Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 125

سورة الأنعام

فَمَنۡ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنۡ یَّہۡدِیَہٗ یَشۡرَحۡ صَدۡرَہٗ لِلۡاِسۡلَامِ ۚ وَ مَنۡ یُّرِدۡ اَنۡ یُّضِلَّہٗ یَجۡعَلۡ صَدۡرَہٗ ضَیِّقًا حَرَجًا کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ ؕ کَذٰلِکَ یَجۡعَلُ اللّٰہُ الرِّجۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۲۵﴾

So whoever Allah wants to guide - He expands his breast to [contain] Islam; and whoever He wants to misguide - He makes his breast tight and constricted as though he were climbing into the sky. Thus does Allah place defilement upon those who do not believe.

سو جس شخص کو اللہ تعالٰی راستہ پر ڈالنا چاہے اس کے سینہ کو اسلام کے لئے کشادہ کر دیتا ہے اور جس کو بے راہ رکھنا چاہے اس کے سینے کو بہت تنگ کر دیتا ہے جیسے کوئی آسمان میں چڑھتا ہے اس طرح اللہ تعالٰی ایمان نہ لانے والوں پر ناپاکی مسلط کر دیتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah said, فَمَن يُرِدِ اللّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلِسْلَمِ ... And whomsoever Allah wills to guide, He opens his breast to Islam; He makes Islam easy for him and strengthens his resolve to embrace it, and these are good signs. Allah said in other Ayat, أَفَمَن شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلِسْلَـمِ فَهُوَ عَلَى نُورٍ مِّن رَّبِّهِ Is he whose breast Allah has opened to Islam, so that he is in light from His Lord (as he who is a non-Muslim). (39:22) and, وَلَـكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الايمَـنَ وَزَيَّنَهُ فِى قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُوْلَـيِكَ هُمُ الرَشِدُونَ But Allah has endeared the faith to you and has beautified it in your hearts, and has made disbelief, wickedness and disobedience hated by you. Such are they who are the rightly guided. (49:7) Ibn Abbas commented on Allah's statement, فَمَن يُرِدِ اللّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلِسْلَمِ (And whomsoever Allah wills to guide, He opens his breast to Islam), "Allah says that He will open his heart to Tawhid and faith in Him." This is the same as was reported from Abu Malik and several others, and it is sound. Allah's statement, فَمَن يُرِدِ اللّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلِسْلَمِ (and whomsoever He wills to send astray, He makes his breast closed and constricted), refers to inability to accept guidance, thus being deprived of beneficial faith. ... وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا ... and whomsoever He wills to send astray, He makes his breast closed and constricted, ... كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاء ... ...as if he is climbing up to the sky. because of the heaviness of faith on him. Sa`id bin Jubayr commented that in this case, "(Islam) finds every path in his heart impassable." Al-Hakam bin Aban said that Ikrimah narrated from Ibn Abbas that he commented on: كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاء (...as if he is climbing up to the sky), "Just as the Son of Adam cannot climb up to the sky, Tawhid and faith will not be able to enter his heart, until Allah decides to allow it into his heart." Imam Abu Jafar bin Jarir commented: "This is a parable that Allah has given for the heart of the disbeliever, which is completely impassable and closed to faith. Allah says, the example of the disbeliever's inability to accept faith in his heart and that it is too small to accommodate it, is the example of his inability to climb up to the sky, which is beyond his capability and power." He also commented on Allah's statement, ... كَذَلِكَ يَجْعَلُ اللّهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لاَ يُوْمِنُونَ Thus Allah puts the Rijs (wrath) on those who believe not. "Allah says that just as He makes the heart of whomever He decides to misguide, closed and constricted, He also appoints Shaytan for him and for his likes, those who refused to believe in Allah and His Messenger. Consequently, Shaytan lures and hinders them from the path of Allah." Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas said that, Rijs, refers to Shaytan, Mujahid said that; Rijs,refers to all that does not contain goodness. Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said that, Rijs, means, `torment'.

جس پر اللہ کا کرم اس پہ راہ ہدایت آسان اللہ کا ارادہ جسے ہدایت کرنے کا ہوتا ہے اس پر نیکی کے راستے آسان ہو جاتے ہیں جیسے فرمان ہے آیت ( افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ ) الخ ، یعنی اللہ ان کے سینے اسلام کی طرف کھول دیتا ہے اور انہیں اپنا نور عطا فرماتا ہے اور آیت میں فرمایا آیت ( وَلٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْاِيْمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَكَرَّهَ اِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْيَانَ ۭاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَ ) 49 ۔ الحجرات:7 ) اللہ نے تمہارے دلوں میں ایمان کی محبت پیدا کر دی اور اسے تمہارے دلوں میں زینت دار بنا دیا اور کفر فسق اور نافرمانی کی تمہارے دلوں میں کراہیت ڈال دہی یہی لوگ راہ یافتہ اور نیک بخت ہیں ۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس کا دل ایمان و توہید کی طرف کشادہ ہو جاتا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ سب سے زیادہ دان کون سا مومن ہے ؟ فرمایا سب سے زیادہ موت کو یاد رکھنے والا اور سب سے زیادہ موت کے بعد کی زندگی کے لئے تیاریاں کرنے والا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو فرمایا کہ اس کے دل میں ایک نور ڈال دیا جاتا ہے جس سے اس کا سینہ کھل جاتا ہے لوگوں نے اس کی نشانی درریافت کی تو فرمایا جنت کی طرف جھکنا اور اس کی جانب رغبت کام رکھنا اور دنیا کے فریب سے بھاگنا اور الگ ہونا اور موت کے آنے سے پہلے تیاریاں کرنا ضیقا کی ایک قرأت ( ضیقا ) بھی ہے ( حرجا ) کی دوسری ( حرجا ) بھی ہے یعنی گنہگار یا دونوں کے ایک ہی معنی یعنی تنگ جو ہدایت کے لئے نہ کھلے اور ایمان اس میں جگہ نہ پائے ، ایک مرتبہ ایک بادیہ نشین بزرگ سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حرجہ کے بارے میں دریافت فرمایا تو اس نے کہا یہ ایک درخت ہوتا ہے جس کے پاس نہ تو چرواہے جاتے ہیں نہ جانور نہ وحشی ۔ آپ نے فرمایا سچ ہے ایسا ہی منافق کا دل ہوتا ہے کہ اس میں کوئی بھلائی جگہ پاتی ہی نہیں ۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اسلام باوجود آسان اور کشادہ ہونے کے اسے سخت اور تنگ معلوم ہوتا ہے خود قرآن میں ہے آیت ( وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ ) 22 ۔ الحج:78 ) اللہ نے تمہارے دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی ۔ لیکن منافق کا شکی دل اس نعمت سے محروم رہتا ہے اسے لا الہ الا اللہ کا اقرار ایک مصیبت معلوم ہوتی ہے ، جیسے کسی پر آسمان پر جڑھائی مشکل ہو ، جیے وہ اس کے بس کی بات نہیں اسی طرح توحید و ایمان بھی اس کے قبضے سے باہر ہیں پس مردہ دل والے کبھی بھی اسلام قبول نہیں کرتے ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بے ایمانوں پر شیطان مقرر کر دیتا ہے جو انہیں بہکاتے رہتے ہیں اور خیر سے ان کے دل کو تنگ کرتے رہتے ہیں ۔ نحوست ان پر برستی رہتی ہے اور عذاب ان پر اتر آتے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

125۔ 1 یعنی جس طرح زور لگا کر آسمان پر چڑھنا ممکن نہیں۔ اسی طرح جس شخص کے سینے کو اللہ تعالیٰ تنگ کردے اس میں توحید اور ایمان کا داخلہ ممکن نہیں، الایہ کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا سینہ اس کے لئے کھول دے۔ 125۔ 2 یعنی جس طرح سینہ تنگ کردیتا ہے اسی طرح رجس میں مبتلا کردیتا ہے، رجس سے مراد پلیدی یا عذاب یا شیطان کا تسلط ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٣٢] انشراح صدر کیا ہے ؟ سینہ کھول دینے سے مراد یہ ہے کہ وہ فراخدلی کے ساتھ اسلام کی دعوت کو قبول کرلیتا ہے اور اس کی حقانیت پر اس کا دل مکمل طور پر مطمئن ہوجاتا ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی اور سینہ میں گھٹن پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی دعوت سنتے ہی اس کے دل میں گھٹن پیدا ہوجاتی ہے وہ اس دعوت کو سمجھنے اور اس میں غور کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتا پھر اس کے اس رویہ سے یہ گھٹن دم بدم بڑھتی جاتی ہے۔ پھر اس کی یہ حالت ہوجاتی ہے کہ حق اس کے دل میں داخل ہی نہیں ہوسکتا۔ اس وقت اسے اسلام کی کامیابی سے اتنی کوفت ہوتی ہے جیسے وہ بمشکل کسی بلندی یا پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ رہا ہو اور سانس پھولنے کے باوجود وہ بلندی پر چڑھنے کے لیے مجبور ہو۔ [١٣٣] سیدنا ابن عباس (رض) نے اس مقام پر رجس کا ترجمہ شیطان سے کیا ہے اس طرح مطلب یہ ہوگا کہ ہم ایسے شخص پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں جو اسے ایمان لانے کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتا۔ نیز رجس کا معنی ناپاکی بھی ہے اور عذاب بھی۔ ترجمہ میں ناپاکی ہی معنیٰ لکھا گیا ہے اور اگر عذاب ہو تو اس سے مراد ہے کہ دنیا میں اس پر لعنت کا عذاب مسلط کردیا جاتا ہے اور آخرت میں جو عذاب ہوگا وہ سخت تر ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهدِيَهٗ ۔۔ : ” اسلام “ کا لفظی معنی ہے تابع ہوجانا، اپنے آپ کو سپرد کردینا۔ ” حَرَجًا “ نہایت تنگ، گھٹا ہوا، درختوں کا وہ جھنڈ جس میں کوئی چیز داخل نہ ہو سکے۔ ” حَرَجًا “ یہ ” صَعِدَ یَصْعَدُ “ (س) سے باب تفعل کا مضارع ہے، یعنی ” یَصَّعَّدُ “ اصل میں ” یَتَصَعَّدُ “ تھا، حروف زیادہ ہونے سے معنی میں ایک لفظ کا اضافہ کیا ہے، یعنی مشکل سے چڑھ رہا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ رسالت کی طرح ہدایت و گمراہی بھی اس کے ہاتھ میں ہے، وہ اپنے نظام عدل کے مطابق جسے ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ صحیح بات تسلیم کرنے کے لیے کھول دیتا ہے، اس کے لیے ہدایت کے راستے آسان کردیتا ہے، اسے حق قبول کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی اور وہ آسانی سے اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول کے تابع فرمان کردیتا ہے اور جسے اس کی سرکشی کے باعث ہدایت نہیں دینا چاہتا اس کا سینہ حق قبول کرنے کے لیے تنگ اور نہایت گھٹا ہوا کردیتا ہے، جیسا کہ وہ بلندی کی طرف مشکل سے چڑھ رہا ہے، جوں جوں اوپر چڑھتا ہے، ایک تو چڑھائی کی وجہ سے دوسرے آکسیجن کے کم اور پھر ختم ہونے کی وجہ سے سانس ہی نہیں لے سکتا۔ جو لوگ حق سمجھ کر انکار کا راستہ اختیار کرنے والے ہیں ان پر ایمان کی طہارت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے کفر کی گندگی چڑھتی چلی جاتی ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (٦، ٧) ، سورة توبہ (١٢٥) ، سورة لیل (٥ تا ١٠) اور سورة یونس (١٠٠) ۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” اوپر فرمایا تھا کہ کافر قسمیں کھاتے ہیں کہ ایک آیت ( نشانی) دیکھیں تو ضرور یقین لے آئیں گے، اب فرمایا کہ ہم نہ دیں گے ایمان تو کیونکر لائیں گے۔ بیچ میں مردہ حلال کرنے کے حیلے ذکر کیے، اب اس بات کا جواب فرمایا کہ جس کی عقل اس طرف چلے کہ اپنی بات کو نہ چھوڑے، جو دلیل دیکھے کچھ حیلہ بنا لے، وہ نشان ہے گمراہی کا اور جس کی عقل چلے انصاف پر اور حکم برداری پر وہ نشان ہدایت ہے۔ ان لوگوں میں نشان ہیں گمراہی کے، ان کو کوئی آیت اثر نہ کرے گی۔ “ (موضح)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Signs of &Sharh al-Sadr in Din Some signs of the Divinely-guided, and the firm on error, have been given in the third verse (125). Said there was: فَمَن يُرِ‌دِ اللَّـهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَ‌حْ صَدْرَ‌هُ لِلْإِسْلَامِ (So, whom Allah wills to give guidance, He opens his heart for Islam). Hakim in al-Mustadrak and Baihaqi in Shu&ab al-&Iman report from Sayyidna ` Abdullah ibn Masud (رض) : When this verse was re¬vealed, the Companions of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) requested him to explain the meaning of Sharh al-Sadr, the opening of the heart for Islam. He said: ` Allah Ta` ala puts a light in the heart of a believer through which his heart opens up for the perception, understanding and acceptance of truth. The Sahabah submitted: ` Is there a sign which will help recognize the person who has such Sharh al-Sadr? He said: ` Yes! The sign is that &Akhirah and its blessings become the object of all his desires. He avoids uncalled-for desires and fleeting enjoyments and starts getting ready for death before it comes.& After that, he said: |" وَمَن يُرِ‌دْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَ‌هُ ضَيِّقًا حَرَ‌جًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ |" (and whom He wills to let go astray, He makes his heart narrow, much too narrow [ wherefore, for him to accept the truth and to act in accordance with it becomes as difficult ], as though he climbs up to the sky). Kalabi has said: ` the narrowing of his heart means that no passage for the entry of truth and good remains open there.& A similar explanation has also been reported from Sayyidna Faruq al-A&zam (رض) and Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas (رض) has said: ` When he hears the ذِکر Dhikr of Allah, he feels being harassed and when he listens to what is Kufr and Shirk, his heart relishes it. The Noble Sahabah: Ever-Eager Receivers of Truth This was the reason why the noble Sababah, may Allah be pleased with all of them, who were chosen by Allah Ta` ala to be His Prophet&s companions in faith, and to be the learners and carriers of his teach¬ings as his direct disciples. They were so convinced as his adherents that their doubts about Islamic injunctions, if any, remained negligibly low. During their whole lifetime, the number of questions presented before the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) by them are but a counted few. The reason was that by the grace of the company of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) their hearts were almost engraved with love and reverence for Allah Ta` ala and because of which they were blessed with the high station of Sharh al-Sadr, a heart open to the acceptance of truth. In fact, their hearts had become in themselves the very standard of truth and falsehood. They would accept truth promptly and falsehood could not find entry into their hearts. After that, as the distance from the blessed period of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) increased, doubts and scruples started finding room for infilteration and that was the be-ginning of dogmatic differences. To Remove Doubts : Open Hearts, Narrow Debates In our day, the world is a stage infested with doubts. People seek solutions through debates, arguments and counter-arguments and end up with confusion worse confounded. This is not a sound way to handle doubts as pointed out by the unique Indian poet, Akbar Ilahabadi: فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں ڈور کو سلجھا رہا ہے پرسرا ملتا نہیں The philosopher deep in debate cannot find God He is untangling the string but cannot find where to begin! There is only one way out, that which was taken by the blessed Companions (رض) and by the early righteous elders: Think of the perfect power of Allah Ta` ala and imagine His blessings and feel the presence of His love and reverence, the doubts evaporate automatically. This is the reason why the Qur&an has itself prompted the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to make the following Du` a (prayer): رَبِّ اشرَح لِی صَدرِی Rabbishralh li sadri 0 my Rabb, open my heart. At the end of the verse it was said: كَذَٰلِكَ يَجْعَلُ اللَّـهُ الرِّ‌جْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ which means that this is how Allah brings damnation and disgrace upon those who do not believe. For truth, their hearts are not open while to every evil they dash.

دین میں شرح صدر اور اس کی علامات تیسری آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت پانے والوں اور گمراہی پر جمے رہنے والوں کے کچھ حالات اور علامات بتلائی گئی ہیں، ارشاد فرمایا : فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهدِيَهٗ يَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ ” یعنی جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت دینا چاہتے ہیں اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتے ہیں “۔ حاکم نے مستدرک میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں بروایت حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شرح صدر یعنی سینہ اسلام کے لئے کھول دینے کی تفسیر دریافت کی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومن کے دل میں ایک روشنی ڈال دیتے ہیں، جس سے اس کا دل حق بات کو دیکھنے سمجھنے اور قبول کرنے کے لئے کھل جاتا ہے (حق بات کو آسانی سے قبول کرنے لگتا ہے اور خلاف حق سے نفرت اور وحشت ہونے لگتی ہے) صحابہ کرام نے عرض کیا کہ کیا اس کی کوئی علامت بھی ہے جس سے وہ شخص پہچانا جائے جس کو شرح صدر حاصل ہوگیا ہے ؟ فرمایا کہ ہاں علامت ہے کہ اس شخص کی ساری رغبت آخرت اور اس کی نعمتوں کی طرف ہوجاتی ہے، دنیا کی بےجا خواہشات اور فانی لذتوں سے گھبراتا ہے، اور موت کے آنے سے پہلے موت کی تیاری کرنے لگتا ہے، پھر فرمایا وَمَنْ يُّرِدْ اَنْ يُّضِلَّهٗ يَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَيِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاۗءِ ۭ، یعنی جس شخص کو اللہ تعالیٰ گمراہی میں رکھنا چاہتے ہیں اس کا دل تنگ اور سخت تنگ کردیتے ہیں، اس کو حق بات کا قبول کرنا اور اس پر عمل کرنا ایسا دشوار ہوتا ہے جیسے کسی انسان کا آسمان میں چڑھنا۔ امام تفسیر کلبی نے فرمایا کہ ” اس کا دل تنگ ہونے کا مطلب ہے کہ اس میں حق اور بھلائی کے لئے کوئی راستہ نہیں رہتا “۔ یہ مضمون حضرت فاروق اعظم (رض) سے بھی منقول ہے، اور حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ جب وہ اللہ کا ذکر سنتا ہے تو اس کو وحشت ہونے لگتی ہے، اور جب کفر و شرک کی باتیں سنتا ہے تو ان میں دل لگتا ہے۔ صحابہ کرام کو دین میں شرح صدر حاصل تھا اس لئے شکوک و شبہات بہت کم پیش آئے یہی وجہ تھی کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جن کو حق تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت اور بلا واسطہ شاگردی کے لئے منتخب فرمایا تھا ان کو اسلامی احکام میں شبہات اور وساوس کم سے کم پیش آئے، ساری عمر میں صحابہ کرام نے جو سوالات رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کئے گئے وہ گنے چنے چند ہیں، وجہ یہ تھی کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیض صحبت سے اللہ تعالیٰ کی عظمت و محبت کا گہرا نقش ان کے دلوں میں بیٹھ گیا تھا، جس کے سبب ان کو شرح صدر کا مقام حاصل تھا ان کے قلوب خود بخود حق و باطل کا معیاد بن گئے تھے، حق کو آسانی کے ساتھ فوراً قبول کرتے اور باطل ان کے دلوں میں راہ نہ پاتا تھا، پھر جوں جوں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک سے دوری ہوتی چلی گئی، شکوک و شبہات نے راہ پانی شروع کی، عقائد کے اختلافات پیدا ہونے شروع ہوئے۔ شکوک و شبہات کے دور کرنے کا اصلی طریقہ بحث و مباحثہ نہیں شرح صدر کی تحصیل ہے اور آج پوری دنیا شکوک و شبہات کے گھیرے میں پھنسی ہوئی ہے، اور بحث و مباحثہ کی راہ سے اس کو حل کرنا چاہتی ہے جو اس کا صحیح راستہ نہیں فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں ڈور کو سلجھا رہا ہے پر سرا ملتا نہیں راستہ وہی ہے جو صحابہ کرام اور اسلاف امت نے اختیار فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور ان کے انعام کا استحضار کرکے اس کی عظمت و محبت دل میں پیدا کی جائے، تو شبہات خودبخود کافور ہوجاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ خود قرآن کریم نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ دعا مانگنے کی تلقین فرمائی ہے کہ (آیت) رب اشرح لی صدری، یعنی اے میرے پروردگار میرا سینہ کھول دے۔ آخر آیت میں فرمایا (آیت) كَذٰلِكَ يَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَي الَّذِيْنَ لَا يُؤ ْمِنُوْنَ یعنی اسی طرح اللہ تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں پر پھٹکار ڈال دیتا ہے، اور حق بات ان کے دل میں نہیں اترتی اور ہر برائی اور بیہودگی کی طرف دوڑ دوڑ کر جاتے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَمَنْ يُّرِدِ اللہُ اَنْ يَّہْدِيَہٗ يَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ۝ ٠ ۚ وَمَنْ يُّرِدْ اَنْ يُّضِلَّہٗ يَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَيِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاۗءِ۝ ٠ ۭ كَذٰلِكَ يَجْعَلُ اللہُ الرِّجْسَ عَلَي الَّذِيْنَ لَايُؤْمِنُوْنَ۝ ١٢٥ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ شرح أصل الشَّرْحِ : بسط اللّحم ونحوه، يقال : شَرَحْتُ اللّحم، وشَرَّحْتُهُ ، ومنه : شَرْحُ الصّدر أي : بسطه بنور إلهي وسكينة من جهة اللہ وروح منه . قال تعالی: رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] ، وقال : أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ [ الشرح/ 1] ، أَفَمَنْ شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ [ الزمر/ 22] ، وشرح المشکل من الکلام : بسطه وإظهار ما يخفی من معانيه . ( ش ر ح ) شرحت اللحم وشرحتہ کے اصل معنی گوشت ( وغیرہ کے لمبے لمبے ٹکڑے کاٹ کر ) پھیلانے کے ہیں ۔ اور اسی سے شرح صدر ہے یعنی نور الہی اور سکون و اطمینان کی وجہ سے سینے میں وسعت پیدا ہوجاتا ۔ قران میں ہے : ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي[ طه/ 25] کہا پروردگار میرا سینہ کھول دے ۔ أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ [ الشرح/ 1]( اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) ہم نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا ۔ أَفَمَنْ شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ [ الزمر/ 22] بھلا جس کا سینہ خدا نے کھول دیا ہو ۔ شرح المشکل من الکلام کے معنی مشکل کلام کی تشریح کرنے اور اس کے مخفی معنی کو ظاہر کر نیکے ہیں ۔ صدر الصَّدْرُ : الجارحة . قال تعالی: رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] ، وجمعه : صُدُورٌ. قال : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] ( ص در ) الصدر سینہ کو کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] میرے پروردگار اس کا م کے لئے میرا سینہ کھول دے ۔ اس کی جمع صدور آتی ہے جیسے فرمایا : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] اور جو بھید دلوں میں وہ ظاہر کردیئے جائیں گے سلم والْإِسْلَامُ : الدّخول في السّلم، وهو أن يسلم کلّ واحد منهما أن يناله من ألم صاحبه، ومصدر أسلمت الشیء إلى فلان : إذا أخرجته إليه، ومنه : السَّلَمُ في البیع . والْإِسْلَامُ في الشّرع علی ضربین : أحدهما : دون الإيمان، وهو الاعتراف باللسان، وبه يحقن الدّم، حصل معه الاعتقاد أو لم يحصل، وإيّاه قصد بقوله : قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] . والثاني : فوق الإيمان، وهو أن يكون مع الاعتراف اعتقاد بالقلب، ووفاء بالفعل، واستسلام لله في جمیع ما قضی وقدّر، كما ذکر عن إبراهيم عليه السلام في قوله : إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] ، ( س ل م ) السلم والسلامۃ الاسلام اس کے اصل معنی سلم ) صلح) میں داخل ہونے کے ہیں اور صلح کے معنی یہ ہیں کہ فریقین باہم ایک دوسرے کی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بےخوف ہوجائیں ۔ اور یہ اسلمت الشئی الی ٰفلان ( باب افعال) کا مصدر ہے اور اسی سے بیع سلم ہے ۔ شرعا اسلام کی دوقسمیں ہیں کوئی انسان محض زبان سے اسلام کا اقرار کرے دل سے معتقد ہو یا نہ ہو اس سے انسان کا جان ومال اور عزت محفوظ ہوجاتی ہے مگر اس کا درجہ ایمان سے کم ہے اور آیت : ۔ قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے کہدو کہ تم ایمان نہیں لائے ( بلکہ یوں ) کہو اسلام لائے ہیں ۔ میں اسلمنا سے یہی معنی مراد ہیں ۔ دوسرا درجہ اسلام کا وہ ہے جو ایمان سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ زبان کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ولی اعتقاد بھی ہو اور عملا اس کے تقاضوں کو پورا کرے ۔ مزید پر آں کو ہر طرح سے قضا وقدر الہیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کردے ۔ جیسا کہ آیت : ۔ إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا ۔ کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سرا طاعت خم کرتا ہوں ۔ ( ضل)إِضْلَالُ والإِضْلَالُ ضربان : أحدهما : أن يكون سببه الضَّلَالُ ، وذلک علی وجهين : إمّا بأن يَضِلَّ عنک الشیءُ کقولک : أَضْلَلْتُ البعیرَ ، أي : ضَلَّ عنّي، وإمّا أن تحکم بِضَلَالِهِ ، والضَّلَالُ في هذين سبب الإِضْلَالِ. والضّرب الثاني : أن يكون الإِضْلَالُ سببا لِلضَّلَالِ ، وهو أن يزيّن للإنسان الباطل ليضلّ کقوله : لَهَمَّتْ طائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَما يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ [ النساء/ 113] ، أي يتحرّون أفعالا يقصدون بها أن تَضِلَّ ، فلا يحصل من فعلهم ذلك إلّا ما فيه ضَلَالُ أنفسِهِم، وقال عن الشیطان : وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ [ النساء/ 119] ، وقال في الشّيطان : وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيراً [يس/ 62] ، وَيُرِيدُ الشَّيْطانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلالًا بَعِيداً [ النساء/ 60] ، وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [ ص/ 26] ، وإِضْلَالُ اللهِ تعالیٰ للإنسان علی أحد وجهين : أحدهما أن يكون سببُهُ الضَّلَالَ ، وهو أن يَضِلَّ الإنسانُ فيحكم اللہ عليه بذلک في الدّنيا، ويعدل به عن طریق الجنّة إلى النار في الآخرة، وذلک إِضْلَالٌ هو حقٌّ وعدلٌ ، فالحکم علی الضَّالِّ بضَلَالِهِ والعدول به عن طریق الجنّة إلى النار عدل وحقّ. والثاني من إِضْلَالِ اللهِ : هو أنّ اللہ تعالیٰ وضع جبلّة الإنسان علی هيئة إذا راعی طریقا، محمودا کان أو مذموما، ألفه واستطابه ولزمه، وتعذّر صرفه وانصرافه عنه، ويصير ذلک کالطّبع الذي يأبى علی الناقل، ولذلک قيل : العادة طبع ثان «2» . وهذه القوّة في الإنسان فعل إلهيّ ، وإذا کان کذلک۔ وقد ذکر في غير هذا الموضع أنّ كلّ شيء يكون سببا في وقوع فعل۔ صحّ نسبة ذلک الفعل إليه، فصحّ أن ينسب ضلال العبد إلى اللہ من هذا الوجه، فيقال : أَضَلَّهُ اللهُ لا علی الوجه الذي يتصوّره الجهلة، ولما قلناه جعل الإِضْلَالَ المنسوب إلى نفسه للکافر والفاسق دون المؤمن، بل نفی عن نفسه إِضْلَالَ المؤمنِ فقال : وَما کانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْماً بَعْدَ إِذْ هَداهُمْ [ التوبة/ 115] ، فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ [ محمد/ 4- 5] ، وقال في الکافروالفاسق : فَتَعْساً لَهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمالَهُمْ [ محمد/ 8] ، وما يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفاسِقِينَ [ البقرة/ 26] ، كَذلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكافِرِينَ [ غافر/ 74] ، وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ [إبراهيم/ 27] ، وعلی هذا النّحو تقلیب الأفئدة في قوله : وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ [ الأنعام/ 110] ، والختم علی القلب في قوله : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وزیادة المرض في قوله : فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَضاً [ البقرة/ 10] . الاضلال ( یعنی دوسرے کو گمراہ کرنے ) کی دوصورتیں ہوسکتی ہیں ۔ ایک یہ کہ اس کا سبب خود اپنی ضلالت ہو یہ دو قسم پر ہے ۔ (1) ایک یہ کہ کوئی چیز ضائع ہوجائے مثلا کہاجاتا ہے اضللت البعیر ۔ میرا اونٹ کھو گیا ۔ (2) دوم کہ دوسرے پر ضلالت کا حکم لگانا ان دونوں صورتوں میں اضلال کا سبب ضلالۃ ہی ہوتی ہے ۔ دوسری صورت اضلال کا سبب ضلالۃ ہی ہوتی ہے ۔ دوسری صورت اضلال کی پہلی کے برعکس ہے یعنی اضلال بذاتہ ضلالۃ کا سبب بنے اسی طرح پر کہ کسی انسان کو گمراہ کرنے کے لئے باطل اس کے سامنے پر فریب اور جاذب انداز میں پیش کیا جائے جیسے فرمایا : لَهَمَّتْ طائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَما يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ [ النساء/ 113] ، ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کرچکی تھی اور یہ اپنے سوا کسی کو بہکا نہیں سکتے۔ یعنی وہ اپنے اعمال سے تجھے گمراہ کرنے کی کوشش میں ہیں مگر وہ اپنے اس کردار سے خود ہی گمراہ ہو رہے ہیں ۔ اور شیطان کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا : وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ [ النساء/ 119] اور ان کو گمراہ کرتا اور امیدیں دلاتا رہوں گا ۔ اور شیطان کے بارے میں فرمایا : ۔ وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيراً [يس/ 62] اور اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو گمراہ کردیا تھا ۔ وَيُرِيدُ الشَّيْطانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلالًا بَعِيداً [ النساء/ 60] اور شیطان تو چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر رستے سے دور ڈال دے ۔ وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [ ص/ 26] اور خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں خدا کے رستے سے بھٹکادے گی ۔ اللہ تعالیٰ کے انسان کو گمراہ کرنے کی دو صورتیں ہی ہوسکتی ہیں ( 1 ) ایک یہ کہ اس کا سبب انسان کی خود اپنی ضلالت ہو اس صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف اضلال کی نسبت کے یہ معنی ہوں گے کہ جب انسان از خود گمرہ ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں اس پر گمراہی کا حکم ثبت ہوجاتا ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آخرت کے دن اسے جنت کے راستہ سے ہٹا کر دوزخ کے راستہ پر ڈال دیا جائے گا ۔ ( 2 ) اور اللہ تعالٰ کی طرف اضلال کی نسببت کے دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ باری تعالیٰ نے انسان کی جبلت ہی کچھ اس قسم کی بنائی ہے کہ جب انسان کسی اچھے یا برے راستہ کو اختیار کرلیتا ہے تو اس سے مانوس ہوجاتا ہے اور اسے اچھا سمجھنے لگتا ہے اور آخر کا اس پر اتنی مضبوطی سے جم جاتا ہے کہ اس راہ سے ہٹا نایا اس کا خود اسے چھوڑ دینا دشوار ہوجاتا ہے اور وہ اعمال اس کی طبیعت ثانیہ بن جاتے ہیں اسی اعتبار سے کہا گیا ہے کہ عادت طبعہ ثانیہ ہے ۔ پھر جب انسان کی اس قسم کی فطرت اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہے اور دوسرے مقام پر ہم بیان کرچکے ہیں کہ فعل کی نسبت اس کے سبب کی طرف بھی ہوسکتی ہے لہذا اضلال کی نسبت اللہ تعالیٰ کیطرف بھی ہوسکتی ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے گمراہکر دیا ور نہ باری تعالیٰ کے گمراہ کر نیکے وہ معنی نہیں ہیں جو عوام جہلاء سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اللہ تعالیٰ کی طرف گمراہ کرنے کینسبت اسی جگہ کی ہے جہاں کافر اور فاسق لوگ مراد ہیں نہ کہ مومن بلکہ حق تعالیٰ نے مومنین کو گمراہ کرنے کی اپنی ذات سے نفی فرمائی ہے چناچہ ارشاد ہے ۔ وَما کانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْماً بَعْدَ إِذْ هَداهُمْ [ التوبة/ 115] اور خدا ایسا نہیں ہے کہ کسی قومکو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کردے ۔ فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ [ محمد/ 4- 5] ان کے عملوں کر ہر گز ضائع نہ کریگا بلکہ ان کو سیدھے رستے پر چلائے گا ۔ اور کافر اور فاسق لوگوں کے متعلق فرمایا : فَتَعْساً لَهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمالَهُمْ [ محمد/ 8] ان کے لئے ہلاکت ہے اور وہ ان کے اعمال کو برباد کردیگا : وما يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفاسِقِينَ [ البقرة/ 26] اور گمراہ بھی کرتا ہے تو نافرمانوں ہی کو ۔ كَذلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكافِرِينَ [ غافر/ 74] اسی طرح خدا کافررں کو گمراہ کرتا ہے ۔ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ [إبراهيم/ 27] اور خدا بےانصافوں کو گمراہ کردیتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ [ الأنعام/ 110] اور ہم ان کے دلوں کو الٹ دیں گے ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے انکے دلوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَضاً [ البقرة/ 10] ان کے دلوں میں ( کفر کا ) مرض تھا خدا نے ان کا مرض اور زیادہ کردیا ۔ میں دلوں کے پھیر دینے اور ان پر مہر لگا دینے اور ان کی مرض میں اضافہ کردینے سے بھی یہی معنی مراد ہیں ۔ ضيق الضِّيقُ : ضدّ السّعة، ويقال : الضَّيْقُ أيضا، والضَّيْقَةُ يستعمل في الفقر والبخل والغمّ ونحو ذلك . قال تعالی: وَضاقَ بِهِمْ ذَرْعاً [هود/ 77] ، أي : عجز عنهم، وقال : وَضائِقٌ بِهِ صَدْرُكَ [هود/ 12] ( ض ی ق ) الضیق والضیق کتے معنی تنگی کے ہیں اور یہ سعتہ کی ضد ہے اور ضیقتہ کا لفظ فقر بخل غم اور اس قسم کے دوسرے معانی میں استعمال ہوتا ہے چناچہ آیت کریمہ :۔ وَضاقَ بِهِمْ ذَرْعاً [هود/ 77] کے معنی یہ ہیں کہ وہ انکے مقابلہ سے عاجز ہوگئے ۔ اور آیت ؛۔ وَضائِقٌ بِهِ صَدْرُكَ [هود/ 12] اور اس ( خیال سے سے تمہارا دل تنگ ہو ۔ حرج أصل الحَرَج والحراج مجتمع الشيئين، وتصوّر منه ضيق ما بينهما، فقیل للضيّق : حَرَج، وللإثم حَرَج، قال تعالی: ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجاً [ النساء/ 65] ، وقال عزّ وجلّ : وَما جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ [ الحج/ 78] ، وقد حرج صدره، قال تعالی: يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً حَرَجاً [ الأنعام/ 125] ، وقرئ حرجا «1» ، أي : ضيّقا بکفره، لأنّ الکفر لا يكاد تسکن إليه النفس لکونه اعتقادا عن ظن، وقیل : ضيّق بالإسلام کما قال تعالی: خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وقوله تعالی: فَلا يَكُنْ فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِنْهُ [ الأعراف/ 2] ، قيل : هو نهي، وقیل : هو دعاء، وقیل : هو حکم منه، نحو : أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ [ الشرح/ 1] ، والمُتَحَرِّج والمتحوّب : المتجنّب من الحرج والحوب . ( ح ر ج ) الحرج والحراج ( اسم ) کے اصل معنی اشب کے مجتع یعنی جمع ہونے کی جگہ کو کہتے ہیں ۔ اور جمع ہونے میں چونکہ تنگی کا تصور موجود ہے اسلئے تنگی اور گناہ کو بھی حرج کہاجاتا ہے قرآن میں ہے ؛۔ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجاً [ النساء/ 65] اور ۔۔۔ اپنے دل میں تنگ نہ ہوں ۔ وَما جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ [ الحج/ 78 اور تم پر دین ( کی کسی بات ) میں تنگی نہیں کی ۔ حرج ( س) حرجا ۔ صدرہ ۔ سینہ تنگ ہوجانا ۔ قرآن میں ہے ؛۔ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً حَرَجاً [ الأنعام/ 125] اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کردیتا ہے ۔ ایک قرآت میں حرجا ہے ۔ یعنی کفر کی وجہ سے اس کا سینہ گھٹا رہتا ہے اس لئے کہ عقیدہ کفر کی بنیاد وظن پر ہوتی ہے جس کی وجہ سے انسان کو کبھی سکون نفس حاصل نہیں ہوتا اور بعض کہتے کہ اسلام کی وجہ سے اس کا سینہ تنگ ہوجاتا ہے جیسا کہ آیت خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] سے مفہوم ہوتا ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ فَلا يَكُنْ فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِنْهُ [ الأعراف/ 2] اس سے تم کو تنگ دل نہیں ہونا چاہیے ۔ میں لایکن فعل نہی کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے اور ۔۔۔۔ جملہ دعائیہ بھی ۔ بعض نے اسے جملہ خبر یہ کے معنی میں لیا ہے ۔ جیسا کہ آیت کریمہ ۔ أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ [ الشرح/ 1] سے مفہوم ہوتا ہے ،۔ المنحرج ( صفت فاعلی ) گناہ اور تنگی سے دور رہنے والا جیسے منحوب ۔ حوب ( یعنی گنا ہ) بچنے والا ۔ رجس الرِّجْسُ : الشیء القذر، ، والرِّجْسُ يكون علی أربعة أوجه : إمّا من حيث الطّبع، وإمّا من جهة العقل، وإمّا من جهة الشرع، وإمّا من کلّ ذلک کالمیتة، فإنّ المیتة تعاف طبعا وعقلا وشرعا، والرِّجْسُ من جهة الشّرع : الخمر والمیسر، وقیل : إنّ ذلک رجس من جهة العقل، وعلی ذلک نبّه بقوله تعالی: وَإِثْمُهُما أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِما [ البقرة/ 219] ، لأنّ كلّ ما يوفي إثمه علی نفعه فالعقل يقتضي تجنّبه، وجعل الکافرین رجسا من حيث إنّ الشّرک بالعقل أقبح الأشياء، قال تعالی: وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَتْهُمْ رِجْساً إِلَى رِجْسِهِمْ [ التوبة/ 125] ، وقوله تعالی: وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لا يَعْقِلُونَ [يونس/ 100] ، قيل : الرِّجْسُ : النّتن، وقیل : العذاب ( ر ج س ) الرجس پلید ناپاک جمع ارجاس کہا جاتا ہے ۔ جاننا چاہیے کہ رجس چار قسم پر ہے ( 1 ) صرف طبیعت کے لحاظ سے ( 2 ) صرف عقل کی جہت سے ( 3 ) صرف شریعت کی رد سے ( 4 ) ہر سہ کی رد سے جیسے میتہ ( مردار سے انسان کو طبعی نفرت بھی ہے اور عقل و شریعت کی در سے بھی ناپاک ہے رجس جیسے جوا اور شراب ہے کہ شریعت نے انہیں رجس قرار دیا ہے بعض نے کہا ہے کہ یہ چیزیں عقل کی رو سے بھی رجس ہیں چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَإِثْمُهُما أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِما [ البقرة/ 219]( مگر ) فائدہ سے ان کا گناہ ( اور نقصان ) بڑھ کر ۔ میں اسی معنی پر تنبیہ کی ہے کیونکہ جس چیز کا نقصان اس کے نفع پر غالب ہو ضروری ہے کہ عقل سلیم اس سے مجتنب رہنے کا حکم دے اسی طرح کفار کو جس قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہ شرک کرتے ہیں اور شرک عند العقل قبیح ترین چیز ہے جیسے فرمایا : ۔ وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَتْهُمْ رِجْساً إِلَى رِجْسِهِمْ [ التوبة/ 125] اور جس کے دلوں میں نفاق کا روگ ہے تو اس ( سورت ) نے ان کی ( پہلی ) خباثت پر ایک اور خباثت پڑھادی ۔ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لا يَعْقِلُونَ [يونس/ 100] اور خدا ( شرک وکفر کی ) نجاست انہیں لوگون پر ڈالتا ہے جو ( دالائل وحدانیت ) میں عقل کو کام میں نہیں لاتے ۔ بعض نے رجس سے نتن ( بدبو وار ) اور بعض بت عذاب مراد لیا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٢٥) جس شخص کو اللہ تعالیٰ اپنے دین کی دولت عطا کرنا چاہتے ہیں تو اس کا سینہ قبول اسلام کے لیے کشادہ کردیتے ہیں تاکہ وہ اسلام قبول کرے۔ اور جس کو گمراہ یا کافر ہی رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے سینہ کو تنگ اور بہت ہی تنگ کردیتے ہیں کہ اس کے دل میں نفوذ اور مجاز کے اعتبار سے بھی نور ایمانی کا کوئی شائبہ نہیں رہتا جیسا کہ کسی کو آسمان پر چڑھنے کے لیے مجبور کیا جائے۔ اسی طرح اس شخص کا سینہ اسلام کی طرف رہنمائی نہیں کرتا، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں میں جو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم پر ایمان نہیں لاتے، تکذیب ڈال دیتا ہے، پھر اگر وہ ایمان نہیں لاتے تو ان کو عذاب دیتا ہے۔ اور یہ آپ کے پروردگار کا فیصلہ عدل والا ہے یا یہ کہ یہی آپ کے پروردگار کا صحیح راستہ اسلام ہے یا یہ کہ یہی آپ کے رب کا صحیح اور سیدھا دین ہے جس کو وہ پسند کرتا ہے یعنی دین اسلام۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٢٥ (فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنْ یَّہْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلاَمِ ج) ۔ یہ ایک غور طلب معنوی حقیقت ہے۔ شرح صدر اللہ کی وہ نعمت اور خاص عنایت ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورة الانشراح کی پہلی آیت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ایک بہت بڑے احسان کے طور پر کیا ہے : (اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ ) ۔ لہٰذا ہر مسلمان کو اس شرح صدر کے لیے دعا کرنی چاہیے : اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا نَوِّرْ قُلُوْبَنَا بالْاِیْمَانِ وَاشْرَحْ صُدُوْرَنَا لِلْاِسلَامِ اے اللہ ‘ اے ہمارے ربّ ! تو ہمارے دلوں کو نور ایمان سے منور فرما دے اور ہمارے سینوں کو اسلام کے لیے کھول دے۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے ایسی باطنی بصیرت مانگنی چاہیے جس کی وجہ سے اسلام کی ہرچیز ہمیں ٹھیک نظر آئے۔ اور جب ایک بندۂ مومن میں ایسی بصیرت پیدا ہوجاتی ہے تو ہر قدم اور ہر موڑ پر اس کو اپنے اندر سے ایک آواز سنائی دیتی ہے جو اس کے ہر عمل پر اس کی تائید کرتی ہے۔ یہ انسان کی ایسی اندرونی کیفیت ہے جس میں اس کی فطرت سلیمہ اور نیکی کے جذبے کی آپس میں خوشگوار مطابقت پیدا ہوجاتی ہے اور پھر اسے دین کے کسی حکم سے کسی قسم کی کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہوتی۔ بقول غالبؔ : ؂ دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ جا ناکہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے ! (وَمَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّہٗ یَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَیِّقًا حَرَجًا کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ ط) ۔ جیسے اونچائی پر چڑھتے ہوئے انسان کی سانس پھول جاتی ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا دل شاید دھڑک دھڑک کر باہر ہی نکل آئے گا ‘ ایسے ہی اگر اللہ کی طرف سے انسان کو ہدایت کی توفیق عطا نہ ہوئی ہو تو اس کے لیے راہ حق پر چلنا دنیا کا مشکل ترین کام بن جاتا ہے۔ ذرا سی کہیں آزمائش آجائے تو گویا اس کے لیے قیامت ٹوٹ پڑتی ہے اور ایک ایک قدم اٹھانا اس کے لیے دوبھر ہوجاتا ہے۔ دوسری طرف وہ شخص جس کو اللہ نے شرح صدر کی نعمت سے نوازا ہے اس کے لیے نہ صرف حق کو قبول کرنا آسان ہوتا ہے بلکہ اس راہ کی ہر تکلیف اور ہر مشکل کو وہ شوق اور خندہ پیشانی سے برداشت کرتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

92. 'To open someone's breast to Islam' means to make him feel fully convinced of the truth of Islam and to remove all his doubts, hesitations and reluctance.

سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :92 سینہ کھول دینے سے مراد اسلام کی صداقت پر پوری طرح مطمئن کردینا اور شکوک و شبہات اور تذبذب و تردد کو دور کر دینا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ مکہ کے سرکش لوگوں نے اسلام سے روکنے کی تدبیریں جو نکالیں ہیں وہ تقدیر اور ارادہ تمنا پیدا ہوتی ہے کہ کاش خدا تعالیٰ کی طرف سے جلدی ان معجزوں کا ظہور ہوجاوے تاکہ یہ سرکش لوگ ایمان لے آویں ان کی یہ تمنا بھی کار آمد نہیں کس واسطے کہ یہ دونوں باتیں تدبیرات میں سے ہیں اور کوئی تدبیر تقدیر اور ارادہ ازلی کے مخالف گا رگر نہیں ہوسکتی علم ازلی میں جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مشرف باسلام ہونے کے لائق جان کر اس کی تقدیر میں مسلمان ہونا لکھ دیا ہے اس دنیا عالم اسباب میں خود اس کے سبب یوں پیدا ہوجاتے ہیں کہ اللہ کا ارادہ ازلی اس کے اسلام لانے پر قائم ہوجاتا ہے جس کے سبب سے اس شخص کے دل میں ایک نور پیدا ہوجاتا ہے اور نیک باتوں کو اختیار کرنے پر اس کا دل کھول دیا جاتا ہے اسی طرح علم ازلی میں جو شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک نافرمان ٹھہر چکا ہے اس کے راہ راست پر لانے کے لیے ارادہ ازلی قائم نہیں ہوتا اس واسطے اس کے حق میں اس عالم اسباب میں ویسے ہی اسباب پیش آتے ہیں کہ نیک باتوں سے اس کا دل نفرت کرتا ہے اور نیک باتوں کا ماننا اس کو ایسا دشوار ہوجاتا ہے جس طرح ہر انسان کو آسمان پر چڑھنا مشکل ہے اس قسم کی آیتوں سے فرقہ جبریہ نے آدمی کو قضا و قدر کے موافق عمل کرنے پر مجبور خیال کرلیا ہے اور اصل میں انسان قضاو قدر کے سبب سے مجبور نہیں ہے بلکہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد جو کچھ قیامت تک ہوگا دنیا کے پیدا ہونے سے ہزارہا برس پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی سے اس سب کو معلوم کر کے لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے اسی کا نام قضاء قدر ہے ایک واقعہ کے ظاہر ہونے سے ہپلے علم اور تجربہ سے اس واقعہ کا نتیجہ لکھ لینا اور بات ہے اور ایک واقعہ کے ظاہر ہونے سے پہلے کسی کو اس واقع کے کرنے پر مجبور کرنا اور باب ہے اگر یہ شبہ پڑے کہ جب اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں دنیا کے پیدا ہونے کی حالت میں بعضے لوگ گمراہ معلوم ہوئے تھے تو یہ امر کیا اللہ کے اختیار میں نہ تھا کہ ان کو اللہ تعالیٰ نیک خصلت کر کے پیدا کرتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ صورت مجبوری کے ایمان لانے کی ہے جس طرح مغرب کی طرف سے سورج نکلنے کے بعد کوئی ایمان لادے اسی سورت میں آگے آتا ہے کہ اس طرح کا ایمان اللہ کی درگاہ میں مقبول نہیں ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی میں جس کی جیسی صلاحیت دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے معلوم کی ویسا ہی اس کو پیدا کیا جن آیتوں میں آگے قضاو قدر اور لوح محفوظ کا ذکر آوے گا وہاں اس بات کی زیادہ صراحت آوے گی چند طریق سے تفسیر عبدالرزاق تفسیر ابن جریر وغیرہ میں روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ صحابہ (رض) نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سینہ کے کھول دیے جانے کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک روشنی آدمی کے دل میں پیدا ہوتی ہے جس سے آدمی دنیا سے متنفر اور عقبیٰ کی طرف مائل ہوجاتا ہے اور عقبیٰ کی طرف مائل ہوجانے سے شرع کی تکلیفات کی برداشت اس پر آسان ہوجاتی ہے عالم ارواح کی نور کی حدیث جو اوپر گذر چکی ہے اس سے بھی تفسیر عبدالرزاق وغیرہ کی روایتوں کی پوری تائید ہوتی ہے اور حاصل معنے آیت کے یہ قرار پاتے ہیں کہ اس عالم ارواح کے نور کا ظہور آدمی کے دل میں ہوجاتا ہے جس سے عقبے کے کاموں کی گنجائش ایسے شخص کے دل میں پیدا ہوجاتی ہے یہی مطلب سینہ کے کھولے جانے کا ہے اسی حدیث کے موافق جو روحیں جہالت اور خواہشات نفسانی کے اندھیرے میں رہیں ان کے دل میں عقبے کا یقین نہیں اس لیے ان کے دل میں عقبیٰ کے کاموں کی گنجایش بھی نہیں۔ یہی مطلب سینہ کی تنگی کا ہے جن لوگوں کے دل میں عقبے کا یقین نہیں وہ ذکر الٰہی سے غافل اور دنیا کے کاموں میں ہر وقت مصروف رہتے ہیں اس واسطے ان پر شیطان کا تسلط بھی زیادہ رہتا ہے کیونکہ شیطان تو ذکر الٰہی سے بھاگتا ہے۔ امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے یہاں رِجْسَ کے معنے شیطان کے کئے ہیں صحیح بخاری ومسلم کہ حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری (رض) کی حدیث گذر چکی ہے میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن شریف کی نصیحت کی مثال مینہ کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی فرمائی ہے یہ حدیث گویا اس آیت کی تفسیر ہے کیونکہ آیت اور حدیث کے ملانے سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ جس شخص کے راہ راست پر لانے کے لئے ارادہ ازلی قائم ہوچکا ہے اس کے دل پر قرآن کی نصیحت کی ویسا ہی اثر ہوتا ہے جس طرح اچھی زمین میں مینہ کے پانی کا اثر ہوتا ہے اور جس شخص کے راہ راست پر لانے کے لیے ارادہ ازلی قائم نہیں ہوا اس کے دل پر قرآن کی نصیحت کا اسی طرح کچھ اثر پیدا نہیں ہوتا جس طرح ناکارہ زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے۔ بعضے مفسرین سلف نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ دو قسم کا ہے ایک ارادہ تقدیری ہے جس کے موافق نیکی بدی نیک وبدسب کچھ دنیا میں پیدا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارادہ سے کوئی چیز باہر نہیں ہوسکتی۔ مطلب اس ارادہ کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کی رو سے ہر شخص کے دنیا میں پیدا ہونے کے بعد اس کو نیک وبد جیسا جان لیا تھا ویسا ہی پیدا کیا۔ دوسرا ارادہ شرعی ہے جس کے موافق ہر ایک شریعت میں ہر شخص کو نیکی کرنے کا اور بدی سے بچنے کا حکم ہے اب کے موافق وہ جیسے بد پیدا ہوئے ہیں عمر بھر ویسے رہیں گے اور اس حالت پر مرجاویں گے ایسے ہی لوگوں کی گمراہی کی اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کی اکثر آیتوں میں اپنے ارادہ تقدیری کے نتیجہ کے طور پر ذکر فرمایا ہے لیکن اس میں کچھ کسی کو مجبور نہیں کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارادہ تقدیری ان لوگوں کے ہے جن ارادوں پر یہ لوگ اپنے اختیار سے دنیا میں پیدا ہونے کے بعد قائم رہنے والے تھے اس لیے یہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے کہ کسی واقعہ کے ظاہر ہونے کے پہلے تجربہ کی رو سے اس واقعہ کے انجام اور نتیجہ کو لکھ لینا اور بات ہے :۔ ١٢٦۔ ١٢٧۔ حضرت عبداللہ عباس (رض) نے صراط مستقیم کی تفسیر اسلام کی فرمائی ہے اور عبداللہ بن مسعود (رض) نے قرآن کی حاصل مطلب دونوں تفسیروں کا ایک ہی ہوتا ہے۔ مشرکین مکہ قرآن کی پچھلے لوگوں کی کہانیاں جو کہتے تھے اور بت پرستی کو اسلام سے بہتر جو بتلاتے تھے ان کہ جھٹلانے کو فرمایا ہے کہ اے رسول اللہ کے قرآن کی اس سورة اور اور سورتوں کے ذریعہ سے جا احکام دین اسلام کے تم پر نازل کئے گئے یہ وہ دین ہے جس کو آخری زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا مندی کا سیدھا راستہ ٹھہرایا ہے اور جن لوگوں کے دل پر اس قرآن کی نصیحت کا اثر پڑتا ہے ان کے لیے اس قرآن کی آیتوں میں حرام حلال عذاب ثواب ‘ سب باتوں کی تفصیل موجود ہے پھر فرمایا جو لوگ ان احکام قرآنی کے موافق عمل کریں گے اس عمل کے اجر میں انہیں جنت کے عطا کرنے کا اللہ کفیل اور ضامن ہے۔ قد فصلنا الایات لقوم یذکرون۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی احکام کی اکثر تفصیل تو خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کی آیتوں میں فرما دی ہے اور کچھ تفصیل اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ کردی ہے مثلا احکام نکاح میں اتنی تفصیل تو قرآن میں ہے کہ ساتھ کے ساتھ دو بہنوں سے نکاح حرام ہے باقی کی یہ تفصیل اللہ کے رسول نے اللہ کے حکم سے فرمادی ہے کہ جس طرح ساتھ کے ساتھ دو بہنوں سے نکاح حرام ہے اسی طرح ایک عورت اور اس کی پھوپی سے یا عورت اور اس کی خالہ سے ساتھ کے ساتھ نکاح حرام ہے صحیح بخاری ومسلم وغیرہ میں ابوہریرہ (رض) کی حدیث ہے جس میں اس طرح کے نکاح کے حرام ہونیکا ذکر ہے سورة نحل میں آویگا وَاّنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکرَلِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَانُزِّل اِّلیْھِمْ (١٢۔ ٤٤) جس کا مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے اکثر تفصیل احکام اسلام کی تو قرآن میں موجود ہے رہی باقی کی کچھ تفصیل اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے تم کو یہ اجازت دی ہے کہ تم بقدر ضرورت اور تفصیل کر کے ان لوگوں کو قرآن کی مطلب سمجھا دو جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پورے طور پر احکام اسلامی سمجھنے اور عمل کرنے کے لیے بغیر مدد حدیث نبوی کے ان کو فقط قرآن کافی ہے وہ لوگ گویا نصف وحی کے منکر ہیں کیونکہ معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی ابوداؤد وغیرہ میں مقدام بن معد یکرب (رض) کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ کو قرآن دیا اور اس کے ساتھ اسی کی مثل حدیث دی ہے مطلب اس حدیث کا یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو طرح کی وحی آئی ہے ایک قرآن کی وحی جس میں احکام اسلام بھی ہیں اور اس کی تلاوت اور نماز میں اس کی قرأت کا بھی حکم ہے اسی قدر دوسری وحی حدیث کی ہے جس میں فقط احکام اسلامی قرآن کی تفصیل اور تفسیر کے طور پر ہیں اب حدیث سے بےپروائی جتلانے والے لوگ اس دونوں قسم کی وحی کے گویا منکر ہیں کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو قرآن کی تفصیل اور تفسیر کی اجازت سورة النحل کی آیت میں عطا فرما کر سورة حشر میں یہ بھی فرمادیا وَماَ اٰتاَکمُ ُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَانَھَاکُمُ عَنْہُ فَاْنْتَھُوْا (٥٩۔ ٧) تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ حدیث نبوی سے بےپروائی کرنے والے لوگ پورے قرآن کے بھی قائل نہیں ہیں اسی واسطے مقدام بن معدی کرب (رض) کی حدیث میں پیشین گوئی کے طور پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے لوگوں کی بڑی مذمت فرمائی ہے کہ یہ لوگ اپنے گھروں میں تکیہ لگا کر بیٹھنے والے لوگ ہیں کہیں پھر چل کر انہوں نے پورا علم دین حاصل نہیں کیا اس لئے یہ ایسے نادانی کی باتیں کرتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(6:125) ضیقا۔ تنگی۔ مضائقہ۔ گناہ۔ اصل میں حرج کے معنی کسی چیز کے مجتمع ہونے کے ہیں۔ اور ایک جگہ جمع ہونے میں چونکہ تنگی کا تصور موجود ہے اس لئے تنگی اور گناہ کو حرج کہتے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے نبی کنانہ کے ایک شخص سے دریافت فرمایا کہ ما الحرجۃ۔ اس نے جواب دیا الحرجۃ فینا الشھرۃ تکون بین الا شجار التی لاتصل الیہا راعیۃ ولاوحشیۃ ولا شیئ۔ (حرجہ ہمارے ہاں اس درخت کو کہتے ہیں جو درختوں کے جھنڈ کے درمیان ہو کہ وہاں نہ تو چرواہا جاسکے نہ کوئی وحشی جانور اور نہ کوئی اور چیز وہاں پہنچ سکے) ۔ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا :۔ کذلک قلب المنافق لایصل الیہ شیء من الخیر۔ (منافق کا دل بھی ایسا ہوتا ہے کہ وہاں تک کوئی نیک بات نہیں پہنچتی) ۔ کانما یصعد۔ کان حرف مشبہ بالفعل اسم کو نصب دیتا ہے اور خبر کو رفع۔ ما زائدہ ہے اس کے آنے سے کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ کان کا لفظی تصرف باطل ہوجاتا ہے۔ اس وقت یہ اپنے مابعد کو نہ منصوب کرسکتا ہے نہ مرفوع۔ یہاں تشبیہ کے لئے استعمال ہوا ہے۔ بمعنی گویا۔ جیسے مثلاً کان ذیدا اسد گویا زید شیہ ہے۔ یصعد۔ مضارع واحد مذکر غائب تصعد مصدر (باب تفعیل) اصعاد (افعال) چلنا، سیر کرنا۔ پہنچنا۔ اس کے مفعول پر فی آنا ضروری ہے۔ جیسے اصعد فی الارض وہ زمین پر جلا۔ اس نے زمین پر سیر کی۔ (باب تفعیل) سے (صعد یصعد) چڑھا کر اوپر پہنچ جانا۔ مفعول پر فی یا علی آتا ہے۔ تصعد (باب تفعل) میں اس کا معنی دشوار گزرنا اور شاق ہونا کے ہیں جیسے تصعد فی الشیئ۔ وہ چیز مجھ پر شاق گزری۔ لیکن اگر باب تفعل کی ت کو ص میں ادغام کرکے اصعد بنا لیا جائے جس سے مضارع آیۃ ہذا میں آیا ہے تو چڑھ کر پہنچ جانے کا معنی ہوتا ہے اور مفعول پر فی آتا ہے۔ یصعد اصل میں یتصعد تھا۔ ت کوس میں مدغم کیا۔ ص پر شد دیا گیا ۔ کانما یصعد فی السماء گویا وہ (دشواری سے) آسمان پر چڑھ رہا ہے۔ یجعل علی۔ ڈال دیتا ہے۔ مسلط کردیتا ہے۔ الرجس۔ رجس۔ ناپاک۔ پلید۔ گندہ۔ نجس۔ عذاب۔ عقوبت۔ گناہ۔ الرجس سے مراد شیطان بھی ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ ابن کثیر میں ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 متعدد روایات میں ہے کہ صحابہ کرام (رض) نے پوچھا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کسی کا سینہ کیونکر کھو دیتا ہے ؟ فرمایا ایک نور اس میں ڈال دیتا ہے جس سے سینہ کھل جاتا ہے صحابہ (رض) نے پھر دریافت کیا سینہ کھل جاتا ہے صحابہ (رض) نے پھر دریافت کیا سینہ کھل جانے کی علامت کیا ہے۔ ، فرمایا آخرت کی طرف رحجان دنیا سے بےرغبتی اور موت کے آنے سے پہلے اس کے لیے تیاری کی لگن پیدا ہوجاتی ہے۔ ( ابن کثیر)6 حرج دراصل نہایت تنگ جگہ کو کہتے ہیں یا ایسے گنجان درختوں کو جن تک چر نے والے جانور نہ پہنچ سکتے ہوں حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہی حال کافر کے سینے کا ہے یاک مرتبہ حضرت عمر نے یہ (رض) یہ آیت تلاوت کی پھر فرمایا کہ بنی کنانہ کے کسی چرواہے کو بلا لاؤ چناچہ ایک چرواہے کو بلا یا گیا اس سے حضرت عمر (رض) نے دریافت کیا کہ حرجہ کسے کہتے ہیں ؟ اس نے کہا وہ درخت جو بہت سے درختوں کے درمیان اس طرح گھرا ہو اہو کہ کوئی چرنے والا جانور اس تک نہ پہنچ سکتا ہو۔ حضرت عمر نے فرمایا بس یہی حالت کافر اور منافق کے قلب کی ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے کسی قسم کی خیر بھی راہ نہیں پاتی (ابن کثیر، کبیر)7 یازرو سے آسمان پر چڑھنا چاہتا ہے مگر چڑھ نہیں سکتا۔ یہ اسلام و ایمان سے نفرت کی مثال ہے کہ کافر کے دل پر ایمان لانا اس طرح بھاری ہوتا ہے جیسے کسی کو آسمان پر چڑھنے کی تکلیف دی جائے۔ رازی8 رجس کے لفظی معنی گندگی کے ہیں علمانے نے اس کی تفسیر شیطان عذاب دنیا میں لعنت اور آخرت میں عذاب دنیا میں لعنت اور آّخرت میں عذاب وغیرہ کی ہے مجاہد فرماتے ہیں کہ جفس ہر وہ چیز ہے جو خیر سے خالی ہو۔ اس لفظ میں ان سب معانی کی گنجائش ہے (المنار اوپر بیان فرمایا تھا کہ ہم ایمان کی توفیق نہ دیں گے تو کیونکہ ایمان لے آئیں گے۔ درمیان میں کافر روں کے ان حیلوں کو ذکر فرمایا ہے جن سے وہ مردار کے حلال کرتے تھے، اب اس بات کو جواب دیا جو دلیل دیکھ کر گمراہی کی علامات ہیں ان کو کوئی نشانی راہ ہدایت پر نہ لائے گی، ( موضح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 125 تا 127 : یرد اللہ ( اللہ چاہتا ہے) یشرح ( وہ کھولتا ہے) ‘ صدرہ ( اس کا سینہ۔ اسکا دل) ان یضلہ ( یہ کہ وہ اس کو گمراہ کر دے) ضیق ( تنگ) حرج (بھینچاہوا) کانما ( گویا کہ۔ جیسے کہ) یصعد (اونچائی پر) چڑھتا ہے) الرجس (گندگی۔ عذاب) دارالسلم ( سلامتی کا گھر) ۔ تشریح : آیت نمبر 125 تا 127 : اسلام کے لئے انشراح صدر ہوجانا یعنی سینہ کھل جانا سراسر توفیق الٰہی سے ہے۔ یہ بھی نہ نسبی ہے نہ کسبی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے لئے دعا فرمائی تھی۔ اے رب میرا سینہ کھول دے۔ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بطور نعمت خاص کہا گیا۔ کیا ہم نے آپ کے سینے کو کھول نہیں دیا ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے انشراح صدر کی تفسیر دریافت کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو کچھ فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ ایک روشنی ہے جسے اللہ تعالیٰ دل میں ڈال دیتا ہے ( یہ روشنی ایمان کی ہے) ۔ مومن کو خود بخود حق سے محبت بڑھتی جاتی ہے اور باطل سے نفرت۔ صحابہ کرام (رض) نے پوچھا اس کی پہچان کیا ہے ؟ فرمایا مومن فانی لذتوں تے گھبراتا ہے او و لافانی لذتوں کے لئے بیقرار رہتا ہے۔ وہ موت کی تیاری موت سے پہلے کرنے لگتا ہے۔ صراط مستقیم ‘ کا ترجمہ عام طور پر سیدھا راستہ کیا گیا ہے یعنی وہ راستہ جس میں کسی منزل میں یہ سوال نہ اٹھے کہ اب کدھر جاؤں۔ ایک طرف نور ایمانی یعنی شرح صدر رہے جو خود ہی راہی بھی ہے اور رہنما بھی۔ اور دوسری طرف نشانات راہ ہیں۔ گویا ہر منزل پر آگے کی منزل خود بخود واضح ہوتی جاتی ہے۔ حق پکارتا ہے۔ ادھر آئو۔ میں یہاں ہوں۔ لیکن ایک بہتر ترجمہ ہے۔ استقامت کا راستہ۔ اسلام کا راستہ بڑے خار زاروں اور آزمائشوں سے گذرتا ہے۔ یہاں قدم قدم پر حالات مختلف شکلیں دھارکرآتے ہیں کہیں رشوت ہے کہیں فریب ہے۔ کہیں خوف۔ یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا یہاں وہی پاؤں دھرے جو ہمت اور استقامت سے مسلح ہو۔ بہک نہ جائے ‘ پھسل نہ جائے ‘ گرنہ جائے ‘ ٹوٹ نہ جائے ‘ طاقت کے پہاڑ سے ٹکرائے۔ شیر کے منہ میں پنجہ ڈالے۔ آگ کے سمندر میں بےخطر کود پڑے اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا سلیقہ جانتا ہو۔ استقامت ‘ امضبوطی ارادہ ‘ ہمت ‘ شجاعت ‘ قیادت ‘ تدبیر ‘ محنت ‘ لگن ‘ اور مگن ‘ مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود اپنا پرچم لہراتے ہوئے ترقی ‘ پیش قدمی ‘ خوش رفتاری۔ ان کے بغیر یہ راہ طے نہیں ہوسکتی۔ اور پھر قدم قدم پر یہ تمنا یہ تڑپ کہ اے اللہ ہمیں وہ راستہ دکھا دیجئے جس میں آپ کی نصرت قدم چومتی ہے۔ وہ عقائد وہ ایمان وہ غیر متزلزل اعمال عطا فرمائیے جو اس دار لاخرت کی طرف لے جائیں جس پر آپ کی طرف سے سلامتی ہے۔ صراط مستقیم شکوک و شبہات کا راستہ نہیں ہے۔ شرح صدر کے قطعاً معنی یقین کامل کے ہیں۔ اور جب یہ کیفیت پیدا ہوگی تو راستہ بھی صاف نظر آئے گا اور دل بھی بےدھڑک آتش نمرود میں کود پڑے گا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یعنی قلب کو۔ 6۔ یعنی چڑھنا چاہتاہو اور چڑھا نہیں جاتا اور جی تنگ ہوتا ہے اور مصیبت کا سامنا ہوتا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے کفر، مشرکوں کے شرک اور منافقوں کی منافقت کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ان کے سینے اسلام کے بارے میں بند ہوجاتے ہیں۔ قرآن مجید نے ہدایت پانے اور بات کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے یہ اصول بیان کیا ہے کہ سننے والا پوری توجہ، دل کی حاضری اور ہدایت پانے کے لیے بات سنے یقیناً اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے بہرہ مند کردیتا ہے۔ ( ق : ٣٧) لیکن منکرین حق کی شروع سے ہی یہ بری عادت ہے کہ وہ سچی بات قبول کرنا تو درکنار اس کی سماعت بھی ان کے لیے گرانی کا باعث ہوا کرتی ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کفار نے یہاں تک معاندانہ رویہ اختیار کیا کہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) توحید کی دعوت دیتے تو کفار اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال کر اپنے چہرے چھپاتے ہوئے ان سے دور بھاگ جاتے تھے۔ (قَالَ رَبِّ إِنِّی دَعَوْتُ قَوْمِی لَیْلًا وَنَہَارًا۔ فَلَمْ یَزِدْہُمْ دُعَاءِی إِلَّا فِرَارًا وَإِنِّی کُلَّمَا دَعَوْتُہُمْ لِتَغْفِرَ لَہُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَہُمْ فِی آَذَانِہِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِیَابَہُم وَأَصَرُّوا واسْتَکْبَرُوا اسْتِکْبَارًا۔ )[ نوح : ٥ تا ٧] ” نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب میں نے اپنی قوم کو رات دن دعوت دی مگر میری دعوت سے ان کے فرار میں اضافہ ہوا اور میں نے جب بھی انہیں بلایا تاکہ تو انہیں معاف کر دے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے۔ اور اپنی روش پر اڑ گئے اور تکبر کی انتہاکر دی۔ “ یہی رویہ منکرین حق نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اختیار کیا۔ جب انھیں قرآن مجید غور کے ساتھ سننے کی طرف توجہ دلائی جاتی تو وہ بظاہر غور کے ساتھ سنتے لیکن حقیقت میں عدم توجہ اختیار کیے رکھتے اور آخر میں کہتے یہ باتیں ہمارے فہم و ادراک سے باہر اور قوت سماعت کے لیے بوجھ کے سوا کچھ بھی نہیں اس طرح جو حکم بھی ان کے پاس آتا وہ اس کا مسلسل انکار کردیتے اور اس پر پروپیگنڈے کے ذریعے غالب آنے کی کوشش کرتے جو شخص حق بات سننے سے احتراز کرے اسے کس طرح ہدایت نصیب ہوسکتی ہے۔ کیونکہ ہدایت اسے نصیب ہوتی جو اسے پانے کی خواہش اور کوشش کرتا ہے۔ جب انسان خلوص نیت کے ساتھ چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا سینہ کھول دیتا ہے لیکن جو اس سے مسلسل اعراض کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا سینہ بند کردیتا ہے۔ اس کے لیے ہدایت پانا ایسے ہی مشکل ہوتا ہے جیسا کہ انسان کا آسمان پر چڑھنا ناممکنات میں سے ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ گمراہ انسان نے اپنے لیے خود گمراہی کو پسند کیا ہوا ہے۔ لہٰذا یہ کج فکری اس کے لیے گندے اعمال کا سبب ہوتی ہے اور یہ گندگی اس کے برے عقیدہ کی وجہ سے ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ گندگی اس پر ہمیشہ کے لیے مسلط کردی جاتی ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا اسلام کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ ٢۔ کافر ایمان لانے میں تنگی محسوس کرتے ہیں۔ ٣۔ کافروں کے ارادۂ کفر و شرارت کی وجہ سے انھیں راہ ہدایت کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ ٤۔ کفر و شرک گندگی ہے جو کافر اور مشرک پر مسلط ہوجاتی ہے۔ تفسیر بالقرآن کن لوگوں پر گمراہی مسلط ہوتی ہے : ١۔ ایمان نہ لانے والوں پر گمراہی مسلط کردی جاتی ہے۔ (الانعام : ١٢٥) ٢۔ شیطان کی دوستی اختیار کرنے والوں گمراہی مسلط کردی جاتی ہے۔ (الاعراف : ٣٠) ٣۔ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جن کو اللہ نے ہدایت عطا کی اور کچھ پر اللہ نے گمراہی مسلط کردی۔ (النحل : ٣٦) ٤۔ جن لوگوں پر گمراہی مسلط کردی جاتی ہے وہ ایمان نہیں لاتے۔ (یونس : ٩٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” فَمَن یُرِدِ اللّہُ أَن یَہْدِیَہُ یَشْرَحْ صَدْرَہُ لِلإِسْلاَمِ وَمَن یُرِدْ أَن یُضِلَّہُ یَجْعَلْ صَدْرَہُ ضَیِّقاً حَرَجاً کَأَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِیْ السَّمَاء کَذَلِکَ یَجْعَلُ اللّہُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ (125) ” پس حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینے کو تنگ کردیتا ہے اور ایسا بھینچتا کہ اسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا اس کی روح آسمان کی طرف پرواز کر رہی ہے ۔ اس طرح اللہ ناپاکی ان لوگوں پر مسلط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ۔ ‘ اللہ تعالیٰ نے اس جہاں میں ہر شخص کو اختیار تمیزی اور آزادی دی ہے کہ ضلالت اختیار کرے یا ہدایت ۔ اب جو شخص اللہ تعالیٰ کی اس سنت جاریہ کے مطابق جو اس نے اس کائنات میں ہدایت کے سلسلے میں وضع فرمائی ہے راہ کے حصول میں دلچسپی رکھتا ہے اور اسے آزمانے کے لئے اسے جو اختیار دیا گیا ہے اور وہ اس کو استعمال کر کے ہدایت کے لئے سعی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سینہ کو اسلام کے لئے کھول دیتا ہے ۔ اس کے دل کے دریچے کھل جاتے ہیں اور وہ بسہولت اسلام کو قبول کرتا ہے اور اس میں دلچسپی لیتا ہے ‘ اس پر مطمئن ہوجاتا ہے اور وہ اسلام کے ساتھ گھل مل جاتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے جس کے لئے گمراہی مقدر کردی ہے ‘ اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی اسی سنت جاریہ کے مطابق اسی شخص کو مقدر کردی جاتی ہے جسے اسلام اور ہدایت سے کوئی دلچسپی نہیں رہتی ۔ اس کے دل کے دریچے بند ہوجاتے ہیں اور اس کا سینہ اسلام کے لئے تنگ ہوجاتا ہے ۔ اس کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ گویا اس کی روح آسمان پر پرواز کرنے والی ہے ۔ چناچہ اس کا دل و دماغ اس کے لئے بند ہوجاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو اختیار کرنے میں نہایت ہی مشکل محسوس کرتا ہے ۔ (آیت) ” کانما یصعد فی السمآئ “۔ کے الفاظ میں ایک نفسیاتی صورت حال کا نقشہ حسی انداز بیان میں کھینچا گیا ہے ۔ ایسے حالات جس میں انسان کی سانس پھول جاتی ہے اور سینہ تنگی محسوس کرتا ہے ‘ جس طرح بلندی پر چڑھتے وقت انسان محسوس کرتا ہے ۔ مفہوم کے ساتھ ساتھ قراۃ حفص کے مطابق لفظ (یصعد) کے اندر بذات خود ایک قسم کی سختی اور مشکل پائی جاتی ہے اور بڑی محنت سے یہ لفظ ادا ہوا ہے ۔ اس لفظ کی آواز ہی سے اس کے مفہوم کی مشکلات کا اندازہ ہوتا ہے ۔ یوں انسان کی نفسیاتی حالت ‘ اس کی حسی حالت اور انداز تعبیر سب کے سب یہاں یکجا اور یک رنگ ہوجاتے ہیں۔ (تفصیلات دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی میں بحث حسی تخیل) یہ منظر اس اختتامیہ پر ختم ہوتا ہے : (آیت) ” کَذَلِکَ یَجْعَلُ اللّہُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ (125) ” اس طرح اللہ ناپاکی ان لوگوں پر مسلط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ۔ ‘ اسی طرح کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اپنا نظام قضا وقدر جاری کیا ہے ۔ اس کے مطابق اور اللہ کی جاری وساری سنت کے مطابق جو شخص راہ ہدایت تلاش کرتا ہے اللہ اس کا سینہ کھول دیتا ہے اور جو شخص ہدایت کو پسند نہیں کرتا اللہ اسے گمراہی کے راستے پر ڈال دیتا ہے ۔ اللہ اس طرح ایمان نہ لانے والوں کو گندگی میں ڈال دیتا ہے ۔ (الرجس) کے مفہومات میں سے ایک مفہوم عذاب بھی ہے اور اس کے مفہوم میں گندگی اور ناپاکی بھی ہے اور گراوٹ بھی ہے ۔ یعنی جو شخص اس ناپاکی اور گندگی کے دلدل میں پھنس جاتا ہے وہ اسی میں پڑا رہتا ہے اور رجس کے لفظ کے استعمال سے یہی اشارہ دینا مطلوب ہے ۔ اب ہم اس آیت پر دو بار غور کرتے ہیں : (آیت) ” فَمَن یُرِدِ اللّہُ أَن یَہْدِیَہُ یَشْرَحْ صَدْرَہُ لِلإِسْلاَمِ وَمَن یُرِدْ أَن یُضِلَّہُ یَجْعَلْ صَدْرَہُ ضَیِّقاً حَرَجاً کَأَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِیْ السَّمَاء کَذَلِکَ یَجْعَلُ اللّہُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ (125) ” پس حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینے کو تنگ کردیتا ہے اور ایسا بھینچتا کہ (اسلام کا تصور کرتے ہی) اسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا اس کی روح آسمان کی طرف پرواز کر رہی ہے ۔ اس طرح اللہ (حق سے فرار اور نفرت کی) ناپاکی ان لوگوں پر مسلط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ۔ ‘ اس آیت میں جس عظیم حقیقت کو بیان کیا گیا ہے یعنی مشیت الہیہ اور اس کے ساتھ وہ تمام دوسری آیات ونصوص جن کا تعلق اللہ کی مشیت اور انسانی اعمال اور رجحانات سے ہے ‘ اور جن میں انسانی اعمال پر جزا وسزا کو مرتب کیا گیا ہے یا جن میں انسان کی ہدایت اور ضلالت کے احکام مرتب ہوئے ہیں ‘ ان تمام آیات کو صحیح طرح سمجھنے کے لئے عقلی اور فلسفیانہ منطق کے سوا ایک دوسری منطق اور قوت ادراک کی ضرورت ہے ۔ یہ منطق اور قوت ادراک ‘ ہماری ظاہری عقل اور منطق سے وراء ہے ۔ اس سلسلے میں اسلامی افکار کی تاریخ میں جو بحثیں معتزلہ اور اہل سنت کے درمیان ہوئی ہیں اور اہل سنت اور مرجئہ کے درمیان اور اس سے قبل عیسائیوں کے فلسفہ لاہوت کے اندر جو بحث وجدال رہی ہے اس سلسلہ میں جو منطقی صغری وکبری متعین ہوئے ان سب سے وہ قوت مدرکہ ورا ہے ۔ اس نازک بحث کو سمجھنے کے لئے ہمیں انسان کی عقلی اور منطقی دنیا سے ذرا آگے جانا ہوگا اور اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے ہمیں عقلی اور فلسفیانہ دنیا سے ذرا باہر آکر انسان کی عملی زندگی میں آنا ہوگا ۔ قرآن کریم جس صورت حال کی تصویر کشی کر رہا ہے اس کا تعلق انسان کی عملی صورت حالات سے ہے ۔ اس کا تعلق محض عقلی اور فلسفیانہ مباحث سے نہیں ہے ۔ انسان کے واقعی حالات اور اس کے علمی شب وروز جس طرح ہوتے ہیں اور اس کائنات میں جس طرح عملی طور پر چلتے ہیں ان آیات میں ان کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔ جب ہم انسان کی عملی دنیا کو دیکھتے ہیں تو اس میں اللہ کی قدرت اور مشیت اور انسان کا ارادہ اور سعی وعمل ساتھ ساتھ چلتے نظر آتے ہیں اور ان کا عملی میدان اس طرح باہم ملا ہوا ہے کہ محض فلسفیانہ منطق اس گتھی کو سلجھا نہیں سکتی ۔ اگر کوئی یہ کہے کہ اللہ کا ارادہ اور تقدیر انسان کو ہدایت یا ضلالت کی طرف دھکیل دیتی ہے تو یہ صورت بھی عملی نہیں ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ بس انسان کا ارادہ اور عمل ہی اس کے انجام کو متعین کرتا ہے تو عملا ایسا بھی نہیں ہے ۔ حقیقت کا تعلق ان دونوں امور کے ساتھ ہے اور وہ اس قدر لطیف اور نظروں سے اوجھل ہے اور اسی طرح بین بین ہے کہ ایک طرف اللہ کی مشیت مطلقہ ہے اور دوسری جانب انسان کا ارادہ اور رجحان ہے ‘ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور ان کے درمیان عملا تصادم بھی نہیں ہوتا ۔ لیکن جبر واکراہ اور قدرت اختیار کے اس حسین امتزاج کی اصل نوعیت کو ہم محض استدلال یا عقلی سوچ کے ذریعے متعین نہیں کر پاتے ۔ نہ ہم اس کی واضح تعبیر انسانی الفاظ وعبارات میں کرسکتے ہیں ۔ اس لئے کہ انسانی عبارات کسی حقیقت کی حقیقی نوعیت سے عبارت ہوتی ہیں اور جب اصل حقیقت ہی منطقی استدلال اور عقلی فکر کی رینج سے باہر ہو تو عبارات اور اسلوب اظہار کیا کرسکتا ہے ۔ اس عظیم عملی حقیقت کے صحیح تصور کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ انسان کو بیک وقت عقلی اور روحانی دنیا کا تجربہ ہو ۔ عملا یہ ہوتا ہے کہ جس شخص کا فطری میلان اسلام کی طرف ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو اسلام کے لئے کھول دیتا ہے ۔ یہ بات قطعی طور پر اللہ کا فعل ہوتی ہے اس لئے کہ یہ شرح صدر ایک وقوعہ ہے اور کوئی وقوعہ اللہ کی تخلیق کے بغیر ظہور پذیر نہیں ہو سکتا ۔ اور جس کی فطرت ضلالت کی طرف متوجہ ہوتی ہے تو وہ اپنے دل میں تنگی اور گھٹن محسوس کرتا ہے اور اسلام وہدایت کا تصور کرتے ہی وہ مشکل محسوس کرتا ہے ۔ یہ بھی اللہ کا کام ہے کیونکہ یہ بھی ایک وقوعہ ہے اور اس کا ظہور بھی اللہ کی تخلیق اور عملا اس کی مشیت کے بغیر نہیں ہوسکتا ۔ یہ دونوں امور اس ارادے کے تابع ہیں جو اللہ کی ذات انسانوں کے بارے میں فرماتی ہے ۔ لیکن اللہ کے اس ارادے کو جبری ارادہ نہیں کہہ سکتے ۔ یہ ارادہ اللہ کی سنت جاریہ کے مطابق ہے ۔ وہ سنت یہ ہے کہ اللہ نے حضرت انسان کو ایک مخصوص مقدار میں آزادی عطا کرکے اسے آزمائش میں ڈال دیا ہے اور اللہ کی یہ سنت اور یہ تقدیر انسان کی جانب سے اس آزادی کے استعمال کے نتیجے میں اپنا کام کرتی ہے ۔ رہی ہدایت وضلالت تو یہ انسان کے خود اپنے رجحان اور صلاحیت پر مبنی ہے ۔ اگر ہم ایک عقلی صغری کے مقابلے میں ایک عقلی کبری لائیں اور ان صغری اور کبری کے قضیوں کے ساتھ روحانی اور باطنی علم کو نہ ملائیں اور نہ ہی اس کے ساتھ انسان کے عملی اور نفسیاتی تجربات کو شامل کریں تو ہم اس عظیم حقیقت کو اپنے ادراک کے دائرے میں نہیں لا سکتے ۔ پوری اسلامی تاریخ میں اس مسئلے پر جو بحث وجدال رہا اس کا یہی نتیجہ نکلا ہے ۔ اور طرح اسلام کے علاوہ دوسرے فلسفوں کا نتیجہ بھی ایسا ہی رہا ہے ۔ لہذا اس مسئلے کو سمجھنے کے لئے ہمیں عملی اور روحانی ذوق کو بھی استعمال کرنا ہوگا ۔ ایسا ذوق جو اس حقیقت کو منطقی صغری وکبری سے نکل کر براہ راست پاسکے ۔ اب ہم دوبارہ سیاق قرآن کی طرف لوٹتے ہیں ۔ اس سبق کی یہ لہر سابق بیان پر بطور تبصرہ وارد ہوئی ۔ سابق بیان ذبیحوں کی حلت اور حرمت کے بارے میں تھا لیکن یہ تمام امور دراصل ایک ہی پیکج کے مختلف حصے ہیں ۔ انسان کے اندر دینی شعور کی تعمیر ‘ انسان کے لئے قانون اور اقتدار کی تجویز ‘ انسان پر اللہ کی حاکمیت کا تصور اور ان سب کو دائرہ ایمان کے اندر لا کر ایک ہی پیکج بنا دینا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ایمان اور کفر اور ہدایت وضلالت کے مضمون کو بھی بیچ میں بیان کردیا گیا ۔ اب آخر میں ایک دوسرا تبصرہ آتا ہے جس کے نتیجے میں یہ تمام امور باہم مربوط ہوجاتے ہیں ۔ ان امور کا مجموعہ صراط مستقیم کہلاتا ہے ۔ اگر ان امور میں سے کوئی ایک بھی ترک کردیا گیا تو گویا انسان نے صراط مستقیم کو ترک کردیا ۔ یعنی عقیدہ توحید و شعور بھی اس کا حصہ ہے اور اس راستے پر جا کر انسان دارالسلام تک پہنچتا ہے ۔ اور دارالسلام میں اللہ اہل ایمان کا دوست وولی ہوتا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

صاحب ہدایت کا سینہ کشادہ اور گمراہ کا سینہ تنگ ہوتا ہے آیت قرآنیہ سن کر اور آیات تکوینیہ دیکھ کر بہت سے لوگ مسلمان ہوجاتے تھے اور اکثر کفر سے چمٹے رہتے تھے اس آیت میں اللہ رب العزت تعالیٰ شانہٗ نے یہ بتایا کہ اللہ جل شانہٗ جس شخص کو ہدایت دینا چاہیے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ اس کے دل میں اسلام کی طرف سے کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا۔ اور بلا پس و پیش سچے دل سے پورے اخلاص کے ساتھ قبول کرلیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جسے گمراہی میں باقی رکھنا چاہے اس کے سینہ کو تنگ کردیتا ہے اسلام کی دعوت سن کر اس کا سینہ تنگ ہوجاتا ہے اور اسلام قبول کرنے کی بات سامنے آتی ہے تو یہ ایسا دو بھر اور دشوار معلوم ہوتا ہے کہ جیسے وہ بڑی مصیبت کے ساتھ آسمان پر چڑھ رہا ہو۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آیت بالا تلاوت فرمائی پھر ارشاد فرمایا کہ جب نور سینہ میں داخل ہوجاتا ہے تو سینہ کھل جاتا ہے۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! کیا ایسی کوئی نشانی ہے جس کے ذریعہ اس کو پہچان لیا جائے۔ آپ نے فرمایا ہاں اس کی نشانی یہ ہے کہ دارالغرور (دنیا) سے دور رہے اور دارالخلود (ہمیشہ رہنے کی جگہ) کی طرف رجوع کرے اور موت سے پہلے اس کی تیاری کرلے۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان کمافی المشکوٰۃ ص ٤٤٦) سینہ کی تنگی کا مطلب بتاتے ہوئے حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو دل میں انقباض ہونے لگے اور گھبراہٹ محسوس ہو اور اگر بتوں کی عبادت کا ذکر آئے تو دل خوشی کی کیفیت طاری ہو۔ (ذکرہ فی معالم التنزیل) معلوم ہوا کہ مومن کو اپنے ایمان پر شاداں وفرحاں خوب خوش رہنا چاہئے ایمان اور ایمانیات کی وجہ سے دل خوشی کی لہریں دوڑتی رہیں۔ پھر فرمایا (کَذٰلِکَ یَجْعَلُ اللّٰہُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) اللہ ایسے ہی عذاب بھیج دیتا ہے ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے۔ علماء تفسیر نے رجس کے کئی معنی کیے ہیں۔ روح المعانی میں اولاً عذاب اور خذلان کا ترجمہ کیا ہے۔ پھر حضرت مجاہد تابعی سے نقل کیا ہے کہ الرجس مالاخیرفیہ یعنی جس میں کوئی خیر نہ ہو وہ رجس ہے۔ پھر علامہ راغب اصفہانی سے نقل کیا ہے کہ الرجس الشئی القذر یعنی گھناؤنی چیز اور زجاج سے نقل کیا ہے۔ ھو اللعنۃ فی الدنیا و العذاب فی الاٰخرۃ۔ یہاں یہ سب معانی مراد ہوسکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ پاک گمراہ شخص کا سینہ تنگ کردیتا ہے اسی طرح ان لوگوں پر رجس ڈال دیتا ہے جنہیں ایمان لانا نہیں ہوتا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

138 ہدایت اور گمراہی اللہ کے اختیار میں ہے جسے وہ ہدایت دینا چاہے اس کے سینے میں وسعت پیدا کردیتا ہے اور اسے قبول حق کی توفیق عطا کردیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہے اس کا سینہ تنگ کردیتا ہے اور اس سے قبول حق کی توفیق سلب کرلیتا ہے۔ مگر یہ سب کچھ اس کے قانون تکوینی کے مطابق ہوتا ہے۔ وہ منیبین کو ہدایت دیتا ہے اور معاندین کو گمراہ کرتا ہے۔ ضد وعناد کی وجہ سے ان کے دلوں میں قبول حق کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

125 پس جس شخص کو اللہ تعالیٰ صحیح راستے پر چلانا چاہتا ہے اس کے سینے کو سالام کے لئے کھول دیتا ہے اور جس کو بےراہ رکھنا منظور ہوتا ہے تو اس کے سینے کو بہت ہی تنگ کردیتا ہے اور اس کو ایمان لانا ایسی مصیبت معلوم ہوتا ہے کہ جیسے وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے ۔ اسی رطح اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے لعنت و پھٹکار اور عذاب کو مسلط کردیتا ہے۔ یعنی اسلام سے گھبراتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ آسمان پر چڑھ جائے یا اس طرح جیسے کوئی آسمان پر چڑھنا چاہے اور چڑھ نہ سکے اور دل تنگ ہو ۔ بہرحال ! مشیت الٰہی جس کا ساتھ دستی ہے وہ کشادہ دلی اور طیب خاطر کے ساتھ ایمان کو قبول کرلیتا ہے اور مشیت الٰہی جن کی رہنما نہیں ہوتی وہ اسلام قبول کرنے سے دل تنگ اور بھچے بھچے پھرتے ہیں۔