہد شکنیوں نے اہل ایمان کو اس بات پر آمادہ کردیا کہ اب بنو نضیر کو ان کے علاقوں سے نکال دیا جائے تاکہ پورا علاقہ امن وامان کے ساتھ رہ سکے اور کفار مکہ کی مدینہ پر مزید جارحیت کے امکانات ختم ہوجائیں چناچہ آپ نے بنو نضیر کو کہلا دیا کہ وہ دس دن کے اندر اپنا جو سامان اپنے ساتھ لے کر جاسکتے ہوں وہ لے کر کہیں دور چلے جائیں ورنہ نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہوجائیں۔ اگرچہ انہیں اپنی جماعت کی طاقت، قلعوں اور شہروں کی مضبوطی پر بڑا ناز تھا لیکن وہ مسلمانوں سے مرعوب تھے اس نوٹس کے بعد وہ جانے کے لئے تیار بھی ہوگئے لیکن رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی نے کہلا بھیجا کہ تم نہ گھبرائو، مقابلہ کے لئے ڈٹ جائو میرے پاس دو ہزار ایسے رضا کار موجود ہیں جو تمہاری مدد کریں گے اور جو تمہارے دوسرے حلیف قبائل ہیں وہ بھی تمہاری بھرپور مدد کریں گے۔ بنو نضیر جو صدیوں سے اس علاقے میں آباد تھے جب منافقین اور کفار کی طرف سے مدد کا یقین دلایا گیا تو انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہلا دیا کہ ہم تو کہیں جانے والے نہیں ہیں تم سے جو ہو سکے وہ کرلو۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نضیر کے اس جواب کو سنا تو آپ نے صرف اتنا فرمایا ” اللہ اکبر “ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام (رض) کو جنگ کی تیاری کرنے کا حکم دیدیا۔ جب دس دن کی مدت گزر گئی تو تین ہزار صحابہ کرام (رض) نے بنو نضیر کے تمام قلعوں اور گڑھیوں کو گھیر لیا۔ بنو نضیر قلعہ بند ہوگئے۔ انہوں نے اپنے قلعوں سے پتھر اور تیر برسانا شروع کردئیے اور جن منافقین اور کفار نے مدد کا یقین دلایا تھا وہ سب خاموش تماشائی بن کر رہ گئے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جنگ حکمت عملی یہ اختیار کی کہ یہودیوں کے جو بہترین باغ تھے ان کے بعض درختوں کو کاٹنا شروع کیا۔ مقصد یہ تھا کہ جب یہودی یہ دیکھیں گے کہ ان کی محنت برباد ہو رہی ہے تو اپنے قلعوں سے باہر آجائیں گے اور پھر ان کو گھیر کر مارنا آسان ہوجائے گا۔ دوسرا فائدہ یہ تھا کہ اگر میدان میں مقابلہ ہوگا تو یہ درخت بنو نضیر کے بچنے کی جگہ بن جائیں گے اور مسلمانوں کو اس سے نقصان پہنچ سکتا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ساری تدبیریں کیں مگر بنو نضیر کو مقابلے کی جرات نہ ہوئی۔ دس پندرہ راتوں کے محاصرے نے یہودیوں کو اس قدر مرعوب کردیا کہ انہوں نے ہتھیار ڈال دئیے اور بغیر کسی جنگ کے آپ کی ہر شرط ماننے پر مجبور ہوگئے۔ بنو نضیر نے کہا کہ ہم جانے کے لئے تیار ہیں ہماری جانیں بخش دی جائیں اور ہمیں اجازت دی جائے کہ ہم ہتھیاروں کے سوا جو کچھ یہاں سے ساتھ میں لے جاسکتے ہیں وہ لے جائیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہر شخص ایک اونٹ پر جتنا سامان لے جاسکتا ہے وہ لے کر چلا جائے۔ چلتے ہوئے انہوں نے دروازے، کھڑکیاں، کھونٹیاں اور چھتوں کی شیٹیں تک اکھاڑ کر اونٹوں پر لادنا شروع کردیں اور اس طرح بنو نضیر کے تمام لوگوں کو مدینہ منورہ سے نکال دیا گیا ۔ بنو نضیر مدینہ سے نکل کر خیبر اور شام کے علاقوں میں آباد ہوگئے۔ واقعات کے اس پس منظر میں سورة الحشر کی آیات کو سمجھنے میں سہولت رہے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زمین و آسمان یعنی کائنات میں جتنی بھی مخلوق ہے ان میں سے ہر ایک اس زبردست حکمت والے اللہ کی حمدو ثنا کر رہی ہے۔ اس کائنات میں ساری طاقت وقوت اسی ایک اللہ کی ہے اس کے مقابلے میں کسی کی کوئی طاقت اور ہیبت و جلال نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر کا نام لئے بغیر فرمایا ہے کہ اسی اللہ نے ان اہل کتاب میں سے لوگوں کو پہلی مرتبہ اکٹھا کرکے نکال دیا۔ تمہیں یا عرب میں کسی کو اس بات کا گمان اور اندازہ تک نہ تھا بلکہ خود ان کے ذہن کے کسے گوشے میں اس کا تصور تک نہ تھا کہ وہ اپنے مضبوط قلعوں کے باوجود اس قدر آسانی سے نکلنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ بات یہ ہے کہ اللہ نے ان اہل کتاب کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا تھا کہ وہ بڑی محنت سے بنائے گئے اپنے گھروں اور آبادیوں کو اپنے ہاتھوں سے توڑ پھوڑ کر برباد کرنے پر مجبور تھے۔ اس میں ہر ایک کے لئے عبرت و نصیحت کا سامان موجود ہے۔ فرمایا کہ اگر گھر سے بےگھر ہونا ان کے مقدر میں نہ لکھ دیا ہوتا تب بھی ان کو دنیا میں ذلت و رسوائی کی سزا اور آخرت میں ان کو جہنم میں جھونک دیا جاتا ( اور آخرت میں اب بھی ایسا ہی ہوگا) ۔ اللہ نے ان کو یہ عبرتناک سزا س لئے دی ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانیاں کی تھیں اور ہر شخص کو یہ بات رکھنی چاہیے کہ جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ اس کو اسی طرح سزا دیا کرتا ہے۔ اہل ایمان نے بنو نضیر کی جن ہرے بھرے درختوں کو کاٹا تھا اور بنو نضیر نے کہا تھا کہ ان درختوں کا کیا قصو رہے ؟ یہ تو فساد فی الارض ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ جن درختوں کو کاٹا گیا یا جن کو اپنی حالت پر چھوڑ دیا گیا وہ سب اللہ کے حکم اور اجازت سے تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ فاسقین کو ذلیل و رسوا کردے اور وہ ذلیل و رسوا ہو کر رہے۔ چونکہ بنو نضیر کے سارے باغات، قلعے اور مکانات اور جائیداد بغیر جنگ کے حاصل ہوئے تھے اس لئے اس کے احکامات کو آئندہ آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ بنو نضیر سے یہ غزوہ بدر کے بعد ربیع الاول 4 ھ مطابق اگست 625؁ء میں پیش آیا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط سورت : دنیا اور آخرت میں کامیابی کے اسباب میں ایک بڑا سبب ” اللہ “ کی یاد ہے۔ زمین و آسمانوں کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کو یاد کرتی ہے۔ اس میں یہ واضح اشارہ موجود ہے کہ اے انسان ! تجھے بھی ” اللہ “ کو یاد کرنا چاہیے۔ یہ بات سورة الحدید کی ابتدا میں عرض ہوچکی ہے کہ ” سَبَّحَ یُسَبِّحُ “ سے شروع ہونے والی چھ سورتیں ہیں جنہیں مسبِّحات کہتے ہیں۔ چناچہ سورة حشر کی ابتدا ” سَبَّحَ “ کے پرجلال اور با رعب لفظ سے ہو رہی ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھتی ہے جو اپنی ذات، صفات اور حکم کے حوالے سے پوری مخلوق پر غالب ہے لیکن اس کے غلبہ میں ظلم کی بجائے شفقت پائی جاتی ہے۔ ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو کلمے رحمٰن کو بڑے پسند ہیں زبان سے ادا کرنے میں آسان اور وزن میں بڑے بھاری ہیں۔ “ (رواہ البخاری : کتاب التوحید) ” حضرت ابومالک اشعری (رض) رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ذکر کرتے ہیں کہ پاکیزگی ایمان کا حصہ ہے۔ ” الحمدللہ “ کے الفاظ میزان کو بھر دیتے ہیں۔ ” سبحان اللہ “ اور ” الحمدللہ “ دونوں کلمے زمین و آسمان کو بھر دیتے ہیں۔ “ (رواہ مسلم : باب فَضْلِ الْوُضُوءِ ) مسائل ١۔ زمین و آسمانوں کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے اپنی مخلوق پر غالب ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم اور کام میں حکمت پائی جاتی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی ہر چیز تسبیح کرتی اور اس کے حضور سربسجود ہوتی ہے : (حٰم السجدۃ : ٣٧) (الحجر : ٩٨) (الحج : ٧٧) (النجم : ٦٢) (النحل : ٤٨) (النحل : ٤٩) (الرحمن : ٦) (الاعراف : ٢٠٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورت کا آغاز اس حقیقت سے ہوتا ہے اور یہ ایک عظیم ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے اور یہ اللہ کی پاکی اور بڑائی بیان کرتے ہوئے اس ایک اللہ کی طرف توجہ ہے۔ یہ ان لوگوں کے افراد کی کہانی جنہوں نے اہل کتاب ہونے کے باوجود کفر کیا۔ نقص عہد کیا۔ ذرا دیکھو ، کس طرح ان کے گھروں سے اس ذات نے ان کو نکالا۔ اور جو لوگ رات اور دن اللہ کی تمہید کرتے ہیں وہ سب کچھ ان کو عطا کردیا۔ اور فی الواقعہ۔ وھوالعزیز الحکیم (٩٥ : ١) ” وہی غالب و حکیم ہے “۔ وہ اس قسم کے اسباب فراہم کرتا ہے جن سے اس کے دوستوں کی امداد ہوتی ہے اور ایسے اسباب پیدا کرتا ہے کہ دشمن اپنے ہاتھوں تباہ ہوتے ہیں۔ وہ تقدیر وتدبیر کرنے میں بہت بڑا حکیم ہے۔ اس کے بعد اس حادثہ کا بیان یوں ہوتا ہے :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہودیوں کی مصیبت اور ذلت اور مدینہ منورہ سے جلا وطنی یہاں سے سورة الحشر شروع ہو رہی ہے حشر عربی میں جمع کرنے کو کہتے ہیں اپنی جگہ چھوڑ کر جب کسی جگہ کوئی قوم جمع ہوجائے اس کو حشر کہا جاتا ہے قیامت کے دن کو بھی حشر اس لئے کہا جاتا ہے کہ دنیا کے مختلف اطراف واکناف کے لوگ جمع ہوں گے۔ یہاں اول الحشر سے یہودیوں کے قبیلہ بنی نضیر کا مدینہ منورہ سے نکالا جانا اور خیبر میں جمع ہونا مراد ہے۔ جو مدینہ منورہ سے سومیل کے فاصلہ پر شام کے راستہ میں پڑتا ہے ان لوگوں کا یہ ترک وطن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ہوا تھا پھر دوبارہ ان کو حضرت عمر (رض) نے خبیر سے بھی نکال دیا اور شام کے علاقہ اریحاء اور تیماء اور اذرعات میں جا کر بس گئے تھے، بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اول الحشر سے ان کا پہلی بار مدینہ منورہ سے نکل جانا مراد ہے اور حشر ثانی سے وہ اخراج مراد ہے جو حضرت عمر (رض) کے زمانے میں ہوا، اسی لفظ (اول الحشر) کی وجہ سے اس سورة کو سورة الحشر کہا جاتا ہے اور چونکہ اس میں بنی نضیر کے اخراج کا ذکر ہے اس لیے حضرت ابن عباس (رض) اس کو سورة بنی نضیر کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ شروع سورت میں یہ بیان فرمایا کہ آسمانوں اور زمین پر جو کچھ ہے سب اللہ کی تسبیح یعنی پاکی بیان کرتے ہیں پھر یہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عزیز ہے زبردست ہے غلبہ والا ہے اسے کوئی عاجز نہیں کرسکتا اور حکیم بھی ہے وہ حکمت کے مطابق اپنی مخلوق میں جو چاہتا ہے تصرف فرماتا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

2:۔ ” سبح للہ ما فی السموات “ یہ دعوائے توحید کا اعادہ ہے تاکہ یہ حقیقت مسلمانوں کے ذہنوں میں رہے کہ جہاد و قتال سب اسی مسئلہ کی خاطر ہے اور جہاد سے کوئی دنیوی غرض مقصود نہیں۔ زمین و آسمان اور ساری کائنات کی ہر چیز اللہ کی وحدانیت پر شاہد ہے اور ہر چیز زبان حال وقال سے اللہ کی تسبیح و تنزیہ میں مصروف ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور وہ شریکوں سے پاک ہے وہ سب پر غالب اور تدبیر محکم کا مالک ہے۔ اے بنی آدم ! جس طرح کائنات کا ہر ذرہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا معترف اور اس کی تسبیح و تقدیس میں مصروف ہے تم بھی صرف اسی ہی کو اپنا معبود اور کارساز سمجھو اور صفات کارسازی میں کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ اور اس مسئلے کی خاطر جہاد کرو۔ آگے جہاد سے جی چرانے والے منافقوں پر زجریں ہوں گی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(1) جو مخلوقات آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے اور وہ بڑا زبردست بڑی حکمت والا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی مخلوق روحانی ہر یا مادی سب اپنی مخلوق کے اعتبار سے خالق اور صانع کی پاکی بیان کرتی ہے اسی طرح زبان سے بھی مخلوق اس کی پاکی بیان کرتی ہے۔ بہرحال تسبیح زبان حال سے ہو یا زبان قال سے ہو سب اس کی تسبیح کرتے اور اسی کے ثناخواں ہیں اس کی تسخیر اور مخلوق کا مطیع اور زیر فرمان ہونا یہ بھی اسی کی تسبیح اور تحمید ہے عزیز کمال قوت کا مالک حکیم کمال علم اور حکمت کا مالک ہے۔