Surat ul Hashar

Surah: 59

Verse: 14

سورة الحشر

لَا یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ جَمِیۡعًا اِلَّا فِیۡ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ اَوۡ مِنۡ وَّرَآءِ جُدُرٍ ؕ بَاۡسُہُمۡ بَیۡنَہُمۡ شَدِیۡدٌ ؕ تَحۡسَبُہُمۡ جَمِیۡعًا وَّ قُلُوۡبُہُمۡ شَتّٰی ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿ۚ۱۴﴾

They will not fight you all except within fortified cities or from behind walls. Their violence among themselves is severe. You think they are together, but their hearts are diverse. That is because they are a people who do not reason.

یہ سب ملکر بھی تم سے لڑ نہیں سکتے ہاں یہ اور بات ہے کہ قلعہ بند مقامات میں ہوں یا دیواروں کی آڑ میں ہوں ان کی لڑائی تو ان میں آپس میں ہی بہت سخت ہے گو آپ انہیں متحد سمجھ رہے ہیں لیکن ان کے دل دراصل ایک دوسرے سے جدا ہیں اس لئے کہ یہ بے عقل لوگ ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لاَا يُقَاتِلُونَكُمْ جَمِيعًا إِلاَّ فِي قُرًى مُّحَصَّنَةٍ أَوْ مِن وَرَاء جُدُرٍ ... They fight not against you even together, except in fortified townships, or from behind walls. meaning, they will not fight Muslims except from behind besieged fortified forts, because of their cowardice and fear of Muslims. They only fight when they have to defend themselves (even though they threaten Muslims of reprisals. Allah the Exalted said, ... بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ ... Their enmity among themselves is very great. meaning, the enmity they feel against each other is intense, It is as said, وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ And make you to taste the violence of one another. (6:65) Allah said in the Ayah, ... تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى ... You would think they were united, but their hearts are divided. meaning, even though one might see them combining forces and think that these forces are harmonious, yet in reality, they are divided severely. Ibrahim An-Nakha`i said that this Ayah refers to the hypocrites and the People of the Scriptures, ... ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لاَّ يَعْقِلُونَ That is because they are a people who understand not. Allah said, كَمَثَلِ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ قَرِيبًا ذَاقُوا وَبَالَ أَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

14۔ 1 یعنی یہ منافقین اور یہودی مل کر بھی کھلے میدان میں تم سے لڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتے البتہ قلعوں میں محصور ہو کر یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر تم پر وار کرسکتے ہیں جس سے یہ واضح ہے کہ یہ نہایت بزدل ہیں اور تمہاری ہیبت سے لرزاں وترساں ہیں۔ 14۔ 2 یعنی آپس میں یہ ایک دوسرے کے سخت خلاف ہیں۔ اس لئے ان میں باہم تو تکار اور تھکا فضیحتی عام ہے۔ 14۔ 3 یہ منافقین کا آپس میں دلوں کا حال ہے یا یہود اور منافقین کا یا مشرکین اور اہل کتاب کا مطلب یہ ہے کہ حق کے مقابلے میں یہ ایک نظر آتے ہیں لیکن ان کے دل ایک نہیں ہیں وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف بغض وعناد سے بھرے ہوئے 14۔ 4 یعنی یہ اختلاف ان کی بےعقلی کی وجہ سے ہے، اگر ان کے پاس سمجھنے والی عقل ہوتی تو یہ حق کو پہچان لیتے اور اسے اپنا لیتے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٩] یہود اور منافقین میں جرأت کا فقدان :۔ اس آیت کے مخاطب یہود بھی ہیں اور منافقین بھی۔ دونوں ایک جیسے مکار، دغاباز، وعدے کے جھوٹے اور مفاد پرست ہیں۔ ایسے لوگ بزدل ہوتے ہیں کبھی کھلے میدان میں لڑنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔ ہاں ایسی جگہ بیٹھ کر لڑ سکتے ہیں جہاں ان کی جان کو کچھ خطرہ نہ ہو۔ مورچوں میں یا قلعہ بند ہو کر تو یہ تیر و تفنگ کا کھیل کھیل سکتے ہیں مگر سامنے آکر دست بدست جنگ کرنا ان کے بس کا روگ نہیں۔ بھلا جسے ہر وقت اپنی جان بچانے کا دھڑکا لگا رہتا ہو تو وہ مقابلہ کیا کرسکتا ہے ؟ کیا یہود کیا منافق اور کیا ان کی ذیلی شاخیں۔ ان کے اتحاد کی بنیادمحض اسلام دشمنی ہے :۔ ان سب کے اتحاد کی بنیاد صرف اسلام دشمنی ہے۔ رہے ان کے اندرونی اختلافات اور باہمی عداوتیں تو وہ شدید ہیں۔ لہذا ان کا یہ عارضی اور غیر مستقل اتحاد بھی سخت ناپائیدار ہے۔ جو دوران جنگ عین اتحاد کے موقع پر بھی پارہ پارہ ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ جنگ احزاب کے آخر میں قریشیوں اور یہودیوں کا یہ اختلاف ہی ان کی شکست کا ایک اہم سبب بن گیا تھا۔ [٢٠] یعنی انہیں یہ سمجھ نہیں آرہی کہ اتحاد بھی صرف وہ کام آتا ہے جس کی جڑیں مضبوط ہوں اور خیالات و نظریات میں ہم آہنگی ہو۔ جب تک وہ اس بات کو نہ سمجھیں گے عارضی طور پر اتحاد کرلینے کے باوجود بھی حق کے مقابلہ میں مار ہی کھاتے رہیں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ لَایُقَاتِلُوْنَکُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ ۔۔۔۔۔” حصن “ کا معنی قلعہ ہے۔۔” محصنۃ “ قلعہ بنائی ہوئی محفوظ بستیاں۔” جدر “ ” جدار “ کی جمع ہے، دیواریں ۔ یعنی یہ یہودی ایسے نا مرد اور بزدل ہیں کہ کبھی اکٹھے ہو کر میدان میں تمہارا سامنا نہیں کریں گے ، بلکہ قلعہ بند بستیوں میں یادیواروں کے پیچھے رہ کر ہی لڑیں گے ۔ اسی طرح لڑنے والے ہمیشہ ذلیل ہی ہوتے ہیں ، کیونکہ جو میدان میں نکلنے کی جرأت نہیں رکھتا اسے قلعے اور دیواریں بھی نہیں بچا سکتیں ۔ تاریخ شاہد ہے کہ اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھلے میدان میں لڑنا پسند کرتے تھے اور چونکہ وہ شہادت کی تلاش میں لڑتے تھے ، اس لیے دشمن پہلی چوٹ ہی میں پیٹھ پھیر کر بھاگ اٹھتا تھا۔ یہودی چونکہ موت سے بچتے تھے اس لیے وہ میدان میں آنے کے بجائے قلعوں اور دیواروں کی پناہ کے ذریعے سے زندگی بچانے کی کوشش میں رہتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی قلعہ بند بستیاں بھی انہیں ذلت اور موت سے نہ بچا سکیں۔ ٢۔ بَاْسُہُمْ بَیْنَہُمْ شَدِیْدٌ: یعنی یہ یہودی اور منافقین تمہارے مقابلے میں تبھی آسکتے تھے جب وہ آپس میں ایک ہوتے ، جبکہ ان کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اسلام دشمنی میں اکٹھے ہیں ، ورنہ ان کی آپس کی لڑائی بہت سخت ہے۔ منافقین و یہود اور مشرکین کا ایک دوسرے سے یہی معاملہ ہے۔ پھر ان میں سے ہر ایک گروہ کے افراد آپس میں بھی ایک نہیں بلکہ ایک دوسرے سے شدید دشمنی رکھتے ہیں ، ایسے لوگوں میں یہ حوصلہ کہاں کہ وہ تمہارے مقابلے میں اکٹھے ہو کر میدان میں نکلیں۔ ٣۔ تَحْسَبُہُمْ جَمِیْعًا وَّقُلُوْبُہُمْ شَتّٰی :” شتی “ ” شتیت “ کی جمع ہے، جیسے ” قتیل “ کی جمع ” قتلیٰ “ ہے ، یعنی تم انہیں گمان کرو گے کہ وہ اکٹھے ہیں ، حالانکہ ان کے دل الگ الگ ہیں۔ ٤۔ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّایَعْقِلُوْنَ : اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو کام کے انجام کو نہیں سوچتے اور عقل سے کام نہیں لیتے ، بلکہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں ، جس کا نتیجہ باہمی اختلاف اور عداوت ہی ہے۔ ” قوم “ کے لفظ سے ظاہر ہے کہ یہ ان کے ایک آدھ آدمی کا معاملہ نہیں بلکہ پوری قوم کا مزاج ہی یہ ہے۔ ٥۔ ان آیات میں مسلمانوں کی تربیت ہے کہ وہ ایک دوسرے کی مخالفت ، عناد اور دشمنی سے بہت زیادہ اجتناب کریں اور اچھی طرح سمجھ لیں کہ کوئی بھی قوم دشمن پر اسی وقت غالب ہوسکتی ہے جب ان کے دل ایک دوسرے کے کینے اور عداوت سے پاک اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوں اور وہ قومی و اجتماعی مفاد کو اپنے ذاتی مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے یک زبان و یک جان ہوں۔ ٥۔ مفسر ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں :” اس آیت کے حکیمانہ مضمون کو اور مسلمانوں کی اندرونی حالت نوعی و صنفی ، پھر صنفی در صنفی کو دیکھیں تو بےساختہ منہ سے نکلتا ہے کہ یہ آیت ہمارے ہی حق میں اتری ہے۔ خواہ حالی نے اس حالت کا نقشہ یوں کھینچا ہے ؎ نہ سنی میں اور جعفری میں ہو ملت نہ نغمانی و شافعی میں ہو الفت وہابی سے صوفی کی کم نہ ہو نفرت مقلد کرے نا مقلد پہ لعنت رہے اہل قبلہ میں جنگ ایسی باہم کہ دین خدا پر ہنسے سارا عالم کسی ایک غرض عام کے لیے ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے ، ابتداء میں اگر ہوتے ہیں تو انتہاء میں بگڑ جاتے ہیں کچھ شک نہیں کہ یہ اطوار انہی لوگوں میں ہوتے ہیں جو قومی اغراض عامہ سے ناواقف ہوتے ہیں ، اس لیے ان کے حق میں یہ الٰہی فیصلہ بالکل حق اور بجا ہے :(ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّایَعْقِلُوْنَ )” یہ اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔ ( ثنائی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِيْعًا اِلَّا فِيْ قُرًى مُّحَصَّنَۃٍ اَوْ مِنْ وَّرَاۗءِ جُدُرٍ۝ ٠ ۭ بَاْسُہُمْ بَيْنَہُمْ شَدِيْدٌ۝ ٠ ۭ تَحْسَبُہُمْ جَمِيْعًا وَّقُلُوْبُہُمْ شَتّٰى۝ ٠ ۭ ذٰلِكَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَ۝ ١٤ ۚ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] وفي أخری: وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] وقد يجيء «لَا» داخلا علی کلام مثبت، ويكون هو نافیا لکلام محذوف وقد حمل علی ذلک قوله : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] ، فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ، فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] لا وأبيك ابنة العامريّ «1» وقد حمل علی ذلک قول عمر رضي اللہ عنه۔ وقد أفطر يوما في رمضان فظنّ أنّ الشمس قد غربت ثم طلعت۔: لا، نقضيه ما تجانفنا لإثم فيه، وذلک أنّ قائلا قال له قد أثمنا فقال لا، نقضيه . فقوله : «لَا» ردّ لکلامه قد أثمنا، ثم استأنف فقال : نقضيه «2» . وقد يكون لَا للنّهي نحو : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] ، وَلا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] ، وعلی هذا النّحو : يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] ، وعلی ذلك : لا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ، وقوله : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] فنفي قيل تقدیره : إنهم لا يعبدون، وعلی هذا : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] وقوله : ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] يصحّ أن يكون «لا تقاتلون» في موضع الحال «3» : ما لکم غير مقاتلین . ويجعل «لَا» مبنيّا مع النّكرة بعده فيقصد به النّفي . نحو : فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] ، [ وقد يكرّر الکلام في المتضادّين ويراد إثبات الأمر فيهما جمیعا . نحو أن يقال : ليس زيد بمقیم ولا ظاعن . أي : يكون تارة كذا وتارة كذا، وقد يقال ذلک ويراد إثبات حالة بينهما . نحو أن يقال : ليس بأبيض ولا أسود ] «4» ، وإنما يراد إثبات حالة أخری له، وقوله : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] . فقد قيل معناه : إنها شرقيّة وغربيّة «5» . وقیل معناه : مصونة عن الإفراط والتّفریط . وقد يذكر «لَا» ويراد به سلب المعنی دون إثبات شيء، ويقال له الاسم غير المحصّل . نحو : لا إنسان، إذا قصدت سلب الإنسانيّة، وعلی هذا قول العامّة : لا حدّ. أي : لا أحد . ( لا ) حرف ) لا ۔ یہ کبھی عدم محض کے لئے آتا ہے ۔ جیسے : زید عالم یعنی جاہل ہے اور کبھی نفی کے لئے ہوتا ہے ۔ اور اسم و فعل دونوں کے ساتھ ازمنہ ثلاثہ میں نفی کے معنی دیتا ہے لیکن جب زمانہ ماضی میں نفی کے لئے ہو تو یا تو اس کے بعد فعل کو ذکر ہی نہیں کیا جاتا مثلا اگر کوئی ھل خرجت کہے تو اس کے جواب میں صرف ، ، لا ، ، کہ دنیا کافی ہے یعنی لاخرجت اور اگر نفی فعل مذکور بھی ہوتا ہے تو شاذو نا در اور وہ بھی اس وقت (11) جب لا اور فعل کے درمیان کوئی فاعل آجائے ۔ جیسے لارجل ضربت ولا امرءۃ (2) جب اس پر دوسرے فعل کا عطف ہو جیسے ۔ لا خرجت ولاضربت اور یا (3) لا مکرر ہو جیسے ؛فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] اس ناعاقبت اندیش نے نہ تو کلام خدا کی نعمتوں کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی ۔ اور یا (4) جملہ دعائیہ میں جیسے لا کان ( خدا کرے ایسا نہ ہو ) لا افلح ( وہ کامیاب نہ ہوا وغیرہ ۔ اور زمانہ مستقبل میں نفی کے متعلق فرمایا : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] ذرہ پھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں ۔ اور کبھی ، ، لا ، ، کلام مثبت پر داخل ہوتا ہے اور کلام محذوف کی نفی کے لئے آتا ہے ۔ جسیے فرمایا : وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں ۔۔۔ اور مندرجہ ذیل آیات میں بھی بعض نے لا کو اسی معنی پر حمل کیا ہے ۔ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ہم کو روز قیامت کی قسم ۔ فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] میں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کھاتا ہوں ۔ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] تمہارے پروردگار کی قسم یہ مومن نہیں ہوں گے ۔ فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم ۔ اور اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے ( المتقارب ) (388) لاوابیک ابتہ العامری نہیں تیرے باپ کی قسم اسے عامری کی بیٹی ۔ اور مروی ہے (105) کہ ا یک مرتبہ حضرت عمر نے یہ سمجھ کر کہ سورج غروب ہوگیا ہے روزہ افطار کردیا اس کے بعد سورج نکل آیا تو آپ نے فرمایا : لانقضیہ ماتجالفنا الاثم فیہ اس میں بھی لا کلام محذوف کی نفی کے لئے ہے یعنی اس غلطی پر جب لوگوں نے کہا کہ آپ نے گناہ کا ارتکاب کیا تو اس کی نفی کے لئے انہوں نے لا فرمایا ۔ یعنی ہم گنہگار نہیں ہیں ۔ اس کے بعد تفضیہ سے از سر نو جملہ شروع کیا ہے ۔ اور کبھی یہ لا نہی کے لئے آتا ہے جیسے فرمایا : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] کوئی قوم کسی قوم سے تمسخرنہ کرے ولا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] اور نہ ایک دوسرے کا برنام رکھو ۔ اور آیت ؛ يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] اے بنی آدم دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکادے ۔ اور نیزلا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ایسانہ ہو ک سلمان اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں ۔۔۔ میں بھی لا نہی کے لئے ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سو اکسی کی عبادت نہ کرنا ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ لانا فیہ یعنی خبر ہے یعنی وہ اللہ کے سو ا کسی کی عبادت نہیں کریں گے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] اور جب ہم نے تم سے عہد لیا ک تم آپس میں کشت وخون نہیں کروگے ۔ میں بھی لانفی پر محمول ہے اور فرمان باری تعالیٰ ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] تمہیں کیا ہوا کہ خدا کی راہ میں نہیں لڑتے ۔ میں ہوسکتا ہے کہ لاتقاتلو ن موضع حال میں ہو ۔ اور معنی ی ہو مالکم غیر مقاتلین یعنی تمہیں کیا ہوا اور آنحالیکہ لڑنے والے نہیں ہو ۔ اور لا کے بعد اسم نکرہ آجائے تو وہ مبنی بر فتحہ ہوتا ہے اور لا لفی کے مبنی دیتا ہے جیسے فرمایا : نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے ۔ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] اور کبھی دو متضادمعنوں کے درمیان لا مکرر آجاتا ہے ۔ اور دونوں کا اثبات مقصود ہوتا ہے جیسے : لا زید بمقیم ولا ظاعن نہ زید مقیم ہے اور نہ ہی مسافر یعن کبھی مقیم ہے اور کبھی سفر پر اور کبھی متضاد مقصود ہوتا ہے جیسے ۔ لیس ابیض ولااسود سے مراد ہے کہ وہ ان دونوں رنگوں کے درمیان ہے یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے ہے کہ ان دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا رنگ ہو چناچہ آیت کریمہ : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] یعنی زیتون کی نہ مشرق کی طرف منسوب اور نہ مغرب کیطر کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ بیک وقت مشرقی بھی ہے اور غربی بھی ۔ اور بعض نے اس کا افراط اور تفریط سے محفوظ ہونا مراد لیا ہے ۔ کبھی لا محض سلب کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس سے ایک شے کی نفی کرکے دوسری کا اثبات مقصود نہیں ہوتا مثلا لا انسان کہہ کہ صرف انسانیت کی نفی کا قصد کیا جائے اور عامی محاورہ لاحد بھی اسی معنی پر محمول ہے ۔ قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] جمع الجَمْع : ضمّ الشیء بتقریب بعضه من بعض، يقال : جَمَعْتُهُ فَاجْتَمَعَ ، وقال عزّ وجل : وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] ، وَجَمَعَ فَأَوْعى [ المعارج/ 18] ، جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] ، ( ج م ع ) الجمع ( ف ) کے معنی ہیں متفرق چیزوں کو ایک دوسرے کے قریب لاکر ملا دینا ۔ محاورہ ہے : ۔ چناچہ وہ اکٹھا ہوگیا ۔ قرآن میں ہے ۔ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے ۔ ( مال ) جمع کیا اور بند رکھا ۔ جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] مال جمع کرتا ہے اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے قرية الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية . ( ق ر ی ) القریۃ وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور جمع ہونے والے لوگوں اور جگہ انفراد بھی قریہ بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] بستی سے دریافت کرلیجئے ۔ میں اکثر مفسرین نے اہل کا لفظ محزوف مان کر قریہ سے وہاں کے با شندے مرے لئے ہیں حصن وتَحَصَّنَ : إذا اتخذ الحصن مسکنا، ثم يتجوّز به في كلّ تحرّز، وقوله تعالی: إِلَّا قَلِيلًا مِمَّا تُحْصِنُونَ [يوسف/ 48] ، أي : تحرزون في المواضع الحصینة الجارية مجری الحصن ( ح ص ن ) الحصن تحصن کے اصل معنی نہ تو قلعہ کو مسکن بنا لینا کے ہیں مگر مجا زا ہر قسم کا بجاؤ حاصل کرنے پر لفظ بولا جاتا ہے ۔ اسی سے درع حصینۃ ( زرہ محکم ) اور فرس حصان ( اسپ نرو نجیب کا محاورہ ہے ۔ کیونکہ زرہ بدن کے لئے اور گھوڑا اپنے سوار کے لئے ایک طرح سے بمنزلہ قلعہ کسے ہوتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِلَّا قَلِيلًا مِمَّا تُحْصِنُونَ [يوسف/ 48] صرف وہی تھوڑا سا رہ جائیگا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے ۔ میں تحصنون سے مراد یہ ہے کہ جو کچھ قلعے جیسی محفوظ جگہوں میں حفا ظت سے رکھ چھوڑو ۔ وراء ( وَرَاءُ ) إذا قيل : وَرَاءُ زيدٍ كذا، فإنه يقال لمن خلفه . نحو قوله تعالی: وَمِنْ وَراءِ إِسْحاقَ يَعْقُوبَ [هود/ 71] ، ( و ر ی ) واریت الورآء کے معنی خلف یعنی پچھلی جانب کے ہیں مثلا جو زہد کے پیچھے یا بعد میں آئے اس کے متعلق ورآء زید کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ وَراءِ إِسْحاقَ يَعْقُوبَ [هود/ 71] اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوش خبری دی ۔ جدر الجِدَار : الحائط، إلا أنّ الحائط يقال اعتبارا بالإحاطة بالمکان، والجدار يقال اعتبارا بالنتوّ والارتفاع، وجمعه جُدُر . قال تعالی: وَأَمَّا الْجِدارُ فَكانَ لِغُلامَيْنِ [ الكهف/ 82] ، وقال : جِداراً يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقامَهُ [ الكهف/ 77] ، وقال تعالی: أَوْ مِنْ وَراءِ جُدُرٍ [ الحشر/ 14] ، وفي الحدیث : «حتی يبلغ الماء الجدر» «2» ، وجَدَرْتُ الجدار : رفعته، واعتبر منه معنی النتوّ فقیل : جَدَرَ الشجر : إذا خرج ورقه كأنه حمّص، وسمي النبات الناتئ من الأرض جَدَراً ، الواحد : جَدَرَة، وأَجْدَرت الأرض : أخرجت ذلك، وجُدِرَ «3» الصبي وجُدِّرَ : إذا خرج جدريّه تشبيها بجدر الشجر . وقیل : الجُدَرِيُّ والجُدَرَةُ : سلعة تظهر في الجسد، وجمعها أَجْدَار، وشاة جَدْرَاء «4» والجَيْدَر : القصیر . اشتق ذلک من الجدار، وزید فيه حرف علی سبیل التهكم حسبما بينّاه في «أصول الاشتقاق» . والجَدِيرُ : المنتهى لانتهاء الأمر إليه انتهاء الشیء إلى الجدار، وقد جَدُرَ بکذا فهو جَدِير، وما أَجْدَرَهُ بکذا وأَجْدِرْ به . ( ج د ر ) الجدار کے معنی حائط ( دیوار ) ہی کے ہیں ۔ لیکن اس اعتبار سے کہ وہ زمین سے اونچی اور بلند ہوتی ہے اسے جدار کہا جاتا بنے اور اس اعتبار سے کہ احاطہ کئے ہوئے ہوتی ہے اسے حائط کہا جاتا ہے جدار کی جمع جدر آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ وَأَمَّا الْجِدارُ فَكانَ لِغُلامَيْنِ [ الكهف/ 82] اور وہ جو دیوار تھی سو دو یتیم لڑکوں کی تھی ۔ جِداراً يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقامَهُ [ الكهف/ 77] ایک دیوار دیکھی جو ) جھک کر ) گرا چاہتی تھی خضر نے اس کو سیدھا کردیا ۔ أَوْ مِنْ وَراءِ جُدُرٍ [ الحشر/ 14] یا دیواروں کی اوٹ میں ۔ حدیث میں ہے جب تک کہ پانی دیواروں تک پہنچ جائے ۔ دیوار کو وانچا کردیا ۔ اور اس میں معنی ارتفاع کے اعتبار سے جدر الشجرۃ کہا جاتا ہے جس کے معنی ہیں چنے کے دانے کی طرح درخت کے کونپل نکل آئے اسی طرح اس طرح وہ روئید گی جو زمین پر ظاہر ہو ۔ اسے جدر کہا جاتا ہے اس کا واحد جدرۃ ہے اور اجدرات الارج کے معنی ہیں زمین سبزہ زار ہوگئی ۔ جدر ( ن) الصبی وجد ر بچے کو چیچک نکل آئی ۔ یہ محاورہ درخت کے کونپل کیساتھ تشبیھا بولا جاتا ہے بعض نے کہا کہ الجدری والجدرۃ کے معنی غددویا آبلہ کے ہیں جو جسم پر ظاہر ہوتا ہے اس کی جمع اجدار ہے شاۃ جدار گو سپند آبلہ روہ ۔ الجیدر کوتاہ قدیہ بھی جدار سے مشتق ہے لیکن بطور تحکم اس میں یا زائدہ کردی گئی ہے حقارت کو ظاہر کرنے کے لئے اس میں یا بڑھا دی گئی ہے ۔ جیسا کہ ہم اپنی کتاب اصول الا شنقاق میں بیان کرچکے ہیں ۔ الجدیر ( ہنرا وار ) اس کے معنی منتہی کے ہیں ۔ کیونکہ اس تک کسی امر کی انتہا ہوتی ہے جیسا کہ دیوار تک پہنچ کر کوئی چیز کے لائق ہونے کے ہیں اس سے صیغہ صفت جدیر آتا ہے مااجدر ہ واجدربۃ ( صیغہ تعجب ) وہ اسکے لئے کس قدر زیبا ہے بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے شدید والشِّدَّةُ تستعمل في العقد، وفي البدن، وفي قوی النّفس، وفي العذاب، قال : وَكانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً [ فاطر/ 44] ، عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى[ النجم/ 5] ، يعني : جبریل عليه السلام، وقال تعالی: عَلَيْها مَلائِكَةٌ غِلاظٌ شِدادٌ [ التحریم/ 6] ، وقال : بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ [ الحشر/ 14] ، فَأَلْقِياهُ فِي الْعَذابِ الشَّدِيدِ [ ق/ 26] . والشَّدِيدُ والْمُتَشَدِّدُ : البخیل . قال تعالی: وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ [ العادیات/ 8] . ( ش دد ) الشد اور شدۃ کا لفظ عہد ، بدن قوائے نفس اور عذاب سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَكانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً [ فاطر/ 44] وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ تھے ۔ عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى[ النجم/ 5] ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا ؛نہایت قوت والے سے حضرت جبریل (علیہ السلام) مراد ہیں ۔ غِلاظٌ شِدادٌ [ التحریم/ 6] تندخواہ اور سخت مزاج ( فرشتے) بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ [ الحشر/ 14] ان کا آپس میں بڑا رعب ہے ۔ حسب ( گمان) والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] ( ح س ب ) الحساب اور الحسبة جس کا معنی ہے گمان یا خیال کرنا اور آیات : ۔ الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں ۔ کیا وہ لوگ جو بڑے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں : وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] اور ( مومنو ) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کررہے ہیں خدا ان سے بیخبر ہے ۔ فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا : أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ( یوں ہی ) جنت میں داخل ہوجاؤ گے ۔ قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔ شتت الشَّتُّ : تفریق الشّعب، يقال : شَتَّ جمعهم شَتّاً وشَتَاتاً ، وجاؤوا أَشْتَاتاً ، أي : متفرّقي النّظام، قال : يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتاتاً [ الزلزلة/ 6] ، وقال : مِنْ نَباتٍ شَتَّى[ طه/ 53] ، أي : مختلفة الأنواع، وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى [ الحشر/ 14] ، أي : هم بخلاف من وصفهم بقوله : وَلكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ [ الأنفال/ 63] . و ( شَتَّانَ ) : اسم فعل، نحو : وشکان، يقال : شتّان ما هما، وشتّان ما بينهما : إذا أخبرت عن ارتفاع الالتئام بينهما . ( ش ت ت ) الشت کے معنی قبیلہ کو متفرق کرنے کے ہیں محاورہ ہے ۔ شت جمعھم شتا وشتاتا ان کی جمیعت متفرق ہوگئی ۔ جاؤا اشتاتا وہ پر اگندہ حالت میں آئے قرآن میں ہے : يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتاتاً [ الزلزلة/ 6] اس دن لوگ گروہ گروہ ہوکر آئیں گے ۔ مِنْ نَباتٍ شَتَّى[ طه/ 53] ( یعنی انواع ( وہ اقسام ) کی مختلف روئیدگی پید اکیں ۔ وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى [ الحشر/ 14]( مگر) ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں ۔ یعنی ان کی حالت مسلمانوں کی حالت کے برعکس ہے جن کے متعلق فرمایا : وَلكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ [ الأنفال/ 63] مگر خدا ہی نے ان میں الفت ڈال دی ۔ شتان یہ اسم فعل وزن وشگان ہے ۔ محاورہ ہے ؛۔ شتان ما ھما وشتان ما بینھما ان دونوں میں کس قدر بعد اور تفاوت ہے ۔ عقل العَقْل يقال للقوّة المتهيّئة لقبول العلم، ويقال للعلم الذي يستفیده الإنسان بتلک القوّة عَقْلٌ ، وهذا العقل هو المعنيّ بقوله : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] ، ( ع ق ل ) العقل اس قوت کو کہتے ہیں جو قبول علم کے لئے تیار رہتی ہے اور وہ علم جو اس قوت کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی عقل کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] اور سے توا ہل دانش ہی سمجھتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

یہ بنی قریظہ اور نضیر سب ملکر بھی تم سے نہیں لڑیں گے مگر شہروں اور مضبوط قلعوں میں یا دیوار کی آر میں ان کی لڑائی بس آپس ہی میں بڑی تیز ہے حضور کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں، محمد آپ منافقین اور یہود نبی قریظہ اور نضیر کو ایک بات پر متفق خیال کرتے ہیں مگر ان کے دل غیر متفق ہیں اور یہ اختلاف اور خیانت اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ حکم خداوندی اور توحید الہی کو نہیں سمجھتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٤{ لَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ اَوْ مِنْ وَّرَآئِ جُدُرٍط } ” یہ کبھی اکٹھے ہو کر تمہارے خلاف جنگ نہیں کریں گے ‘ سوائے اس کے کہ قلعہ بند بستیوں میں (رہ کر لڑیں) یا دیواروں کے پیچھے سے۔ “ { بَاْسُہُمْ بَیْنَہُمْ شَدِیْدٌ} ” ان کے آپس کے جھگڑے بہت سخت ہیں۔ “ ان کے باہمی جھگڑوں اور مخاصمت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بزدلی اور خود غرضی ان میں سے ہر ایک کے مزاج کا جزولاینفک بن چکی ہے۔ ظاہر ہے اگر یہ لوگ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مخلص نہیں ہیں تو آپس میں ایک دوسرے سے کیسے مخلص ہوسکتے ہیں۔ { تَحْسَبُہُمْ جَمِیْعًا وَّقُلُوْبُہُمْ شَتّٰی } ” تم انہیں متحد گمان کرتے ہو ‘ حالانکہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ “ ہمارے موجودہ زمانے کے سیاسی اتحاد بھی بدقسمتی سے بالکل یہی نقشہ پیش کرتے ہیں ‘ حتیٰ کہ ” تحریک نظام مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) “ کے نام پر بننے والے متحدہ محاذ کے راہنمائوں کے بھی باہمی اختلافات اس قدر شدید تھے کہ ان میں سے کئی علماء ایک دوسرے کی اقتدا میں نماز تک ادا کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ { ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ ۔ } ” یہ اس لیے کہ یہ ایک ایسا گروہ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

23 That is, "The reason why they dare not face you openly in the field is not that they are Muslim: and have fear of God in their hearts and are afraid that despite their claim to the Faith when they come out to help the disbelievers as against the believers, they will be held accountable before God. But what actually restrains them froth facing you is that when they see your profound love and spirit of self-sacrifice and devotion for Islam and the Holy Prophet Muhammad (Upon whom be Allah's peace and blessings) and the great unity and concord in your rattles, they become dispirited. They a now full well that although you are few in number the spirit of martyrdom which has turned each single individual among you into a gallant warrior and the organization which has moulded you into a solid body, will crush them also along with the Jews when they c]ash with you in the battlefield. Here one should bear in mind the fact that if a person harbours the fear of another than God in his heart, it is in fact a negation of the fear of God. Obviously. the person who considers one of the dangers as lesser and the other greater, pays no heed to the first but dces whatever b e can to safeguard himself against the greater danger." 24 A great truth has been expressed in this brief sentence. A person who has sense knows that the real power to be feared is the power of Allah and not the power of men. Therefore, he will avoid every such thing as may call for the punishment of AIIah, whether there is any human power to call him to account for it or not, and he will come out to accomplish any duty which AIIah has enjoined on him, whether he is opposed and hindered by all the powers of the world. But a man, who has no sense, determines his attitude and conduct in view of the human powers, instead of Allah's power, in alI matters of lift, because Allah's power for him is imperceptible and human powers arc perceptible. If he avoids something. he will avoid it, not because of the fear of Allah's punishment for it, but because of a human power, which may be there to take him to task. And if he does sothing he will do is not because AIIah has enjoined it, but because some haman power has ordered or approved of it, and will reward hi for it. This very distinction between intelligence and folly, in fact, distinguishes the character and conduct of a believer from that of an unbeliever.

سورة الْحَشْر حاشیہ نمبر :25 یہ منافقین کی دوسری کمزوری کا بیان ہے ۔ پہلی کمزوری یہ تھی کہ وہ بزدل تھے ، خدا سے ڈرنے کے بجائے انسانوں سے ڈرتے تھے اور اہل ایمان کی طرح کوئی بلند تر نصب العین ان کے سامنے نہ تھا جس کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دینے کا جذبہ ان کے اندر پیدا ہوتا ۔ اور دوسری کمزوری یہ تھی کہ منافقت کے سوا کوئی قدر مشترک ان کے درمیان نہ تھی جو ان کو ملا کر ایک مضبوط جتھا بنا دیتی ۔ ان کو جس چیز نے جمع کیا تھا وہ صرف یہ تھی کہ اپنے شہر میں باہر کے آئے ہوئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشوائی و فرمانروائی چلتے دیکھ کر ان سب کے دل جل رہے تھے ، اور اپنے ہی ہم وطن انصاریوں کو مہاجرین کی پذیرائی کرتے دیکھ کر ان کے سینوں پر سانپ لوٹتے تھے ۔ اس حسد کی بنا پر وہ چاہتے تھے کہ سب مل جل کر اور آس پاس کے دشمانان اسلام سے ساز باز کر کے اس بیرونی اثر و اقتدار کو کسی طرح ختم کر دیں ۔ لیکن اس منفی مقصد کے سوا کوئی مثبت چیز ان کو ملانے والی نہ تھی ۔ ان میں سے ہر ایک سردار کا جتھا الگ تھا ۔ ہر ایک اپنی چودھراہٹ چاہتا تھا ۔ کوئی کسی کا مخلص دوست نہ تھا ۔ بلکہ ہر ایک کے دل میں دوسرے کے لیے اتنا بغض و حسد تھا کہ جسے وہ اپنا مشترک دشمن سمجھتے تھے اس کے مقابلے میں بھی وہ نہ آپس کی دشمنیاں بھول سکتے تھے ، نہ ایک دوسرے کی جڑ کاٹنے سے باز رہ سکتے تھے ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے غزوہ بنی نضیر سے پہلے ہی منافقین کی اندرونی حالت کا تجزیہ کر کے مسلمانوں کو بتا دیا کہ ان کی طرف سے فی الحقیقت کوئی خطرہ نہیں ہے ، لہٰذا تمہیں یہ خبریں سن سن کر گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ جب تم بنی نضیر کا محاصرہ کرنے کے لیے نکلو گے تو یہ منافق سردار دو ہزار کا لشکر لے کر پیچھے سے تم پر حملہ کر دیں گے اور ساتھ ساتھ بنی قریظہ اور بنی غطفان کو بھی تم پر چڑھا لائیں گے ۔ یہ سب محض لاف زنیاں ہیں جن کی ہوا آزمائش کی پہلی ساخت آتے ہی نکل جائے گی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(59:14) لایقاتلونکم۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب مقاتلۃ (مفاعلۃ) مصدر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم سے نہیں لڑیں گے۔ جمیعا۔ اکٹھے مل کر۔ یا کسی عزم اور متفقہ رائے پر جمع ہوکر یا جم کر بالمواجہہ نہیں لڑیں گے۔ لایقاتلونکم میں ضمیر فاعل ہر دو کفار و منافقین کے لئے استعمال ہوئی ہے۔ الا حرف استثناء ۔ مگر : (اگر لڑیں گے بھی تو ۔۔ ) فی قری محصنۃ : فی حرف جار قری محصنۃ موصوف و صفت ، یہ جمع قریۃ کی۔ بستیاں۔ محصنۃ حصن یحصن تحصین (تفعیل) جگہ کو مضبوط بنانا۔ بستی کی دیوار سے گھرنا اسم مفعول کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ یعنی قلعہ کی طرح دیواروں سے گھیر کر بنائی ہوئی بستیاں۔ اس کا مادہ حصن ہے۔ تحصن (تفعل) بمعنی قلعہ بند ہونا ۔ حصن جمع حصون قلعے، مضبوط جگہیں، گڑھیاں، حصان عمدہ گھوڑا۔ وراء جدو : مضاف مضاف الیہ۔ ورائ۔ اوٹ۔ آڑ۔ وراء اصل میں مصدر ہے جس کو بطور ظرف استعمال کیا جاتا ہے۔ ظرف زمان ظرف مکان دونوں کے لئے آتا ہے۔ آگے، پیچھے۔ ہر طرف، سب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جدر جمع ہے جدار کی۔ بمعنی دیوار یعنی اگر یہ کفار اور منافقین مسلمانوں سے لڑنے کی ہمت بھی کریں گے تو قلعہ بند ہوکر یا دیواروں کی اوٹ لے کر لڑیں گے بالمواجہہ لڑنے کی ہمت ان میں نہیں ہے۔ باسھم۔ مضاف مضاف الیہ ۔ باس لڑائی۔ عدم جامعیت، باہمی مناقشت، باسھم بینھم شدید ان کا آپس میں کا اختلاف بہت سخت ہے۔ تحسبھم مضارع واحد مذکر حاضر۔ حسبان (باب حسب، سمع) سے مصدر تو گمان کرتا ہے ۔ تو خیال کرتا ہے۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تو ان کو خیال کرتا ہے۔ جمیعا : ای متفق۔ وقلوبھم شتی۔ جملہ حالیہ ہے۔ شتی طرح طرح ۔ جدا جدا۔ متفرق۔ مختلف۔ پراگندہ۔ بعض کے نزدیک یہ لفظ مفرد ہے اور بعض نے اسے شتیت کی جمع بیان کی ہے (حالانکہ ان کے دل متفرق ہیں) ذلک یہ پراگندگی خٰال۔ باہمی اختلاف ومناقشت۔ بانھم۔ ب سببیہ ہے یعنی باہمئی یہ عدم اتفاق اس لئے ہے کہ یہ لوگ بےعقل ہیں۔ اور حق و طابل میں امتیاز نہیں کرسکتے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 جیسا کہ نامردوں اور بزدلوں کا قاعدہ ہوتا ہے۔ میدان میں آنا پسند نہیں کرتے بلکہ مکانوں اور قلعوں کی آڑ لے کر دور ہی سے لڑنا پسند کرتے ہیں۔ محفوظ بستیوں سے مرادقلعے یا وہ بستیاں ہیں جن کے گرد فصیل یا خندق ہوتی ہے۔6 اگر عقل رکھتے تو حق کو پچانتے

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ یعنی گو عداوت اہل حق ان سب میں مابہ الاشتراک ہے مگر خود بھی تو انہیں اختلاف عقائد کی وجہ سے افتراق اور عداوت ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کی بزدلی کا ذکرجاری ہے۔ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منافقین کی سازش بتلانے کے بعد یہ بھی بتلادیا گیا ہے کہ منافق اور یہودی کبھی بھی اکٹھے ہو کر تمہارے سامنے نہیں آسکتے، سوائے اس کے کہ وہ اپنے قلعوں میں رہ کر یا دیواروں کی اوٹ میں تمہارے خلاف لڑنے کی کوشش کریں کیونکہ ان کے آپس میں شدید اختلافات ہیں۔ آپ انہیں متحد سمجھتے ہیں حالانکہ ان کے دل آپس میں ایک دوسرے سے دور ہیں۔ ایسا اس لیے کہ یہ لوگ حقیقی سمجھ نہیں رکھتے۔ ان کا حال ان لوگوں کی طرح ہے جو ان سے تھوڑی مدت پہلے اپنے کیے کی سزا پا چکے ہیں۔ قیامت کے دن ان کے لیے اذّیت ناک عذاب ہے۔ پہلے لوگوں سے مراد اہل مکہ ہیں جو بدر میں ذلیل ہوئے۔ منافقوں کی چال اور مثال شیطان جیسی ہے کہ وہ انسان کو کفر پر اکستا ہے جب انسان کفرکا کام کر بیٹھتا ہے تو شیطان اس سے یہ کہہ کر بری الذّمہ ہوجاتا ہے کہ میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ شیطان اور اس کے ساتھیوں کا انجام جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، ظالموں کی یہی سزا ہوگی۔ اس فرمان میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع دی گئی کہ منافق اور یہودی اکٹھے ہو کر آپ کے خلاف نہیں لڑیں گے کیونکہ ان کے دل ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔ اس سے مراد بنو نضیر کے آپس میں اختلافات بھی ہوسکتے ہیں جو بظاہر اکٹھے تھے مگر ان کے دل ایک دوسرے سے دور تھے لیکن اسلام دشمنی میں اکٹھے تھے۔ مکہ کے لوگ اپنی جگہ ذلیل ہوکرواپس پلٹے اور منافق اور یہودی اپنے اپنے مقام پر ذلیل ہوئے۔ یہاں منافقین کے کردار کو شیطان کے کردار کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ جس طرح شیطان چھپ کر بار، بار انسان کو گمراہ کرتا ہے اسی طرح ہی منافق بار، بار اور چھپ چھپ کر مسلمانوں کا نقصان کرتے ہیں۔ منافق مشکل میں اسی طرح ہی ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔ جس طرح شیطان انسان سے برے کام کرواکر اپنے آپ میں کہتا ہے کہ میں تو رب العالمین ڈرتا ہوں اس لیے تم سے الگ ہوتا ہوں۔ جیسا کہ اس نے غزوہ بدر کے موقع پر کیا تھا۔ تفصیل کے لیے سورة الانفال کی آیت ٤٨ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی بجائے لوگوں سے ڈرنے والے لوگ حقیقت میں سمجھ دار نہیں ہوتے۔ ٢۔ حقیقی سمجھ یہ ہے کہ انسان صرف اللہ سے ڈرتا رہے۔ ٣۔ منافق کی چال اور انداز شیطان کی مانند ہوتا ہے۔ ٤۔ شیطان کی طرح منافق بھی مشکل وقت میں ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔ ٥۔ شیطان اور اس کے ساتھی جہنم میں جھونکیں جائیں گے۔ ٦۔ کفارمخلص ہو کر آپس میں اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ تفسیر بالقرآن مسلمان کو صرف اللہ سے ڈرنا چاہیے : (البقرۃ : ١٥٠) (المائدۃ : ٢٨) (یونس : ١٥، الزمر : ٣) (النور : ٥٢) (الانفال : ٤٨) (النساء : ٧٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

لا یقاتلونکم ................ یعقلون (٩٥ : ٤١) ” یہ کبھی اکٹھے ہوکر (کھلے میدان میں) تمہارا مقابلہ نہ کریں گے ، لڑیں گے بھی تو قلعہ بند بستیوں میں بیٹھ کر یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر۔ یہ آپس میں مخالفت میں بڑے سخت ہیں۔ تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو مگر ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں۔ ان کا یہ حال اس لئے ہے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں “۔ یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ منافقین اور اہل کتاب کی جو تصویر قرآن کریم نے کھینچی ہے وہ ابھی تک سچی ہے۔ منافقین اور کافر اہل کتاب جب بھی جہاں بھی ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئے ہیں تو یہ صورت سامنے ہوکر آگئی۔ حال ہی میں اخوان اہل ایمان اور یہودیوں کے درمیان فلسطین کی سر زمین پر جو جھڑپیں ہوئیں ان میں یہودی کسی جگہ بھی کھل کر میدان میں نہ آئے اور وہ اپنی آبادیوں اور حلقوں میں چھپ کر ہی لڑتے رہے اور جب کبھی وہ تھوڑی دیر کے لئے باہر آئے تو وہ چوہوں کی طرح پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔ یوں نظر آتا تھا کہ شاید یہ آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ سبحان اللہ .................... الخبیر ” ان حقائق کے علاوہ ان کی نفسیاتی جھلکیاں بھی عجیب ہیں۔ باسھم ................ شدید (٩٥ : ٤١) ” یہ آپس کی مخالف میں شدید ہیں۔ “ تحسبھم ................ شتیٰ (٩٥ : ٤١) ” تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو اور ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ “ جبکہ اس کے مقابلے میں مومنین کی حالت یہ ہے کہ وہ صدیوں کے آنے والے اپنے سابقہ لوگو کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ زمان ومکان کی دوریوں کے باوجود وہ ایمان کی رسی میں بندھے ہوئے ہیں۔ اور اس راہ میں جنس وطن اور خاندان رکاوٹ نہیں۔ ذلک بانھم ................ یعقلون (٩٥ : ٤١) ” ان کا یہ حال اس لئے ہے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں۔ “ بعض اوقات ظاہری حالات دھوکہ دیتے ہیں۔ اہل کتاب آپس میں نہایت متحد ومتفق نظر آتے ہیں اور ایک دوسرے کے کفیل و مددگار نظر آتے ہیں اور حمایت بھی کرتے ہیں جس طرح منافقین ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوجاتے ہیں۔ لیکن آسمان سے سچی خبر آتی ہے کہ کواکب ایسے نہیں ہیں جیسے نظر آتے ہیں۔ یہ محض ان کا خارجی منظر ہے کبھی کبھی ان کا یہ پردہ اتر جاتا ہے اور ان کی حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ یہ اندر سے کس قدر پھٹے ہوئے ہیں۔ اور قرآن کریم کی سچائی ثابت ہوتی ہے ۔ ایک ہی محاذ اور ایک ہی بلاک کے اندر وہ ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے ہیں۔ دراصل یہ اپنی اپنی مصلحتوں کے لئے جدوجہد کررہے ہوتے ہیں۔ متضاد خواہشات رکھتے ہیں ، ان کی پالیسیاں باہم متصادم ہوتی ہیں۔ جب بھی مومنین نے صداقت سے کام کیا اور جب بھی ان کے دل اللہ کی ذات پر جممع ہوئے ہیں ، ان کے مقابلے میں کفار اور منافقین کے محاذ میں دراڑیں پڑگئی ہیں اور ان کے دل باہم بکھر گئے ہیں۔ اور بظاہر ان کا اتحاد خواب پریشاں بن گیا ہے اور جب بھی مومنین نے صبر کیا ہے اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا تو انہوں نے دیکھا کہ کافروں کے درمیان جو ظاہری اتحاد اور بندش نظر آتی ہے وہ کھل گئی ہے اور ان کا اتحاد پارہ پارہ ہوگیا ہے اور نظر آگیا ہے کہ ان کے درمیان شدید اختلافات ہیں ، شدید دشمنی ہے اور وہ ایک دوسرے کے خلاف سازشیں اور دشمنیاں کررہے ہیں۔ اور ان کے دل ایک دوسرے سے بالکل جدا (شتی) ۔ ہیں۔ کفار اور منافقین کو مسلمانوں پر اس وقت غلبہ ہوجاتا ہے اور وہ نقصان بھی پہنچا دیتے ہیں جب مسلمانوں کے دل ایک دوسرے سے جدا ہوجاتے ہیں۔ اس وقت پھر وہ مسلمانوں کی تمثیل نہیں پیش کرتے جو سابقہ آیت میں ذکر ہوتی ہے بلکہ وہ نام کے مسلمان ہوتے ہیں ورنہ مومنین کے مقابلے میں منافقین کے بارے میں قرآن نے کہا۔ باسھم ................ شدید (٩٥ : ٤١) ” آپ میں ان کی مخالفت شدید ہے “۔ تحسبھم ................ شتی (٩٥ : ٤١) ” تم انہیں اکٹھے سمجھتے ہو مگر ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں “۔ قرآن کریم مومنین کے دلوں میں یہ حقیقت اچھی طرح بٹھاتا ہے تاکہ ان کے دلوں میں سے کافروں کا رعب نکل جائے۔ اور وہ ان سے نہ ڈریں کیونکہ ان کی حقیقت واقعی یہی ہے اور ایسی ہی ہے۔ اس لئے یہ مسلمانوں کی تربیت ہے اور یہ ایک ثابت حقیقت پر مبنی ہے۔ اگر مسلمان قرآنی تعلیمات کو سنجیدگی سے لیں تو ان کے دشمنوں کے معاملات ان کے لئے آسان ہوجائیں اور ان کے دل متحد ہوجائیں۔ اور ان کے مقابلے میں دنیا کی کوئی قوت ہی نہ ٹھہرسکے۔ جو لوگ اللہ پر صحیح طرح ایمان لاچکے ہیں ان کو چاہئے کہ اپنی حقیقت اور اپنے دشمنوں کی طبیعت کو اچھی طرح سمجھیں۔ اور اگر انہوں نے اپنی حقیقت کو پالیا تو نصف معرکہ سر ہوگیا۔ اور اس حقیقت کی طرف قرآن کریم ایک واقعہ کی شکل میں اشارہ کرتا ہے اور یہ حقیقت قرآن نے بطور تمثیل اور سبق ذکر کی ہے۔ اور اس کے بعد پھر اس واقعہ کا تجزیہ کیا اور دلائل دیئے تاکہ وہ لوگ جنہوں نے وہ واقعہ دیکھا تھا وہ عبرت پکڑیں۔ اور بعد کے آنے والوں کے لئے بھی وہ ایک عبرت آموز واقعہ بن جائے۔ قرآن نے یہ اشارہ ان لوگوں کے سامنے کیا ہے جو اس حقیقت سے باخبر تھے۔ واقعہ بنی نضیر پہلا واقعہ نہ تھا۔ اس سے قبل بنی قینقاع کا واقعہ ہوگیا تھا۔ اسی کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

چناچہ یہود بنی قریظہ اور اہل خیبر اسی طرح مقابل ہوئے اور سب نے اپنے منہ کی کھائی اور شکست کی مصیبت اٹھائی۔ پھر فرمایا ﴿بَاْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيْدٌ١ؕ﴾ (ان کی لڑائی آپس میں شدید ہے) وہ آپس میں اپنے عقائد کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ ﴿تَحْسَبُهُمْ جَمِيْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى ١ؕ﴾ (آپ خیال کرتے ہیں کہ وہ اکٹھے ہیں اور حال یہ ہے کہ ان کے دل متفرق ہیں) ۔ ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَۚ٠٠١٤﴾ (ان کے قلوب کا منتشر ہونا اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ ایسے ہیں جو عقل نہیں رکھتے (اپنی اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے رہتے ہیں) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

14:۔ لا یقاتلونکم جمیعا “ یہ مومنین کے لیے مزید تسلیہ اور تشجیع ہے۔ فرمایا اے اہل ایمان ! یہ منافقین اور یہود متحد ہو کر کبھی بھی تمہارے مقابلے میں نہیں آئیں گے وہ تمہاری قوت و شوکت اور تمہارے اتحاد و اتفاق سے اس قدر مرعوب ہیں کہ کھلے میدان میں تم سے لڑنے کی ہرگز جراءت نہیں کریں گے، البتہ وہ محفوظ بستیوں میں اور دیواروں کی اوٹ میں چھپ کر تم سے لڑنے کی جراءت کرسکتے ہیں۔ ” باسہم بینہم شدید “ لیکن یہ خیال نہ کرنا کہ وہ اپنی کمزوری اور بزدلی کی وجہ سے تمہارا مقابلہ نہیں کرسکتے کیونکہ جب وہ آپس میں لڑتے ہیں تو ان کی باہمی لڑائی نہایت شدید ہوتی ہے اور تمہارے سامنے ان کی کمزوری محض تمہارے رعب کی وجہ سے ہے۔ بظاہر تمہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ آپس میں متحد ہیں، لیکن ان کے دلوں میں مکمل افتراق ہے۔ ان میں اس قدر عقل و فہم ہی نہیں کہ وہ باہمی اتحاد و الفت کی اہمیت کو سمجھ سکیں وھذا تجسیر للمومنین و تشجیع لقلوبہم علی قتالہم (روح ج 28 ص 58) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(14) ان کی بزدلی کا یہ عالم ہے کہ یہ کافر سب اکٹھے ہوکر بھی اور سب مل کر بھی تمہارے بالمقابل نہیں لڑ سکتے الایہ کہ قلعہ بند بستیوں اور دیواروں کی آڑ میں محفوظ ہوکر ان کے مابین آپس میں بڑی سخت جنگ ہے اے مخاطب تو ان کافروں کو متفق اور متحدالخیال سمجھتا ہے حالانکہ ان کے قلوب غیر متفق اور پھٹے ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کافر عقل نہیں رکھتے اور بےعقل واقع ہوئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان یہوں میں اور منافقوں میں اتنی ہمت نہیں کہ یہ سب مل کر بھی تمہارا مقابلہ کرسکیں سوائے اس کے کہ قلعہ بند بستیوں میں چھپ کر یا کسی مضبوط دیوار کی آڑ میں ہوکر جیسے شہر پناہ وغیرہ کی آڑلے کر مقابلہکریں تو کریں سامنے آمنے آکر مقابلہ کرنے کی ان میں ہمت نہیں یہ سب مل کر بھی مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے مگر ہاں قلعوں میں گھس کر اور قلعہ بند بستیوں میں چھپ کر حملہ کرسکتے ہیں یا پھر کسی دیوار وغیرہ کے پیچھے اور دیوار کی آڑ لے کر مقابلہ کرلیں تو کرلیں ان کے مابین آپس ہی میں بڑی لڑائی ہے اور ان میں بڑے اختلاف ہیں دیکھنے والا تو ان کو دیکھ کر سمجھتا ہے کہ سب ایک ہیں اور ان کی بھیڑ کو دیکھ کر خیال کرتا ہے کہ یہ متفق الخیال اور باہم متحد ہیں حالانکہ ان کے دل پراگندہ اور ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں اور ان کے دل باہم متحد نہیں ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو دین کی عقل نہیں اور یہ بےعقل واقع ہوئے ہیں اور اسی بےعقلی کی وجہ سے مختلف العقائد ہیں دین الٰہی کے بارے میں ان کے مختلف نظرئیے ہیں اور جب دل الگ الگ ہیں تو جم کر یہ مسلمانوں کا مقابلہ کیا کرسکیں گے۔ آگے دو مثالیں بیان فرمائیں۔