Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 136

سورة الأنعام

وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الۡحَرۡثِ وَ الۡاَنۡعَامِ نَصِیۡبًا فَقَالُوۡا ہٰذَا لِلّٰہِ بِزَعۡمِہِمۡ وَ ہٰذَا لِشُرَکَآئِنَا ۚ فَمَا کَانَ لِشُرَکَآئِہِمۡ فَلَا یَصِلُ اِلَی اللّٰہِ ۚ وَ مَا کَانَ لِلّٰہِ فَہُوَ یَصِلُ اِلٰی شُرَکَآئِہِمۡ ؕ سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ ﴿۱۳۶﴾

And the polytheists assign to Allah from that which He created of crops and livestock a share and say, "This is for Allah ," by their claim, " and this is for our partners [associated with Him]." But what is for their "partners" does not reach Allah , while what is for Allah - this reaches their "partners." Evil is that which they rule.

اور اللہ تعالٰی نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کئے ہیں ان لوگوں نے ان میں سے کچھ حصہ اللہ کا مقرر کیا اور ہزعم خود کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ کا ہے اور یہ ہمارے معبودوں کا ہے پھر جو چیز ان کے معبودوں کی ہوتی ہے وہ تو اللہ کی طرف نہیں پہنچتی اور جو چیز اللہ کی ہوتی ہے وہ ان کے معبودوں کی طرف پہنچ جاتی ہے کیا برا فیصلہ وہ کرتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Some Acts of Shirk Allah chastises and criticizes the idolators who invented innovations, Kufr and Shirk, and called on partners and rivals with Allah among His creation, although He created every thing, all praise is due to Him. This is why Allah said, وَجَعَلُواْ لِلّهِ مِمِّا ذَرَأَ ... And they assign to Allah from that which He has created, ... مِنَ الْحَرْثِ ... of the tilth, meaning, fruits and produce, ... وَالاَنْعَامِ نَصِيبًا ... and of the cattle a share, meaning a part and a section. ... فَقَالُواْ هَـذَا لِلّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـذَا لِشُرَكَأيِنَا ... and they say: "This is for Allah," according to their claim, "and this is for our partners." Allah said next, ... فَمَا كَانَ لِشُرَكَأيِهِمْ فَلَ يَصِلُ إِلَى اللّهِ وَمَا كَانَ لِلّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَأيِهِمْ ... But the share of their "partners" reaches not Allah, while the share of Allah reaches their "partners"! Ali bin Abi Talhah and Al-Awfi narrated that Ibn Abbas said; "When they, the enemies of Allah, would cultivate the land or collect produce, they would assign a part of it to Allah and another part to the idol. They would keep the share for the idol, whether land, produce or anything else, and preserve its division to such an extent that they would collect anything that accidentally falls from the share they assigned to Allah and add it to the share of the idol. If the water that they assigned for the idol irrigated something (a section of land, for instance) that they assigned for Allah, they would add whatever this water irrigated to the idol's share! If the land or produce that they assigned for Allah was accidentally mixed with the share that they assigned for the idol, they would say that the idol is poor. Therefore, they would add it to the share they assigned for the idol and would not return it to the share they assigned for Allah. If the water that they assigned for Allah irrigated what they assigned for the idol they would leave it (the produce) for the idol. They also made some of their other property sacred, like the Bahirah, Sa'ibah, Wasilah and Ham, assigning them to the idols, claiming that they do so as way of seeking a means of approach to Allah. Allah said, وَجَعَلُواْ لِلّهِ مِمِّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالاَنْعَامِ نَصِيبًا (And they assign to Allah a share of the tilth and cattle which He has created...)." Similar was said by Mujahid, Qatadah, As-Suddi and others. Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam commented; "Every type of slaughter that they would assign for Allah, would never be eaten unless they mentioned the names of their idols when slaughtering it. Yet for what they sacrificed in the names of the idols, they would not mention Allah's Name when slaughtering it." He then recited the Ayah (6:136) until he reached, ... سَاء مَا يَحْكُمُونَ Evil is the way they judge! This Ayah means, evil is that which they determined, for they committed error in the division. Certainly, Allah is the Lord, Owner and Creator of all things and His is the dominion. All things are His property and under His supreme control, will and decree. There is no deity worthy of worship, or Lord, except Him. And even when the polytheists made this evil division, they did not preserve it, but cheated in it. Allah said in other Ayat, وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَنَـتِ سُبْحَانَهُ وَلَهُمْ مَّا يَشْتَهُونَ And they assign daughters unto Allah -- glory be to Him -- and unto themselves what they desire. (16:57) and, وَجَعَلُواْ لَهُ مِنْ عِبَادِهِ جُزْءًا إِنَّ الانسَـنَ لَكَفُورٌ مُّبِينٌ Yet, they assign to some of His servants a share with Him. Verily, man is indeed a manifest ingrate! (43:15) and, أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الاٍّنثَى تِلْكَ إِذاً قِسْمَةٌ ضِيزَى Is it for you the males and for Him the females! That indeed is a division most unfair! (53:21-22)

ہدعت کا آغاز مشرکین کی ایک نو ایجاد ( بدعت ) جو کفر و شرک کا ایک طریقہ تھی بیان ہو رہی ہے کہ ہر چیز پیدا کی ہوئی تو ہماری ہے پھر یہ اس میں سے نذرانہ کا کچھ حصہ ہمارے نام کا ٹھہراتے ہیں اور کچھ اپنے گھڑے ہوئے معبودوں کا جنہیں وہ ہمارا شریک بنائے ہوئے ہیں ، اسی کے ساتھ ہی یہ بھی کرتے ہیں کہ اللہ کے نام کا ٹھہرایا ہوا نذرانہ بتوں کے نام والے میں مل گیا تو وہ تو بتوں کا ہو گیا لیکن اگر بتوں کے لئے ٹھہرائے ہوئے میں سے کچھ اللہ کے نام والے میں مل گیا تو اسے جھٹ سے نکال لیتے تھے ۔ کوئی ذبیحہ اپنے معبودوں کے نام کا کریں تو بھول کر بھی اس پر اللہ کا نام نہیں لیتے یہ کیسی بری تقسیم کرتے ہیں ۔ اولاً تو یہ تقسیم ہی جہالت کی علامت ہے کہ سب چیزیں اللہ کی پیدا کی ہوئی اسی کی ملکیت پھر ان میں سے دوسرے کے نام کی کسی چیز کو نذر کرنے والے یہ کون؟ جو اللہ لا شریک ہے انہیں اس کے شریک ٹھہرانے کا کیا مقصد؟ پھر اس ظلم کو دیکھو اللہ کے حصے میں سے تو بتوں کو پہنچ جائے اور بتوں کا حصہ ہرگز اللہ کو نہ پہنچ سکے یہ کیسے بد ترین اصول ہیں ۔ ایسی ہی غلطی یہ بھی تھی کہ اللہ کے لئے لڑکیاں اور اپنے لئے لڑکے تو تمہارے ہوں اور جن لڑکیوں سے تم بیزار وہ اللہ کی ہوں ۔ کیسی بری تقسیم ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

136۔ 1 اس آیت میں مشرکوں کے عقیدہ و عمل کا ایک نمونہ بتلایا گیا ہے جو انہوں نے اپنے طور پر گھڑ رکھا تھا اور وہ زمینی پیداوار اور مال مویشی میں سے کچھ حصہ اللہ کے لئے اور کچھ اپنے خود ساختہ معبودوں کے لئے مقرر کرلیتے اللہ کے حصے کو مہمانوں، فقرا اور صلہ رحمی پر خرچ کرتے اور بتوں کے حصے کو مجاورین اور ان کی ضروریات پر خرچ کرتے۔ پھر اگر بتوں کے مقرر حصے میں توقع کے مطابق پیداوار نہ ہوتی تو اللہ کے حصے میں سے نکال کر اس میں شامل کرلیتے اور اس کے برعکس معاملہ ہو تو بتوں کے حصے میں سے نہ نکالتے اور کہتے کہ اللہ تو غنی ہے۔ 136۔ 2 یعنی اللہ کے حصہ کی کمی کی صورت میں بتوں کی مقررہ حصے میں سے صدقات و خیرات نہ کرتے۔ 136۔ 3 ہاں اگر بتوں کے مقررہ حصے میں کمی ہوجاتی تو وہ اللہ کے مقررہ حصے سے لے کر بتوں کے مصالح اور ضروریات پر خرچ کرلیتے۔ یعنی اللہ کے مقابلے میں بتوں کی عظمت اور ان کا خوف ان کے دلوں میں زیادہ تھا جس کا مشاہدہ آج کے مشرکین کے رویے سے بھی کیا جاسکتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٤٣] صدقہ و خیرات میں مشرکوں کی ناانصافیاں :۔ مشرکین نے صدقہ و خیرات کرتے وقت اللہ کا حصہ الگ مقرر کر رکھا تھا اور اپنے بتوں یا دیوی دیوتاؤں کا الگ۔ ان کا پہلا ظلم تو یہ تھا کہ اس بات کے اعتراف کے باوجود کہ ان کی کھیتی اور مویشیوں کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ انہوں نے اللہ کے ساتھ دوسروں کا بھی حصہ مقرر کردیا۔ اور دوسرا ظلم یہ تھا کہ وہ اپنے وہم و گمان کی بنا پر اپنے شارع خود ہی بن بیٹھے تھے اور ان کا زعم باطل یہ تھا کہ ہم اللہ کا حصہ تو اس لیے نکالتے ہیں کہ ہماری کھیتی اور مویشیوں کو پیدا کرنے والا وہی ہے اور دوسرے معبودوں یعنی دیوی دیوتاؤں، فرشتوں، ستاروں کی ارواح اور پہلے بزرگوں کی روحوں کا حصہ اس لیے نکالتے ہیں کہ جو کچھ انہیں مل رہا ہے انہی کی نظر کرم کی وجہ سے مل رہا ہے۔ بالفاظ دیگر وہ انہیں اپنے نفع و نقصان کا مالک سمجھ کر ان کا حصہ نکالتے تھے اور یہی چیز اصل شرک ہے۔ اس شکل میں اگر اللہ کے نام پر کچھ دیا بھی جائے تو قطعاً اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوتا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا && میں اپنے حصہ داروں کی نسبت اپنا حصہ لینے سے بےنیاز ہوں۔ جس شخص نے ایسا عمل کیا جس نے میرے ساتھ غیر کو حصہ دار بنایا تو میں اس صاحب عمل اور اس عمل دونوں کو ہی چھوڑ دیتا ہوں۔ && (مسلم۔ کتاب الزہد۔ باب تحریم الربا۔ بخاری۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب قول اللہ تعالیٰ لا یسئلون الناس الحافا) [١٤٤] تیسرا ظلم وہ مشرک یہ کرتے تھے کہ اگر معبودوں کے حصہ میں کسی طرح کمی واقع ہوجاتی، فصل کم پیدا ہوتی یا طوفان سے تباہ ہوجاتی تو یہ کمی اللہ کے حصہ سے پوری کردیا کرتے تھے اور اگر اللہ کے حصہ میں کمی واقع ہوتی تو اسے معبودوں کے حصہ سے پورا نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے اللہ کا حصہ کتنا مقرر کر رکھا تھا اور اپنے معبودوں کا کتنا ؟ یہ تفصیل کہیں نہیں ملتی۔ یہ بس ان کی اپنی ہی قیاس آرائیوں کے مطابق طے کیا گیا تھا۔ اللہ کا حصہ تو وہ فقیروں یتیموں وغیرہ میں تقسیم کردیتے اور معبودوں کا حصہ مندروں کے پجاریوں یا سرپرستوں کو۔ اور بتوں کے سامنے جو نذر و نیاز رکھی جاتی وہ بھی بالواسطہ ان پجاریوں کو ہی پہنچ جاتی تھی۔ ان مہنتوں اور پجاریوں نے ہی اپنے ذاتی مفاد کی خاطر مشرکین کو یہ پٹی پڑھائی تھی کہ اگر اللہ کے حصہ میں کمی واقع ہوجائے تو کوئی پروا نہ کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ غنی ہے وہ اپنے خزانوں سے یہ کمی پوری کرسکتا ہے، مگر ان دیوی دیوتاؤں کے حصہ میں کسی طرح کمی واقع نہ ہونی چاہیے گویا اس مشرکانہ رسم میں وہ لوگ تین طرح کے جرائم کا ارتکاب کرتے تھے۔ (١) مالی عبادت میں اللہ کے ساتھ اپنے معبودوں کو شریک بنانا (٢) اللہ کا الگ اور معبودوں کا الگ حصہ مقرر کرنا۔ اس بات میں پروہتوں کا یہ شرک تھا کہ انہوں نے اپنے آپ کو شارع کی حیثیت دے رکھی تھی اور عام لوگوں کا شرک یہ تھا کہ وہ ان کی اس بات کو مذہبی طور پر تسلیم کرتے تھے۔ (٣) اس تقسیم میں بھی اللہ کے حق میں ناانصافی کرتے تھے اور اس جرم میں پروہت اور عام مشرک سب شریک تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ : قیامت اور جزا و سزا کے متعلق ان کے خیالات کی تردید کے بعد یہاں سے ان کی دوسری اعتقادی اور عملی حماقتوں اور جہالتوں کا بیان شروع ہو رہا ہے جو مدت سے چلی آئی تھیں۔ عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ جب تم عربوں کی جہالت معلوم کرنا چاہو تو سورة انعام کی آیت (١٣٠) سے لے کر (قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ قَتَلُوْٓا) یعنی آیت (١٤٠) تک پڑھ لو۔ [ بخاری، المناقب، باب قصۃ زمزم و جہل العرب : ٣٥٢٤ ] ان میں سے پہلی جہالت یہ تھی کہ اپنی کھیتی اور چوپاؤں میں سے ایک حصہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے، یعنی مہمان نوازی، صلہ رحمی اور اللہ کو خوش کرنے والے کاموں کے لیے مقرر کیا ہوا تھا اور ایک حصہ اپنے داتاؤں، مشکل کشاؤں، ان کی شکل پر بنائے ہوئے بتوں، ان کے پروہتوں اور کاہنوں کے لیے۔ اگر کسی وجہ سے بتوں اور کاہنوں کا حصہ کم پڑجاتا تو اللہ تعالیٰ کے حصے میں سے لے کر اس میں ڈال دیتے اور کہتے کہ اللہ تو غنی ہے، اس کو زیادہ مال کی کیا ضرورت ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کا حصہ کم پڑجاتا تو اس میں بتوں کے حصے میں سے کچھ نہ ڈالتے۔ اب بتائیے کہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں شریک بنانا کون سی کم جہالت تھی کہ اس سے بڑھ کر ان شرکاء کو خوش کرنے کے لیے کھیتی اور چوپاؤں کے حصے میں ان کو اللہ پر ترجیح دینے کی جہالت اختیار کرتے ! یہ اسی طرح ہے جیسے آج کل بعض مسلمان اللہ کا فرض زکوٰۃ اور عشر نہیں نکالیں گے، مگر اپنے فوت شدہ داتاؤں اور غریب نوازوں کی نیاز میں کبھی ناغہ نہیں آنے دیں گے اور عقیدہ یہ رکھیں گے کہ اگر اس میں کمی ہوگئی تو جانوروں کے تھنوں میں سے دودھ کے بجائے خون آئے گا۔ نام اس کا ایصال ثواب رکھیں گے، مگر ایصال ثواب تو اللہ کے نام پر صدقہ کرنے سے ہوتا ہے، نہ کہ بزرگوں کی قبروں پر چڑھاوے چڑھا کر اور اگر اللہ ہی کو خوش کرنا ہو تو غیر اللہ کی نذر و نیاز کے بجائے عشر اور زکوٰۃ نکالیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the fourth verse (136), the disbelievers of Arabia have been ad¬monished for a particular error in their behaviour. The custom was that they would take out from the produce of their lands and from the income of their businesses a portion for Allah and a portion for their idols. The portion taken out for Allah they would spend on the poor and the needy while the portion taken out in the name of their idols they would spend on the priests and keepers of the temple of idols. To begin with, enough was their injustice in that everything was created by Allah Ta` ala, and the produce which came from them was bestowed by Him, yet they went ahead and made idols to share in what was given by Him. On top of this, they would add insult to injury when, should there be a drop in produce, they would apply this shortfall against the portion they meant for Allah saying that Allah was Independent and did not need their things. Thus, they would exact the portion of their idols in full, as well as that of their own. On some occasion, if it so happened that something from the portion taken out for the idols, or from that of their own, went into the portion reserved for Allah, they would pick it up and take it out of there to keep their accounting straight! And if came the occasion when things were the reverse of it, that is, if anything belonging to the portion of Allah was thrown in their own portion, or in the portion of their idols, it was left where it was saying that Allah is need-free, therefore, any shortage in His share will not make any difference! The Holy Qur&an, taking notice of this crooked conduct of theirs, has said: سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ (Evil is what they judge -136). It means that their judgment is evil and crude because they are not realizing that it is Allah who created them and created everything that appears to belong to them, yet they go about equating others with Him, and to top it all, they find excuses to shift elsewhere what, according to their own intention, was supposed to belong to Allah. The Admonition for Disbelievers - A Lesson for Muslims This is an admonition directed against the waywardness of the dis¬believers of Arabia. However, by implication, it holds a sharp lesson for Muslims as well - Muslims who devote their full potential, their life given by Allah, their body and mind, into different sections. They would reserve part of their years and time in life for Allah and His worship - though the right of Allah demanded that all time frames of their living years should have been reserved to obey and worship Him alone. May be, they could have taken out some time for themselves too to take care of human compulsions - and even then, the truth is that the right of Allah that we be grateful to Him would have still re¬mained unfulfilled! But, here we are, in our time and in our places, doing unbelievable things. If, in the twenty four hours of a day and night of our lives, we do get around to fix some time to be devoted to remember Allah and engage ourselves in what we know as His essen¬tial ` Ibadah, then strange things start happening. There comes an ur¬gent need, a call or an appointment or something like that, and we be-come pragmatic all of a sudden. The function, the business, the need comes first. No postponement is made in what is pragmatic or personal. The urgency of work stays. The inevitability of rest time stays. The axe falls on nothing but the time which had been fixed for devotion to Allah through prayers and recitation of the Qur&an. This happens most of the time - emergency, urgency, sickness or any other call - what is the first casualty in this rush is nothing but the time that we had ear-marked for our Dhikr and ` Ibadah. We just cannot say how wrong, how ungrateful and how right-compromising this attitude is. May Allah Ta` ala keep us and all Muslims protected from it.

چوتھی آیت میں مشرکین عرب کی ایک خاص گمراہی اور غلط کاری پر تنبیہ فرمائی گئی ہے، عرب کی عادت یہ تھی کہ کھیتی اور باغات سے نیز تجارتوں سے جو کچھ پیداوار ہوتی تھی، اس میں سے ایک حصہ اللہ کے لئے اور ایک حصہ اپنے بتوں کے لئے نکالا کرتے تھے، اللہ کے نام کا حصہ غرباء و فقراء و مساکین پر خرچ کرتے اور بتوں کے نام کا حصہ بت خانہ کے پجاریوں اور نگہبانوں پر صرف کیا کرتے تھے۔ اول تو یہی ظلم کم نہ تھا کہ ساری چیزیں پیدا تو خدا تعالیٰ نے فرمائی اور ہر چیز کی پیداوار اس نے عطا فرمائیں، پھر اس کی دی ہوئی چیزوں میں بتوں کو شریک کردیا، اس پر مزید ستم برستم یہ تھا کہ اگر کبھی پیداوار میں کچھ کمی آجائے تو اس کمی کو اللہ کے حصہ پر یہ کہہ کر ڈال دیتے کہ اللہ تعالیٰ تو مستغنی ہے وہ ہماری چیزوں کا محتاج نہیں، اور بتوں کا حصہ بھی پورا کرلیتے، اور خود اپنے استعمال کا حصہ بھی، اور کبھی ایسا ہوتا کہ بتوں کے حصہ میں سے یا اپنے حصہ میں سے کوئی چیز اللہ کے حصہ میں پڑجاتی تو اس کو حساب کرنے کے لئے اس میں سے نکال لیتے تھے اور اگر کبھی معاملہ برعکس ہوجائے کہ اللہ کے حصہ میں کوئی چیز اپنے حصہ یا بتوں کے حصہ میں پڑجائے تو اس کو وہیں رہنے دیتے اور یہ کہتے کہ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے اس کے حصہ میں سے کچھ کم بھی ہوجائے تو حرج نہیں قرآن کریم نے ان کی اس گمراہی اور غلط کاری کو ذکر کرکے فرمایا (آیت) سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ ، یعنی ان لوگوں کا یہ فیصلہ کس قدر برا اور بھونڈا ہے کہ جس نے ان کو اور ان کی ساری چیزوں کو پیدا کیا، اول تو اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کردیا، پھر اس کے حصہ کو بھی دوسری طرف مختلف بہانوں سے منتقل کردیا۔ کافروں کی اس تنبیہ میں مسلمانوں کے لئے عبرت یہ تو مشرکین عرب کی ایک گمراہی اور غلط روش پر تنبیہ کی گئی ہے، اس کے ساتھ اس کے ضمن میں ان مسلمانوں کے لئے بھی ایک تازیانہ عبرت ہے جو اللہ کی دی ہوئی زندگانی اور اس کے بخشے ہوئے اعضاء وجوارح کی پوری توانائی کو مختلف حصوں میں بانٹتے ہیں، عمر اور وقت کا ایک حصہ اللہ اور اس کی عبادت کے لئے مخصوص کرتے ہیں، حالانکہ حق تو اس کا یہ تھا کہ عمر کے سارے اوقات اور لمحات اسی کی عبادت اور اطاعت کے لئے وقف ہوتے، انسانی ضرورتوں اور مجبوریوں کے لئے اس میں سے کوئی وقت اپنے لئے بھی نکال لیتے، اور حق تو یہ ہے کہ پھر بھی اس کا حق شکر ادا نہ ہوتا، مگر یہاں تو حالت ہماری یہ ہے کہ دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں سے اگر ہم کوئی وقت اللہ کی یاد اور عبادت کے لئے مقرر بھی کرلیتے ہیں تو جب کوئی ضرورت پیش آتی ہے اس میں نہ اپنے کاروبار میں کوئی حرج ڈالا جاتا ہے، نہ آرام کے اوقات میں، سارا نزلہ اس وقت پر پڑتا ہے جو نماز، تلاوت یا عبادت کے لئے مقرر کیا تھا، کوئی کام پیش آوے، یا بیماری یا کوئی دوسری ضرورت تو سب سے پہلے اس کا اثر اس وقت پر پڑتا ہے جو ہم نے ذکر اللہ یا عبادت کے لئے مخصوص کیا تھا، یہ کیسا غلط اور کتنی ناشکری اور حق تلفی ہے، اللہ تعالیٰ ہم کو اور سب مسلمانوں کو اس سے محفوظ رکھیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَجَعَلُوْا لِلہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلہِ بِزَعْمِہِمْ وَھٰذَا لِشُرَكَاۗىِٕنَا۝ ٠ ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَاۗىِٕہِمْ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللہِ۝ ٠ ۚ وَمَا كَانَ لِلہِ فَہُوَيَصِلُ اِلٰي شُرَكَاۗىِٕہِمْ۝ ٠ ۭ سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ۝ ١٣٦ وذر [يقال : فلان يَذَرُ الشیءَ. أي : يقذفه لقلّة اعتداده به ] ، ولم يستعمل ماضيه . قال تعالی: قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] ، فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] ، وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا[ البقرة/ 278] إلى أمثاله وتخصیصه في قوله : وَيَذَرُونَ أَزْواجاً [ البقرة/ 234] ، ولم يقل : يترکون ويخلّفون، فإنه يذكر فيما بعد هذا الکتاب إن شاء اللہ . [ والوَذَرَةُ : قطعة من اللّحم، وتسمیتها بذلک لقلة الاعتداد بها نحو قولهم فيما لا يعتدّ به : هو لحم علی وضم ] ( و ذ ر ) یذر الشئی کے معنی کسی چیز کو قلت اعتداد کی وجہ سے پھینک دینے کے ہیں ( پھر صرف چھوڑ دینا کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ اس کا فعل ماضی استعمال نہیں ہوتا چناچہ فرمایا : ۔ قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] وہ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم اکیلے خدا ہی کی عبادت کریں اور جن اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آئے ہیں ان کو چھوڑ دیں ۔ ؟ ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور انکا جھوٹ ۔ وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا[ البقرة/ 278] تو جتنا سو د باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو ۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات ہیں جن میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور آیت : ۔ وَيَذَرُونَ أَزْواجاً [ البقرة/ 234] اور عورتیں چھوڑ جائیں ۔ میں یترکون یا یخلفون کی بجائے یذرون کا صیغہ اختیار میں جو خوبی ہے وہ اس کے بعد دوسری کتاب میں بیان کریں گے ۔ الو ذرۃ : گوشت کی چھوٹی سی بوٹی کو کہتے ہیں اور قلت اعتناء کے سبب اسے اس نام سے پکارتے ہیں جیسا کہ حقیر شخص کے متعلق ھو لحم علیٰ وضمی ( یعنی وہ ذلیل ہے ) کا محاورہ استعمال ہوتا ہے ۔ حرث الحَرْث : إلقاء البذر في الأرض وتهيّؤها للزرع، ويسمّى المحروث حرثا، قال اللہ تعالی: أَنِ اغْدُوا عَلى حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صارِمِينَ [ القلم/ 22] ، وذلک علی سبیل التشبيه، فبالنساء زرع ما فيه بقاء نوع الإنسان، كما أنّ بالأرض زرع ما به بقاء أشخاصهم، وقوله عزّ وجل : وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ، يتناول الحرثین . ( ح ر ث ) الحرث ( ن ) کے معنی زمین میں بیج ڈالنے اور اسے زراعت کے لئے تیار کرنے کے پاس اور کھیتی کو بھی حرث کہاجاتا ہے ۔ قرآں میں ہے ؛۔ أَنِ اغْدُوا عَلى حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صارِمِينَ [ القلم/ 22] کہ اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویری ہی جا پہنچو۔ اور کھیتی سے زمین کی آبادی ہوئی ہے اس لئے حرث بمعنی آبادی آجاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] اور کھیتی کو ( برباد ) اور انسانوں اور حیوانوں کی ) نسل کو قابو کردے ۔ دونوں قسم کی کھیتی کو شامل ہے۔ نعم ( جانور) [ والنَّعَمُ مختصٌّ بالإبل ] ، وجمْعُه : أَنْعَامٌ ، [ وتسمیتُهُ بذلک لکون الإبل عندهم أَعْظَمَ نِعْمةٍ ، لكِنِ الأَنْعَامُ تقال للإبل والبقر والغنم، ولا يقال لها أَنْعَامٌ حتی يكون في جملتها الإبل ] «1» . قال : وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ [ الزخرف/ 12] ، وَمِنَ الْأَنْعامِ حَمُولَةً وَفَرْشاً [ الأنعام/ 142] ، وقوله : فَاخْتَلَطَ بِهِ نَباتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعامُ [يونس/ 24] فَالْأَنْعَامُ هاهنا عامٌّ في الإبل وغیرها . ( ن ع م ) نعام النعم کا لفظ خاص کر اونٹوں پر بولا جاتا ہے اور اونٹوں کو نعم اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ عرب کے لئے سب سے بڑی نعمت تھے اس کی جمع انعام آتی ہے لیکن انعام کا لفظ بھیڑ بکری اونٹ اور گائے سب پر بولا جاتا ہے مگر ان جانوروں پر انعام کا لفظ اس وقت بولا جاتا ہے ۔ جب اونٹ بھی ان میں شامل ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ [ الزخرف/ 12] اور تمہارے لئے کشتیاں اور چار پائے بنائے ۔ وَمِنَ الْأَنْعامِ حَمُولَةً وَفَرْشاً [ الأنعام/ 142] اور چار پایوں میں بوجھ اٹھا نے والے ( یعنی بڑے بڑے بھی ) پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے ( یعنی چھوٹے چھوٹے بھی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَباتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعامُ [يونس/ 24] پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں ۔ مل کر نکلا ۔ میں انعام کا لفظ عام ہے جو تمام جانوروں کو شامل ہے ۔ نَّصِيبُ : الحَظُّ المَنْصُوبُ. أي : المُعَيَّنُ. قال تعالی: أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ [ النساء/ 53] ( ن ص ب ) نصیب و النصیب کے معنی معین حصہ کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ [ النساء/ 53] کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے ۔ زعم الزَّعْمُ : حكاية قول يكون مظنّة للکذب، ولهذا جاء في القرآن في كلّ موضع ذمّ القائلون به، نحو : زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا[ التغابن/ 7] ، لْ زَعَمْتُمْ [ الكهف/ 48] ، كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ [ الأنعام/ 22] ، زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ [ الإسراء/ 56] ، وقیل للضّمان بالقول والرّئاسة : زَعَامَةٌ ، فقیل للمتکفّل والرّئيس : زَعِيمٌ ، للاعتقاد في قوليهما أنهما مظنّة للکذب . قال : وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ [يوسف/ 72] ، أَيُّهُمْ بِذلِكَ زَعِيمٌ [ القلم/ 40] ، إمّا من الزَّعَامَةِ أي : الکفالة، أو من الزَّعْمِ بالقول . ( ز ع م ) الزعمہ اصل میں ایسی بات نقل کرنے کو کہتے ہیں جس میں جھوٹ کا احتمال ہو اس لئے قرآن پاک میں یہ لفظ ہمیشہ اس موقع پر آیا ہے جہاں کہنے والے کی مذمت مقصود ہے چناچہ فرمایا : ۔ زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا[ التغابن/ 7] کفار یہ زعم کو کہتے ہیں ۔ لْ زَعَمْتُمْ [ الكهف/ 48] مگر تم یہ خیال کرتے ہو ۔ كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ [ الأنعام/ 22] جن کو شریک خدائی سمجھتے تھے ۔ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ [ الإسراء/ 56] جنیںُ تم نے ) اللہ کے سوا ( معبود ) خیال کیا ۔ اور زعامۃ کے معنی ذمہ داری اٹھانے اور ریاست ( سرداری ) کے ہیں اور کفیل ( ضامن اور رئیں کو زعیم کہا جاتا ہے کیونکہ ان دونوں کی بات میں جھوٹ کا احتمال ہوسکتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ [يوسف/ 72] اور میں اس کا ذمہ دار ہوں ، أَيُّهُمْ بِذلِكَ زَعِيمٌ [ القلم/ 40] ان میں سے کون اس کا ذمہ دار ہے ۔ یہاں زعیم یا تو زعامہ بمعنی کفالۃ سے ہے اور یا زعم بلقول سے ہے ۔ شرك ( شريك) الشِّرْكَةُ والْمُشَارَكَةُ : خلط الملکين، وقیل : هو أن يوجد شيء لاثنین فصاعدا، عينا کان ذلک الشیء، أو معنی، كَمُشَارَكَةِ الإنسان والفرس في الحیوانيّة، ومُشَارَكَةِ فرس وفرس في الکمتة، والدّهمة، يقال : شَرَكْتُهُ ، وشَارَكْتُهُ ، وتَشَارَكُوا، واشْتَرَكُوا، وأَشْرَكْتُهُ في كذا . قال تعالی: وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي[ طه/ 32] ، وفي الحدیث : «اللهمّ أَشْرِكْنَا في دعاء الصّالحین» «1» . وروي أنّ اللہ تعالیٰ قال لنبيّه عليه السلام : «إنّي شرّفتک وفضّلتک علی جمیع خلقي وأَشْرَكْتُكَ في أمري» «2» أي : جعلتک بحیث تذکر معي، وأمرت بطاعتک مع طاعتي في نحو : أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ محمد/ 33] ، وقال تعالی: أَنَّكُمْ فِي الْعَذابِ مُشْتَرِكُونَ [ الزخرف/ 39] . وجمع الشَّرِيكِ شُرَكاءُ. قال تعالی: وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ [ الإسراء/ 111] ، وقال : شُرَكاءُ مُتَشاكِسُونَ [ الزمر/ 29] ، أَمْ لَهُمْ شُرَكاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ [ الشوری/ 21] ، وَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكائِيَ [ النحل/ 27] . ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ کے معنی دو ملکیتوں کو باہم ملا دینے کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ ایک چیز میں دو یا دو سے زیادہ آدمیوں کے شریک ہونے کے ہیں ۔ خواہ وہ چیز مادی ہو یا معنوی مثلا انسان اور فرس کا حیوانیت میں شریک ہونا ۔ یا دوگھوڑوں کا سرخ یا سیاہ رنگ کا ہونا اور شرکتہ وشارکتہ وتشارکوا اور اشترکوا کے معنی باہم شریک ہونے کے ہیں اور اشرکتہ فی کذا کے معنی شریک بنا لینا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي[ طه/ 32] اور اسے میرے کام میں شریک کر ۔ اور حدیث میں ہے (191) اللھم اشرکنا فی دعاء الصلحین اے اللہ ہمیں نیک لوگوں کی دعا میں شریک کر ۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) کو فرمایا ۔ (192) انی شرفتک وفضلتک علی ٰجمیع خلقی واشرکتک فی امری ۔ کہ میں نے تمہیں تمام مخلوق پر شرف بخشا اور مجھے اپنے کام میں شریک کرلیا ۔ یعنی میرے ذکر کے ساتھ تمہارا ذکر ہوتا رہے گا اور میں نے اپنی طاعت کے ساتھ تمہاری طاعت کا بھی حکم دیا ہے جیسے فرمایا ۔ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ محمد/ 33] اور خدا کی فرمانبرداری اور رسول خدا کی اطاعت کرتے رہو ۔ قران میں ہے : ۔ أَنَّكُمْ فِي الْعَذابِ مُشْتَرِكُونَ [ الزخرف/ 39]( اس دن ) عذاب میں شریک ہوں گے ۔ شریک ۔ ساجھی ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ [ الإسراء/ 111] اور نہ اس کی بادشاہی میں کوئی شریک ہے ۔ اس کی جمع شرگاء ہے جیسے فرمایا : ۔ : شُرَكاءُ مُتَشاكِسُونَ [ الزمر/ 29] جس میں کئی آدمی شریک ہیں ( مختلف المزاج اور بدخو ۔ أَمْ لَهُمْ شُرَكاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ [ الشوری/ 21] کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرد کیا ہے ۔ أَيْنَ شُرَكائِيَ [ النحل/ 27] میرے شریک کہاں ہیں ۔ وصل الِاتِّصَالُ : اتّحادُ الأشياء بعضها ببعض کاتّحاد طرفي الدائرة، ويضادّ الانفصال، ويستعمل الوَصْلُ في الأعيان، وفي المعاني . يقال : وَصَلْتُ فلاناً. قال اللہ تعالی: وَيَقْطَعُونَ ما أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ [ البقرة/ 27] ( و ص ل ) الا تصال کے معنی اشیاء کے باہم اس طرح متحد ہوجانے کے ہیں جس طرح کہ قطرہ دائرہ کی دونوں طرفین ملی ہوئی ہوتی ہیں اس کی ضد انفعال آتی ہے اور وصل کے معنی ملائے کے ہیں اور یہ اسم اور معنی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے چناچہ وصلت فلانا صلہ رحمی کے معنی میں آتا ہے قرآن میں ہے وَيَقْطَعُونَ ما أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ [ البقرة/ 27] اور جس چیز ( یعنی رشتہ قرابت ) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے اسی کو قطع کئے ڈالتے ہیں ويقال : سَاءَنِي كذا، وسُؤْتَنِي، وأَسَأْتَ إلى فلان، قال : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] ، وقال : لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] ساء اور ساءنی کذا وسؤتنی کہاجاتا ہے ۔ اور اسات الی ٰ فلان ( بصلہ الی ٰ ) بولتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے ۔ لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

بتوں کے چڑھاوے قول باری ہے ( وجعلوا للہ مما ذراأ من الحرث والانعام نصیبا فقالو ھذا للہ بذعمھم و ھذا لشرکانئنا۔ ان لوگوں نے اللہ کے لیے خود اسی کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے اور کہتے ہیں یہ اللہ کے لیے ہے۔ بزعم خود اور یہ ہمارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے) تا آخر آیت۔ حرث کھیتی کو کہتے ہیں اور اس زمین کو جسے زراعت کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) اور قتادہ کا قول ہے کہ گمراہ لوگوں کے ایک ٹولے نے اپنی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ اللہ کے لیے اور ایک حصہ اللہ کے شریکوں کے لیے مقرر کرلیا اگر شریکوں کے لیے مقرر کردہ حصے میں سے کچھ اللہ کے لیے مقرر کردہ حصے کے ساتھ مل جاتا تو وہ اسے اپنے شریکوں پر لوٹا دیتے۔ اگر انہیں کبھی قحط کا سامنا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے لیے مقرر کردہ حصے کو اپنے استعمال میں لاتے لیکن شریکوں کے لیے مقرر کردہ حصے کو ہاتھ نہ لگاتے، اسے اسی طرح باقی رہنے دیتے۔ ایک قول یہ ہے کہ اگر بتوں کے لیے مقرر کردہ حصہ ضائع ہوجاتا تو اس کے بدل کے طور پر اللہ کے لیے مقرر کردہ حصہ لے لیتے لیکن اگر اللہ کا حصہ ضائع ہوجاتا تو اس کی جگہ بتوں کا حصہ بدل کے طور پر نہ رکھتے، حسن اور سدی سے یہی روایت ہے۔ ایک اور قول کے مطابق اللہ کے لیے مرر کردہ حصے میں سے لے کر اپنے بتوں پر خرچ کرتے تھے لیکن بتوں کے لیے مقرر کردہ حصے میں سے اللہ کے لیے خرچ نہ کرتے۔ بتوں کو ان کے شریکوں کے نام سے موسوم کیا گیا اس کی وجہ یہے کہ انہوں نے اپنے اموال کا ایک حصہ بتوں کے نام وقف کردیا تھا یہ حصہ ان بتوں پر صرف ہوتا تھا اس طرح انہوں نے اپنے بتوں کو بھی اپن مال و دولت میں حصہ دار بنا لیا تھا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٣٦) ان اونٹ گائے اور کھیتی میں سے ان لوگوں نے کچھ حصہ اللہ کے نام کا اور کچھ حصہ اپنے بتوں کے نام کا مقرر کیا ہے، پھر جو چیز ان کئے بتوں کی ہوتی ہے وہ اس حصہ کی طرف نہیں پہنچتی جو ان کے زعم میں اللہ کا ہے اور جو اللہ کا حصہ ہوتا ہے وہ ان کے معبودوں کی طرف پہنچ جاتا ہے، اپنے لیے انہوں نے کیا ہی بدترین تجویز نکال رکھی ہے خود فریبی اور دلوں کے ٹیڑھے پن کی وجہ سے ان کے قول وفعل کا یہ تضاد انہیں اچھا دکھائی دے رہا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣٦ (وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِیْبًا) ایک بڑے خدا کو مان کر چھوٹے خداؤں کو اس کی الوہیت میں شریک کردینا ہی در اصل شرک ہے۔ اس میں بڑے خدا کا انکار نہیں ہوتا۔ جیسے ہندوؤں میں مہا دیو تو ایک ہی ہے جب کہ چھوٹی سطح پر دیوی دیوتا بیشمار ہیں۔ اسی طرح انگریزی میں بھی بڑے G سے لکھے جانے والا God ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔ وہ Omnipotent ہے ‘ Omniscient ہے ‘ Omnipresent ہے ‘ وہ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ہے ‘ وہ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ہے ‘ وہ ہر جگہ موجود ہے۔ یہ اس کی صفات ہیں ‘ یہ اس کے Attributes ہیں۔ لہٰذا اس کے لیے تو G بڑا (capital) ہی آئے گا ‘ لیکن چھوٹے g سے لکھے جانے والے gods اور goddesses بیشمار ہیں۔ اسی طرح اہل عرب کا عقیدہ تھا کہ اللہ تو ایک ہی ہے ‘ کائنات کا خالق بھی وہی ہے ‘ لیکن یہ جو دیویاں اور دیوتا ہیں ‘ ان کا بھی اس کی خدائی میں کچھ دخل اور اختیار ہے ‘ یہ اللہ کے ہاں سفارش کرتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیارات میں سے کچھ حصہ ان کو بھی سونپ رکھا ہے ‘ لہٰذا اگر ان کی کوئی ڈنڈوت کی جائے ‘ نذرانے دیے جائیں ‘ انہیں خوش کیا جائے ‘ تو اس سے دنیا کے کام چلتے رہتے ہیں۔ اہل عرب کے معروف ذرائع معاش دو ہی تھے۔ وہ بکریاں پالتے تھے یا کھیتی باڑی کرتے تھے۔ اپنے عقیدے کے مطابق ان کا طریقہ یہ تھا کہ مویشیوں اور فصل میں سے وہ اللہ کے نام کا ایک حصہ نکال کر صدقہ کرتے تھے جب کہ ایک حصہ الگ نکال کر بتوں کے نام پر دیتے تھے۔ یہاں تک تو وہ اپنے تئیں انصاف سے کام لیتے تھے کہ کھیتیوں کی پیداوار اور مال مویشیوں میں سے اللہ کے لیے بھی حصہ نکال لیا اور اپنے چھوٹے خداؤں کے لیے بھی۔ اب اس کے بعد کیا تماشا ہوتا تھا وہ آگے دیکھئے : (فَقَالُوْا ہٰذَا لِلّٰہِ بِزَعْمِہِمْ وَہٰذَا لِشُرَکَآءِنَاج فَمَا کَانَ لِشُرَکَآءِہِمْ فَلاَ یَصِلُ اِلَی اللّٰہِج وَمَا کَانَ لِلّٰہِ فَہُوَ یَصِلُ اِلٰی شُرَکَآءِہِمْ ط) اب اگر کہیں کسی وقت کوئی دقت آگئی ‘ کوئی ضرورت پڑگئی تو اللہ کے حصے میں سے کچھ نکال کر کام چلا لیتے تھے مگر اپنے بتوں کے حصے کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔ گویا بت تو ہر وقت ان کے سروں پر کھڑے ہوتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر یہ بت ناراض ہوگئے تو فوراً ان کی شامت آجائے گی ‘ لیکن اللہ تو (معاذ اللہ) ذرا دور تھا ‘ اس لیے اس کے حصے کو اپنے استعمال میں لایا جاسکتا تھا۔ ان کی اس سوچ کو اس مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ہمارے ہاں دیہات میں ایک عام دیہاتی پٹواری کو ڈی سی کے مقابلے میں زیادہ اہم سمجھتا ہے۔ اس لیے کہ پٹواری سے اسے براہ راست سابقہ پڑتا ہے ‘ جب کہ ڈی سی کی حیثیت کا اسے کچھ اندازہ نہیں ہوتا۔ بہر حال یہ تھی وہ صورت حال جس میں ان کے شریکوں کے لیے مختص کیا گیا حصہ اللہ کو نہیں پہنچ سکتا تھا ‘ جب کہ اللہ کا حصہ ان کے شریکوں تک پہنچ جاتا تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

104. There now follows an elucidation of the 'ignorance' which those people-insistently clung to, and which they were not prepared to forsake. They are also told about that major 'wrong' which, if not abandoned, will bar their way to salvation. 105. They themselves acknowledged that the earth belongs to God, and that it is He Who causes the vegetation to grow. They also affirmed that God is the creator of the animals which were yoked to their service. They believed, however, that the grace of God for them was the outcome of the blessing and benediction of the angels, jinn, heavenly stars, spirits of their pious ancestors and so on, who cared for their well-being and were their patrons. They therefore used to make a two-fold division of their harvest and livestock offerings. One part was devoted to God in recognition of their gratitude to Him for having granted them farms and animals, while the rest was devoted to the household gods of either their family or tribes in order to ensure their continuing grace and benediction. First, God censures them for this iniquity and asks them - since all those animals were created and had been granted to them by God alone - what justification there is for making offerings to others. Is it not sheer ingratitude to ascribe the acts of benevolence and grace of the true Benefactor to the intercession of others, and to associate them with God in thanksgiving? Second, they are censured indirectly for assigning quite an arbitrary share in their offerings to God, as if they themselves were the law-maker who could ascribe shares to God and others as they wished. To God alone belong all the bounties He has given man, and only His Law should therefore determine what part of those bounties should be offered to Him in thanksgiving and how the remaining should be spent. Hence even if they spend something in the way of Allah, for the poor and the deprived, but according to their own will, that does not deserve to be accepted by Him. 106. This is subtle sarcasm at the trickery to which the polytheists resorted while dividing the offerings between God and the partners whom they had set up with Him. By one device and another they increased the share of the false deities, which only showed that their heart lay with those sham partners of God rather than with Him. It is instructive to recall those tricks. If, while they were apportioning God's share of cereals and fruits, anything belonging to His share fell out of its place, it used to be added to the portion earmarked for the share of God's partners. On the contrary, if any part of the, partners' share fell out or got mixed up with the portion earmarked for God, they were most careful to return it to where it belonged. Whenever they were criticized for this, they had a number of interesting apologies to offer. They said, for instance, that being the Creator, God is Self-Sufficient and hence He does not care if His portion is in some way reduced. As for the 'partners', they were not after all self-sufficient and would therefore take them to task for the slightest diminution in their share. In order to grasp what lay at the root of these superstitions, it is essential to know that the portion which these ignorant people earmarked for God was devoted to helping the indigent, the poor, travellers, orphans and so on. On the other hand, the portion earmarked for offerings to the partners' actually went either directly to the coffers of the priestly class or was offered at the shrines and thus ultimately reached the priests and caretakers of those shrines. Over the course of centuries these selfish religious leaders had impressed upon those simple-minded people that there was no harm in God's share being reduced, but that of God's dear ones, far from being diminished, should be increased.

سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :104 اوپر کا سلسلہ تقریر اس بات پر تمام ہوا تھا کہ اگر یہ لوگ نصیحت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اپنی جاہلیت پر اصرار کیے جاتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ اچھا ، تم اپنے طریقہ پر عمل کرتے رہو اور میں اپنے طریقہ پر عمل کروں گا ، قیامت ایک دن ضرور آنی ہے ، اس وقت تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ اس روش کا کیا انجام ہوتا ہے ، بہرحال یہ خوب سمجھ لو کہ وہاں ظالموں کو فلاح نصیب نہ ہوگی ۔ اس کے بعد اب اس جاہلیت کی کچھ تشریح کی جاتی ہے جس پر وہ لوگ اصرار کر رہے تھے اور جسے چھوڑنے پر کسی طرح آمادہ نہ ہوتے تھے ۔ انہیں بتایا جارہا ہے کہ تمہارا وہ ”ظلم “ کیا ہے جس پر قائم رہتے ہوئے تم کسی فلاح کی امید نہیں کر سکتے ۔ سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :105 اس بات کے وہ خود قائل تھے کہ زمین اللہ کی ہے اور کھیتیاں وہی اگاتا ہے ۔ نیز ان جانوروں کا خالق بھی اللہ ہی ہے جن سے وہ اپنی زندگی میں خدمت لیتے ہیں ۔ لیکن ان کا تصور یہ تھا کہ ان پر اللہ کا یہ فضل ان دیویوں اور دیوتاؤں اور فرشتوں اور جنات ، اور آسمانی ستاروں اور بزرگان سلف کی ارواح کے طفیل و برکت سے ہے جو ان پر نظر کرم رکھتے ہیں ۔ اس لیے وہ اپنے کھیتوں کی پیداوار اور اپنے جانوروں میں سے دو حصے نکالتے تھے ۔ ایک حصہ اللہ کے نام کا ، اس شکریہ میں کہ اس نے یہ کھیت اور یہ جانور انہیں بخشے ۔ اور دوسرا حصہ اپنے قبیلہ اور خاندان کے سرپرست معبودوں کی نذر و نیاز کا تاکہ ان کی مہربانیاں ان کے شامل حال رہیں ۔ اللہ تعالیٰ سب سے پہلے ان کے اسی ظلم پر گرفت فرماتا ہے کہ یہ سب مویشی ہمارے پیدا کیے ہوئے اور ہمارے عطا کردہ ہیں ، ان میں یہ دوسروں کی نذر و نیاز کیسی؟ یہ نمک حرامی نہیں تو کیا ہے کہ تم اپنے محسن کے احسان کو ، جو اس نے سراسر خود اپنے فضل و کرم سے تم پر کیا ہے ، دوسروں کی مداخلت اور ان کے توسط کا نتیجہ قرار دیتے ہو اور شکریہ کے استحقاق میں انہیں اس کے ساتھ شریک کرتے ہو ۔ پھر اشارۃً دوسری گرفت اس بات پر بھی فرمائی ہے کہ یہ اللہ کا حصہ جو انھوں نے مقرر کیا ہے یہ بھی بزعم خود کر لیا ہے ، اپنے شارع خود بن بیٹھے ہیں ، آپ ہی جو حصہ چاہتے ہیں اللہ کے لیے مقر کر لیتے ہیں اور جو چاہتے ہیں دوسروں کے لیے طے کر دیتے ہیں ۔ حالانکہ اپنی بخشش کا اصل مالک و مختار خود اللہ ہے اور یہ بات اسی کی شریعت کے مطابق طے ہونی چاہیے کہ اس بخشش میں سے کتنا حصہ اس کے شکریہ کے لیے نکالا جائے اور باقی میں کون کون حق دار ہیں ۔ پس درحقیقت اس خود مختارانہ طریقہ سے جو حصہ یہ لوگ اپنے زعم باطل میں خدا کے لیے نکالتے ہیں اور فقراء و مساکین وغیرہ پر خیرات کرتے ہیں وہ بھی کوئی نیکی نہیں ہے ۔ خدا کے ہاں اس کے مقبول ہونے کی بھی کوئی وجہ نہیں ۔ سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :106 یہ لطیف طنز ہے ان کی اس حرکت پر کہ وہ خدا کے نام سے جو حصہ نکالتے تھے اس میں بھی طرح طرح کی چالبازیاں کر کے کمی کرتے رہتے تھے اور ہر صورت سے اپنے خود ساختہ شریکوں کا حصہ بڑھانے کی کوشش کرتے تھے ، جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ جو دلچسپی انہیں اپنے ان شریکوں سے ہے وہ خدا سے نہیں ہے ۔ مثلاً جو غلے یا پھل وغیرہ خدا کے نام پر نکالے جاتے ان میں سے اگر کچھ گر جاتا تو وہ شریکوں کے حصہ میں شامل کر دیا جاتا تھا ، اور اگر شریکوں کے حصہ میں سے گرتا ، یا خدا کے حصے میں مل جاتا تو اسے انہی کے حصہ میں واپس کیا جاتا ۔ کھیت کا جو حصہ شریکوں کی نذر کے لیے مخصوص کیا جاتا تھا اگر اس میں سے پانی اس حصہ کی طرف پھوٹ بہتا جو خدا کی نذر کے لیے مختص ہوتا تھا تو اس کی ساری پیداوار شریکوں کے حصہ میں داخل کر دی جاتی تھی ، لیکن اگر اس کے برعکس صورت پیش آتی تو خدا کے حصہ میں کوئی اضافہ نہ کیا جاتا ۔ اگر کبھی خشک سالی کی وجہ سے نذر و نیاز کا غلہ خود استعمال کرنے کی ضرورت پیش آجاتی تو خدا کا حصہ کھالیتے تھے مگر شریکوں کے حصہ کو ہاتھ لگاتے ہوئے ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی بلا نازل نہ ہو جائے ۔ اگر کسی وجہ سے شریکوں کے حصہ میں کچھ کمی آجاتی تو وہ خدا کے حصہ سے پوری کی جاتی تھی لیکن خدا کے حصہ میں کمی ہوتی تو شریکوں کے حصہ میں سے ایک حبہ بھی اس میں نہ ڈالا جاتا ۔ اس طرز عمل پر کوئی نکتہ چینی کرتا تو جواب میں طرح طرح کی دل فریب توجیہیں کی جاتی تھیں ۔ مثلاً کہتے تھے کہ خدا تو غنی ہے ، اس کے حصہ میں سے کچھ کمی بھی ہو جائے تو اسے کیا پروا ہو سکتی ہے ۔ رہے یہ شریک ، تو یہ بندے ہیں ، خدا کی طرح غنی نہیں ہیں ، اس لیے ذرا سی کمی بیشی پر بھی ان کے ہاں گرفت ہو جاتی ہے ۔ ان توہمات کی اصل جڑ کیا تھی ، اس کو سمجھنے کے لیے یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ جہلائے عرب اپنے مال میں سے جو حصہ خدا کے لیے نکالتے تھے ، وہ فقیروں ، مسکینوں ، مسافروں اور یتیموں وغیرہ کی مدد میں صرف کیا جاتا تھا ، اور جو حصہ شریکوں کی نذر و نیاز کے لیے نکالتے تھے وہ یا تو براہ راست مذہبی طبقوں کے پیٹ میں جاتا تھا یا آستانوں پر چڑھاوے کی صورت میں پیش کیا جاتا اور اس طرح بالواسطہ مجاوروں اور پوجاریوں تک پہنچ جاتا تھا ۔ اسی لیے ان خود غرض مذہبی پیشواؤں نے صدیوں کی مسلسل تلقین سے ان جاہلوں کے دل میں یہ بات بٹھائی تھی کہ خدا کے حصہ میں کمی ہو جائے تو کچھ مضائقہ نہیں ، مگر”خدا کے پیاروں“ کے حصہ میں کمی نہ ہونی چاہیے بلکہ حتی الامکان کچھ بیشی ہی ہوتی رہے تو بہتر ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

66: یہاں سے آیت نمبر : ۱۴۴ تک عرب کے مشرکین کی کچھ بے بنیاد رسموں کا بیان ہے، ان لوگوں نے کسی معقول اور علمی بنیاد کے بغیر مختلف کاموں کو من گھڑت اسباب کی بنیاد پر حلال یا حرام قرار دے رکھا تھا۔ مثلا خود اپنی اولاد کوانتہائی سنگ دلی سے قتل کردیتے تھے۔ اگر لڑکی پیدا ہوئی تو اسے اپنے لئے بڑی شرم کی بات سمجھ کر اسے زندہ زمین میں دفن کردیتے تھے، بعض لوگ اس وجہ سے بھی لڑکیوں کو دفن کردیتے تھے کہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اس لئے اِنسانوں کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ لڑکیاں رکھیں۔ لڑکوں کو بعض اس وجہ سے قتل کرڈالتے تھے کہ ان کو کہاں سے کھلائیں گے۔ اور کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو یہ نذر مان لیتے تھے کہ ہمارا جو دسواں لڑکا ہوگا اسے اللہ یا بتوں کے نام پر ذبح کردیں گے۔ اس کے علاوہ اپنے مویشیوں اور کھیتوں کی پیداوار کے بارے میں بھی عجیب وغریب عقیدے گھڑ رکھے تھے۔ ان میں سے ایک کا بیان اس آیت میں ہے، اور وہ یہ کہ اپنے کھیتوں کی پیداوار اور مویشیوں کے دودھ یا گوشت میں سے کچھ حصہ تو اللہ کے نام رکھتے تھے (جو مہمانوں اور غریبوں میں تقسیم کیلئے ہوتا تھا) اور ایک حصہ اپنے بتوں کے نام کا نکالتے تھے جو بت خانوں پر چڑھا یا جاتا تھا، اور اس سے بت خانوں کے نگراں فائدہ اٹھاتے تھے۔ اول تو یہ بات ہی بیہودہ تھی کہ اللہ کے ساتھ بتوں کو شریک کرکے ان کے نام پر پیداوار کا کچھ حصہ رکھا جائے۔ اوپر سے ستم ظریفی یہ تھی کہ جو حصہ اللہ کے نام کا رکھا تھا، اگر اس میں سے کچھ بتوں والے حصے میں چلا جاتا تو کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ البتہ اگر بتوں کے حصے میں سے کوئی چیز اللہ کے نام کے حصے میں چلی جاتی تو اسے فورا واپس کرنے کا اہتمام کرتے تھے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

مشرکین اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے کے تو قائل تھے لیکن رسولوں کے اور مرنے کے بعد پھر جینے کے اور قیامت کے دن کی سزا وجزا کے قائل نہیں تھے اب تو یہ ظاہر ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کو خالق مانے گا اس کو یہ ضرور ماننا پڑیگا کہ اللہ تعالیٰ بڑا صاحب حکمت ہے کیونکہ سب کی آنکھوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ جن کی حکمت کے سمجھنے سے بڑے بڑے صاحب حکمت انسان عاجز ہیں مثلا بڑے سے بڑا صاحب حکمت انسان خود اپنی پیدائش پر غور کرلے کہ ایک قطرہ پانی سے اس کی پیدائش کس حکمت سے ہوئی ہے اس کی سمجھ سے باہر ایک کارخانہ نظر آویگا پھر اللہ کی قدرت اور حکمت کچھ اسی ایک کار خانہ پر منحصر نہیں ہے اس کی قدرت اور حکمت کے دنیا میں ایسے لاکھوں کارخانے سب کی آنکھوں کے سامنے موجود ہیں باوجود ان سب باتوں کے مشرکین مکہ قیامت کے دن کی سزا وجزا کے جو منکر تھے تو گویا نادانی سے وہ یہ کہتے تھے کہ یہ سب کار خانے بغیر کسی نتیجہ کے یوں ہی کھیل تماشے کے طور پر پیدا کئے گئے ہیں کیونکہ جب دنیا کے ختم ہونے کے بعد دنیا کی نیکی بدی کی جزا وسزا ہی نہیں تو پھر دنیا کا پیدا کرنا ایک کھیل تماشے سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے اسی واسطے اس آیت میں اور اس سے آگے کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کی چند رسمیں ایسی بیان فرمائیں ہیں جن سے ان لوگوں کی کمال نادانی معلوم ہوتی ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انکار حشر کی نادانی کے سوا مشرکین مکہ میں اور باتیں بھی نادانی کی تھیں اور ان لوگوں نے اپنے آپ کو عقل مند جو مشہور کر رکھا تھا وہ ایک غلط شہرت تھی کس لئے کہ ان میں جس کسی کو کچھ عقل تھی وہ دنیا کے بعضے کار خانے دیکھ کر حشر کے اقرار کے کلمات زبان پر لے آتا تھا چناچہ عبد المطلب کا ایک قصہ معتبر کتابوں میں ہے کہ انہوں نے ایک ظالم شخص کو ایک عرصہ تک خوشحالی اور تندرستی کی حالت میں جب دیکھا تو قسم کھا کر یہ کہا کہ اب جہان کے علاوہ سزا و جزا کا دوسرا جہان ضرور قائم ہوگا کیونکہ اس ظالم کا بغیر سزا کے وہ جانا ناانصافی ہے جو اللہ کی شان سے بعید ہے۔ مشرکین مکہ نے یہ ایک رسم قرار دے رکھی تھی کہ وہ لوگ پانی کھیتی کی پیداوار میں سے اور میں سے اور میوے کے پیڑوں کے میوں میں سے اور اپنے چوپاؤں کے ہر جھول کے بچوں میں سے کچھ حصہ تو اللہ کے نام کا ٹھہراتے تھے اور کچھ بتوں کے نام کا۔ اللہ کے نام کا حصہ مسافروں کی مہمان داری اور محتاجوں کی خبر گیری میں خرچ ہوتا تھا اور بتوں کے نام کا حصہ بتوں کی پوجا اور پوجاریوں کے کام میں لگایا جاتا تھا۔ اللہ کے نام کے حصے میں موسم کی خرابی کے سبب سے یا جانوروں میں کچھ آفت آجانے کے سبب سے کچھ کمی پڑجایا کرتی تھی تو اس کا معاوضہ نہیں کیا جاتا تھا۔ اگر بتوں کے نام کے حصے میں کچھ کمی پڑجاتی تھی تو اس کا معاوضہ اللہ کے نام کی چیز سے کردیا جاتا تھا اسی کو ” برا انصاف “ فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں اول تو پتھر کی مورتوں کو حصہ دار ٹھہرانے کے کسی طرح کوئی حق تلفی دونوں خرابیاں تھیں۔ یہ ساری خرابیاں اس لیے تھیں کہ یہ لوگ قیامت کے اور اس دن کے جزا وسزا کے قائل نہ تھے ورنہ مسافروں اور محتاجوں کا حق تلف کر کے اپنے عقبے کے اجر کو اس طرح بتوں کی خاطر سے کبھی برباد نہ کرتے یہ مانا کہ پتھر کی یہ مورتیں پچھلے زمانہ کے اچھے لوگوں کی ہیں لیکن جب ان اچھے لوگوں کا جیتے جی یہ مرتبہ نہیں تھا کہ ان کی توقیر اللہ تعالیٰ کی توقیر کے برابر کی جاوے تو مرنے کے بعد ان کو یہ مرتبہ کہاں سے حاصل ہوگیا کہ اللہ کے نام کی بےتو قیری کی جاکر ان کو مورتوں کے نام کے حصہ کی کمی کو پورا کیا جاوے۔ ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے شدادبن اوس (رض) کی حدیث گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ عقلمند وہ شخص ہے جو عقبے کے اجر کی نیت سے عقبے کا کچھ سامان کر لیوے اور نادان وہ شخص ہے جو جیتے جی عقبے سے غافل رہے اور پھر اللہ سے عقبے کی بہبودی کی امید رکھے۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ یہ حدیث میت کی گویا تفسیر ہے کیونکہ آیت اور حدیث کے ملانے سے یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ مشرکین مکہ نادانی تو یہ تھی کہ وہ دنیا کی پیدائش کو بلانتیجہ خیال کر کے قیامت کے منکر تھے لیکن جو شخص دنیا کے پیدا ہونے کے نتیجہ قیامت کو جان کر قیامت کا اقرار کرے اور پھر قیامت کے سامان سے غافل رہے اس کی ناذانی بھی مشرکین مکہ کی نادانی سے کچھ کم نہیں ہے :۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(6:136) جعلوا۔ انہوں نے کیا۔ انہوں نے ٹھہرایا۔ انہوں نے مقرر کیا۔ جعلوا للہ شرکاء (6:100) انہوں نے اللہ کے شریک بنائے (وصفی طور پر) اور آیہ ہذا میں : انہوں نے اللہ کے لئے ایک حصہ مقرر کر رکھا ہے ان کھیتوں اور مویشیوں سے جو اس نے پیدا کئے ہیں (فعلی طور پر۔ ای فعلوا بالفعل) ذرا۔ اس نے پیدا کیا۔ اس نے پھیلایا۔ اس نے بکھیرا۔ ذرا (باب فتح) سے۔ جس کے معنی پیدا کرنے ۔ ظاہر کرنے اور بکھیرنے اور پھیلانے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ الحرث۔ حرث یحرث (ضرب) کا مصدر۔ کھیتی ۔ زراعت۔ کھیت کو حرث کہتے ہیں۔ جیسے نساء کم حرث لکم (2:223) تمہاری بیویاں تمہاری کھتی ہیں۔ الانعام۔ مویشی ۔ بھیڑ۔ بکری۔ گائے۔ بھینس۔ اونٹ۔ نعم کی جمع۔ نصیبا۔ حصہ (اللہ کی نذر و نیاز کے لئے) ۔ سائ۔ برا ہے۔ ساء یسوء (نصر) سوء مصدر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 بعثت وجزا کے متعلق ان کے خیلات کی تردید کے اب یہاں سے ان کی دوسری اعتقاد اوعملی حماقتوں اور جہالتوں کا بیان ہورہا ہے حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جو شخص اہل عرب کے جاہلا نہ نظریات کو جاننا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ سورة انعام کی 130 آیتوں کے بعد دے ایات قد خسر الذین قتلو او لا دھم سفھا بغیر علم۔۔۔۔ الا یہ تک تلاوت کرے ابن العربی فرماتے ہیں کہ ابن عباس نے بالکل صحیح کیا ہے کہ اللہ تعلای کے مقابلے میں بتوں کی ترجیح دینے سے بڑی جہالت اور کون سی ہوسکتی ہے (کبیر، قرطبی) مطلب یہ ہے کہ کھیتی اور مو یشیوں میں سے کچھ حصہ صلہ رحمی اور مسافروں کی مہمان کے لیے مخصوص کرلیتے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 136 : ذرا (اس نے پھیلایا) الحرث ( کھیتی) الانعام ( مویشی) نصیب (حصہ) لایصل (نہیں پہنچتا ہے) یحکمون ( وہ فیصلہ کرتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 136 : مشرکین عرب کھیتی اور باغ کی پیدا وار اور مویشیوں میں سے ہر سال چند حصے الگ کرلیتے۔ ایک حصہ اپنے گھر یلو استعمال کے لئے۔ ایک حصہ بت خانہ کے پجاریوں اور نگہبانوں کے لئے۔ ایک حصہ اللہ کے لئے جو غربا اور مساکین پر خرچ کرتے۔ حصوں کی تقسیم کے بعد بھی وہ اللہ کے حصے میں سے تھوڑا تھوڑا وقتاً فوقتاً کاٹتے رہتے اور اپنے یا پجاریوں کے حصے میں ملا دیا کرتے تھے۔ نیز اگر کسی وقت اتفاق سے اللہ کے لئے مختص کئے ہوئے حصوں میں سے کوئی حصہ اپنے یا بتوں کے حصے میں مل جاتا تو اس کو اسی طرح ملارہنے دیتے اور اس کے لئے یہ جواز ڈھونڈتے کہ اللہ تعالیٰ تو بےنیاز ہے اس کے حصوں میں سے اگر کوئی حصہ کم ہوجائے گا تو کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ فرمایا جارہا ہے کہ سارے کا سارا حق اللہ کا ہے۔ کوئی شریک نہیں۔ تقسیم کا حق اسی کو پہنچتا ہے۔ شارع وہی ہے۔ گھر ‘ دفتر ‘ دکان وغیرہ کے لئے جو وقت اور توجہ کا حصہ ہے۔ وہ اسی کی شریعت کے مطابق ہونا چاہیے۔ کسی کو خود ہی شارع بن جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اور لطف یہ کہ انہوں نے معبود ان باطل ٹھہرارکھے ہیں اور ان کے نام پر پجاریوں اور پروہتوں کو نذر و نیاز دے دیتے ہیں۔ اس کے بعد جو وہ نیم دلی سے تھوڑا بہت خیرات پر خرچ کرتے ہیں وہ کوئی نیکی نہیں ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ غلہ اور پھل میں سے کچھ حصہ اللہ کے نام کا نکالتے اور کچھ بتوں اور جنات کے نام کا پھر اگر اتفاق سے اللہ کے حصہ میں سے کچھ بتوں کے حصے میں مل جاتا تو اس کو ملا رہنے دیتے اور عکس میں اس کو نکال کر پھر بتوں کے حصہ میں ملادیتے اور بہانہ یہ کرتے کہ اللہ تو غنی ہے اس کا حصہ کم ہوجانے سے اس کا کوئی ضرر نہیں اور شرکاء محتاج ہیں انکا حصہ نہ گھٹنا چاہیے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : دنیا میں سب سے بڑا ظلم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے شرک کے مرتکب جن اور انسان جس طرح قولی اور جسمانی عبادات میں گمراہ ہوتے ہیں اسی طرح مالی معاملات اور صدقہ کرنے میں شرک کرتے ہیں۔ اب مشرکوں کے مالی عبادات میں شرک کی نشاندہی اور اس کی مذمت کی جاتی ہے مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس (رض) ذکر کرتے ہیں کہ مشرکین مکہ اپنی خود ساختہ تقسیم کے مطابق اپنے جانوروں میں سے ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے وقف کرتے تھے اور دوسرا حصہ معبودان باطل کے لیے۔ جن کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ یہ سب کچھ ان کی حرمت و طفیل اور صدقہ سے ملتا ہے۔ جو حصہ ان کے معبودوں کے نام کا ہوتا وہ پورے کا پورا ان کے نام پر بتوں کی آرائش و زیبائش کے لیے نذرانہ کیا جاتا، جسے بت خانہ کے متولی اپنی مرضی سے خرچ کرتے۔ جو حصہ اللہ تعالیٰ یعنی فی سبیل اللہ مقرر کرتے اسے غربا اور مساکین پر خرچ کرتے۔ معبودوں کے مقرر کیا ہوا حصہ میں اگر نقصان ہوجاتا تو یہ نقصان فی سبیل اللہ کے حصہ سے پورا کردیتے۔ اگر فی سبیل اللہ کے کھاتے میں کمی واقع ہوجاتی تو اس کو کم ہی رہنے دیتے کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ مستغنی، بےنیاز اور بڑے حوصلے والا ہے۔ اس کا حصہ کم بھی رہ جائے تو اسے کوئی پروا نہیں۔ لیکن ہمارے معبود حاجت مند ہیں اس لیے اگر ان کا حصہ پورا نہ کیا گیا تو وہ ناراض ہوجائیں گے جس کی وجہ سے ہمارا نقصان ہوسکتا ہے۔ تقسیم کا یہ اصول کسی شریعت سے ماخوذ نہیں تھا بلکہ انھوں نے من ساختہ بنایا ہوا تھا جس کی بنا پر فرمایا ہے کہ بدترین ہے فیصلہ اور ان کی تقسیم جو وہ کرتے ہیں۔ غور فرمائیں کہ چودہ سو تیس سال پہلے کی رسومات اور شرک قریب قریب اسی شکل میں اب بھی جاری ہے۔ آج بھی مزارات پر دیے جانے والے نذرانوں کے بارے میں لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اگر ہم نے پیر عبدالقادر جیلانی (رح) کے نام گیارہویں پیش نہ کی، فلاں مزار پر اتنا حصہ نہ دیاتو بزرگ ناراض ہو کر ہمارا نقصان کردیں گے اور مال سے برکت اٹھ جائے گی۔ مکہ کے مشرکوں کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے بےنیاز ہے۔ لیکن ہمارے معبود حاجت مند ہیں۔ اس کے باوجود انھیں اپنی مشکلات کے حل کا ذریعہ اور مشکل کشا سمجھتے تھے۔ یہی عقیدہ آج بیشمار کلمہ گو حضرات کا ہے۔ مزارات میں مدفون بزرگوں کو مشکلات کے حل کے لیے اللہ کے حضور واسطہ اور ذریعہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ قرآن مجید بار بار وضاحت کرتا ہے۔ یہ نہ سن سکتے ہیں اور نہ کسی کی مدد کرسکتے ہیں۔ انھیں تو یہ بھی خبر نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔ (عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ قَالَ نَذَرَ رَجُلٌ عَلٰی عَہْدِ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَنْ یَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَۃَ فَأَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّی نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَۃَ فَقَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہَلْ کَان فیہَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاہِلِیَّۃِ یُعْبَدُ قَالُوْا لَا قَالَ ہَلْ کَان فیہَا عیدٌ مِنْ أَعْیَادِہِمْ قَالُوا لَا قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَوْفِ بِنَذْرِکَ فَإِنَّہُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِی مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ وَلَا فیمَا لَا یَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ ) [ رواہ ابوداؤد : باب مایومر بہ من الوفاء بالنذر ] ” حضرت ضحاک بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ ’ بوانہ ‘ مقام پر اونٹ ذبح کرے گا۔ سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی پوجا ہوتی تھی ؟ اس نے نفی میں جواب دیا۔ سرورِکائنات نے استفسار فرمایا بھلا وہاں جاہلیت کے میلوں میں سے کوئی میلہ لگتا تھا ؟ عرض کی کہ نہیں۔ حبیب کبریا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر تجھے نذر پوری کرنا چاہیے۔ اس نذر کو پورا نہ کیا جائے جس میں اللہ کی نافرمانی ہو اور نہ اسے جس کو انسان پورا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ “ مسائل ١۔ غیر اللہ کے نام پر صدقہ یا نذرانہ کرنا شرک ہے۔ ٢۔ اپنی مرضی سے حرام و حلال کا فیصلہ کرنا بدترین جرم ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ چیزوں کو غیر اللہ کے نام منسوب کرنا حرام ہے۔ ٤۔ مالی اور دیگر عبادات میں کسی کو اللہ تعالیٰ کا ساجھی بنانا شرک ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ کے نام وقف کی ہوئی چیز کو غیر اللہ کے نام وقف کرنا بدترین گناہ ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت ” نمبر ١٣٦۔ فصلوں اور مویشیوں کے بارے میں جاہلی سوسائٹی کے رسم و رواج کے بیان کے بعد یہاں بتایا جاتا ہے کہ ان فصلوں اور مویشیوں کی خالق اللہ کی ذات ہے اور وہی ہے جو زمین آسمان سے لوگوں کے لیے وسائل رزق فراہم کرتا ہے ۔ لیکن ان حقائق کو سمجھنے اور تسلیم کرنے کے بعد ذرا سوچیں کہ تم لوگو اللہ کے عطا کردہ رزق کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو ‘ یہ کہ وہ اس کا ایک حصہ تو اللہ کے لئے قرار دیتے ہیں اور دوسرا حصہ اپنے بتوں کے نام منسوب کرتے ہیں ۔ (ظاہر ہے کہ بتوں کے مجاور ہی وہ لوگ ہیں جو بتوں کے حصے کو حاصل کرنے کے حقدار ہوتے ہیں) ۔ اب اللہ کے حصے کے ساتھ وہ یہ توہین آمیز سلوک کرتے ہیں جس کی تفصیلات آیت کے اندر دی گئی ہیں ۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ جب وہ غلہ لے آتے تو اسے ڈھیر بنا لیتے ۔ اس میں سے ایک حصہ اللہ کے لئے نکالتے اور ایک بتوں کے لئے ۔ اب جب تیز ہوا چلتی اور غلے کے دانے بتوں کے حصے سے اڑ کر اللہ کے حصے میں شامل ہوجاتے تو یہ اس حصے سے ان کو جدا کرکے پھر بتوں کے حصے میں ملا دیتے ‘ اور اگر اللہ کے حصے کی جانب سے ہوا آئے اور اللہ کے حصے سے دانے بتوں کے حصے میں مل جاتے تو وہ انہیں اسی طرح چھوڑ دیتے ۔ اسی کے بارے میں یہ آیت آئی ہے ۔ آیت ” سَاء مَا یَحْکُمُونَ (136) ” یہ لوگ برے فیصلے کرتے ہیں “۔ مجاہد سے روایت ہے کہ وہ کھیت کے ایک حصے کو اللہ کے نام کردیتے اور ایک حصے کو اپنے بتوں کے لئے مخصوص کردیتے ۔ اب اللہ کے حصے سے ہوا اگر کسی چیز کو اڑا کر بتوں والے حصے میں ملا دے تو یہ اسے اسی طرح چھوڑ دیتے تھے اور اگر بتوں کے حصے سے کوئی چیز اللہ کے حصے میں مل جائے تو یہ اسے واپس کردیتے تھے ۔ اور کہتے ۔ (اللہ عن ھذا غنی) اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ “ اور مویشیوں میں سے انہوں نے سائبہ اور بحیرہ نام رکھے ہوئے تھے ۔ حضرت قتادہ سے روایت ہے ۔ اہل ضلالت نے یہ فیصلہ کیا کہ اپنے مویشیوں اور فصلوں کے ایک حصے کو اللہ کا حق قرار دے دیا اور ایک حصے کو بتوں کا حق قرار دیا ۔ اب اگر اللہ کے حصے کی کوئی چیز بتوں کے حصے میں خلط ملط ہوجاتی تو یہ اسے چھوڑ دیتے اور اگر بتوں کے حصے سے کوئی چیز اللہ کے حصے میں جا پڑتی تو یہ اسے لوٹا دیتے ۔ اور اگر کبھی خشک سالی ہوتی تو وہ اللہ کے حصے کو موقوف کر کے خود استعمال کرتے لیکن بتوں کے حصے کو ہر حال میں قائم رکھتے ۔ اس کے بارے میں اللہ نے کہا۔ آیت ” سَاء مَا یَحْکُمُونَ (136) ” یہ برا فیصلہ ہے جو یہ کرتے ہیں ‘۔ حضرت سدی کہتے ہیں کہ یہ اپنے مالوں کے حصے بناتے تھے اور فصلوں میں سے بھی اللہ کا حصہ مقرر کرتے تھے ۔ اسی طرح بتوں کے لئے بھی حصہ مقرر تھا ۔ بتوں کے حصے کو بتوں پر صرف کرتے اور اللہ کے حصے کو صدقہ کردیتے ۔ اب وہ مویشی جو بتوں کا حصہ ہوتے اگر اتفاقا مر جاتے اور اللہ کا حصہ زیادہ ہوجاتا تو وہ کہتے کہ ہمارے خداؤں کے لئے بھی تو اخراجات درکار ہیں تو وہ اللہ کے حصے میں سے لے کر اللہ کے ساتھ ٹھہرائے ہوئے شریکوں پر خرچ کرتے ۔ اور اگر اللہ کے حصے کی فصل خراب ہوجاتی اور بتوں والے حصے میں فصل زیادہ ہوجاتی تو کہتے کہ اگر اللہ چاہتا تو وہ اپنے حصے کو اچھا بناتا۔ یوں وہ بتوں کے حصے سے لے کر حصے کو پورا نہ کرتے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” اگر یہ سچے ہوتے تو ہر گز ایسا نہ کرتے کیونکہ یہ لوگ میرے حصے سے تو لیتے ہیں لیکن میرے حصے میں شامل نہیں کرتے اور یہی مطلب ہے ۔ آیت ” سَاء مَا یَحْکُمُونَ (136) کا ۔ ابن جریر آیت ” سَاء مَا یَحْکُمُونَ (136) کی تفسیر میں لکھتے ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان لوگوں کے بارے اطلاع ہے کہ وہ برے فیصلے کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے جو فیصلہ کیا وہ نہایت ہی غلط فیصلہ تھا کہ انہوں نے میرا حصہ ان لوگوں کو دے دیا جو انہوں نے بزعم خود میرے شریک ٹھہرائے ہوئے ہیں اور مزید یہ کہ ان مزعومہ شریکوں کے حصے میں سے وہ مجھے کچھ نہیں دیتے ۔ یہی بات اس امر کے لئے کافی ثبوت ہے کہ یہ لوگ گمراہ بھی ہیں اور جاہل بھی ۔ انہوں نے سچائی کی راہ کو ایک طرف چھوڑ دیا کیونکہ وہ جب اپنے خالق اور رازق کے ساتھ انصاف نہیں کرتے تو وہ کس کے ساتھ کریں گے جبکہ اس نے ان پر لاتعداد احسانات بھی کر رکھے ہیں ۔ وہ اللہ کو ان بتوں کے برابر کرتے ہیں جو نفع ونقصان نہیں دے سکتے ۔ بلکہ انہوں نے ان بتوں کو اللہ فضیلت دے دی کہ ان کے حصے کو اللہ کے حصے سے بڑا قرار دیا ۔ یہ تھی وہ بات جو انسانوں اور جنوں میں سے شیطان لوگ اپنے دوستوں کو سجھاتے تھے تاکہ وہ مویشیوں اور فصلوں کے بارے میں اہل ایمان کے ساتھ الجھتے رہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ شیاطین انسانوں کو جو زاویہ نظر دیتے ہیں ‘ اس میں ان شیاطین کا کوئی نہ کوئی مفاد ضرور ہوتا ہے ۔ انسانی شیطانوں کا مفاد یہ ہے (یہ کاہنوں ‘ مجاوروں اور رئیسوں میں سے ہوتے ہیں) کہ پہلے تو وہ ان انسانوں کے دل و دماغ پر چھا جاتے ہیں اور اس اثر کو قائم کرلینے کے بعد وہ ان کو اپنی مطلوبہ سمت کی طرف حرکت دیتے ہیں۔ اپنے دئیے ہوئے زاویہ نظر کے عین مطابق جو باطل تصورات اور فاسد عقائد پر مشتمل ہوتا ہے ۔ یوں وہ ان عوام الناس کو گمراہ کرکے خود اپنے مادی مفاد بھی حاصل کرتے ہیں مثلا یہ برخود غلط عوام بتوں کے لئے جو حصے تجویز کرتے ہیں وہ عملا انہیں لوگوں کو ملتے ہیں جو ان کو یہ تصور دیتے ہیں ۔ جنوں کے شیاطین کا مفاد یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈال کر ان کو گمراہ کرتے ہیں اور انکی قیادت کرکے ان کی دنیا بھی خراب کرتے ہیں اور آخرت بھی ۔ یہ تصورات جو عرب جاہلیت میں پائے جاتے تھے ‘ ان کی مثالیں دنیا میں پائی جانے والی دوسری جاہلیتوں کے اندر بھی موجود ہیں ۔ مثلا یونانی ‘ فارسی ‘ رومی اور افریقہ وایشیا کی دوسری جاہلیتوں میں ۔ یہ تصورات تمام جاہلیتوں میں مالی تصرفات کرتے ہیں اور یہ ہر جاہلیت میں موجود ہوتے ہیں ۔ مثلا دور جدید کی جاہلیت بھی ایسے مالی تصرفات کو روا رکھتی ہے جس کی اجازت اللہ نے نہیں دی ۔ چناچہ اس شرک میں دور جدید کی جاہلیت بھی ازمنہ سابقہ کی جاہلیتوں کے بالکل برابر ہے ۔ دونوں ایک ہی اصول پر قائم ہیں ۔ مثلا جاہلیت کی تعریف ہے ہو وہ تصرف جو عوام الناس کی زندگیوں میں کیا جائے جبکہ اس کی اجازت اللہ نے نہ دی ہو ۔ اب یہ اور بات ہے کہ قدیم زمانوں میں اس قسم کے تصرفات کی شکل ونوعیت اور ہوتی تھی اور آج ذرا مختلف ہے ۔ اصول ایک ہے اور شکلیں مختلف ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مشرکین نے کھیتوں اور جانوروں کو شرک کا ذریعہ بنایا مشرکین میں جو طرح طرح سے شرک پھیلا ہوا ہے جس کی کئی صورتیں ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ لوگ اپنے شرکاء یعنی اپنے باطل معبودوں کے نام پر کچھ مال نامزد کردیتے تھے۔ اور بہت سا مال ان پر بھینٹ کے طور پر چڑھاتے تھے ان کے ناموں پر جانوروں کے کان کاٹ دیتے تھے اور ان کے نام سے بہت سے جانوروں کو آزاد چھوڑ دیتے تھے۔ مشرکین میں اب بھی ایسے طریقے رائج ہیں۔ آیت بالا میں مالیاتی سلسلہ کے ایک شرک کا تذکرہ فرمایا ہے۔ اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے کھیتیاں اور مویشی پیدا فرمائے ہیں اور یہ سب اسی کی ملکیت ہے۔ مشرکین یہ کرتے تھے کہ ان میں سے کچھ حصہ اپنے معبود ان باطلہ کے لیے مقرر کردیتے تھے۔ اس کے مصارف بھی انہوں نے تجویز کر رکھے تھے۔ اب ہوتا یہ تھا کہ جو حصہ اللہ کے لیے مقرر کیا تھا اس میں کچھ حصہ اگر معبود ان باطلہ کے حصہ میں مل گیا تو اسے تو ملا ہی رہنے دیتے تھے اور اگر ان معبود ان باطلہ والے حصہ میں کچھ حصہ اس حصہ میں مل جاتا جو اللہ کے لیے مقرر کیا تھا تو اسے جھٹ الگ کرلیتے تھے۔ پہلی حماقت اور ضلالت تو یہ کہ اللہ کے علاوہ معبود تجویز کرلیے پھر دوسری گمراہی یہ کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا فرمودہ چیزوں میں بہت سا مال معبود ان باطلہ کے لیے نا مزد کردیا۔ پھر تیسری گمراہی یہ کہ اپنے بتوں اور باطل معبودوں کو خالق ومالک جل مجدہ کے مقابلہ میں فضیلت دیدی کہ اللہ تعالیٰ کا حصہ اگر ان کے حصہ میں مل جائے تو ملا ہی رہے اور ان کے لیے جو حصہ مقرر کرلیا تھا اس میں سے اگر اللہ تعالیٰ کے حصہ میں کچھ مل جائے تو فوراً جدا کرلیتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (سَآءَ مَا یَحْکُمُوْنَ ) کہ یہ لوگ برا فیصلہ کرتے ہیں بعض اکابر نے فرمایا کہ امت حاضرہ کا بھی کچھ ایسا ہی طریق کار ہے کہ جو وقت عبادت ذکر و تلاوت کے لیے مقرر کرتے ہو اس وقت میں دنیوی کام تو کرلیتے ہو اور جو وقت دنیا کے لیے مقرر کیا ہے اس میں سے ذکر و تلاوت میں لگانے کو تیار نہیں ہوتے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

149 یہ غیر اللہ کی نذر ونیاز کا دوسری بار ذکر ہے پہلے قَدْ فَصَّلَ الخ میں اجمالاً ذکر کیا یہاں قدرے تفصیل سے ذکر فرمایا یعنی مشرکین نہ صرف چوپایوں ہی کو غیر اللہ کا حصہ نکالتے ہیں بلکہ وہ غلوں اور پھلوں سے بھی غیر اللہ کی نذر و نیاز مقرر کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ صرف وہی جانور حرام نہیں جسے غیر اللہ کی تعظیم کیلئے ذبح کیا جائے بلکہ وہ بھی حرام ہے جو زندہ غیر اللہ کی نذر و نیاز کے طور پر دیدیا جائے۔ مشرکین زمین کی پیداوار سے اور جانوروں سے اپنے معبودوں کی نیاز کے سے معین کردیتے تھے ور ساتھ اللہ کا حصہ بھی متعین کرتے تھے۔ 150:۔ اپنے معبودانِ باطلہ کی نذر و نیاز کے حصوں کو اللہ کی نذر کے مصارف میں خرچ نہیں کرتے تھے لیکن اللہ کی نذروں کو اپنے معبودوں کی نذروں کے مصارف میں خرچ کردیتے تھے۔ ای فما عینوہ لشرکائھم لا یصرف الی الوجوہ التی یصرف الیھا ما عینوہ للہ تعالیٰ وما عینوہ للہ تعالیٰ یصرف الی الوجوہ التی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

136 اور اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کئے ہیں ان میں سے یہ منکرین اسلام کچھ حصہ تو اللہ کے لئے مقرر کردیتے ہیں پھر اپنے خیال فاسدہ کی بنا پر یوں کہتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اتنا حصہ تو اللہ کے لئے ہے اور یہ اتنا حصہ ہمارے ان معبودوں کا ہے جو اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں پھر ان کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جو حصہ ان کے معبودوں کا ہوتا ہے وہ خدا کی طرف نہیں پہونچتا اور جو حصہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہوتا ہے وہ ان کے معبودوں تک پہونچ جاتا ہے کیا ہی برا فیصلہ ہے اور کیا ہی برا وہ انصاف ہے جو یہ کرتے ہیں یعنی اول تو کھیتی اور مویشی میں یہ تقسیم کہ اتنا حصہ خدا کے نام پر دیا جائے اور اتنا بتوں کے نام پر چڑھایا جائے پھر جب دونوں کے حصے الگ الگ کئے جائیں اور ایک میں سے دوسرے کے حصہ میں کچھ چلا جائے تو اگر خدا کے حصہ میں سے کچھ غیر اللہ کی طرف چلا جائے تو جانے دیں لیکن بتوں کے ڈھیر میں سے کچھ حصہ خدا کی طرف آجائے تو اس کو اسی وقت واپس کریں اسی کو فرمایا کہ یہ فیصلہ برا ہے جو یہ کیا کرتے ہیں۔