Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 107

سورة الأنعام

وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَاۤ اَشۡرَکُوۡا ؕ وَ مَا جَعَلۡنٰکَ عَلَیۡہِمۡ حَفِیۡظًا ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِوَکِیۡلٍ ﴿۱۰۷﴾

But if Allah had willed, they would not have associated. And We have not appointed you over them as a guardian, nor are you a manager over them.

اور اگر اللہ تعالٰی کو منظور ہوتا تو یہ شرک نہ کرتے اور ہم نے آپ کو ان کا نگران نہیں بنایا ۔ اور نہ آپ ان پر مختار ہیں !

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلَوْ شَاء اللّهُ مَا أَشْرَكُواْ ... Had Allah willed, they would not have taken others besides Him in worship. Allah's is the perfect will and wisdom in all decrees and decisions, and He is never questioned about what He does, while they all will be questioned. Allah's statement, ... وَمَا جَعَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا ... And We have not made you Hafiz over them. means, a watcher who observes their statements and deeds, ... وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍ Nor are you set over them to dispose of their affairs. or to control their provision. Rather, your only job is to convey, just as Allah said, فَذَكِّرْ إِنَّمَأ أَنتَ مُذَكِّرٌَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُسَيْطِرٍ So remind them, you are only one who reminds. You are not a dictator over them. (88:21-22) and, فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ Your duty is only to convey and on Us is the reckoning. (13:40)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

107۔ 1 اس نکتے کی وضاحت پہلے کی جا چکی ہے کہ اللہ کی مشیت اور چیز ہے اور اس کی رضا تو اسی میں ہے کہ اس کے ساتھ شرک نہ کیا جائے۔ تاہم اس نے اس پر انسانوں کو مجبور نہیں کیا کیونکہ جبر کی صورت میں انسان کی آزمائش نہ ہوتی، ورنہ اللہ تعالیٰ کے پاس تو ایسے اختیارات ہیں کہ وہ چاہے تو کوئی انسان شرک کرنے پر قادر ہی نہ ہو سکے (مزید دیکھئے سورة بقرہ آیت 253 اور سورة الانعام آیت 35 کا حاشیہ) ۔ 107۔ 2 یہ مضمون بھی قرآن مجید میں متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے مقصد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داعیانہ اور مبلغانہ حیثیت کی وضاحت ہے جو منصب رسالت کا تقاضا ہے اور آپ صرف اسی حد تک مکلف تھے اس سے زیادہ آپ کے پاس اگر اختیارات ہوتے تو آپ اپنے محسن چچا ابو طالب کو ضرور مسلمان کرلیتے جن کے قبول اسلام کی آپ شدید خواہش رکھتے تھے

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَآ اَشْرَكُوْا ۭ۔۔ : یعنی آپ ان کی حماقتوں اور کفر سے متاثر نہ ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے اندر ایمان و کفر دونوں کی استعداد رکھی ہے اور اس سے ان کا امتحان مقصود ہے کہ شکر گزار بنتے ہیں یا کفر اختیار کرتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کو فرشتوں کی طرح بھی بنا سکتا تھا کہ وہ فطری طور پر مومن ہونے کے ساتھ کفر یا نافرمانی کر ہی نہیں سکتے، بلکہ ہر طرح فرماں بردار ہیں، لیکن یہ اس کی حکمت کے خلاف ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The reason for this has been given in the fifth verse (107). There it has been said: If Allah Ta` ala had willed - in consideration of His own creational imperative - that the whole human race should become Muslim in faith, then, it would have become impossible for them to associate partners in the Divinity of Allah (Shirk). But, it was because of their misdeeds that Allah willed that they be punished. So, He created the necessary conditions for that end. Now, how could he make them Muslims under these circumstances? In fact, why should he worry about what they choose to do with their lives? Allah has not made him to stand guard over what they do, nor has he been authorized by Allah to bring punishment on them for their misdeeds. Therefore, he should not have any anxiety on account of what they do to themselves or for themselves.

پانچویں آیت میں اس کی وجہ یہ بتلائی گئی کہ اگر اللہ تعالیٰ کو تکوینی طور پر یہ منظور ہوتا کہ سب انسان مسلمان ہوجائیں تو یہ شرک نہ کرسکتے، لیکن ان کی بدعنوانیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ ان کو سزا ملے تو ایسا ہی سامان جمع کردیا، پھر آپ ان کو کیسے مسلمان بنا سکتے ہیں، اور آپ اس فکر میں پڑیں کیوں، ہم نے آپ کو ان کے اعمال کا نگران نہیں بنایا، اور نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان اعمال پر عذاب دینے کے ہماری طرف سے مختار ہیں، اس لئے آپ کو ان کے اعمال سے تشویش نہ ہونی چاہئے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَوْ شَاۗءَ اللہُ مَآ اَشْرَكُوْا۝ ٠ۭ وَمَا جَعَلْنٰكَ عَلَيْہِمْ حَفِيْظًا۝ ٠ۚ وَمَآ اَنْتَ عَلَيْہِمْ بِوَكِيْلٍ۝ ١٠٧ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد يحصل العسر والتّظالم فيما بين الناس، قالوا : ومن الفرق بينهما أنّ إرادةالإنسان قد تحصل من غير أن تتقدّمها إرادة الله، فإنّ الإنسان قد يريد أن لا يموت، ويأبى اللہ ذلك، ومشيئته لا تکون إلّا بعد مشيئته لقوله : وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] ، روي أنّه لما نزل قوله : لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] ( ش ی ء ) الشیئ المشیئۃ اکثر متکلمین کے نزدیک مشیئت اور ارادہ ایک ہی صفت کے دو نام ہیں لیکن بعض کے نزدیک دونوں میں فرق ہے ( 1 ) مشیئت کے اصل معنی کسی چیز کی ایجاد یا کسی چیز کو پا لینے کے ہیں ۔ اگرچہ عرف میں مشیئت ارادہ کی جگہ استعمال ہوتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے معنی اشیاء کو موجود کرنے کے ہیں اور لوگوں کی مشیئت کے معنی کسی چیز کو پالینے کے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کو چاہنا چونکہ اس کے وجود کو مقتضی ہوتا ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے ۔ ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے نہیں ہوتا ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کا ارادہ کرنا اس کے حتمی وجود کو نہیں چاہتا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ۔ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ لوگوں میں عسرۃ اور ظلم پائے جاتے ہیں ۔ ( 2 ) اور ارادہ میں دوسرا فرق یہ ہے کہ انسان کا ارادہ تو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر ہوسکتا ہے مثلا انسان چاہتا ہے کہ اسے موت نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو مار لیتا ہے ۔ لیکن مشیئت انسانی مشئیت الہیٰ کے بغیروجود ہیں نہیں آسکتی جیسے فرمایا : ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] اور تم کچھ بھی نہیں چاہتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے ایک روایت ہے کہ جب آیت : ۔ لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] یعنی اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے ۔ وكيل التَّوْكِيلُ : أن تعتمد علی غيرک وتجعله نائبا عنك، والوَكِيلُ فعیلٌ بمعنی المفعول . قال تعالی: وَكَفى بِاللَّهِ وَكِيلًا[ النساء/ 81] أي : اکتف به أن يتولّى أمرك، ( و ک ل) التوکیل کے معنی کسی پر اعتماد کر کے اسے اپنا نائب مقرر کرنے کے ہیں اور وکیل فعیل بمعنی مفعول کے وزن پر ہے ۔ قرآن میں : ۔ وَكَفى بِاللَّهِ وَكِيلًا[ النساء/ 81] اور خدا ہی کافی کار ساز ہے ۔ یعنی اپنے تمام کام اسی کے سپرد کر دیجئے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٧) اور ان مذاق اڑانے والوں کا خیال نہ کیجیے ان میں ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، اسود بن عبد یغوث، اسود بن حارث اور حارث بن قیس اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو یہ شرک نہ کرتے اور آپ ان کے نگران اور مختار نہیں ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠٧ (وَلَوْ شَآء اللّٰہُ مَآ اَشْرَکُوْاط وَمَا جَعَلْنٰکَ عَلَیْہِمْ حَفِیْظًا ج) اگر اللہ کو اپنا جبر ہی نافذ کرنا ہوتا اور با لجبر ان سب کو ایمان پر لانا ہوتا تو اللہ کے لیے یہ کچھ مشکل نہیں تھا۔ اس سلسلے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ان کی ذمہ داری ڈالی ہی نہیں گئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان پر داروغہ یا نگران مقرر نہیں کیا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام ہے حق کو واضح کردینا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس قرآن کے ذریعے انہیں خبردار کرتے رہیے ‘ اس کے ذریعے انہیں تذکیر کرتے رہیے ‘ اس کے ذریعے انہیں خوشخبریاں دیتے رہیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بس یہ ذمہ داری ہے : (فَذَکِّرْقف اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ۔ لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُصَیْطِرٍ ) ( الغاشیہ) پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں یاد دہانی کرائیے ‘ اس لیے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو یاد دہانی ہی کرانے والے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے اوپر نگران نہیں ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

71. It is emphasized that the Prophet (peace be on him) is only required to preach the Truth and try to call people to embrace it. His responsibility ends at that for he is, after all, not their warden. His task is to present this guidance and spare no effort in elucidating the Truth. Anyone who still rejects it does so on his own responsibility. It is not part of the Prophet's task to compel anybody to follow the Truth, and he will not be held accountable for not having been able to bring an individual out of the fold of falsehood. Hence he should not overstrain his mind by his desire to make the blind see, or compel those bent on keeping their eyes shut, to observe. For, had it been an objective of God's universal plan not to allow anyone to remain devoted to falsehood, He need not have sent Prophets for that purpose. Could He not have turned all human beings, instantly, into devotees of the Truth by His mere will? Quite obviously God did not intend to do so. The entire basis of the Divine plan is that men should have free-will and be allowed to choose between the Truth and falsehood; that the Truth should be explained to them in order that they be tested with regard to their choice between truth and falsehood. The right attitude, therefore, is for them to follow the Straight Way which has been illuminated by the light bequeathed to them and to keep on calling others towards it. They should naturally value very highly all those who respond to the message of the Truth. Such persons should not be forsaken or neglected, however humble their station in the world. As for those who wilfully reject the message of God, one need not pursue them too far. They should rather be left alone to proceed towards their doom since they themselves wish so, and are insistent on doing so.

سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :71 مطلب یہ ہے کہ تمھیں داعی اور مبلغ بنایا گیا ہے ، کوتوال نہیں بنایا گیا ۔ تمہارا کام صرف یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے اس روشنی کو پیش کردو اور اظہار حق کا حق ادا کرنے میں اپنی حد تک کوئی کسر اٹھا نہ رکھو ۔ اب اگر کوئی اس حق کو قبول نہیں کرتا تو نہ کرے ۔ تم کو نہ اس کام پر مامور کیا گیا ہے کہ لوگوں کو حق پرست بنا کر ہی رہو ، اور نہ تمہاری ذمہ داری و جواب دہی میں یہ بات شامل ہے کہ تمہارے حلقہ نبوت میں کوئی شخص باطل پرست نہ رہ جائے ۔ لہٰذا اس فکر میں خواہ مخواہ اپنے ذہن کو پریشان نہ کرو کہ اندھوں کو کس طرح بینا بنایا جائے اور جو آنکھیں کھول کر نہیں دیکھنا چاہتے انہیں کیسے دکھایا جائے ۔ اگر فی الواقع حکمت الٰہی کا تقاضا یہی ہوتا کہ دنیا میں کوئی شخص باطل پرست نہ رہنے دیا جائے تو اللہ کو یہ کام تم سے لینے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا اس کا ایک ہی تکوینی اشارہ تمام انسانوں کو حق پرست نہ بنا سکتا تھا ؟ مگر وہاں تو مقصود سرے سے یہ ہے ہی نہیں ۔ مقصود تو یہ ہے کہ انسان کے لیے حق اور باطل کے انتخاب کی آزادی باقی رہے اور پھر حق کی روشنی اس کے سامنے پیش کر کے اس کی آزمائش کی جائے کہ وہ دونوں چیزوں میں سے کس کو انتخاب کرتا ہے ۔ پس تمہارے لیے صحیح طرز عمل یہ ہے کہ جو روشنی تمھیں دکھا دی گئی ہے اس کے اجالے میں سیدھی راہ پر خود چلتے رہو اور دوسروں کو اس کی دعوت دیتے رہو ۔ جو لوگ اس دعوت کو قبول کرلیں انہیں سینے سے لگاؤ اور ان کا ساتھ نہ چھوڑو خواہ وہ دنیا کی نگاہ میں کیسے ہی حقیر ہوں ۔ اور جو اسے قبول نہ کریں ان کے پیچھے نہ پڑو ۔ جس انجام بد کی طرف وہ خود جانا چاہتے ہیں اور جانے پر مصر ہیں اس کی طرف جانے کے لیے انہیں چھوڑ دو ۔ سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :72 یہ نصحیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرووں کو کی گئ ہے کہ اپنی تبلیغ کے جوش میں وہ بھی اتنے بے قابو نہ ہو جائیں کہ مناظرے اور بحث و تکرار سے معاملہ بڑھتے بڑھتے غیر مسلموں کے عقاءد پر سخت حملے کرنے اور ان کے پیشواؤں اور معبودوں کو گالیاں دینے تک نوبت پہنچ جائے ، کیونکہ یہ چیز ان کو حق سے قریب لانے کے بجائے اور زیادہ دور پھینک دے گی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

44: پیچھے آیت نمبر 35 میں بھی یہ مضمون آچکا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر چاہتا تو سارے انسانوں کو زبردستی ایک ہی دین کا پابند بنا دیتا، لیکن درحقیقت انسان کو دنیا میں بھیجنے کا بنیادی مقصد امتحان ہے، اور اس امتحان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان زور زبردستی سے نہیں، بلکہ خود اپنی سمجھ سے کام لے کر ان دلائل پر غور کرے جو پوری کائنات میں بکھرے پڑے ہیں، اور پھر اپنی مرضی سے توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان لائے، انبیائے کرام ان دلائل کی طرف متوجہ کرنے کے لیے بھیجے جاتے ہیں، اور آسمانی کتابیں اس امتحان کو آسان کرنے کے لیے نازل کی جاتی ہیں، مگر ان سے فائدہ وہی اٹھا سکتے ہیں جن کے دل میں حق کی طلب ہو 45: چونکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار کے طرز عمل پر مغموم رہتے تھے، اس لیے آپ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ اپنا فرض ادا کرچکے ہیں۔ ان لوگوں کے اعمال کی کوئی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی حماقتوں اور کفر سے متاثر نہ ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے اندر ایمان وکفر دونوں کی استعداد رکھی ہے اور اس سے ان کا امتحان مقصود ہے کہ شکر گزار بنتے ہیں یا کفر اختیار کرتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کو فرشتوں کی طرح بھی بنا سکتا تھا کہ فطری طور پر مومن اور تابعدار ہیں لیکن یہ اسکی حکمت کے خلاف تھا

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ اوپر کے مضامین میں طریق مشرکین کا ابطال اور نیز مضامین مذکورہ کے ساتھ اس کی تبلیغ کا امر بھی کیا گیا ہے آگے مشرکین کے معبودات باطلہ کو سب وشتم کرنے سے مسلمانوں کو ممانعت فرما کر تبلیغ دین کے حدود قائم کرتے ہیں جس حاصل یہ ہے کہ غیر قوم سے مناظرہ کرنا تو جزو تبلیغ ہے لیکن دشنامی اور دل خراش الفاظ ان کے معظمین کے حق میں کہنا ممنوع لغیرہ ہے کہ وہ ہمارے معبود یارسل کی شان میں گستاخی کریں گے تو گویا اس کے باعث ہم ہوئے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : پچھلی آیات کے آخر میں مختلف الفاظ اور انداز میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ڈھارس اور تسلی دی گئی ہے کہ آپ اپنا کام جاری رکھیں، توحید کے عقیدہ پر پکے رہ کر اللہ کی عبادت کرتے رہیں اور مخالفوں کو خاطر میں نہ لائیں۔ یہاں کھول کر بیان کردیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ لوگ اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنا سکتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہے کہ یہ لوگ شرک کی ضلالت میں مبتلا رہیں۔ اس بات کی پہلے بھی دلائل کی روشنی میں صراحت کی جا چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کسی کو ہدایت پر گامزن نہ کرنے یا گمراہی میں مبتلا رکھنے کا یہ معنیٰ نہیں کہ رب ذوالجلال انھیں خود ہدایت سے محروم اور شرک میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے بلکہ لفظ ” یَشَآءُ “ کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو جبراً ہدایت کی طرف نہیں کھینچتا۔ کیونکہ اس نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر عقل و خرد کی نعمت سے سرفراز کیا ہے۔ کتاب مبین کی صورت میں صراط مستقیم کی طرف جامع اور اکمل ہدایات دے کر اس کے راہی کو دنیا اور آخرت کی کامیابیوں کی ضمانت دی ہے۔ صراط مستقیم چھوڑنے والوں کو دنیا کے نقصان اور آخرت کے عذاب سے متنبہ کیا ہے۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ ہدایت اور گمراہی کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے۔ کیونکہ جس طرح ظاہری نقصان کا مالک اللہ ہے اسی طرح وہ روحانی نفع و نقصان کا اختیار رکھنے والابھی وہی ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو اس کی حدود کار کی نشاندہی کرتے ہوئے تسلی اور تسکین دیتا ہے کہ میرے نبی آپ لوگوں کے لیے داعی ہیں ان کے معاملات کے محافظ اور ذمہ دار نہیں بنائے گئے۔ بس آپ اپنا کام کرتے جائیں۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو واضح فرمادیا ہے۔ ٢۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وحی کے پابند تھے۔ ٣۔ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مشرکوں کا کوئی ذمہ نہیں تھا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

114 اس کے بعد وَلٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُم مقدر ہے بقرینہ وَ لَوْ شَاء اللہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ فِی مَا اٰتٰکُمْ (مائدہ) یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو جبرًا ایمان کی توفیق دے دیتا اور اس طرح ابتلاء و امتحان کی حکمت مفقود ہوجاتی۔ حفیظا ذمہ دار، وکیل داروغہ، آپ کے ذمہ صرف تبلیغ ہے اگر وہ نہ مانیں تو اس کی ذمہ داری آپ پر نہیں اور نہ آپ کو اس لیے بھیجا گیا ہے کہ آپ ان کو ماننے پر مجبور کریں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

107 اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے اور ہم نے آپ کو ان پر نگہبان اور نگراں مقرر نہیں کیا ہے اور نہ آپ ان پر مختار کار ہیں کہ آپ ان کو ایمان پر مجبور کریں یعنی اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے لیکن حضرت حق جل مجدہ، ان کی بعض شرارتوں کے باعث ان کو سزا دینا چاہتا ہے اس لئے آپ ان پر افسوس نہ کیجیے اور آپ ان پر کوء نگراں نہیں مقرر ہوئے ہیں اور نہ آپ ان کے مختار کار ہیں کہ ان کو مسلمان کرنے پر مجبور کریں بلکہ آپ تو صرف پہونچانے الے ہیں سو ان کو تبلیغ کرتے رہئیے۔