Surat ul Hashar

Surah: 59

Verse: 20

سورة الحشر

لَا یَسۡتَوِیۡۤ اَصۡحٰبُ النَّارِ وَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ؕ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ہُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ ﴿۲۰﴾

Not equal are the companions of the Fire and the companions of Paradise. The companions of Paradise - they are the attainers [of success].

اہل نار اور اہل جنت ( باہم ) برابر نہیں جو اہل جنت میں ہیں وہی کامیاب ہیں ( اورجو اہل نار ہیں وہ ناکام ہیں ) ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لاَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ ... Not equal are the dwellers of the Fire and the dwellers of the Paradise. meaning, these two categories of people are never the same with regards to the judgement of Allah, the Exalted, on the Day of Resurrection. Allah said in other Ayat, أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُواْ السَّيِّيَـتِ أَن نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ سَوَاءً مَّحْيَـهُمْ وَمَمَـتُهُمْ سَأءَ مَا يَحْكُمُونَ Or do those who earn evil deeds think that We shall hold them equal with those who believe and do righteous good deeds, in their present life and after their death Worst is the judgement that they make. (45:21), and, وَمَا يَسْتَوِى الاٌّعْـمَى وَالْبَصِيرُ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ وَلاَ الْمُسِىءُ قَلِيـلً مَّا تَتَذَكَّرُونَ And not equal are the blind and those who see; nor are those who believe and do righteous good deeds and those who do evil. Little do you remember! (40:58), and, أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِى الاٌّرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ Shall We treat those who believe and do righteous good deeds as corrupters on earth Or shall We treat those who have Taqwa as the wicked? (38:28) Therefore, Allah asserts that He will honor the righteous and humiliate the sinners, and this is why He said here, ... أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَايِزُونَ It is the dwellers of Paradise that will be successful. that is, they are those who will earn safety and deliverance from the torment of Allah the Exalted and Most Honored.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

20۔ 1 جنہوں نے اللہ کو بھول کر یہ بات بھی بھلائے رکھی کہ اس طرح وہ خود اپنے ہی نفسوں پر ظلم کر رہے ہیں اور ایک دن آئے گا کہ اس کے نتیجے میں ان کے یہ جسم جن کے لیے دنیا میں وہ بڑے بڑے پاپڑ بیلتے تھے جہنم کی آگ کا ایندھن بنیں گے اور ان کے مقابلے میں دوسرے وہ لوگ تھے جنہوں نے اللہ کو یاد رکھا اس کے احکام کے مطابق زندگی گزاری ایک وقت آئے گا کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس کی بہترین جزا عطا فرمائے گا اور اپنی جنت میں انہیں داخل فرمائے گا جہاں ان کے آرام وراحت کے لیے ہر طرح کی نعمتیں اور سہولتیں ہوں گی یہ دونوں فریق یعنی جنتی اور جہنمی برابر نہیں ہوں گے بھلا یہ برابر ہو بھی کس طرح سکتے ہیں ایک نے اپنے انجام کو یاد رکھا اور اس کے لیے تیاری کرتا رہا دوسرا اپنے انجام سے غافل رہا اس لیے اس کے لیے تیاری میں بھی مجرمانہ غفلت برتی۔ 20۔ 1 جس طرح امتحان کی تیاری کرنے والا کامیاب اور دوسرا ناکام ہوتا ہے۔ اسی طرح اہل ایمان و تقوٰی جنت کے حصول میں کامیاب ہوجائیں گے، کیونکہ اس کے لئے کہ وہ دنیا میں نیک عمل کرکے تیاری کرتے رہے گویا دنیادار العمل اور دارلا متحان ہے۔ جس نے اس حقیقت کو سمجھ لیا اور اس نے انجام سے بیخبر ہو کر زندگی نہیں گزاری وہ کامیاب ہوگا اور جو دنیا کی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر اور انجام سے غافل، فسق و فجور میں مبتلا رہا وہ خاسر و ناکام ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَا یَسْتَوِیْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ۔۔۔: یہ اوپر کی آیات کا خلاصہ ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے اور آخرت کی تیاری کرنے والے جنتی ہیں اور اسے بھولنے والے اور گناہ اور نافرمانی کی زندگی بسر کرنے والے جہنمی ہیں اور جہنمی اور جنتی دونوں برابر نہیں ہیں ۔ مزید دیکھئے سورة ٔ ص (٢٨) ، سجدہ (١٨) اور سورة ٔ جاثیہ (٢١) کی تفسیر۔” اصحب النار “ سے مراد کفار ہیں ، جیسا کہ فرمایا :(وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَـآ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ )” اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا یہ لوگ آگ والے ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں “۔ اور ” اصحب الجنۃ “ سے مراد مومن ہیں ۔ (دیکھئے احقاف : ١٣، ١٤)” اصحب النار “ اور ” اصحب الجتۃ “ دونوں کا ایک ہی جگہ ذکر دیکھنے کے لیے دیکھئے سورة ٔ بقرہ (٨١، ٨٢) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ۝ ٠ ۭ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ہُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ۝ ٢٠ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] وفي أخری: وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] وقد يجيء «لَا» داخلا علی کلام مثبت، ويكون هو نافیا لکلام محذوف وقد حمل علی ذلک قوله : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] ، فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ، فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] لا وأبيك ابنة العامريّ «1» وقد حمل علی ذلک قول عمر رضي اللہ عنه۔ وقد أفطر يوما في رمضان فظنّ أنّ الشمس قد غربت ثم طلعت۔: لا، نقضيه ما تجانفنا لإثم فيه، وذلک أنّ قائلا قال له قد أثمنا فقال لا، نقضيه . فقوله : «لَا» ردّ لکلامه قد أثمنا، ثم استأنف فقال : نقضيه «2» . وقد يكون لَا للنّهي نحو : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] ، وَلا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] ، وعلی هذا النّحو : يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] ، وعلی ذلك : لا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ، وقوله : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] فنفي قيل تقدیره : إنهم لا يعبدون، وعلی هذا : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] وقوله : ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] يصحّ أن يكون «لا تقاتلون» في موضع الحال «3» : ما لکم غير مقاتلین . ويجعل «لَا» مبنيّا مع النّكرة بعده فيقصد به النّفي . نحو : فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] ، [ وقد يكرّر الکلام في المتضادّين ويراد إثبات الأمر فيهما جمیعا . نحو أن يقال : ليس زيد بمقیم ولا ظاعن . أي : يكون تارة كذا وتارة كذا، وقد يقال ذلک ويراد إثبات حالة بينهما . نحو أن يقال : ليس بأبيض ولا أسود ] «4» ، وإنما يراد إثبات حالة أخری له، وقوله : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] . فقد قيل معناه : إنها شرقيّة وغربيّة «5» . وقیل معناه : مصونة عن الإفراط والتّفریط . وقد يذكر «لَا» ويراد به سلب المعنی دون إثبات شيء، ويقال له الاسم غير المحصّل . نحو : لا إنسان، إذا قصدت سلب الإنسانيّة، وعلی هذا قول العامّة : لا حدّ. أي : لا أحد . ( لا ) حرف ) لا ۔ یہ کبھی عدم محض کے لئے آتا ہے ۔ جیسے : زید عالم یعنی جاہل ہے اور کبھی نفی کے لئے ہوتا ہے ۔ اور اسم و فعل دونوں کے ساتھ ازمنہ ثلاثہ میں نفی کے معنی دیتا ہے لیکن جب زمانہ ماضی میں نفی کے لئے ہو تو یا تو اس کے بعد فعل کو ذکر ہی نہیں کیا جاتا مثلا اگر کوئی ھل خرجت کہے تو اس کے جواب میں صرف ، ، لا ، ، کہ دنیا کافی ہے یعنی لاخرجت اور اگر نفی فعل مذکور بھی ہوتا ہے تو شاذو نا در اور وہ بھی اس وقت (11) جب لا اور فعل کے درمیان کوئی فاعل آجائے ۔ جیسے لارجل ضربت ولا امرءۃ (2) جب اس پر دوسرے فعل کا عطف ہو جیسے ۔ لا خرجت ولاضربت اور یا (3) لا مکرر ہو جیسے ؛فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] اس ناعاقبت اندیش نے نہ تو کلام خدا کی نعمتوں کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی ۔ اور یا (4) جملہ دعائیہ میں جیسے لا کان ( خدا کرے ایسا نہ ہو ) لا افلح ( وہ کامیاب نہ ہوا وغیرہ ۔ اور زمانہ مستقبل میں نفی کے متعلق فرمایا : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] ذرہ پھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں ۔ اور کبھی ، ، لا ، ، کلام مثبت پر داخل ہوتا ہے اور کلام محذوف کی نفی کے لئے آتا ہے ۔ جسیے فرمایا : وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں ۔۔۔ اور مندرجہ ذیل آیات میں بھی بعض نے لا کو اسی معنی پر حمل کیا ہے ۔ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ہم کو روز قیامت کی قسم ۔ فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] میں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کھاتا ہوں ۔ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] تمہارے پروردگار کی قسم یہ مومن نہیں ہوں گے ۔ فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم ۔ اور اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے ( المتقارب ) (388) لاوابیک ابتہ العامری نہیں تیرے باپ کی قسم اسے عامری کی بیٹی ۔ اور مروی ہے (105) کہ ا یک مرتبہ حضرت عمر نے یہ سمجھ کر کہ سورج غروب ہوگیا ہے روزہ افطار کردیا اس کے بعد سورج نکل آیا تو آپ نے فرمایا : لانقضیہ ماتجالفنا الاثم فیہ اس میں بھی لا کلام محذوف کی نفی کے لئے ہے یعنی اس غلطی پر جب لوگوں نے کہا کہ آپ نے گناہ کا ارتکاب کیا تو اس کی نفی کے لئے انہوں نے لا فرمایا ۔ یعنی ہم گنہگار نہیں ہیں ۔ اس کے بعد تفضیہ سے از سر نو جملہ شروع کیا ہے ۔ اور کبھی یہ لا نہی کے لئے آتا ہے جیسے فرمایا : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] کوئی قوم کسی قوم سے تمسخرنہ کرے ولا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] اور نہ ایک دوسرے کا برنام رکھو ۔ اور آیت ؛ يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] اے بنی آدم دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکادے ۔ اور نیزلا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ایسانہ ہو ک سلمان اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں ۔۔۔ میں بھی لا نہی کے لئے ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سو اکسی کی عبادت نہ کرنا ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ لانا فیہ یعنی خبر ہے یعنی وہ اللہ کے سو ا کسی کی عبادت نہیں کریں گے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] اور جب ہم نے تم سے عہد لیا ک تم آپس میں کشت وخون نہیں کروگے ۔ میں بھی لانفی پر محمول ہے اور فرمان باری تعالیٰ ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] تمہیں کیا ہوا کہ خدا کی راہ میں نہیں لڑتے ۔ میں ہوسکتا ہے کہ لاتقاتلو ن موضع حال میں ہو ۔ اور معنی ی ہو مالکم غیر مقاتلین یعنی تمہیں کیا ہوا اور آنحالیکہ لڑنے والے نہیں ہو ۔ اور لا کے بعد اسم نکرہ آجائے تو وہ مبنی بر فتحہ ہوتا ہے اور لا لفی کے مبنی دیتا ہے جیسے فرمایا : نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے ۔ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] اور کبھی دو متضادمعنوں کے درمیان لا مکرر آجاتا ہے ۔ اور دونوں کا اثبات مقصود ہوتا ہے جیسے : لا زید بمقیم ولا ظاعن نہ زید مقیم ہے اور نہ ہی مسافر یعن کبھی مقیم ہے اور کبھی سفر پر اور کبھی متضاد مقصود ہوتا ہے جیسے ۔ لیس ابیض ولااسود سے مراد ہے کہ وہ ان دونوں رنگوں کے درمیان ہے یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے ہے کہ ان دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا رنگ ہو چناچہ آیت کریمہ : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] یعنی زیتون کی نہ مشرق کی طرف منسوب اور نہ مغرب کیطر کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ بیک وقت مشرقی بھی ہے اور غربی بھی ۔ اور بعض نے اس کا افراط اور تفریط سے محفوظ ہونا مراد لیا ہے ۔ کبھی لا محض سلب کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس سے ایک شے کی نفی کرکے دوسری کا اثبات مقصود نہیں ہوتا مثلا لا انسان کہہ کہ صرف انسانیت کی نفی کا قصد کیا جائے اور عامی محاورہ لاحد بھی اسی معنی پر محمول ہے ۔ استوا أن يقال لاعتدال الشیء في ذاته، نحو : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] ( س و ی ) المسا واۃ کسی چیز کے اپنی ذات کے اعتبار سے حالت اعتدال پر ہونے کے لئے بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] یعنی جبرائیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] ( ص ح ب ) الصاحب ۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے ( الطوایل ) ( اگر تو میری نظروں سے غائب ہے تو دل سے تو غائب نہیں ہے ) اور حزف میں صاحب صرف اسی کو کہا جاتا ہے جو عام طور پر ساتھ رہے اور کبھی کسی چیز کے مالک کو بھی ھو صاحبہ کہہ دیا جاتا ہے اسی طرح اس کو بھی جو کسی چیز میں تصرف کا مالک ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو ۔ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ فوز الْفَوْزُ : الظّفر بالخیر مع حصول السّلامة . قال تعالی: ذلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ [ البروج/ 11] ، فازَ فَوْزاً عَظِيماً [ الأحزاب/ 71] ، ( ف و ز ) الفوز کے معنی سلامتی کے ساتھ خیر حاصل کرلینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ ذلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ [ البروج/ 11] یہی بڑی کامیابی ہے ۔ فازَ فَوْزاً عَظِيماً [ الأحزاب/ 71] تو بیشک بڑی مراد پایئکا ۔ یہی صریح کامیابی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٠{ لَا یَسْتَوِیْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ } ” (دیکھو ! ) برابر نہیں ہوسکتے آگ والے اور جنت والے۔ “ { اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ہُمُ الْفَآئِزُوْنَ ۔ } ” یقینا جنت والے ہی کامیاب ہوں گے۔ “ اللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! اَللّٰھُمَّ ادْخِلْنَا الْجَنَۃَّ مَعَ الْاَبْرَارِ ! اَللّٰھُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّارِ ‘ یَامُجِیْرُ یَامُجِیْرُ یَامُجِیْرُ !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

30 That is, forgetfulness of God inevitably leads to forgetfulness of one's own self. When man forgets that he is slave to the Almighty, he will inevitably form a wrong view of his position in the world, and his whole life will go wrong because of this basic errosr, Likewise, when he forgets that he is slave to nobody except AIIah, he does not serve the one whose slave actually he is not. This also is a grave and all-pervading misunderstanding, which corrupts his whole life. Man's real position in the world is that of a slave; he is not free and self-sufficient; and he is slave of only One God, and is no one else's slave beside Him. The person who, in not know this truth, does not in fact know himself. And the person who inspite of knowing this, forgets it at any moment, may commit an act at that very moment, which a disbeliever, or a polytheist or a man forgetful of God only would commit. Man's remaining firm and steadfast on the right path entirely depends on his remembering God at all times. For as soon as he, becomes heedless of Him. he becomes heedless of himself and this very heedlessness turns him into sinfulness.

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(59:20) لا یستوی۔ لا نافیہ ہے یستوی صیغہ واحد مذکر غائب مضارع معروف استوا (افتعال) مصدر، برابر نہیں ہے۔ الفائزون : فائز کی جمع ۔ فوز (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل جمع مذکر کامیابی حاصل کرنے والے۔ کامیاب۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : خود فراموشی کا شکار ہونے والے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ جہنم میں جائیں گے، جہنمی اور جنتی برابر نہیں ہوسکتے۔ قرآن مجید نے یہ وضاحت فرمائی ہے کہ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے۔ (السجدۃ : ١٨) سورة ص کی آیت ٢٨ میں فرمایا کہ کیا ہم ایماندار اور صالح اعمال کرنے والوں کو ان کے برابر کردیں جو زمین میں فساد کرنے والے ہیں کیا ہم متقین کو برے لوگوں کے برابر کردیں گے ؟ ظاہر بات ہے کہ مومن اور فاسق، متقی اور بدکردار اچھے اور برے برابر نہیں ہوسکتے۔ جب عقائد اور کردار کے اعتبار سے برابر نہیں ہیں تو پھر انجام کے لحاظ سے کس طرح برابر ہوں گے۔ ؟ اس لیے ارشاد فرمایا کہ جہنمی اور جنتی برابر نہیں ہوسکتے، جہنمی ہمیشہ ہمیش کا نقصان پائیں گے اور جنتی ہمیشہ رہنے والے انعام پائیں گے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کو یاد رکھا اور اپنے آپ کو خود فراموشی سے بچالیا۔ وہ نہ صرف اپنی زندگی کے مقصد کو پالے گا بلکہ آخرت کی دائمی زندگی میں بھی کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَال اللّٰہُ تَعَالٰی اَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالَاعَیْنٌ رَأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَاخَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ وَّاقْرَءُ وْا اِنْ شِءْتُمْ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِیَ لَھُمْ مِنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ) (رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ الْجَنَّۃِ وَأَنَّہَا مَخْلُوقَۃٌ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں، جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا تصور پیدا ہوا۔ اگر پسند ہو تو اس آیت کی تلاوت کرو ” کوئی نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیز چھپا کے رکھی گئی ہے۔ “ (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ (رض) عَنِ النَّبِيِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ یُحْشَرُ الْمُتَکَبِّرُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَمْثَال الذَّرِّ فِيْ صُوَرِ الرِّجَالِ یَغْشَاھُمُ الذُّلُّ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ فَیُسَاقُوْنَ إِلٰی سِجْنٍ فِيْ جَھَنَّمَ یُسَمّٰی بُوْلَسَ تَعْلُوْھُمْ نَارُ الْأَنْیَارِ یُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَۃِ أَھْلِ النَّارِ طِیْنَۃَ الْخَبَالِ ) (رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب منہ ) ” حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا (رض) سے وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن متکبر لوگ چیونٹیوں کی صورت میں لائے جائیں گے انہیں ہر طرف سے ذلت ڈھانپے ہوئے ہوگی اور انہیں بولس نامی جہنم میں ڈالا جایا جائے گا ان پر آگ کے شعلے بلند ہورہے ہوں گے اور انہیں جہنمیوں کی زخموں کی پیپ پلائی جائے گی۔ “ ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سایہ میں سو سال چلتا رہے، تب بھی اس سایہ ختم نہیں ہوگا اور یقیناً تم میں سے کسی ایک شخص کی جنت میں کمان کے برابر جگہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے۔ “ (رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ الْجَنَّۃِ وَأَنَّہَا مَخْلُوقَۃٌ) (عَنْ سَمُرَۃَ ابْنِ جُنْدُبٍ (رض) اَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُاِلٰی کَعْبَیْہِ وَ مِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُُہُ النَّارُاِلٰی رُکْبَتَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰیحُجْزَتِہٖ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی تَرْقُوَتِہٖ ) (رواہ مسلم : باب فی شدۃ حر النار) ” حضرت سمرہ بن جندب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جہنم کی آگ نے بعض لوگوں کو ٹخنوں تک، بعض کو گھٹنوں تک اور بعض کو کمر تک گھیرا ہوگا اور بعض کی گردنوں تک پہنچی ہوگی۔ “ مسائل ١۔ جہنمی اور جنتی برابر نہیں ہوسکتے۔ ٢۔ جنتی کامیاب ہوں گے اور جہنمی ہمیشہ کے لیے ذلیل ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن جنتیوں اور جہنمیوں میں فرق : ١۔ قیامت کے دن جنتیوں کے چہروں پر ذلّت اور نحوست نہیں ہوگی اور وہ جنت میں رہیں گے۔ (یونس : ٢٦) ٢۔ جنتیوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے (القیامہ : ٢٢) ٣۔ جنتیوں کو ملائکہ سلام کہیں گے۔ (الزمر : ٧٣) ٤۔ جنتیوں کا استقبال ہوگا۔ ( الزمر : ٧٣) ٥۔ جنتیوں کو ملائکہ سلام کریں گے۔ (الفرقان : ٧٥) ٦۔ جہنمیوں کے چہروں پر ذلت چھائی ہوگی انہیں اللہ سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ (یونس : ٢٧) ٧۔ جہنمیوں کے چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔ (الحج : ٧٢) ٨۔ جہنمیوں کے چہروں پر گردو غبار ہوگا۔ (عبس : ٤٠) ٩۔ خدا کے باغیوں پر پھٹکار ہوگی۔ (یونس : ٢٧) ١٠۔ مجرموں کے چہرے ڈرے اور اوندھے ہوں گے۔ (الغاشیہ : ٢) ١١۔ کفار کے چہرے مرجھائے اور اڑے ہوئے ہوں گے۔ (القیامہ : ٢٤) ١٢۔ مشرک، کافر اور منافق جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ (البقرۃ : ٣٩، الزخرف : ٧٤، التوبہ : ٦٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

لا یستوی .................... الفائزون (٩٥ : ٠٢) ” دوزخ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہوسکتے ۔ جنت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں “۔ نہ دونوں کے حالات برابر ہوں لے نہ مزاج برابر ہوگا۔ نہ راستہ اور نہ راستے پرچلنے کا طریقہ۔ نہ جہت اور نہ منزل۔ غرض ان کی کوئی چیز یکساں نہیں ہوسکتی۔ ان کے راستے ہی جدا ہیں اور یہ راستے اس طرح جدا ہیں کہ کسی مقام پر باہم نہیں ملتے۔ ان کی سمت جدا ہے ، اس کا خط جدا ہے ، نہ سیاست میں ، نہ صف میں اور نہ دنیا اور نہ آخرت میں۔ اصحب ............ الفائزون (٩٥ : ٠٢) ” جنت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں “۔ یہاں اہل جنت کا انجام بتادیا جاتا ہے اور اہل جہنم کو بھلا دیا جاتا ہے کہ ان کا انجام تو معلوم ہے ، گویا وہ بھلا دیئے گئے ، کم ہوگئے۔ اب قلب ونظر کی تاروں پر آخری اور شدید ضرب جس سے انسان کپکپا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اے دل مومن اگر پہاڑوں پر یہ قرآن اتارا جاتا تو وہ بھی پاش پاش ہوجاتے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اصحاب الجنۃ اور اصحاب النار برابر نہیں ہیں : ﴿ لَا يَسْتَوِيْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ﴾ (دوزخ والے اور جنت والے برابر نہیں ہیں) میدان آخرت میں حاضر ہوں گے تو اہل جنت اپنے باغوں میں جائیں گے اور دوزخ والے اپنے ٹھکانوں میں پہنچ جائیں گے ان کو دائمی سزا ملے گی۔ آخر میں فرمایا ﴿ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ۠٠٠٢٠﴾ (جنت والے ہی کامیاب ہوں گے) ۔ فاسقون فائزون کے مرتبہ کو کہاں پہنچ سکتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

20:۔ ” لا یستوی “ ان فساق و فجار کے ذہن اس قدر مسخ ہوچکے ہیں کہ ان کے نزدیک نیک وبد میں کوئی تمیز ہی باقی نہیں رہی حالانکہ ایسے بدکردار اور بد گفتار لوگ جو جہنم کا ایندھن ہوں گے ان مومنین صالحین کے برابر نہیں ہوسکتے جو جنت کے باسی ہوں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(20) اہل جہنم اور اہل جنت دونوں باہم برابر نہیں ہیں جو اہل جنت ہیں وہی اپنے مقصد میں کامیاب ہیں۔ یعنی متقی اہل ایمان اصحاب جنت ہیں اور یہ فاسق اور بےحکم اہل جہنم اور دوزخی ہیں۔ تو اے مسلمانو ! تم اصحاب جنت میں سے ہو تم ان کی طرح مت ہوجائو جو اصحاب نار ہیں امام شافعی (رح) نے جو استدلال عدم مساوات فی القصاص پر کیا ہے یہاں اس کی بحث نہیں ہے کتب حنفیہ میں اس کا جواب موجود ہے۔