Allah said,
فَمَن يُرِدِ اللّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلِسْلَمِ
...
And whomsoever Allah wills to guide, He opens his breast to Islam;
He makes Islam easy for him and strengthens his resolve to embrace it, and these are good signs.
Allah said in other Ayat,
أَفَمَن شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلِسْلَـمِ فَهُوَ عَلَى نُورٍ مِّن رَّبِّهِ
Is he whose breast Allah has opened to Islam, so that he is in light from His Lord (as he who is a non-Muslim). (39:22)
and,
وَلَـكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الايمَـنَ وَزَيَّنَهُ فِى قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُوْلَـيِكَ هُمُ الرَشِدُونَ
But Allah has endeared the faith to you and has beautified it in your hearts, and has made disbelief, wickedness and disobedience hated by you. Such are they who are the rightly guided. (49:7)
Ibn Abbas commented on Allah's statement,
فَمَن يُرِدِ اللّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلِسْلَمِ
(And whomsoever Allah wills to guide, He opens his breast to Islam),
"Allah says that He will open his heart to Tawhid and faith in Him."
This is the same as was reported from Abu Malik and several others, and it is sound.
Allah's statement,
فَمَن يُرِدِ اللّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلِسْلَمِ
(and whomsoever He wills to send astray, He makes his breast closed and constricted),
refers to inability to accept guidance, thus being deprived of beneficial faith.
...
وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا
...
and whomsoever He wills to send astray, He makes his breast closed and constricted,
...
كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاء
...
...as if he is climbing up to the sky.
because of the heaviness of faith on him.
Sa`id bin Jubayr commented that in this case,
"(Islam) finds every path in his heart impassable."
Al-Hakam bin Aban said that Ikrimah narrated from Ibn Abbas that he commented on:
كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاء
(...as if he is climbing up to the sky),
"Just as the Son of Adam cannot climb up to the sky, Tawhid and faith will not be able to enter his heart, until Allah decides to allow it into his heart."
Imam Abu Jafar bin Jarir commented:
"This is a parable that Allah has given for the heart of the disbeliever, which is completely impassable and closed to faith. Allah says, the example of the disbeliever's inability to accept faith in his heart and that it is too small to accommodate it, is the example of his inability to climb up to the sky, which is beyond his capability and power."
He also commented on Allah's statement,
...
كَذَلِكَ يَجْعَلُ اللّهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لاَ يُوْمِنُونَ
Thus Allah puts the Rijs (wrath) on those who believe not.
"Allah says that just as He makes the heart of whomever He decides to misguide, closed and constricted, He also appoints Shaytan for him and for his likes, those who refused to believe in Allah and His Messenger. Consequently, Shaytan lures and hinders them from the path of Allah."
Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas said that,
Rijs, refers to Shaytan,
Mujahid said that;
Rijs,refers to all that does not contain goodness.
Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said that,
Rijs, means, `torment'.
جس پر اللہ کا کرم اس پہ راہ ہدایت آسان
اللہ کا ارادہ جسے ہدایت کرنے کا ہوتا ہے اس پر نیکی کے راستے آسان ہو جاتے ہیں جیسے فرمان ہے آیت ( افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ ) الخ ، یعنی اللہ ان کے سینے اسلام کی طرف کھول دیتا ہے اور انہیں اپنا نور عطا فرماتا ہے اور آیت میں فرمایا آیت ( وَلٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْاِيْمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَكَرَّهَ اِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْيَانَ ۭاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَ ) 49 ۔ الحجرات:7 ) اللہ نے تمہارے دلوں میں ایمان کی محبت پیدا کر دی اور اسے تمہارے دلوں میں زینت دار بنا دیا اور کفر فسق اور نافرمانی کی تمہارے دلوں میں کراہیت ڈال دہی یہی لوگ راہ یافتہ اور نیک بخت ہیں ۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس کا دل ایمان و توہید کی طرف کشادہ ہو جاتا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ سب سے زیادہ دان کون سا مومن ہے ؟ فرمایا سب سے زیادہ موت کو یاد رکھنے والا اور سب سے زیادہ موت کے بعد کی زندگی کے لئے تیاریاں کرنے والا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو فرمایا کہ اس کے دل میں ایک نور ڈال دیا جاتا ہے جس سے اس کا سینہ کھل جاتا ہے لوگوں نے اس کی نشانی درریافت کی تو فرمایا جنت کی طرف جھکنا اور اس کی جانب رغبت کام رکھنا اور دنیا کے فریب سے بھاگنا اور الگ ہونا اور موت کے آنے سے پہلے تیاریاں کرنا ضیقا کی ایک قرأت ( ضیقا ) بھی ہے ( حرجا ) کی دوسری ( حرجا ) بھی ہے یعنی گنہگار یا دونوں کے ایک ہی معنی یعنی تنگ جو ہدایت کے لئے نہ کھلے اور ایمان اس میں جگہ نہ پائے ، ایک مرتبہ ایک بادیہ نشین بزرگ سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حرجہ کے بارے میں دریافت فرمایا تو اس نے کہا یہ ایک درخت ہوتا ہے جس کے پاس نہ تو چرواہے جاتے ہیں نہ جانور نہ وحشی ۔ آپ نے فرمایا سچ ہے ایسا ہی منافق کا دل ہوتا ہے کہ اس میں کوئی بھلائی جگہ پاتی ہی نہیں ۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اسلام باوجود آسان اور کشادہ ہونے کے اسے سخت اور تنگ معلوم ہوتا ہے خود قرآن میں ہے آیت ( وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ ) 22 ۔ الحج:78 ) اللہ نے تمہارے دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی ۔ لیکن منافق کا شکی دل اس نعمت سے محروم رہتا ہے اسے لا الہ الا اللہ کا اقرار ایک مصیبت معلوم ہوتی ہے ، جیسے کسی پر آسمان پر جڑھائی مشکل ہو ، جیے وہ اس کے بس کی بات نہیں اسی طرح توحید و ایمان بھی اس کے قبضے سے باہر ہیں پس مردہ دل والے کبھی بھی اسلام قبول نہیں کرتے ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بے ایمانوں پر شیطان مقرر کر دیتا ہے جو انہیں بہکاتے رہتے ہیں اور خیر سے ان کے دل کو تنگ کرتے رہتے ہیں ۔ نحوست ان پر برستی رہتی ہے اور عذاب ان پر اتر آتے ہیں ۔