Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 82

سورة الأنعام

اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمۡ یَلۡبِسُوۡۤا اِیۡمَانَہُمۡ بِظُلۡمٍ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الۡاَمۡنُ وَ ہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿٪۸۲﴾  15

They who believe and do not mix their belief with injustice - those will have security, and they are [rightly] guided.

جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے ایسوں ہی کے لئے امن ہے اور وہی راہ راست پر چل رہے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

It is those who believe and confuse not their belief with Zulm (wrong), for them (only) there is security and they are the guided. Therefore, those who worship Allah alone without partners, will acquire safety on the Day of Resurrection, and they are the guided ones in this life and the Hereafter. Shirk is the Greatest Zulm (Wrong) Al-Bukhari recorded that Abdullah said, "When the Ayah, وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ (and confuse not their belief with Zulm (wrong)) was revealed, the Companions of the Prophet said, `And who among us did not commit Zulm against himself?' The Ayah, إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (Verily! Joining others in worship with Allah is a great Zulm (wrong) indeed) (31:13), was later revealed." Imam Ahmad recorded that Abdullah said, "When this Ayah was revealed, الَّذِينَ امَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ (It is those who believe and confuse not their belief with Zulm (wrong)), it was hard on the people. They said, `O Allah's Messenger! Who among us did not commit Zulm against himself?' He said, إِنَّهُ لَيْسَ الَّذِي تَعْنُونَ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ It is not what you understood from it. Did you not hear what the righteous servant (Luqman) said, يَا بُنَيَّ لاَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (O my son! Join not in worship others with Allah. Verily! Shirk is a great Zulm (wrong) indeed). (31:13), Therefore, it is about Shirk. Allah's statement,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

82۔ 1 آیت میں یہاں ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ ترجمہ سے واضح ہے حدیث میں آتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام ظلم کا عام مطلب (کوتاہی اور غلطی، گناہ اور زیادتی وغیرہ) سمجھا، جس سے وہ پریشان ہوگئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آکر کہنے لگے، ہم میں سے کون شخص ایسا ہے جس نے ظلم نہ کیا ہو، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ' اس ظلم سے مراد وہ ظلم نہیں جو تم سمجھ رہے ہو بلکہ اس سے مراد شرک ہے جس طرح حضرت لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو کہا ( اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) 31 ۔ لقمان :13) یقینا شرک ظلم عظیم ہے (صحیح بخاری) ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٥] ظلم معنی شرک :۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ پر بہت گراں گزری (کیونکہ انہوں نے ظلم کو اس کے عام معنوں، معصیت یا زیادتی پر محمول کیا تھا) اور رسول اللہ سے عرض کیا کہ ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے کبھی ظلم نہ کیا ہو ؟ آپ نے انہیں بتایا کہ یہاں ظلم کا لفظ اپنے خاص معنوں یعنی شرک کے معنی میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ سورة لقمان میں آیا ہے کہ لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیٹا کبھی شرک نہ کرنا کیونکہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر، نیز کتاب الایمان باب ظلم دون ظلم نیز کتاب الانبیائ۔ باب قول اللہ تعالیٰ واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا ) [ منکرین حدیث اور اہل قرآن کا ردّ :۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام (رض) کی زبان بھی اگرچہ عربی زبان تھی اور قرآن بھی عربی زبان میں نازل ہوا تھا۔ تاہم بعض دفعہ انہیں آیت کا صحیح مفہوم سمجھنے میں دشواری پیش آجاتی تھی۔ اور یہی مطلب ہے (وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيْهِمْ ١٢٩؀ ) 2 ۔ البقرة :129) کا۔ مگر مسلمانوں میں سے ہی بعض لوگ ایسے ہیں جو حدیث رسول اللہ سے بےنیاز ہو کر محض لغت کی مدد سے قرآن کا مفہوم متعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں اپنے اس نظریہ کا انجام سوچ لینا چاہیے اس آیت کے متعلق دو اقوال ہیں ایک یہ کہ یہ جملہ بھی سیدنا ابراہیم کا ہی قول ہے اور ان کی اس بحث کا حصہ ہے جو وہ اپنی قوم سے کر رہے تھے۔ کیونکہ اس سے پہلی آیت میں بھی امن و سلامتی کا ذکر ہے اور اس آیت میں بھی۔ اور یہ امن و سلامتی صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو شرک سے اجتناب کرتے ہیں اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا قول ہے جو ایک حقیقت کے طور پر یہاں سیدنا ابراہیم کے قصہ کے درمیان بیان کردیا گیا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا۔۔ : یہ آیت اللہ تعالیٰ کا ارشاد بھی ہوسکتا ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کو مکمل کرنے والا حصہ بھی۔ تنوین اکثر تنکیر کے لیے ہوتی ہے، اس سے لفظ عام ہوجاتا ہے اور اس کا ہر فرد اس میں شامل ہوجاتا ہے، جیسے اس آیت میں مذکور ” بِظُلْمٍ “ کی تنوین کو تنکیر کے لیے لیں تو معنی ہوگا : ” وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو کسی ظلم کے ساتھ نہیں ملایا “ اور بعض اوقات وہ دوسرے معانی کے لیے بھی ہوتی ہے، جن میں سے ایک معنی تعظیم بھی ہے، جس سے اس لفظ کا بڑا فرد مراد ہوتا ہے۔ جیسے اسی آیت میں ” بِظُلْمٍ “ کی تنوین کو تعظیم کے معنی میں لیا جائے تو مطلب ہوگا : ” وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو بہت بڑے ظلم کے ساتھ نہیں ملایا۔ “ عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری : (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ ) [ الأنعام : ٨٢ ] تو صحابہ کرام (رض) پر اس آیت کا مضمون شاق گزرا۔ انھوں نے عرض کیا : ” ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے نفس پر ( کوئی) ظلم ( یعنی گناہ ) نہیں کیا ؟ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جو تم سمجھ رہے ہو وہ بات نہیں، کیا تم نے لقمان کا قول نہیں سنا، جو وہ اپنے بیٹے سے کہہ رہے تھے : (ڼ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) [ لقمان : ١٣ ] ” یقیناً شرک ظلم عظیم ہے۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب : ( اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ ) : ٤٦٢٩۔ مسلم : ١٢٤ ] آپ دیکھیں کہ صحابہ کرام (رض) اہل زبان ہونے کے باوجود ” بِظُلْم “ کی تنوین کو تنکیر کے لیے سمجھ کر پریشان ہوگئے کہ کون ہے جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لقمان کا قول ذکر کر کے انھیں بتایا کہ یہ تنوین تعظیم کے لیے ہے، نہ کہ تنکیر کے لیے اور معنی یہ نہیں کہ کسی ظلم کے ساتھ نہیں ملایا، بلکہ معنی یہ ہے کہ بہت بڑے ظلم، یعنی شرک کے ساتھ نہیں ملایا۔ اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ قرآن سمجھنے کے لیے صرف عربی زبان جاننا کافی نہیں، کئی مقامات پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تفسیر بھی ضروری ہے، اس لیے قرآن کو حدیث کے بغیر سمجھنے کا دعویٰ کرنے والے واضح گمراہ ہیں۔ اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ امن و سکون اور ہدایت ایسے خالص ایمان ہی سے حاصل ہوسکتے ہیں جس میں توحید کے ساتھ کسی قسم کے شرک کی آمیزش نہ کی گئی ہو، جو قوم خالص ایمان اور خالص توحید سے محروم اور کسی بھی قسم کے شرک میں مبتلا ہو اسے کسی صورت امن و چین اور ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی۔ افسوس کہ مسلمانوں نے خالص توحید کو چھوڑا اور قبروں اور آستانوں کی پرستش شروع کردی (الا ما شاء اللہ) جس کے نتیجے میں پورا عالم اسلام ذلت و مسکنت کا نشانہ بن گیا۔ اب نہ کہیں امن ہے نہ ہدایت جو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے احکام کی حکمرانی کا نام ہے۔ اس کا علاج اس کے سوا کچھ نہیں کہ امت مسلمہ دوبارہ خالص توحید کی طرف پلٹے اور صرف اپنے رب کے آستانے پر جمی رہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Mentioned in the previous verses was the debate Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) had held with his father, &Azar, and with his entire Nimrudic people. There, after having conclusively refuted their worship of idols and stars, he had addressed his people by telling them in effect: You threaten me that your idols will destroy me if I refuse to accept their authority, although these idols do not have the power to do so, nor have I done anything as a result of which I may be hit by some hardship. In fact, it is you who should be trembling in fear for you have committed a crime as terrible as equating with Him the creations of Allah, rather the objects made and prepared by His creation even giv¬ing them a share in His divinity. Then, the fact that Allah Ta` ala is All-Knowing, All-Aware and All-Powerful is not hidden from any sensible person. This calls for some thinking on your part. So, think and say who deserves to be in peace and who it is who should be fearing? In the first (82) of the present verses, it was said that only those who believe in Allah and then do not go on to mix up their faith with injustice shall be the people who can hope to be safe against punishment. It appears in Hadith, when this verse was revealed, the noble Sahabah were frightened. They said: Ya Rasul Allah, who among us has not been unjust to himself by committing one or the other sin? Now, in this verse, the only condition of remaining safe from punish¬ment is that one should have done no injustice to himself while in the state of Im an. If so, how can we ever achieve salvation? The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: You have not understood the correct mean¬ing of the verse. Here, ` Zulm& (injustice) means ` Shirk& (ascribing of partners to Allah) as said in another verse: إِنَّ الشِّرْ‌كَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (Joining oth¬ers in the worship of Allah is a great injustice - 31:13). Therefore, the sense of the verse is that one, who enters (the bliss of) Iman and then does not associate anyone with the Being and the Attributes of Allah Ta` ala, shall remain safe from punishment, and considered well guided. In brief, those who worship idols, rocks, trees, rivers and stars do so because they, out of bland simplicity, take them to be the holders and wielders of power. So, they are scared of the idea of forsaking their worship lest these objects were to hurt them in some way. Sayy-idna Ibrahim (علیہ السلام) gave such people a smart key to their problem when he asked them to fear Almighty Allah who knew all they do and had power over whatever good or bad reaches them - and not commit the folly of fearing things which have neither knowledge nor power. This fear is absolutely unreasonable. One must fear Allah alone - and whoever believes in it is out of all danger. Said in this verse وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ (And those who have not mixed their faith with injustice). Here, ` Zulm& as explained by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) means Shirk (ascribing partners in the divinity of Allah) - not sin in an ordinary sense. But, by bringing in: بِظُلم (bi zul¬min) as indefinite noun (Nakirah), a device supported by the rules of the Arabic grammar, the sense was made general which includes all kinds of Shirk. As for the word: لَمْ يَلْبِسُوا (lam yalbisu), it has been de-rived from: لَبَسَ (labasa) which means to wear, cover or mix. Thus, the verse comes to mean that a person who mixes some sort of Shirk in his or her Iman, that is, one who, despite believing in Allah Ta` ala along with all His attributes of perfection, takes non-Allah too as bearing some of those attributes, shall be considered excluded from the guar¬antee of peace and faith given here. We also come to know from this verse that Shirk is not restricted to becoming a Mushrik or idolater. In fact, also Mushrik is a person who does not worship idols in the customary sense, but recites the Kalimah of Islam, yet takes some angel or messenger or waliy or ‘saint’ of Allah as partners or sharers in some exclusive attributes of Allah. This verse carries a stern warning for those who take the Aulia& of Allah (The Men of Allah) and their Mazars (resting places, tombs) as capable of answering their prayers and granting their needs, and go as far as believing practically as if the Divine powers have been delegated to them. Refuge with Allah!

خلاصہ تفسیر جو لوگ (اللہ پر) ایمان رکھتے ہیں اور اپنے (اس) ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے، ایسوں ہی کے لئے (قیامت میں) امن ہے اور وہی (دنیا میں) راہ (راست) پر چل رہے ہیں (اور وہ صرف موحدین ہیں بخلاف مشرکین کے کہ گو بالمعنی اللغوی خدا پر ایمان رکھتے ہیں کیونکہ خدا کے قائل ہیں، لیکن شرک بھی کرتے ہیں جس سے ایمان شرعی منفی ہوجاتا ہے، جب موحدین قابل امن ہیں سو اس صورت میں خود تم ڈرو نہ کہ مجھ کو ڈراتے رہو، حالانکہ نہ تمہارے آلہہ ڈرنے کے قابل نہ میں نے کوئی کام ڈر کا کیا اور نہ دنیا کا خوف قابل اعتبار، اور تمہاری حالت تینوں اعتبار سے محل خوف ہے) اور یہ (حجت جو ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید پر قائم کی تھی) ہماری (دی ہوئی) حجت تھی وہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی قوم کے مقابلہ میں دی تھی (جب ہماری دی ہوئی تھی تو یقینا اعلیٰ درجہ کی تھی اور ابراہیم (علیہ السلام) کی کیا تخصیص ہے) ہم (تو) جس کو چاہتے ہیں (علمی و عملی) مرتبوں میں بڑھا دیتے ہیں (چنانچہ سب انبیاء کو یہ رفعت درجات عطا فرمائی) بیشک آپ کا رب بڑے علم والا بڑی حکمت والا ہے (کہ ہر ایک کا حال اور استعداد جانتا ہے اور ہر ایک کے مناسب اس کو کمال عطا فرماتا ہے) اور (ہم نے جیسا ابراہیم (علیہ السلام) کو کمال ذاتی علم و عمل دیا، اسی طرح کمال اضافی بھی دیا کہ ان کے اصول اور فروع سے بہتوں کو کمال دیا چنانچہ) ہم نے ان کو ( ایک بیٹا) اسحاق دیا اور (ایک پوتا) یعقوب (دیا اور اس سے دوسری اولاد کی نفی نہیں ہوتی اور دونوں صاحبوں میں سے) ہر ایک کو (طریقِ حق کی) ہم نے ہدایت کی، اور (ابراہیم سے) پہلے زمانہ میں ہم نے نوح (علیہ السلام) کو (جن کا ابراہیم (علیہ السلام) کے اجداد میں ہونا مشہور ہے اور اصل کی فضیلت فرع میں بھی مؤ ثر ہوتی ہے طریق حق کی) ہدایت کی اور ان (ابراہیم علیہ السلام) کی اولاد (لغوی یا عرفی یا شرعی) میں سے (اخیر تک جتنے مذکور ہیں سب کو طریق حق کی ہدایت کی یعنی) داؤد (علیہ السلام) کو اور (ان کے صاحبزادہ) سلیمان (علیہ السلام) کو اور ایوب (علیہ السلام) کو اور یوسف (علیہ السلام) کو اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ہارون (علیہ السلام) کو (طریقِ حق کی ہدایت کی) اور (جب یہ ہدایت پر چلے تو ہم نے ان کو جزائے خیر بھی دی مثل ثواب و زیادہ قرب کے اور جس طرح نیک کاموں پر ان کو جزاء دی) اسی طرح (ہماری عادت ہے کہ) ہم نیک کام کرنے والوں کو (مناسب) جزاء دیا کرتے ہیں اور نیز (ہم نے طریق حق کی ہدایت کی) زکریا (علیہ السلام) کو اور (ان کے صاحبزادہ) یحییٰ (علیہ السلام) کو اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور الیاس (علیہ السلام) کو (اور یہ) سب (حضرات) پورے شائستہ لوگوں میں تھے اور نیز (ہم نے طریق حق کی ہدایت کی) اسماعیل (علیہ السلام) کو اور یسع (علیہ السلام) کو اور یونس (علیہ السلام) کو اور لوط (علیہ السلام) کو اور (ان میں سے) ہر ایک کو (ان زمانوں کے) تمام جہان والوں پر (نبوت سے) ہم نے فضیلت دی اور نیز ان (حضرات مذکورین) کے کچھ باپ داداوں کو اور کچھ اولاد کو اور کچھ بھائیوں کو، (طریقِ حق کی ہم نے ہدایت کی) اور ہم نے ان (سب) کو راہ راست (یعنی دین حق) کی ہدایت کی (اور وہ دین جس کی ان سب کو ہدایت ہوئی تھی) اللہ کی (جانب سے جو) ہدایت (ہوتی ہے) وہ یہی (دین) ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس کی ہدایت (یعنی منزل پر پہنچانے کی صورت میں) کرتا ہے (چنانچہ اب جو لوگ موجود ہیں ان کو بھی اسی کی ہدایت اس معنی سے ہوئی کہ ان کو صحیح راستہ دکھا دیا، پھر منزل پر پہنچانا نہ پہنچنا ان کا کام ہے، مگر ان میں سے بعض نے اس کو چھوڑ کر شرک اختیار کرلیا) اور (شرک اس قدر ناپسند چیز ہے کہ غیر انبیاء تو کس شمار میں ہیں) اگر فرضاً یہ حضرات (انبیاء مذکورین) بھی (نعوذ باللہ) شرک کرتے تو جو کچھ یہ (نیک) اعمال کیا کرتے تھے ان میں سب اکارت ہوجاتے (آگے مسئلہ نبوت کی طرف اشارہ ہے کہ) یہ (جتنے مذکور ہوئے) ایسے تھے کہ ہم نے ان (کے مجموعہ) کو کتاب (آسمانی) اور حکمت (کے علوم) اور نبوت عطاء کی تھی (تو نبوت امر عجیب نہیں جو یہ کافر لوگ آپ کے منکر ہو رہے ہیں، کیونکہ نظائر موجود ہیں) سو اگر (نظیر موجود ہونے پر بھی) یہ لوگ (آپ کی) نبوت کا انکار کریں تو (آپ غم نہ کیجئے کیونکہ) ہم نے اس کے (ماننے کے) لئے ایسے بہت لوگ مقرر کر دئیے ہیں (یعنی مہاجرین و انصار) جو اس کے منکر نہیں ہیں۔ معارف و مسائل آیات مذکورہ سے پہلی آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مناظرہ اپنے باپ آزر اور پوری قوم نمرود کے ساتھ مذکور تھا، جس میں ان کی بت پرستی اور نجوم پرستی کے خلاف یقینی شہادتیں پیش کرنے کے بعد آیات مذکورہ میں اپنی قوم کو خطاب فرمایا کہ تم مجھے اپنے بتوں سے ڈراتے ہو کہ میں ان کا انکار کروں گا تو یہ مجھے برباد کردیں گے، حالانکہ نہ بتوں میں اس کی قدر ہے اور نہ میں نے کوئی کام ایسا کیا ہے جس کے نتیجہ میں مجھے کوئی مصیبت پہنچے، بلکہ ڈرنا تمہیں چاہئے کہ تم نے جرم بھی ایسا سخت کیا ہے کہ اللہ کی مخلوق بلکہ مخلوق کی مصنوعات کو خدا کا شریک اور برابر کردیا، اور پھر خدا تعالیٰ کا علیم وخبیر اور قادر مطلق ہونا بھی کسی عقل والے سے مخفی نہیں تو اب تم خود سوچ کر بتلاؤ کہ امن اور اطمینان کا مستحق کون ہے، اور ڈرنا کسی کو چاہئے ؟ ان آیات میں سے پہلی آیت میں یہ مضمون ارشاد فرمایا کہ عذاب سے مامون و مطمئن صرف وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اللہ پر ایمان لائیں، اور پھر اپنے ایمان میں کسی ظلم کی ملاوٹ نہ کریں، حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام سہم گئے، اور عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے کوئی ظلم اپنی جان پر بذریعہ گناہ کے نہیں کیا، اور اس آیت میں عذاب سے مامون ہونے کی یہ شرط ہے کہ ایمان کے ساتھ کوئی ظلم نہ کیا ہو، تو پھر ہماری نجات کی کیا سبیل ہے ؟ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم آیت کا صحیح مفہوم نہیں سمجھتے، آیت میں ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت میں ارشاد ہے : (آیت) ان الشرک لظلم عظیم، اس لئے مراد آیت کی یہ ہے کہ جو شخص ایمان لائے اور پھر اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے وہ عذاب سے مامون اور ہدایت یافتہ ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ بتوں، پتھروں، درختوں، ستاروں، دریاؤں کو پوجنے والی مخلوق اپنی بیوقوفی سے ان چیزوں کو بااختیار سمجھتی ہے، اور ان کی عبادت چھوڑنے سے اس لئے ڈرتی ہے کہ کہیں یہ چیزیں ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچا دیں، حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰة والسلام نے گُر کی بات ان کو بتلائی کہ خدائے قدوس جو تمہارے ہر کام سے باخبر بھی ہے اور تمہارے ہر بھلے برے پر پوری طرح قادر بھی ہے اس سے تو تم ڈرتے نہیں کہ اس کی خلاف ورزی کرنے سے کوئی مصیبت آجائے اور جن چیزوں میں نہ علم ہے نہ قدرت اس سے ایسے ڈرتے ہو ؟ یہ سوائے بےعقلی کے اور کیا ہے، ڈرنا صرف اللہ تعالیٰ سے چاہئے، اور جس کا اس پر ایمان ہو وہ کسی خطرہ میں نہیں۔ اس آیت میں وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ فرمایا ہے، اس میں ظلم سے تو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصریح کے موافق شرک مراد ہے، عام گناہ مراد نہیں، لیکن لفظ بظلم کو نکرہ لا کر عربی زبان کے قواعد کے مطابق عام کردیا جو ہر قسم کے شرک کو شامل ہے، اور لفظ لم یلبسوا لبس سے بنا ہے جس کے ایک معنی ہیں اوڑہنا یا خلط ملط کردینا۔ اور مراد آیت کی یہ ہے کہ جو آدمی اپنے ایمان میں کسی قسم کا شرک ملا دے یعنی خدا تعالیٰ کو تمام صفات کمال کے ساتھ ماننے کے باوجود غیر اللہ کو بھی ان میں سے بعض صفات کا حامل سمجھے وہ اس امن و ایمان سے خارج ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ شرک صرف یہی نہیں کہ کھلے طور پر مشرک و بت پرست ہوجائے، بلکہ وہ آدمی بھی مشرک ہے جو اگرچہ کسی بت کی پوجا پاٹ نہیں کرتا اور کلمہ اسلام پڑھتا ہے، مگر کسی فرشتہ یا رسول یا کسی ولی اللہ کو اللہ کی بعض صفات خاصہ کا شریک ٹھہرائے اس میں ان عوام کے لئے سخت تنبیہ ہے جو اولیاء اللہ اور ان کے مزار کو حاجت روا سمجھتے ہیں اور عملاً ان کو ایسا سمجھتے ہیں کہ گویا خدائی کے اختیارات ان کے حوالے کردیئے گئے ہیں، نعوذ باللہ منہ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَ۝ ٨٢ۧ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی سب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اهْتِدَاءُ يختصّ بما يتحرّاه الإنسان علی طریق الاختیار، إمّا في الأمور الدّنيويّة، أو الأخرويّة قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] ، وقال : إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ لا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا[ النساء/ 98] ويقال ذلک لطلب الهداية نحو : وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 53] ، الاھتداء ( ہدایت پانا ) کا لفظ خاص کر اس ہدایت پر بولا جاتا ہے جو دینوی یا اخروی کے متعلق انسان اپنے اختیار سے حاصل کرتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور در یاؤ کے اندھیروں میں ان سے رستہ معلوم کرو

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٢) اگر خبر رکھتے ہو تو بتلاؤ مگر وہ کچھ بھی نہ بتلا سکے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف سے امن والی جماعت کو بیان فرما دیا کہ جو اپنے ایمان کو شرک ونفاق کے ساتھ نہیں ملاتا، وہ ہی اپنے معبود کی جانب سے امن والے ہیں، یا وہی لوگ قیامت کے دن امن والے ہوں گے اور ان ہی کو صحیح محبت کی طرف رہنمائی حاصل ہوگی۔ شان نزول : (آیت) ” الذین امنوا ولم “۔ (الخ) اب ابی حاتم (رح) نے بواسطہ عبداللہ بن زجر، بکربن سوادہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ دشمنوں کے ایک شخص نے مسلمانوں پر حملہ کیا اور ان میں سے ایک کو شہید کردیا اور پھر دوبارہ حملہ کرکے دوسرے کو شہید کردیا اور تیسری مرتبہ حملہ کیا تو تیسرے شخص کو بھی شہید کردیا، اس کے بعد وہ کہنے لگا کہ ان افعال کے بعد اب کیا ایمان مجھے سود مند ہوگا، رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، ہاں فائدہ دے گا تو اس نے اپنے گھوڑے کو مار ڈالا اور اس کے بعد اپنے ساتھیوں پر حملہ کرکے یکے بعد دیگرے تین آدمیوں کو ہلاک کردیا اور پھر خود بھی شہید ہوگئے راوی کہتے ہیں، سب کا یہی خیال ہے کہ یہ آیت ان ہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٢ (اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ ) یہاں لفظ ظلم قابل توجہ ہے۔ ظلم کسی چھوٹے گناہ کو بھی کہہ سکتے ہیں۔ اسی لیے اس لفظ پر صحابہ کرام (رض) گھبرا گئے تھے کہ حضور کون شخص ہوگا جس نے کبھی کوئی ظلم نہ کیا ہو ؟ اور نہیں تو انسان اپنے اوپر تو کسی نہ کسی حد تک ظلم کرتا ہی ہے۔ گویا اس کا تو مطلب یہ ہوا کہ کوئی شخص بھی اس شرط پر پورا نہیں اتر سکتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ نہیں ‘ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے ‘ اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة لقمان کی وہ آیت تلاوت فرمائی جس میں شرک کو ظلم عظیم قرار دیا گیا ہے : (وَاِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لابْنِہٖ وَہُوَ یَعِظُہٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِکْ باللّٰہِط اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ۔ ) ۔ چناچہ یہاں پر (لَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ ) کا مفہوم یہ ہے کہ ایمان ایسا ہو جو شرک کی ہر آلودگی سے پاک ہو۔ لیکن شرک کا پہچاننا آسان نہیں ‘ یہ طرح طرح کے بھیس بدلتا رہتا ہے۔ شرک کیا ہے اور شرک کی قسمیں کون کون سی ہیں اور یہ زمانے اور حالات کے مطابق کیسے کیسے بھیس بدلتا رہتا ہے ‘ یہ سب کچھ جاننا ایک مسلمان کے لیے انتہائی ضروری ہے ‘ تاکہ جس بھیس اور شکل میں بھی یہ نمودار ہو اسے پہچانا جاسکے۔ بقول شاعر : ؂ بہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش من انداز قدت را می شناسم ! (تم چاہے کسی بھی رنگ کا لباس پہن کر آجاؤ ‘ میں تمہیں تمہارے قد سے پہچان لیتا ہوں۔ ) حقیقت و اقسام شرک کے موضوع پر میری چھ گھنٹوں پر مشتمل طویل تقاریر آڈیو ‘ ویڈیو کے علاوہ کتابی شکل میں بھی موجود ہیں ‘ ان سے استفادہ کرنا ‘ ان شاء اللہ ‘ بہت مفید ہوگا۔ (اُولٰٓءِکَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَ ) ۔ امن اور ایمان اسلام اور سلامتی کا لفظی اعتبار سے آپس میں بڑا گہرا ربط ہے۔ یہ ربط اس دعا میں بہت نمایاں ہوجاتا ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر نیا چاند دیکھنے پر مانگا کرتے تھے : (اَللّٰھُمَّ اَھِلَّہٗ عَلَیْنَا بِا لْاَمْنِ وَالْاِیْمَانِ وَالسَّلَامَۃِ وَالْاِسْلَامِ ) اے اللہ ( یہ مہینہ جو شروع ہو رہا ہے اس نئے چاند کے ساتھ ) اسے ہم پر طلوع فر ما امن اور ایمان ‘ سلامتی اور اسلام کے ساتھ۔۔ قرآن اور امن عالم کے نام سے میرا ایک چھوٹا سا کتابچہ اس موضوع پر بڑی مفید معلومات کا حامل ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

55. This entire section shows that those people did not deny the existence of God as the creator of the heavens and earth. Their real guilt was that they associated others in His attributes and His rights over man. In the first place, Abraham himself clearly states that they associated others with God as His partners. In the second place, the way in which Abraham mentions God in addressing these people is suitable only for a people who did not deny the existence of God. We must, therefore, regard as incorrect the opinion of those Qur'anic commentators who try to explain this verse on the assumption that the people of Abraham either denied or were unaware of the existence of God, and considered their own deities to be the exclusive possessors of godhead. The expression 'and did not tarnish their faith with wrong-doing' led some Companions to the misapprehension that perhaps this 'wrong-doing' signified 'disobedience'. But the Prophet (peace be on him) has made it clear that this wrong-doing signifies shirk (associating others with God in His divinity). The verse means, therefore, that they alone are fully secure and rightly-guided who believe in God and do not mix their faith with any polytheistic belief and practice. It is interesting to learn that this incident, which is the starting-point of Abraham's prophetic career, has found no place in the Bible. It is mentioned only in the Talmud. The Talmudic version, however, is different from the Qur'anic version in two ways. First, in the Talmudic version Abraham's quest for the Truth begins with the sun and then proceeds by way of the stars to his discovery of the One True God. Second. it states that Abraham not only held the sun to be his Lord but even worshipped it, and that the same happened in connection with the moon.

سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :55 یہ پوری تقریر اس بات پر شاہد ہے کہ وہ قوم اللہ فاطر السّمٰوات و الارض کی ہستی کی منکر نہ تھی بلکہ اس کا اصلی جرم اللہ کے ساتھ دوسروں کو خدائی صفات اور خداوندانہ حقوق میں شریک قرار دینا تھا ۔ اول تو حضرت ابراہیم علیہ السلام خود ہی فرما رہے ہیں کہ تم اللہ کے ساتھ دوسری چیزوں کو شریک کرتے ہو ۔ دوسرے جس طرح آپ ان لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے اللہ کا ذکر فرماتے ہیں ، یہ انداز بیان صرف انہی لوگوں کے مقابلہ میں اختیار کیا جاسکتا ہے جو اللہ کے نفس وجود سے منکر نہ ہوں ۔ لہٰذا ان مفسرین کی رائے درست نہیں ہے جنھوں نے اس مقام پر اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سلسلہ میں دوسرے مقامات پر قرآن کے بیانات کی تفسیر اس مفروضہ پر کی ہے کہ قوم ابراہیم علیہ السلام اللہ کی منکر یا اس سے ناواقف تھی اور صرف اپنے معبودوں ہی کو خدائی کا بالکلیہ مالک سمجھتی تھی ۔ آخری آیت میں یہ جو فقرہ ہے کہ ”جنھوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا“ ، اس میں لفظ ظلم سے بعض صحابہ کو غلط فہمی ہوئی تھی کہ شاید اس سے مراد معصیت ہے ۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تصریح فرمادی کہ دراصل یہاں ظلم سے مراد شرک ہے ۔ لہٰذا اس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ اللہ کو مانیں اور اپنے اس ماننے کو کسی مشرکانہ عقیدہ و عمل سے آلودہ نہ کریں ، امن صرف انہی کے لیے ہے اور وہی راہ راست پر ہیں ۔ اس موقع پر یہ جان لینا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ یہ واقعہ جو حضرت ابرہیم علیہ السلام کی عظیم الشان پیغمبرانہ زندگی کا نقطہ آغاز ہے ، بائیبل میں کوئی جگہ نہیں پا سکا ہے ۔ البتہ تَلمُود میں اس کا ذکر موجود ہے ۔ لیکن اس میں دو باتیں قرآن سے مختلف ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ حضرت ابرہیم علیہ السلام کی جستجوئے حقیقت کو سورج سے شروع کر کے تاروں تک اور پھر خدا تک لے جاتی ہے ۔ دوسرے اس کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب سورج کو ھٰذَا رَبِّیْ کہا تو ساتھ ہی اس کی پرستش بھی کر ڈالی اور اسی طرح چاند کو بھی انہوں نے ھٰذَا رَبِّیْ کہہ کر اس کی پرستش کی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

30: ایک صحیح حدیث میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت میں لفظ ’’ ظلم‘‘ کی تشریح شرک سے فرمائی ہے، کیونکہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے شرک کو ظلم عظیم قرار دیا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

اس آیت میں ظلم کی تفسیر خود آنحضرت نے فرمادی ہے کہ ظلم سے مطلب یہاں شرک ہے چناچہ صحیح بخاری ومسلم میں عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ نے ظلم کے معنے عام گناہ کے سمجھے اور صحابہ پر یہ آیت بہت شاق گذری اور انہوں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ جب امن ان ایمانداروں کی قیامت کے روز ملے گا جنہوں نے اپنے ایمان میں گناہوں کی آمیزش نہ کی ہو تو ہم میں تو کوئی ایسا نہیں ہے جو گنہگار نہ ہو آپ نے فرمایا جو تم لوگ نے گمان کیا ہے آیت کا وہ مطلب نہیں ہے بلکہ آیت میں ظلم سے مطلب شرک ہے کیا تم نے لقمان کا یہ قول نہیں سنا کہ سب سے بڑا ظلم شرک ہے غرض خود صاحب وحی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمانے سے حاصل معنے آیت کے یہ ہوئے کہ سوائے شرک کے کسی طرح کے گناہ کر کے کوئی شخص اگر بلا توبہ مرجائے تو اس کو قیامت میں یہ امن ملے گا کہ اس کی مغفرت کی توقع ہے یہ تفسیر تو متفق علیہ حدیث کو رو سے ہے اور بخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب صحابہ پر یہ آیت شاق گذری تو خود اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی تفسیر فرمائی اور آیت ان الشرک لظلم عظیم (٣١۔ ١٣) نازل فرمائی ٢ ؎ یہاں تک تو خدا تعالیٰ نے اور رسول خدا نے ایک تفسیر جو اس آیت کی فرمائی تھی اس کا ذکر ہوچکا لیکن قول نبوی کے موافق ایک دوسری تفسیر کا ذکر کرنا بھی برکت سے خالی نہیں اس لیے آنحضرت نے دوسری تفسیر جو اس آیت کی فرمائی ہے وہ بھی ذکر کی جاتی ہے معتبر سند سے تفسیر ابن ابی حاتم اور مسند امام احمد میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ایک اعرابی اونٹ پر چڑھ کر آرہا تھا اور ہم چند صحابہ آنحضرت کے ساتھ مدینہ کے باہر کہیں جا رہے تھے آپ نے فرمایا شاید یہ اونٹ سوار ہم لوگوں ہی کی تلاش میں آرہا ہے اتنے میں وہ اونٹ سوار پاس آیا اور اس نے کا کہ میں جنگل کے پتے کھاتا ہوا دور سے آیا ہوں اور اللہ کے رسول کو ڈھونڈھتا ہوں لوگوں نے آنحضرت کو بتلایا اور اس نے آنحضرت سے کہا حضرت مجھ کو اسلام سکھاؤ آپ نے اسلام ان کو سکھایا اتنے میں وہ سوار اونٹ سے الجھ کر گرا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی اور فورا وہ مرگیا آپ نے فرمایا جس وقت اس سوار کی جان نکلی میں نے دیکھا کہ فرشتے اس کے منہ میں جنت کا میوہ دے رہے تھے وہ سچے کہتا تھا کہ جنگل کے پتے کھا کر آرہا ہوں اور بھوکا ہوں یہ کہہ کر پھر آپ نے فرمایا ایسے لوگوں کی شان میں یہ آیت اتری ٣ ؎ ہے پہلی تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ جس کا ایمان میں شرک کی آمیزش نہ ہو تو وہ گنہگار بھی بخشا جاوے گا۔ دوسری تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ جس کے ایمان میں شرک کی آمیزش نہ ہو اس کو نیک عمل کرنے کا موقع نہ ملا تو صرف ایمان بھی اس اس کی بخشش کا موجب ہوسکتا ہے ابوسعید خدری (رض) کی شفاعت کی بڑی حدیث صحیح بخاری ١ ؎ ومسلم کے حوالہ سے ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں یہ ہے کہ ملائکہ انبیاء اور نیک لوگوں کی شفاعت کے بعد خود اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ایسے لوگوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کریگا جن کے دل میں کسی قدر توحید تو تھی لیکن انہوں نے عمر بھر کوئی نیک کام نہیں کیا تھا۔ اس حدیث سے عبداللہ بن عباس (رض) کی اوپر کی حدیث کی پوری تائید ہوتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے جواب میں نای العریقین احق بالا من ان کنتم تعلمون مبہم طور پر کہا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو کھول کر فرما دیا کہ دنیا میں سیدھے راستہ پر ہونا اور عقبے میں امن امان سے رہنا انہی لوگوں کے حصہ میں ہے جو ایماندار اور شرک سے بچے ہوئے ہیں۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے جابر (رض) کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص سوائے اللہ تعالیٰ کے دوسرے کو معبود جاننے کی حالت میں بغیر توبہ کے مرگیا وہ ہمیشہ کے لیے دوزخی ہے اور جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کے اعمال نامہ میں شرک نہیں ہے اگر ایسا شخص شرک کے سوا اور گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے دوزخ میں گیا بھی تو آخر کو ایسا شخص جنت میں جاوے ٢ ؎ گا۔ یہ حدیث اور ابوسعید خدری (رض) کی اوپر کی حدیث آیت کی گویا تفسیر ہیں جس سے اہل توحید کے آخری درجہ تک کے اس امن کا حاصل معلوم ہوا جو امن ان لوگوں کو عقبے میں ملے گا :۔ ١ ؎ صحیح بخاری ج ١ ص ١٨ باب فضل من علم وعلم ٢ ؎ صحیح بخاری ج ٢ ص ٦٦٦ و ٤ ٧٠ کتاب التفسیر و تفسیر ابن کثیرج ٢ ص ١٥٢۔ ٣ ؎ تفسیر ابن کثیرج ٢ ص ١٥٣۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(6:82) لم یلبسوا۔ مضارع مجزوم نفی جحد بلم۔ صیغہ جمع مذکر غائب لبس مصدر۔ انہوں نے نہیں ملایا۔ انہوں نے مخلوط نہیں کیا۔ آیت 82 پر حضرت ابراہیم کا کلام ختم ہوا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یہ اللہ تعالیٰ کارشاد بھی ہوسکتا ہے اور حضرت ابرہیم ( علیہ السلام) کے قول کی تکمیل بھی، بخاری ومسلم میں حضرت عبد اللہ (رض) بن مسعود سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نال ہوئی تو صحا بہ کرام (رض) نے عرض کیا کہ ہم میں ایسا کون ہے جس نے اپنے آپ پر ظلم نہ کیا ہو (یعنی کسی گناہ کا ارتکاب نہ کیا ہو) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کا مطلب وہ نہیں جو تم سمجھ رہے ہو بلکہ ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا تھا ان الشرک لظلم عظیم کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے (بخاری) پس یہ شرک ظلم عظیم ہے خواہ وہ دلائل توحید رب العالمین میں یا رسالت سید المر سلین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں (سلفیہ بحوالہ ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی گفتگو میں توحید کو امن کا ضامن قرار دیا۔ حقیقت یہ ہے عقیدۂ توحید کے تقاضے پورے کیے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا۔ ایمان کی ابتدا اور انتہا توحید پر ہے باقی دین کے ارکان توحید کا تقاضا ہیں۔ توحید یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات میں کسی کو شریک نہ سمجھے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کا کسی کو حصہ بنانا اس کی صفات میں کسی کو شریک سمجھنا پر لے درجے کا ظلم ہے۔ کیونکہ ظلم کا بنیادی معنی یہ ہے ” وَضْعُ الشَّی ءِ فِیْ غَیْرِ مَحَلِّہٖ “ ” کسی چیز کو اس کے اصلی مقام سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھنا۔ “ کسی ذات کو اللہ تعالیٰ کا حصہ یا جز قرار دینا جس طرح یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہ صرف اللہ کا بیٹا کہا بلکہ مریم [، عیسیٰ (علیہ السلام) اور اللہ تعالیٰ کی ذات کو ملا کر تثلیث کا عقیدہ پیش کیا۔ ان کی دیکھا دیکھی مسلمانوں میں بعض لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نور من نور اللہ کہتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ انبیاء کو شریک بنانا اور انھیں ان کے مقام سے بڑھا کر خدا بنانا ہے۔ ایسے ہی اللہ تعالیٰ کی صفات کو کسی زندہ یا مدفون بزرگ میں سمجھنے کا نام شرک ہے۔ جسے قرآن مجید پرلے درجے کا ظلم قرار دیتا ہے۔ یہاں ظلم سے مراد شرک اور ایمان سے مراد توحید ہے۔ جن لوگوں نے اپنے ایمان کو شرک کی ملاوٹ سے محفوظ رکھا۔ ہی ہدایت یافتہ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے غضب اور جہنم کی ہولناکیوں سے مامون ہوں گے۔ شرک ظلم ہے اور ظلم کے خلاف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے یہ دلیل سجھائی تھی جس کی بنیاد پر انھوں نے ثابت کیا کہ چاند ستاروں اور سورج کو اپنی قسمت کا مالک سمجھنا اور انھیں خیر و شر میں دخیل جان کر ان کی عبادت کرنا ظلم ہے۔ جس کا ان کی قوم کوئی جواب نہ دے سکی اور وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے دلیل کے اعتبار سے سرنگوں ہوئے۔ اس طرح ابراہیم (علیہ السلام) اپنی قوم پر سربلند ہوئے۔ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ (رض) قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ (الَّذِینَ اٰمَنُوا وَلَمْ یَلْبِسُوْا إِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ ) قَالَ أَصْحَابُ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَیُّنَا لَمْ یَظْلِمْ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیمٌ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان، باب ظلم دون ظلم ] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی الَّذِینَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْٓا إِیمَانَہُمْ بِظُلْمٍ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) نے پوچھا ہم میں سے کون ہے جس نے ظلم نہ کیا ہو تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی بلا شبہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ “ ١۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے سر بلند کرتا ہے کیونکہ اس کے ہر کام اور حکم میں حکمت ہوتی ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقۂ تبلیغ اور دلیل کو اللہ تعالیٰ نے اپنی دلیل قرار دیا ہے۔ جس سے ثابت ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے چاند، سورج اور ستاروں کو اپنا رب نہیں سمجھتے تھے۔ ٢۔ یاد رہے کہ دنیا میں کوئی رسول اور نبی ایسا نہیں گزرا جو دلائل کے حوالے سے اپنی قوم کے سامنے لاجواب اور سرنگوں ہوا ہو۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو گفتگو کا یہ طریقہ سمجھانا اور انھیں ٹھوس دلائل عطا کرنے کی اور بھی حکمتیں ہیں۔ جنھیں اللہ علیم و حکیم خوب جانتا ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو واضح دلائل عنایت فرمائے۔ ٢۔ عقیدۂ توحید ہی امن و سکون کی ضمانت دیتا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ جس کے چاہتے ہیں درجات بلند فرماتے ہیں۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا بخوبی علم رکھتا ہے۔ تفسیر بالقرآن شرک ظلم اور گناہ ہے : ١۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں میں اسی بات کا حکم دیا گیا ہوں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اعلان۔ (الانعام : ١٦٤) ٢۔ جو اللہ کی ملاقات چاہتا ہے وہ اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔ (الکہف : ١١٠) ٣۔ اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرے گا اس کے علاوہ جو چاہے گا معاف فرما دے گا۔ (النساء : ٤٨ تا ١١٦) ٤۔ اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ (النساء : ٣٦) ٥۔ جو بھی اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے اللہ نے اس پر جنت حرام کردی ہے۔ (المائدۃ : ٧٢) ٦۔ اے بیٹے شرک نہ کر شرک بہت بڑا ظلم ہے حضرت لقمان کی نصیحت۔ (لقمان : ١٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے آپ کو اللہ کے لئے خالص کرلیا اور اس ایمان میں انہوں نے کسی قسم کے شرک کو نہ ملایا ۔ نہ غیر اللہ کی اطاعت کی اور نہ اسلام کے سوا کوئی اور رخ اختیار کیا تو ایسے ہی لوگ مطمئن اور مامون رہیں گے اور صرف ایسے ہی لوگ راہ ہدایت پا سکتے ہیں ۔ یہی وہ محبت تھی جس کے ذریعے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ توفیق دی گئی کہ انہوں نے اپنے ساتھ مجادلہ کرنے والوں کے تمام دلائل کو رد کردیا ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے سامنے یہ انکشاف کیا کہ ان کے تمام دلائل بودے ہیں ‘ الہوں کے بارے میں ان کے تمام تصورات غلط ہیں اور ان کا یہ وہم بھی فرضی ہے کہ انکے الہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو وکئی گزند پہنچا سکتے ہیں ۔ یہ بات اپنی جگہ مسلم تھی کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے وجود کے منکر نہ تھے اور نہ اس بات کے منکر تھے کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات میں قوت اور حکومت اور اقتدار کا مالک ہے ۔ غلطی صرف یہ تھی کہ وہ لوگ اپنے ان الہوں کو اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے ۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے سامنے یہ بات رکھی کہ جو شخص صرف اللہ وحدہ پر یقین رکھتا ہے وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا ۔ اللہ کے سوا اوروں سے تو اس شخص کو ڈرنا چاہئے جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرتا ہے ۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے سامنے یہ حقیقت رکھی جو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ڈال دی تھی تو ان کے تمام مقابلے میں برتر وسربلند ہوگئے ۔ یوں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا مقام اور درجہ بلند کردیتا ہے اور یہ اللہ کے تصرفات ہیں اس کی حکمتوں کے تقاضوں کے مطابق ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓءِکَ لَھُمُ الْاَمْنُ وَ ھُمْ مُّھْتَدُوْنَ ) حضرت ابراہیم اور ان کی قوم کے ساتھ ان کا مکالمہ اور مباحثہ بیان فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک مستقل قانون بتادیا اور وہ یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں ظلم یعنی شرک کی ملاوٹ نہ کی تو ان کے لیے امن کی ذمہ داری ہے اور ان کے لیے یہ بات طے شدہ ہے کہ وہ امن سے رہیں گے اور یہ بھی طے شدہ ہے کہ وہ ہدایت پر ہیں۔ اہل ایمان کے بارے میں با امن ہونے کی بشارت دیدی جو ایمان اللہ کے ہاں معتبر ہے اس کے علاوہ جو عقائد و اعمال ہوں ان کے بارے میں کوئی کیسا ہی ہدایت پر ہونے کا دعوے دار ہو وہ ہدایت پر نہیں۔ اس میں ان لوگوں کی تردید ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم بھی تو خدا کو مانتے ہیں لہٰذا ہم بھی عذاب سے بےخوف ہونے کے مستحق ہیں۔ اور ہدایت پر ہیں اس آیت میں جواب دیدیا کہ ان لوگوں کو اللہ کو ماننا اللہ کے نزدیک مقبول و معتبر نہیں ہے جو اپنے ایمان میں شرک کو ملاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے شریک تجویز کرتے ہیں اللہ کے ہاں وہ ایمان معتبر ہے جس میں اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک پر اور اس کے رسولوں پر اور اس کی کتابوں پر اور آخرت کے دن پر اور ان تمام چیزوں پر ایمان لائے جو اللہ نے اپنے نبیوں کے ذریعہ بتائی ہیں خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد تو آپ پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مومن ہو ہی نہیں سکتا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

88 یہ پہلے سوال کا جواب ہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا کلام ہے یا ادخال الٰہی ہے۔ ظلْم سے مراد شرک ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری ج 2 ص 666 میں ہے جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے گھبرا کرحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کیا یارسول اللہ ہم میں سے کون ہے جس نے ظلم و زیادتی نہ کی ہو اس پر سورة لقمان کی آیت اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْم نازل ہوئی۔ یعنی امن و سلامتی صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی توحید کو مانا اور پھر اس میں ذرہ برابر شرک کی ملاوٹ نہ کی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

82 جو لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لائے اور اپنے ایمان میں شرک کی آمیزش نہیں کی اور اپنے ایمان کے ساتھ شرک کو مخلوط نہیں کیا تو یہی لوگ صاحبان امن ہیں اور انہی کے لئے بےخوفی اور دل جمعی ہے اور یہی لوگ راہ یافتہ اور سیدھی راہ پر چلنے والے ہیں یعنی آخرت میں کوئی خوف و خطر نہیں اور دنیا میں سیدھی راہ اختیار کرنے والے اور صحیح راہ یافتہ ہیں۔