Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 73

سورة الأنعام

وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ؕ وَ یَوۡمَ یَقُوۡلُ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ۬ ؕ قَوۡلُہُ الۡحَقُّ ؕ وَ لَہُ الۡمُلۡکُ یَوۡمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ ؕ عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ ؕ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۷۳﴾ الثلٰثۃ

And it is He who created the heavens and earth in truth. And the day He says, "Be," and it is, His word is the truth. And His is the dominion [on] the Day the Horn is blown. [He is] Knower of the unseen and the witnessed; and He is the Wise, the Acquainted.

اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا اور جس وقت اللہ تعالٰی اتنا کہہ دے گا تو ہوجا بس وہ ہو پڑے گا ۔ اس کا کہنا حق اور با اثر ہے اور ساری حکومت خاص اسی کی ہوگی جب کہ صور میں پھونک ماری جائے گی وہ جاننے والا ہے پوشیدہ چیزوں کا اور ظاہر چیزوں کا اور وہی ہے بڑی حکمت والا پوری خبر رکھنے والا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضَ بِالْحَقِّ ... It is He Who has created the heavens and the earth in truth. meaning, in justice, and He is their Originator and Owner Who governs their affairs and the affairs of their inhabitants. Allah said, ... وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ ... and on the Day He will say: "Be!" it shall become. Referring to the Day of Resurrection, which will come faster than the blink of an eye, when Allah says to it, `Be.' ... قَوْلُهُ الْحَقُّ ... His Word is the truth. As-Sur; The Trumpet Allah's statement, ... وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّوَرِ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ His will be the dominion on the Day when the Sur will be blown. All-Knower of the unseen and the seen. He is the All-Wise, Well-Aware. يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّوَرِ (on the Day when the Sur will be blown...), refers to His statement, وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ (and on the Day He will say: "Be!" it shall become). as we stated above. Or, it means, وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّوَرِ (His will be the dominion on the Day when the Sur will be blown). Allah said in other Ayat, لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَحِدِ الْقَهَّارِ Whose is the kingdom this Day It is Allah's, the One, the Irresistible! (40:16) and, الْمُلْكُ يَوْمَيِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـنِ وَكَانَ يَوْماً عَلَى الْكَـفِرِينَ عَسِيراً The sovereignty on that Day will be the true (sovereignty), belonging to the Most Beneficent (Allah), and it will be a hard Day for the disbelievers. (25:26) The Sur is the Trumpet into which the angel Israfil, peace be upon him, will blow. The Messenger of Allah said, إِنَّ إِسْرَافِيلَ قَدِ الْتَقَمَ الصُّورَ وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَنْتَظِرُ مَتَى يُوْمَر فَيَنْفُخ Israfil has held the Sur in his mouth and lowered his forehead, awaiting the command to blow in it. Muslim recorded this Hadith in his Sahih. Imam Ahmad recorded that Abdullah bin `Amr said, "A Bedouin man said, `O Allah's Messenger! What is the Sur?' He said, قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيه A Trumpet which will be blown."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

73۔ 1 حق کے ساتھ یا بافا‏ئدہ پیدا کیا یعنی ان کو عبث اور بےفائدہ کھیل کود کے طور پر پیدا نہیں کیا بلکہ ایک خاص مقصد کے لیے کائنات کی تخلیق فرمائی ہے اور وہ یہ کہ اس اللہ کو یاد رکھا اور اس کا شکر ادا کیا جائے جس نے یہ سب کچھ بنایا۔ 73۔ 1 یوم فعل محذوف واذکر یا واتقوا کی وجہ سے منصوب ہے۔ یعنی اس دن کو یاد کرو یا اس دن سے ڈرو ! کہ اس کے لفظ کُن (ہوجا) سے وہ جو چاہے گا، ہوجائے گا۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ حساب کتاب کے کٹھن مراحل بھی بڑی سرعت کے ساتھ طے ہوجائیں گے، لیکن کن کے لئے ؟ ایمانداروں کے لئے۔ دوسروں کو یہ دن ہزار سال یا پچاس ہزار سال کی طرح بھاری لگے گا۔ 73۔ 2 صور سے مراد نرسنگا یا بگل ہے جس کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ ' اسرافیل اسے منہ میں لئے اور اپنی پیشانی جھکائے، حکم الہی کے منتظر کھڑے ہیں کہ جب انھیں کہا جائے تو اس کے منہ میں پھونک مار دیں ' ابن کثیر ' ابو داؤد اور ترندی میں ہے۔ الصور قرن ینفخ فیہ (صور ایک قرن (نرسنگا) ہے جس میں پھونکا جائے گا بعض علماء کے نزدیک تین نفخے ہوں گے نفخۃ الصعق جس سے تمام لوگ بےہوش ہوجائیں گے نفخۃ الفناء جس سے تمام لوگ فنا ہو جا‏ئیں گے نفخۃ الانشاء جس سے تمام انسان دوبارہ زندہ ہوجائیں گے بعض علماء آخری دو نفخوں کے ہی قائل ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٠] تخلیق کائنات کا مقصد :۔ یعنی اس لیے زمین و آسمان کو پیدا کیا گیا کہ اس سے تعمیری نتائج پیدا ہوں۔ محض کھیل اور شغل کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ جیسے بچے مٹی سے کھیلتے ہوئے اس سے مختلف شکلیں بناتے ہیں پھر انہیں خود ہی ڈھا کر مٹی میں ملا دیتے ہیں۔ بلکہ زمین و آسمان کو ایک خاص مقصد کے تحت پیدا کیا ہے۔ اس خاص مقصد کا اگرچہ قرآن میں صریح الفاظ میں ذکر نہیں آیا تاہم بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب چیزیں انسان کی خدمت پر مامور ہیں اور انسان ہی ساری کائنات میں اشرف المخلوقات ہے۔ انسان کو ہی قوت تمیز اور ارادہ و اختیار دیا گیا ہے تاکہ اسے آزمایا جاسکے کہ آیا وہ اختیاری امور میں بھی اللہ کا فرمانبردار بن کر رہتا ہے یا نہیں ؟ گویا انسان کی تخلیق کا مقصد صرف ایک اللہ کی عبادت ہے پھر اس جہان کے بعد اسے فنا کر کے ایک دوسرا جہان پیدا کیا جائے گا اور جو کچھ اچھے یا برے اعمال انسان نے اس دنیا میں سر انجام دیئے ہوں گے اس دوسرے جہان میں ان کی جزا و سزا ملے گی اور یہ دنیا اور آخرت سارے کا سارا ایک مربوط نظام ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ ہی نے زمین و آسمان کو پیدا کیا، لیکن بےمقصد اور کھیل کے لیے نہیں بلکہ حق، یعنی خاص مقصد کے لیے پیدا فرمایا ہے، وہ مقصد کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کا مقصد یہ بیان فرمایا : ( لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَل) [ الملک : ١ ] ” تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے۔ “ اور انسان اور جن کی تخلیق کا مقصد یہ بیان فرمایا : (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْن) [ الذاریات : ٥٦ ] ” اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا، مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔ “ دوسری آیت میں فرمایا : ( وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْهُ ) [ الجاثیۃ : ١٣ ] ” اور اس نے تمہاری خاطر جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنی طرف سے مسخر کردیا۔ “ اور فرمایا : (ھُوَ الَّذِىْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۤ ) [ البقرۃ : ٢٩ ] ” وہی ہے جس نے زمین میں جو کچھ بھی ہے سب تمہارے لیے پیدا فرمایا۔ “ معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ انسان کے فائدے اور اس کی آزمائش کے لیے ہے اور انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ ڛ : یعنی حشر کے دن جب وہ تمام مردوں کو زندہ کرنا چاہے گا تو اللہ تعالیٰ کے لفظ ” کن “ کہنے سے تمام مردے زندہ ہوجائیں گے۔ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ۭ: یعنی دنیا میں مجازی طور پر جن کو بادشاہ کہا جاتا تھا ان کی مجازی بادشاہت بھی ختم ہوجائے گی، اللہ فرمائے گا : (لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ) [ المؤمن : ١٦ ] ” آج کس کی بادشاہی ہے، صرف اللہ کی جو ایک ہے، زبردست ہے۔ “ نیز دیکھیے سورة فاتحہ میں ” مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ “ کی تفسیر۔ ” الصُّوْرِ “ کیا چیز ہے ؟ عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک اعرابی آیا، اس نے عرض کیا : ” اے اللہ کے رسول ! صور کیا ہے ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اس سے مراد وہ سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا۔ “ [ أحمد : ٢؍١٦٢، ح : ٦٥١٤۔ ترمذی، صفات المؤمنین، باب صفۃ القیامۃ۔۔ : ٢٤٣٠ ] اس لیے عام طور پر اس کا ترجمہ نرسنگا کیا جاتا ہے۔ دوسری حدیث میں ہے : ” صور پھونکنے والا فرشتہ اس وقت سے تیار عرش کی طرف دیکھ رہا ہے جب سے اسے صور دیا گیا ہے اور وہ آنکھ بھی نہیں جھپک رہا کہ کہیں اسی اثنا میں اسے حکم نہ دے دیا جائے۔ “ [ مستدرک حاکم : ٤؍٥٥٨، ح : ٨٦٧٦۔ الصحیحۃ : ٢؍٦٥، ح : ١٠٧٨ ] پس صحیح یہی ہے کہ صور ایک قرن ( نرسنگا) ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ ” الصُّوْرِ “ ” صُوْرَۃٌ“ کی جمع ہے اور اس سے مراد مخلوق کی صورتیں ہیں تو یہ قول قرآن و سنت کی رو سے مردود ہے۔ مزید دیکھیے سورة نمل (٨٧) پہلے ایک صور پھونکا جائے گا، ساری خلقت گھبرا جائے گی، پھر دوبارہ پھونکا جائے گا تو ساری خلقت فنا ہوجائے گی، پھر تیسری دفعہ پھونکا جائے گا تو ساری خلقت زندہ ہو کر ایک جگہ جمع ہوجائے گی۔ بعض نے لکھا ہے کہ نفخہ اصل میں دو بار ہوگا، پہلے کو نفخۂ فزع یا صعق کہا جاتا ہے، گویا پہلے گھبراہٹ پھر بےہوشی اور نتیجتاً فنا، یعنی دونوں ایک ہی ہیں اور دوسرے کو نفخۂ قیام۔ واللہ اعلم ! (ابن کثیر، قرطبی) عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۭ“ سے مراد بندوں کے اعتبار سے غیب (پوشیدہ) اور ” َالشَّهَادَةِ ۭ“ کا معنی حاضر ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ کے لیے تو کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں، سب حاضر ہی حاضر ہے۔ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ : یعنی جو رب یہ صفات رکھتا ہے وہی اس لائق ہے کہ تم اس کی فرماں برداری اختیار کرو، اس کے بندے بن کر رہو اور سمجھو کہ تمہیں اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور اچھے یا برے ہر عمل کا بدلہ پانا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَہُوَالَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ۝ ٠ۭ وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ۝ ٠ۥۭ قَوْلُہُ الْحَقُّ۝ ٠ۭ وَلَہُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ۝ ٠ۭ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّہَادَۃِ۝ ٠ۭ وَہُوَالْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ۝ ٧٣ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ ملك) بادشاه) المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور وَالمِلْكُ ضربان : مِلْك هو التملک والتّولّي، ومِلْك هو القوّة علی ذلك، تولّى أو لم يتولّ. فمن الأوّل قوله : إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] ، ومن الثاني قوله : إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] ( م ل ک ) الملک ۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ صرف انسانوں کے منتظم کے ساتھ خاص ہے . اور ملک کا لفظ دو طرح پر ہوتا ہے عملا کسی کا متولی اور حکمران ہونے کو کہتے ہیں ۔ دوم حکمرانی کی قوت اور قابلیت کے پائے جانے کو کہتے ہیں ۔ خواہ نافعل اس کا متولی ہو یا نہ ہو ۔ چناچہ پہلے معنی کے لحاظ سے فرمایا : ۔ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] بادشاہ جب کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں ۔ تو اس کو تباہ کردیتے ہیں ۔ اور دوسرے معنی کے لحاظ سے فرمایا : ۔ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] کہ اس نے تم میں پیغمبر کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا ۔ نفخ النَّفْخُ : نَفْخُ الرِّيحِ في الشیءِّ. قال تعالی: يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ [ طه/ 102] ، وَنُفِخَ فِي الصُّورِ [ الكهف/ 99] ، ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرى[ الزمر/ 68] ، وذلک نحو قوله : فَإِذا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ [ المدثر/ 8] ومنه نَفْخُ الرُّوح في النَّشْأَة الأُولی، قال : وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] ( ن ف خ ) النفخ کے معنی کسی چیز میں پھونکنے کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ [ طه/ 102] ، اور جس دن صور پھونکا جائیگا ۔ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ [ الكهف/ 99] اور جس وقت ) صؤر پھونکا جائے گا ۔ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرى[ الزمر/ 68] پھر دوسری دفعہ پھونکا جائے گا ۔ اور یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : ۔ فَإِذا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ [ المدثر/ 8] جب صور پھونکا جائے گا ۔ اور اسی سے نفخ الروح ہے جس کے معنی اس دنیا میں کسی کے اندر روح پھونکنے کے ہیں چناچہ آدم (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ۔ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي[ الحجر/ 29] اور اس میں اپنی بےبہا چیز یعنی روح پھونک دوں ۔ صور الصُّورَةُ : ما ينتقش به الأعيان، ويتميّز بها غيرها، وذلک ضربان : أحدهما محسوس يدركه الخاصّة والعامّة، بل يدركه الإنسان وكثير من الحیوان، كَصُورَةِ الإنسانِ والفرس، والحمار بالمعاینة، والثاني : معقول يدركه الخاصّة دون العامّة، کالصُّورَةِ التي اختصّ الإنسان بها من العقل، والرّويّة، والمعاني التي خصّ بها شيء بشیء، وإلى الصُّورَتَيْنِ أشار بقوله تعالی: ثُمَّ صَوَّرْناكُمْ [ الأعراف/ 11] ، وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ [ غافر/ 64] ، وقال : فِي أَيِّ صُورَةٍ ما شاء رَكَّبَكَ [ الانفطار/ 8] ، يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحامِ [ آل عمران/ 6] ، وقال عليه السلام : «إنّ اللہ خلق آدم علی صُورَتِهِ» فَالصُّورَةُ أراد بها ما خصّ الإنسان بها من الهيئة المدرکة بالبصر والبصیرة، وبها فضّله علی كثير من خلقه، وإضافته إلى اللہ سبحانه علی سبیل الملک، لا علی سبیل البعضيّة والتّشبيه، تعالیٰ عن ذلك، وذلک علی سبیل التشریف له کقوله : بيت الله، وناقة الله، ونحو ذلك . قال تعالی: وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] ، وَيَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ [ النمل/ 87] ، فقد قيل : هو مثل قرن ينفخ فيه، فيجعل اللہ سبحانه ذلک سببا لعود الصُّوَرِ والأرواح إلى أجسامها، وروي في الخبر «أنّ الصُّوَرَ فيه صُورَةُ الناس کلّهم» وقوله تعالی: فَخُذْ أَرْبَعَةً مِنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَ«أي : أَمِلْهُنَّ من الصَّوْرِ ، أي : المیل، وقیل : قَطِّعْهُنَّ صُورَةً صورة، وقرئ : صرهن وقیل : ذلک لغتان، يقال : صِرْتُهُ وصُرْتُهُ وقال بعضهم : صُرْهُنَّ ، أي : صِحْ بِهِنَّ ، وذکر الخلیل أنه يقال : عصفور صَوَّارٌ وهو المجیب إذا دعي، وذکر أبو بکر النّقاش أنه قرئ : ( فَصُرَّهُنَّ ) بضمّ الصّاد وتشدید الرّاء وفتحها من الصَّرِّ ، أي : الشّدّ ، وقرئ : ( فَصُرَّهُنَّ ) من الصَّرِيرِ ، أي : الصّوت، ومعناه : صِحْ بهنّ. والصَّوَارُ : القطیع من الغنم اعتبارا بالقطع، نحو : الصّرمة والقطیع، والفرقة، وسائر الجماعة المعتبر فيها معنی القطع . ( ص و ر ) الصورۃ : کسی عین یعنی مادی چیز کے ظاہر ی نشان اور خدوخال جس سے اسے پہچانا جاسکے اور دوسری چیزوں سے اس کا امتیاز ہوسکے یہ دو قسم پر ہیں ( 1) محسوس جن کا ہر خاص وعام ادراک کرسکتا ہو ۔ بلکہ انسان کے علاوہ بہت سے حیوانات بھی اس کا ادراک کرلیتے ہیں جیسے انسان فرس حمار وغیرہ کی صورتیں دیکھنے سے پہچانی جاسکتی ہیں ( 2 ) صؤرۃ عقلیہ جس کا ادارک خاص خاص لوگ ہی کرسکتے ہوں اور عوام کے فہم سے وہ بالا تر ہوں جیسے انسانی عقل وفکر کی شکل و صورت یا وہ معانی یعنی خاصے جو ایک چیز میں دوسری سے الگ پائے جاتے ہیں چناچہ صورت کے ان پر ہر دو معانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ۔ ثُمَّ صَوَّرْناكُمْ [ الأعراف/ 11] پھر تمہاری شکل و صورت بنائی : وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ [ غافر/ 64] اور اس نے تمہاری صورتیں بنائیں اور صؤرتیں بھی نہایت حسین بنائیں ۔ فِي أَيِّ صُورَةٍ ما شاء رَكَّبَكَ [ الانفطار/ 8] اور جس صورت میں چاہا تجھے جو ڑدیا ۔ جو ماں کے پیٹ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری صورتیں بناتا ہے ۔ اور حدیث ان اللہ خلق ادم علیٰ صؤرتہ کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو اس کی خصوصی صورت پر تخلیق کیا ۔ میں صورت سے انسان کی وہ شکل اور ہیت مراد ہے جس کا بصرہ اور بصیرت دونوں سے ادارک ہوسکتا ہے اور جس کے ذریعہ انسان کو بہت سی مخلوق پر فضیلت حاصل ہے اور صورتہ میں اگر ہ ضمیر کا مرجع ذات باری تعالیٰ ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف لفظ صورت کی اضافت تشبیہ یا تبعیض کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ اضافت ملک یعنی ملحاض شرف کے ہے یعنی اس سے انسان کے شرف کو ظاہر کرنا مقصود ہے جیسا کہ بیت اللہ یا ناقۃ اللہ میں اضافت ہے جیسا کہ آیت کریمہ : ۔ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] میں روح کی اضافت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف کی ہے اور آیت کریمہ وَيَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ [ النمل/ 87] جس روز صور پھونکا جائیگا ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ صؤر سے قرآن یعنی نر سنگھے کی طرح کی کوئی چیز مراد ہے جس میں پھونکا جائیگا ۔ تو اس سے انسانی صورتیں اور روحیں ان کے اجسام کی طرف لوٹ آئیں گی ۔ ایک روایت میں ہے ۔ ان الصورفیہ صورۃ الناس کلھم) کہ صور کے اندر تمام لوگوں کی صورتیں موجود ہیں اور آیت کریمہ : ۔ فَخُذْ أَرْبَعَةً مِنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَ«2» میں صرھن کے معنی یہ ہیں کہ ان کو اپنی طرف مائل کرلو اور ہلالو اور یہ صور سے مشتق ہے جس کے معنی مائل ہونے کے ہیں بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی پارہ پارہ کرنے کے ہیں ایک قرات میں صرھن ہے بعض کے نزدیک صرتہ وصرتہ دونوں ہم معنی ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ صرھن کے معنی ہیں انہیں چلا کر بلاؤ چناچہ خلیل نے کہا ہے کہ عصفور صؤار اس چڑیا کو کہتے ہیں جو بلانے والے کی آواز پر آجائے ابوبکر نقاش نے کہا ہے کہ اس میں ایک قرات فصرھن ضاد کے ضمہ اور مفتوحہ کے ساتھ بھی ہے یہ صر سے مشتق ہے اور معنی باندھنے کے ہیں اور ایک قرات میں فصرھن ہے جو صریربمعنی آواز سے مشتق ہے اور معنی یہ ہیں کہ انہیں بلند آواز دے کر بلاؤ اور قطع کرنے کی مناسبت سے بھیڑبکریوں کے گلہ کو صوار کہاجاتا ہے جیسا کہ صرمۃ قطیع اور فرقۃ وغیرہ الفاظ ہیں کہ قطع یعنی کاٹنے کے معنی کے اعتبار سے ان کا اطلاق جماعت پر ہوتا ہے ۔ غيب الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا استترت عن العین، يقال : غَابَ عنّي كذا . قال تعالی: أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] ( غ ی ب ) الغیب ( ض ) غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور جو اس سے پودشیدہ ہو اس پر غیب کا لفظ بولا جاتا ہے حكيم فإذا قيل في اللہ تعالی: هو حَكِيم فمعناه بخلاف معناه إذا وصف به غيره، ومن هذا الوجه قال اللہ تعالی: أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، وإذا وصف به القرآن فلتضمنه الحکمة، نحو : الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] ، وعلی ذلک قال : وَلَقَدْ جاءَهُمْ مِنَ الْأَنْباءِ ما فِيهِ مُزْدَجَرٌ حِكْمَةٌ بالِغَةٌ [ القمر/ 4- 5] ، وقیل : معنی الحکيم المحکم «3» ، نحو : أُحْكِمَتْ آياتُهُ [هود/ 1] ، وکلاهما صحیح، فإنه محکم ومفید للحکم، ففيه المعنیان جمیعا، والحکم أعمّ من الحکمة، فكلّ حكمة حكم، ولیس کل حکم حكمة، فإنّ الحکم أن يقضی بشیء علی شيء، فيقول : هو كذا أو ليس بکذا، قال صلّى اللہ عليه وسلم : «إنّ من الشّعر لحكمة» أي : قضية صادقة لہذا جب اللہ تعالے کے متعلق حکیم کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے وہ معنی مراد نہیں ہوتے جو کسی انسان کے حکیم ہونے کے ہوتے ہیں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا ہے ۔ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] کیا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟ اور قرآن پاک کو حکیم یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ حکمت کی باتوں پر مشتمل ہے جیسے فرمایا ۔ الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] یہ بڑی دانائی کی کتان کی آیئیں ہیں ۔ نیز فرمایا : وَلَقَدْ جاءَهُمْ مِنَ الْأَنْباءِ ما فِيهِ مُزْدَجَرٌ حِكْمَةٌ بالِغَةٌ [ القمر/ 4- 5] اور ان کو ایسے حالات ( سابقین پہنچ چکے ہیں جن میں عبرت ہے اور کامل دانائی ) کی کتاب بھی ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قرآن پاک کے وصف میں حکیم بمعنی محکم ہوتا ہے جیسے فرمایا :، أُحْكِمَتْ آياتُهُ [هود/ 1] ا حکمت ایا تہ جس کی آیتہ ( جس کی آیتیں مستحکم ہیں ۔ اور یہ دونوں قول صحیح ہیں کیونکہ قرآن پاک کی آیات محکم بھی ہیں اور ان میں پراز حکمت احکام بھی ہیں لہذا ان ہر دو معافی کے لحاظ سے قرآن محکم سے ۔ حکم کا لفظ حکمۃ سے عام ہے ہر حکمت کو حکم کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن ہر حکم حکمت نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ حکم کے معنی کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کے ہوتے ہیں کہ وہ یوں ہے یا یوں نہیں ہے ۔ آنحضرت نے فرمایا کہ بعض اشعار مبنی برحکمت ہوتے ہیں جیسا کہ کبید نے کہا ہے ( ویل ) کہ خدائے تعالیٰ کا تقوی ہی بہترین توشہ ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٣) اور اسی نے زمین و آسمان کو حق و باطل کے ظاہر کرنے کے لیے پیدا کیا ہے اور جس دن وہ صور سے کہے گا کہ جو کہ سینگ کی طرح ہوگا، ہوجا تو تمام آسمان اس رب کے حکم سے ختم ہوجائیں گے اور دوسرا آسمان تبدیل ہوگا یا یہ کہ جس دن وہ قیامت قائم ہونے کا حکم دے گا تو قیامت قائم ہوجائے گی اور بعث بعد الموت حق ہے وہی بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور وہ ہر ایک ظاہر اور پوشیدہ چیزوں کو جاننے والا ہے اور وہ اپنے حکم اور فیصلہ میں بڑی حکمتوں والا ہے اور تمام مخلوق اور ان کے اعمال کی پوری خبر رکھنے والا ہے، یعنی تارح بن ناحور سے فرمایا کہ کیا تم مختلف قسم کے بتوں کی جو کہ چھوٹے بڑے نر اور مادہ ہیں عبادت کرتے ہو تم تو ان کی پوجا کی وجہ سے علانیہ کفر اور ظاہری گمراہی میں مبتلا ہو،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٣ (وَہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بالْحَقِّ ط) یعنی یہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ نے خاص مقصد کے تحت پیدا کیے ہیں۔ جیسا کہ سورة آل عمران میں فرمایا گیا : (رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلاً ج) (آیت ١٩١) اے رب ہمارے ‘ تو نے یہ سب باطل (بےمقصد) پیدا نہیں کیا۔ گویا حق کا لفظ یہاں باطل کے مقابلے میں آیا ہے۔ (وَیَوْمَ یَقُوْلُ کُنْ فَیَکُوْنُ ط) جب وہ چاہے گا اس کائنات کی بساط کو لپیٹ دے گا۔ اسی نے اسے حق کے ساتھ بنایا ہے اور اسی کے حکم کے ساتھ یہ لپیٹ دی جائے گی۔ ازروئے الفاظ قرآنی : (یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ ط) (الانبیاء : ١٠٤) جس دن ہم (ان تمام خلاؤں ‘ فضاؤں اور) آسمانوں کو ایسے لپیٹ دیں گے جیسے کتابوں کا طومارلپیٹ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح سورة الزمر میں ارشاد ہوا : (وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌم بِیَمِیْنِہٖ ط) (آیت ٦٧) اور (اس روز) آسمان اللہ کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ (قَوْلُہُ الْحَقُّ ط) ۔ اس کا فرمان شدنی ہے۔ اس کا کُنْ کہہ دینا برحق ہے۔ اسے تخلیق کے لیے کسی اور شے کی ضرورت نہیں ‘ مادہ (material) یا توانائی (energy) کچھ بھی اسے درکار نہیں۔ (وَلَہُ الْمُلْکُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ ط) ۔ اگرچہ حقیقت میں تو اب بھی بادشاہی اسی کی ہے لیکن ابھی جھوٹے سچے کئی بادشاہ ادھر ادھر بیٹھے ہوئے ہیں ‘ جو مختلف ڈراموں کے مختلف کردار ہیں۔ مگر یہ سب کے سب اس دن نسیاً منسیا ہوجائیں گے اور پوچھا جائے گا : (لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ط) اور پھر جواب میں خود ہی فرمایا جائے گا : (لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ ۔ ) (المؤمن) (عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِط وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ ) ۔ اس سورة مبارکہ میں اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور پھر ان کی نسل کے بعض انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر آ رہا ہے۔ انبیاء کے ناموں پر مشتمل ایک خوبصورت گلدستہ تو سورة النساء کے آخر میں ہم دیکھ آئے ہیں ‘ وہاں ہم نے ١٣ انبیاء و رسل کے نام پڑھے تھے۔ اب یہاں اس سے ذرا بڑا گلدستہ سجایا گیا ہے ‘ جس میں ١٧ انبیاء و رسل کے نام شامل ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر یہاں ذرا تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔ آپ ( علیہ السلام) کی قوم کا کیا انجام ہوا ‘ اس کی تفصیل قرآن میں مذکور نہیں ہے۔ اسی لیے آپ ( علیہ السلام) کے معاملے کو یہاں اس سورة میں الگ کرلیا گیا ہے ‘ کیونکہ اس سورة میں صرف التّذکیر بآلاء اللّٰہ کی مثالیں ہیں ‘ جبکہ سورة الاعراف میں ذَکِّرْھُمْ بِاَیَّام اللّٰہ کے تحت التذکیر بِاَیَّام اللّٰہ کا ظہور نظر آتا ہے۔ چناچہ حضرت نوح ‘ حضرت ھود ‘ حضرت صالح ‘ حضرت شعیب ‘ حضرت لوط اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر سورة الاعراف میں ہے۔ یہی وہ چھ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں جن کی قوموں پر عذاب آیا اور ان کو عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

46. It has been asserted again and again in the Qur'an that God created the heavens and the earth 'in truth'. This covers a wide range of meanings: First, that the heavens and the earth have not been created just for the fun of it. This existence is not a theatrical play. This world is not a child's toy with which to amuse oneself as long as one wishes before crushing it to bits and throwing it away. Creation is rather an act of great seriousness. A great objective motivates it, and a wise purpose underlies it. Hence, after the lapse of a certain stage it is necessary for the Creator to take full account of the work that has been done and to use those results as the basis for the next stage. This is stated at various places in the Qur'an in the following manner: Our Lord, You did not create this in vain (Surah Al 'Imran 3:191). And We did not create the heavens and the earth and whatever lies in between them playfully (Surah Al-Anbiya' 21:16). And did you think that We created you out of play and that you will not be brought back to Us? (Surah al-Mu'minun 23:115). Second, it means that God has created this entire system of the universe on solid foundations of truth. The whole of the universe is based on justice, wisdom and truth. Hence, there is no scope in thesystem for falsehood to take root and prosper. The phenomenon of the prosperity of falsehood which we observe, is to be ascribed to the will of God, Who grants the followers of falsehood the opportunity, if they so wish, to expend their efforts in promoting unrighteousness, injustice and untruth. In the end, however, the earth wfll throw up all the seeds of untruth that have been sown, and in the final reckoning every follower of falsehood will see that the efforts he devoted to cultivating and watering this pernicious tree have all gone to waste. Third, it means that God has founded the universe on the basis of right, and it is on the ground of being its Creator that He governs it. His command in the universe is supreme since He alone has the right to govern it, the universe being nothing but His creation. If anyone else's commands seem to be carried out in this world, this should not cause any misunderstanding. For in reality the will of no one prevails, and cannot prevail in the universe, for no one has any right to enforce his will. 47. This does not mean that the present dominion is not His. The purpose of this statement is rather to stress that when the veil which keeps things covered during the present phase of existence is lifted and the Truth becomes fully manifest, it will become quite clear that all those who seemed or were considered to possess power and authority are absolutely powerless, and that the true dominion belongs to the One True God Who created the universe. 48. In what manner the Trumpet will be blown is difficult for us to grasp.What we know through the Qur'an is that on the Day of Judgement the Trumpet will be blown on God's command, whereupon all will die. Then after an indefinite period of time - a period that is known to God alone - the second Trumpet will be blown, whereupon all people of all epochs will be resurrected and will find themselves on the Plane of the Congregation. Thus, when the first Trumpet is blown the entire order of the universe will be disrupted, while on the blowing of the second Trumpet a fresh order will be established, in a new form and with a new set of laws governing it. 49. Ghayb signifies all that is hidden from, and is beyond the ken of man's knowledge. Shahadah, as opposed to ghayb, signifies that which is manifest and thus can be known to man.

سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :46 قرآن میں یہ بات جگہ جگہ بیان کی گئی ہے کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو برحق پیدا کیا ہے یا حق کے ساتھ پیدا کیا ہے ۔ یہ ارشاد بہت وسیع معانی پر مشتمل ہے ۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں کی تخلیق محض کھیل کے طور پر نہیں ہوئی ہے ۔ یہ ایشورجی کی لِیلا نہیں ہے ۔ یہ کسی بچے کا کھلونا نہیں ہے کہ محض دل بہلانے کے لیے وہ اس سے کھیلتا رہے اور پھر یونہی اسے توڑ پھوڑ کر پھینک دے ۔ دراصل یہ ایک نہایت سنجیدہ کام ہے جو حکمت کی بنا پر کیا گیا ہے ، ایک مقصد عظیم اس کے اندر کارفرما ہے ، اور اس کا ایک دور گزر جانے کے بعد ناگزیر ہے کہ خالق اس پورے کام کا حساب لے جو اس دور میں انجام پایا ہو اور اسی دور کے نتائج پر دوسرے دور کی بنیاد رکھے ۔ یہی بات ہے جو دوسرے مقامات پر یوں بیان کی گئی ہے: رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَا طِلاً ۔ ”اے ہمارے رب ، تو نے یہ سب کچھ فضول پیدا نہیں کیا ہے“ ۔ اور وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَالْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَھُمَا لٰعِبِیْنَ ۔ ” ہم نے آسمان و زمین اور ان چیزوں کو جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں کھیل کے طور پیدا نہیں کیا ہے“ ۔ اور اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ ۔ ” تو کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمھیں یونہی فضول پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف واپس نہ لائے جاؤ گے“ ؟ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے یہ سارا نظام کائنات حق کی ٹھوس بنیادوں پر قائم کیا ہے ۔ عدل اور حکمت اور راستی کے قوانین پر اس کی ہر چیز مبنی ہے ۔ باطل کے لیے فی الحقیقت اس نظام میں جڑ پکڑنے اور بار آور ہونے کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ اللہ باطل پرستوں کو موقع دیدے کہ وہ اگر اپنے جھوٹ اور ظلم اور ناراستی کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو اپنی کوشش کر دیکھیں ۔ لیکن آخر کار زمین باطل کے ہر بیج کو اگل کر پھینک دے گی اور آخری فرد حساب میں ہر باطل پرست دیکھ لے گا کہ جو کوششیں اس نے اس شجر خبیث کی کاشت اور آبیاری میں صرف کیں وہ سب ضائع ہو گئیں ۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ خدا نے اس ساری کائنات کو بربنائے حق پیدا کیا ہے اور اپنے ذاتی حق کی بنا پر ہی وہ اس پر فرماں روائی کر رہا ہے ۔ اس کا حکم یہاں اس لیے چلتا ہے کہ وہی اپنی پیدا کی ہوئی کائنات میں حکمرانی کا حق رکھتا ہے ۔ دوسروں کا حکم اگر بظاہر چلتا نظر بھی آتا ہے تو اس سے دھوکا نہ کھاؤ ، فی الحقیقت نہ ان کا حکم چلتا ہے ، نہ چل سکتا ہے ، کیونکہ کائنات کی کسی چیز پر بھی ان کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ اس پر اپنا حکم چلائیں ۔ سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :47 صُور پھونکنے کی صحیح کیفیت کیا ہوگی ، اس کی تفصیل ہماری سمجھ سے باہر ہے ۔ قرآن سے جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے وہ صرف اتنا ہے کہ قیامت کے روز اللہ کے حکم سے ایک مرتبہ صُور پھونکا جائے گا اور سب ہلاک ہو جائیں گے ۔ پھر نامعلوم کتنی مدت بعد ، جسے اللہ ہی جانتا ہے ، دوسرا صُور پھونکا جائے گا اور تمام اولین و آخرین ازسر نو زندہ ہو کر اپنے آپ کو میدان حشر میں پائیں گے ۔ پہلے صور پر سارا نظام کائنات درہم برہم ہوگا اور دوسرے صُور پر ایک دوسرا نظام نئی صورت اور نئے قوانین کے ساتھ قائم ہو جائے گا ۔ سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :48 یہ مطلب نہیں ہے کہ آج پادشاہی اس کی نہیں ہے ۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس روز جب پردہ اٹھایا جائے گا اور حقیقت بالکل سامنے آجائے گی تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ سب جو بااختیار نظر آتے تھے ، یا سمجھے جاتے تھے ، بالکل بے اختیار ہیں اور پادشاہی کے سارے اختیارات اسی ایک خدا کے لیے ہیں جس نے کائنات کو پیدا کیا ہے ۔ سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :49 غیب = وہ سب کچھ جو مخلوقات سے پوشیدہ ہے ۔ شھادت = وہ سب کچھ جو مخلوقات کے لیے ظاہر و معلوم ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

26: یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو ایک برحق مقصد سے پیدا کیا ہے اور وہ مقصد یہ ہے کہ جو لوگ یہاں اچھے کام کریں انہیں انعام سے نوازا جائے اور جو لوگ بدکار اور ظالم ہوں انہیں سزا دی جائے یہ مقصد اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب دنیوی زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہو جس میں جزا اور سزا کا یہ مقصد پورا ہو اور آگے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس مقصد کے لئے قیامت میں لوگوں کو دوبارہ زندگی دینا اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ مشکل نہیں ہے، جب وہ چاہے گا تو قیامت کو وجود میں آنے کا حکم دے گا اور وہ وجود میں آجائے گی اور چونکہ وہ غائب وحاضر ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے اس لئے لوگوں کو مرنے کے بعد اکھٹا کرنا بھی اس کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے البتہ چونکہ وہ حکمت والا ہے اس لئے وہ اسی وقت قیامت قائم فرمائے گا جب اس کی حکمت کا تقاضا ہوگا۔ 27: اگرچہ دنیا میں حقیقی بادشاہی اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔ لیکن یہاں ظاہری طور پر بہت سے حکمران مختلف ملکوں پر حکومت کرتے ہیں، لیکن صور پھونکے جانے کے بعد یہ ظاہری حکومتیں بھی ختم ہوجائیں گی، اور ظاہری اور باطنی ہر اعتبار سے بادشاہی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہوگی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(6:73) ویوم یقول کن فیکون۔ اور جس دن وہ کہے گا کہ حشر ہوجائے اسی دن وہ ہوجائے گا (تفہیم القرآن) یوم بمعنی حین (وقت) بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوں گے (وہ وہی ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا) اور جس وقت (بھی) وہ کسی شے کو کہتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔ قولہ الحق۔ اس کا ارشاد عین حق ہے۔ عین حقیقت ہے۔ جو وہ حکم دیتا ہے وہ ہوکر ہی رہتا ہے۔ اس کا قول اٹل ہے قولہ مبتدا۔ الحق خبر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی حشر کے دن جب وہ تمام مردوں کو زندہ کرنا چاہے گا2 یعنی دنیان میں مجازی طور پر جن لوگوں کو بادشاہ کہا جاتا ہے ان کی مجازی بادشاہی بھی اس روز ختم ہوجائے گی لمن الملک الیوم اللہ الو احد القھار۔ (حم السجدہ نیز سورت فاتحہ آیت مالک یوم الدین پہلے ایک صور پھو نکا جائے گا تو گھبرا جائے گی پھر دوبارہ پھونکا جائے گا تو ساری خلقت فناہو جائے گی پھر تیسری بار پھونکا جائے گا تو سب زندہ ہو کر ایک جگہ جمع ہوجائے گی، بعض نے لکھا ہے کہ نفخہ در اصل دوبارہ ہوگا بہلے کو نفخہ فزع یاصعق (فنا) کہا جاتا ہے اور دوسرے کو نفخہ قیام واللہ اعلم (قرطبی، ابن کثیر) ایک شخص کے سوال پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا صور ایک نر سنگا ہے ( مسند امام احدمی) دوسری حدیث میں ہے کہ صور اسرافیل اپنے منہ میں لیے اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں جس دن انہیں حکم ملے گا وہ اس میں پھونک ماریں گے۔ (مسلم) پس صحیح یہی ہے کہ صور ایک قرن (نر سنگا) ہے اور اہل سنت کا اس پر اجماع ہے۔ ، ( فتح البیان) جو لوکہتے ہیں کہ صور جمع ہے صورۃ کی اور اس سے مراد مخلوق کی صورتیں ہیں تو قرآن و احادیث صحیحہ کی رو سے یو قول مردود ہے مزید تفصیل کے لیے دیکھئے سورت انحل آیت 87) قرطبی)3 یعنی جو بندوں کے اعتبار سے غیب (پوشیدہ اور شہادت حاضر ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کے لیے تو وئی بھی چیز پوشیدہ نہیں ہے سب حاضر ہی حاضر ہے۔ ( وحیدی)4 جو خدا یہ صفات رکھتا ہے وہ اس لائق ہے کہ تم اس کی فرمانبرداری اختیار کرو اسی کے بندے بن کر رہو اور سمجھو کہ تمہیں ہر عمل کا بدلہ پانا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ اوپر شرک کا ابطال اور توحید کا اثبات مذکور تھا آگے اسی مضمون کی تائید میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ دعوت الی التوحید بیان فرماتے ہیں اور بجہ اس کے کہ اہل عرب ابراہیم (علیہ السلام) کو مانتے تھے مضمون مذکور کی تائید میں زیادہ قوت ہوگئی نیز اس قصہ میں مسئلہ رسالت کی بھی تائید ہے کہ نبوت کوئی امرمستغرب نہیں ہے پہلے سے بھی انبیاء ہوتے آئے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ٧٢ تا ٧٣۔ (آیت) ” وَہُوَ الَّذِیَ إِلَیْْہِ تُحْشَرُونَ (72) ” اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے ۔ اس لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ تم صرف اس کے سامنے سرتسلیم خم کرو کیونکہ تم کو آخر کار اسی کی طرف جانا ہے ۔ لہذا انسانوں کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ یوم الحشر کے لئے کچھ چیزیں ساتھ لے کر جائیں جس کی وجہ سے ان کی نجات ہو ‘ کیا وہ اس کے سامنے نہیں جھکتے جس کے سامنے حشر کے دن عالمین سرنگوں ہوں گے ۔ مناسب ہے کہ اس دن کے آنے سے پہلے ہی وہ جھکیں ۔ حشر کا تصور دے کر یہاں انسان کو اس بات پر آمادہ کیا جاتا ہے کہ آج ہی اس کے سامنے سرنگوں ہونا شروع کر دو جبکہ حشر کے روز کوئی بچ کر نہیں نکل سکے گا ۔ (آیت) ” وَہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ “۔ (٦ : ٧٣) ” وہی ہے جس نے آسمان و زمین کو برحق پیدا کیا ہے “۔ یہ ایک دوسری حقیقت ہے جو اصلاح احوال کا ایک دوسرا بہترین موثر ہے ۔ وہ اللہ جس کے سامنے سرنگوں ہونے کا یہاں حکم دیا جارہا ہے ‘ وہ وہی ہے جس نے زمین و آسمان کو برحق پیدا کیا ہے ۔ وہ ذات وہی ہے جو پیدا کرتا ہے ‘ جو مالک ہے ‘ جو حاکم ہے اور جو تمام امور میں متصرف ہے اور اس نے زمین و آسمان کو پیدا بھی حق پر کیا ہے ۔ تخلیقات کائنات میں سچائی ایک بنیادی عنصر ہے اور یہ ایک حقیقت ہے ۔ اس فقرے میں ایک جانب تو اس کائنات کے بارے میں افلاطون کے مثالی نظریے کی تردید کردی جس میں کہا گیا تھا کہ یہ کائنات ایک وہم ہے اور اس کا کوئی وجود نہیں ہے ۔ دوسری جانب اس میں یہ قرار دیا گیا کہ سچائی اپنے اندر اصلیت رکھتی ہے اور وہ اس کائنات کا بنیادی عنصر ہے ۔ جو لوگ سچائی کا سہارا لیتے ہیں فطرت کائنات کے اندر سچائی بھی اسی طرح طرف لوٹتی ہے ۔ اس طرح اس کائنات کی طبعی سچائی اور اسلامی نظریہ حیات کی سچائی باہم مل کر ایک خوفناک اور عظیم قوت بن جاتی ہیں ۔ پھر اس عظیم قوت کے سامنے باطل اپنے پائے چوبیں پر کھڑا ہی نہیں ہوسکتا اس لئے کہ باطل کی جڑیں اس کائنات کے اندر نہیں ہوتیں ۔ اس کی مثال تو ایک خبیث درخت جیسی ہوتی ہے جسے زمین کے اوپر سے باسانی اکھاڑ لیا جاتا ہے اور وہ زمین پر ٹھہر نہیں سکتا یا اس کی مثال تو ایک خبیث درخت جیسی ہوتی ہے جسے زمین کے اوپر سے باسانی اکھاڑ لیا جاتا ہے اور وہ زمین پر ٹھہر نہیں سکتا یا اس کی مثال اس جھاگ کی طرح ہوتی جس کے اندر جسمانی حقیقت نہیں ہوتی اور وہ جلد ہی خود بخود بیٹھ جاتی ہے ۔ اس لئے باطل پر اس کائنات کی بنیاد نہیں رکھی گئی ۔ یہ ایک عظیم اور موثر نظریاتی حقیقت ہے ۔ وہ مومن جس کے شعور میں یہ بات ہو کہ وہ حق کا حامل ہے وہ شخصی اور ذاتی طور پر اس سچائی کے ساتھ مربوط ہوجاتا ہے جو اس کائنات کے اندر موجود ہے ۔ (ایک دوسری آیت میں ہے کہ ان اللہ ھو الحق ‘ یعنی اللہ سچائی ہے) یہ دونوں سچائیاں پھر ذات باری تعالیٰ سے اتصال حاصل کرلیتی ہیں جو بذات خود عظیم سچائی ہے ۔ جب ایک مرد مومن اپنے اندر یہ شعور پیدا کرلیتا ہے کہ وہ واصل بالحق ہے تو اس کے سامنے پھر باطل کی کوئی حقیقت ہی نہیں رہتی ۔ اگرچہ یہ باطل طاقت بظاہر بہت عظیم وضخیم نظر آتی ہو ‘ جابر وقاہر ہو اور اسے اذیت رسانی کی بڑی قوت ہی کیوں نہ حاصل ہو ۔ ایسا مرد مومن یہ سمجھتا ہے کہ یہ صورت حال نہایت ہی عارضی اور حقیر ہے ۔ اس کی جڑیں اس کائنات کے اندر نہیں ہیں اور نہ اسے ثبات وقرار حاصل ہوگا ۔ جلد ہی یہ عارضی اور حقیر ہے ۔ اس کی جڑیں اس کائنات کے اندر نہیں ہیں اور نہ اسے ثبات وقرار حاصل ہوگا ۔ جلد ہی یہ عارضی حالت ختم ہوگی اور صورت حال اس طرح بدل جائے گی کہ گویا وہ یہاں تھی ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اور جب ایک منکر اور غیر مومن اس حقیقت پر غور کرتا ہے تو بعض اوقات وہ راہ راست پر آجاتا ہے اور اللہ کے سامنے سرنگوں ہوجاتا ہے ۔ (آیت) ” وَیَوْمَ یَقُولُ کُن فَیَکُونُ ۔ (٦ : ٧٣) ” اور جس دن وہ کہے گا کہ حشر ہوجائے اسی دن وہ ہوجائے گا ۔ وہ قادر مطلق بادشاہ ہے ‘ اور اس کی مشیت بےقید ہے ۔ از سر نو تخلیق ‘ اپنی تخلیق میں تغیر وتبدل کرنے میں اسے کچھ دیر نہیں لگتی ۔ اللہ کی اس قدرت کا یہاں ذکر کرنے کے دو مقاصد ہیں ۔ ایک طرف تو اس سے اسلامی نظریہ حیات کو قلب مومن میں جاگزیں کیا جارہا ہے ۔ دوسری جانب ان لوگوں کے لئے جنہیں دعوت دی جارہی ہے یہ امر ایک موثر ذریعہ ہے کہ وہ دعوت کو قبول کریں اور اللہ رب العالمین کے سامنے سرنگوں ہوجائیں کیونکہ کن فیکون کہنے والا وہی قادر مطلق ہے ۔ (آیت) ” قَوْلُہُ الْحَقُّ (٦ : ٧٣) ” اس کا ارشاد عین حق ہے ۔ “ اس کا وہ قول بھی حق ہے جس کے ذریعے اس نے پوری کائنات کی تخلیق کی اور کن فیکون کہا ۔ اس کا وہ فرمان بھی برحق ہے جس کے ذریعے اس نے بندوں کو حکم دیا کہ وہ صرف اس کی اطاعت کریں اور صرف اس کے سامنے سرنگوں ہوں ۔ اس کے وہ احکام بھی برحق ہیں جن کے ذریعے اس نے لوگوں کے لئے قانون سازی کی ۔ اور وہ اقوال بھی برحق ہیں جن میں ماضی حال اور مستقبل کے بارے میں اطلاعات دی گئی ہیں یعنی خلق ‘ نشاۃ اور حشر ونشر کی بابت اور سزا وجزاء سے متعلق ۔ (آیت) ” وَلَہُ الْمُلْکُ یَوْمَ یُنفَخُ فِیْ الصُّوَرِ (٦ : ٧٣) ” اور جس روز صور پھونکا جائے گا اس روز بادشاہی اسی کی ہوگی ۔ “ اور جب صور میں پھونکا جائے گا (صور ڈھول کی طرح اندر سے خالی سینگ کو کہتے ہیں) یہ وہ دن ہوگا جس میں لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کر پھلیں گے ‘ یہ کیونکر ہوگا ؟ انسان کے علم میں یہ کیفیت نہیں آسکتی ۔ یہ ان غیبی امور میں سے ہے جس کا علم اللہ کے ہاں محفوظ ہے ۔ صور کی ماہیت اور حقیقت کیا ہوگی ‘ یہ بھی غیبی امور میں سے ہے ۔ کس طرح تمام مردے اٹھ کھڑے ہونگے اس کا تصور بھی ہم نہیں کرسکتے ۔ روایات میں آتا ہے کہ صور ایک نورانی بگل ہے جس میں فرشتہ پھونکے گا ۔ تمام اہل قبور اسے سنیں گے اور وہ جہاں بھی ہوں گے اٹھنے کی تیاری کریں گے اور یہ دوسری آواز ہوگی ۔ رہا پہلا صور تو اس کے نتیجے میں تمام لوگ مر کر گرجائیں گے یعنی زمین و آسمان کی تمام مخلوق جان دے دیگی ۔ الا ماشاء اللہ ۔ سورة زمر میں ہے ” اور روز صور پھونکا جائے گا اور وہ سب مرکر گر جائیں گے جو آسمان و زمین میں ہیں سوائے ان کے جنہیں اللہ زندہ رکھنا چاہے ۔ پھر ایک دوسرا صور پھونکا جائے گا اور یکایک سب اٹھ کر دیکھنے لگیں گے ۔ “ (٣٩ : ٦٨) صور اور اس کے پھونکنے کے جو آثار یہاں دیئے گئے وہ ایسے ہیں کہ انسان جس صورت حال کے عام طور پر عادی ہیں ان میں ایسا ہونا ممکن نہیں ہے ‘ ایک عام انسان ایسے حالات کا تصور نہیں کرسکتا اس لئے کہ یہ اللہ کے ان غیبی حقائق میں سے ایک ہے جس کا علم ہمیں نہیں دیا گیا ۔ ہمارا علم وہاں تک محدود ہے جو اللہ نے ہمیں دیا ۔ اس لئے ہم اس کے بارے میں اس سے آگے نہیں بڑھتے جس قدر اس آیت میں دے دیا گیا ہے ۔ نہ آگے جانے میں کوئی فائدہ ہے ۔ اگر اس کی کیفیات پر کوئی کلام کرے گا تو وہ اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے مترادف ہوگا ، محض ظن وتخمین ہوگا ۔ ہاں جس دن صور میں پھونکا جائے گا اس دن اصل حقیقت منکرین پر بھی ظاہر ہوگی اور اندھے بھی اسے دیکھ لیں گے کہ اس دن صرف اللہ کی بادشاہی ہوگی اور صرف اللہ ہی بادشاہ ہوگا ۔ صرف اللہ ہی فیصلے کرے گا ۔ لہذا اس دنیا میں جو لوگ سرکش ہیں انہیں چاہئے کہ وہ ابھی سے اپنا طرز عمل درست کرلیں ۔ قبل اس کے کہ وہ جبار وقہار کے سامنے کھڑے ہو کر اطاعت کریں یعنی نفخ صور کے دن ۔ (آیت) ” عَالِمُ الْغَیْْبِ وَالشَّہَادَۃِ ۔ (٦ : ٧٣) ” وہ غیب اور شہادت ہر چیز کا عالم ہے “۔ یعنی ان باتوں کی کیفیات کا علم اسے ہے جنہیں ہم نہیں سمجھتے ۔ وہ ان باتوں کو اس طرح جانتا ہے جس طرح ہم عالم شہادت کو جانتا ہیں اور بندوں کی پوشیدہ چیزوں سے کوئی چیز بھی اس پر مخفی نہیں ہے ۔ نہ کوئی چیز اس سے چھوٹ سکتی ہے ۔ لہذا لوگوں کو چاہئے کہ وہ اللہ کی اطاعت کریں اور اس سے ڈریں ۔ اپنی جگہ حقیقت اور جزوعقیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ دھمکی مخالفین اور جھٹلانے والوں کے لئے مفید ہے ۔ (آیت) ” وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ (73) ” اور وہ دانا اور باخبر ہے ۔ “ وہ اپنی حکمت کے مطابق اس پوری کائنات کو چلاتا ہے ۔ وہ دنیا وآخرت دونوں میں اپنے بندوں کے معاملات کو نہایت خبردار اور حکمت سے چلاتا ہے ۔ لہذا لوگوں کو چاہئے کہ وہ اللہ کی ہدایت اور اس کی شریعت کی پیروی کریں اور اللہ کے علم و حکمت سے استفادہ کریں ۔ اس کی ہدایت و رحمت کے سائے میں لوٹ آئیں ۔ حیرانی و پریشانی سے نکل کر اس کے سایہ عاطفت اور حکمت و دانائی میں داخل ہوجائیں جہاں انہیں صراط مستقیم ملے گا اور علم وبصیرت کے لئے موثر بناتے ہیں ۔ درس نمبر ٦٥ ایک نظر میں : یہ درس ‘ طوالت کے باوجود ‘ ایک ٹکڑا ہے ۔ اس کا موضوع بھی ایک ہے جس کے تمام پیراگراف باہم پیوستہ ہیں ۔ یہ اس سورة کے مرکزی مضمون سے متعلق ہے۔ سورة کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کی تعمیر مقام الوہیت کی صحیح تعریف اور توضیح کے رنگ میں کی جائے ۔ اس کے مقابلے میں بندے کی حقیقت اور اس کے آداب زندگی کی وضاحت اور عبد و معبود کے درمیان تعلق کی صحیح نوعیت کا بیان ۔ لیکن اس سبق میں ان حقائق اور موضوعات پر بات کرنے کا ایک نیا انداز اختیار کیا گیا ہے جو اس سے قبل اس سورة میں اختیار کئے جانے والے انداز سے بالکل جدا ہے ۔ یہاں اس موضوع اور مضمون کو قصے کے انداز میں لیا گیا ہے ۔ لیکن اس قصے میں وہ تمام اثر آفریں باتیں آگئی ہیں جو اس سے قبل اس سورة میں آنے والی تمام لہروں میں مذکور ہیں جیسا کہ ہم نے اس سورة پر تبصرہ کرتے وقت بیان کیا تھا ۔ مثلا ایک یہ ہے کہ مختلف لہروں کے درمیانی وقفے میں قیامت کے دن اللہ کے سامنے پیشی کے مناظر بار بار دہرائے گئے ہیں اور نہایت مرتب انداز میں ۔ اس سبق میں اس مسلسل قافلہ دعوت اسلامی کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے ۔ جو حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک طویل انسانی تاریخ کی شاہراہ پر پھیلا ہوا ہے ۔ اس قافلے کی طرف اشارہ کرنے سے پہلے مقام کبرائی کی توضیح کردی گئی ہے اور یہ توضیح ایک مومن کامل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے فطری تاثرات کی شکل میں کی گئی ہے ۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ فطرت سلیمہ اس طرح کی ہوتی ہے اور یہ فطرت سلیمہ جب سچائی کی متلاشی ہوتی ہے تو اس کا انداز اس طرح کا ہوتا ہے ۔ اللہ کی کبریائی کا صحیح تصور تو خود فطرت سلیمہ کے اندر موجود ہوتا ہے ‘ رہے خارجی مظاہر تو ان میں تو قدم قدم پر جاہلیت کو تصادم کے بعد ہی صحیح تصورات عطا کئے جاسکتے ہیں ۔ یہ تصورات حق تعالیٰ کے بارے میں فطرت انسانی کے اپنے تصور کے عین مطابق ہوتے ہیں ۔ ان تصورات کی بنیادان داخلی شواہد پر ہوتی ہے جو فطرت انسانی کے اندر ہوتے ہیں اور جو محسوس شواہد سے زیادہ قوی ہوتے ہیں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب اپنے داخلی فطری شواہد کی وجہ سے حق تعالیٰ کی معرفت حاصل کرلیتے ہیں اور انہیں ان داخلی فطری شواہد کی وجہ سے اطمینان حاصل ہوجاتا ہے تو قرآن کریم اس داخلی واردات کی حکایت ان الفاظ میں بیان کرتا ہے ۔ (آیت) ” وَحَآجَّہُ قَوْمُہُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّیْ فِیْ اللّہِ وَقَدْ ہَدَانِ وَلاَ أَخَافُ مَا تُشْرِکُونَ بِہِ إِلاَّ أَن یَشَاء َ رَبِّیْ شَیْْئاً وَسِعَ رَبِّیْ کُلَّ شَیْْء ٍ عِلْماً أَفَلاَ تَتَذَکَّرُونَ (80) وَکَیْْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَکْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّکُمْ أَشْرَکْتُم بِاللّہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ عَلَیْْکُمْ سُلْطَاناً فَأَیُّ الْفَرِیْقَیْْنِ أَحَقُّ بِالأَمْنِ إِن کُنتُمْ تَعْلَمُونَ (81) (٦ : ٨٠ تا ٨١) ” اس کی قوم اس سے جھگڑنے لگی تو اس نے کہا ” کیا تم لوگ اللہ کے معاملے میں مجھ سے جھگڑتے ہو ؟ حالانکہ اس نے مجھے راہ راست دکھا دی ہے اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا ہاں اگر میرا رب کچھ چاہئے تو ضرور ہوسکتا ہے ، میرا رب کا علم ہر چیز پرچھایا ہوا ہے ‘ پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے ؟ اور آخر میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈرو جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لئے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بےخوفی اور اطمینان کا مستحق ہے بتاؤ اگر تم علم رکھتے ہو ۔ اب سیاق کلام قافلہ ایمان کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا ہے ۔ اس قافلے کی قیادت اللہ کے رسولوں کے ہاتھ میں ہے ۔ شاہراہ تاریخ پر یہ رواں ودواں ہے ۔ اس طویل شاہراہ پر مشرکین کا شرک اور مکذبیں کی تکذیب بےوزن نظر آتے ہیں ۔ اور اس قافلے نے ان چیزوں کو ٹھوکریں مارکر اس شاہراہ سے ایک طرف پھینک دیا ہے ۔ یہ قافہ رواں دواں ہے ۔ اس قافلے کی آخری کڑی اس کی ابتدائی کڑی سے جڑی ہوئی ہے ۔ یوں ایک متحدہ امت تشکیل پاتی ہے۔ اس امت مسلمہ کا آخری حصہ اسی ہدایت کی پیروی کر رہا ہے جس کی پیروی اس کے ابتدائی حصے نے کی ۔ اس امت کی تشکیل میں زماں ومکان کا کوئی لحاظ نہیں ہے۔ قوم اور نسل کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔ رنگ ونسب کا کوئی لحاظ نہیں ہے ۔ اس امت کے درمیاں واحد رابطہ اور واحد رسی دین اسلام ہے اور اس رسی اور حبل اللہ کو سب نے پکڑ رکھا ہے ۔ یہ ایک حیران کن منظر ہے ۔ اللہ تعالیٰ قافلہ رسل کا نام لے کر گنواتے ہیں اور اس کے بعد فرماتے ہیں : (آیت) ” ذَلِکَ ہُدَی اللّہِ یَہْدِیْ بِہِ مَن یَشَاء ُ مِنْ عِبَادِہِ وَلَوْ أَشْرَکُواْ لَحَبِطَ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (88) أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ فَإِن یَکْفُرْ بِہَا ہَـؤُلاء فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْماً لَّیْْسُواْ بِہَا بِکَافِرِیْنَ (89) أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّہُ فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہْ قُل لاَّ أَسْأَلُکُمْ عَلَیْْہِ أَجْراً إِنْ ہُوَ إِلاَّ ذِکْرَی لِلْعَالَمِیْنَ (90) ” یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے راہنمائی کرتا ہے لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کا کیا کرایا غارت ہوجاتا ۔ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کی تھی ۔ اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پرواہ نہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں ۔ اے نبی وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے ۔ انہی کے راستہ پر تم چلو اور کہہ دو میں اس (تبلیغ وہدایت کے) کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں یہ تو ایک عام نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لئے ۔ ‘ اس موقف کو پیش کرنے کے بعد ان لوگوں پر سخت تنقید کی جاتی ہے جو یہ زعم لئے ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی رسول نہیں بھیجا اور نہ اللہ نے کسی انسان پر کوئی کتاب اتاری ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ اس قسم کے لوگ درحقیقت کوتاہ بین ہیں اور انہوں نے ذات باری کی صحیح معرفت حاصل نہیں کی ۔ ان کے اس نظریے کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے لوگوں کو پیدا کر کے یوں ہی چھوڑ دیا ‘ ان کی لگام ان کے نفس اور ان کی عقل کے ہاتھ میں دے دی ‘ ان کی خواہشات اور ان کی ناقص فہم اور ان کا سرکش نفس انہیں جو چاہے حکم دے ۔ اللہ کی شان کبریائی اور اس کی الوہیت و ربوبیت سے یہ نظریہ فروتر ہے ۔ اس کا علم ‘ اس کی حکمت اور اس کی عدالت اور پھر سب سے بڑھ کر اس کی شان رحیمی ایسا ہر گز نہیں کرسکتی ۔ اس کے علم ‘ اس کی رحمت اور اس کے عدل کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ اپنے بندوں میں سے بعض برگزیدہ ہسیتوں کو رسول بنا کر بھیجے اور ان میں سے بعض رسولوں پر کتاب نازل کرے تاکہ یہ سب لوگ عوام الناس کا ہاتھ تھام کر انہیں اللہ کی طرف لے جائیں اور ان کی فطرت سلیمہ پر جو تہ بہ تہ پردے پڑجائیں انہیں اتاریں ۔ ان کے قلب ونظر کے جو دریچے بند ہوچکے ہیں انہیں از سر نو کھولیں اور وہ ان کی دعوت پر لبیک کہیں ۔ اس سلسلے میں یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی کتاب کی مثال دی گئی اور پھر قرآن ایک شاہد عادل ہے ‘ جو ماقبل کی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے ۔ اس طویل سبق کا خاتمہ ان لوگوں کو دھمکی دینے پر ہوتا ہے جو اللہ پر افتراء باندھتے ہیں اور جو یہ غلط دعوی کرتے ہیں کہ ان پر وحی نازل ہوئی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔ وہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ جس قسم کا کلام اللہ نازل کرتا ہے ویسا ہی کلام یہ لوگ بھی نازل کرسکتے ہیں اور یہ دعوے ایسے ہیں جو ہر پیغمبر کے مطابلے میں غلط مدعیان نبوت نے ہمیشہ کئے ہیں۔ بعض نے وحی کا دعوی کیا اور بعض نے نبوت کا دعوی کیا ۔ آخر میں مشرکین کا ایک کربناک منظر پیش کیا جاتا ہے ۔ یہ اس منظر کی ایک جھلک ہے جو آخر میں انہیں درپیش ہوگا ۔ (آیت) ” وَلَوْ تَرَی إِذِ الظَّالِمُونَ فِیْ غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلآئِکَۃُ بَاسِطُواْ أَیْْدِیْہِمْ أَخْرِجُواْ أَنفُسَکُمُ الْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُونِ بِمَا کُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَی اللّہِ غَیْْرَ الْحَقِّ وَکُنتُمْ عَنْ آیَاتِہِ تَسْتَکْبِرُونَ (93) وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَی کَمَا خَلَقْنَاکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃٍ وَتَرَکْتُم مَّا خَوَّلْنَاکُمْ وَرَاء ظُہُورِکُمْ وَمَا نَرَی مَعَکُمْ شُفَعَاء کُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ أَنَّہُمْ فِیْکُمْ شُرَکَاء لَقَد تَّقَطَّعَ بَیْْنَکُمْ وَضَلَّ عَنکُم مَّا کُنتُمْ تَزْعُمُونَ (94) (٦ : ٩٣۔ ٩٤) ” کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکرات موت میں ڈبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ” لاؤ“ نکالو اپنی جان ‘ آج تمہیں ان باتوں کی پاداش مین ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اس کی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے “ ۔ لو اب تم ایسے ہی تن تنہا ہمارے سامنے حاضر ہوگئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ اکیلا پیدا کیا تھا ۔ جو کچھ ہم نے تمہیں دنیا میں دیا تھا ‘ وہ سب تم پیچھے چھوڑ آئے ہو ‘ اور اب ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ تمہارے کام بنانے میں ان کا بھی کچھ حصہ ہے ۔ تمہارے آپس میں سب رابطے ٹوٹ گئے اور وہ سب تم سے گم ہوگئے جن کا تم زعم رکھتے تھے ۔ “ یہ نہایت ہی اعصاب شکن منظر ہے ۔ انسان دیکھتے ہی خوفزدہ ہوجاتا ہے ۔ اس منظر میں ان لوگوں کی حالت زار صاف صاف نظر آتی ہے جس میں وہ حیران وپریشان نظر آتے ہیں اور ان کی پشیمانی اور ان کی گوشمالی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ یہ ہے جزاء ان کی سرکشی ‘ روگردانی اور تکذیب وافتراء کی ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (وَ ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بالْحَقِّ ) (اور ہمارا رب وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ یعنی بالکل ٹھیک طریقے پر پیدا فرمایا) (وَ یَوْمَ یَقُوْلُ کُنْ فَیَکُوْنُ ) ( اور جس دن اللہ تعالیٰ فرما دے گا کہ ہوجا بس ہوجائے گا) یعنی قیامت کے دن کا حشر و نشر، کچھ بھی مستبعد نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا کن فرما دینا ہی اس کے وجود میں آجانے کے لیے کافی ہے۔ (قَوْلُہُ الْحَقُّ ) (اس کا فرما دینا حق ہے) (وَ لَہُ الْمُلْکُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ ) ( اور جس دن صور پھونکا جائے گا ساری حکومت اسی کی ہوگی) کوئی بھی مجازی با اختیار باقی نہ رہے گا۔ (عٰلِمُ الْغِیْبِ وَ الشَّھَادَۃِ ) (وہ جاننے والا ہے پوشیدہ چیزوں کا اور ظاہری چیزوں گا) (وَ ھُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ ) (اور وہ حکمت والا، خبر رکھنے والا ہے) وہ حکمت کے مطابق اور اپنے علم کے مطابق جزا وسزا دے گا۔ اور صور پھونکے جانے میں تاخیر ہونا اس کی حکمت کے مطابق ہے۔ جب اس کی حکمت کا تقاضا ہوگا صور پھونکنے کا حکم فرما دے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

78 یہ توحید پر دسویں عقلی دلیل ہے بالحق میں با بمعنی لام ہے یا الحق سے پہلے مضاف محذوف ہے ای لاظھار الحق یعنی یہ زمین و آسمان اور یہ سارا جہاں حق اور توحید کو ظاہر کرنے کے لیے اللہ ہی نے پیدا کیا ہے اور اس کی قدرت کا کیا ٹھکانا جب وہ کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ چیز فوراً وجود میں آجاتی ہے قولہ الحق اسی کی بات سچی اور مبنی بر حقیقت ہے لہ الملک الخ قیامت کے دن اسی کی حکومت ہوگی اور اس کے سوا مجازی طور پر بھی کسی کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ عٰلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّھَادۃِ غیب و شہادت کا کلی علم بھی اسی ہی کو ہے اور کسی کو نہیں ماقبل اور مابعد کے قرینے سے یہاں بھی حصر مراد ہے۔ اس عقلی دلیل سے ثابت ہوگیا کہ کارساز و متصرف اور غیب دان صرف اللہ ہی ہے اور کوئی نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

73 اور اللہ تعالیٰ کی وہ ذات ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو کمال حکمت کے ساتھ ٹھیک ٹھیک بنایا اور جس دن اللہ تعالیٰ نے حشر کو فرمائے گا کہ ہوجا اس کے اتنا فرماتے ہی حشر برپا ہوجائے گا اس کا فرمانا حق ہے جس دن صور پھونکا جائے گا اس دن صرف اسی کی بادشاہت ہوگی وہ پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے اور وہی ہے بڑی حکمت والا اور پورے خبر رکھنے والا ۔