Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 138

سورة الأنعام

وَ قَالُوۡا ہٰذِہٖۤ اَنۡعَامٌ وَّ حَرۡثٌ حِجۡرٌ ٭ۖ لَّا یَطۡعَمُہَاۤ اِلَّا مَنۡ نَّشَآءُ بِزَعۡمِہِمۡ وَ اَنۡعَامٌ حُرِّمَتۡ ظُہُوۡرُہَا وَ اَنۡعَامٌ لَّا یَذۡکُرُوۡنَ اسۡمَ اللّٰہِ عَلَیۡہَا افۡتِرَآءً عَلَیۡہِ ؕ سَیَجۡزِیۡہِمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۱۳۸﴾

And they say, "These animals and crops are forbidden; no one may eat from them except whom we will," by their claim. And there are those [camels] whose backs are forbidden [by them] and those upon which the name of Allah is not mentioned - [all of this] an invention of untruth about Him. He will punish them for what they were inventing.

اور وہ اپنے خیال پر یہ بھی کہتے ہیں یہ کچھ موایشی ہیں اور کھیت ہے جن کا استعمال ہر شخص کو جائز نہیں ان کو کوئی نہیں کھا سکتا سوائے ان کے جن کو ہم چاہیں اور موایشی ہیں جن پر سواری یا بار برداری حرام کر دی گئی اور کچھ موایشی ہیں جن پر یہ لوگ اللہ تعالٰی کا نام نہیں لیتے محض اللہ پر افترا باندھنے کے طور پر ۔ ابھی اللہ تعالٰی ان کو ان کے افترا کی سزا دیئے دیتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Idolators Forbade Certain Types of Cattle Allah says; وَقَالُواْ هَـذِهِ أَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ لاَّ يَطْعَمُهَا إِلاَّ مَن نّشَاء بِزَعْمِهِمْ ... And according to their claim, they say that such and such cattle and crops are Hijr (forbidden), and none should eat of them except those whom we allow. Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas said, "Hijr refers to what they forbade, such as the Wasilah, and the like." Similar was said by Mujahid, Ad-Dahhak, As-Suddi, Qatadah, Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam and others. Qatadah commented on, وَقَالُواْ هَـذِهِ أَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ (They say that such and such cattle and crops are Hijr), "It is a prohibition that the Shayatin appointed for their wealth, and a type of exaggeration and extremism that did not come from Allah." Abdur-Rahman Ibn Zayd bin Aslam said that, حِجْرٌ (Hijr) refers to what the idolators designated for their deities. As-Suddi said that the Ayah, لااَّ يَطْعَمُهَا إِلااَّ مَن نّشَاء بِزَعْمِهِمْ (And none should eat of them except those whom we allow, they claimed...), means, "They said, only those whom we choose can eat of them, and the rest are prohibited from eating them." Similar to this honorable Ayah, Allah said, قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَّأ أَنزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِّن رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَحَلَلاً قُلْ ءَاللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ Say: "Tell me, what provision Allah has sent down to you! And you have made of it lawful and unlawful." Say: "Has Allah permitted you (to do so), or do you invent a lie against Allah!" (10:59) and, مَا جَعَلَ اللَّهُ مِن بَحِيرَةٍ وَلاَ سَأيِبَةٍ وَلاَ وَصِيلَةٍ وَلاَ حَامٍ وَلَـكِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَأَكْثَرُهُمْ لاَ يَعْقِلُونَ Allah has not instituted things like Bahirah or a Sa'ibah or a Wasilah or a Ham. But those who disbelieve invent lies against Allah, and most of them have no understanding. (5:103) As-Suddi said that; cattle forbidden to be used for burden were the Bahirah, Sa'ibah, Wasilah and Ham, as well as cattle for which the idolators did not mention Allah's Name when slaughtering them nor when they were born. Abu Bakr bin Ayyash said that Asim bin Abi An-Najud said, "Abu Wa'il said to me, `Do you know the meaning of the Ayah, ... وَأَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُهَا وَأَنْعَامٌ لاَّ يَذْكُرُونَ اسْمَ اللّهِ عَلَيْهَا ... And (they say) there are cattle forbidden to be used for burden, and cattle on which the Name of Allah is not pronounced. I said, `No.' He said, `It is the Bahirah, which they would not use to for Hajj (either by riding it or carrying things on it)."' Mujahid also said that; they were some of the camels belonging to idolators on which Allah's Name was not mentioned when riding, milking, carrying things, copulation or any other action. ... افْتِرَاء عَلَيْهِ ... lying against Him. against Allah. The idolators indeed lied when they attributed this evil to Allah's religion and Law; He did not allow them to do that nor did He approve of it. ... سَيَجْزِيهِم بِمَا كَانُواْ يَفْتَرُونَ He will recompense them for what they used to fabricate. against Him, and falsely attribute to Him.

اللہ کا مقرر کردہ راستہ حجر کے معنی احرام کے ہیں ۔ یہ طریقے شیطانی تھے کوئی اللہ کا مقرر کردہ راستہ نہ تھا ۔ اپنے معبودوں کے نام یہ چیزیں کر دیتے تھے ۔ پھر جسے چاہتے کھلاتے ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَــعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا ) 10 ۔ یونس:59 ) یعنی بتلاؤ تو یہ اللہ کے دیئے رزق میں سے تم جو اپنے طور پر حلال حرام مقرر کر لیتے ہو اس کا حکم تمہیں اللہ نے دیا ہے یا تم نے خود ہی خود پر تراش لیا ہے؟ دوسری آیت میں صاف فرمایا آیت ( مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِيْرَةٍ وَّلَا سَاۗىِٕبَةٍ وَّلَا وَصِيْلَةٍ وَّلَا حَامٍ ۙ وَّلٰكِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ ۭ وَاَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ ) 5 ۔ المائدہ:103 ) یعنی یہ کافروں کی نادانی ، افتراء اور جھوٹ ہے ۔ بحیرہ سائبہ اور حام نام رکھ کر ان جانوروں کو اپنے معبودان باطل کے نام پر داغ دیتے تھے پھر ان سے سواری نہیں لیتے تھے ، جب ان کے بچے ہوتے تھے تو انہیں ذبح کرتے تھے حج کے لئے بھی ان جانوروں پر سواری کرنا حرام جانتے تھے ۔ نہ کسی کام میں ان کو لگاتے تھے نہ ان کا دودھ نکالتے تھے پھر ان کاموں کو شرعی کام قرار دیتے تھے اور اللہ کا فرمان جانتے تھے اللہ انہیں ان کے اس کرتوت کا اور بہتان بازی کا بدلہ دے گا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

138۔ 1 اس میں ان کی جاہلی شریعت اور اباطیل کی تین صورتیں اور بیان فرمائی ہیں۔ حجرً (بمعنی منع) اگرچہ مصدر ہے لیکن مفعول یعنی مَحْجُوْر (ممنوع) کے معنی ہیں یہ پہلی صورت ہے کہ جانور یا فلاں کھیت کی پیداوار، ان کا استعمال ممنوع ہے۔ اسے صرف وہی کھائے گا جسے ہم اجازت دیں گے۔ یہ اجازت بتوں کے خادم اور مجاورین کے لئے ہوتی ہے۔ 138۔ 2 یہ دوسری صورت ہے کہ مختلف قسم کے جانوروں کو اپنے بتوں کے نام آزاد چھوڑ دیتے ہیں جن سے وہ بار برداری یا سواری کا کام نہ لیتے جیسے تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ 138۔ 3 یہ تیسری صورت ہے کہ وہ ذبح کرتے وقت صرف اپنے بتوں کا نام لیتے ہیں، اللہ کا نام نہ لیتے، بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ جانوروں پر بیٹھ کر وہ حج کے لئے نہ جاتے۔ بہرحال یہ ساری صورتیں گھڑی ہوئی تو ان کی اپنی تھیں لیکن اللہ پر افترا باندھتے یعنی یہ باور کراتے کہ اللہ کے حکم سے ہی سب کچھ کر رہے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٤٨] مشرکوں کی اپنی وضع کردہ شریعت :۔ ان مشرکوں کی مشرکانہ رسوم کی فہرست بڑی طویل ہے۔ ان کے بزرگوں نے آہستہ آہستہ پوری شریعت ہی وضع کر ڈالی تھی جن میں سے چند مزید امور کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت اور اس سے اگلی آیت میں ذکر فرمایا ہے اور وہ یہ ہیں۔ (١) ان مشرکوں کے ہاں یہ دستور تھا کہ جس کھیتی یا مویشی کے متعلق وہ یہ منت مان لیتے کہ وہ فلاں بت یا فلاں دربار یا فلاں سیدہ کے لیے مخصوص ہے تو ایسی نیاز کو ہر ایک نہیں کھا سکتا تھا بلکہ اس کے متعلق بھی انہوں نے ایک فہرست بنا رکھی تھی۔ کہ فلاں قسم کی نذر ہو تو اسے فلاں فلاں لوگ کھا سکتے ہیں اور فلاں قسم کی ہو تو فلاں فلاں۔ (٢) جن مویشیوں کو بتوں یا درباروں کی نذر کیا جاتا ان پر عام لوگوں اور اصل مالک کا بھی سواری کرنا حرام تھا حتیٰ کہ حج کے سفر میں بھی اس پر سوار ہونا ممنوع تھا۔ کیونکہ اس وقت انہیں (لبیک اللھم لبیک) کہنا پڑتا تھا۔ (٣) ان نذر کردہ جانوروں سے صرف دربار کے مجاور اور بتوں کے پروہت ہی فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ مگر اب ان پر اللہ کا نام لینا ممنوع تھا کیونکہ وہ معبودان باطل کے لیے وقف ہوچکے تھے۔ دودھ دوہتے وقت، سواری کرتے وقت، ذبح کرتے وقت اور کھاتے وقت غرض کسی وقت بھی ان پر اب اللہ کا نام لینا ممنوع تھا۔ تاکہ اس معبود کی نذر و نیاز میں اللہ کی شراکت نہ ہونے پائے۔ (٤) جو مویشی بتوں یا آستانوں کے نام وقف ہوچکے مثلاً بحیرہ، سائبہ وغیرہ وغیرہ ان میں ماداؤں کو ذبح کرنے کے بعد اگر ان کے پیٹ سے زندہ بچہ نکلے تو اس کا گوشت صرف مرد ہی کھا سکتے ہیں عورتیں نہیں کھا سکتیں۔ ہاں اگر بچہ مردہ پیدا ہو یا پیدا ہوتے ہی مرجائے تو اس میں عورتیں بھی شریک ہوسکتی ہیں اور ایسی یا اس سے ملتی جلتی رسوم ہمارے ہاں بھی رائج ہیں مثلاً بی بی صاحبہ کی صحنک جسے صرف سہاگن عورتیں ہی کھا سکتی ہیں۔ مرد اور بیوہ عورتیں نہیں کھا سکتیں۔ یہ سب کفر و شرک کی باتیں ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

’ حِجْرٌ“ بمعنی ” مَحْجُوْرٌ“ ہے، یعنی ممنوع۔ اس میں ان کی جاہلیت کی تین اور صورتیں بیان فرمائی ہیں، پہلی صورت یہ کہ فلاں جانور یا کھیت کا استعمال ممنوع ہے، مگر اس کے لیے جسے ہم اجازت دیں گے اور یہ اجازت بت خانوں کے مجاوروں اور خادموں کے لیے ہوتی تھی۔ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا : یہ دوسری صورت ہے کہ وہ مختلف قسم کے جانوروں کو اپنے بتوں کے نام پر آزاد چھوڑ دیتے اور ان سے سواری یا بوجھ اٹھوانے کا کام نہ لیتے، جیسے بحیرہ، سائبہ وغیرہ۔ دیکھیے سورة مائدہ (١٠٣) ۔ وَاَنْعَامٌ لَّا يَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهَا ۔۔ : یہ تیسری صورت ہے کہ وہ کچھ جانوروں کو بت خانوں کے مجاوروں کے لیے خاص کرتے ہوئے انھیں ذبح کرتے وقت یا سوار ہوتے وقت صرف اپنے بت کا نام لیتے، اللہ کا نام نہ لیتے، بلکہ ان پر حج کے لیے بھی نہ جاتے، تاکہ ان مجاوروں کے سوا کوئی انھیں استعمال نہ کرسکے۔ بہرحال یہ ساری صورتیں گھڑی ہوئی تو ان کی اپنی تھیں مگر وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے اور باور کرواتے کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالُوْا ہٰذِہٖٓ اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌ۝ ٠ ۤۖ لَّا يَطْعَمُہَآ اِلَّا مَنْ نَّشَاۗءُ بِزَعْمِہِمْ وَاَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُہُوْرُہَا وَاَنْعَامٌ لَّا يَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللہِ عَلَيْہَا افْتِرَاۗءً عَلَيْہِ۝ ٠ ۭ سَيَجْزِيْہِمْ بِمَا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ۝ ١٣٨ نعم ( جانور) [ والنَّعَمُ مختصٌّ بالإبل ] ، وجمْعُه : أَنْعَامٌ ، [ وتسمیتُهُ بذلک لکون الإبل عندهم أَعْظَمَ نِعْمةٍ ، لكِنِ الأَنْعَامُ تقال للإبل والبقر والغنم، ولا يقال لها أَنْعَامٌ حتی يكون في جملتها الإبل ] «1» . قال : وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ [ الزخرف/ 12] ، وَمِنَ الْأَنْعامِ حَمُولَةً وَفَرْشاً [ الأنعام/ 142] ، وقوله : فَاخْتَلَطَ بِهِ نَباتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعامُ [يونس/ 24] فَالْأَنْعَامُ هاهنا عامٌّ في الإبل وغیرها . ( ن ع م ) نعام النعم کا لفظ خاص کر اونٹوں پر بولا جاتا ہے اور اونٹوں کو نعم اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ عرب کے لئے سب سے بڑی نعمت تھے اس کی جمع انعام آتی ہے لیکن انعام کا لفظ بھیڑ بکری اونٹ اور گائے سب پر بولا جاتا ہے مگر ان جانوروں پر انعام کا لفظ اس وقت بولا جاتا ہے ۔ جب اونٹ بھی ان میں شامل ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ [ الزخرف/ 12] اور تمہارے لئے کشتیاں اور چار پائے بنائے ۔ وَمِنَ الْأَنْعامِ حَمُولَةً وَفَرْشاً [ الأنعام/ 142] اور چار پایوں میں بوجھ اٹھا نے والے ( یعنی بڑے بڑے بھی ) پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے ( یعنی چھوٹے چھوٹے بھی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَباتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعامُ [يونس/ 24] پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں ۔ مل کر نکلا ۔ میں انعام کا لفظ عام ہے جو تمام جانوروں کو شامل ہے ۔ حرث الحَرْث : إلقاء البذر في الأرض وتهيّؤها للزرع، ويسمّى المحروث حرثا، قال اللہ تعالی: أَنِ اغْدُوا عَلى حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صارِمِينَ [ القلم/ 22] ، وذلک علی سبیل التشبيه، فبالنساء زرع ما فيه بقاء نوع الإنسان، كما أنّ بالأرض زرع ما به بقاء أشخاصهم، وقوله عزّ وجل : وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ، يتناول الحرثین . ( ح ر ث ) الحرث ( ن ) کے معنی زمین میں بیج ڈالنے اور اسے زراعت کے لئے تیار کرنے کے پاس اور کھیتی کو بھی حرث کہاجاتا ہے ۔ قرآں میں ہے ؛۔ أَنِ اغْدُوا عَلى حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صارِمِينَ [ القلم/ 22] کہ اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویری ہی جا پہنچو۔ اور کھیتی سے زمین کی آبادی ہوئی ہے اس لئے حرث بمعنی آبادی آجاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] اور کھیتی کو ( برباد ) اور انسانوں اور حیوانوں کی ) نسل کو قابو کردے ۔ دونوں قسم کی کھیتی کو شامل ہے۔ حِجْر ( ممنوع) والحِجْر : الممنوع منه بتحریمه، قال تعالی: وَقالُوا : هذِهِ أَنْعامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ [ الأنعام/ 138] ، وَيَقُولُونَ حِجْراً مَحْجُوراً [ الفرقان/ 22] ، کان الرجل إذا لقي من يخاف يقول ذلک «2» ، فذکر تعالیٰ أنّ الکفار إذا رأوا الملائكة قالوا ذلك، ظنّا أنّ ذلك ينفعهم، قال تعالی: وَجَعَلَ بَيْنَهُما بَرْزَخاً وَحِجْراً مَحْجُوراً [ الفرقان/ 53] ، أي : منعا لا سبیل إلى رفعه اور آیت کریمہ : وَيَقُولُونَ حِجْراً مَحْجُوراً [ الفرقان/ 22] میں حجر مھجورا ایک محاورہ ہے جاہلیت کا دستور تھا جب کسی کے سامنے کوئی ایسا شخص آجاتا جس کے ازیت کا خوف ہوتا تو حجرا مھجورا کہدیتا ( یعنی ہم تمہاری پناہ چاہتے ہیں ) یہ الفاظ سن کر دشمن اسے کچھ نہ کہتا ) تو قرآن نے یہاں بیان کیا کہ کفار بھی ( عزاب کے ) فرشتوں کو دیکھ کر ( حسب عادت ) الفاظ کہیں گے کہ شاید عزاب سے پناہ مل جائے ۔ اور آیت کریمہ ۔ وَجَعَلَ بَيْنَهُما بَرْزَخاً وَحِجْراً مَحْجُوراً [ الفرقان/ 53] اور دونوں کے درمیان ایک آڑ اور مضبوط اوٹ بتادی ۔ میں حجرا مھجورا سے مراد ایسی مضبوط رکاوٹ ہے جو دور نہ ہوسکے طعم الطَّعْمُ : تناول الغذاء، ويسمّى ما يتناول منه طَعْمٌ وطَعَامٌ. قال تعالی: وَطَعامُهُ مَتاعاً لَكُمْ [ المائدة/ 96] ، قال : وقد اختصّ بالبرّ فيما روی أبو سعید «أنّ النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أمر بصدقة الفطر صاعا من طَعَامٍ أو صاعا من شعیر» «2» . قال تعالی: وَلا طَعامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ [ الحاقة/ 36] ، ( ط ع م ) الطعم ( س) کے معنی غذا کھانے کے ہیں ۔ اور ہر وہ چیز جو بطورغذا کھائی جائے اسے طعم یا طعام کہتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَطَعامُهُ مَتاعاً لَكُمْ [ المائدة/ 96] اور اس کا طعام جو تمہارے فائدہ کے لئے ۔ اور کبھی طعام کا لفظ خاص کر گیہوں پر بولا جاتا ہے جیسا کہ ابوسیعد خدری سے ۔ روایت ہے ان النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امر بصدقۃ الفطر صاعا من طعام اوصاعا من شعیر ۔ کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ فطر میں ایک صحابی طعام یا ایک صاع جو د ینے کے حکم دیا ۔ قرآن میں ہے : وَلا طَعامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ [ الحاقة/ 36] اور نہ پیپ کے سوا ( اس کے ) لئے کھانا ہے ظهر الظَّهْرُ الجارحةُ ، وجمعه ظُهُورٌ. قال عزّ وجل : وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتابَهُ وَراءَ ظَهْرِهِ [ الانشقاق/ 10] ( ظ ھ ر ) الظھر کے معنی پیٹھ اور پشت کے ہیں اس کی جمع ظھور آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتابَهُ وَراءَ ظَهْرِهِ [ الانشقاق/ 10] اور جس کا نام اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائیگا اسْمُ والِاسْمُ : ما يعرف به ذات الشیء، وأصله سِمْوٌ ، بدلالة قولهم : أسماء وسُمَيٌّ ، وأصله من السُّمُوِّ وهو الذي به رفع ذکر الْمُسَمَّى فيعرف به، قال اللہ : بِسْمِ اللَّهِ [ الفاتحة/ 1] ، وقال : ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها [هود/ 41] ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ [ النمل/ 30] ، وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ [ البقرة/ 31] ، أي : لألفاظ والمعاني مفرداتها ومرکّباتها . وبیان ذلک أنّ الاسم يستعمل علی ضربین : أحدهما : بحسب الوضع الاصطلاحيّ ، وذلک هو في المخبر عنه نحو : رجل وفرس . والثاني : بحسب الوضع الأوّليّ. ويقال ذلک للأنواع الثلاثة المخبر عنه، والخبر عنه، والرّابط بينهما المسمّى بالحرف، وهذا هو المراد بالآية، لأنّ آدم عليه السلام کما علم الاسم علم الفعل، والحرف، ولا يعرف الإنسان الاسم فيكون عارفا لمسمّاه إذا عرض عليه المسمّى، إلا إذا عرف ذاته . ألا تری أنّا لو علمنا أَسَامِيَ أشياء بالهنديّة، أو بالرّوميّة، ولم نعرف صورة ما له تلک الأسماء لم نعرف الْمُسَمَّيَاتِ إذا شاهدناها بمعرفتنا الأسماء المجرّدة، بل کنّا عارفین بأصوات مجرّدة، فثبت أنّ معرفة الأسماء لا تحصل إلا بمعرفة المسمّى، و حصول صورته في الضّمير، فإذا المراد بقوله : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] ، الأنواع الثلاثة من الکلام وصور المسمّيات في ذواتها، وقوله : ما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْماءً سَمَّيْتُمُوها [يوسف/ 40] ، فمعناه أنّ الأسماء التي تذکرونها ليس لها مسمّيات، وإنما هي أسماء علی غير مسمّى إذ کان حقیقة ما يعتقدون في الأصنام بحسب تلک الأسماء غير موجود فيها، وقوله : وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ [ الرعد/ 33] ، فلیس المراد أن يذکروا أساميها نحو اللّات والعزّى، وإنما المعنی إظهار تحقیق ما تدعونه إلها، وأنه هل يوجد معاني تلک الأسماء فيها، ولهذا قال بعده : أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِما لا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ [ الرعد/ 33] ، وقوله : تَبارَكَ اسْمُ رَبِّكَ [ الرحمن/ 78] ، أي : البرکة والنّعمة الفائضة في صفاته إذا اعتبرت، وذلک نحو : الكريم والعلیم والباري، والرّحمن الرّحيم، وقال : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [ الأعلی/ 1] ، وَلِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الأعراف/ 180] ، وقوله : اسْمُهُ يَحْيى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا [ مریم/ 7] ، لَيُسَمُّونَ الْمَلائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثى [ النجم/ 27] ، أي : يقولون للملائكة بنات الله، وقوله : هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] أي : نظیرا له يستحقّ اسمه، وموصوفا يستحقّ صفته علی التّحقیق، ولیس المعنی هل تجد من يتسمّى باسمه إذ کان کثير من أسمائه قد يطلق علی غيره، لکن ليس معناه إذا استعمل فيه كما کان معناه إذا استعمل في غيره . الاسم کسی چیز کی علامت جس سے اسے پہچانا جائے ۔ یہ اصل میں سمو ہے کیونکہ اس کی جمع اسماء اور تصغیر سمی آتی ہے ۔ اور اسم کو اسم اس لئے کہتے ہیں کہ اس سے مسمیٰ کا ذکر بلند ہوتا ہے اور اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها [هود/ 41] اور ( نوح (علیہ السلام) نے ) کہا کہ خدا کا نام لے کر ( کہ اس کے ہاتھ میں ) اس کا چلنا ( ہے ) سوار ہوجاؤ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ [ النمل/ 30] وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے ) کہ شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے ۔ اور آیت : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ [ البقرة/ 31] اور اس آدم کو سب ( چیزوں کے ) نام سکھائے ۔ میں اسماء سے یہاں الفاظ و معانی دونوں مراد ہیں ۔ خواہ مفردہوں خواہ مرکب اس اجمال کی تفصیل یہ ہے ۔ کہ لفظ اسم دو طرح استعمال ہوتا ہے ۔ ایک اصطلاحی معنی میں اور اس صورت میں ہمیشہ مخبر عنہ بنتا ہے ۔ جیسے رجل وفرس دوم وضع اول کے لحاظ سے اس اعتبار سے ( کلمہ کی ) انواع ثلاثہ یعنی مخبر عنہ ( اسم ) خبر اور رابطہ ( حرف ) تینوں پر اس معنی مراد ہیں ۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) نے جس طرح اسماء کی تعلیم حاصل کی تھی ۔ اسی طرح افعال وحروف کا علم بھی نہیں حاصل ہوگیا تھا اور یہ ظاہر ہے کہ جب تک کسی چیز کی ذات کا علم حاصل نہ ہو محض نام کے جاننے سے انسان اسے دیکھ کر پہچان نہیں سکتا ہے مثلا اگر ہم ہندی یا رومی زبان میں چند چیزوں کے نام حفظ کرلیں تو ان چیزوں کے اسماء کے جاننے سے ہم ان کے مسمیات کو نہیں پہچان سکیں گے ۔ بلکہ ہمار علم انہیں چند اصوات تک محدود رہے گا اس سے ثابت ہوا کہ اسماء کی معرفت مسمیات کی معرفت کو مستلزم نہیں ہے اور نہ ہی محض اسم سے مسمی ٰ کی صورت ذہن میں حاصل ہوسکتی ہے ۔ لہذا آیت : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] میں اسماء سے کلام کی انواع ثلاثہ اور صورۃ مسمیات بمع ان کی ذوات کے مراد ہیں اور آیت ما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْماءً سَمَّيْتُمُوها [يوسف/ 40] جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے رکھ لئے ہیں ۔ کے معنی یہ ہیں ک جن اسماء کی تم پرستش کرتے ہو ان کے مسمیات نہیں ہیں ۔ کیونکہ و اصنام ان اوصاف سے عاری تھے ۔ جن کا کہ وہ ان اسماء کے اعتبار سے ان کے متعلق اعتقاد رکھتے تھے ۔ اور آیت : وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ [ الرعد/ 33] اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کر رکھے ہیں ۔ ان سے کہو کہ ( ذرا ) انکے نام تولو ۔ میں سموھم سے یہ مراد نہیں ہے کہ لات ، عزی وغیرہ ان کے نام بیان کرو بلکہ آیت کے معنی پر ہیں کہ جن کو تم الاۃ ( معبود ) کہتے ہو ان کے متعلق تحقیق کرکے یہ تو بتاؤ کہ آیا ان میں ان اسماء کے معانی بھی پائے جاتے ہیں ۔ جن کے ساتھ تم انہیں موسوم کرتے ہو ( یعنی نہیں ) اسی لئے اس کے بعد فرمایا أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِما لا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ [ الرعد/ 33] ( کہ ) کیا تم اسے ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں ( کہیں بھی ) معلوم نہیں کرتا یا ( محض ) ظاہری ( باطل اور جھوٹی ) بات کی ( تقلید کرتے ہو ۔ ) اور آیت : تَبارَكَ اسْمُ رَبِّكَ [ الرحمن/ 78] تمہارے پروردگار ۔۔ کا نام برا بابر کت ہے ۔ میں اسم رب کے بابرکت ہونے کے معنی یہ ہیں ک اس کی صفات ۔ الکریم ۔ العلیم ۔ الباری ۔ الرحمن الرحیم کے ذکر میں برکت اور نعمت پائی جاتی ہے جیسا ک دوسری جگہ فرمایا : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [ الأعلی/ 1] ( اے پیغمبر ) اپنے پروردگار جلیل الشان کے نام کی تسبیح کرو ۔ وَلِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الأعراف/ 180] اور خدا کے نام سب اچھے ہی اچھے ہیں ۔ اور آیت : اسْمُهُ يَحْيى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا[ مریم/ 7] اسمہ یحیٰ لم نجعل لہ من قبل سمیا َ (719) جس کا نام یحیٰ ہے ۔ اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخص پیدا نہیں کیا ۔ میں سمیا کے معنی ہم نام ، ، کے ہیں اور آیت :۔ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا[ مریم/ 65] بھلا تم اس کا کوئی ہم نام جانتے ہو ۔ میں سمیا کے معنی نظیر کے ہیں یعنی کیا اس کی کوئی نظیر ہے جو اس نام کی مستحق ہوا اور حقیقتا اللہ کی صفات کے ساتھ متصف ہو اور اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ کیا تم کسی بھی پاتے ہو جو اس کے نام سے موسوم ہوکیون کہ ایسے تو اللہ تعالیٰ کے بہت سے اسماء ہیں جن کا غیر اللہ پر بھی اطلاق ہوسکتا ہے یا ہوتا ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ ان سے معافی بھی وہی مراد ہوں جو اللہ تعالیٰ پر اطلاق کے وقت ہوتے ہیں ۔ اور آیت : لَيُسَمُّونَ الْمَلائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثى[ النجم/ 27] اور وہ فرشتوں کو ( خدا کی ) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ میں لڑکیوں کے نام سے موسوم کرنے کے معنی یہ ہیں ۔ کہ وہ فرشتوں کو بنات اللہ کہتے ہیں ۔ فری الفَرْيُ : قطع الجلد للخرز والإصلاح، والْإِفْرَاءُ للإفساد، والِافْتِرَاءُ فيهما، وفي الإفساد أكثر، وکذلک استعمل في القرآن في الکذب والشّرک والظّلم . نحو : وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] ، ( ف ری ) الفری ( ن ) کے معنی چمڑے کو سینے اور درست کرنے کے لئے اسے کاٹنے کے ہیں اور افراء افعال ) کے معنی اسے خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ۔ افتراء ( افتعال کا لفظ صلاح اور فساد دونوں کے لئے آتا ہے اس کا زیادہ تر استعمال افسادی ہی کے معنوں میں ہوتا ہے اسی لئے قرآن پاک میں جھوٹ شرک اور ظلم کے موقعوں پر استعمال کیا گیا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے ( وقالوا ھذہ انعام وحدث حجر۔ کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں) ضحاک کا قول ہے کہ حرث سے وہ کھیتی مراد ہے جسے وہ بتوں کے لیے وقف کردیتے تھے۔ پہلی آیت میں مذکورہ انعام سے وہ جانور مراد ہیں جنہیں کھیتی کی طرح بتوں کے نام پر وقف کردیتے تھے تا کہ ان بتوں کی دیکھ بھال کرنے والے مہنتوں اور خدمت گاروں کے اخراجات ان سے پورے کیے جاسکیں۔ ایک قول ہے ان انعام سے وہ جانور مراد ہیں جو ان بتوں پر قربان کرنے کے لیے پیش کیے جاتے تھے۔ دوسری آیت میں مذکورہ انعام سے سائبہ، وصیلہ اور حامی مراد ہیں حسن اور مجاہد کا یہی قول ہے ( ان جانوروں پر مفصل نوٹ پچھلے صفحات میں گزر چکا ہے۔ ) تیسری دفعہ مذکورہ انعام سے وہ جانور مراد ہیں جنہیں ذبح کرتے وقت یا ان پر سوار ہوتے وقت یا ان سے پیدا ہونے والے بچوں کی پیدائش کے وقت ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے تھے۔ مفسر سدی اور دوسرے حضرات کا یہی قول ہے ۔ ابو وائل کا قول ہے کہ ان سے وہ جانور مراد ہیں جن پر سوار ہو کر حج کرنے کے لیے نہیں جاتے تھے۔ قول باری (حجر) کے متعلق قتادہ کا قول ہے کہ اس سے حرام مراد ہے۔ اس کے اصل معنی منع کرنے اور روکنے کے ہیں۔ قول باری ہے ( ویقولون حجرا محجورا) یعنی حرام و محرم۔ قول باری ہے ( وقالو ما فی بطون ھذہ الانعام خالصۃ لذکورنا و محرم علی ازوجنا اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے یہ ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام) حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ اس سے ان کی مراد دودھ ہے۔ سعید نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ ان س مراد تدروں اور منتوں کے جانوروں کے پیٹ سے پیدا ہونے والے بچے ہیں جنہیں صرف مرد کھا سکتے تھے، عورتوں کو انہیں ہاتھ لگانا ممنوع تھا۔ اگر مردہ بچہ پیدا ہوتا تو اس میں مرد اور عورت سب شریک ہوجاتے۔ قول باری ہے ( قد حسر الذین قتلوا اولادھم سفھا بغیر علم و حرموا ما رزقھم اللہ۔ یقیناً خسارے میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو جہالت و نادانی کی بناء پر قتل کیا اور اللہ کے دیے ہوئے رزق کو حرام ٹھہرا لیا) قتادہ کے قول کے مطابق اس سے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حامی مراد ہیں۔ ان جانروں کو مختلف نذروں اور منتوں کے تحت اپنے لیے حرام قرار دے دینا دراصل شیطان کی طرف سے ان کا مال ان پر حرام کردینے کی ایک صورت تھی۔ مجاہد اور سدی کا قول ہے کہ ( ما فی بطون ھذہ الانعام) سے ان جانوروں کے پیٹ میں قرار پانے والے حمل اور جنین مراد ہیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ ان سے جنین اور دودھ سب مراد ہیں۔ خالص اس چیز کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی حالت پر ہو اور اس کے ساتھ کسی اور چیز کی ملاوٹ نہ ہو۔ مثلاً خالص سونا وغیرہ۔ اسی سے یہ فقرہ بنا ہے۔ ” اخلاص التوحید للہ، اخلاص العمل للہ ( اللہ کے لیے اس کی وحدانیت کو خالص کردینا۔ اللہ کے لیے عمل کو خالص کردینا وغیرہ) آیت میں یہ لفظ مونث کے صیغے کی صورت میں آیا ہے یعنی ( خالصۃ) اس سے صفت کے اندر مبالغہ مراد ہے یعنی یہ تاء مبالغہ کے لیے ہے جس طرح ” علامۃ “ اور روایۃ “ کے الفاظ میں یعنی بہت علم والا بہت زیادہ روایت کرنے۔ ایک قول ہے ک اس میں مصدر کی تانیث ہے جس طرح عاقبۃ اور عافیۃ کے مصدری الفاظ ہیں۔ اسی سے قول باری ( بخالصۃ ذکری الدار “ خاص بات کے ساتھ یعنی یاد آخرت ) ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ان جانوروں کے پیٹ میں موجود حمل کی تانیث کی بناء پر اس لفظ کو مونث لایا گیا ہے۔ محاورہ میں فلان خالصۃ و خلصانۃ کہا جاتا ہے۔ قول باری ہے ( وان یکن میتۃ فھم فیہ شرکاء۔ لیکن اگر وہ مردہ ہو تو دونوں اس کے کھانے میں شریک ہوسکتے ہیں) یعنی اگر ان جانوروں کے پیٹ میں موجود جنین مردہ پیدا ہوں تو پھر مرد اور عورت دونوں کا حق یکساں ہوگا اور سب اس کے کھانے میں شریک ہوں گے ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : اگر تم زمانہ جاہلیت کے عربوں کیی جالہانہ باتیں معلوم کرنا چاہو تو سورة انعام کی ایک سو تیسویں آیت سے لکر قول باری ( قد خسر الذین قتلوا اولادھم۔ یقیناً نقصان میں رہے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو قتل کیا) تا آخری آیت کی تلاوت کرلے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٣٨) اور یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ مخصوص مویشی مثلا بحیرہ، سائبہ، وصیلہ، اور حام کہ ان کا گوشت عورتوں کو کھانا حرام ہے ان کو صرف مرد ہی کھاسکتے ہیں اور ان کے زعم میں حام پر سواری حرام اور بحیرہ پر اللہ کا نام نہیں لیا جاتا، نہ بار برداری کرتے وقت اور نہ سوار ہوتے وقت سب کچھ یہ انہوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے کہ اس نے ہمیں ان باتوں کا حکم دیا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣٨ (وَقَالُوْا ہٰذِہٖٓ اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌق لاَّ یَطْعَمُہَآ اِلاَّ مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِہِمْ ) یعنی یہ ساری خود ساختہ پابندیاں وہ بزعم خویش درست سمجھتے تھے۔ (وَاَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُہُوْرُہَا وَاَنْعَامٌ لاَّ یَذْکُرُوْنَ اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہَا افْتِرَآءً عَلَیْہِ ط) ۔ یعنی اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت بعض جانوروں کو سواری اور بار برداری کے لیے ممنوع قرار دیتے تھے اور کچھ حیوانات کے بارے میں طے کرلیتے تھے کہ ان کو جب ذبح کرنا ہے تو اللہ کا نام ہرگز نہیں لینا۔ لہٰذا اس سے پہلے آیت ١٢١ میں جو حکم آیا تھا کہ مت کھاؤ اس چیز کو جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا جائے وہ دراصل ان کے اس عقیدے اور رسم کے بارے میں تھا ‘ وہ عام حکم نہیں تھا۔ (سَیَجْزِیْہِمْ بِمَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ) ۔ یہ جھوٹی چیزیں جو انہوں نے اللہ کے بارے میں گھڑ لی ہیں ‘ اللہ ضرور انہیں اس جھوٹ کی سزا دے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

111. There was a practice among the people of Arabia whereby they used to consecrate certain animals and farms to certain shrines, and at offerings at certain altars. These consecrated offerings could not be used by everybody. An elaborate code laid down what kind of offering could be used by what kind of people. God not only judges such practices to be polytheistic, but also censures them as man-made innovations. God was the master of all that they had consecrated as offerings to the deities. He had neither encumbered human beings with the need to make any of those offerings and consecrations nor imposed those restrictions on what they might consume. These were the wilful inventions of headstrong and rebellious people who attributed to themselves the authority to make laws as they pleased. 112. Traditions indicate that there were certain ritual offerings, and that on certain occasions animals were consecrated for sacrifice at which it was deemed unlawful to pronounce the name of God. It was also prohibited to ride such animals during the Pilgrimage, since at that time the pilgrim pronounced the name of God when he recited the formula: Labbayk Allahumma Labbayk. Every care was taken not to pronounce the name of God at the time of milking, mounting, slaughtering and eating of such animals. 113. Even though those rules had not been laid down by God, people followed them under the false impression that they had been prescribed by Him. They could not adduce any injunction from God in support of such a belief, and all that they could claim was that it was an integral part of their ancestors' way of life.

سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :111 اہل عرب کا قاعدہ تھا کہ بعض جانوروں کے متعلق یا بعض کھیتیوں کی پیداوار کے متعلق منت مان لیتے تھے کہ یہ فلاں آستانے یا فلاں حضرت کی نیاز کے لیے مخصوص ہیں ۔ اس نیاز کو ہر ایک نہ کھا سکتا تھا بلکہ اس کے لیے ان کے ہاں ایک مفصل ضابطہ تھا جس کی رو سے مختلف نیازوں کو مختلف قسم کے مخصوص لوگ ہی کھا سکتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس فعل کو نہ صرف مشرکانہ افعال میں شمار کرتا ہے ، بلکہ اس پہلو پر بھی تنبیہ فرماتا ہے کہ یہ ضابطہ ان کا خود ساختہ ہے ۔ یعنی جس خدا کے رزق میں سے وہ یہ منتیں مانتے اور نیازیں کرتے ہیں اس نے نہ ان منتوں اور نیازوں کا حکم دیا ہے اور نہ ان کے کھانے کے متعلق یہ پابندیاں عائد کی ہیں ۔ یہ سب کچھ ان خود سر اور باغی بندوں نے اپنے اختیار سے خود ہی تصنیف کر لیا ہے ۔ سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :112 روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل عرب کے ہاں بعض مخصوص منتوں اور نذروں کے جانور ایسے ہوتے تھے جن پر خدا کا نام لینا جائز نہ سمجھا جاتا تھا ۔ ان پر سوار ہو کر حج کرنا ممنوع تھا ، کیونکہ حج کے لیے لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ کہنا پڑتا تھا ۔ اسی طرح ان کا دودھ دوہتے وقت ، یا ان پر سوار ہونے کی حالت میں ، یا ان کو ذبح کرتے ہوئے ، یا ان کو کھانے کے وقت اہتمام کیا جاتا تھا کہ خدا کا نام زبان پر نہ آئے ۔ سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :113 یعنی قاعدے خدا کے مقرر کیے ہوئے نہیں ہیں ، مگر وہ ان کی پابندی یہی سمجھتے ہوئے کر رہے ہیں کہ انہیں خدا نے مقرر کیا ہے ، اور ایسا سمجھنے کے لیے ان کے پاس خدا کے کسی حکم کی سند نہیں ہے بلکہ صرف یہ سند ہے کہ باپ دادا سے یونہی ہوتا چلا آرہا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

68: یہ ایک اور رسم کا بیان ہے جس کی رو سے وہ اپنے من گھڑت دیوتاؤں کو اپنے گمان کے مطابق خوش کرنے کے لئے کسی خاص کھیتی یا مویشی پر پابندی لگادیتے تھے کہ ان کی پیداوار سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاسکتا۔ البتہ جس شخص کو چاہتے، اس پابندی سے مستثنیٰ کردیتے تھے۔ 69: ایک اور رسم یہ تھی کہ کسی سواری کے جانور کو کسی بت کے نام وقف کردیتے تھے، اور یہ کہتے تھے کہ اس پر سواری کرنا حرام ہے۔ 70: بعض جانوروں کے بارے میں انہوں نے یہ طے کر رکھا تھا کہ ان پر اللہ کا نام نہیں لیاجاسکتا، نہ ذبح کرتے وقت، نہ سواری کے وقت اور نہ ان کا گوشت کھاتے وقت۔ چنانچہ ان پر سوار ہو کر حج کرنے کو بھی ناجائز سمجھتے تھے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

اوپر کے سلسلہ میں مشرکین مکہ کی یہ ایک اور نادانی کا ذکر ہے۔ یہ لوگ کچھ جانوروں کو اور کچھ کھیتی کے حصہ کو بتوں کے نام کا ٹھہرا کر عورتوں پر اس کو حرام کردیتے تھے فقط بتوں کے پوجاری اور مرد اس کو کام میں لاتے تھے اسی طرح بعضے جانوروں کو بتوں کے نام پر آزاد کر کے چھوڑ دیتے تھے جس کے سبب سے ان پر سواری کا کرنا اور بوجھ کا لادنا حرام ٹھہرا دیا جاتا تھا ان سب باتوں کو یہ لوگ یوں مشہور کرتے تھے کہ دین ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) میں ہم کو اسی طرح ان باتوں کا حکم ہے اس واسطے ہم ان باتوں کو اپنے دین کے موافق کرتے ہیں اس آیت میں تو ان باتوں کا ذکر فرمایا کر مختصر طور پر فقط اتنا ہی فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ کہنا جھوٹ ہے کہ یہ باتیں دین ابراہیمی کے موافق ہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ان کے اس جھوٹ کی سزا دیویگا لیکن سورة یونس میں تفصیل سے فرمایا ہے فَجَعَلْتُمْ مِنْہُ حَرَامًا وَ حَلا لًا (١٠۔ ٥٩) جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں سے مردہ جانور کو حلال اور بتوں کے نام کے جانوروں کو اور ان کے نام کی کھیتی کو حرام جو ٹھہرایا گیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے کسی حکم سے نہیں ہے عمرو بن لحی نے یہ باتیں پہلے پہل اپنے دل سے گھڑیں اور پھر ان لوگوں میں ان باتوں کا رواح پڑگیا عمر وبن لحی کا قصہ اوپر گذر چکا ہے کہ پہلے پہل اسی شخص نے ملت ابراہیمی کو بدلا ہے مسند بزار اور مستدرک حکم میں ابودرداء کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حلال وہی چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حلال فرمایا اور یہی حال حرام کا ہے۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اور مسند بزار کی سند بھی معتبر ہے یہ حدیث گویا اس آیت کی تفسیر ہے کیونکہ آیت اور حدیث کو ملا کر یہ طلب قرار پاتا ہے کہ کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہرانے کا حق سوا اللہ تعالیٰ کے اور کسی کو حاصل نہیں ہے اس لئے اس حق میں جو کوئی دخل دے گا وہ قیامت کے دن سزا پائے گا۔ اس قسم کی آیتوں کی تفسیر میں علماء نے لکھا ہے کہ حرام حلال اور جائز ناجائز کے فتوے میں مفتی کو بڑی احتیاط کرنی چاہئے کس لئے کہ اس باب میں مفتی سے کوئی بےاحتیاطی ہوجاوے گی تو یہ خوف ہے کہ قیامت کے دن ایسے مفتی کا شمار اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندہنے والے لوگوں میں نہ ہوجاوے :۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(6:138) حجر۔ ممنوع۔ عقل۔ اصل میں جس مکان کا احاطہ پتھروں سے بنایا جائے اسے حجر کہنا جانا ہے ۔ اس لئے غطیم کعبہ اور دیار ثمود کو حجر کہا گیا ہے۔ قرآن میں ہے : ولقد کذت اصحب الحجر المرسلین (15:80) اور وادی حجر کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی۔ اور حجر (پتھروں سے احاطہ کرنا) سے حفاظت اور روکنے کے معنی لے کر عقل انسانی کو بھی مجر کہا جاتا ہے قرآن مجید میں ہے : ہل فی ذلک قسم لذی حجر (89:5) کیا بیشک یہ چیزیں قسم کھانے کے لائق ہیں۔ حجر حرام چیز کو بھی کہتے ہیں کہ یہ چوپائے اور کھیتی حرام ہیں ۔ یہاں حجر اسم مصدر ہے جو اسم مفعول (محجور) کے معنوں میں استعمال ہوا ہے جس طرح ذبح مذبوح کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ بزعمہم۔ بزعمھم الباطل من غیر حجۃ۔ اپنے گمان باطل سے بغیر کسی محبت یا دلیل یا حقیقت کے (یعنی یہ بات محض وہ اپنے گمان باطل کی بناء پر رکھتے ہیں) وانعام حرمت ظھورھا و انعام لایذکرون اسم اللہ علیہا۔ اور بعض چوپائے ایسے ہیں جن کی پشتیں (انہوں نے) حرام قرار دے رکھی ہیں۔ یعنی ان پر نہ سواری کرتے ہیں اور نہ بار لادتے ہیں کیونکہ ان کو کسی نہ کسی بت یا دیوتا (بصورت بت یا انسان کے نام منسوب کر رکھا ہے اور بعض چوپائے ایسے ہیں جن کو ذبح کرتے وقت وہ اللہ کا نام نہیں لیتے (اور اگر کسی کا نام لیتے ہیں تو ماسوی اللہ کسی اور بت یا شریک کا نام لیتے ہیں اور اس طرح اس کو شرعاً حرام کردیتے ہیں) ۔ اور پھر یہ ممنوع و مذموم افعال کو منجانب اللہ قرار دیتے ہیں ۔ افتراء علیہ۔ یہ ان کا فعل اللہ تعالیٰ پر محض ایک بہتان اور من گھڑت اور افتراء پروازی ہے۔ خدا نے ایسا کوئی حکم یا اجزات نہیں دے رکھی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یعنی انہوں نے محض اپنے خیال سے کھیتی اور چوپایوں کے حصے مقرر کر رکھے تھے، حجر کے اصل معنی مندش لگانے اور منع کرنے کے ہیں اور یہاں اس کے معنی حرام کے ہیں مطلب یہ ہے کہ جس کھیتی یا چار پائے کو بتوں کے کے نام وقف کرتے اور اس پر بندش لگاتے کہ اس کو بت خانوں کے بجاری اور مردیہی کھاسکتے ہیں عورتوں پر حرام ہے۔ (قرطبی)9 جیسے بحیرہ سائبہ اور حام۔ دیکھئے سورة مائدہ آیت 103 (کبیر)10 یعنی یہ سب جہالت اور وہم پرستی کے کام ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف ان کی نسبت محض جھوٹ ہے اللہ تعالیٰ نے اس قسم کی جہالتوں کا کبھی حکم نہیں دیا۔ ( ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ کچھ کھیت بتوں کے نام وقت کردیتے اور کہتے کہ اس کا اصل مصرف مرد ہیں اور عورتوں کو اس میں سے کچھ دینا ہماری رائے پر ہے اگر ہماری مرضی ہو تو کچھ حصہ ان کو دے سکتے ہیں ورنہ وہ اسکا مصرف نہیں اسی طرح مواشی کے باب میں بھی ان کا عمل تھا۔ 2۔ جن انعام کو بتوں کے نام مخصوص کرکے چھوڑ دیتے تھے ان پر سواری اور بار برداری کو جائز نہ سمجھتے تھے۔ 3۔ افتراء اس لیے کہ وہ ان امور کو موجب خوشنودی اللہ تعالیٰ سمجھتے تھے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مشرکوں کے شرک و رسومات کی مزید تفصیلات زمانۂ جاہلیت میں کفار اور مشرکین نے اپنے مویشیوں اور کھیتیوں کو چار اقسام میں تقسیم کر رکھا تھا۔ ١۔ غیر اللہ کے نام پر مخصوص کیے ہوئے مویشی اور کھیت جنہیں مجاورین کی اجازت کے بغیر کوئی استعمال نہیں کرسکتا تھا۔ ٢۔ جو جانور غیر اللہ اور آستانوں کے لیے وقف کیے جاتے ان پر سواری کرنا بھی ان کے ہاں جائز نہیں تھا۔ ٣۔ غیر اللہ کے نام پر وقف کیے ہوئے جانوروں کو ذبح کرتے وقت ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے تھے۔ ٤۔ وقف کی ہوئی اونٹنی، گائے، بکری کا دودھ پینامردوں کے لیے جائز اور عورتوں کے لیے حرام تھا اسی طرح ان جانوروں سے جو بچہ پیدا ہوتا اس کا کھانا مردوں کے لیے حلال تھا۔ اگر بچہ مردہ ہوتا تو اس کے کھانے میں مرد و زن شریک ہوجاتے تھے۔ مالی عبادات میں مشرکوں کے شرک و رسومات کی تفصیل کے ضمن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ شرک میں اس قدر آگے بڑھ چکے تھے کہ جو جانور غیر اللہ کے نام پر وقف کرتے انھیں ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لینا خود ساختہ شریعت کے خلاف سمجھتے تھے۔ اور غیر اللہ کے نام وقف کیے ہوئے جانور اور کھیتوں کو مجاورین کا اپنے نام مخصوص کرلینا، ایسے جانوروں پر سواری نہ کرنا، زندہ پیدا ہونے والے بچے پر مردوں کی ملکیت سمجھنا اگر مردہ پیدا ہو تو اس میں مرد و زن کی شرکت جائز قرار دینا، یہ ان کے من گھڑت دین کی نمایاں علامات تھیں۔ دراصل یہ دین کے نام پر مذہبی پیشواؤں کی مالی کرپشن تھی جس کے نام پر انھوں نے بڑی بڑی جائیدادیں بنائیں اور مذہب کے نام پر عوام کا استحاصل کیا۔ جس کی مثالیں مسلمانوں سمیت ہر مذہب کے نام نہاد دینی رہنماؤں میں پائی جاتی ہیں۔ اسی لیے پہلی آیت کے آخر میں انھیں وارننگ دی گئی کہ عنقریب انھیں اس مکر و فریب اور گھناؤنے دھندے کی سزا دی جائے گی، آیت : ١٣٨ کے آخر میں فرمایا یہ لوگ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے لوگوں کے سامنے من گھڑت شریعت پیش کرتے ہیں انھیں اسی پر چھوڑ دیجیے۔ بہت جلد انھیں اس جرم کی سزا مل جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کے عزائم اور کردار کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت کے تحت انھیں مہلت دے رکھی ہے۔ ان لوگوں کا بغیر کسی جواز کے محض حماقت کی بنا پر اپنی اولاد کو قتل کرنا اور اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو اللہ ہی کے ذمہ لگا کر حرام قرار دینا انتہا درجے کی گمراہی ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں وہ ہدایت نہیں پایا کرتے۔ (عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ قَالَ سُءِلَ عَلِیٌّ (رض) أَخَصَّکُمْ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بِشَیْءٍ فَقَالَ مَا خَصَّنَا رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بِشَیْءٍ لَمْ یَعُمَّ بِہِ النَّاسَ کَافَّۃً إِلَّا مَا کَانَ فِی قِرَابِ سَیْفِی ہٰذَا قَالَ فَأَخْرَجَ صَحِیفَۃً مَکْتُوبٌ فیہَا لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ ذَبَحَ لِغَیْرِ اللّٰہِ وَلَعَنَ اللّٰہُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ وَلَعَنَ اللّٰہُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَہٗ وَلَعَنَ اللّٰہُ مَنْ آوٰی مُحْدِثًا) [ رواہ مسلم : کتاب الأضاحی، باب تحریم الذبح لغیر اللہ ] ” حضرت ابو طفیل فرماتے ہیں حضرت علی (رض) سے پوچھا گیا کیا رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کو کسی بات کے ساتھ خاص کیا تھا حضرت علی (رض) نے فرمایا رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے عام لوگوں سے ہٹ کر کوئی خاص بات نہیں کہی مگر یہ میری تلوار کی میان میں جو ہے پھر انھوں نے میان میں سے کاغذ نکالا جس میں لکھا ہوا تھا اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر بھی لعنت کرے جو چوری کرتا ہے اور اللہ اس پر لعنت کرے جو اپنے والد کو لعن طعن کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس شخص پر بھی لعنت کرے جو کسی بدعتی کو پناہ دیتا ہے۔ “ (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قَالَ کَانَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِذَا خَطَبَ ۔۔ یقول أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَیْرَ الْحَدِیثِ کِتَاب اللّٰہِ وَخَیْرُ الْہُدَی ہُدَی مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُہَا وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٍ ) [ رواہ مسلم : کتاب الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ ] ” حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی خطبہ ارشاد فرماتے تو کہا کرتے۔۔ اما بعد بلاشبہ سب سے بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے اور بہترین ہدایت کا راستہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہے اور برے کاموں میں سے بدعات ایجاد کرنا ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ “ مسائل ١۔ مشرکین جانوروں کے بارے میں من گھڑت باتیں منسوب کیا کرتے تھے۔ ٢۔ حلال و حرام کرنے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ ٣۔ اولاد کو قتل کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ پر افترا باندھنے والے کبھی ہدایت نہیں پاسکتے۔ تفسیر بالقرآن گمراہ لوگ : ١۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے لوگ کھلی گمراہی میں تھے۔ (آل عمران : ١٦٤، الجمعۃ : ٢) ٢۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ واضح گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (الاحزاب : ٣٦) ٣۔ بہت بڑا ظالم ہے وہ شخص جو اللہ پر جھوٹ باندھے بغیر علم کے تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے۔ (الانعام : ١٤٤) ٤۔ کفار اللہ کے راستہ سے روکنے والے اور خوددور کی گمراہی میں ہیں۔ (النساء : ١٦٧) ٥۔ جس نے اللہ، رسول، ملائکہ، کتابوں اور آخرت کے دن کا انکار کیا وہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (النساء : ١٣٦) ٦۔ اللہ کے سوا غیروں کو پکارنے والے گمراہ ہیں۔ (الاحقاف : ٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت ” نمبر ١٣٨۔ ابن جریر طبری کہتے ہیں ان جاہلوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ اطلاع دیتے ہیں کہ یہ لوگ از خود بعض چیزوں کو حلال قرار دیتے تھے اور بعض کو حرام قرار دیتے تھے ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو قانون سازی کے اختیارات نہیں دیئے تھے ۔ آیت میں لفظ حجر کے معنی حرام کے ہیں ۔ یہ لوگ جو اللہ کے حق قانون سازی اور حق حاکمیت پر دست درازی کرتے تھے ‘ یہ دعوی کرتے تھے ‘ کہ یہ اللہ کی شریعت ہے جو ایک جرم ہے ۔ انہوں نے اپنی فصلوں کے ایک حصے کو اور بعض قسم کے مویشیوں کو اپنے الہوں کے لئے مختص کر رکھا تھا جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ یہ پھل اور مویشی ان کے لئے حرام ہیں اور ان کو وہی شخص کھا سکتا ہے جس کو اللہ کی طرف سے اجازت ہو ۔ یہ سب اقوال ان کا زعم تھا اور ظاہر ہے کہ ان کے مذہب میں پھر اجازت صرف کاہنوں ‘ گدی نشینوں اور بعض رئیسوں کو تھی ۔ پھر انہوں نے مویشیوں میں سے بعض کو اسی طرح اپنے اوپر بھی حرام کردیا تھا جن کا ذکر سورة مائدہ میں ہوچکا ہے ۔ ” اللہ نے کسی جانور کو بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام قرار نہیں دیا “ ۔ یہ انہوں نے از خود قرار دیا کہ ان جانوروں پر سواری حرام ہے ۔ اسی طرح انہوں نے یہ قرار دیا کہ بعض جانوروں کے اوپر اللہ کا نام نہ لیاجائے گا یعنی سواری کے وقت ‘ دودھ نکالنے کے وقت اور نہ ان کے ذبح کے وقت بلکہ ان پر الہوں کا نام لیا جائے گا جن کے نام وہ مختص ہوچکے تھے ۔ ابن جریر افتراء علی اللہ کی تفسیر میں یہ کہتے ہیں کہ ’ ان لوگوں نے بعض چیزوں کو حرام قرار دے کر اور پھر یہ کہہ کر کہ یہ اللہ کی نازل کردہ شریعت ہے ‘ اللہ پر افتراء باندھا ہے ‘ اللہ پر جھوٹ بولا ہے کیونکہ انہوں نے از خود بعض چیزوں کو حرام قرار دے کر اس کی نسبت اللہ کی طرف کردی تھی ۔ اس آیت میں اللہ نے اس بات کی تردید کردی کہ اس نے ایسا نہیں کیا ۔ یوں اللہ تعالیٰ نے انہیں جھوٹا قرار دیا ۔ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنین کو یہ اطلاع کردی کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں “۔ یہاں ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ جاہلیت کے وہ خدوخال کون سے ہیں ۔ جو اکثرجاہلیتوں میں یہ بات مشترک ہوتی ہے کہ بعض لوگ دیدہ دلیری سے کام لے کر اس دنیا کو محض مادہ قرار دیتے ہیں اور بعض اگرچہ بےحیائی میں اس حد تک آگے نہیں جاتے اور خدا کا سرے سے انکار نہیں کرتے مگر وہ کہتے ہیں کہ دین تو صرف عقیدے کا نام ہے ۔ یہ کوئی نظام زندگی یا اجتماعی ڈھانچہ ‘ یا سیاسی اور اقتصادی نظام نہیں ہے جو پوری زندگی کو اپنے دائرہ اختیار میں لے سکتا ہو۔ جاہلیت کی دوسری خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ ہر جاہلیت ایک مخصوص دنیاوی نظام قائم کرتی ہے جس میں حاکمیت اور اقتدار اعلی اللہ کے سوا کسی اور کے لئے ہوتا ہے ۔ البتہ ہر جاہلیت یہ دعوی کرتی ہے کہ وہ مذہب کا احترام کرتی ہے اور وہ اپنے خدوخال دین ہی سے لیتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی جاہلیت کا یہ انداز نہایت ہی خطرناک اور گہری عیاری اور چالاکی پر مبنی ہوتا ہے ۔ عالمی عیسائیت اور عالمی صہیونیت نے اس علاقے میں جو کبھی دارالاسلام تھا ‘ اور جہاں شریعت الہی قانون کی حیثیت رکھتی تھی ‘ یہی پالیسی اپنا رکھی ہے ۔ یہ پالیسی انہوں نے ترکی میں عظیم لیڈر کے تجربے کی ناکامی کے بعد اپنائی ہے ۔ یاد رہے کہ ترکی کا یہ عظیم لیڈر خود انہوں نے مصنوعی طور پر پیدا کیا تھا ‘ اس نے انہی کی ہدایت پر ترکی سے خلافت اسلامیہ کو ختم کیا ۔ اس لئے کہ ترکی کی خلافت اسلامیہ اس کرہ ارض پر عظمت اسلام کی آخری نشانی تھی ‘ لیکن ترکی میں ان کی اعلانیہ ملحدانہ پالیسی بری طرح ناکام رہی اور اس نے اس علاقے میں کوئی اہم کردار ادا نہ کیا ۔ اس ملحدانہ پالیسی نے اعلانیہ دین سے علیحدگی اختیار کرلی ۔ چناچہ یہ پالیسی وہاں کے اجتماعی نظام سے بالکل نامانوس رہی کیونکہ اہالیان ترکیہ کے دلوں میں ابھی تک محبت اسلام کی آگ سلگ رہی تھی ۔ چناچہ اس تجربہ کے بعد عالمی صلیبیت اور صہیونیت نے نئے تجربے شروع کیے ‘ جن کے مقاصد تو وہی ہیں البتہ ان نئے تجربات میں کمالی غلطیوں کو نہیں دہرایا جاتا ۔ چناچہ وہ اب جو سازشیں کرتے ہیں وہ دین کے پردے میں رہ کر کرتے ہیں ۔ وہ دینی نتظیمیں قائم کرتے ہیں جو یا تو اعلانیہ ان مقاصد کے لئے کام کرتی ہیں اور یا ان کا مقصد یہ ہوتا ہے ۔ وہ ان تنظیموں کے بعض جزوی مسائل کو لے کر بیٹھ جاتی ہیں اور یہ تاثر دیتی ہیں کہ ان جزوی خرابیوں کے علاوہ جو کچھ ہے وہ درست ہے ۔ میں سمجھتا ہوں اسلام کے خلاف یہ نہایت ہی گہری سازش ہے جو دین اسلام کے خلاف شیاطین جن وانس نے تیار کی ہے ۔ صلیبی اور صہیونی اس عر سے میں پوری طرح اپنے مقاصد کے لئے کام کرتے رہے ۔ باوجود مذہبی اختلافات کے وہ باہم دگر متحد ومتفق رہے اور باہم تجربات اور مہارتوں کاتبادلہ کرتے رہے ۔ بظاہر وہ اس ترکی تجربے کے بھی خلاف رہے اور یہ تاثر دیتے رہے کہ ترکوں کی تحریک بھی دراصل احیائے اسلام کی تحریک ہے اور یہ کہ ترکی حکومت محض زبانی طور پر اپنے آپ کو لادینی حکومت ظاہر کر رہی ہے ۔ متشرقین صلیبی اور صہیونی استعمار کو فکری غذا مہیا کرتے ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر بڑی محنت کی ہے کہ ترکی تجربہ فی الواقعہ ملحدانہ تجربہ نہ تھا اور نہ محنت وہ اس لئے کرتے ہیں کہ ترکی تجربے کے ملحدانہ خو وخال کی وجہ سے اس کے اثرورسوخ اور فعالیت میں میں کمی واقع ہوگئی تھی ۔ مستشرقین کی جانب سے اسلامی تحریک کے خلاف یہ تباہ کن حملہ تھا لیکن ترکی کی تحریک الحاد اب اس قابل نہ رہی تھی کہ وہ دوبارہ فعال ہوسکے ۔ دور جدید میں مستشرقین کی جانب سے اسلام کے خلاف کاروائی خود اسلام کے عنوان سے کی جارہی ہے ۔ یہ لوگ اسلامی نظریات کے مفہوم بدل رہے ہیں ۔ اسلام کے لئے لوگوں کے جوش و خروش کو کم کر رہے ہیں اور اس کو جاہلی رنگ دے رہے ہیں ۔ دین کے نام سے دینی نظریات کو بدلنے کی سعی کرتے ہیں ۔ اسلامی اخلاق اور انسان کی نہایت ہی فطری عادات کو دین کے نام سے دینی نظریات کو بدلنے کی سعی کرتے ہیں ۔ اسلامی اخلاق اور انسانی کی نہایت ہی فطری عادات کو دین کے نام سے بےراہ روی پر ڈال رہے ہیں ۔ پھر وہ جاہلیت کے ہر نشان کو ایسا ثابت کر رہے ہیں کہ یہ عین اسلام ہے اور اس کو ان ممالک میں رواج دے رہے ہیں ۔ جہاں اسلام کے بارے میں لوگوں کے جذبات حساس نہیں۔ یوں وہ عالم اسلام کو صلیبیت اور صہیونیت کے دام تذدیر میں پھنساتے ہیں اور ان کی یہ تحریک ان صلیبی اور صہیونی جنگوں سے زیادہ کامیاب ہے جو وہ اسلام کے خلاف گزشتہ تیرہ سو سال سے لڑ رہے ہیں ‘ لیکن حقیقت یہ ہے ۔ آیت ” ِ سَیَجْزِیْہِم بِمَا کَانُواْ یَفْتَرُونَ (138) ” عنقریب اللہ انہیں ان کی افتراء پر دازیوں کا بدلہ دے گا ۔ “

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

152 یہ تحریمات غیر اللہ کا دوسری بار ذکر ہے۔ یہاں باقی ماندہ صورتوں میں سے چار کا ذکر ہے۔ 1 ۔ ھٰذِہٖ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌالخ۔ کچھ چوپایوں اور کھیتوں کو وہ اپنے معبودوں کے لیے مقرر کردیتے تھے اور کہتے تھے انہیں کوئی نہیں کھا سکتا۔ 2 ۔ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُھُوْرُھَا۔ بعض نام زد کرتے تھے ذبح کے وقت ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے تھے۔ 3 ۔ وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْکُرُوْنَ اسْمَ اللہِ عَلَیْھَا۔ جن چوپایوں کو وہ غیر اللہ کے لیے نامزد کرتے تھے ذبح کے وقت ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے تھے۔ 4 ۔ وَ قَالُوْا مَافِیْ بُطُوْنِ ھٰذِہٖ الاَْنْعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوْرِنَا الخ۔ بحائر وسوائب کے بارے میں وہ یہ فیصلہ کردیتے تھے کہ ان کے پیٹ کا بچہ اگر زندہ پید اہو تو مردوں کے لیے حلال اور عورتوں کے لیے حرام ہوگا اور اگر مردہ پیدا ہو تو دونوں جنسوں کے لیے حلال ہوگا۔ مشرکین کا عقیدہ تھا کہ ان معبودوں کے لیے تحری میں کرنے سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے کہ ہم نے اس کے برگزیدہ بندوں کی تعظیم کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اس فعل کو اپنی ذات مقدسہ پر افتراء قرار دیا۔ اور اس اختراء پر ان کو تخویف اخروی سنائی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

138 اور یہ مشرکین مکہ اپنے خیال فاسدہ کی بنا پر یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ خاص کھیتی اور یہ خاص مویشی حرام اور ممنوع ہیں ان کو کوئی نہیں کھا سکتا ہے جس کو ہم چاہیں یعنی جو لوگ بتوں کی خدمت وغیرہ کرتے ہیں ان کے لئے کوئی کھیت اور کوئی جانور مخصوص کرلیا کرتے تھے اور کچھ مویشی یعنی بحیرہ سائب اور حواری وغیرہ خاص ہیں اور ان کی پیٹھ پر سوار ہونا اور ان پر سواری لینا حرام و ممنوع قرار دیدیا اور بعض مواشی اس طرح مخصوص ہیں کہ ان کو ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتے یعنی خاص طور پر وہ مویشی جو بتوں کی منت کے ہوتے ہیں کہ ا ن کے ذبح پر بتوں ہی کا نام لیتے ہیں یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ پر محض افترا پردازی کی غرض سے کہتے ہیں بہت جلد اللہ تعالیٰ ان بہتان طرازیوں کی جو یہ بہتان اس پر باندھا کرتے تھے سزا اور بدلہ دے گا۔