The root of this word, its grammatical form, and every other place in the Quran where the same root is used - with each of those verses one click away.
حار (ض) حَیْرَۃً فَھُو حَائِرٌ وَحِیْرَان وتَحَیَّرَ وَاستَحارَ کے معنی کسی کام سے بہکنے اور متردد ہونے کے ہیں قرآن پاک میں ہے: (کَالَّذِی اسۡتَہۡوَتۡہُ الشَّیٰطِیۡنُ فِی الۡاَرۡضِ حَیۡرَانَ ) (۶:۷۱) جیسے کسی کو جنات نے جنگل میں بھلا دیا ہو۔ (اور وہ) حیران ہورہا ہو۔ اَلْحَائِرُ: جائے گرداب۔ شاعر نے کہا ہے (1) (۱۲۵) وَاسْتَحَارَ شَبَابُھَا اور اس کی جوانی بھرپور ہوگئی۔ اور استحار کے معنیٰ پانی سے پیٹ کے اس قدر پر ہوجانے کے ہیں کہ اسے حیرت لاحق ہوجائے۔ اَلْحِیْرَۃُ: ایک مقام کا نام ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ پانی کے جمع ہونے کی وجہ سے اس مقام کا نام حِیرہ پڑگیا تھا۔