Surat ut Taghabunn

Mutual Disillusion

Surah: 64

Verses: 18

Ruku: 2

Listen to Surah Recitation
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تعارف سورة التغابن سورة نمبر 64 کل رکوع 2 آیات 18 الفاظ و کلمات 247 حروف 1122 مقام نزول مدینہ منورہ فرمایا کہ اللہ نے تمہیں مال اور اولاد عطا کیے ہیں مگر یہ ایک آزمائش بھی ہیں یعنی اگر تم نے اپنے مال صحیح جگہ خرچ کیے اور اپنی اولاد کو گناہوں سے بچانے کی ممکن حد تک کوشش کی تو پھر یہ مال اور اولاد تمہارے لئے جنت میں جانے کا سبب بن جائیں گے اور اگر ان کا غلط استعمال ہوا تو یقینا ان کی وجہ سے جہنم کی آگ کو بھگتنا پڑے گا۔ یہ ایک کڑی آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے لوگو تم اللہ پر اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور اس نور (قرآن مجید) پر ایمان لاؤ جو تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے ۔ فرمایا کہ قیامت کا دن ہار جیت کے فیصلے کا دن ہوگا۔ یقینا اس دن وہی جیتیں گے جو اللہ و رسول اور اس کے کلام پر ایمان لائیں گے لیکن وہ لوگ جو اس دن ان چیزوں سے خالی ہوں گے وہ ہارے ہوئے بدنصیب لوگ ہوں گے۔ ٭زمین وآسمان کی ہر چیز اللہ کی حمدو ثنا کر رہی ہے جو بادشاہ ہے ، کاینات کی تمام خوبیاں اور کمالات اس کی ذات میں جمع ہیں۔ وہ ہر چیز پر پوری قدرت و طاقت رکھتا ہے۔ اسی نے پیدا کیا۔ پھر کوئی مومن ہے اور کوئی کافر ہے۔ اللہ ہر اس بات سے واقف ہے جسے تم کرتے ہو۔ وہی زمین و آسمان کا خالق برحق ہے۔ اسی نے تمہاری خوبصورت اور اچھی شکل و صورت بنائی ہے اور تمہیں اسی اللہ کی طرف لوٹ کرجانا ہے۔ اسے ہر اس بات کا علم ہے جو کھلی ہوئی یا چھپی ہوئی ہے وہ تو دلوں کے اندر کے حالات تک سے واقف ہے۔ ٭فرمایا تم سے پہلے بہت سی قومیں گزری ہیں جنہوں نے اپنے کفر و انکار کی وجہ سے اپنی بدعملیوں کا مزہ چکھا اور وہ دردناک عذاب کا شکار ہوئیں۔ وجہ یہ تھی کہ اللہ کے رسول تو ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے مگر انہوں نے ان کی قدر نہ کی اور حقارت سے کہا کہ کیا ہم جیسا ایک آدمی ہی ہمیں راستہ دکھائے گا ؟ انہوں نے جب منہ پھیرا تو اس اللہ نے جو اپنی ذات میں بےنیاز ہے اور ہر تعریف و توصیف کا حق دار ہے اس نے بھی ان سے منہ پھیرلیا ہے۔ ٭ وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم مرجانے کے بعد دوبارہ پیدا کئے جائیں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان سے کہہ دیجئے کہ میرے رب کی قسم تم دوبارہ پیدا کیے جائو گے۔ وہاں تمہیں وہ تمام باتیں بتا دی جائیں گی جو تم دنیا میں کرکے آئے ہو اور یہ بات اللہ کے لئے قطعاً مشکل نہیں ہے بلکہ اس کے لئے بہت آسان ہے۔ ٭اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب بھی وقت ہے کہ تم اللہ پر اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور اس نور (قرآن مجید) پر ایمان لے آئو جو تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے۔ فرمایا کہ جب تمہیں قیامت کے دن جمع کیا جائے گا تو یہ دن ہار جیت کے فیصلے کا دن ہوگا۔ جو لوگ اللہ پر ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے بھلے کام کیے ہوں گے ہم ان کے گناہوں اور خطاؤں کو معاف کر کے ایسی حسین جنتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور اہل جنت ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ ان کی زبردست کامیابی ہوگی۔ لیکن جن بد نصیبوں نے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کفر و انکار کیا ہوگا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہوگا تو ان کو ایسی جہنم میں ڈالا جائے گا جو بدترین جگہ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ٭فرمایا کہ دنیا میں جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اللہ کے اذن سے آتی ہے۔ ان حالات میں جو بھی ثابت قدم رہے گا اور اللہ پر ایمان لائے گا اللہ اس کے دل کو ہدایت عطا فرمائے گا۔ اگر اس نے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کی تو وہ کامیاب ہوگا۔ لیکن اگر اس نے منہ پھیرا تو ہمارے رسول کا کام یہ ہے کہ وہ ہر بات کو نہایت وضاحت سے کھول کھول کر بیان کردے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اہل ایمان اسی اللہ پر بھروسہ اور توکل کرتے ہیں۔ ٭اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ دیکھو تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں۔ ان سے ہوشیار رہو۔ اگر تم نے معافی اور درگزر سے کام لیا تو یہ ایک اچھی بات ہے کیونکہ اللہ بہت مغفرت کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔ ٭فرمایا کہ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہارے لئے ایک آزمائش ہیں۔ اجر عظیم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ اگر تم اللہ سے ڈرتے رہے اور اس کی اطاعت و فرمانبردار کرتے رہے اور کھلے دل سے اپنا مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے رہے تو یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے کیونکہ جو شخص بھی دل کی تنگی یعنی کنجوسی اور بخل سے بچ گیا وہی کامیاب و بامراد ہے۔ ٭فرمایا کہ اگر تم نے اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے قرض حسنہ دیا تو اللہ اس کو کئی گنا بڑھا کر تمہیں دے گا۔ تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا کیونکہ اللہ اچھے بندوں کے ذرا سے عمل کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ وہ بہت برداشت کرنے والا ہے۔ جو چیز سامنے ہے یا پوشیدہ ہے وہ ہر بات سے اچھی طرح واقف ہے۔ وہ ساری قوتوں کا مالک ہے اور ہر بات کی حکمت کو جاننے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

سورة التغابن کا تعارف سورت التغابن کا نام اس کی نویں (٩) آیت میں موجود ہے یہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اس کی اٹھارہ آیات اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورت بھی ان سورتوں میں شامل ہے جنہیں مسبّحات کہا جاتا ہے اس کی ابتدا میں بتلایا گیا ہے کہ زمین و آسمانوں کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے اور اس بات کا اقرار کرتی ہے کہ زمین و آسمانوں کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے وہ بڑا قابل تعریف اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ یہ اس کی قدرت کا نمونہ ہے کہ اس نے کھرب ہا انسان پیدا کیے جن میں کوئی کافر ہے اور کوئی ایمان لانے والا ہے۔ اس نے زمین و آسمانوں کو خاص مقصد کے لیے پیدا فرمایا اور وہی لوگوں کی بہترین شکل و صورت بناتا ہے، بالآخر سب نے اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ وہ زمین و آسمانوں کی ہر چیز سے واقف ہے۔ وہ جانتا ہے جس بات کو لوگ چھپاتے ہیں اور جس کو ظاہر کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ دلوں کے راز جاننے والا ہے۔ کیا لوگوں کے پاس اپنے سے پہلے کفار کی خبر نہیں پہنچی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی کس طرح گرفت کی اور فرمایا اپنے کیے کا سامنا کرو، اب تمہیں اذّیت ناک عذاب دیا جائے گا۔ عذاب پانے والوں کا ایک جرم یہ بھی تھا کہ جب بھی ان کے پاس رسول آئے تو انہوں نے یہ کہہ کر انہیں مسترد کردیا کہ تم ہماری طرح کے انسان ہو اس لیے ہماری کس طرح رہنمائی کرو گے۔ ان کا خیال تھا کہ ہمارے مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کرے گا اور اہل مکہ بھی یہی کہتے ہیں کہ ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں قسم دے کر بتلائیں کہ اللہ تعالیٰ ضرور زندہ فرما کر تمہیں بتلائے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔ دوبارہ پیدا کرنا اور تم سے حساب لینا اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ تمہارے لیے یہی بہتر ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس روشنی کے پیچھے چلو جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کی صورت میں تمہاری طرف نازل کی ہے اور اس دن کی پکڑ سے بچ جاؤ جس دن اللہ تعالیٰ سب کو جمع کرے گا اور وہ ہار جیت کا دن ہوگا۔ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے گا وہ جیت جائے گا اور اسے اس جیت کے بدلے نعمتوں والا گھر عطا کیا جائے گا، جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور قیامت کے دن کو جھٹلایا، انہیں جہنم میں پھینکا جائے گا یہ ان کے لیے سب سے بڑی شکست ہوگی۔ اس سورت کے آخر میں مسلمانوں کو یہ نصیحت کی گئی ہے کہ تمہیں اپنی بیویوں اور اپنی اولادوں سے بچنا چاہیے کیونکہ بعض اوقات تمہاری بیویاں، تمہاری اولادیں تمہاری دشمن ثابت ہوتی ہیں۔ اس صورت میں تمہیں ان کے پیچھے لگ کر اپنے آپ کو مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جتنی صلاحیت اور استطاعت بخشی ہے اس کے مطابق اس سے ڈرتے رہو اس کا فرمان سنو اس کی اطاعت کرو اور اس کی راہ میں خرچ کرو یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے۔ جو لوگ بخل سے بچا لیے گئے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہے وہ کامیاب ہوں گے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورة التغابن ایک نظر میں اس سورت کے موضوع ، محور ، انداز گفتگو ، ماحول اور اشارات کو دیکھاجائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت مکی سورتوں کی طرح ہے۔ خصوصاً اس کے ابتدائی پیراگرف اور آیات ۔ صرف آخری پیراگرافوں اور آیات میں مدنی فضا کا پتہ چلتا ہے۔ اس کے ابتدائی پیراگراف یایھا الذین امنو (آیت 14) تک اسلامی عقائد ونظریات سے متعلق ہیں اور اسلوب بھی مکی سورتوں کی طرح ہے جن میں خطاب مشرکین مکہ کہ ہوا کرتا تھا۔ اور خطاب کا انداز اور مضامین و تصورات بھی ایسے ہیں کہ جس طرح دعوت کا آغاز بالکل نئے مخاطبین سے ہورہا ہے ، گویا مخاطب کے سامنے پہلے یہ تصورات پیش نہیں ہوئے۔ پھر ان میں اس کائنات کی نشانیاں پیش کی گئی ہیں۔ سابق امم کے واقعات کی طرف اشارہ ہے اور بعث بعد الموت اور قیامت کے مشاہد ہیں جن کو نہایت ہی تاکید کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ۔ اس طرح کہ گویا مخاطبین ان عقائد کے منکر ہیں۔ آخری فقرات بیشک مدنی مزاج وانداز کے ہیں۔ جس طرح اکثر مدنی سورتوں کا انداز ہوتا ہے۔ یہ کہ انفاق فی سبیل اللہ بہت اہم ہے ، یہ کہ مال واولاد اسلامی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ یہ مضامین اکثر مدنی دور کے ہیں اور بار بار آتے ہیں کیونکہ مدینہ ہی میں نئی اٹھنے والی امت مسلمہ کو ان باتوں کی ضرورت تھی۔ پھر ان آیات میں ان ذمہ داریوں کا بھی ذکر ہے جو مومنین کے کاندھوں پر پڑگئے ہیں۔ معاملات کو اللہ کے بھروسے پر چھوڑ دینے کا حکم دیا گیا ہے اور مسئلہ تقدیر کو ذہنوں میں بٹھانے کی سعی کی گئی ہے۔ یہ مضامین جہاد کے راستے میں رکاوٹوں کے حوالے سے مدنی سورتوں میں بکثرت آتے ہیں۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ سورت مکی ہے اور بعض میں آتا ہے کہ یہ مدنی ہے اور اس کے مدنی ہونے کو ترجیح بھی دی گئی ہے۔ قریب تھا کہ میں اس کے مکی ہونے کی طرف مائل ہوجاتا کیونکہ اس کے ابتدائی پیراگراف خالص مکی انداز کے ہیں۔ لیکن آخر کار میری رائے یہی بنی کہ یہ مدنی سورت ہے۔ اور یہی راجح رائے ہے۔ کیونکہ ہجرت کے بعد مدینہ میں بھی مکہ ہی جیسے حالات تھے۔ اور مدینہ سے اہل مکہ کو بھی خطاب ہورہا تھا۔ اور مدینہ کے ارد گرد جو مشرک قبائل تھے ، ان سے بھی خطاب ہورہا تھا ۔ نیز یہ بھی ضروری نہیں کہ مدینہ میں جو سورتیں نازل ہوئیں ان میں کوئی ایسی بحث نہ تھی جس میں خالص نظریاتی اور دعوتی پہلو ہو۔ مدینہ میں بھی ایسے لوگ تھے جن کے سامنے خالص مکی انداز میں دعوت اسلامی کے پیش کرنے کی ضرورت تھی۔ اس سورت کے پہلے پیراگراف میں ایمانی تصورات کے آفاقی پہلو کو لیا گیا ہے یہ کہ یہ پوری کائنات اللہ کی تخلیق ہے اور اس میں اسی کی بادشاہت ہے اور وہ اس کے ساتھ ہر وقت رابطہ رکھتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے بعض اسماء حسنیٰ اور بعض صفات کا اس کائنات میں موثر ظہور ہوتا ہے۔ یسبع للہ مافی……………بذاب الصدور (1:64 تا 4) ” اللہ کی تسبیح کررہی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز جو زمین میں ہے۔ اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لئے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور پھر تم سے کوئی کافر ہوئے اور کوئی مومن ہوئے اور اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو۔ اس نے زمین و آسمان کو برحق پیدا کیا اور تمہاری صورت بنائی اور بڑی عمدہ بنائی ہے اور اسی کی طرف آخرکار تمہیں پلٹنا ہے۔ زمین و آسمان ہر چیز کا اسے علم ہے ، جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو ، سب اس کو معلوم ہے۔ اور وہ دلوں کا حال تک جانتا ہے “۔ ایمان کا یہ کائناتی اور آفاقی تصور اس قدر دقیق اور اس قدر وسیع اور جامع ومانع ہے کہ ایمان کی تاریخ میں اسلام جیساجامع تصور نہیں دیکھا گیا۔ اسلام کا تصور یہ ہے کہ تمام راسالتوں کا عقیدہ یہی عقیدہ توحید رہا ہے۔ اور یہ عقیدہ ہر امت کے ہاں رہا ہے۔ کہ اس کائنات کو اللہ نے پیدا کیا اور تمام مخلوق کو اللہ ہی نے پیدا کیا اور اللہ اس پوری مخلوقات کی نگرانی کررہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے اور قرآن نے تمام رسولوں کا یہی عقیدہ نقل کیا ہے اور ان باتوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ جو تحریف شدہ کتب سماوی میں پائی جاتی ہیں ، یا وہ لوگ جوان ادیان کے بارے میں کتابیں لکھتے ہیں اور ان کا قرآن پر ایمان نہیں ہے۔ نہ پورے قرآن پر اور نہ قرآن کے بعض حصوں پر ، کتب سماوی میں ایمانی عقائد ہیں جو تبدیلیاں آئی ہیں وہ بعد کے ادوار میں ان کتب کے ماننے والوں نے ان میں پیدا کیں۔ بعد کے ادوار کی تحریفات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کتابوں میں خالص توحید نہ تھی یا یہ کہ تخلیق کائنات کے بعد اللہ اس کائنات میں متصرف اور اس کا مدبر نہیں رہا ہے۔ تو یہ بعد کے ادوار کی تحریفات ہیں۔ کیونکہ اللہ کا دین آدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی آخرالزمان تک ایک رہا ہے۔ اس لئے کہ تمام ادیان اللہ کی طرف سے ہیں تو پھر ان تحریف شدہ کتابوں میں جو تصورات ہیں یا ان پر لکھے جانے والے تبصروں میں جو تصورات ہیں ، ان کا تعلق خدا تعالیٰ کے دین سے نہیں ہوسکتا اور نہ ایسے متضاد تصورات اللہ کی طرف منسوب ہوسکتے ہیں۔ یہ اس حقیقت کے باوجود کہ تما رسالتوں کے اندر ذات باری کے بارے میں بنیادی تصور ایک ہی رہا ہے لیکن اس کے باوجود یہ کہنا کوئی غلط بات نہ ہوگی کہ اسلام نے ذات الٰہی کا جو تصور پیش کیا اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے بارے میں جو عقائد وضع کیے ہیں ، وہ تمام سابق امتوں کے تصور سے زیادہ لطیف ، زیادہ وسیع ، زیادہ شامل زیادہ کامل اور جامع ومانع ہیں۔ یہ ایسا تصور ہے جس میں ذات باری اپنی مخلوق اور کائنات کے ساتھ زندہ اور فعال تعلق رکھتی ہے۔ اور اس کی صفات اس پوری کائنات میں کام کرتی ہیں اور یہ بات اس حقیقت سے بھی موافق ہے کہ اسلامی رسالت آخری رسالت ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دین آخری دین ہے اور یہ امت آخری امت ہے اور عقلی اعتبار سے سن رشد کو پہنچنے والی امت ہے۔ لہٰذا اس اعتبار سے اسے کامل ، شامل اور لطیف تصور دیا گیا ہے ، جس کے اندر الہیات کے بارے میں ہر سوال کا جواب موجود ہے۔ اور عقیدہ توحید کے تمام تقاضوں کی وضاحت بھی موجود ہے اور اس عقیدے کے پورے آثار ونتائج بھی بتائے گئے ہیں۔ اس تصور کا خلاصہ یہ ہے کہ قلب بشری اپنے ظرف کے مطابق الوہیت کی حقیقت سمجھ لے ، اس کی عظمت اپنے دل میں بٹھالے۔ اس کو قدرت الٰہیہ کا شعور ہو اور اس کائنات میں قدرت الٰہیہ کے آثار کو وہ پالے۔ اور خود اپنے نفوس کے اندر بھی وہ قدرت کے آثار کو شاہد ومشہودپائے اور وہ ان دیکھے جانے والے ، اور محسوس کیے جانے والے ، آثار قدرت کے درمیان زندگی بسر کرے۔ اور کسی وقت بھی وہ اس کا احساس سے دورنہ ہوں اور وہ اس بات کو محسوس کرتا ہو اور دیکھتا ہو کہ یہ قدرت اور اس کے آثار ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہیں۔ ہر چیز کے محافظ ہیں۔ ہر چیز کے مدبر ہیں۔ اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے۔ خواہ وہ حقیر اور عظیم ہو با بڑی اور چھوٹی ہو۔ اس تصور کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ انسانی قلب کے اندر تیز احساس پیدا کردیا جائے ، دائمی خوف ، احتیاط ، خشیت ، طمع اور امید پیدا ہوجائے اور انسان اپنی زندگی میں اللہ کے ساتھ متعلق ہوکر چلے۔ ہر وقت اس کے دل میں قدرت الٰہیہ کا شعور زندہ ہو ، اللہ کے علم اور اس کی نگرانی کا شعور اسے ہر وقت ہو ، اللہ کی قہاری وجباری کا ہر وقت احساس ہو ، اللہ کی رحمت وفضل کا وہ ہر وقت طلبگار ہو۔ اور ہر حال اور ہر وقت وہ یہ شعور رکھتا ہو کہ وہ شہ رگ سے بھی قریب ہے۔ اور پھر اس تصور ایمان کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ اس کے مطابق انسان یہ احساس رکھتا ہے کہ یہ پوری کائنات اللہ کی مطیع فرمان ہے۔ اس کے آگے سجدہ ریز ہے۔ اور اس کے ساتھ یہ مومن بھی اللہ کی طرف متوجہ ہے۔ دونوں اس کی حمد وتسبیح کرتے ہیں۔ دونوں اس کے زیر تدبیر چلتے ہیں۔ یہ کائنات قانون قدرت کے مطابق اور ہر انسان قانون شریعت کے مطابق۔ اس معنی میں اسلام کا تصور ایمانی ایک آفاقی اور کائناتی تصور ہے ۔ اسی طرح بعض دوسرے پہلو بھی ہیں کہ اسلام کا تصور ایمان جامع ہے اور قرآن میں جگہ جگہ اس کے بارے میں اشارات ملتے ہیں۔ اور اس کی بہترین مثال وہ ہے جو سورة حشر کے آخر میں گزری ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi