Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 118

سورة الأنعام

فَکُلُوۡا مِمَّا ذُکِرَ اسۡمُ اللّٰہِ عَلَیۡہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ بِاٰیٰتِہٖ مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۱۸﴾

So eat of that [meat] upon which the name of Allah has been mentioned, if you are believers in His verses.

سوجس جانور پر اللہ تعالٰی کا نام لیا جائے اس میں سے کھاؤ! اگر تم اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allowing What was Slaughtered in the Name of Allah Allah says; فَكُلُواْ مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّهِ عَلَيْهِ إِن كُنتُمْ بِأيَاتِهِ مُوْمِنِينَ So eat of that on which Allah's Name has been mentioned, if you are believers in His Ayat. This is a statement of permission from Allah, for His servants, allowing them to eat the slaughtered animals wherein His Name was mentioned when slaughtering them. It is understood from it that He has not allowed that over which Allah's Name was not mentioned when slaughtering. This was the practice of the pagans of Quraysh who used to eat dead animals and eat what was slaughtered for the idols. Allah next encourages eating from the meat of sacrificed animals on which His Name was mentioned upon slaughtering,

صرف اللہ تعالیٰ کے نام کا ذبیحہ حلال باقی سب حرام حکم بیان ہو رہا ہے کہ جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے اسے کھا لیا کرو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس جانور کے ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس کا کھانا مباح نہیں ، جیسے مشرکین از خود مر گیا ہو اور مردار جانور ، بتوں اور تھالوں پر ذبح کیا ہوا جانور کھا لیا کرتے تھے ، کوئی وجہ نہیں کہ جن حلال جانوروں کو شریعت کے حکم کے مطابق ذبح کیا جائے اس کے کھانے میں حرج سمجھا جائے بالخصوص اس وقت کہ ہر حرام جانور کا بیان کھول کھول کر دیا گیا ہے فصل کی دوسری قرأت فصل ہے وہ ہرام جانور کھانے ممنوع ہیں سوائے مجبوری اور سخت بےبسی کے کہ اس وقت جو مل جائے اس کے کھا لینے کی اجازت ہے ۔ پھر کافروں کی زیادتی بیان ہو رہی ہے کہ وہ مردار جانور کو اور ان جانوروں کو جن پر اللہ کے سوا دوسروں کے نام لئے گئے ہوں حلال جانتے تھے ۔ یہ لوگ بلا علم صرف خواہش پرستی کر کے دوسروں کو بھی راہ حق سے ہٹا رہے ہیں ۔ ایسوں کی افتراء پردازی دروغ بافی اور زیادتی کو اللہ بخوبی جانتا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

118۔ 1 یعنی جس جانور پر شکار کرتے وقت یا ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا جائے۔ اسے کھالو بشرطیکہ وہ ان جانوروں میں سے ہو جن کا کھانا حلال ہے۔ اس کا مظلب یہ ہوا کہ جس جانور پر اللہ کا نام نہ لیا جائے وہ حلال و طیب نہیں البتہ اس سے ایسی صورت مستشنٰی ہے جس میں یہ التباس ہو کہ ذبح کے وقت ذبح کرنے والے نے اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں ؟ اس میں حکم یہ ہے کہ اللہ کا نام لے کر اسے کھالو۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ نے رسول اللہ سے پوچھا کہ کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں (اس سے مراد اعرابی تھے جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور اسلامی تعلیم و تربیت سے پوری طرح بہرہ ور نہیں تھے) ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے اللہ کا نام لیا یا نہیں ؟ آپ نے فرمایا تم اللہ کا نام لے کر اسے کھالو ' البتہ شبہ کی صورت میں یہ رخصت ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر قسم کے جانور کا گوشت بسم اللہ پڑھ لینے سے حلال ہوجائے گا۔ اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی منڈیوں اور دکانوں پر ملنے والا گوشت حلال ہے۔ ہاں اگر کسی کو وہم اور التباس ہو تو وہ کھاتے وقت بسم اللہ پڑھ لے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢٢] حلال جانور کو کھانے کی شرائط :۔ کسی حلال جانور کو کھانے کے لیے شریعت نے دو شرائط عائد کی ہیں۔ ایک یہ کہ ذبح کیا جائے اور اس کا خون نکال دیا جائے دوسرے ذبح کرتے وقت اس پر اللہ کا نام لیا جائے۔ علمائے یہود نے مشرکین مکہ کو یہ شرارت سمجھائی کہ مسلمانوں سے پوچھو کہ جو چیز اللہ نے ماری ہو اسے تو تم حرام قرار دیتے ہو اور جو چیز تم خود مارو اسے حلال سمجھتے ہو۔ خ ایمان لانے کے بعد وحی کی اتباع ضروری ہے خواہ اس حکم کی سمجھ آئے یا نہ آئے :۔ اس پس منظر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ جب تم نے بنیادی طور پر دلائل صحیحہ کی بنا پر رسول اللہ کی نبوت اور قرآن کریم کی حقانیت کو تسلیم کرلیا ہے تو اب فروع و جزئیات کی صحت کو تسلیم کرنا ناگزیر ہے۔ اگر ہر اصل اور فرع کو قبول کرنا ہمارے ہی عقلی قیاسات پر موقوف ہو تو پھر وحی اور نبوت کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے ؟ بالفاظ دیگر ہر شخص ایمان لانے یا نہ لانے کی حد تک تو خود مختار ہے۔ چاہے ایمان لائے یا نہ لائے۔ لیکن جب ایمان لا چکا تو پھر اسے وحی کے تابع رہ کر چلنا ہوگا خواہ اسے شرعی احکام کی علت یا مصلحت سمجھ میں آئے یا نہ آئے تاہم علماء نے اس بات کی تصریح کردی ہے کہ اللہ نے صرف وہ چیزیں حرام کی ہیں جن کا کھانا انسان کی جسمانی یا روحانی صحت کے لئے مضر ہو۔ ذبح کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ خون جسے اللہ نے حرام کردیا ہے جانور کے جسم سے نکل جاتا ہے اور جانور پاک ہوجاتا ہے۔ اگر یہ خون جسم میں رہ جائے تو جسمانی صحت کے لیے مضر ہوتا ہے اور اللہ کا نام لینے کا حکم کھانے میں برکت اور روحانی تربیت کے لیے دیا گیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ خ ذبح پر مشرکوں کا اعتراض اور مردار کھالینا : کافروں کا دستور یہ تھا کہ وہ مرا ہوا جانور تو کھالیتے ہیں لیکن خود اپنے ہاتھوں سے ذبح کر کے نہیں کھاتے تھے۔ مرے ہوئے کے متعلق وہ یہ سمجھتے تھے کہ چونکہ اسے اللہ نے مارا ہے لہذا اس کا کھانا جائز ہے اور خود ذبح کرنے کو کسی جانور کا خون کرنے کے مترادف سمجھتے تھے خواہ اس پر اللہ کا نام ہی لیا جائے۔ اسی بنا پر یہود نے ان کو مسلمانوں کے خلاف اکسایا تھا حالانکہ یہود تو اصل حقیقت سے واقف تھے۔ مگر اسلام دشمنی نے ان دونوں کو ہم نوا بنادیا تھا۔ یہود کے اس پروپیگنڈے کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کی گمراہ کن چال سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جس جانور پر اللہ کا نام لیا جائے یعنی حلال طریقہ پر ذبح کیا جائے۔ اس کے کھانے میں تمہیں کسی قسم کا تامل نہ ہونا چاہیے اور ان لوگوں کے اس پروپیگنڈہ کا کچھ اثر قبول نہ کرنا چاہیے اس لیے کہ جو اشیاء فی الواقع حرام ہیں ان کے متعلق احکام تمہیں پہلے بتلائے جا چکے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ ۔۔ : یعنی وہ حلال جانور جسے ذبح یا شکار کرتے وقت اللہ کا نام یعنی ” بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ “ لیا جائے اسے کھاؤ، اگر تم اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہو، یعنی صرف ایسا ذبیحہ کھانا ایمان کا تقاضا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Linkage of Verses Earlier (116), by saying: وَ اِن تطِع (And if you obey), following people in error was prohibited absolutely. Onward from there, comes the prohi¬bition of such following in a particular matter as necessitated by an event. That event pertains to the lawfulness of what has been slaugh¬tered properly or improperly. The event is that disbelievers tried to put Muslims in doubt by commenting that they did not eat of the animals killed by Allah (i.e. by natural death) while they had no problem with eating of what they killed (slaughtered) themselves (as deduced by Abu Dawud and al-Hakim from Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) ). Some Muslims reported this doubt before the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) Thereupon, these verses ending at: لَمُشْرِ‌كُونَ (121) were revealed (narrated by Abu Dawud and Al Tirmidhi from Sayyidna Ibn ` Abbs as in Al-Lubab). The gist of the answer given is: You are Muslims. You observe the injunctions of Allah particularly - and Allah has told you all about the Halal and the Haram. So, keep abiding by it. Do not entertain any doubts about something Halal being حَرَام haram, and something حَرَام haram, being Halal. As for the scruples of disbelievers, just pay no attention to them. The substantiation of this answer is that rational proofs are re¬quired only to prove the basic principles of faith (like Oneness of Allah, the prophethood of His messengers etc.) but once these basic principles are established and admitted, rational arguments are no more re¬quired for establishing a subsidiary or consequential rule of the Shari&ah. What is required is to prove that this rule is based on a specific order given by Allah or His messenger. Once it is established that the rule is based on a specific injunction imposed by Allah Ta` ala or His messenger, it cannot be called in question on the basis of rational ar-guments. (because after admitting that the rule is prescribed by Allah Who is all-Wise, all-Powerful, it will always be based on wisdom which might be unknown to us.) Rather, it is sometimes harmful to mention rational wisdom for the rules of Shari&ah, because any wisdom given by one&s conjectures will always remain subject to doubts on the basis of counter arguments, and there is no way to find out a certain and ab¬solute wisdom for a subsidiary rule of Shari&ah. However, if it is evi¬dent that a person wants to know the wisdom behind a rule of Sha¬ri&ah only to seek truth and to satisfy himself, there is no harm in mentioning some possible reasons of a rule before him as a matter of additional knowledge. But in the event that the rational wisdom is asked only for the sake of confrontation, then the proper way for a Muslim should be to ignore such questions and to act according to the prescribed rules without paying attention to the critic. It is true that if a person wants to prove that a subsidiary rule of Shari&ah is repugnant to an absolute principle established by reason, the point raised by him may deserve answer, but the question raised by the mushriks in the present case was not of this nature in any way. Therefore, the Mus¬lims are directed to ignore such absurd questions and keep believing and acting as before. It is on the basis of the aforesaid principles that the question of Mushriks has not been answered in express terms; However, the expression used has given a subtle indication to the difference between a carrion and an animal slaughtered properly. The text gives permission to eat an animal on which Allah&s name is invoked (كُلُوا مِمَّا ذُكِرَ‌ اسْمُ اللَّـهِ عَلَيْهِ It is obvious that Allah&s name is invoked on an animal while slaughter¬ing it, therefore, it implies the condition of slaughtering an animal which drains out impure blood from the animal. On the other hand, it is forbidden to eat of an animal on which Allah&s name is not invoked وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ‌ اسْمُ اللَّـهِ عَلَيْهِ. Not invoking Allah&s name may happen in two different situations: (1) Not slaughtering an animal at all (2) slaugh¬tering an animal without invoking Allah&s name. Both these situations render the animal Harm according to this verse. Obviously, an ani¬mal which dies its natural death is covered under the first situation where its impure blood was not drained out and remaining in the body rendered it impure. That is why it has been held as Haram. Commentary The Qur&anic order of reciting the name of Allah implied; مَا ذُكِرَ‌ اسْمُ اللَّـهِ عَلَيْهِ (that upon which the name of Allah has been invoked) includes both kinds of slaughter termed in Islamic Fiqh as |"al-dhabh-al¬-ikhtiyariyy (slaughtering an animal under control) and |"al-dhabh-al¬-idtirariyy„ (hunting an animal out of control with an arrow or a hunt¬ing dog or falcon). The name of Allah shall be recited in the latter case when releasing the arrow or the dog or falcon. Similarly, the words |" مَّا ذُكِرَ‌ اسْمُ اللَّـهِ عَلَيْهِ |" include reciting actually or as implied. That is why Imam Abu Hanifah (رح) has allowed to eat an animal upon which the reciting of the name of Allah was missed inadvertently. However if it is missed deliberately, it will render the animal Haram.

ربط آیات اوپر وَاِن تَطِع کے الفاظ میں اہل اضلال کے اتباع سے مطلقاً منع فرمایا تھا آگے باقتضائے ایک واقعہ کے ایک خاص امر میں اتباع کرنے سے منع فرماتے ہیں، وہ خاص واقعہ مذبوح وغیر مذبوح کی حلت کا ہے، واقعہ یہ ہے کہ کفار نے مسلمانوں کو شبہ ڈالنا چاہا کہ اللہ کے مارے ہوئے جانور کو تو کھاتے نہیں ہو اور اپنے مارے ہوئے یعنی ذبیحہ کو کھاتے ہو، اخرجہ ابو داود والحکم عن ابن عباس (رض) ( بعض مسلمانوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں یہ شبہ نقل کیا، اس پر یہ آیتیں لَمُشرِکُونَ تک نازل ہوئیں، رواہ ابو داؤد والترمذی عن ابن عباس (رض) کذا فی اللباب۔ حاصل جواب یہ ہے کہ تم مسلمان ہو اللہ کے احکام کا التزام کئے ہوئے ہو، اور اللہ تعالیٰ نے حلال و حرام کی تفصیل بتلا دی ہے، پس اس پر چلتے رہو، حلال و حرام ہونے کا اور حرام پر حلال ہونے کا شبہ مت کرو، اور مشرکین کے وساوس کی طرف التفات نہ کرو۔ اور تحقیق اس جواب کی یہ ہے کہ اصول کے اثبات کے لئے دلائل عقلیہ درکار ہیں اور بعد ثابت ہوجانے اصول کے اعمال و فروع میں صرف دلائل نقلیہ کافی ہیں، عقلیات کی ضرورت نہیں، بلکہ بعض اوقات مضر ہے کہ اس سے شبہات کے دروازے کھلتے ہیں کیوں کہ روبرو واقناعیات و خطابیات کا تبرعاً پیش کردینا مضائقہ نہیں، لیکن جب یہ بھی نہ ہو بلکہ مجادلہ ہو تو اپنے کام میں لگنا چاہئے، اور معترض کی طرف التفات نہ کرنا چاہئے، ہاں اگر معترض کسی فرع کا عقلی قطعی دلیل کے مخالف ہونا ثابت کرنا چاہئے تو اس کا جواب بذمہ مدعی حق ہوگا، مگر مشرکین کے شبہ میں اس کا احتمال ہی نہیں، اس لئے اس جواب میں صرف مسلمانوں کو بقاعدہ مذکورہ بالا خطاب ہے، کہ ایسی خرافات پر نظر مت کرو، حق کے معتقد اور عامل رہو، اس بناء پر اس مقام میں مشرکین کے شبہ کا جواب صراحةً مذکور نہ ہونا محل شبہ نہیں ہوسکتا، مگر اس پر بھی اس کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے، جہاں کُلُوا میں ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ اور لَا تَاْكُلُوْا میں لَمْ يُذْكَرِاسْمُ اللّٰهِ مذکور ہے، اور یہ عادت سے اور دوسرے دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ ذبح کے وقت ہوگا اور لَمْ يُذْكَرِاسْمُ اللّٰهِ کے تحقیق کی دو صورتیں ہوں گی، عدم ذبح جو نجس خون کو نکال کر نجات سے پاک کردیتا ہے، اور وہ نجاست ہی سبب ممانعت تھی، دوسرے اللہ کا نام لینا کہ مفید برکت ہے جو کہ حیوانات دمویہ میں شرط حلت ہے، اور کسی چیز کے وجود کے لئے مانع کا دور کرنا شرط کا وجود دونوں امر ضروری ہیں، پس اس مجموعہ سے حلّت ثابت ہوگی۔ خلاصہ تفسیر (اور جب اوپر کفار کے اتباع کا مذموم ہونا معلوم ہوگیا) سو جس (حلال) جانور پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام (بلا شرکت) لیا جاوے اس میں سے (بےتکلّف) کھاؤ (اور اس کو مباح و حلال سمجھو) اگر تم اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہو (کیونکہ حلال و حرام جاننا بخلاف ایمان ہے) اور تم کو کون امر (از قبل عقیدہ) اس کا باعث ہوسکتا ہے کہ تم ایسے جانور میں سے نہ کھاؤ جس پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام (بلا شرکت) لیا گیا ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے (دوسری آیت میں) ان سب جانوروں کی تفصیل بتلا دی ہے، جن کو تم پر حرام کیا ہے، مگر وہ بھی جب تم کو سخت ضرورت پڑجاوے تو حلال ہیں (اور اس تفصیل میں یہ مذبوح علی اسم اللہ داخل نہیں پھر اس کے کھانے میں اعتقاداً کیوں انقباض ہو) اور ( ان لوگوں کے شبہات کی طرف اصلاً التفات نہ کرو کیونکہ) یہ یقینی بات ہے کہ بہت سے آدمی (کہ ان ہی میں سے یہ بھی ہیں اپنے ساتھ دوسروں کو بھی) اپنے غلط خیالات (کی بنا پر) بلا کسی سند کے گمراہ کرتے (پھرتے) ہیں (لیکن آخر کہاں تک خیر مناویں گے) اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ حد (ایمان) سے نکل جانے والوں کو (جن میں یہ بھی ہیں) خوب جانتا ہے (پس یکبارگی سزا دے گا) اور تم ظاہری گناہ کو بھی چھوڑو اور باطنی گناہ کو بھی چھوڑ دو (مثلاً حلال و حرام اعتقاد کرنا باطنی گناہ ہے جیسا کہ اس کا عکس بھی) بلا شبہ جو لوگ گناہ کر رہے ہیں ان کو ان کے کئے کی عنقریب (قیامت میں) سزا ملے گی اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر (بطریق مذکور) اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو (جیسا کہ مشرکین ایسے جانوروں کو کھاتے ہیں) اور (ان لوگوں کے شبہات اس لئے قابل التفات نہیں کہ) یقینا شیاطین (جن) اپنے (ان) دوستوں (اور پیرو وں) کو (یہ شبہات) تعلیم کر رہے ہیں تاکہ یہ تم سے (بیکار) جدال کریں (یعنی اول تو یہ شبہات نص کے خلاف، دوسرے غرض محض جدال اس لئے قابل التفات نہیں) اور اگر تم (خدانخواستہ) ان لوگوں کی اطاعت (عقائد یا افعال میں) کرنے لگو تو یقینا تم مشرک ہوجاؤ (کہ خدا کی تعلیم پر دوسرے کی تعلیم کو ترجیح دو جہاں برابر سمجھنا بھی شرک ہے، یعنی ان کی اطاعت ایسی بری چیز ہے اس لئے اس کے مقدمات یعنی التفات سے بھی بچنا چاہئے) ۔ معارف و مسائل مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ میں ذبح اختیاری اور ذبح اضطراری یعنی تیر و باز اور کتے کا شکار جب کہ اس کے چھوڑنے کے وقت بسم اللہ پڑھی جاوے، اور ذکر حقیقی و ذکر حکمی سب داخل ہے، پس امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ کے نزدیک جس پر بسم اللہ سہواً ترک کردی جائے وہ حکماً مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ میں داخل ہے، البتہ عمداً ترک کرنے سے امام صاحب کے نزدیک حرام ہوتا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللہِ عَلَيْہِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰيٰتِہٖ مُؤْمِنِيْنَ۝ ١١٨ أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔ اسْمُ والِاسْمُ : ما يعرف به ذات الشیء، وأصله سِمْوٌ ، بدلالة قولهم : أسماء وسُمَيٌّ ، وأصله من السُّمُوِّ وهو الذي به رفع ذکر الْمُسَمَّى فيعرف به، قال اللہ : بِسْمِ اللَّهِ [ الفاتحة/ 1] ، وقال : ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها [هود/ 41] ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ [ النمل/ 30] ، وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ [ البقرة/ 31] ، أي : لألفاظ والمعاني مفرداتها ومرکّباتها . وبیان ذلک أنّ الاسم يستعمل علی ضربین : أحدهما : بحسب الوضع الاصطلاحيّ ، وذلک هو في المخبر عنه نحو : رجل وفرس . والثاني : بحسب الوضع الأوّليّ. ويقال ذلک للأنواع الثلاثة المخبر عنه، والخبر عنه، والرّابط بينهما المسمّى بالحرف، وهذا هو المراد بالآية، لأنّ آدم عليه السلام کما علم الاسم علم الفعل، والحرف، ولا يعرف الإنسان الاسم فيكون عارفا لمسمّاه إذا عرض عليه المسمّى، إلا إذا عرف ذاته . ألا تری أنّا لو علمنا أَسَامِيَ أشياء بالهنديّة، أو بالرّوميّة، ولم نعرف صورة ما له تلک الأسماء لم نعرف الْمُسَمَّيَاتِ إذا شاهدناها بمعرفتنا الأسماء المجرّدة، بل کنّا عارفین بأصوات مجرّدة، فثبت أنّ معرفة الأسماء لا تحصل إلا بمعرفة المسمّى، و حصول صورته في الضّمير، فإذا المراد بقوله : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] ، الأنواع الثلاثة من الکلام وصور المسمّيات في ذواتها، وقوله : ما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْماءً سَمَّيْتُمُوها [يوسف/ 40] ، فمعناه أنّ الأسماء التي تذکرونها ليس لها مسمّيات، وإنما هي أسماء علی غير مسمّى إذ کان حقیقة ما يعتقدون في الأصنام بحسب تلک الأسماء غير موجود فيها، وقوله : وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ [ الرعد/ 33] ، فلیس المراد أن يذکروا أساميها نحو اللّات والعزّى، وإنما المعنی إظهار تحقیق ما تدعونه إلها، وأنه هل يوجد معاني تلک الأسماء فيها، ولهذا قال بعده : أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِما لا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ [ الرعد/ 33] ، وقوله : تَبارَكَ اسْمُ رَبِّكَ [ الرحمن/ 78] ، أي : البرکة والنّعمة الفائضة في صفاته إذا اعتبرت، وذلک نحو : الكريم والعلیم والباري، والرّحمن الرّحيم، وقال : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [ الأعلی/ 1] ، وَلِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الأعراف/ 180] ، وقوله : اسْمُهُ يَحْيى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا [ مریم/ 7] ، لَيُسَمُّونَ الْمَلائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثى [ النجم/ 27] ، أي : يقولون للملائكة بنات الله، وقوله : هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] أي : نظیرا له يستحقّ اسمه، وموصوفا يستحقّ صفته علی التّحقیق، ولیس المعنی هل تجد من يتسمّى باسمه إذ کان کثير من أسمائه قد يطلق علی غيره، لکن ليس معناه إذا استعمل فيه كما کان معناه إذا استعمل في غيره . الاسم کسی چیز کی علامت جس سے اسے پہچانا جائے ۔ یہ اصل میں سمو ہے کیونکہ اس کی جمع اسماء اور تصغیر سمی آتی ہے ۔ اور اسم کو اسم اس لئے کہتے ہیں کہ اس سے مسمیٰ کا ذکر بلند ہوتا ہے اور اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها [هود/ 41] اور ( نوح (علیہ السلام) نے ) کہا کہ خدا کا نام لے کر ( کہ اس کے ہاتھ میں ) اس کا چلنا ( ہے ) سوار ہوجاؤ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ [ النمل/ 30] وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے ) کہ شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے ۔ اور آیت : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ [ البقرة/ 31] اور اس آدم کو سب ( چیزوں کے ) نام سکھائے ۔ میں اسماء سے یہاں الفاظ و معانی دونوں مراد ہیں ۔ خواہ مفردہوں خواہ مرکب اس اجمال کی تفصیل یہ ہے ۔ کہ لفظ اسم دو طرح استعمال ہوتا ہے ۔ ایک اصطلاحی معنی میں اور اس صورت میں ہمیشہ مخبر عنہ بنتا ہے ۔ جیسے رجل وفرس دوم وضع اول کے لحاظ سے اس اعتبار سے ( کلمہ کی ) انواع ثلاثہ یعنی مخبر عنہ ( اسم ) خبر اور رابطہ ( حرف ) تینوں پر اس معنی مراد ہیں ۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) نے جس طرح اسماء کی تعلیم حاصل کی تھی ۔ اسی طرح افعال وحروف کا علم بھی نہیں حاصل ہوگیا تھا اور یہ ظاہر ہے کہ جب تک کسی چیز کی ذات کا علم حاصل نہ ہو محض نام کے جاننے سے انسان اسے دیکھ کر پہچان نہیں سکتا ہے مثلا اگر ہم ہندی یا رومی زبان میں چند چیزوں کے نام حفظ کرلیں تو ان چیزوں کے اسماء کے جاننے سے ہم ان کے مسمیات کو نہیں پہچان سکیں گے ۔ بلکہ ہمار علم انہیں چند اصوات تک محدود رہے گا اس سے ثابت ہوا کہ اسماء کی معرفت مسمیات کی معرفت کو مستلزم نہیں ہے اور نہ ہی محض اسم سے مسمی ٰ کی صورت ذہن میں حاصل ہوسکتی ہے ۔ لہذا آیت : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] میں اسماء سے کلام کی انواع ثلاثہ اور صورۃ مسمیات بمع ان کی ذوات کے مراد ہیں اور آیت ما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْماءً سَمَّيْتُمُوها [يوسف/ 40] جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے رکھ لئے ہیں ۔ کے معنی یہ ہیں ک جن اسماء کی تم پرستش کرتے ہو ان کے مسمیات نہیں ہیں ۔ کیونکہ و اصنام ان اوصاف سے عاری تھے ۔ جن کا کہ وہ ان اسماء کے اعتبار سے ان کے متعلق اعتقاد رکھتے تھے ۔ اور آیت : وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ [ الرعد/ 33] اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کر رکھے ہیں ۔ ان سے کہو کہ ( ذرا ) انکے نام تولو ۔ میں سموھم سے یہ مراد نہیں ہے کہ لات ، عزی وغیرہ ان کے نام بیان کرو بلکہ آیت کے معنی پر ہیں کہ جن کو تم الاۃ ( معبود ) کہتے ہو ان کے متعلق تحقیق کرکے یہ تو بتاؤ کہ آیا ان میں ان اسماء کے معانی بھی پائے جاتے ہیں ۔ جن کے ساتھ تم انہیں موسوم کرتے ہو ( یعنی نہیں ) اسی لئے اس کے بعد فرمایا أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِما لا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ [ الرعد/ 33] ( کہ ) کیا تم اسے ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں ( کہیں بھی ) معلوم نہیں کرتا یا ( محض ) ظاہری ( باطل اور جھوٹی ) بات کی ( تقلید کرتے ہو ۔ ) اور آیت : تَبارَكَ اسْمُ رَبِّكَ [ الرحمن/ 78] تمہارے پروردگار ۔۔ کا نام برا بابر کت ہے ۔ میں اسم رب کے بابرکت ہونے کے معنی یہ ہیں ک اس کی صفات ۔ الکریم ۔ العلیم ۔ الباری ۔ الرحمن الرحیم کے ذکر میں برکت اور نعمت پائی جاتی ہے جیسا ک دوسری جگہ فرمایا : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [ الأعلی/ 1] ( اے پیغمبر ) اپنے پروردگار جلیل الشان کے نام کی تسبیح کرو ۔ وَلِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الأعراف/ 180] اور خدا کے نام سب اچھے ہی اچھے ہیں ۔ اور آیت : اسْمُهُ يَحْيى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا[ مریم/ 7] اسمہ یحیٰ لم نجعل لہ من قبل سمیا َ (719) جس کا نام یحیٰ ہے ۔ اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخص پیدا نہیں کیا ۔ میں سمیا کے معنی ہم نام ، ، کے ہیں اور آیت :۔ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا[ مریم/ 65] بھلا تم اس کا کوئی ہم نام جانتے ہو ۔ میں سمیا کے معنی نظیر کے ہیں یعنی کیا اس کی کوئی نظیر ہے جو اس نام کی مستحق ہوا اور حقیقتا اللہ کی صفات کے ساتھ متصف ہو اور اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ کیا تم کسی بھی پاتے ہو جو اس کے نام سے موسوم ہوکیون کہ ایسے تو اللہ تعالیٰ کے بہت سے اسماء ہیں جن کا غیر اللہ پر بھی اطلاق ہوسکتا ہے یا ہوتا ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ ان سے معافی بھی وہی مراد ہوں جو اللہ تعالیٰ پر اطلاق کے وقت ہوتے ہیں ۔ اور آیت : لَيُسَمُّونَ الْمَلائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثى[ النجم/ 27] اور وہ فرشتوں کو ( خدا کی ) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ میں لڑکیوں کے نام سے موسوم کرنے کے معنی یہ ہیں ۔ کہ وہ فرشتوں کو بنات اللہ کہتے ہیں ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

احکام ذبیحہ قول باری ہے ۔ فکلوا مما ذکراسم اللہ علیہ ان کنتم بایاتہ مومنین پھر اگر تم لوگ اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اس کا گوشت کھائو) آیت کا ظاہر تو امر کی صورت میں ہے لیکن اس کے معنی اباحت کے ہیں۔ جس طرح یہ قول باری ہے (واذا حللتم فاصطادوا جب تم احرام کھول دو تو پھر شکار کرو) یا ( فاذا اقضیت الصلوٰۃ فاتتشروا فی الارض جب جمعہ کی نماز پڑھ لی جائے تو پھر زمین میں بکھر جائو) آیت زیر بحث میں امر کے صیغے سے اباحت اس وقت مراد ہوگی جب تلذذ اور لطف اندوزی کی خاطر گوشت خوری مقصود ہو۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ اگر کوئی شخص گوشت خوری سے اللہ کی اطاعت میں مدد حاصل کرے تو اسے اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ اس سلسلے میں اسے اللہ کی طرف سے اجازت کی صحت پر یقین رکھنا چاہیے اس صورت میں اس کی یہ گوشت خوری اجر کا باعث بنے گی۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ ( ان کنتم بایاتہ مومنین) ایسے جانور کے گوشت کی ممانعت پر دلالت کرتا ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس لیے کہ یہ فقرہ اس قسم کی گوشت خوری میں مشرکین کے خلاف چلنے کا مقتضی ہے۔ قول باری ( مما ذکر اسم اللہ علیہ) تمام اذکار کے لیے عموم ہے یعنی اس میں اللہ کے نام لینے کی تمام صورتیں آ جاتی ہیں۔ اگر غاصب غصب شدہ بکری کو ذبح کر دے یا کوئی شخص عصب شدہ چھری کے ذریعے کوئی جانور حلال کر دے تو اس قسم کے ذبیحہ کا گوشت کھا لینے کے جواب پر اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے اس لیے کہ حکم الٰہی ہے ( فکلوا مما ذکرا اسم اللہ علیہ ) اس بناء پر بکری کے مالک کو اس کا گوشت کھا لینا جائز ہے کیونکہ اس پر ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١٨۔ ١١٩۔ ١٢٠۔ ١٢١) حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام جانوروں کی تفصیل بتلادی جن کو تم پر حرام کیا ہے جیسا کہ مردار خون اور سور کا گوشت وغیرہ مگر مردار کھانے کی بھی جب تمہیں سخت ضرورت پڑجائے تو یہ مشروط طور پر حلال ہے۔ اور ابوالاحوص اور اس کے ساتھی بغیر علم اور حجت کے لوگوں کو مردار کھانے کی دعوت دیتی ہیں تم ظاہری زنا اور اجنبیہ کے ساتھ خلوت کو بھی چھوڑ دو کیوں کہ زانیوں کو دنیا میں کوڑے اور آخرت میں ان کو عذاب ملے گا۔ جن جانوروں پر جان بوجھ کر اللہ کا نام نہ لیاجائے ان کو بغیر سخت حاجت کے کھانا گناہ کا باعث ہے اور ایسے جانوروں کو حلال سمجھنا تو صریح کفر ہے۔ اور شیاطین اپنے یاروں ابوالاحوص اور اس کے ساتھیوں کو یہ شبہات تعلیم کررہے ہیں تاکہ وہاکل میتہ (مردارکھانے) اور امور شرک وغیرہ شرک وغیرہ میں بھی تم سے جھگڑا کریں، سو اگر تم نے شرک اور میتہ کو غیر اضطراری حال میں حلال سمجھ لیا تو یقیناً تم بھی مشرک ہوجاؤ گے۔ شان نزول : (آیت) ” فکلو مما ذکر سم اللہ “۔ (الخ) امام ابوداؤد (رح) ، ترمذی (رح) نے ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ کچھ لوگ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا ہم ان جانوروں کو کھالیں جن کو کھالیں جن کو ہم خود ذبح کرتے ہیں اور ان کو نہ کھائیں جن کو اللہ تعالیٰ مار ڈالتا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ شان نزول : (آیت) ” ولا تاکلوا ممالم یذکر سم اللہ علیہ “۔ (الخ) امام طبرانی (رح) وغیرہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو فارس والوں نے قریش کے پاس کہلا بھیجا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مباحثہ کرو اور کہو کہ جس جانور کو تم چھری سے ذبح کرو وہ تو حلال ہے ؟ اور جس کو اللہ تعالیٰ سونے کے چاقو سے ذبح کرے یعنی مردار وہ حرام ہے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ شان نزول : (آیت) ” وان الشیاطین لیوحون “۔ (الخ) ابوداؤد (رح) اور حاکم (رح) نے ابن عباس (رض) سے یہ روایت کیا ہے کہ شیاطین یہ وسوسہ پیدا کرتے تھے کہ جو اللہ تعالیٰ ذبح کردے، تم اسے نہیں کھاتے اور جو تم خود ذبح کرو اس کو کھالیتے ہو، تب یہ آیت نازل ہوئی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١٨ (فَکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ بِاٰیٰتِہٖ مُؤْمِنِیْنَ ) ۔ یہاں کھانے پینے کی چیزوں کی حلت و حرمت کے بارے میں مشرکین عرب کے جاہلانہ نظریات اور توہمات کا رد کیا گیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

84. Many nations have imposed on themselves superfluous religious taboos, which include a variety of dietary restrictions. On the one hand, they have declared lawful many of the things which God has forbidden. On the other, there are many things which God has made lawful but which some people have forbidden to themselves. Some people have even gone so far as to consider eating animals slaughtered in the name of God as unlawful, while those slaughtered with no mention of God's name may be eaten. God repudiates this and urges the Muslims - if they really believe in Him and obey His injunctions - to smash the superstitious and prejudiced notions contrived by human beings in disregard of God's revealed guidance, and to recognize as unlawful all that God has declared to be unlawful, and as lawful all that God has declared to be lawful.

سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :84 من جملہ ان غلط طریقوں کے جو اکثر اہل زمین نے بطور خود قیاس و گمان سے تجویز کر لیے اور جنھیں مذہبی حدود و قیود کی حیثیت حاصل ہو گئی ، ایک وہ پابندیاں بھی ہیں جو کھانے پینے کی چیزوں میں مختلف قوموں کے درمیان پائی جاتی ہیں ۔ بعض چیزوں کو لوگوں نے آپ ہی آپ حلال قرار دے لیا ہے حالانکہ اللہ کی نظر میں وہ حرام ہیں ۔ اور بعض چیزوں کو انھوں نے خود حرام ٹھیرا لیا ہے حالانکہ اللہ نے انہیں حلال کیا ہے ۔ خصوصیت کے ساتھ سب سے زیادہ جاہلانہ بات جس پر پہلے بھی بعض گروہ مصر تھے اور آج بھی دنیا کے بعض گروہ مصر ہیں ، وہ یہ ہے کہ اللہ کا نام لے کر جو جانور ذبح کیا جائے وہ تو ان کے نزدیک ناجائز ہے اور اللہ کے نام کے بغیر جسے ذبح کیا جائے وہ بالکل جائز ہے ۔ اسی کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ یہاں مسلمانوں سے فرما رہا ہے کہ اگر تم حقیقت میں اللہ پر ایمان لائے ہو اور اس کے احکام کو مانتے ہو تو ان تمام اوہام اور تعصبات کو چھوڑ دو جو کفار و مشرکین میں پائے جاتے ہیں ، ان سب پابندیوں کو توڑ دو جو خدا کی ہدایت سے بے نیاز ہو کر لوگوں نے خود عائد کر رکھی ہیں ، حرام صرف اسی چیز کو سمجھو جسے خدا نے حرام کیا ہے اور حلال اسی کو ٹھیراؤ جس کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

52: پیچھے ان لوگوں کا ذکر تھا جو محض خیالی اندازوں پر اپنے دین کی بنیاد رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی اس گمراہی کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ جس چیز کو اﷲ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے اس کو یہ حرام کہتے ہیں، اور جس چیز کو اﷲ تعالیٰ نے حرام کہا ہے اسے حلال سمجھتے ہیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ کچھ کافروں نے مسلمانوں پر یہ اعتراض کیا کہ جس جانور کو اﷲ تعالیٰ قتل کرے، یعنی وہ اپنی طبعی موت مرجائے اس کو تو تم مردار قرار دے کر حرام سمجھتے ہو، اور جس جانور کو تم خو داپنے ہاتھوں سے قتل کرتے ہو، اس کو حلال قرار دیتے ہو۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حلال وحرام کا فیصلہ درحقیقت اﷲ تعالیٰ کے قبضے میں ہے۔ اس نے واضح فرمادیا ہے کہ جس جانور پر اللہ کا نام لے کر اسے ذبح کیا جائے وہ حلال ہوتا ہے، اور جو ذبح کئے بغیر مرجائے یا جسے ذبح کرتے وقت اﷲ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو، وہ حرام ہوتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے فیصلے کے بعد اپنے من گھڑت خیالات کی بنا پر حلال وحرام کا فیصلہ کرنا ایسے شخص کا کام نہیں جو اﷲ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان رکھتا ہو۔ یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ کفار کے مذکورہ اعتراض کے جواب میں یہ مصلحت بھی بتائی جاسکتی تھی کہ جانور کو باقاعدہ ذبح کیا جاتا ہے اس کا خون اچھی طرح بہہ جاتا ہے، اس کے برخلاف جو جانور خو دمرجاتا ہے اس کا خون جسم ہی میں رہ جاتا ہے جس سے پورا گوشت خراب ہوجاتا ہے، لیکن اﷲ تعالیٰ نے یہ حکمت بیان فرمانے کے بجائے یہ کہنے پر اکتفا فرمایا کہ جو چیزیں حرام ہیں وہ اللہ نے خود بیان فرمادی ہیں، لہٰذا اس کے احکام کے مقابلے میں خیالی گھوڑے دوڑانا مؤمن کا کام نہیں۔ اس طرح یہ واضح فرمادیا کہ اگرچہ اﷲ تعالیٰ کے ہر حکم میں یقینا مصلحتیں ہوتی ہیں، لیکن مسلمان کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ اپنی اطاعت کو ان مصلحتوں کے سمجھنے پر موقوف رکھے۔ اس کا فریضہ یہ ہے کہ جب اﷲ تعالیٰ کا کوئی حکم آجائے تو بے چون وچرا اس کی تعمیل کرے، چاہے اس کی مصلحت اس کی سمجھ میں آرہی ہو یا نہ آرہی ہو۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(118 ۔ 121) ۔ یہاں سے آخر رکوع تک کی آیتوں کی جو کچھ شان نزول ترمذی اور داؤد مستدرک حاکم طبرانی ابن ماجہ مسند بزار تفسیر ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اور عکرمہ کے قول کے موافق بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش اور فارس کے لوگوں میں دوستی تھی اس دوستی کے سبب سے فارس کے مجوس نے قریش سے یہ کہلا بھیجا کہ تم ان نبی پر یہ اعتراض کرو کہ اپنا ذبح کیا ہوا جانور کھانا اور خدا کا مارا ہوا جانور نہ کھانا یہ کونسا دین ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں قریش کا جواب جو ان آیتوں میں ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ذبح شدہ جانور پر اللہ کا نام لیا جاتا ہے اس واسطے وہ پاک اور حلال ہے بتوں کے نام پر جو جانور ذبح کیا جاوے یا جو جانور اپنی موت سے مرجاوے بہ سبب اس کے کہہ اللہ کا نام اس پر نہیں لیا گیا وہ حرام اور نجس ہے ان آیتوں میں شیطان مجوس کو فرمایا اور شیطان کے دوست قریش کو فرمایا قریش کی جگہ بعض روایتوں میں یہود کا نام جو بعض مفسروں نے ذکر کیا ہے وہ شاید کسی راوی کے سہو سے ہے کیونکہ اول تو یہود مردار جانوں کے حلال ہونے کے قائل نہیں جو ان کو اس جھگڑے کی ضرورت ہو دوسرے یہ آیتیں مکی ہیں اور یہود سے اور آنحضرت سے جھگڑا آنحضرت کے مدینہ میں آنے کے بعد پیدا ہوا ہے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی بعض روایتوں میں اصل شیاطین کا ذکر جو کیا گیا ہے ٣ ؎ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل شیاطین نے مجوس کو بہکایا اور مجوس نے قریش کو بہکایا اس صورت میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اور ان کے شاگرد عکرمہ کے قول میں کوئی اختلاف باقی نہیں رہتا بعضے مفسروں نے آیت ولا تاکلوا ممالم یذکر اسم اللہ کو آیت وطعام الذین اوتوالکتاب حل لکم (٥۔ ٥) سے منسوخ جو قرار دیا ہے اس کا فیصلہ حافظ ابوجعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں کردیا ہے کہ کوئی آیت ان میں منسوخ نہیں ہے بلکہ پہلی آیت کے عام حکم میں سے مستثنے کے طور پر اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے ذبح کئے ہوئے جانوروں کو مسلمانوں کے لیے حلال فرما دیا ہے اہل کتاب کے ذبح کئے ہوئے جانوروں کا ذکر مفصل سورة بقرہ اور سورة مائدہ میں گذر چکا ہے۔ ان آیتوں میں یہ جو فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حرام چیزوں کو تفصیل وار پہلے بیان کردیا ہے جمہور مفسرین کا یہ قول ہے کہ اس تفصیل سے وہ تفصیل مقصود ہے جو اللہ تعالیٰ نے سورة مائدہ کی آیت حرمت علیکم المیتتہ (٥۔ ٣) میں فرمائی ہے مگر امام فخر الدین رازی نے اس قول پر یہ اعتراض کیا ہے کہ سورة مائدہ سورتوں سے آخر میں اتری ہے یہ تفصیل تو ایسی کسی آیت میں چاہے جو سورة انعام سے پہلے اتری ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ وہ تفصیل پہلے گذر چکی جو اب اس اعتراض کا علمائے مفسرین نے یہ دیا ہے کہ جب ترتیب قرآن میں سورة مائدہ سورة انعام سے پہلے ہے تو سورة انعام میں خدا تعالیٰ کا یہ حوالہ دینا کہ حرام چیزوں کی تفصیل سورة مائدہ میں گذر چکی ہے وہ حوالہ ترتیب کے موافق ہے کیونکہ صحیح روایتوں سے ثابت ہوا ہے کہ یہ ترتیب وہی ترتیب ہے جو ترتیب صحابہ نے آنحضرت سے سنی ہے اور اسی ترتیب کے موافق آنحضرت ہر سال حضرت جبرئیل کو قرآن سنایا کرتے تھے اور حضرت جبرئیل لوح محفوظ کی ترتیب کے موافق آنحضرت سے قرآن سنا کرتے تھے غرض جب لوح محفوظ کی ترتیب میں سورة مائدہ سورة انعام سے مقدم ہے تو فقط نزول کے خیال سے کوئی اعتراض کا موقع نہیں ہے ہاں ناسخ منسوخ میں نزول کا مقدم موخر ہونا معتبر ہے ناسخ منسوخ کی یہاں بحث نہیں ہے اگرچہ ترمذی نے اس شان نزول کی روایت کو حسن غریب کہا ہے لیکن اس روایت کی گئی سندیں ہیں جس کے سبب سے ایک سند کو دوسری سند سے تقویت ہوجاتی ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ حرام حلال کی تفصیل جب سورة مائدہ میں معلوم ہوچکی ہے تو پھر ہر ایمان دار آدمی کا چاہئے کہ اس کی پابندی کرے اور مردار کھانے والے لوگ جو حد شرع کے خود بھی پابند نہیں ہیں اور دوسروں کو بھی بہکانا چاہتے ہیں ان کی پیروی سے بچے کیونکہ ایسے لوگوں کا حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے وقت مقررہ پر علم الٰہی کے موافق وہ لوگ اپنی اعمال کی سزا بھگتیں گے پھر فرمایا کچھ حرام حلال جانوروں پر ان لوگوں کا حد سے بڑھ جانا منحصر نہیں ہے بلکہ سوا شرک کے ان لوگوں میں کھلی اور چھپی اور باتیں بھی حد سے بڑھ جانے کی ہیں مثلا کھلم کھلا طواف کے وقت ننگے ہوجانے کو اور چھپ کر بدکاری کرنے کو یہ لوگ کچھ گناہ نہیں سمجھتے اس لئے ہر ایمان دار کو چاہئے کہ ان مشرکوں کے کھلے اور چھپے اور گناہوں سے بھی پرہیز کرے تاکہ قیامت کے دن ان کی طرح ان گناہوں کی سزا مسلمان شخص کو نہ بھگتنی پڑے۔ پھر فرمایا جس جانور پر ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا جاوے ہر ایمان دار کو چاہئے کہ ایسے جانور کا گوشت نہ کھاوے کیونکہ ایسے جانور کا گوشت کھانا گناہ ہے۔ پھر فرمایا جو کوئی اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو نہ مانے گا اور بہکانے والوں کے بہکاوے میں آن کر مردار جانور کا گوشت حلال کے طور پر کھانے میں ان مشرکوں کا شریک حال بن کہنا مانا۔ یہ ذکر مردار جانور کے حلال کے طور پر بغیر لاچاری کی حالت کے کھانے کا ہے لاچاری کی حالت میں حکم سورة بقر اور سورة مائدہ میں گذر چکا ہے اس لیے ان آیتوں میں لاچاری کی حالت کو الا ما اضطررتم الیہ فرما کر مسثنیٰ کردیا امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے عالم یذکر اسم اللہ علیہ کی تفسیر مردار جانور کی فرمائی ہے آیت کی شان نزول کی روایت جو اوپر گذری اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مردار جانور کے جھگڑے پر یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں اس واسطے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی یہ تفسیر شان نزول کے موافق اور نہایت صحیح ہے۔ بعضے مفسروں نے مسلمانوں کے ذبح کئے ہوئے ان جانوروں کو بھی آیت کی تفسیر ٹھہرایا ہے جن جانوروں کے ذبح کے وقت عمدا یا سہوا بسم اللہ اللہ اکبر نہ کہا ہو مگر حافظ ابوجعفر ابن جریر نے اس تفسیر کی صحیح نہیں قراردیا۔ مسلمان شخص کا ذبح کے وقت بسم اللہ اللہ اکبر کا کہنا فرض ہے یا سنت اس میں سلف کا اختلاف ہے جس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں ہے۔ صحیح بخاری نسائی اور ابن ماجہ میں حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بعضے نو مسلم لوگوں نے کچھ گوشت تحفہ کے طور کا صحابہ کے پاس بھیجا ان صحابہ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ ذکر کیا کہ ان نو مسلم لوگوں کی حالت سے ہم کو شبہ پڑتا ہے کہ انہوں نے ذبح کیوقت اللہ کا نام لیا یا نہیں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس گوشت کے کھاتے وقت تم بسم اللہ کہہ کر اس کو کھاؤ۔ اب اس میں تو سب علماء متفق ہیں کہ کھانے کے وقت بسم اللہ کا کہنا اس کے متعلق اس تقریر کو پیش کر کے بعضے علماء نے ذبح کے وقت بسم اللہ کے سنت ہونے کے مذہب کو ترجیح دی ہے

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 اور جو اپنی موت مرے یا اسے ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہ لیا جائے مت کھاؤ وہ مردار اور حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ لازمی تقاضا ہے (کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 118 تا 121 : الا تاکلوا ( یہ کہ تم کیوں نہیں کھاتے ؟ ) ذکراسم اللہ ( اللہ کا نام لیا گیا ہے) اضطررتم ( تم مجبور ہو جائو۔ مجبور کردیئے گئے) ‘ المعتدین (زیادتی کرنے والے) ذروا ( چھوڑ دو ) ظاھرالاثم ( ظاہری گناہ۔ کھلا ہوا گناہض سیجزون ( جلدہی بدلہ دیئے جائیں گے) فسق (گناہ) لیجادلو (تاکہ وہ جھگڑا کریں) تشریح : آیت نمبر 118 تا 121 : حضرت عبد اللہ (رض) بن عباس (رض) کی روایت ہے کہ عرب کے جہلا کو اسلام کے خلاف بھڑکانے کے لئے علمائے یہود جس قسم کے سوالات سکھایا کرتے تھے ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ واہ واہ یہ کیا بات ہے جس جانور کو اللہ ماردے وہ تو حرام ہوجائے اور جس جانور کو انسان ذبح کر دے وہ حلال ہوجائے۔ بعض صحابہ کرام (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے یہ شبہ عرض کیا جس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سخت تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ان لوگوں کی باتوں کا نوٹس نہ لیجئے جو علم و عقل نہیں رکھتے ‘ محض نفسانی خواہشات کے پیچھے خود بھی بہک رہے ہیں اور اہل ایمان کو بھی بہکانے کی کوشش کررہے ہیں آپ کا رب ان حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے۔ یہ جو مومنوں سے فرمایا ہے کہ تم ظاہری گناہ اور باطنی گناہ دونوں سے بچنے کی کوشش کرو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس قسم کے ہتھکنڈوں میں آکر کیں تم خود ہی مرتد نہ ہوجانا یا خلوص قلب کو مجروح نہ کرلینا۔ فرمایا ہے کہ ان لوگوں کا ‘ ان شیاطین جن و انس کا ہتھکنڈا یی ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں جو مومن بن چکے ہیں یا مومن بننے والے ہیں وسوسے ڈالیں اور شکوک و شبہات پیدا کریں تاکہ وہ انہیں بحث میں الجھا کر ان کی راہ کھوٹی کردیں۔ سخت تنبیہ کے ساتھ فرمایا ہے کہ جو اہل ایمان ان مشرکوں کے دام فریب میں آگئے ان کا شمار مشرکوں ہی میں ہوگا۔ بات صاف صاف ہے۔ جو حکم قرآن و حدیث (وحی جلی یا وحی خفی) میں آگیا وہ اٹل ہے ‘ وہ واجب العمیل ہے ‘ اس کی اطاعت جنت ہے ‘ عدم اطاعت جہنم ہے۔ حلال و حرام گوشت کا حکم اس سے پہلے سورة مائدہ میں بھی آچکا ہے۔ حرام کے حلال ہونے پر حالت اضطرار میں جو چھوٹ دی گئی ہے اس کا ذکر بھی سورة مائدہ میں آچکا ہے۔ اس کے بعد کسی کو اس مسئلہ پر عقل کے گھوڑے دوڑانے کی اجازت نہیں ہے۔ ایمان یقین کامل کا نام ہے خواہ کسی کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ ہاں اگر یقین کامل کے ساتھ جستجوئے حق ہے ‘ تو ان کے اس سوال کی طرف توجہ کی جائے گی مگر یہ ضروری نہیں ہے۔ حرام میں وہ جانور شامل ہے جو ذبح کے بغیر قتل کیا گیا ہو یا جس کے ذبح پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو (یعنی مسنونہ کلمات نہ پڑھے گئے ہوں) ذبح کا تعلق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل کے واقعہ قربانی سے ہے۔ مسنونہ کلمات کے ذریعہ ذبح کرنے والا اللہ سے معاہدہ کرتا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں اپنی اور اپنے اہل و عیال کی جان پیش کرنے سے بھی دریغ نہ کرے گا اور یہ جانور کی قربانی بطور نشانی ہے۔ مسنونہ کلمات کا جان بوجھ کر نہ پڑھنا گویا یہ معاہدہ نہ کرنا ہے۔ بغیر معاہدہ یہ گوشت حرام ہے امام ابوحنیفہ اور امام شافعی (رح) کے نزدیک اگر مسنونہ کلمات (بسم اللہ الرحمن الرحیم) یا اللہ اکبر سہواً چھوٹ جائیں تو ذبیحہ حلال ہے۔ اگر جان بوجھ کر چھوڑ دیا جائے تو حرام ہے۔ ( شرط یہ ہے کہ ذبح کرنے والا مسلمان ہو) اسلام ظاہر اور باطن دونوں پر زور دیتا ہے ۔ صرف ظاہر یا صرف باطن دونوں غلط البتہ جہاں انسانی آنکھیں باطن کو نہیں دیکھ سکتی ہیں تو ظاہر کافی ہے۔ باطن کا معاملہ اللہ جانتا ہے یہاں قربانی پر ظاہراً کلمات مسنونہ پڑھنا کافی ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ اوپر وان تطع۔ میں اہل ضلال کے اتباع سے مطلقا منع فرمایا تھا اب باقتضا ایک واقعہ کے ایک خاص امر میں اتباع کرنے سے منع فرماتے ہیں وہ خاص امرمذبوح وغیر مذبوح کی حلت و حرمت ہے اور وہ واقعہ یہ ہے کہ کفار نے مسلمانوں کو یہ شبہ ڈالنا چاہا کہ اللہ کے مارے ہوئے جانور کو تو کھاتے نہیں اور اپنے مارے ہوئے یعنی ذبیحہ کو کھاتے ہو بعض مسلمانوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں یہ شبہ نقل کیا اس پر یہ آیتیں لمشرکون تک نازل ہوئیں۔ 4۔ کیونکہ حلال کو حرام جاننا خلاف ایمان ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح گمراہ اکثریت کی اتباع جائز نہیں اسی طرح اس جانور کو بھی کھاناجائز نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ بیشک حرام کھانے والوں کی اکثریت ہی کیوں نہ ہوں۔ سرزمین حجاز اور مکہ میں ایسے قبائل بھی تھے جو جانور ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لینا مناسب نہیں سمجھتے تھے جس طرح کہ سکھ مذہب کے لوگ جانور حلال کرتے ہوئے اس کا جھٹکا کرتے ہیں پھر کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو مردہ جانور کھاتے تھے جب انھیں اس سے روکا جاتا تو وہ کہتے کہ مسلمانوں کی عجب حالت ہے کہ اللہ کے مارے ہوئے کو نہیں کھاتے لیکن اپنے ہاتھ سے مارے ہوئے کو کھالیتے ہیں۔ اس پر یہ فرمان نازل ہوا کہ مسلمانو ! تمہارے ایمان کا تقاضا ہے کہ صرف وہی ذبیحہ کھاؤ جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو، پھر ان لوگوں کو مخاطب کیا کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کا حلال کردہ ذبیحہ نہیں کھاتے جس کو ذبح کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا مبارک نام لیا گیا ہے۔ حرام کھانا تمہارے لیے اس وقت ہی جائز ہوگا جب تمہیں حلال چیز میسر نہ ہو اور تم اسے کھانے کے لیے بےحد اضطرار کی حالت میں ہو۔ اس حکم کی وضاحت کرتے ہوئے فقہاء نے لکھا ہے کہ حرام کھانا اس وقت جائز ہوگا جب آدمی کو یقین ہو کہ واقعی مجھے اس وقت حلال میسّر نہیں ہوسکتا۔ اگر میں کچھ نہ کھاؤں گا تو میری موت واقع ہوجائے گی ایسا شخص اپنے آپ کو مضطر تصور کرتے ہوئے اتنا ہی حرام کھا سکتا ہے جس سے اس کی زندگی بچ سکے۔ اس فرمان سے پہلے گمراہ قسم کی اکثریت کی اتباع سے روکا گیا ہے اب حرام خوری سے منع کرنے کے لیے پھر گمراہ اکثریت کی اتباع سے روکا گیا ہے کیونکہ لوگوں کی اکثریت کا عالم یہ ہے کہ وہ کسی علمی بنیاد کے بغیر محض اپنے تصورات کی بناء پر حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دیتے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے حلال و حرام میں تجاوز کرنے والوں کو اللہ خوب جانتا ہے۔ (عن عُمَر بن أَبِی سَلَمَۃَ (رض) یَقُولُ کُنْتُ غُلَامًا فِی حَجْرِ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَکَانَتْ یَدِی تَطِیشُ فِی الصَّحْفَۃِ فَقَالَ لِی رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَا غُلَامُ سَمِّ اللّٰہَ وَکُلْ بِیَمِینِکَ وَکُلْ مِمَّا یَلِیکَ فَمَا زَالَتْ تِلْکَ طِعْمَتِی بَعْدُ )[ رواہ البخاری : کتاب الأطعمۃ، باب التسمیۃ علی الأکل والأکل بالیمین ] ” عمر بن ابی سلمہ (رض) فرماتے ہیں میں بچپن میں رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا اور کھانا کھاتے وقت میرا ہاتھ پیالے میں اردگرد گھوم رہا تھا مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے بچے کھانا اللہ کے نام سے شروع کیا کرو دائیں ہاتھ اور اپنے آگے سے کھایا کرو۔ اس کے بعد ہمیشہ کے لیے میرا کھانے کا انداز یہی رہا۔ “ (عَنْ جَابِرٍ (رض) عَنْ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَا تَأْکُلُوا بالشِّمَالِ فَإِنَّ الشَّیْطَانَ یَأْکُلُ بالشِّمَالِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الأشربۃ باب اداب الطعام ] ” حضرت جابر (رض) رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم بائیں ہاتھ سے نہ کھایا کرو بلاشبہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ کا نام لے کر کھانے کی ابتدا کرنی چاہیے۔ ٢۔ جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح کرنا چاہیے۔ ٣۔ لوگوں کی اکثریت کے پاس شریعت کا علم نہیں ہوتا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ نے حلال و حرام کو واضح فرما دیا ہے۔ ٥۔ اپنی خواہشات کے بجائے شریعت پر عمل کرنا چاہیے۔ ٦۔ لوگوں کی جمہوریت گمراہ ہوتی ہے۔ تفسیر بالقرآن کسی چیز پر غیر اللہ کا نام نہیں لینا چاہیے : ١۔ اللہ نے جو تمہیں رزق دیا ہے اس پر اللہ کا نام لو۔ (الحج : ٣٤) ٢۔ کھانے پینے پر اللہ کا نام لینا چاہیے۔ (المائدۃ : ٤ ) ٣۔ وہ چیز کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے۔ (انعام : ١١٨ ) ٤۔ کسی شخص کو حرام و حلال فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں (النحل : ١١٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ١١٨ اس سے قبل کہ اس تمہید کے بعد حلال و حرام کا آخری فیصلہ دے دیا جائے بعض دوسری ہدایات اور نتائج دیئے جاتے ہیں جو امر ونہی کے بیان اور وعید اخروی اور ضروری تنبیہ پر مشتمل ہیں :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حلال ذبیحہ کھاؤ، اور حرام جانوروں کے کھانے سے پرہیز کرو درمنثور ج ٣ ص ٤١ میں ان آیات کا سبب نزول بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہودی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے بطور اعتراض یوں کہا کہ جس جانور کو ہم قتل کردیں (یعنی ذبح کردیں) اسے تو آپ کھالیتے ہیں اور جس جانورکو اللہ تعالیٰ قتل کر دے (یعنی اسے موت دیدے اور وہ بغیر ذبح کے مرجائے) آپ اس کو نہیں کھاتے۔ ایک روایت یوں بھی ہے جسے ابن کثیر نے ج ٢ ص ١٦٩ میں نقل کیا ہے کہ فارس کے لوگوں نے قریش مکہ کو آدمی بھیج کر یہ سمجھایا کہ تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یوں بحث کرو کہ آپ اپنے ہاتھ میں چھری لے کر جس جانور کو ذبح کرتے ہیں وہ تو آپ کے نزدیک حلال ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ سونے کی چھری سے ذبح کرتے ہیں وہ آپ کے نزدیک حرام ہے۔ امام ترمذی نے تفسیر سورة الانعام میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ کچھ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم جسے خودقتل کرتے ہیں اسے کھالیتے ہیں اور جسے اللہ قتل کرتا ہے اسے نہیں کھاتے (یہ انہوں نے بطور اعتراض کے کہا) اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ (فَکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَاسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ بِاٰیٰتِہٖ مُؤْمِنِیْنَ ) نازل فرمائی (قال الترمذی ہذا حدیث حسن غریب) پہلی روایت سے معلوم ہوا کہ یہ اعتراض یہود نے کیا تھا اور دوسری روایت سے معلوم ہوا ہے کہ اہل فارس کے سمجھانے اور سجھانے پر قریش مکہ نے کہا تھا۔ مفسرابن کثیر کہتے ہیں کہ یہودیوں سے اس اعتراض کا صادر ہونا بعید ہے کیونکہ وہ خود میتہ یعنی غیر ذبیحہ کو نہیں کھاتے تھے لیکن اس بات کی وجہ سے روایت کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ معترض اندھا تو ہوتا ہی ہے جسے اعتراض کرنا ہو وہ کہاں سوچتا ہے کہ یہ بات مجھ پر بھی آسکتی ہے۔ اعتراض کرنے والے جاہلوں نے صرف موت کو دیکھ لیا اور ذبیحہ اور غیر ذبیحہ کے درمیان جو فرق ہے اس کو نہیں دیکھا لہٰذا اعتراض کر بیٹھے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے ہر جانور کے کھانے کی اجازت نہیں دی۔ قرآن مجید میں اجمالاً ارشاد فرمایا کہ پاکیزہ جانور حلال ہیں اور خبیث جانور حرام ہیں۔ سورۂ اعراف میں ارشاد ہے (یُحِلُّ لَھُمُ الطّیِبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبَآءِثَ ) کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پاکیزہ چیزوں کو حلال اور خبیث چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں۔ نیز بھیمۃ الانعام کے کھانے کی اجازت دیدی سوائے ان جانوروں کے جن کا استثناء فرما دیا (اُحِلَّتْ لَکُمْ بَھِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلیٰ عَلَیْکُمْ ) اور مزید تفسیر کا بیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سپرد فرمادیا۔ آپ نے حلال اور حرام جانوروں کی تفسیر بتادی لیکن جن جانوروں کو حلال قرار دیا ہے ان کے حلال ہونے کی شرط یہ ہے کہ ان کو ذبح کردیا جائے۔ ذبح کا مطلب یہ ہے کہ گلے کی رگیں کاٹ دی جائیں جن سے جانور سانس لیتا ہے اور کھاتا پیتا ہے اور جن میں خون گزرتا ہے۔ ذبح کرنے سے بھی کسی جانور کا کھانا اس وقت حلال ہوگا جبکہ ذبح کے وقت بسم اللہ پڑھی گئی ہو۔ (یعنی اللہ کا نام ذکر کیا گیا ہو) ۔ ذبح کرنے والا جو اللہ کا نام لے کر ذبح کرے مسلمان یا کتابی یعنی یہودی یا نصرانی ہو۔ ان کے علاوہ اور کسی کا ذبیحہ حلال نہیں۔ ذبح کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ جانور کے اندر جو خون ہے وہ رگیں کٹنے سے نکل جاتا ہے خون کا کھانا پینا حرام ہے۔ جب خون نکلتا ہے تو اب گوشت بغیر خون کے رہ گیا لہٰذا ذبیحہ کا کھانا حلال ہوگیا۔ اعتراض کرنے والے نے فرق کو تو دیکھا نہیں اور اس بات کو سمجھا نہیں کہ ذبح کرنے میں کیا حکمت ہے اور ذبح کرنے سے جانور کیوں حلال ہوتا ہے اور اپنی موت مرجانے سے کیوں حرام ہوتا ہے یہ خون نکلنے والی بات ان کو سمجھ میں نہ آئی جو ذبیحہ اور غیر ذبیحہ میں فرق کرنے والی چیز ہے۔ اگر کوئی مسلم یا کتابی کسی جانور کو لاٹھی مار مار کر ہلاک کر دے۔ اگرچہ بسم اللہ پڑھ لے تو وہ جانورحلال نہ ہوگا۔ کیونکہ لاٹھیوں سے مارنے سے خون نہیں نکلا جو گلے کی رگوں سے نکل جاتا ہے ایسے جانور کا نام ” موقوذہ “ ہے جس کا ذکرسورۂ مائدہ کے شروع میں گزر چکا۔ جب معترضین نے اعتراض کیا تو اللہ تعالیٰ نے آیات بالا نازل فرمائیں اور مسلمانوں کو خطاب فرمایا کہ جب حلال جانور پر اللہ کا نام لیا گیا یعنی اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا اسے کھاؤ۔ اور جس جانور پر ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہیں لیا گیا اسے مت کھاؤ، دشمنوں کی باتوں میں نہ آؤ اور ان کے اعتراض کو کوئی وزن نہ دو اللہ نے تمہیں حلال کی تفصیل بتادی، اللہ کے حلال کیے ہوئے جانور کو نہ کھانا اور دشمنوں کی باتوں میں آجانا اہل ایمان کی شان کے خلاف ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

128:۔ حصہ دوم، نفی شرک فعلی۔ 1 ۔ تحریمات غیر اللہ۔ 2 ۔ تحریمات اللہ۔ 3 نذور غیر اللہ۔ سورة انعام کے حصہ اول میں نفی شرک اعتقادی کا بیان تھا۔ اب دوسرے حصے میں نفی شرک فعلی کا بیان ہے۔ یہ حصہ فَکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللهِ سے لے کر ذٰلِکمْ وَصّٰکُمْ بِهٖ لَعَلَّکمْ تَتَّقُوْنَ (ع 19) تک ہے اس حصے میں شرک فعلی کی تین شقیں مذکور ہیں۔ تحریمات غیر اللہ چار عنوانوں سے۔ تحریمات اللہ ایک دفعہ اور نذور غیر اللہ کو بھی چار عنوانوں سے ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ خلاصہ میں تفصیل سے مذکور ہوچکا ہے اور آگے آرہا ہے۔ تحریمات غیر اللہ کا ذکر پہلی بار مَا سے مراد وہ جانور ہیں جن کو مشرکین نے اپنے معبودوں کی تعظیم اور خوشنودی کے لیے اپنی طرف سے حرام کر رکھا تھا یعنی بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام وغیرہ فرمایا جن جانوروں کو خاصۃً اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا ہو ان کو کھاؤ یعنی جن چیزوں کو اللہ نے حلال کیا ہے ان کو حلال سمجھ اور اپنی طرف سے ان کو حرام نہ کرو اور اپنی طرف سے تم نے جو تحریمات کر رکھی ہیں ان کو اٹھاؤ۔ وَمَا لَکُمْ اَلَّا تَاکُلُوْا الخ مذکورہ (بحیرہ سائبہ وغیرہ) جانوروں میں سے جن کو خاصۃً اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا ہو ان کو کھاؤ یا مطلب یہ ہے کہ ان کو حلال سمجھو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

118 ذبیحہ کی حلت و حرمت کے بارے میں جو یہ لوگ کج بحثی کر رہے ہیں ان کا کہا نہ مانو ! اور اگر تم اللہ تعالیٰ کے احکام پر اور اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو ان حلال جانوروں کے ذبیحہ میں سے کھائو جن پر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو۔ یعنی بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ذبح کیا ہو۔