Commentary Mentioned in the previous verses was the debate Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) had held with his father, &Azar, and with his entire Nimrudic people. There, after having conclusively refuted their worship of idols and stars, he had addressed his people by telling them in effect: You threaten me that your idols will destroy me if I refuse to accept their authority, although these idols do not have the power to do so, nor have I done anything as a result of which I may be hit by some hardship. In fact, it is you who should be trembling in fear for you have committed a crime as terrible as equating with Him the creations of Allah, rather the objects made and prepared by His creation even giv¬ing them a share in His divinity. Then, the fact that Allah Ta` ala is All-Knowing, All-Aware and All-Powerful is not hidden from any sensible person. This calls for some thinking on your part. So, think and say who deserves to be in peace and who it is who should be fearing? In the first (82) of the present verses, it was said that only those who believe in Allah and then do not go on to mix up their faith with injustice shall be the people who can hope to be safe against punishment. It appears in Hadith, when this verse was revealed, the noble Sahabah were frightened. They said: Ya Rasul Allah, who among us has not been unjust to himself by committing one or the other sin? Now, in this verse, the only condition of remaining safe from punish¬ment is that one should have done no injustice to himself while in the state of Im an. If so, how can we ever achieve salvation? The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: You have not understood the correct mean¬ing of the verse. Here, ` Zulm& (injustice) means ` Shirk& (ascribing of partners to Allah) as said in another verse: إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (Joining oth¬ers in the worship of Allah is a great injustice - 31:13). Therefore, the sense of the verse is that one, who enters (the bliss of) Iman and then does not associate anyone with the Being and the Attributes of Allah Ta` ala, shall remain safe from punishment, and considered well guided. In brief, those who worship idols, rocks, trees, rivers and stars do so because they, out of bland simplicity, take them to be the holders and wielders of power. So, they are scared of the idea of forsaking their worship lest these objects were to hurt them in some way. Sayy-idna Ibrahim (علیہ السلام) gave such people a smart key to their problem when he asked them to fear Almighty Allah who knew all they do and had power over whatever good or bad reaches them - and not commit the folly of fearing things which have neither knowledge nor power. This fear is absolutely unreasonable. One must fear Allah alone - and whoever believes in it is out of all danger. Said in this verse وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ (And those who have not mixed their faith with injustice). Here, ` Zulm& as explained by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) means Shirk (ascribing partners in the divinity of Allah) - not sin in an ordinary sense. But, by bringing in: بِظُلم (bi zul¬min) as indefinite noun (Nakirah), a device supported by the rules of the Arabic grammar, the sense was made general which includes all kinds of Shirk. As for the word: لَمْ يَلْبِسُوا (lam yalbisu), it has been de-rived from: لَبَسَ (labasa) which means to wear, cover or mix. Thus, the verse comes to mean that a person who mixes some sort of Shirk in his or her Iman, that is, one who, despite believing in Allah Ta` ala along with all His attributes of perfection, takes non-Allah too as bearing some of those attributes, shall be considered excluded from the guar¬antee of peace and faith given here. We also come to know from this verse that Shirk is not restricted to becoming a Mushrik or idolater. In fact, also Mushrik is a person who does not worship idols in the customary sense, but recites the Kalimah of Islam, yet takes some angel or messenger or waliy or ‘saint’ of Allah as partners or sharers in some exclusive attributes of Allah. This verse carries a stern warning for those who take the Aulia& of Allah (The Men of Allah) and their Mazars (resting places, tombs) as capable of answering their prayers and granting their needs, and go as far as believing practically as if the Divine powers have been delegated to them. Refuge with Allah!
خلاصہ تفسیر جو لوگ (اللہ پر) ایمان رکھتے ہیں اور اپنے (اس) ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے، ایسوں ہی کے لئے (قیامت میں) امن ہے اور وہی (دنیا میں) راہ (راست) پر چل رہے ہیں (اور وہ صرف موحدین ہیں بخلاف مشرکین کے کہ گو بالمعنی اللغوی خدا پر ایمان رکھتے ہیں کیونکہ خدا کے قائل ہیں، لیکن شرک بھی کرتے ہیں جس سے ایمان شرعی منفی ہوجاتا ہے، جب موحدین قابل امن ہیں سو اس صورت میں خود تم ڈرو نہ کہ مجھ کو ڈراتے رہو، حالانکہ نہ تمہارے آلہہ ڈرنے کے قابل نہ میں نے کوئی کام ڈر کا کیا اور نہ دنیا کا خوف قابل اعتبار، اور تمہاری حالت تینوں اعتبار سے محل خوف ہے) اور یہ (حجت جو ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید پر قائم کی تھی) ہماری (دی ہوئی) حجت تھی وہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی قوم کے مقابلہ میں دی تھی (جب ہماری دی ہوئی تھی تو یقینا اعلیٰ درجہ کی تھی اور ابراہیم (علیہ السلام) کی کیا تخصیص ہے) ہم (تو) جس کو چاہتے ہیں (علمی و عملی) مرتبوں میں بڑھا دیتے ہیں (چنانچہ سب انبیاء کو یہ رفعت درجات عطا فرمائی) بیشک آپ کا رب بڑے علم والا بڑی حکمت والا ہے (کہ ہر ایک کا حال اور استعداد جانتا ہے اور ہر ایک کے مناسب اس کو کمال عطا فرماتا ہے) اور (ہم نے جیسا ابراہیم (علیہ السلام) کو کمال ذاتی علم و عمل دیا، اسی طرح کمال اضافی بھی دیا کہ ان کے اصول اور فروع سے بہتوں کو کمال دیا چنانچہ) ہم نے ان کو ( ایک بیٹا) اسحاق دیا اور (ایک پوتا) یعقوب (دیا اور اس سے دوسری اولاد کی نفی نہیں ہوتی اور دونوں صاحبوں میں سے) ہر ایک کو (طریقِ حق کی) ہم نے ہدایت کی، اور (ابراہیم سے) پہلے زمانہ میں ہم نے نوح (علیہ السلام) کو (جن کا ابراہیم (علیہ السلام) کے اجداد میں ہونا مشہور ہے اور اصل کی فضیلت فرع میں بھی مؤ ثر ہوتی ہے طریق حق کی) ہدایت کی اور ان (ابراہیم علیہ السلام) کی اولاد (لغوی یا عرفی یا شرعی) میں سے (اخیر تک جتنے مذکور ہیں سب کو طریق حق کی ہدایت کی یعنی) داؤد (علیہ السلام) کو اور (ان کے صاحبزادہ) سلیمان (علیہ السلام) کو اور ایوب (علیہ السلام) کو اور یوسف (علیہ السلام) کو اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ہارون (علیہ السلام) کو (طریقِ حق کی ہدایت کی) اور (جب یہ ہدایت پر چلے تو ہم نے ان کو جزائے خیر بھی دی مثل ثواب و زیادہ قرب کے اور جس طرح نیک کاموں پر ان کو جزاء دی) اسی طرح (ہماری عادت ہے کہ) ہم نیک کام کرنے والوں کو (مناسب) جزاء دیا کرتے ہیں اور نیز (ہم نے طریق حق کی ہدایت کی) زکریا (علیہ السلام) کو اور (ان کے صاحبزادہ) یحییٰ (علیہ السلام) کو اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور الیاس (علیہ السلام) کو (اور یہ) سب (حضرات) پورے شائستہ لوگوں میں تھے اور نیز (ہم نے طریق حق کی ہدایت کی) اسماعیل (علیہ السلام) کو اور یسع (علیہ السلام) کو اور یونس (علیہ السلام) کو اور لوط (علیہ السلام) کو اور (ان میں سے) ہر ایک کو (ان زمانوں کے) تمام جہان والوں پر (نبوت سے) ہم نے فضیلت دی اور نیز ان (حضرات مذکورین) کے کچھ باپ داداوں کو اور کچھ اولاد کو اور کچھ بھائیوں کو، (طریقِ حق کی ہم نے ہدایت کی) اور ہم نے ان (سب) کو راہ راست (یعنی دین حق) کی ہدایت کی (اور وہ دین جس کی ان سب کو ہدایت ہوئی تھی) اللہ کی (جانب سے جو) ہدایت (ہوتی ہے) وہ یہی (دین) ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس کی ہدایت (یعنی منزل پر پہنچانے کی صورت میں) کرتا ہے (چنانچہ اب جو لوگ موجود ہیں ان کو بھی اسی کی ہدایت اس معنی سے ہوئی کہ ان کو صحیح راستہ دکھا دیا، پھر منزل پر پہنچانا نہ پہنچنا ان کا کام ہے، مگر ان میں سے بعض نے اس کو چھوڑ کر شرک اختیار کرلیا) اور (شرک اس قدر ناپسند چیز ہے کہ غیر انبیاء تو کس شمار میں ہیں) اگر فرضاً یہ حضرات (انبیاء مذکورین) بھی (نعوذ باللہ) شرک کرتے تو جو کچھ یہ (نیک) اعمال کیا کرتے تھے ان میں سب اکارت ہوجاتے (آگے مسئلہ نبوت کی طرف اشارہ ہے کہ) یہ (جتنے مذکور ہوئے) ایسے تھے کہ ہم نے ان (کے مجموعہ) کو کتاب (آسمانی) اور حکمت (کے علوم) اور نبوت عطاء کی تھی (تو نبوت امر عجیب نہیں جو یہ کافر لوگ آپ کے منکر ہو رہے ہیں، کیونکہ نظائر موجود ہیں) سو اگر (نظیر موجود ہونے پر بھی) یہ لوگ (آپ کی) نبوت کا انکار کریں تو (آپ غم نہ کیجئے کیونکہ) ہم نے اس کے (ماننے کے) لئے ایسے بہت لوگ مقرر کر دئیے ہیں (یعنی مہاجرین و انصار) جو اس کے منکر نہیں ہیں۔ معارف و مسائل آیات مذکورہ سے پہلی آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مناظرہ اپنے باپ آزر اور پوری قوم نمرود کے ساتھ مذکور تھا، جس میں ان کی بت پرستی اور نجوم پرستی کے خلاف یقینی شہادتیں پیش کرنے کے بعد آیات مذکورہ میں اپنی قوم کو خطاب فرمایا کہ تم مجھے اپنے بتوں سے ڈراتے ہو کہ میں ان کا انکار کروں گا تو یہ مجھے برباد کردیں گے، حالانکہ نہ بتوں میں اس کی قدر ہے اور نہ میں نے کوئی کام ایسا کیا ہے جس کے نتیجہ میں مجھے کوئی مصیبت پہنچے، بلکہ ڈرنا تمہیں چاہئے کہ تم نے جرم بھی ایسا سخت کیا ہے کہ اللہ کی مخلوق بلکہ مخلوق کی مصنوعات کو خدا کا شریک اور برابر کردیا، اور پھر خدا تعالیٰ کا علیم وخبیر اور قادر مطلق ہونا بھی کسی عقل والے سے مخفی نہیں تو اب تم خود سوچ کر بتلاؤ کہ امن اور اطمینان کا مستحق کون ہے، اور ڈرنا کسی کو چاہئے ؟ ان آیات میں سے پہلی آیت میں یہ مضمون ارشاد فرمایا کہ عذاب سے مامون و مطمئن صرف وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اللہ پر ایمان لائیں، اور پھر اپنے ایمان میں کسی ظلم کی ملاوٹ نہ کریں، حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام سہم گئے، اور عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے کوئی ظلم اپنی جان پر بذریعہ گناہ کے نہیں کیا، اور اس آیت میں عذاب سے مامون ہونے کی یہ شرط ہے کہ ایمان کے ساتھ کوئی ظلم نہ کیا ہو، تو پھر ہماری نجات کی کیا سبیل ہے ؟ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم آیت کا صحیح مفہوم نہیں سمجھتے، آیت میں ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت میں ارشاد ہے : (آیت) ان الشرک لظلم عظیم، اس لئے مراد آیت کی یہ ہے کہ جو شخص ایمان لائے اور پھر اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے وہ عذاب سے مامون اور ہدایت یافتہ ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ بتوں، پتھروں، درختوں، ستاروں، دریاؤں کو پوجنے والی مخلوق اپنی بیوقوفی سے ان چیزوں کو بااختیار سمجھتی ہے، اور ان کی عبادت چھوڑنے سے اس لئے ڈرتی ہے کہ کہیں یہ چیزیں ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچا دیں، حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰة والسلام نے گُر کی بات ان کو بتلائی کہ خدائے قدوس جو تمہارے ہر کام سے باخبر بھی ہے اور تمہارے ہر بھلے برے پر پوری طرح قادر بھی ہے اس سے تو تم ڈرتے نہیں کہ اس کی خلاف ورزی کرنے سے کوئی مصیبت آجائے اور جن چیزوں میں نہ علم ہے نہ قدرت اس سے ایسے ڈرتے ہو ؟ یہ سوائے بےعقلی کے اور کیا ہے، ڈرنا صرف اللہ تعالیٰ سے چاہئے، اور جس کا اس پر ایمان ہو وہ کسی خطرہ میں نہیں۔ اس آیت میں وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ فرمایا ہے، اس میں ظلم سے تو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصریح کے موافق شرک مراد ہے، عام گناہ مراد نہیں، لیکن لفظ بظلم کو نکرہ لا کر عربی زبان کے قواعد کے مطابق عام کردیا جو ہر قسم کے شرک کو شامل ہے، اور لفظ لم یلبسوا لبس سے بنا ہے جس کے ایک معنی ہیں اوڑہنا یا خلط ملط کردینا۔ اور مراد آیت کی یہ ہے کہ جو آدمی اپنے ایمان میں کسی قسم کا شرک ملا دے یعنی خدا تعالیٰ کو تمام صفات کمال کے ساتھ ماننے کے باوجود غیر اللہ کو بھی ان میں سے بعض صفات کا حامل سمجھے وہ اس امن و ایمان سے خارج ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ شرک صرف یہی نہیں کہ کھلے طور پر مشرک و بت پرست ہوجائے، بلکہ وہ آدمی بھی مشرک ہے جو اگرچہ کسی بت کی پوجا پاٹ نہیں کرتا اور کلمہ اسلام پڑھتا ہے، مگر کسی فرشتہ یا رسول یا کسی ولی اللہ کو اللہ کی بعض صفات خاصہ کا شریک ٹھہرائے اس میں ان عوام کے لئے سخت تنبیہ ہے جو اولیاء اللہ اور ان کے مزار کو حاجت روا سمجھتے ہیں اور عملاً ان کو ایسا سمجھتے ہیں کہ گویا خدائی کے اختیارات ان کے حوالے کردیئے گئے ہیں، نعوذ باللہ منہ۔