Surat ul Munfiqoon

The Hypocrites

Surah: 63

Verses: 11

Ruku: 2

Listen to Surah Recitation
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تعارف سورة المنافقون سورة نمبر 63 کل رکوع 2 آیات 11 الفاظ و کلمات 183 حروف 821 مقام نزول مدینہ منورہ اے ایمان والو ! کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہیں اللہ سے غافل کردیں۔ اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ سخت نقصان اٹھائے گا۔ فرمایا کہ ہم نے تمہیں جو کچھ مال و دولت عطا فرمایا ہے موت آنے سے پہلے خرچ کرو۔ کہیں ایس انہ ہو کہ جب عذاب سامنے آئے تو تم یہ کہنے لگو کہ مہلت اور مل جاتی تو ہم خوب صدقہ خیرات کرتے۔ نیک اور صالح بندوں میں شامل ہوجاتے۔ فرمایا کہ یاد رکھو موت آنے کے بعد پھر مہلت نہیں دی جاتی۔ جو کرنا ہے وہ اسی دنیا میں کر گزرو۔ وہ اللہ تمہارے ایک ایک عمل سے اچھی طرح واقف ہے۔ چرب زبان، مکار اور منافقوں سے بچ کر رہنے کی ضرورت ہے جو زبان سے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان قبول کرچکے ہیں لیکن یہ لوگ اندر ہی اندر اسلام اور مسلمانوں کی جڑیں کاٹنے میں مصروف رہتے ہیں ۔ یہ اہل ایمان کے مخلص نہیں ہیں بلکہ جہاں ان کا موقع ہوتا ہے وہیں یہ اسلام کے خلاف سرگرمیوں میں لگ جاتے ہیں۔ سورۃ المنافقون کا ایک مفہوم تو عام ہے یعنی ہر زمانہ میں دین اسلام کی مخالفت کرنے کے لئے آستین کے ایسے سانپ آتے رہیں گے جو اسلام کو اپنے مفادات حاصل کرنے کا ذریعہ بنائیں گے اور اپنی منافقانہ روش سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے رہیں گے۔ ان کی شرارتوں سے کیسے بچا جائے اس کا طریقہ بھی بتا دیا گیا۔ ان آیات کا دوسرا مفہوم خاص منافقین کا پس منظر بھی ہے۔ علماء مفسرین نے لکھا ہے کہ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدینہ تشریف آوری سے کچھ پہلے مدینہ منورہ کے قبیلہ اوس و خزرج نے مسلسل جنگوں سے تنگ آکر یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ دونوں قبیلے اپنے اختلافات کو ہمیشہ کے واسطے ختم کردیں اور کسی کو اپنا بادشاہ بنالیں۔ عبد اللہ ابن ابی سلول ایک چالاک، عیار اور مکار آدمی تھا۔ سب نے اس کو اپنا بادشاہ بنانے پر رضا مندی ظاہر کرتے ہوئے ایک بہترین تاج تیار کرلیا تھا۔ ابھی اس کی تاج پوشی کی تیاریاں ابتدائی مراحل میں تھیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدینہ منورہ آمد سے ہر طرف ان ہی کا چرچا شروع ہوگیا اور لوگ عبد اللہ ابن ابی کی تاج پوشی کو بھول گئے۔ دونوں قبیلوں کے لوگ بڑی تیزی سے مسلمان ہونا شروع ہوگئے۔ اس صورت حال کے سامنے ابن ابی اور اس کے ساتھی انتہائی مایوس اور بےبس ہوگئے۔ اب ان کیلئے اس کے سوا کوئی راستہ نہ بچا تھا کہ وہ بھی ظاہری طور پر اسلام قبول کرلیں۔ چناچہ ابن ابی اور اس کے قبیلے کے لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔ وہ نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہ میں شریک رہتے مگر وہ سب اس بات سے اندر ہی اندر سلگ رہے تھے کہ ان حالات نے ان سے بادشاہت کا خواب چھین لیا تھا۔ اس کے بعد عبد اللہ ابن ابی جہاں اور جس جگہ موقع پاتا اسلام اور مسلمانوں کی جڑیں کاتنے پر کسر نہ چھوڑتا۔ چناچہ بنو قینقاع اور بنو نضیر کی غداریوں، جنگ احد میں اپنے سات سو ساتھیوں کے ساتھ اسلامی لشکر سے علیحدگی، کفار مکہ سے ساز باز اور سازشوں نے اس کو مسلمانوں کے سامنے بےنقاب کردیا تھا۔ جب غزوہ بنی المصطلق کے موقع پر صحابہ (رض) کی دو جماعتوں میں اختلاف ہوا تو اس نے اس معمولی سی بات کو اتنی ہوا دی کہ انصار اور مہاجرین کے درمیان جنگ ہوسکتی تھی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بروقت اقدام فرما کا عبد اللہ ابن ابی کی سازش کو بری طرح ناکام بنادیا۔ مگر ان ابی چوٹ کھائے ہوئے سانپ کی طرح کھل کر اسلام دشمنی میں سامنے آگیا۔ اس نے انصار مدینہ کو جمع کرکے لمبی چوڑی تقریر کی اور یہ کہا کہ اے انصار ! یہ سب کچھ تمہاری غلطیوں کی وجہ سے ہوا ہے تم نے ان لوگوں کو اپنے شہ ر میں جگہ دی۔ ان پر مال تقسیم کیا یہاں تک کہ آج یہ تمہارے مقابلے میں کھڑے ہوگئے ہیں۔ اگر تم ان سے اپنے ہاتھ روک لو تو ان سے تمہاری جان چھوٹ جائے گی۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مدینہ واپس جا کر ہم میں سے جو عزت والا ہے وہ ذلت والے کو نکال باہر کرے گا۔ عبد اللہ ابن ابی کی ان باتوں کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع ہوگئی۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبد اللہ ابن ابی سے پوچھا کہ کیا اس نے ایسا کہا ہے تو اس نے صاف انکار کردیا۔ اس کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جگہ سے تیزی سے نکل کر جانے اور کوچ کرنے کا حکم دیا اور مدینہ منورہ واپس پہنچ گئے۔ چونکہ ابن ابی کھل کر سامنے آگیا تھا اس لئے تمام صحابہ کرام (رض) ساری بات سمجھ گئے تھے۔ اس موقع پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ اس سورة کا خلاصہ یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جب یہ منافقین آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم سچے دل سے قرار کرتے اور گواہی دیتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بیشک اللہ گواہی دیتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں لیکن یہ منافقین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اللہ کا رسول اس لئے کہتے ہیں کہ یہ اپنا بچائو کرسکیں۔ یہ لوگ جھوٹی قسمیں کھا کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یقین دلانا چاہتے ہیں درحقیقت یہ اندر سے کافر ہی ہیں کیونکہ ان کے دلوں پر ایک ایسی مہر لگ چکی ہے جس سے یہ اچھے اور برے میں فرق کر ہی نہیں سکتے۔ ان کا ڈیل ڈول اور لچھے دار گفتگو ایسی ہوتی ہے کہ آدمی دیکھتا اور سنتا ہی رہ جائے لیکن یہ ان لڑکیوں کی طرح ہیں جو کندے کی شکل میں دیوار سے لگا کر کھڑی کردی گئی ہیں اور جو کسی مصرف کی نہ ہوں۔ ہر زور دار آواز سے یہ چوکنے ہوجاتے ہیں اور ہر اٹھی ہوئی آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہ اللہ کے دین کے دشمن ہیں۔ اللہ ان کو غارت کر دے ان سے بچ کر رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ نجانے کس طرف الٹے پھرائے جا رہے ہیں۔ فرمایا کہ جب ان منافقین سے یہ کہا جاتا ہے کہ آئو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلتے ہیں وہ اللہ سے تمہارے لئے دعائے مغفرت کریں گے تو وہ تکبر سے اپنا سر جھٹک کر کہتے ہیں کہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان لوگوں کا کفر، غرور، تکبر اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کی معافی کی درخواست کریں نہ کریں اللہ اس کو قبول نہ فرمائے گا، نہ ان کو راہ ہدایت عطا فرمائے گا۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ تم ان مسلمانوں کو اہمیت نہ دو ، ان کی امداد اور خرچ بند کردو تو یہ لوگ تنگ آکر ادھر ادھر بھاگ جائیں گے۔ فرمایا کہ ان نادانوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ زمین اور آسمان کے سارے خزانوں کا مالک تو اللہ ہے لیکن یہ بات منافقین کی سمجھ میں نہیں آتی وہ یہ کہتے ہیں کہ جب ہم مدینہ لوٹ کر جائیں گے تو ہم میں سے جو عزت والا ہے وہ ذلت والے کو نکال باہر کرے گا۔ فرمایا کہ یہ لوگ بھول رہے ہیں کہ ساری عزت تو اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کے لئے ہے لیکن ابھی ان منافقین کو اس کا علم نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے فرمایا ہے کہ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہیں اللہ سے غافل نہ کردیں اور جو ایسا کرے گا وہ زبردست نقصان اٹھائے گا۔ فرمایا کہ ہم نے تمہیں جو کچھ مال و دولت دیا ہے تم اس میں سے موت آنے سے پہلے خرچ کردو تاکہ تم افسوس کے ساھت یہ نہ کہو کہ اے ہمارے رب اگر ہمیں تھوڑی سے مہلت اور دی ہوتی تو ہم خوب صدقہ خیرات کرتے اور نیک اور صالح بندوں میں شامل ہوجاتے۔ فرمایا کہ موت آجانے کے بعد پر مہلت نہیں دی جائے گی جو کرنا ہے وہ کر گزرو اللہ تمہارے ایک ایک کام سے اچھی طرح واقف ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

سورة المنافقون کا تعارف المنافقون کا لفظ اس کی پہلی آیت میں موجود ہے اس کی گیارہ آیات اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورت مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی۔ مدینہ میں اوس اور خزرج کے نام پر انصار کے دو بڑے قبیلے تھے باقی لوگ انہیں قبیلوں کی شاخیں اور حلیف تھے۔ اوس اور خزرج کے درمیان طویل مدت تک قتل و غارت کا بازار گرم تھا جس میں سیکڑوں جانیں تلف ہوچکی تھیں۔ جب ان کی لڑائی سے لوگ تنگ آگئے اور اوس اور خزرج بھی تھک گئے تو بالآخر ان میں صلح ہوگئی۔ اس کے بعد دونوں قبیلوں کے سربرآورہ لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خزرج قبیلے کے عبداللہ بن ابی کو مدینے کا سربراہ بنا لیا جائے اس کے لیے اس کی تاج پوشی کی تیاریاں شروع ہو کردی گئیں، اسی مدت کے دوران حج کے موقع پر نبوت کے گیا رویں سال مدینہ طیبہ کے لوگ حج کے لیے مکہ آئے انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اور دعوت کے متعلق اطمینان پانے پر وہ لوگ مسلمان ہوگئے۔ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ہاں ایک ایسا مبلغ بھیجیں جو مدینہ طیبہ میں دین اور توحید کی دعوت دے ہم اس کے ساتھ بھر پور تعاون کریں گے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معصب بن عمیر (رض) کو ان کے ساتھ بھیجا دعوت کی کشش اور حضرت مصعب بن عمیر (رض) کی محنت سے اگلے سال حج کے موقع پر ٧٥ مسلمان نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملے جس سے مدینہ طیبہ کے حالات یکسر تبدیل ہوگئے اور جو لوگ عبداللہ بن ابی کو اپنا سربراہ منتخب کرنے والے تھے انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مدینہ آنے کی دعوت دی۔ نبوت کے تیرہویں سال آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ طیبہ تشریف لے گئے۔ مدینہ کا پہلا نام یثرب تھا آپ کی تشریف آوری اور اسلام کی بڑھتی اشاعت کی وجہ سے لوگوں نے یثرب کا نام مدینہ الرّسول رکھ دیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد سے عبداللہ بن ابی کی سر براہی ختم ہوگئی اس نے حالات کا جائزہ لیا تو مجبور ہو کر بظاہر مسلمان ہوا لیکن زندگی بھر حسد و بغض کا شکار ہوگیا۔ اس نے کوئی ایسا موقع نہیں چھوڑا کہ جب اعلانیہ یا خفیہ طور پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت نہ کی ہو۔ حضرت عائشہ (رض) پر الزام لگانے میں یہ شخص پیش پیش تھا، اس نے منافقوں کو منظم کرنے کے لیے مدینہ میں مسجد ضرار کی بنیاد رکھی جسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مسمار کردیا۔ تبوک کے محاظ سے واپسی پر اس کے ساتھیوں نے رات کے اندھیرے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حملہ کرنے کی کوشش کی جس سے آپ محفوظ رہے۔ اسی سفر میں واپسی پر ایک صحابی اور منافق کے درمیان کسی معاملے پر تکرار ہوئی جسے دوسرے ساتھیوں نے موقعہ پر رفع دفع کردیا۔ لیکن عبداللہ بن ابی نے اسے اچھالتے ہوئے کہا کہ فکر نہ کرو ہم مدینہ جا کر ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے جس کی تفصیل اس سورت کی آٹھویں آیت میں ذکر کی گئی ہے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو جب بھی احساس دلایا جاتا کہ تمہیں ان حرکتوں سے باز آنا چاہیے اور اپنے کیے پر معذرت کرنی چاہیے تو وہ جھوٹی قسمیں اٹھا کر اپنی صفائی پیش کرتا اور ایک موقعہ پر اس نے یہاں تک ہرزہ سہرائی کی کہ مجھے سب کچھ منظور ہے لیکن میں نبی سے معذرت نہیں کروں گا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورة المنافقون ایک نظر میں اس سورت کا جو نام رکھا گیا ہے وہی اس کا موضوع ہے۔ منافقین کا ذکر صرف اس سورت میں نہیں ہوا اور نہ ان کے حالات اور ان کی سازشیں صرف اس ایک سورت تک محدود ہیں۔ مدینہ میں نازل ہونے والی ہر سورت میں ان کا ذکر صراحتہ شا اشارۃ موجود ہے۔ لیکن اس سورت کا بڑا حصہ انہی کے بارے میں ہے۔ اس میں ان سے متعلق بعض واقعات اور ان کے اقوال پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ اس میں ان کے اخلاف ، ان کے جھوٹ ، ان کی سازشوں اور ان کے دائوپیچ پر تنقید کی گئی ہے جو وہ اسلام کے خلاف کرتے تھے۔ ان کے دل مسلمانوں کے خلاف بغض و عدوات اور سازشوں سے بھرے ہوئے تھے۔ وہ نہایت بزدل ، اندھے ، اور بےبصیرت تھے۔ اس سورت میں انہی کی بحث ہے۔ صرف آخر میں مسلمانوں کو متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اندر ان منافقین جیسی صفات پیدا نہ ہونے دیں۔ اگرچہ ان سفات کا سبب نفاق سے بہت دور کا تعلق ہے اور نفاق کی کم از کم صفت یہ ہے کہ انسان اللہ کے لئے مخلص نہ ہو ، اور اپنے مال اور اولاد کی وجہ سے انسان اللہ کی یاد سے غافل ہوجائے۔ اور پھر اس پر مزید یہ کہ اللہ کی راہ میں انفاق نہ کرے ، یہاں تک کہ ایک ایسا وقت آئے جس میں انفاق فی سبیل اللہ مفید ہی نہ رہے۔ تحریک نفاق کا آغاز اس وقت ہوا جب اسلام مدینہ میں داخل ہو اور رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم کی وفات کے قریب تک یہ جاری رہی اور کسی وقت بھی مدینہ منافقین سے خالی نہ تھا۔ اگرچہ ان کے مظاہر اور وسائل بدلے رہے۔ جس دور میں یہ سورت نازل ہوئی اس میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریک زوروں پر تھی۔ اس نے مسلمانوں کو بہت پریشان کررکھا تھا ، مسلمانوں کی قوت اور طاقت اور توجہ اس عرصہ میں زیادہ تر منافقین ہی کی طرف رہی۔ اور قرآن کریم اور احادیث نبوی میں بڑی کثرت سے ان کا ذکر آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفاق کی تحریک مدینہ میں ایک بااثر تحریک تھی اور بعض اوقات سو اس کا اثر واضح طور پر ہوتا تھا۔ اس تحریک کے بارے میں استاذ محمد عزہ روزہ کی کتاب ” سیرت رسول قرآن کی روشنی میں “ سے یہاں چند پیراگراف نقل کرنا مناسب ہوگا۔ ” مدینہ میں اس تحریک کے ظہور کا سبب واضح ہے۔ کیونکہ مسلمان اور نبی صلی للہ علیہ وسلم مکہ میں اس قدر قوی نہ تھے کہ ان سے کھ لوگ ڈرتے اور ان سے کسی کو خیر کی توقع ہوتی یا شر کی توقع ہوتی۔ اس لئے کسی کو ضرورت نہ تھی کہ وہ مسلمانوں کی چاپلوسی کرے اور بظاہر ان کے ساتھ شریک ہوجائے اور درپردہ ان کے خلاف سازش کرے اور عیاری مکاری سے مخالفت کرے۔ کیونکہ مکہ کے اکثر کبرا اور بالا تر لوگ اسلام کے خلاف تھے ، ان میں سے جو چاہتا ، کہہ سکتا۔ مسلمانوں کو اذیت بھی دیتا اور تحریک اسلامی کے خلاف کھلے طور پر تمام وسائل استعمال کرتا۔ بغیر کسی جھجک کے اور مکہ میں قوت بھی کفار کے ہاتھوں میں تھی ، اور اسی وجہ سے مسلمانوں کو ہجرت کرکے ترک وطن پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ پہلے وہ حبشہ گئے پھر یثرب کی طرف ہجرت کرگئے۔ اور بعض کو اہل مکہ نے پکڑے رکھا ، یا دبا کر اور خوفزدہ کرکے ہجرت سے بھی روکے رکھا۔ اور بعض مسلمان ایسے بھی ہوں گے جن کو مکہ میں اسلام چھپانا پڑا ہوگا اور بعض ایسے بھی تھے جن کو اہل مکہ نے تشدد کرکے شہید بھی کردیا تھا۔ لہٰذا مکہ میں کسی کو نفاق کی ضرورت نہ تھی “۔ گویا مدینہ میں حالات مکہ سے بالکل مختلف تھے ۔ رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم مدینہ کو ہجرت کرنے سے پہلے ہی اوس اور خزرج کے نہایت ہی بااثر لوگوں کی حمایت اور نصرت حاصل کرچکے تھے۔ اور آپ نے تب ہجرت فرمائی جب آپ کو تسلی ہوگئی کہ وہاں آپ کی پوزیشن مضبوط ہوگی۔ مدینہ میں کوئی عرب گھرانا ایسا نہ رہ گیا تھا ، جس میں اسلام داخل نہ ہوگیا ہو۔ اس لئے ایسے حالات میں یہ بات ممکن ہی نہ تھی کہ جو لوگ ایمان نہ لائے تھے ، وہ جہالت یا نادانی کی وجہ سے یا غصے ، کینہ ، اور عناد کی وجہ سے رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوں ، کیونکہ جب نبی صلی للہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ کا لوگوں نے جس طرح استقبال تو اس سے ان کو معلوم ہوگیا کہ مسلمانوں کی قوت کیا ہے اور اثر کیا ہے۔ اس لئے ایسے حالات میں مدینہ میں کوئی مسلمانوں اور مہاجرین وانصار کے بالمقابل علانیہ کھڑا نہ ہوسکتا تھا۔ اوس اور خزرج کی بڑی تعداد انصار نبی بن گئی تھی اور انہوں نے نبی صلی للہ علیہ وسلم کے ساتھ دفاعی معاد ہے کر لئے تھے۔ اور ان کی اکثریت بہترین مسلم بن گئی تھی اور وہ یہ یقین کرتے تھے کہ نبی صلی للہ علیہ وسلم کی نصرت اور اطاعت فرض ہے۔ آپ ان کے لیڈر ، مرشد اور واجب الاطاعت نبی تھے۔ اس لئے جن لوگوں نے ابھی تک عقیدہ توحید کو قبول نہ کیا تھا اور دل کے بیمار تھے اور ہٹ دھرمی اور کینہ میں مبتلا تھے اور نبی صلی للہ علیہ وسلم اور دعوت اسلامی کے مخالف اور دشمن تھے۔ ان کے لئے ممکن نہ تھا کہ وہ اپنی مخالفت علانیہ کریں۔ وہ مجبور تھے کہ بظاہر وہ بھی اپنے اسلام کا اعلان کردیں ، نمازیں پڑھیں ، اسلام کے ارکان پورے کریں اور اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کے ساتھ امن وامان پائیں۔ اور ان کی برادری بھی قائم رہے ، ان کی مکاری ، سازشیں اور چالیں اس طرح گہری تھیں جس طرح پہلوانی کے دائو ہوتے ہیں ، اور یہ کام وہ چھپ کر کرتے تھے۔ اور اگر ان کو کوئی علانیہ کام بھی کرنا پڑتا تب بھی وہ اسے نفاق کے رنگ میں چھپا کر کرتے۔ لیکن نظر بہرحال یہ آتا کہ یہ ان کے منافقانہ چال ہے۔ لیکن وہ اس کے لئے بظاہر کوئی حیلہ ، بہانہ مصلحت یا دلیل اور منطق کا کوئی پردہ ضرور اختیار کرتے اور یہ لوگ کسی حال میں بھی اپنے کفر اور نفاق کو ظاہر نہ کرتے تھے۔ لیکن باوجود ان کی ان احتیاطوں کے اور ان کی ان تمام پردہ داریوں کے ، نبی صلی للہ علیہ وسلم پر اور مخلص مہاجرین وانصار پر ، ان کی یہ منافقت پوشیدہ نہ تھی۔ البتہ اسلامی مہمات اور بحرانوں کے اندر ان کا منافقانہ رویہ صاف صاف ظاہر ہوجاتا اور یہ لوگ سخت شرمندہ ہوتے۔ اور قرآن کریم ان کی حالت پر جو تبصرہ کرتا اس سے بھی وہ دل ہی دل میں شرمندہ ہوتے۔ قرآن مجید گویا ان کے کفر نفاق اور شرپسندیوں اور سازشوں کو ان پر کھول دیتا اور وقتاً فوقتاً نبی صلی للہ علیہ وسلم کو ان کے بارے میں متنبہ کردیتا “۔ ” قرآن کریم کی مدنی آیات نے ان پر جو تبصرے کیے ہیں ، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی سازشوں کے دور رس اثرات تھے۔ اور یہ ایک قومی کشمکش تھی۔ ایسی ہی کشمکش جس طرح نبی صلی للہ علیہ وسلم اور زعماء مکہ کے درمیان تھی۔ اگرچہ دونوں کے زمانے اور نتائج مختلف تھے۔ کیونکہ مدینہ میں نبی صلی للہ علیہ وسلم کی پوزیشن روز بروز مضبوط ہوتی جاتی تھی۔ آپ کی قوت میں اضافہ ہورہا تھا ، اسلام کا دائرہ وسیع تر ہورہا تھا۔ اور یہاں نبی صلی للہ علیہ وسلم اب حکمران بھی تھے۔ آپ کے احکام نافذ ہوتے تھے۔ اور آپ کے اردگرد ایک قوت جمع تھی۔ پھر آپ کے مقابلے میں منافقین ایک بلاک کی صورت میں منظم نہ تھے جن کی کوئی عیاں شخصیت ہو ۔ ان کی کمزوری ، ان کی تعداد کی کمی ، اور ان کی حیثیت کی کمی ، ان کو زوال کی طرف لے جارہی تھیں۔ جبکہ حضور اکرم صلی للہ علیہ وسلم کی قوت بڑھ رہی تھی۔ اسلام وسیع ہورہا تھا اور اس کی عزت اور قوت میں اضافہ ہورہا تھا “۔ ” مدینہ کے ابتدائی دور میں منافقین اسلامی حکومت کے لئے جس طرح عظیم خطرہ بنے ہوئے تھے اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ابتدائی دور میں ان کے قبائل کی عصبیت تازہ تھی اور ابھی اوس اور خزرج کے قبائلی تصورات ختم نہ ہوئے تھے جبکہ یہ منافق بھی ابھی تک زیادہ ترچھپے ہوئے تھے اور اسلام کمزور تھا ۔ نبی صلی للہ علیہ وسلم چاروں طرف سے مشرک قبائل کے گھیرے میں تھے اور اہل مکہ حضور اکر صلی للہ علیہ وسلم کے جانی دشمن تھے ، اور پورے جزیرۃ اعلرب کے قبلہ وکعبہ تھے۔ یہ نبی صلی للہ علیہ وسلم کے بارے میں موقع کی تلاش میں تھے۔ اور ہر وقت اس انتظار میں تھے کہ ان کو کوئی موقعہ ملے اور وہ فیصلہ کن وار کریں۔ اور ابتدائی ادوار میں مدینہ کے ارد گرد یہودی بھی رہ رہے تھے۔ ان یہودیوں نے آغاز میں تو صرف حضور صلی للہ علیہ وسلم کو ناپسند کیا ، لیکن بعد میں انہوں نے بھی کفر اور دشمنی شروع کردی اور سازشیں کرنے لگے۔ جلد ہی ان کے اور منافقین کے درمیان غیر تحریر اتفاق ہوگیا کہ اسلام کی بیخ کنی کرنی ہے۔ اور مسلمانوں کے خلاف مل کر کام کرنا ہے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ منافقین نہ قوی تھے اور نہ کوئی کاروائی کرسکتے تھے۔ انہوں نے جو کچھ کیا وہ یہودیوں کی شہہ پر ان کی سازشوں اور درپردہ ریشہ دوانیوں اور یقین دہانیوں کی وجہ سے کیا۔ اور محض اس لئے کیا کہ ان کی اور یہودیوں کے درمیان ایکا ہوگیا تھا اور ان کا یہ شر اور یہ بلاک تب ختم ہوا کہ اللہ نے احسان فرمایا اور اسلام اور نبی اسلام کو غلبہ عطا فرمایا “۔ (دیکھئے کتاب مذکور کا ص 176 تا 216)

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi