Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 67

سورة الأنعام

لِکُلِّ نَبَاٍ مُّسۡتَقَرٌّ ۫ وَّ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۷﴾

For every happening is a finality; and you are going to know.

ہر خبر ( کے وقوع ) کا ایک وقت ہے اور جلد ہی تم کو معلوم ہو جائے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لِّكُلِّ نَبَإٍ مُّسْتَقَرٌّ ... For every news there is a reality..., According to Ibn Abbas and others, meaning, for every news, there is a reality, in that, this news will occur, perhaps after a while. Allah said in other Ayat, وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعْدَ حِينِ And you shall certainly know the truth of it after a while. (38:88) and, لِكُلِّ أَجَلٍ كِتَابٌ (For) each and every matter there is a decree (from Allah). (13:38) This, indeed, is a warning and a promise that will surely occur, ... وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ and you will come to know. Allah's statement,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٤] سیدنا سعد بن معاذ کا عمر کے لئے آنا :۔ اس کی ایک مثال یہ واقعہ ہے کہ انصار کے قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ جنگ بدر سے پہلے عمرہ کی نیت سے مکہ آئے اور اپنے حلیف دوست امیہ بن خلف کے پاس ٹھہرے اور اس سے اپنے ارادہ کا اظہار کیا۔ اس وقت ابو جہل رئیس مکہ نے یہ پابندی لگا رکھی تھی کہ کوئی مسلمان کعبہ میں داخل ہونے اور طواف نہ کرنے پائے۔ امیہ بن خلف رواداری کی وجہ سے سیدنا سعد کو کعبہ لے گیا وہ طواف کر ہی رہے تھے کہ ابو جہل نے دیکھ لیا تو سیدنا سعد پر برس پڑا۔ سیدنا سعد نے کڑک کر جواب دیا کہ اگر تم مجھے روکو گے تو میں تمہارے تجارتی قافلہ کی راہ روک کر تمہارا ناک میں دم کر دوں گا۔ امیہ سیدنا سعد سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ ابو جہل سے آرام سے بات کرو۔ یہ مکہ کا سردار ہے۔ خ امیہ بن خلف کے حق میں پیشین گوئی :۔ سیدنا سعد کہنے لگے تم ابو جہل کی اتنی طرف داری نہ کرو۔ میں نے رسول اللہ سے سنا ہے کہ تم ان کے اصحاب کے ہاتھوں قتل ہو گے۔ امیہ نے پوچھا && کیا یہاں مکہ میں ؟ && سیدنا سعد نے فرمایا۔ میں یہ نہیں جانتا۔ پھر کہنے لگے کہ تمہارے قتل کا سبب یہی ابو جہل بنے گا۔ && (بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب علامات النبوۃ فی الاسلام) یہ ایک خبر تھی اور اس خبر کے ظہور کا وقت جنگ بدر تھا۔ اس جنگ میں ابو جہل امیہ بن خلف کو سخت مجبور کر کے لے گیا۔ جہاں یہ دونوں انتہائی ذلت کے ساتھ قتل ہوئے۔ ایسے ہی وحی سے معلوم شدہ ہر خبر اور عذاب کے ظہور کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور جب وہ وقت آجاتا ہے تو اس کا ظہور ہو کے رہتا ہے اور یہی مستقر کا مطلب ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْـتَقَرٌّ ۡ۔۔ : اس آیت میں کفار کے لیے دھمکی ہے۔ (رازی) یعنی اللہ کی دی ہوئی خبر غلط نہیں ہوسکتی، لیکن اس کا ایک وقت متعین ہے۔ چناچہ جس عذاب کا تم مطالبہ کر رہے ہو، جب اس کا وقت آئے گا تو وہ بھی نازل ہوجائے گا۔ اس وقت تم جان لو گے کہ جس چیز سے میں تمہیں بار بار ڈرا رہا تھا وہ کہاں تک سچی تھی۔ اس عذاب سے مراد آخرت کا عذاب بھی ہے اور وہ عذاب بھی جو دنیا میں کفار پر لڑائی، خوف اور قحط کی صورت میں نازل ہوا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْـتَقَرٌّ۝ ٠ۡوَّسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۝ ٦٧ نبأ خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ، ( ن ب ء ) النبا ء کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے اور حقیقی منعی کے لحاظ سے کسی خبر تک اس میں تین چیزیں موجود نہ ہوں ۔ یعنی نہایت مفید ہونا اور اس سے علم یا غلبہ ظن کا حاصل ہونا اور نبا صرف اس خبر کو کہا جاتا ہے جس میں کذب کا احتمال نہ ہو ۔ جیسے خبر متواتر خبر الہیٰ اور خبر نبوی جیسے فرمایا : ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] کہہ دو کہ یہ ایک بڑی ( ہولناک چیز کی ) خبر ہے جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے اسْتَقَرَّ فلان : إذا تحرّى الْقَرَارَ ، وقد يستعمل في معنی قرّ ، کاستجاب وأجاب . قال في الجنّة : خَيْرٌ مُسْتَقَرًّا وَأَحْسَنُ مَقِيلًا [ الفرقان/ 24] ، وفي النار : ساءَتْ مُسْتَقَرًّا [ الفرقان/ 66] ، وقوله : فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ [ الأنعام/ 98] ، قال ابن مسعود : مُسْتَقَرٌّ في الأرض ومستودع في القبور «5» . وقال ابن عبّاس : مستقرّ في الأرض ومستودع في الأصلاب . وقال الحسن : مستقرّ في الآخرة ومستودع في الدّنيا . وجملة الأمر أنّ كلّ حال ينقل عنها الإنسان فلیس بالمستقرّ التّامّ. استقر فلان قرار پکڑنے کا فصد کرنا اور کبھی یہ بمعنی قرر ( قرار پکڑنا ) بھی آجاتا ہے جیسے استجاب بمعنی اجاب چناچہ جنت کے متعلق فرمایا : خَيْرٌ مُسْتَقَرًّا وَأَحْسَنُ مَقِيلًا [ الفرقان/ 24] ٹھکانا بھی بہترہوگا اور مقام استراحت بھی عمدہ ہوگا اور جن ہم کے متعلق فرمایا : ساءَتْ مُسْتَقَرًّا [ الفرقان/ 66] اور درزخ ٹھہرنے کی بہت بری جگہ ہے ۔ اور آیت کریمہ : فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ [ الأنعام/ 98] تمہاری لئے ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک سپر د ہونے کی ۔ میں ابن مسعود کے نزدیک مستقر سے مراد زمین میں ٹھہرنا ہے اور مستودع سے مراد قبر میں ہیں ۔ ابن عباس کا قول ہے کہ مستقر سے مراد تو زمین ہی ہے لیکن مستودع سے مراد دنیا ہے ۔ الحاصل ہر وہ حالت جس سے انسان منتقل ہوجائے وہ مستقر تام نہیں ہوسکتا ہے سوف سَوْفَ حرف يخصّص أفعال المضارعة بالاستقبال، ويجرّدها عن معنی الحال، نحو : سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي[يوسف/ 98] ، وقوله : فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ [ الأنعام/ 135] ، تنبيه أنّ ما يطلبونه۔ وإن لم يكن في الوقت حاصلا۔ فهو ممّا يكون بعد لا محالة، ويقتضي معنی المماطلة والتأخير، واشتقّ منه التَّسْوِيفُ اعتبارا بقول الواعد : سوف أفعل کذا، والسَّوْفُ : شمّ التّراب والبول، ومنه قيل للمفازة التي يَسُوفُ الدلیل ترابها : مَسَافَةٌ ، قال الشاعر : إذا الدّليل اسْتَافَ أخلاق الطّرق والسُّوَافُ : مرض الإبل يشارف بها الهلاك، وذلک لأنها تشمّ الموت، أو يشمّها الموت، وإمّا لأنه ممّا سوف تموت منه . ( س و ف ) سوف ۔ حرف تسویف یہ حرف ہے جو فعل مضارع کو معنی حال سے مجرد کر کے معنی استقبال کے لئے خاص کردیتا ہے ( اسی لئے اسے حرف استقبال بھی کہتے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي[يوسف/ 98] میں اپنے پروردگار سے تمہارے لئے بخشش مانگوں گا ۔ اور آیت : ۔ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ [ الأنعام/ 135] عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا ۔ میں متنبہ کیا ہے جس بات کا وہ مطالبہ کرتے ہیں اگرچہ فی الحال وہ حاصل نہیں ہے ۔ لیکن وہ لامحالہ ہوکر رہے گی ۔ اور اس میں مماطلتہ ( ٹال مٹول ) اور تاخیر کے معنی پائے جاتے ہیں اور چونکہ وعدہ کرنے والا سوف افعل کذا کا محاورہ استعمال کرتا ہے اسلئے التسویف ( تفعیل ) کے معنی ٹال مٹول کرنا بھی آجاتے ہیں ۔ السوف ( ن) کے معنی مٹی یابول کی بو سونگھنے کے ہیں پھر اس سے اس ریگستان کو جس میں راستہ کے نشانات بنے ہوئے ہوں اور قافلہ کا رہنما اس کی مٹی سونگھ کر راہ دریافت کرے اسے مسافتہ کہا جاتا ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( درجز ) ( 246) اذاللیل استاف اخلاق الطرق جب رہنما بت نشان راستوں پر سونگھ سونگھ کر چلے ۔ السوف ۔ اونٹوں کے ایک مرض کا نام ہے جس کی وجہ سے وہ مرنے کے قریب ہوجاتے ہیں اور اس مرض کو سواف یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ اس سے موت کی بو سونگھ لیتے ہیں یا موت ان کو سونگھ لیتی ہے اور یا اس لئے کہ اس سے جلد ہی ان کی موت آجاتی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٧۔ ٦٨) ہر خبر کے واقع ہونے کا ایک وقت علم الہی میں مقررہ ہے خواہ وہ اللہ کی جانب سے ہو یا میری طرف سے خواہ اوامر ہوں یا نواہی وعدے ہوں یا وعیدین مدد کی خوشخبری ہو یا عذاب سے ڈرا انا ہو، ان کی حقیقت ہے بعض کا ان میں سے دنیا میں ظہور ہوجائے گا اور بعض کا آخرت میں اور دنیا وآخرت میں تمہیں اس کا علم ہوجائے گا یا یہ مطلب ہے کہ تمہارے ہر ایک قول عمل کی ایک حقیقت ہے، بہت جلدی تمہیں تمہارے اعمال کے متعلق علم ہوجائے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٧ (لِکُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّز وَّسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۔ ) ۔ جیسا کہ سورة الانبیاء میں فرمایا گیا : (وَاِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ ) میں یہ تو نہیں جانتا کہ جس عذاب کی تمہیں دھمکی دی جا رہی ہے وہ قریب آچکا ہے یا دور ہے۔ البتہ یہ ضرورجانتا ہوں کہ اگر تمہاری روش یہی رہی تو یہ عذاب تم پر ضرورآ کر رہے گا۔ اب وہ آیت آرہی ہے جس کا حوالہ سورة النساء کی آیت ١٤٠ میں آیا تھا کہ اللہ تعالیٰ تم پر کتاب میں یہ بات نازل کرچکا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو ان کے پاس مت بیٹھو۔۔ ایمان کا کم از کم تقاضا ہے کہ ایسی محفل سے احتجاج کے طور پر واک آؤٹ تو ضرور کیا جائے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(6:67) مستقر۔ القرار۔ الثبوت۔ نھایۃ۔ غایۃ۔ لکل بناء مستقر۔ یعنی قرآن کی ہر ایک خبر میں ایک حقیقت ایک غایت ہے یا خدا بتائی ہوئی ہر خبر کے لئے اس کے وقوع پذیر ہونے کا وقت اور مکان ہے اور اس میں کوئی تاخیر یا ردوبدل نہیں ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 13 اس میں کفار کو تہدید ہے۔ (کبیر) یعنی اللہ تعالیٰ کو دی ہوئی خیر غلط نہیں ہوسکتی لیکن اس کا وقت آئے گا تو وہ بھی نازل ہوجائے گا اس وقت تم خود جان لو گے کہ جس چیز سے تمہیں باربار ڈرارہا تھا وہ کہاں تک سچی تھی اس عذاب سے مراد آخرت کا عذاب بھی ہوسکتا ہے اور وہ عذاب بھی جو دنیا میں بصورت حرب و قتال کفار پر آیا، (کذافی الکبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ عذاب شامل ہے اخروی اور دنیوی کو جس میں جہاد بھی داخل ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (لِکُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ) (ہر ایک خبر کا ایک وقت مقرر ہے اور عنقریب تم جان لو گے) مطلب یہ ہے کہ جو خبریں دی گئی ہیں یہ محض خبریں ہی نہیں ہیں ان کے وقوع اور حصول کا وقت مقرر ہے جو اللہ کے علم میں ہے مقررہ وقت آجائے گا تو اس کا ظہور ہوجائے گا اور تمہیں عنقریب تکذیب کی سزا معلوم ہوجائے گی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

67 ہر خبر کی تصدیقف اور ہر خبر کے واقع ہونے کا ایک مقرر وقت ہے اور عنقریب ہی تم کو تھوڑے دن میں میرے کہے کی حقیقت معلوم ہو جائیگی۔